آثار معرفت کیا ہے

493

معرفت کے دو مرتبہ ہے۔
اشیاء دو قسم کی ہیں :
۱۔ ایسی چیزیں جو اپنے مصادیق میں شدید و ضعیف نہیں ہیں ۔ جس فرد میں ہوں ایک طرح ہیں ، مثلا عدد ، پانچ ، پانچ قلم ہوں تو پانچ ، پانچ کتابیں ہوں تب بھی پانچ ایسا نہیں کہ پانچ کا عددقلم میں زیادہ ہے شدید ہے اور کتاب میں کم ہے یا ضعیف ،اسی طرح مفہوم کتاب قلم کا عذ و غیرہ۔
۲۔ ایسی چیزیں جو اپنے افراد میں شدید و ضعیف ہیں متفاوت ہیں طبقات اور درجات رکھتیں ہیں ، مراتب رکھتیں ہیں جیسے سفیدرنگ اورسیاہ رنگ اپنے مصادیق میں متفاوت ہے بعض چیزوں کی سفیدی کم ہے بعض کی زیادہ، بعض کی زیادہ سفیدی ہےبعض کی تھوڑی ہے اگرچہ سب سفید ہیں چینی نمک ، دودھ سفید ہیں لیکن ہر ایک کی سفیدی میں فرق ہے اسی طرح رنگِ سیاہ۔نور روشنی ، بھی اسی قسم سے ہے چراغ کا نور ،مصادیق میں مختلف ہے مثلا ۱۰۰ وولٹ کا بلب ۲۰۰ سو ، ۵۰۰ اور ہزار کا سب روشنی اور نور رکھتے ہیں لیکن نورانیت میں درجے اور رتبے مختلف ہیں ۔ بالاخرسورج کا نور اور روشنی، چاند جیسی نہیں اگرچہ دونوں نیرّستارے ہیں، وجود کی حقیقت اسی قسم سے ہے ، وجود خاکی اور وجود نوری ہر دو موجود ہیں لیکن دونوں کا رتبہ ا یک نہیں۔حقیقت معرفت اسی قسم سے ہے ،صاحبان علم و معرفت سب علم میں برا بر نہیں علم و معرفت میں مراتب رکھتے ہیں ۔
فرق آثار میں ظاہر ہوتا ہے
جو چیزیں اپنے مصادیق میں مراتب رکھتی ہیں انکا فرق آثار سے ظاہر ہوتا ہے مثلاً ہزار وولٹ کا بلب ۵۰۰ میٹر تک روشنی دے گا اور دو ہزاروولٹ کا بلب ۱۰۰۰ میٹر تک ،بالاخر سورج آدھی دنیا کو روشن کر دیتا ہے باقی ستارے اس طرح نہیں ہیں سورج کے نور کا اثر جہاں میں ہے باقی ستاروں کے نور کا اثر اس طرح نہیں ہے ۔ معرفت بھی اسی طرح ہے جہاں جتنی معرفت ہو گی اتنا اسکا اثر ہو گا۔
معرفت کے آثار
معرفت کا ایک اثر خشیت ہے جسطرح اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا :
خشیت: إِنَّمَا يَخْشَى اللَّهَ مِنْ عِبَادِهِ الْعُلَمَاءُ ، سوائے اس کے نہیں کہ اللہ کے بندوں میں علماء ہی اس سے ڈرتے ہیں ، یعنی جسطرح سورج سے روشنی جدا نہیں ہو سکتی اسی طرح علماء سے خشیت جدا نہیں ہو سکتی ۔
معنی خشیت: خوف معنی کیا گیا ہے خشیت منحصر ہے علماء میں غیر عالم میں خشیت محال و ناممکن ہے جو خشیت رکھتا ہے وہی تو عالم ہے ۔
لیکن ہر خوف خشیت نہیں ہے علم معنی کیا گیا ہے لیکن خشیت علم نہیں لیکن علم کا لازمہ ضرور ہے تحقیق یہ ہے کہ جب کسی شی کا علم حاصل ہو جس سے اس شی کی معرفت حاصل ہو جائے تو اب وہ شخص عالم و عارف جب اس شی کے روبرو ہونا چاہے گا تو ایک حالت پیدا ہوگی کہ کہیں کوئی ایسی حرکت سر زد نہ ہوجائے جو اُس شی کی عظمت کے خلاف ہو چاہے اس حرکت کو معصیت کہا جائے یا بے احترامی یا کوئی اور نام یہ دھیان ہے پس خشیت علم سے پیدا ہوتی ہے، شی کی عظمت کے درک کرنے کے بعد اور یہ خشیت و خاص خوف اس کا ہے کہ کہیں تعظیم و عظمت و شان کے خلاف کوئی حرکت انجام نہ دے بیٹھوں ۔
یہ بات روشن ہے کہ عالم شخص سنبھل کر قدم رکھے گا لیکن جاہل بے پروا چلا جائے گا عالم اس دھیان کی وجہ سے محفوظ رہے گا لیکن جاہل ہلاکت میں جا گرے گا، لذا معرفت اللہ سے خشیت اللہ پیدا ہوگی یہ خوف ہوگا کہ کہیں خدا کی معصیت نہ کر بیٹھوں یہ خاص خوف خشیت اللہ ہے۔
خشیت کے درجات
جب خشیت معرفت کا لازمہ ہے اور معرفت درجات رکھتی ہے تو خشیت بھی اسکے تابع درجات رکھتی ہے جس مرتبہ کی معرفت ہوگی اسی مرتبہ کی خشیت ہوگی جتنی جسکی معرفت اتنی اس میں خشیت ، نماز ایک عظیم مقام ہے جہاں اظہار خشیت ہو تا ہے اب کسی کی نماز میں تو جہ ہے کسی کی نماز میں تو جہ نہیں ہیں ، تو کو ئی نماز میں حساب کتا ب کرتا ہے توکوئی کانپتا اور گڑ گڑاتا ہے، کوئی وہ ہے کہ سجدے کی حالت میں اسکے پاؤں سے تیر نکال لو تو پتا نہیں چلتا، اس بندہ حق کا نام نامی علی ابن ابیطالب× ہےکوئی وضوکرتے ہوئے باتیں کر رہا ہے اور کوئی ہے کہ وضو کرتے ہوئے رنگ زرد ہوجاتا ہے۔کوئی نماز میں آنسو تک نہیں بہاتا اور کوئی ہے کہ نماز میں مدہوش ہوجا تاہے تو ابو دردا بارگاہ بنتِ رسول میں آتا ہے کہ بنتِ رسول! علی× دنیا سے چلے گئے۔ خا تون قیا مت نے پوچھا وہ کیسے؟ عرض کیا کہ مدینہ سے باہر میں نے دیکھا کہ علی نماز پڑھتے ہوئے اتنا روئے کہ زمین پر گر پڑ ے تو میں نے جا کر دیکھا تو وہ ایک خشک لکڑی کی طرح زمین پر تھے بی بی دو عالم سلام اللہ علیہا نے فرمایا: علی× کی یہ حالت میں روزانہ دیکھتی ہوں جتنی جسکی معرفت ہو گی اتنی ہی اس میں خشیت ہوگی چونکہ مولا علی× جتنی کسی کی معرفت نہیں لذا حضرت جتنی کسی میں خشیت ممکن ہی نہیں ۔
