امامت شناسی

833

شیعہ و سنی علماء نے امامت کی یوں تعریف کی ہے:
‘الامامة ریاسة عامة فی أمور الدین و الدنیا لشخص من الاشخاص نیابة عن النبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم’
‘امامت پیغمبر اکرم ۖ کی نیابت میں تمام مسلمانوں کے دینی و دنیوی امور کی سرپرستی و رہنمائی کا نام ہے.'(١)
امامت عامہ
امامت عامہ سے مقصود پیامبرگرامی قدر ۖ کی رحلت کے بعد خداوندمتعال کی طرف سے آپ کے جانشین مقرر کرنے کی ضرورت ہے۔ البتہ رحلت پیغمبر ۖ کے بعد امت اسلامی اور اسلامی معاشرے کی خداوندمتعال کی طرف سے منصوب امام کی طرف ضرورت و احتیاج دلائل عقلی و نقلی سے ثابت ہے اور بعض عقلی دلائل درج ذیل ہیں۔
امام کی ضرورت پر عقلی دلائل
الف۔ اگر پیغمبر اکرم ۖ کے بعد خداوندمتعال کی طرف سے منصوب امام موجود نہ ہو تو لوگوں کے لیے اپنی مختلف ذمہ داریوں کی شناخت ممکن نہیں ہو گی اور اگر ایسا ہو تو لوگوں سے ذمہ داری ساقط ہو جائے گی۔ اور واضح ہے کہ لوگ رحلت رسول اللہ ۖ کے بعد بھی مکلف ہیں، اور ان سے ذمہ داری ساقط نہیں ہوئی۔ اس بناء پر خداوندمتعال کی طرف سے امام منصوب کا وجود لازمی اورقطعی ہے۔
وضاحت: واضح ہے کہ لوگ زندگی کے مختلف شعبوں معاملات، معاشرت، عبادات وغیرہ میں اسلامی احکام سے خودد بخود آگاہ نہیں۔ اور قرآن و حدیث پیغمبر ۖ سے بھی مکمل طور پر استفادہ نہیں کر سکتے اور مسلمان علماء سے دین کے بارے میں حاصل شدہ نظریات مکمل طور پر مختلف ہیں اور واضح ہے کہ لوگ تکلیف و ذمہ داری سے آزاد نہی بلکہ دین کی معرفت اور اس پر عمل کرنے کے ذمہ دار ہیں۔ اس بناء پر معرفت دین اور احکام اسلامی کے لیے حتمی طور پر ایک ایسی شخصیت کے محتاج ہیں، کہ جس کا فرمان سند و حجت ہو اور واضح ہے کہ اس ہستی کا فرمان سند و حجت ہوتا ہے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے معین ہو وگرنہ اس کا فرمان سند و حجت نہیں ہو گا۔
ب۔ اگر اسلامی معاشرہ میں اللہ کی طرف سے منصوب امام موجود ہو تو امت اسلای میں فہم دین کے بارے میں کوئی اختلاف نہیں ہو گا کیونکہ تمام مختلف نظریات امام منصوب کی طرف رجوع کرنے سے رفع ہو جائیں گے۔ اور اگر خدا وندمتعال کی طرف سے منصوب امام نہ ہو تو قرآن و حدیث سے حاصل شدہ نظریات مختلف ہوں گے اور نتیجتاً غرض رسالت یعنی احکام الہٰی کی تبلیغ ختم ہو جائے گی۔ اس بناء پر خداوندمتعال کی طرف سے امام منصوب کا وجود لازمی و ضروری ہے۔
