امام جواد علیہ السلام کی نماز،زیارت اور حرز
نماز حضرت امام محمد تقی -دو رکعت نماز ہے اسکی ہر رکعت میں ایک مرتبہ سورہ حمد اور ستر ۰۷ مرتبہ سورہ توحید پڑھیں اور نماز کے بعد حضرت کی یہ دعا پڑھیں :اَللّٰھُمَّ رَبَّ الْاَرْوَاحِ الْفَانِیَۃِ، وَالْاَجْسَادِ الْبَالِیَۃِ، ٲَسْٲَ لُکَ بِطَاعَۃِ الْاَرْوَاحِ الرَّاجِعَۃِاے معبود! تو فنا ہونے والی روحوں اور بوسیدہ جسموں کا پالنے والا ہے تجھ سے میں سوال کرتا ہوں اپنے جسموں کیطرف پلٹنے والیإلَی ٲَجْسَادِہا، وَبِطَاعَۃِ الْاَجْسَادِ الْمُلْتئِمَۃِ بِعُرُوقِہا،وَبِکَلِمَتِکَ النَّافِذَۃِ بَیْنَھُمْ،روحوں کی بندگی کے واسطے سے اور اپنی رگوں کے ساتھ ملنے والے جسموں کی بندگی کے واسطے سے اور ان میں نافذ ہونے والےوَٲَخْذِکَ الْحَقَّ مِنْھُمْ وَالْخَلائِقُ بَیْنَ یَدَیْکَ یَنْتَظِرُونَ فَصْلَ قَضَائِکَ، وَیَرْجُونَتیرے حکم کے واسطے سے اور ان سے حق لینے کے واسطے سے جبکہ مخلوقات تیرے حضور تیرے اٹل فیصلے کی منتظر کھڑی ہونگی اور تیریرَحْمَتَکَ وَیَخَافُونَ عِقَابَکَ، صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَاجْعَلِ النُّورَ فِی بَصَرِی،رحمت کی اُمیدوار اور تیرے عذاب سے ڈری ہوئی ہونگی میرا سوال ہے کہ محمد(ص) و آلِ محمد(ص) پر رحمت فرما میری آنکھوں میں نور اور میرےوَالْیَقِینَ فِی قَلْبِی، وَذِکْرَکَ بِاللَّیْلِ وَالنَّہارِ عَلی لِسانِی، وَعَمَلاً صالِحاً فَارْزُقْنِی ۔دل میں یقین پیدا کردے اور تیرا ذکر شب و روز میری زبان پر ہو اور مجھے نیک عمل کرنے کی تو فیق دے۔
امام محمد تقی – کی مخصوص زیارتشیخ مفید شیخ(رح) شہید(رح) اور محمد بن المشہدی نے فرمایا ہے کہ زائر جب امام موسی کاظم – کی زیارت سے فارغ ہوتو پھر امام محمد تقی – کی طرف متوجہ ہو کہ جو اپنے جد بزرگوار امام موسی کاظم – کی پشت کی جانب مدفون ہیں۔ پس ان کی قبر شریف کے سامنے کھڑے ہو کر یہ زیارت پڑھے:اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا وَلِیَّ اﷲِ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا حُجَّۃَ اﷲِ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یا نُورَ اﷲِ فِیآپ پر سلام ہو اے ولی خدا آپ پر سلام ہو اے حجت خدا آپ پر سلام ہو کہ آپ زمین کیظُلُماتِ الْاََرْضِ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَابْنَ رَسُولِ اﷲِ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ وَعَلَی آبائِکَ،تاریکیوں میں خدا کا نور ہیں آپ پر سلام ہو اے رسول خدا(ص) کے فرزند آپ پر سلام ہو اور آپ کے پاکیزہ آبائ پراَلسَّلَامُ عَلَیْکَ وَعَلَی ٲَبْنائِکَ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ وَعَلَی ٲَوْلِیائِکَ، ٲَشْھَدُ ٲَنَّکَ قَدْآپ پر سلام ہواور آپ کے فرزندوں پر آپ پر اور آپ کے اولیائ پر میں گواہی دیتا ہوں کہ یقینا آپ نےٲَقَمْتَ الصَّلاۃَ، وَآتَیْتَ الزَّکَاۃَ، وَٲَمَرْتَ بِالْمَعْرُوفِ، وَنَھَیْتَ عَنِ الْمُنْکَرِ، وَتَلَوْتَنماز