خشیت کے انداز
جب کسی میں خشیت آجائے تو اس خشیت کے مختلف انداز ہوتے ہیں اللہ تبارک و تعالیٰ نے قرآن مجید میں کچھ خشیت کے انداز اور نمونے بیان فرمائے ہیں اور قرآن سے بہتر بیان ممکن ہی نہیں کیونکہ قرآن کا بہترین مفسر خود قرآن ہے {لَوْ أَنْزَلْنَا هَذَا الْقُرْآنَ عَلَى جَبَلٍ لَرَأَيْتَهُ خَاشِعًا مُتَصَدِّعًا مِنْ خَشْيَةِ اللَّهِ وَتِلْكَ الأمْثَالُ نَضْرِبُهَا لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ يَتَفَكَّرُونَ} اگر ہم اس قرآن کو پہاڑ پر نازل کرتے تو تم حتما اس پہاڑ کو دیکھتے کہ خشیت خدا کی وجہ سے ریزہ ریزہ ہو جاتا ہے۔
یہاں پر چند معارف ہیں :
جنکو ہم اختصار کے ساتھ بیان کرتے ہیں ۔
۱۔ مثال کے لیے پہاڑ کو انتخاب فرمایا : کیوں؟ اس لیے کہ عوام کے نزدیک پہاڑ ایک بے حس ترین شی ہے اور سلسلہ مراتب میں پہاڑ ایک کمترین شی ہے اس سے نیچے کمتر کوئی شی نہیں تیسرا یہ کہ پہاڑ عظمت و بلندی میں معروف ہے چوتھا یہ کہ صلابت اور سخت ہونے میں سر زبان خاص و عام ہے کہ پہاڑ کی چٹان کی طرح وہ ثابت رہے۔تو حق تبارک و تعالی نے پہاڑ کو انتخاب فرمایا جب اس جیسی بے حس بے جان اور سخت شی میں قرآن سے خشیت اللہ آسکتی ہے تو انسان کا دل سزوار تر ہے کہ اس میں قرآن سے خشیت پیدا ہو ۔
۲۔ پہاڑ اسکے نزول سے خاشع ہوکر ریزہ ریزہ ہوسکتا ہے ۔
۳۔ اس خشوع اور ریزہ ریزہ ہونے کا منشا ، خشیۃ اللہ ہے نزول قرآن سے پہاڑ میں معرفت آتی ہے جس سے خشیت پیدا ہوئی جس سے خشوع پیدا ہوتا ہے جسکا انداز یہ ہے کہ وہ ریزہ ریزہ ہوجاتا ہے پھٹ جاتاہے ۔
۴۔ خشیت کا نمونہ یہ ہے کہ متصدع ہونا یعنی متفرق ہونا اور یہ عمل تب ہوتا ہے جب پہاڑ پھٹتا ہے، بلکہ کنکریوں میں تبدیل ہو جاتا ہے بلکہ خاک اور سرمہ ہوجاتا ہے ، اس حد تک خشیت ، یہ خشیت کا ایک انداز ہے ایک سخت ترین موجود میں جسے پہاڑ پتھر کہتے ہیں۔ دوسرا نمونہ اسی طرح تیسرا چوتھا نمونہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے سورۃ بقرہ کی آیت ۷۴ میں بیان فرمایا ہے :{ثُمَّ قَسَتْ قُلُوبُكُمْ مِنْ بَعْدِ ذَلِكَ فَهِيَ كَالْحِجَارَةِ أَوْ أَشَدُّ قَسْوَةً وَإِنَّ مِنَ الْحِجَارَةِ لَمَا يَتَفَجَّرُ مِنْهُ الأنْهَارُ وَإِنَّ مِنْهَا لَمَا يَشَّقَّقُ فَيَخْرُجُ مِنْهُ الْمَاءُ وَإِنَّ مِنْهَا لَمَا يَهْبِطُ مِنْ خَشْيَةِ اللَّهِ وَمَا اللَّهُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُونَ } اس آیت میں خدا وند متعال نے یہو دیوں کی قساوت قلبی کا نقشہ کھینچا ہے جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے معجزات دیکھ کر بھی خاشع نہ ہوئے، خشیت پیدا نہیں ہوتی تھی نبی پر ایمان تو نہیں لائے اپنے مقام پر نبی اکرمﷺ پر جادوگر کی تہمت لگا دی اللہ تبارک و تعالی نے فرمایا : یہ پتھر سے سخت تر ہیں کیونکہ پتھر بھی نبی کی ہتھیلی پر ایمان لے آیا اور کلمہ پڑھا لیکن انھوں نے نبی کو نہیں مانا دوسرا یہ ہے کہ پتھر میں خشیت آجاتی ہے ان میں نہیں آتی۔
تیسرا نمونہ :پتھروں میں بعض ایسے ہیں جو خشیت اللہ سے پھٹتے ہیں تو ان سے نہریں جاری ہو پڑتی ہیں{ وَإِنَّ مِنَ الْحِجَارَةِ لَمَا يَتَفَجَّرُ مِنْهُ الأنْهَارُ }پتھر جیسے خشک موجود سے بھی پانی نکلاآتا ہے جب خشیت پیدا ہو تو لہذا انسان میں بھی جب خشیت آتی ہے تو دل پھٹتا ہے اور آنکھوں سے پانی نکلتا ہے، یہ تیسرا نمونہ خشیت کا نمونہ ہے ۔
چوتھا نمونہ :فرمایا بعض پتھروں میں شگاف پڑ جاتا ہے تو ان سے پانی نکلتا ہے ۔{ وَإِنَّ مِنْهَا لَمَا يَشَّقَّقُ فَيَخْرُجُ مِنْهُ الْمَاءُ }
تو یہ خشیت کا چوتھا نمونہ ہے۔