ج۔ اسلامی معاشرہ میں حاکم کا وجود لازمی ہے اور پوری امت ایک ایسی شخصیت کی محتاج ہے جو اسلامی معاشرہ میں دین اور مکتب وحی کی محافظ ہواور احکام اسلامی کو نافذ کرے اور مکتب رسالت کو تسلسل ودوام بخشے۔ اگر ایسی شخصیت خداوندمتعال کی طرف سے منصوب نہ ہو تو واضح ہے کہ خطا یا ہوائے نفسانی سے متأثر ہونے اور حقائق سے جہالت کی وجہ سے مکتب وحی میں انحراف اور قوانین الہٰی کی جگہ غیر الہٰی قوانین مقرر ہو جائیں گے۔ اس بناء پر پیغمبراکرم ۖ کے بعد ایک ایسی شخصیت کا وجود انتہائی ضروری ہے جو خطا، جہل، معصیت، گناہ سے محفوظ ہو اور اس کی فرمائش اورعمل سند و حجت ہواور تمام لوگ اس کے مطیع و فرمانبردار ہوں۔
اگر کہا جائے کہ ایسی شخصیت کی خداوندمتعال کی طرف سے تعیین اور اس فرض کو قبول کرنے سے کہ آئمہ معصومین ٪خداوندمتعال کی طرف سے منصوب و منتخب ہو گئے ہیں، پھر بھی اختلاف باقی ہے اور لوگ دین کامل سے آگاہ نہیں ہوئے اور نہ ہی پورے دین پر عمل کیا ہے تو پھر خداوندمتعال کی طرف سے نصب و تعیین کا کوئی اثر نہیں ہو گا۔
تو ہم کہیں گے، اگر خداوندمتعال زیربحث شخصیت (امام) کا انتخاب اور اسے منصوب کرتا ہے تو پھر لوگوں کا انحراف و فساد ان کے سوء اختیار سے ہو گا اور اساس مکتب میں نقص نہیں ہو گالیکن اگر خداوندمتعال ایسا نہ کرے تو خود مکتب و دین میں نقص ہو گا۔
امام کی ضرورت پر نقلی دلائل
بعض وہ آیات قرآن کریم و فرامین پیغمبر اکرم ۖ جواسلامی معاشرہ میں ایسی الہٰی شخصیت کے وجود کو ضروری قرار دیتے ہیں درج ذیل ہیں:
الف۔ خداوندمتعال فرماتا ہے:
وَ اِنْ مِنْ اُمَّةٍ اِلَّا خَلَا فِیہاٰ نَذِیْر ۔ (2)
ترجمہ:’ اور کوئی قوم ایسی نہیں ہے جس میں کوئی ڈرانے والا نہ گزرا ہو ‘۔
ب۔ خداوندمتعال فرماتا ہے:
اِنَّماٰ أَنْتَ مُنْذِر وَ لکُِلِّ قَوْمٍ ہاٰدٍ۔ (3)
ترجمہ:’ تو صرف ڈرانے والا ہے اور ہر قوم کے لئے ایک ہادی اور رہبر ہے ‘۔
ج۔ خداوندمتعال فرماتا ہے:
وَ یَوْمَ نَبْعَثُ فیِ کُلِّ اُمَّةٍ شَہِیْداً عَلَیْہِمْ مِنْ اَنْفُسِہِمْ وَ جِئْنَا بکَِ شَہِیْداً عَلیٰ ہٰؤُلاٰئِ۔ (4)
ترجمہ:’ا ور قیامت کے دن ہم ہر گروہ کے خلاف ان ہی میں سے ایک گواہ اٹھائیں گے اور آپ کو ان سب کا گواہ بناکر لے آئیں گے ‘۔
درج بالا آیات سے استفادہ ہوتا ہے کہ ہر زمانہ میں خداوندمتعال کی طرف سے ہادی، منذر، مخلوق پر گواہ شخصیت موجود ہے۔واضح ہے کہ جب خود رسول اللہ موجود تھے تو وہی ہادی ،منذر، رہنما تھے اور جب پیغمبر ۖ نہ ہوں تو واضح ہے کہ آپ کے وصی وجانشین ہی ہادی ،…اورگواہ ہیں اور ایسے فردکے ضروری ہونے کا اعلان کیا گیا ہے۔
