علی ولی اللہ

188

یوں تو ہر انسان میں کچھ نہ کچھ خوبیاں ہوتی ہیں لیکن حضرت علی علیہ السلام کی شخصیت میں اتنی خوبیاں تھیں کہ ان کو بیان کرنا عقل انسانی کا کام نہیں ہے یہ ایسی خوبیاں ہیں جو کسی بشر میں آج تک پیدا نہ ہوسکیں اور نہ پیدا ہوںگی۔ آپ جامع الفضائل تھے ۔ آپ کی کچھ خوبیاں درج ذیل ہیں۔ آپ خانہئ کعبہ کے اندر پیدا ہوئے یہ وہ شرف ہے جو آدم (ع) سے لیکر آج تک کسی اور کو نصیب نہ ہوا اور نہ ہوگا ۔آپ کی دنیا کی پہلی غذا لعاب رسول (ص) ہے۔آپ کی تربیت رسول (ص) کے ذیر سایہ ہوئی ۔ دعوتِ ذوالعشیرہ کا اہتمام رسول (ص) نے آپ ہی کے سپرد کیا ۔ شب ہجرت بستر رسول (ص) پر آپ ہی ہوئے۔ وقت ہجرت رسول (ص) نے اہل مکہ کی امانتوں کا امین آپ ہی کو بنایا ۔ مسجد قبا کا سنگ بنیاد آپ ہی نے رکھا۔ جنگ بدر میں ۷۵ مشرکوں میں سے ۳۵ کو علی (ع) ہی نے قتل کیا ۔ جنگ احد میں لا فتی الا… کی سند حاصل کی۔ جنگ خندق میں رسول (ص) نے آپ کو کل ایمان کہا ۔ آپ کی ہی ایک ضربت ثقلین کی عبادت سے بہتر قرار پائی ۔ خیبر میں کرار غیر فرار کا لقب رسول (ص) نے عطا فرمایا۔ جنت کا ملنا رضائے علی (ع) پر موقوف ہے۔ آپ قسیم النار و الجنۃ ہیں۔ آپ سے زیادہ رازدار رسول (ص) کوئی نہ تھا۔ آپ خطیب منبر سلونی تھے۔ رسول (ص) شہر علم اور آپ اس کے دروازہ ہیں۔ بوقت مباہلہ آپ نفس رسول (ص) قرار پائے۔ رسول کی پیاری بیٹی کے شوہر تھے، آپ شریک نور رسالت ہیں، آپ ساقی کوثر ہیں ، آپ کا نفس ، نفس اللہ کہلایا، علی (ع) کا ہر عضو خدا کی طرف منصوب ہوا۔نفس اللہ ، عین اللہ، ید اللہ و غیرہ… آپ امام مبین ہیں ، آپ مشکل گشائے عالم ہیں، آپ ابو الآئمہ ہیں ، آپ کئی علوم کی موجد ہیں، دوش رسول (ص) پر چڑھکر خانہ ئکعبہ کے بتوں کو مسمار کرنے والے علی (ع) ہیں، شب معراج خدا نے رسول (ص) سے علی (ع) کے لہجہ میں بات کی ، آپ سابق السلام ہیں، آپ رسول (ص) کے ساتھ سایہ کی طرح رہتے تھے، آپ نے کوئی کام اپنے نفس کے لئے نہیں کیا ، آپ نے کسی بھی جنگ میں شکست نہیں کہائی ، جنگ احد میں تمام مسلمان آنحضرت (ص) کو تنہا چھوڑ کر بھاگ گئے مگر علی (ع) ثابت قدم رہے اور جنگ کرتے رہے، صلح حدیبیہ کا صلح نامہ آپ ہی نے لکھا۔آپ کی شہادت حالت نماز میں مسجد میں ہوئی۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.