پانچواں نمونہ : دیگر بعض پتھر ہیں جو خشیت اللہ سے گر پڑتے ہیں گویا کہ سجدہ ریز ہوجاتے ہیں { وَإِنَّ مِنْهَا لَمَا يَهْبِطُ مِنْ خَشْيَةِ اللَّهِ وَمَا اللَّهُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُونَ} پس خشیت،سے انفجار ہے انھدام ہے خاک ہونا ہے پانی ہونا ہے جب پتھر کی خشیت کا یہ انداز ہے تو انسان کی خشیت کا انداز کیا ہونا چاہیے؟ بلکہ پتھر کی ہر حرکت خشیت اللہ سے ہے : لذا فرمایا:{کل حجر تردیٰ من راس جبل فھو من خشیت اللہ}ہر پتھر جو پہاڑ کی چوٹی سے گرتا ہے اسکا منشاء خشیت اللہ ہے کوہ طور اگر سرمہ ہوا ہے تو وہ بھی خشیۃ اللہ سے،جب پہاڑ ایک تجلی برداشت نہ کر سکا اور خشیۃ اللہ سے سرمہ بن گیا تو حقیقیت قرآن کو کیسے برداشت کر سکتا ہے۔
پانی کی اصل
کا ئنات میں جو موجود پانی ہے قطرہ سے لیکر دریا اور دریا سے سمندر تک سب کا منشا خشیۃ اللہ ہے پانی اللہ کی خشیت سے پہاڑ سے ٹپکتا ہے تو خشیۃ اللہ سے دریا ہیں سمندر میں موجیں پیدا ہوتیں ہیں ان سب کا منشاء اللہ کی خشیت ہے۔ قال الصادق×:أَصْلُ الْمَاءِ خَشْيَةُ اللَّه‏ ، امام صادق × فرماتے ہیں پانی کی اصل جڑ، اساس، بنیاد اللہ کی خشیت ہے اسباب طبیعی اور دنیا جہان کے عوامل اپنی جگہ پر مسلم، جو علم سے ثابت ہو قابل قبول ہے لیکن یہ عوامل اور اسباب بالآخر جہاں پر ختم ہوں گے وہ خشیت اللہ ہے ۔
ہر شی اللہ کی معرفت رکھتی ہے
جب یہ خشیۃ کے نمونے پتھر اور پانی میں ہیں تو پتھرجیسی شی میں اللہ کی معرفت ہے جس کی بنیاد پر ہر شی تسبیح کر رہی ہے اللہ کی حمد کے ساتھ ، ذرہ سے لیکر فلک تک ہر چھوٹی بڑی شی تسبیح خدا میں مشغول ہے ہمارا تسبیح کو نہ سننا ہمارے بہرے ہونے کی تو دلیل ہو سکتی ہے۔ اشیاء کے لیے بے معرفت ہونے کی قطعا دلیل نہیں ہے ۔ بلکہ پتھر کا پھٹنا پانی کا ٹپکنا ، دریا کی موجیں ، تسبیح خدا ہیں جو خشیۃ اللہ سے ظاہر ہو رہی ہیں ۔
انسان اور خشیت خدا
عالم انسان میں خشیت پیدا ہوگی نہ جاہل میں اسی طرح وہ انسان جو معصیت اور گناہ سے دور ہے تو اسکا دل نرم ہوگا اور خشیت پیدا ہوگی ، گناہ سے تو قساوت یعنی دل میں سختی پیدا ہوتی ہے قسی القلب اور سخت دل میں تو خشیت پیدا نہیں ہوتی بلکہ گناہ گار انسان کو اللہ تبارک و تعالیٰ تو پتھر سے بھی زیادہ سخت قرار دے رہا ہے کیونکہ پتھروں میں بھی اللہ کی خشیت سے نرمی آجاتی ہے اور وہ پھٹ پڑتے ہیں گر پرتے ہیں ریزہ ریزہ ہوجاتے ہیں لیکن گناہ گار انسان اتنا سخت دل ہے کہ ذرہ برا بر بھی اس میں نرمی نہیں آتی جیسے یہودی ہیں جو معجزہ دیکھ کر بجائے نبوت ِ نبی کو قبول کرنے کے حضرت پر ساحر ہونے کی تہمت لگاتے ہیں پس مشرک ، کافر ، منافق ، گمراہ اللہ تبارک و تعالیٰ کے نزدیک پتھر سے زیادہ سخت ہیں ، اور ( اشد قسوۃ ) یہ قساوت انکی جہا لت کی دلیل ہے مسلمان مومن متقی نرم دل ہیں اور عالم ہیں یہ خشیت مومن بندے کا سجدہ الٰہی میں گر پڑناہے مومن کے آنسو یہ سب خشیت کی دلیل ہیں مومن کی معرفت کی دلیل ہیں اس کا رونا ، مومن کے گناہ کی دلیل نہیں ہے کیونکہ گناہگار میں قساوت قلبی کی وجہ سے خشیت پید ا نہیں ہو سکتی اس خشیت سے مومن کو حکمت عطا ہوتی ہے ۔
مومن کی خشیت کے انداز
صاحب معرفت مومن کی خشیت کے مختلف انداز ہیں ۔ اصل اطاعت اور بندگی تو خشیت سے حاصل ہو گی جسکا منشاء اللہ کی معرفت ہے ، چند انداز بطور نمونہ پیش کیے جاتے ہیں ۔
۱۔ رونا، آنسو بہانا
آنسووں کا بہنا خشیت اور معرفت کی دلیل ہے خدا و ند متعال نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا :{وَإِذَا سَمِعُوا مَا أُنْزِلَ إِلَى الرَّسُولِ تَرَى أَعْيُنَهُمْ تَفِيضُ مِنَ الدَّمْعِ مِمَّا عَرَفُوا مِنَ الْحَقِّ يَقُولُونَ رَبَّنَا آمَنَّا فَاكْتُبْنَا مَعَ الشَّاهِدِينَ} ، جب وہ سنتے ہیں اسے(قرآن کی آیات) جسے رسول کی طرف نازل کیا گیاتم (رسول) دیکھتے ہو انکی آنکھوں کو کہ ان سے آنسو جاری ہیں (آنسووں کے جاری ہونے کا منشاء ) یہ ہے کہ وہ معرفت حق پیدا کر چکے ہیں ( روتی آنکھوں سے ) کہتے ہیں اے ہمارے پر ور دگار ہم ایمان لائے آپ ہمیں شاھدین کے ساتھ لکھ دیں ۔اس آیت کریمہ میں معارف کا دریا ہے۔ لیکن بندہ عہد اختصار باندھ کر اس مقام پر وارد ہوا ہے لہذا اس معارف کے دریا میں سے تیرتے ہوئے جلدی سے گزر جاؤں گا۔