ھ۔ وہ روایات جو ہر زمانہ میں حجت الہٰی کے وجود پر دلالت کرتی ہیںاور امت اسلامی میں مورد اتفاق ہیںان میں سے ایک پیغمبر اکرم ۖ سے نقل شدہ روایت ہے :
‘من مات و لم یعرف امام زمانہ مات میتة جاہلیة’
ترجمہ: ‘ جو اس حال میں مرے کہ اپنے زمانے کے امام کو نہ پہنچانتا ہو وہ جاہلیت کی موت مرا ہے۔'(5)
درج بالا حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ پیغمبر اکرم ۖ کے بعد ہر زمانہ میں امام، رہبر موجود ہے جس کی معرفت ضروری ہے اور جو اسے نہیں پہچانتا اس کی موت جاہلیت کی موت ہے۔ واضح ہے کہ اس رہبر و امام کا خداوندمتعال کی طرف سے ہونا ضروری ہے وگرنہ اس کی معرفت اس قدر ضروری بیان نہ ہوتی۔
امامت خاصہ
امامت خاصہ سے مقصود منصب امامت و رہبری کو ایک فر یا افراد معین کے لیے مشخص کرنا ہے۔
امیرالمؤمنین ں کی امامت ثابت کرنے کے راستے
ایک معین شخص یا اشخاص کی خلافت و امامت کو متعین کرنے کے لیے تین راستوں سے استفادہ کیا جا سکتا ہے۔
١۔ نص و تصریح پیغمبر اکرم ۖ
٢۔کرامت و معجزہ کے ساتھ دعویٰ امامت و خلافت
٣۔ مقام امامت سے متعلق خصوصیات وصفات رکھنا
امامت خاصہ کے بارے میں درج بالا راستوں کی تحقیق سے پہلے یہ بتانا ضروری ہے کہ مقام و منصب امامت ،نبوت ورسالت کی طرح وہ مقام ہے جو انتخاب الہٰی سے مشخص ہوتا ہے اور عقل و نقل کے حکم کے مطابق کسی شخص یا اشخاص کی بعنوان نبی و امام تعیین خداوندمتعال سے مربوط ہے اور لوگوں کا اس انتخاب میں کوئی عمل دخل نہیں۔عقلی طور پر ضرورت امام کے بارے میں پہلے جو کچھ بیان ہو چکا ہے اس کے علاوہ عرض کرتے ہیں کہ عقل کہتی ہے کہ اس ہستی کا انتخاب جو معصوم ہو اور گناہ و خطا سے محفوظ ہو تا کہ مورد اعتماد واقع ہو اور علم، عمل میں بے نظیرہو تا کہ لوگوں کی پناہ گاہ، مرجع قرار پائے یہ اقدار علمی و عملی آخر عمر تک اس میں موجود ہوں تا کہ مخلوق پر حجت ہو، ایسے شخص کی تعیین لوگوںکے بس سے باہر ہے اور صرف مکمل علم و آگاہی سے مربوط ہے اور ایسا انتخاب صرف خداوندمتعال کے اختیار میں ہے ۔اور دلائل نقلی بھی پیغمبر و امام کے عنوان سے کسی شخص یا اشخاص کے انتخاب کو صرف خداوندمتعال سے مربوط قرار دیتی ہیں۔ لہذا ان افراد کو بعض اوقات یہ مقام الہٰی بچپن میں عطا ہوتا ہے کیونکہ یہ اس کی زندگی کی کوشش سے مربوط نہیں، بلکہ خداوندمتعال کے علم کی بنیاد پر افراد کو ان کی لیاقت کے مطابق دیا جاتا ہے۔جیسا کہ حضرت عیسیٰ اور حضرت یحییٰ (علی نبینا و آلہ ) بچپن میں نبی منصوب ہوئے تھے۔