قائم کی اور زکوۃ دی آپ نے نیک کاموں کا حکم دیا اوربرے کاموں سے روکا آپ نے تلاوتالْکِتابَ حَقَّ تِلاوَتِہِ، وَجاھَدْتَ فِی اﷲِ حَقَّ جِہادِھِ، وَصَبَرْتَ عَلَی الْاََذیٰ فِی جَنْبِہِ حَتَّیقران کا حق ادا کردیا آپ نے خدا کے لیے جہاد کیا جو حق جہاد ہے اور خدا کی خاطر تکلیفوں پر صبر کرتے رہے یہاں تک کہ شہیدٲَتَاکَ الْیَقِینُ، ٲَتَیْتُکَ زائِراً، عارِفاً بِحَقِّکَ، مُوالِیاً لاََِوْلِیائِکَ، مُعادِیاً لاََِعْدائِکَہوگئے میں آپ کی زیارت کو آیا ہوں آپ کا حق پہچانتا ہوں آپ کے دوستوں سے دوستی آپ کے دشمن سے دشمنی رکھتا ہوںفَاشْفَعْ لِی عِنْدَ رَبِّکَ۔پس اپنے رب کے ہاں میری شفاعت کریں۔پھر اپنے چہرے کو قبرمطہر سے مس کرے اس پر بوسہ دے بعدمیں دو رکعت نماززیارت بجالائے اسکے بعد وہاں جس قدر چاہے نماز پڑھے جب فارغ ہو تو سجدے میں جائے اور کہے:اِرْحَمْ مَنْ اَسَائَ وَاقْتَرَفَ وَاسْتَکَانَ وَاعْتَرَفَ اب دایاں رخسار زمین پر رکھے اور پڑھے: اِنْرحم فرما اس پر جس نے گناہ اور جرم کیا اور اب بے چارگی میں اس کا اعتراف کیا ہے۔ اگر میں ایککُنْتُ بِئْسَ الْعَبْدُ فَاَنْتَ نِعْمَ الرَّبُّ پھر بایاں رخسار زمین پر رکھے اور کہے: عَظُمَ الذَّنْبُ مِنْ عَبْدِکَبد ترین بندہ ہوں تو تو کیا ہی اچھا رب ہے۔ تیرے بندے نے بہت گناہ کیے ہیںفَلْیَحْسُنِ الْعَفْوُ مِنْ عِنْدِکَ یَاکَرِیْمُ اب سر سجدے میں رکھے اور سو مرتبہ کہے: شُکْراً شُکْراً۔لیکن تیری طرف سے درگذر ہی مناسب ہے اے بخشنے والے شکر ہے شکر ہے۔اور اس کے بعد اپنے کاموں میں مصروف ہو جائے ۔
امام محمد تقی – کی دوسری زیارتسید ابن طائوس(رح) نے مزار میں فرمایا ہے کہ امام موسی کاظم – کی زیارت کرنے کے بعد امام محمد تقی – کی قبر شریف پر بوسہ دے اور کہے:اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا ٲَبا جَعْفَرٍ مُحَمَّدَ بْنَ عَلِیٍّ الْبَرَّ التَّقِیَّ الْاِمامَ الْوَفِیَّ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَآپ پر سلام ہو اے ابو جعفر محمد(ع) بن علی(ع) نیکوکار پرہیزگار امام وفا شعار آپ پر سلام ہوٲَیُّھَا الرَّضِیُّ الزَّکِیُّ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا وَلِیَّ اﷲِ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا نَجِیَّ اﷲِ، اَلسَّلَامُکہ آپ پسندیدہ وپاکیزہ ہیں آپ پر سلام ہو اے ولی خدا آپ پر سلام ہو اے خدا کے رازداں آپ پرعَلَیْکَ یَا سَفِیرَ اﷲِ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا سِرَّ اﷲِ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا ضِیائَ اﷲِ، اَلسَّلَامُسلام ہو اے نمائندئہ خدا سلام ہوآپ پر اے راز الہی آپ پر سلام ہو اے خدا کی روشنی آپ پرعَلَیْکَ یَا سَنائَ اﷲِ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا کَلِمَۃَ اﷲِ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَارَحْمَۃَ اﷲِ، اَلسَّلَامُسلام ہو اے خدا سے روشن شدہ آپ پر سلام ہو اے