۱۔ جسطرح پہاڑ پر قرآن نازل ہوتا تو خشیت سے ریزہ ریزہ ہوجاتا ہے اسی طرح جب انسان قرآن سنتا ہے تو خشیت پیدا ہوتی ہے جسکے نتیجہ میں آنسو جاری ہو پڑتے ہے ۔ کیونکہ آیات کے سننے سے معرفت اللہ آتی ہے جو انسان کو عالم بناتی ہے ، یہ آنسو ، دل انسان کا انفجار ہے ، یہ انفجار معرفت کی دلیل ہے یہ رونا علم کی دلیل ہے نہ گناہ کی دلیل، اس رونے کا منشاء عرفان ِ حق ہے نہ معصیت خدا، پس کسی مومن کے رونے ، گڑ گڑانے کو گناہ کانتیجہ نہیں سمجھنا بلکہ اسکی بلندی ِ معرفت کا نتیجہ جاننا ہے ۔
۲۔ وہ صا حبا ن معرفت آنسو بہاتے ہوئے اپنے عرفان کا اظہار کر رہے ہیں اے ہمارے پروردگار ہم ایمان لائے ۔ ایمان معرفت سے حاصل ہوتا ہے نہ جہا لت سے اور گناہ جہالت کا نتیجہ ہے نہ علم کا ۔ ہمیں شاہدین کے ساتھ محشور فرما ۔ یہ د عا بتا رہی ہے کہ مقام شہود عظیم منزلت ہے جس پر فائز ہونے کی دعا کر رہے ہیں جسطرح حضرت ابراہیم × نے دعا کی کہ عہد امامت کو میری ذریت میں رکھ دے ، تو یہ ا مامت بر تر ازنبوت و رسالت تھی اس لیے تو مانگ رہے ہیں ۔پس حضرات معصومین ^ کا گریہ آہ و بکا اور دیگر حالات انکی خشیت خدا کے انداز ہیں جو انکی بلندی و عرفان کو بیان کر رہے ہیں عدم عصمت کو بیان نہیں کر رہے بلکہ یہ تصور خود جہالت اور حماقت کی پیداوار ہے۔پس آنسو بہانا قرآن میں معرفتِ حق کی علامت اور خشیت کی دلیل ہے۔
رونے کے مراتب
اب رونے میں بھی شدت و ضعف ہے ، کھبی آہستہ رونا، کھبی بلند رونا ، کھبی بَین اور ندبہ کر کے رونا ، کھبی کوئی الفاظ کہہ کر رونا ، کھبی چیخ مار کر رونا ، اور کھبی دھا ڑیں مار کے رونا ، کھبی اتنا رونا کے بیھوش ہو جانا ، رنگ زرد ہوجانا کپکپی کا طاری ہونا ، زیادہ دیر تک روتے رہنا، اتنا رونا کہ آنکھیں زخمی ہو جائیں اور کھبی آنکھوں کی بینائی کھو دینا اور باقی زندگی روتے روتے دنیا سے چلا جانا ، اور اس طرح کے اور انداز یہ سب خشیت کی شدت اور ضعف کو بتا رہے ہیں ۔
۱۔ گڑ گڑ انا
وہی عاجزی کا اظہار ۔ اپنی ذلت کو بارگاہ حق میں پیش کرنا ، اپنی ناتوانی کو یاد کر کے رونا ، ممکنات کے فقر اور محتاجی کا اظہار کرنا جیسے ( انا الذلیل ، انا المسکین ، انا المستکین ،انا الفقیر )بارگاہ حق میں یہ حالات خشیت کا نتیجہ ہیں نہ معصیت کا ، دعا کمیل ، ابو حمزہ ثمالی و غیرہ اسکا نمونہ ہیں اور حضرات معصومین ^ کے علم عظیم کی محکم دلیل ہیں ، ان دعاؤوں سے اُنکے بارے میں عصیان کا سوچنا جہالت اور حماقت ہے۔
۲۔ سجدہ
سجدہ خشیت کا بہترین انداز ہے جسکا خود اللہ تبارک و تعالیٰ نے بندوں کو حکم دیا ہے ، اس طرح کے دیگر امور۔ انجامِ واجبات ترک محرمات ، ایک انداز خشیت ہیں اپنے ایمان و تقوی کا اظہار ہے ۔
شدت خشیت عظمت معرفت کی علامت ہے
جب علم و معرفت کے مرتبے اور درجے ہیں ، اور خشیت معرفت کی علامت اور دلیل ہے تو شدت خشیت، عظمت معرفت کی علامت ہو گی ۔حضرت رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا) واللَّهِ إِنِّي لَأَعْلَمُهُمْ بِاللَّهِ وَ أَشَدُّهُمْ لَهُ خَشْيَةً ) تم سے جو اَعلم باللہ ہے وہ تم میں سے خشیت ،کے لحاظ سے شدید ہے معرفت اللہ میں افضل ، خشیۃ اللہ میں اشد و شدید ہو گا ، شدتِ خشیت عظمت دلیل معرفت ہے اور اعلی درجہ کی خشیت ، معصوم کے ساتھ مختص ہےاور غیر معصوم سے وہ خشیت محال ہے پس معصومین کی عظمت کی ایک دلیل انکی شدتِ خشیت ہے ۔پھر خود رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا( قَالَ النَّبِيُّ ص إِنِّي أَخْشَاكُمْ لِلَّهِ وَ أَتْقَاكُمْ لَهُ )میں تم سے اللہ کی بارگاہ میں باخشیت تر ہوں اور تم سے با تقوی تر ہوں اس لیے تم سب سے اعلم باللہ اور اعرف بالحق ہوں جب تم سے علم میں افضل ہوں تو قطعا خشیت میں اشد ہوں اور پھر خشیت کے ساتھ فرمایا (اَتقیٰ) ہو ں، مجھ جیسا تقوی کسی میں نہیں ہے ، تقوی سے معصیت نہیں ہوتی بلکہ اطاعت کی جاتی ہے ،، لذا خشیت دلیل عصمت ہو سکتی ہے گناہ کی دلیل نہیں ہو سکتی ۔ اس لیے خاتم مرسلین ار شاد فرماتے ہیں ( لَوْ تَعْلَمُونَ مَا أَعْلَمُ لَضَحِكْتُمْ قَلِيلًا وَ لَبَكَيْتُمْ كَثِير) ، اگر تم وہ جانتے ہوتے جو میں جانتا ہوں تو تم ہنستے کم اور زیادہ روتے پس زیادہ رونا بھی علم کی دلیل ہے نہ جہالت کی بلکہ زیادہ ہنسنا جہل کی علامت ہے نہ علم کی ۔ علم کی بنیاد پر رونا خشیت ہے۔