وہ بعض آیات قرآن جوانتخاب نبوت و امامت کو خداوندمتعال کی طرف سے قراردیتی ہیں درج ذیل ہیں۔
الف۔ اِنّیِ جٰاعِل فیِ الاَرْضِ خَلِیْفَةً ۔(6)
ترجمہ:’ جب تمہارے پروردگار نے ملائکہ سے کہا کہ میں زمین میں اپنا خلیفہ بنانے والا ہوں ‘۔
ب۔ وَ جَعَلْنَاہُمْ أَئِمَّةً یَہْدُوْنَ بِأَمْرِنَا ۔ (7)
ترجمہ:’اور ہم نے ان سب کوپیشوا قرار دیا جو ہمارے حکم سے ہدایت کرتے تھے’
ج۔ یٰادَاوُدُ اِنّٰا جَعَلْنٰاکَ خَلِیْفَةً فِی الَارْضِ ۔ (8)
ترجمہ: ‘اے داؤد ہم نے تمہیں زمین میں اپنا جانشین بنایا ہے۔’
د۔وَ جَعَلْنَاہُمْ أَئِمَّةً یَہْدُوْنَ بِأَمْرِنَا لَمَّا صَبَرُوا۔ (9)
ت ۔ترجمہ:’ اور ہم نے ان میں سے کچھ لوگوں کو امام اور پیشوا قرار دیا ہے جو ہمارے امر سے لوگوں کی ہدایت کرتے ہیں اس لئے کہ انہوں نیصبر کیا ہے ۔’
ھ۔ وَ اجْعَلْ لِیِ وَزِیْراً مِنْ أَہْلِی ں ہَارُونَ أَخِی ں اُشْدُدْ بِہِ اَزْرِی ۔ (10)
ترجمہ:’ اور میرے اہل میں سے میرا وزیر قرار دے ہارون کو جو میرا بھائی بھی ہے اس سے میری پشت کو مضبوط کردے۔’
و۔ وَ رَبُّکَ یَخْلُقُ مَا یَشٰائُ وَ یَخْتٰارُ مٰا کَانَ لَہُمُ الْخِیَرَةَ (11)
ترجمہ: ‘اور آپ کا پروردگار جسے چاہتا ہے پیدا کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے چن لیتا ہے ان لوگوں کو کسی کا انتخاب کرنے کا کوئی حق نہیں ہے – ‘
درج بالا آیات میں خلیفہ، امام، وزیر کی تعیین کو خداوندمتعال کی طرف سے منصوب قرار دیاگیا ہے اور ان آیات سے واضح طور پر پتہ چلتا ہے کہ مقام نبوت و امامت پر افراد کی تعیین پروردگار کی زمہ داری ہے۔ اور آخری آیت میں لوگوں سے اختیار کی نفی کی گئی ہے۔ در حالانکہ قرآن کریم، ثواب و عقاب، جنت و دوزغ، امر ، نہی کی بنیاد اختیار کوقرار دیتا ہے۔ یعنی لوگ انتخاب نبی و وحی میں کوئی اختیار نہیں رکھتے۔ اور اس آیت کی توضیح میں پیغمبر اکرم ۖ کے بیان کے مطابق یہ انتخاب و اختیار صرف ذات خدا میں منحصر ہے۔
‘ و من طریق المخالفین ما رواہ الحافظ محمد بن موسیٰ الشیرازی فی کتابہ (المستخرج من تفاسیر الاثنی عشر) و ھو من مشایخ أھل السنة فی تفسیر قولہ تعالیٰ: (وَ رَبُّکَ یَخْلُقُ مَا یَشٰائُ وَ یَخْتٰارُ مٰا کَانَ لَہُمُ الْخِیَرَةَ )
یرفعہ الی أنسبن مالک قال: سئلت رسول اللّٰہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم عن ھذہ الآیة؟ فقال انّ اللّٰہ خلق آدم من الطین کیف یشاء و یختار و أنّ اللّٰہ تعالیٰ اختارنی و أہل بیتی علی جمیع الخلق فانتجنا فجعلنی الرسول و جعل علیّ بن ابی طالب الوصی ثمّ قال:( مٰا کَانَ لَہُمُ الْخِیَرَةَ ) یعنی ما جعلت للعباد أن یختاروا و لکنّی اختار من أشاء فأنا و أہل بیتی صفوتہ و خیرتہ من خلقہ…'(12)