کلام خدا آپ پر سلام ہو اے رحمت خدا آپ پرعَلَیْکَ ٲَیُّھَا النُّورُ السَّاطِعُ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ ٲَیُّھَا الْبَدْرُ الطَّالِعُ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ ٲَیُّھَاسلام ہو کہ آپ چمکتا ہوا نور ہیں آپ پر سلام ہو کہ آپ چودھویں کا چاند ہیں آپ پر سلام ہو کہ آپ پاک ہیںالطَّیِّبُ مِنَ الطَّیِّبِینَ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ ٲَیُّھَا الطَّاھِرُ مِنَ الْمُطَہَّرِینَ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ ٲَیُّھَاپاکیزہ لوگوں میں سے ہیں آپ پر سلام ہوکہ آپ پاک شدہ اور پاک شدگان میں سے ہیں آپ پر سلام ہوکہ آپ بہتالْاَیَۃُ الْعُظْمیٰ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ ٲَیُّھَا الْحُجَّۃُ الْکُبْریٰ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ ٲَیُّھَاالْمُطَہَّرُ مِنَبڑی نشانی ہیں آپ پر سلام ہو کہ آپ بہت بڑی دلیل ہیں آپ پر سلام ہو کہ آپ خطا ولغزش سے پاک ہیںالزَّلاَّتِ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ ٲَیُّھَا الْمُنَزَّھُ عَنِ الْمُعْضِلاتِ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ ٲَیُّھَا الْعَلِیُّ عَنْآپ پر سلام ہو کہ آپ منزہ ہیں اس سے کہ مشکل مسئلہ حل نہ کر پائیں سلام ہو آپ پر کہ آپ بلند ہیں اس سے کہ اوصاف میں کچھ کمینَقْصِ الْاََوْصافِ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ ٲَیُّھَا الرَّضِیُّ عِنْدَ الْاََشْرافِ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا عَمُودَپائی جائے آپ پر سلام ہو کہ آپ صاحبان مرتبہ کے نزدیک پسندیدہ ہیں آپ پر سلام ہو اے دین کےالدِّینِ۔ ٲَشْھَدُ ٲَنَّکَ وَلِیُّ اﷲِ وَحُجَّتُہُ فِی ٲَرْضِہِ وَٲَنَّکَ جَنْبُ اﷲِ وَخِیَرَۃُ اﷲِ وَمُسْتَوْدَعُستون میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ خدا کے ولی اور زمین میں اس کی حجت ہیں آپ خدا کے طرفدار اوراس کے چنے ہوئے ہیں آپعِلْمِ اﷲِ وَعِلْمِ الْاََنْبِیائِ، وَرُکْنُ الْاِیمانِ، وَتَرْجُمانُ الْقُرْآنِ، وَٲَشْھَدُ ٲَنَّ مَنِ اتَّبَعَکَ عَلَیعلم الہی اورعلم انبیائ کے امانتدار ہیں او رآپ ایمان کا پایہ اور قرآن کے شارح ہیں میں گواہی دیتا ہوں کہ بے شک آپ کا پیرو حقالْحَقِّ وَالْھُدیٰ وَٲَنَّ مَنْ ٲَنْکَرَکَ وَنَصَبَ لَکَ الْعَداوَۃَ عَلَی الضَّلالَۃِ وَالرَّدی ٲَبْرَٲُ إلَیوہدایت پر گامزن ہے اور آپکا انکار کرنے والا اورآپ سے عداوت رکھنے والا گمراہی اور ہلا کت میں پڑا ہے میں آپکے او رخدا کےاﷲِ وَ إلَیْکَ مِنْھُمْ فِی الدُّنْیا وَالْاَخِرَۃِ وَاَلسَّلَامُ عَلَیْکَ مَا بَقِیتُ وَبَقِیَ اللَّیْلُ وَالنَّہارُ۔سامنے ایسے لوگوں سے دنیا وآخرت میں بیزار ہوں آپ پر سلام ہوجب تک میں باقی رہوں اور شب و روز باقی ہیں۔پھر حضرت پر اس طرح صلوات بھیجے: اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَٲَھْلِ بَیْتِہِ وَصَلِّ عَلَی مُحَمَّدِاے معبود!