پیغمبر اسلامﷺ سے پوچھا گیا :یا رسول اللہ ہم سے کون زیادہ علم رکھتا ہے ؟(اَیّنا اعلم ؟ )یعنی ہمارے کثرت علم کا میزا ن کیا ہے ؟تو حضرت نے ارشاد فرمایا (أَخْشَاكُمْ لِلَّهِ ) جو تم میں سے زیادہ اللہ کے لیے خشیت رکھتا ہے ! پھر یہ آیت کی تلاوت فرمائی:إِنَّمَا يَخْشَى اللَّهَ مِنْ عِبَادِهِ الْعُلَمَاءُ إِنَّ اللَّهَ عَزِيزٌ غَفُورٌ ،شیخ الطا ئفہ جعفر طوسی ؒ مصباح المتہجد میں بدھ کے دن کی دعا نقل فرماتے ہیں(اللَّهُمَّ أَشَدُّ خَلْقِكَ خَشْيَةً لَكَ أَعْلَمُهُمْ بِكَ وَ أَفْضَلُ خَلْقِكَ بِكَ عِلْماً أَخْوَفُهُمْ لَكَ وَ أَطْوَعُ خَلْقِكَ لَكَ أَقْرَبُهُمْ مِنْكَ وَ أَشَدُّ خَلْقِكَ لَكَ إِعْظَاماً أَدْنَاهُمْ إِلَيْكَ لَا عِلْمَ إِلَّا خَشْيَتُك‏ )اے میرے پرور دگار تیری مخلوق میں سے جو خشیت میں تیرے لیے شدید ہے یہ وہی ہے جو تیری مخلوق میں سے سب سے زیادہ تیرا علم وعرفان رکھتا ہے جو تجھ سے خشیت نہیں رکھتا اسکے پاس علم نہیں ، علم نہیں ہے مگر تیری خشیت علم کا ایک مقام یہ ہے کہ عین خشیت ہے اور خشیت و علم جدائی نہیں ہے ، اس موضوع پر یہ دعا واقعاً عظیم ہے ۔ پس جتنی جسکی معرفت ہےاتنی اسکی خشیت ہے ۔
عبادت معرفت پر موقوف ہے
جب بندگی ، اطاعت عبادت اورخشیت کے انداز ہیں اور خشیت معرفت سے ہے تو عبادت بھی دائر مدار معرفت ہے جیساکہ بیان ہو چکا ہے لیکن یہاں پر ایک نکتہ بیان ہو اچا ہتا ہے ۔ کہ عبادات اور اعمال کو روز قیامت تولا جائے گا وزن کیا جائے گا عبادت اور عمل معرفت کے میزان پر وزن کیے جائیں گے جتنی معرفت عظیم ہوگی اتنا عبادت اور عمل میں وزن زیادہ ہوگا فقط کثرت عمل سے عبادت میں وزن پیدا نہیں ہوگا بلکہ عظمت معرفت سے اعمال میں وزن پیدا ہو گا اسی لیے رسول خدا ﷺ نے ارشاد فرمایا: عالم کی دو رکعت ، غیر عالم عابد کی ستر(70) رکعتوں سے افضل ہیں جبکہ دونوں کی نماز ارکان اور واجبات اور مستحبات کے لحاظ سے اور اعمال اور اذکار کے لحاظ سے برابرہیں چہ بسا غیر عالم کے اذکار اور مستحبات بھی زیادہ ہوں لیکن وزن میں ایک زیادہ ہے ایک کمتر ہے اور اسکی وجہ عابد کی معرفت کا کم اور زیادہ ہونا ہے ، جس معرفت سے عالم سجدہ کر رہا ہے اس معرفت کے ساتھ غیر عالم سجدہ نہیں کر رہا ، پس عبادت میں وزن معرفت سے پیدا ہو گا نہ فقط کثرتِ اعمال سے یعنی کیفیت معیار ہے نہ کمیت ۔ اور عبادت میں معیار معرفت سے پیدا ہوتا ہے۔
مو لا علی × معرفت و علم میں ثقلین سے اٖفضل
اور اب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مشہور حدیث قابل تفسیر بنے گی کہ رسول اللہ کی وہ مشہور(اوپر والے بیان کی روشنی میں) حدیث جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مولا علی × کے بارے میں فرمائی تھی (لضربة علي يوم الخندق أفضل من عبادة الثقلين )‏ خندق کے دن علی × کی ایک ضربت ثقلین کی عبادت سے افضل ہے ۔
تما م عابدین کو تصور کریں ، کہ قابل تصور نہیں ان میں بعض وہ ہیں جو ہمیشہ عبات میں ہیں ۔ انکی کثرت اور کیفیت کو ملاحظہ کریں اُدھر فقط ایک ضربت ہے نہ پوری زندگی کی عبادت ، پھر بھی مساوی نہیں بلکہ افضل و برتر ہے کیوں؟ ثقلین جن و انس کی عبادت ہے تمام فرشتوں کی عبادت ہے اوراولیاء و انبیاء کی عبادت ہے ۔ ایک ضربت سے کیوں بڑھ گئی ؟
اس لیے افضل ہے کہ علی مولا× کا علم و عرفان ثقلین سے افضل ہے ۔ جس معرفت سے مولا علی × نے ضرب ماری ثقلین کے کسی فرد کے لیے ایسی ضربت چلانا ممکن ہی نہیں تھا، جب ثقلین مولا علی × کی ایک ضربت کا مقابلا نہیں کر سکتی تو پھر اسکی تکبیر و سجدہ کا کیسے مقابلہ کرے گی ؟
سجدہ مولا حسین×
وہ خشیت سے گر پڑتا ہے( لما یھبط من خشیۃ اللہ )ہے کا ئنات کو سجدہ کی قبولیت کا یقین حاصل نہیں ہوتا ،مولا حسین × نے وہ سجدہ دیا جس سے قیامت تک اسلام کو حیات عطا فرما دی ۔ جس معرفت سے مولا حسین× نے سجدہ کیاکوئی اورکر ہی نہیں سکتا پس جتنا عمل و زین ہو گا اتنا اس کی تاثیر دور تک جائے گی جب سجدہ کا وزن لا محدود ہے تو اسکی تاثیر بھی دنیا میں محدود نہیں بلکہ قیامت تک باقی رہے گی۔
۲۔ عبودیّت
معرفت کا دوسرا ثر عبودیت ہے جب اللہ تبارک و تعالی کی معرفت حاصل ہو تی ہے کہ وہ واحد ، احد ، ازلی ، صمد ۔ لم یلد ۔اور لم یولد ہے وہی اول و آخر ہے وہی ظاہر و باطن ہے علم مطلق ہے غنی لا محدود ہے ادھر پورا عالم امکان فقیر ِ محض ہے کو ئی شی نہیں مگر وہ ذات فضل فرمائے تو شی تحقق پاتی ہے پھر بھی حقیقت شیئت اسی کی ہے۔جب انسان اس معرفت کو پالے تو عبودیت محقق ہوتی ہے ، عبودیت کے تین رکن ہیں۔