ترجمہ: ‘محمد بن موسی شیرازی (جو کہ اہل سنت کے بزرگوں میں سے ہیں) اپنی کتاب ‘المستخرج من تفاسیر الاثنیٰ عشر’ میں اس آیت شریفہ ( و ربّک یخلق ما یشاء و یختار ما کان لھم الخیرة)کی تفسیر میں انس سے نقل کرتے ہیں کہ: میں نے اس آیت کے بارے میں پیغمبر اکرم ۖ سے پوچھا تو آپ ۖ نے فرمایا: ‘خداوند تعالی نے حضرت آدم ـ کو جیسا چاہا خلق فرمایااور انہیں منتخب فرمایا ؛ نیز خدا نے مجھے اور میرے اہل بیت ٪ کو تمام مخلوقات پر منتخب فرمایا پھر مجھے رسول بنایا اور علی ابن ابی طالب ـ کو میرا وصی قرار دیا پھر فرمایا:
( مٰا کَانَ لَہُمُ الْخِیَرَةَ ) یعنی لوگوںکو کوئی اختیار حاصل نہیں ہے یعنی میں نے بندوں کو کوئی اختیار نہیں دیا ہے بلکہ میں جسے چاہتا ہوں منتخب کرتا ہوں پس میں اور میرے اہل بیت مخلوقات میں سے خدا کے برگزیدہ ہیں۔’
مذکورہ بالا مطالب کو مدنظر رکھتے ہوئے ذیل میں ہم امامت خاصہ کے اثبات کے راستوں کے بارے میں بحث کرتے ہیں:
پہلا راستہ: نص
پیغمبر اکرم ۖ کے بعد کسی شخص یا اشخاص کے لیے مقام امامت کو ثابت کرنے کااہم ذریعہ نص ہے۔ اگر کسی مسئلہ کے بارے میں قرآن یا حدیث صریح ہو اور اس میں احتمال خلاف نہ ہو تو اس کو نص کہتے ہیں۔ مسئلہ امامت سے متعلق کچھ مسلمان جنہیں اہل سنت کہا جاتا ہے کہتے ہیں کہ خلافت و امامت کے بارے میں رسول اللہ سے کوئی بات نہیں پہنچی ہے اور نہ ہی انہوں نے کسی کو اپنا جانشین منتخب کیا ہے بلکہ خلافت کے معاملہ کو امت اور لوگوں پر چھوڑ دیا ہے۔
اہل سنت کے مقابلہ میں شیعہ کہتے ہیں کہ اس بات سے قطع نظر کہ امت اسلامی کی رہنمائی کی اہمیت اور اسلام کی حفاظت کا تقاضا ہے کہ پیغمبر اکرم ۖ اس مسئلہ سے بے توجہی نہ کریں اور اپنے بعد کسی ایک فرد کو یا افراد کو اپنا جانشین متعارف کرائیں،مسئلہ امامت کے بارے میں مکتب وحی سے صریح و واضح دلائل اورتصریحات پیغمبر ۖ موجود ہیں۔بعض واضح و صریح نصوص جو حضرت امیرالمؤمنین ں کی امامت و خلافت بلا فصل کو ثابت کرتی ہیںدرج ذیل ہیں
الف۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: وَ أَنْذِرْ عَشِیْرَتَکَ الأَقْرَبِیْنَ ۔(13)
ترجمہ: ‘اور پیغمبر آپ اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈرائیے۔’