حضرت محمد(ص) اور ان کے خاندان پر رحمت فرما اور محمد(ص) بن علی(ع) پربْنِ عَلِیٍّ الزَّکِیِّ التَّقِیِّ وَالْبَرِّ الْوَفِیِّ وَالْمُھَذَّبِ النَّقِیِّ ہادِی الْاَُمَّۃِ وَوارِثِ الْاََئِمَّۃِ وَخازِنِرحمت فرما کہ جو پاکیزہ پرہیزگار نیکوکار وفادار نیک اطوار برگزیدہ امت کے رہبر ائمہ(ع) کے جانشین رحمت کےالرَّحْمَۃِ وَیَنْبُوعِ الْحِکْمَۃِ، وَقائِدِ الْبَرَکَۃِ، وَعَدِیلِ الْقُرْآنِ فِی الطَّاعَۃِ، وَواحِدِ الْاََوْصِیائِخزینہ دار حکمت کے سرچشمہ بابرکت رہنما پیروی کے لحاظ سے قرآن کے ہم پلہ اخلاص و عبادت کے اعتبار سے اوصیائ میںفِی الْاِخْلاصِ وَ الْعِبادَۃِ، وَحُجَّتِکَ الْعُلْیا، وَمَثَلِکَ الْاََعْلیٰ، وَکَلِمَتِکَ الْحُسْنیٰ،صاحب مرتبہ تیری بلند تر حجت تیرا بنایا ہوا بہترین نمونہ تیرا خوشترین کلام تیری طرف بلانے والےالدَّاعِی إلَیْکَ، وَالدَّالِّ عَلَیْکَ، الَّذِی نَصَبْتَہُ عَلَماً لِعِبادِکَ، وَمُتَرْجِماً لِکِتابِکَ،اور تیری طرف رہنمائی کرنے والے ہیں جن کو تو نے اپنے بندوں کے لیے نشان قرار دیا اپنی کتاب کا ترجمان گردانا اپنے حکموَصادِعاً بِٲَمْرِکَ، وَناصِراً لِدِینِکَ، وَحُجَّۃً عَلَی خَلْقِکَ، وَنُوراً تَخْرُقُ بِہِ الظُّلَمَ،کا بیان گر ٹھہرایا ہے اپنے دین کا مددگار مقرر کیا اپنی مخلوق پر حجت بنایا اور وہ نور قرار دیا جس سے تاریکیاں دور ہوتی ہیںوَقُدْوَۃً تُدْرَکُ بِھَا الْھِدایَۃُ، وَشَفِیعاً تُنالُ بِہِ الْجَنَّۃُ۔ اَللّٰھُمَّ وَکَما ٲَخَذَ فِی خُشُوعِہِ لَکَوہ پیشوا بنایا جسکے ذریعے ہدایت ملتی ہے اور وہ شفاعت کنندہ جو جنت میں پہنچاتا ہے پس اے معبود جس طرح انہوں نے تیرےحَظَّہُ، وَاسْتَوْفیٰ مِنْ خَشْیَتِکَ نَصِیبَہُ فَصَلِّ عَلَیْہِ ٲَضْعافَ مَاسامنے عاجزی میں اپنا حصہ حاصل کیا اور تجھ سے ڈرنے میں اپنا حصہ حاصل کیا ہے اسی طرح تو بھی ان پر رحمت فرما دگنی رحمت فرماصَلَّیْتَ عَلَی وَلِیٍّ ارْتَضَیْتَ طاعَتَہُ، وَقَبِلْتَ خِدْمَتَہُ، وَبَلِّغْہُ مِنَّا تَحِیَّۃً وَسَلاماً، وَآتِنا فِیکہ جیسی رحمت تو نے اپنے کسی ولی پر کی ہو کہ جسکی بندگی کو تو نے پسند کیا اور جسکی محنت کو قبول فرمایا اور انکو ہمارا درود و سلام پہنچا اور ہمیںمُوالاتِہِ مِنْ لَدُنْکَ فَضْلاً وَ إحْساناً وَمَغْفِرَۃً وَرِضْواناً، إنَّکَ ذُوالْمَنِّ الْقَدِیمِ، وَالصَّفْحِانکی محبت عطا کر جس میں تیری طرف سے بزرگی بھلائی اور بخشش ہو ہم سے خوشنود ہوجا کہ بے شک تو قدیمی احسان کرنے والاالْجَمِیلِ۔ اب دو رکعت نماز زیارت پڑھے اور اسکے بعد کہے: اَللَّھُمَ اَنْتَ الرَّبُّ وَاَنَا الْمَرْبُوْبُ۔بہترین درگزر کرنے والا ہے۔ اے معبود تو پالنے والا اور میں تیرا پالا ہوا ہوں۔