۱۔ اپنے لیے کسی قسم کی ملکیّت تصور نہ کرے ۔ حتی کہ اپنے آپ کو بھی اپنا مالک نہ سمجھے کیونکہ غلاموں کی ملکیت نہیں ہوتی وہ فقط مملوک ہوتے ہیں اور بس، اپنے مال کو مالِ خدا سمجھے ،لذا مال کو وہیں رکھتا ہے جہاں کا اسے حکم دیا گیا ہے اپنی مرضی سے مال میں تصرف نہ کرے اصلا اسکی مرضی بھی اپنی نہیں بلکہ مرضی و رضا بھی مالک کی ہے ۔
۲۔ اپنے لیے کسی قسم کی تدبیر نہیں کرتا ۔ بلکہ اسکی تدبیر مالک کے ہاتھ میں ہے جو مالک اس کے لیے ٹائم ٹیبل بنائے اسکے مطابق چلتا ہے عبد کی تدبیر وہی ہے جو مالک کی ہے غلام کا ٹائم ٹیبل برنامہ وہی ہے جو آقا کا ہے ۔
۳۔ پوری زندگی کا مقصد و ہدف اپنے آقا کے امر و نہی کو انجام دینا قرار دے ۔ عام طور پر پو چھا جاتا ہے آپ کا شغل کیا ہے ؟ کو ئی کہتا ہے تجارت ، کوئی کھیتی باڑی ، کوئی اور ہنر وغیرہ، عبد کا شغل فقط مولا اور آقا کے احکام کی بجا آوری ہے، اپنے آقا اور مالک کے امر و نہی کو انجام دیتا ہے اسی میں لگا ہوا ہے کہ کہیں کوئی مالک کا امر رَہ نہ جائے ۔ مولا کی کسی نہی کا مرتکب نہ ہو جاؤں مولا جسکا امر دیں کہیں ترک نہ ہو جائے آقا جس سے روکیں ارتکاب نہ ہوجائے۔
ہر ایک کی علامت
تینوں ارکا ن کی علامتیں ہیں ، جن سے معلوم ہو گا عبودیت کس میں کس حد تک پائی جاتی ہے۔
رکن اول کی علامت :انفاق کا آسان ہونا
جہاں پر مولا نے خرچ کا حکم دیا ہے وہاں پر بہت آسانی کے ساتھ خرچ کرئے گا ۔اس لیے کہ جب اپنے لیے کوئی ملکیت تصور نہیں کرتا ۔ تو جہاں مولا کہے گا آسانی سے خرچ کرتا چلا جائے گا کہیں اگر انسان مال خرچ کرنے میں مشکل رکھتا ہے ہزار حیلہ وبہانہ کرتا ہے کہ خرچ نہ کرئے تو اس میں عبودیت کا پہلا رکن محقق نہیں ہوا یہ جان کے خرچ کرنے کو بھی شامل ہے۔
رکن دوم کی علامت: دنیا کے مصائب کا آسان ہونا
جب کسی کی تدبیر اسکے مولا کے ہاتھ میں ہے تو جو سر پر آ پڑے خوشی سے قبول کرئے گا کہ اس میں قطعا مصلحت ہے کیونکہ میرے مولیٰ نے تدبیر فرمائی ہے ، اور جو مصائب کو خوشی سے قبول نہیں کرتا اس میں عبودیت کا دوسرا رکنِ محقق نہیں ہے ۔ جس طرح حضرت زنیب بنت علی÷ نے دربار یزید میں فرمایا ۔ { ْ مَا رَأَيْتُ إِلَّا جَمِيلا } وہ مصائب جو پتھر کو پانی کر دیں جسکے تصور سے شیروں کے پتے پانی ہو جائیں ا نہیں تحمل فرما کر فرما تی ہیں” میں نے تو جمال الھی کے علاوہ کچھ دیکھا ہی نہیں ہے”
رکن سوم کی علامت ، لوگوں کے ساتھ فخر و مباحات نہ کرنا ، جھگڑا نہ کرنا
جس کا شغل ، مولا کے امر و نہی کو انجا م دینا ہے اسے وقت ہی نہیں کہ وہ دوسروں سے جھگڑا کرے اور کسی سے الجھے ، جو اپنے مولا کی دی ہوئی تکالیف کے انجام کے درپے ہے، اسے کیا کہ فخر و مباحات کرے ، پس جو مال کے جمع کرنے میں لگا ہے تاکہ لوگوں کے ساتھ فخر و مبا حات کرے اس میں عبودیت کا تیسرا رکن محقق نہیں ہے ، پس عبد کی کوئی حقیقت اور ذات نہیں مگر یہ کہ عین فقر الیٰ المولیٰ ہے عین تعلق باللہ ہے کسی قسم کا استقلال اس میں قابل تصور نہیں ہے اگر عبد اپنے مستقل ہونے کا سوچے گا تو عبودیت ختم ہو جائے گی یہی استقلال بشر کی سب سے بڑی جہالت ہے بلکہ جہالت فقط ہے ہی یہی ، جب یہ تین رکن محقق ہوئے تو عبودیت آجائے گی جس کا نتیجہ یہ ہے کہ اس عبد کے لیے دنیا ،ابلیس اور پوری مخلوق کا سامنا کرنا بہت ہی آسان ہے ، نہ دنیا کا زرق برق اسکی آنکھوں کو خیرہ کرتا ہے نہ شیطان کے ہتکنڈےے اسے پھنسا سکتے ہیں اور نہ پوری مخلوق اسے عاجز کرسکتی ہے کیونکہ سب قدرت مولا کی ہے۔
کیونکہ نہ فخر و مبا حات کے لیے دنیا کماتا ہے نہ لوگوں میں عزت و بلندی چاہتا ہے نہ اپنے اوقات اور زندگی کو فضول اور باطل گزارتا ہے فقط اپنے مولا کی پناہ میں اسکی رضایت کے حصول میں مشغول ہے ۔ تو یہاں سے عبودیت کا پہلا درجہ حاصل ہو گا تو اب اس عبودیت کے پہلے درجہ کے ذریعہ دیگر درجات ِ معرفت حاصل کرے اس طرح معرفت با لعبودیت ہو جائے گی ، اور کسب علم ، بالعمل ہو جائے گا۔
اللہ تبارک و تعالیٰ کے اپنے عبد پر فضل و کرم