درج بالا آیت جسے آیت انذار کہا جاتا ہے پیغمبر اکر م ۖ کو اپنے قرابت داروں کو انذار کرنے پر مامور کرتی ہے۔شیعہ و سنی کتب تفسیر و تاریخ میں لکھا ہے کہ مذکورہ آیت کے نزول کے بعد پیغمبر اکرم ۖ نے چالیس آدمیوں کو حضرت ابو طالب ںکے گھر دعوت دی اور حضرت علیں نے کچھ کھانا مہیا کیا، جب سب لوگ جمع ہو گئے تو اسی تھوڑے سے کھانے کو سب نے کھایا اور سیر ہوئے۔ کھانا کھانے کے بعد سب کو دودھ پلایا گیااور پھر آنحضرت ۖنے فرمایا اے فرزندان عبدالمطلب خدا کی قسم میںعرب میں کسی ایسے نوجوان کو نہیں پاتاجو اپنے رشتہ داروں کے لیے اس چیز سے بہتر چیز لایا ہوجو میں لایا ہوں (خیر دنیا و آخرت) اور خداوندمتعال نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں آپ کو دعوت دوںآپ میں سے کون میری اس معاملہ میں مدد کرے گا تا کہ وہ میرا بھائی ، وصی اور تمہارے درمیان میرا خلیفہ ہو۔سب خاموش ہوگئے علی بن ابی طالب ںجو عمر کے لحاظ سے سب سے چھوٹے تھے کھڑے ہوئے اور کہا، میں اس معاملہ میں آپ کا مددگار و وزیر ہوں۔
پیغمبر اکرم ۖ نے فرمایایہ میرا بھائی، وصی اور خلیفہ ہے اس کی بات کو سنو اور اطاعت کرو تو آپ کے تمام رشتہ دار ہنسے اور اُٹھ کر حضرت ابو طالب ںسے کہا کہ تجھے حکم دیا گیا ہے کہ تم اپنے فرزند کی اطاعت کرو اور اس کی باتوں کو سنو۔
مذکورہ حدیث کچھ اور اسناد کے ساتھ تھوڑے اختلاف کے ساتھ شیعہ و اہل سنت کی کتب حدیث میں نقل ہوئی ہے۔ درج بالا حدیث سے حضرت امیرالمؤمنین ںکی امامت و خلافت واضح ہو جاتی ہے اور کسی منصف و عالم انسان کے لیے شک وتردید کی کوئی جگہ نہیں رہتی۔ اور نیز مسئلہ امامت و ولایت کی اہمیت کو بھی واضح کرتی ہے کیونکہ آنحضرت ۖ نے دعوت کے آغاز میں اپنے اقربین کے درمیان ابلاغ رسالت کے بعد مسئلہ ولایت و امامت کو پیش کیا ہے۔
بعض اہل سنت اس بارے میں سوال رکھتے ہیں وہ یہ ہے کہ اس وقت حضرت امیرالمؤمنین ں کا سن مبارک تقریباً بارہ سال یا اس سے کمتر تھا اور اس سن میں ایمان قابل اعتماد نہیں اس سوال کا جواب واضح ہے کیونکہ قطع نظر اس کے کہ حضرت امیرالمؤمنین ں کی استعداد و قابلیت سب کے لیے مشخص ہے اور واضح مسائل میں سے ہے اور بہت بلند درک وفہم سے برخوردار تھے اگر ایسا اشکال درج بالا حدیث میں ہو تو یہ در حقیقت پیغمبر ۖ پر اشکال ہے کہ کیوں آپ ۖ نے ایسے ایمان کو قبول کیا۔ اور اس بات کو مدنظر رکھتے ہوئے کہ پیغمبر اکرم ۖ کوئی اعتراض نہیں ہے، یہ واقعہ قطعی اور محکم ہے۔