امام محمد تقی – کی ایک اور مخصوص زیارتشیخ صدوق(رح) نے فقیہ میں روایت کی ہے کہ جب حضرت کی زیارت کرنا چاہے تو غسل کرے پاکیزہ لباس پہنے اور یہ زیارت پڑھے:اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدِ ابْنِ عَلِیٍّ الْاِمامِ التَّقِیِّ النَّقِیِّ، الرَّضِیِّ الْمَرْضِیِّ، وَحُجَّتِکَ عَلَیاے معبود! محمد (ع)بن علی(ع) پر رحمت فرما جو امام ہیں پرہیزگار برگزیدہ پسندیدہ پسند شدہ اور تیری حجت ہیںمَنْ فَوْقَ الْاََرْضِ وَمَنْ تَحْتَ الثَّریٰ، صَلاۃً کَثِیرَۃً نامِیَۃً زاکِیَۃً مُبارَکَۃً مُتَواصِلَۃً مُتَرادِفَۃًان سب پر جو زمین کے اوپر اور زمین کے نیچے رہتے ہیں ایسی رحمت جو بہت زیادہ بڑھنے والی پاک تر برکت والی لگا تار مسلسلمُتَواتِرَۃً کَٲَفْضَلِ مَا صَلَّیْتَ عَلَی ٲَحَدٍ مِنْ ٲَوْلِیائِکَ وَاَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا وَلِیَّ اﷲِ اَلسَّلَامُمتواتر ہو کہ جس طرح بہترین رحمت کی ہے تو نے اپنے اولیائ میں سے کسی ایک پر اور آپ پر سلام ہو اے ولی خدا آپ پرعَلَیْکَ یَا نُورَ اﷲِ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا حُجَّۃَ اﷲِ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا إمامَ الْمُؤْمِنِینَ وَوارِثَسلام ہو اے نور خدا آپ پر سلام ہو اے حجت خدا سلام ہو آپ پر اے مومنوں کے امام نبیوں کےعِلْمِ النَّبِیِّینَ، وَسُلالَۃَ الْوَصِیِّینَ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا نُورَ اﷲِ فِی ظُلُماتِ الْاََرْضِ ٲَتَیْتُکَعلوم کے وارث اور اوصیائ کے فرزند آپ پر سلام ہوکہ آپ زمین کی تاریکیوں میں خدا کا نورہیں میں آیا آپکی زیارت کرنے آپکےزائِراً، عارِفاً بِحَقِّکَ مُعادِیاً لاََِعْدایِکَ مُوالِیاً لاََِوْلِیائِکَ فَاشْفَعْ لِی عِنْدَ رَبِّکَ۔حق سے واقف آپ کے دشمنوں کا دشمن آپ کے دوستوں کا دوست ہوںپس اپنے رب کے حضور میری شفاعت کریں۔اس کے بعد اپنی حاجات طلب کرے اور پھر چار رکعت نماز یعنی دو رکعت امام محمد تقی – کیلئے اور دو رکعت امام موسیٰ کاظم – کیلئے اس گنبد کے نیچے پڑھے جس میں امام محمد تقی – کی قبر شریف ہے یاد رہے کہ امام موسیٰ کاظم -کے سرہانے کی طرف ہو کر نماز نہ پڑھے۔ کیونکہ ادھر بعض قریش کی قبریں ہیں کہ جن کو قبلہ بنانا درست نہیں ہے۔مؤلف کہتے ہیں: شیخ صدوق(رح) کے کلام سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کے دور میں امام موسیٰ کاظم – کی قبر مبارک امام محمد تقی – کی قبر شریف سے علیحدہ بنی ہوئی تھی اور اس کا قبہ الگ تھا اور ان کے دروازے بھی جدا جدا تھے اور زائرین امام موسی کاظم – کی قبر اطہر کی زیارت کے بعدباہر تشریف لاتے امام محمد تقی – کی زیارت گاہ کی طرف جاتے تھے اس وقت وہ جدا گانہ مزار مبارک تھی لیکن آج کل ان دونوں ائمہ(ع) کی قبریں ایک ہی قبہ میں ہیں۔
حرز امام حضرت محمد تقی جواد-یٰا نُورُ یَا بُرْہانُ، یَااے نور اے برہان اےمُبِینُ یَا مُنِیرُ یَارَبِّآشکار اے نور والے اے پروردگاراکْفِنِی الشُّرُورَ وَآفاتِتو تمام برائیوں اور زمانے کیالدُّہُورِ وٲَسْٲَلُکَسختیوں میں میری مدد کر تجھ سےالنَّجاۃَ یَوْمَ یُنْفَخُ فِیسوال کرتا ہوں کہ مجھے نجات دیناالصُّورِ۔جس دن صور پھونکا جائے ۔