جب کسی انسان میں عبودیت محقق ہو جائے تو وہ عبدا للہ ہو جاتا ہے ، اس وقت مولا کےلا محدود فیض نازل ہوتے ہیں جس کے اتم اور کامل مصادیق درج ذیل امور ہیں۔ { ولایت ، نبوت ، رسالت ، امامت ، خلافت ، علم و قدرت و حکمت و رحمت}
ولایت
ا للہ تبارک و تعالیٰ اپنا بندہ قرار دینے کے بعد اسے اپنی ولایت عطا فرماتا ہے تو عبداللہ ولی اللہ بن جاتا ہے اس وقت اللہ تبارک و تعالیٰ کی ولایت کے آثار اسی بندے سے ظاہر ہونے لگتے ہیں ۔ ا لبتہ و لایت کے مراتب ہیں جو عبودیت کے مراتب کے ساتھ بلند ہوتے چلے جاتے ہیں ۔
نبوت
انہی اولیا ء میں سے بعض کو اللہ تبارک و تعالیٰ مقام نبوت پر فائز فرماتا ہے ۔ کہ خلق و خالق کے درمیان خدا وند متعال کے احکام کو اسکے بندوں تک پہنچائیں ۔
رسالت
ان انبیاء میں سے بعض کو اللہ تبارک و تعالیٰ نے مقام رسالت پر فائز فرمایا ہے جنہوں نے رسالت الھیہ کو انجام دیا ہے ۔
امامت
مرسلین میں سے بعض کوا للہ تبارک و تعالیٰ نے مقامِ امامت پر فائز فرمایا ہے ۔
جس طرح اولیا ء میں سے بعض کو امامت عطاء فرمائی ہے جس طرح ہمارےبارہ امام معصومین ^ ہیں۔جیسے ابراہیم × اور خاتم الرّسل ﷺ،امام صادق علیہ السلام ار شاد فرماتے ہیں ( مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ عَمَّنْ ذَكَرَهُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ خَالِدٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِنَانٍ عَنْ زَيْدٍ الشَّحَّامِ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا عَبْدِ اللَّهِ ع يَقُولُ إِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَ تَعَالَى اتَّخَذَ إِبْرَاهِيمَ عَبْداً قَبْلَ أَنْ يَتَّخِذَهُ نَبِيّاً وَ إِنَّ اللَّهَ اتَّخَذَهُ نَبِيّاً قَبْلَ أَنْ يَتَّخِذَهُ رَسُولًا وَ إِنَّ اللَّهَ اتَّخَذَهُ رَسُولًا قَبْلَ أَنْ يَتَّخِذَهُ خَلِيلًا وَ إِنَّ اللَّهَ اتَّخَذَهُ خَلِيلًا قَبْلَ أَنْ يَجْعَلَهُ إِمَاماً فَلَمَّا جَمَعَ لَهُ الْأَشْيَاءَ قَالَ إِنِّي جاعِلُكَ لِلنَّاسِ إِماماً قَالَ فَمِنْ عِظَمِهَا فِي عَيْنِ إِبْرَاهِيمَ قَالَ وَ مِنْ ذُرِّيَّتِي قالَ لا يَنالُ عَهْدِي الظَّالِمِينَ قَالَ لَا يَكُونُ السَّفِيهُ إِمَامَ التَّقِي‏ ) یہ روایت مختلف طُرق سے کتب روائی میں مذکور ہے لہذا اگر تواتر تک نہ پہنچے تو روایت ِمستفیضہ ضرور ہے ۔ جس میں امام × نے عبدیت سے لے کر امامت تک کے مراتب کو بیان فرمایا ہے ، تمام مراتب عبودیت کی بنیاد پر ہیں اور عبودیت معر فت کی اساس پر ہے ۔
لذا امام × فرماتے ہیں :تحقیق اللہ تبارک و تعالیٰ نے ابراہیم × کو عبد بنایا قبل از اس سے کہ اسے نبی انتخاب فرمائے اور اللہ تبارک و تعالی ٰ نے اسے نبی بنایا قبل از اس سے کہ رسالت عطا فرمائے ، اور اسے رسول بنایا قبل از اس سے کہ اسے خلیل قرار دے اور اسے خلیل اخذ کیا قبل از اس سے کہ اسے امام بنائے جب اس کے لیے تمام چیزیں ( عبدیت ،نبوت، رسالت،خلت،)جمع ہو گئی تو فرمایا :میں تجھے ( ابراہیم) لو گوں کا امام بنا نے والا ہوں پھر امام فرماتے ہیں کہ ابراہیم × کی آنکھ میں امامت کی عظمت روشن ہوئی ( للچا کر) کہا میری ذریت سے (امامت )قرار دے تو اللہ نے فرمایا:میرا عہد ( امامت) ظالموں کو نہیں پہنچے گا پھر امام فرماتے ہیں : سفیہ اور بیوقوف (جس نے زندگی کے کسی حصے میں گناہ کیا ہو اور کھبی کسی بھی بت کی عبادت کی ہو )پاکیزہ شخص کا امام نہیں ہو سکتا ۔تو پس یہ ترتیب قرآن اور سنت میں یقینیات میں سے ہے جس طرح عقل کے نزدیک بھی قطعیات میں سے ہے۔
تنبیہ
آپ نے ملاحظہ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کس طرح عظیم ہدیے اپنے بندوں کو عطاء فرماتے ہیں یہ تمام مولا کی طرف سے عطاکردہ عہد ے اور منصب بھی ہیں اور یہ سب اللہ تبارک و تعالیٰ کااپنے بندے پر فضل و کرم بھی ہے جس طرح بندے کی بندگی میں بلندی آتی گئی خدا وند متعال کی عطا میں اضافہ آتا جائے گا تو عبودیت و بندگی کے درجہ کے مطابق عبد، الھی مقامات پر فائز ہوتا ہے اور ارتقاء عبودیت بلندی معرفت سے حاصل ہوتی ہے تو ان مقامات الھی میں کوئی عبودیت سے زائل نہیں ہوتا کیونکہ اگر ایسا ہو تو اسے عہدے کی ترقی نصیب نہیں ہوتی بلکہ اصلا یہ مقامات ، عبودیت کے نتائج ہیں ،بندگی کے آثار ہیں جو جتنا بڑا عبد ہوتاہے اتنے بڑے الھی مقام پر فائز ہوتا ہے یہ خود ایک الھیٰ واقعی نظام ہے ۔ جسکے مطابق یہ سلسلہ چل رہا ہے کسی عہدے یا منصب کو دیکھ کر عبودیت سے غافل ہونا یہ نابینا ہونے کی دلیل ہے سب کچھ بندگی اور عبودیت سے ملتا ہے یہ عبودیت ہے جو انسان کو ان مقامات تک لے جاتی ہے ۔ اسی لیے خدا وند متعال نے اپنا سب سےعظیم مقام جب کسی کو عطا فرمایا اور ہمیں اسکے عظیم مقام کو بیان فرمانے لگا کہ جس سے بالا تر انسانی مقام قابل تصور نہیں ہے اور نہ واقع میں ممکن ہو سکتا ہے ، تو عنوان عبد قرار دیا ،لذاارشاد فرمایا : { سُبْحانَ الَّذي أَسْرى‏ بِعَبْدِهِ لَيْلاً مِنَ الْمَسْجِدِ الْحَرامِ إِلَى الْمَسْجِدِ الْأَقْصَى } بابر کت ہے وہ ذات جس نے اپنے عبد کو سیر کرائی مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ کی طرف،اور پھر (سدرۃ المنتھی ٰ قاب قوسین) وبالاخر(او ادنی) پر کہ وہاں پر (اوحی الی عبدہ ما اوحی ) ان تمام منازل میں وہ عبد تھا حتی کہ اس آخری منزل پر بھی کہ خود خدا جانتا ہے یا جانے والا جانتا ہے کہ وہ کیا مقام ہے وہ عبد ہے ۔
خلا فت
بندہ اس مقام پر پہنچتا ہے کہ مقام خلافت الھیہ پر نائل ہو جاتا ہے ، اللہ تبارک و تعالیٰ کاجانشین ہو جاتا ہے ۔ کہ وہ مقام مظہریت الھیہ ہے حق تبارک و تعالیٰ کے اسماء و صفات اس بندہ سے ظاہر ہوتے ہیں جس طرح کہ ہر موجود سے اس کے انوار ظاہر ہوتے ہیں البتہ خلافت بھی مراتب رکھتی ہے ہمارے مولا و آقا کہ حضرت خاتم الا ئمہ ×#اللہ تبار ک و تعالٰی کے خلیفہ اعظم ہیں حتی کہ اسکی غیبت کے بھی جانشین ہیں جس طرح اسکے ظہور میں بھی خلیفہ ہیں ، ہمارے آئمہ ھُدیٰ ^ کے تمام مقامات الھیہ سمٹ کر اسم خلیفۃ اللہ میں آجاتے ہیں اس لیے معصومین ^ نےجب بھی اپنا مقام بیان فرمایا خصوصا حضرت امیر المومنین×اپنے مقام کو بیان فرماتے ہیں تو یوں تبیین فرما تے ہیں( انا عبد اللہ و خلیفتہ )میں اللہ کا عبد و بندہ ہوں اور اسی کا جا نشین ہوں تمام صفات حق تبارک و تعالیٰ ہم سے ظاہر ہوتی ہیں خود خدا وند متعال کا بنایا ہوا نظام یہی ہے کہ وہ اپنی صفات کو اپنے بندوں سے ظاہر فرماتا ہے ۔
یہاں تک کہ عبد ، قدرۃ اللہ اور علم اللہ ہو جا تاہے جس طرح کہ عین اللہ ، لسان اللہ ، ید اللہ ، جنب اللہ ، اور وجہ اللہ ہو جاتاہے۔ اور تمام جہانوں کے لیے رحمۃ اللہ بن جاتے ہیں (وَ ما أَرْسَلْناكَ إِلاَّ رَحْمَةً لِلْعالَمينَ ) جب یہ آثار روشن ہو گئے تو چند قوانین اخذ کرنا آسان ہو جائیں گے جتنی جس میں معرفت اتنی اس میں خشیت ہو گی جتنی جس میں بندگی اتنی اس میں ولایت جتنی جس میں عبدیت اتنے درجے کی ولایت ،اس میں نبوت و رسالت ، جب عبد، عبدیت کےاعلی مقام پر پہنچے گا تو امام العالمین ہو گا جب معرفت امام معرفت اللہ ہے تو ہم جب اپنے وقت کے امام خاتم الائمہ × # کی معرفت حاصل کریں گے اتنے اللہ تبارک و تعالیٰ کے مقرب بندے بنتے چلے جا ئیں گے ، بغیر معرفت امام زمان × کے عبادت نہیں بلکہ شیطنت ہے ،اے بندہ غافل کہاں بھٹکتا پھر رہا ہے ؟ کدھر شیطان کے چنگل میں گرفتار ہے یا خاتم الائمہ پکار ! اور اپنے آپ کو شیطان کی زندان سے باہر نکال!اے منتظر، کب تک غفلت؟ کب تک دوری ؟ کب تک زرق و برق دنیا میں گم سم رہے گا؟
تیرا جتنا عرفان مولا کے بارے میں بڑھتا چلا جائے گا ا تنا تیری عبادت میں وزن آتا چلا جائے گا پس اگر عبادت میں وزن پیدا کرنا ہے تو حضرت کی معرفت مزید حاصل کرو جسطرح اصل دائرہ بندگی اور عبادت الھی میں داخل ہونا ہے تو پہلے معرفت سے {یاخاتم الائمہ × # ادرکنی }کہو، معرفت با لعبادۃ کو وظائف المنتطرین پر عمل کر کے حاصل کرو ۔
اے بشر! تجھے کس نے خلیفۃ اللہ الاعظم سے دھوکہ میں رکھا ہوا ہے ؟ اے مومن تجھے کس نے شفیق اور مہربان مولا سے غفلت میں ر کھا ہوا ہے ؟ اے عزادار تجھے کس نے وارث عزا سے دور رکھا ہوا ہے ؟ آئیں اپنے مولا کو ہمیشہ یاد رکھیں اسکے حقیقی رعایہ بن کر حق رعیت ادا کریں ۔ پس اپنے مولا کی دونوں قسم ( ظاہری ہو یا باطنی)کی معرفت حاصل کریں ۔ جہاں پر اس کا اسم و رسم منقوش ہے وہیں پر اس کی صفات و حالات اور افعال کے نقوش بھی منقوش ہو نے چاہیں ۔
 
 

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.