دوّم: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : یٰاأَیُّہَا الرَّسُوْلُ بَلِّغْ مٰا اُنْزِلْ اِلَیْکَ مِنْ رَبِّکَ وَ اِنْ لَمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسٰالَتَہُ وَ اللّٰہُ یَعْصِمُکَ مِنَ النَّاسِ ۔ (14)
درج بالا آیت عامہ وخاصہ سے معتبر روایات کے مطابق حضرت امیرالمؤمنین ںکی خلافت بلا فصل کو صریح او رواضح طور پر ثابت کرتی ہے۔
وضاحت:آیت شریفہ سے متعلق درج ذیل مطالب کی یادہانی ضروری ہے۔
١۔ اس آیت شریفہ سے پتہ چلتا ہے کہ خداوندمتعال کے نزدیک مورد نظر مسئلہ جس کی تبلیغ کا آنحضرت ۖ کو حکم دیا گیا ہے بہت مہم ہے حتیٰ کہ اگر اس بات کی تبلیغ نہ کریں تو اصلاً رسالت کی تبلیغ ہی نہیں کی۔
٢۔ آیت شریفہ سے پتہ چلتا ہے کہ مورد نظر مسئلہ کا ابلاغ بہت ہی سنگین تھا۔ اسی وجہ سے پیغمبر اکرم ۖ کو لوگوں کے خطرہ کا احساس تھا اسی وجہ سے قرآن نے فرمایا: (وَ اللّٰہُ یَعْصِمُکَ مِنَ النَّاس) یعنی خدا آپ کو لوگوں سے بچائے گا۔
٣۔ یہ آیت شریفہ سورہ مبارکہ مائدہ میں ہے، اور سورہ مائدہ پیغمبر اکرم ۖ پر نازل ہونے والی آخری سورت ہے۔ اس بناء پر مشرکین کی طرف سے کوئی خطرہ نہیں تھا کیونکہ مشرکین مکمل طور پر شکست کھا چکے تھے بلکہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ خطرہ مسلمانوں کی طرف سے تھا۔
٤۔ جس چیز کی تبلیغ کا آنحضرت ۖ کو حکم دیا گیا تھا وہ احکام فرعیہ جیسے نماز، زکات، حج، روزہ جیسا نہیں ہے کیونکہ ان کی تبلیغ ہو چکی تھی اور ان کی تبلیغ میں کوئی خوف بھی نہیں تھا اور مسلمان بھی ان کے مخالف نہیں تھے۔
٥۔ مختلف و متعدد احادیث سے جو استفادہ ہوتا ہے یہ ہے کہ صحابہ کا ایک گروہ امیرالمؤمنین کی خلافت و ولایت کا مخالف تھا۔
درج بالا باتوں سے واضح ہوتا ہے کہ آیت شریفہ ولایت و خلافت سے متعلق ہے۔ اور شیعہ و سنی سے بہت سی روایات منقول ہیں کہ آیت شریفہ غدیر خم کے واقعہ اور رسول خدا ۖ کے لوگوں کو جمع کرنے آور آپ پر نازل ہونے والی چیز کی تبلیغ سے متعلق ہے۔ کتاب شریفہ غایة المرام میں نواسی(٨٩) احادیث غدیر خم سے متعلق نقل ہوئی ہیں۔
٦۔ پیغمبر اکرم ۖ نے غدیر خم میں جس چیز کی تبلیغ کی وہ شیعہ و سنی کی تصدیق کے مطابق علی بن ابی طالب ـکے مولا ہونے پر نص ہے۔ پیغمبر اکرم ۖ مکہ سے واپسی پر غدیر خم پہنچے تو وہاں توقف فرمایا، اور جو آگے بڑھ چکے تھے انہیں واپس بلایا اور جو پیچھے رہ گئے تھے وہ بھی پہنچ گئے تو آپ نے مہم خطبہ کے بیان کے بعد علی بن ابی طالب ـ کا ہاتھ پکڑا اور سب کے سامنے آپ کے علم، شجاعت، قضاوت اور تمام فضائل کا تعارف کرایا اور اعلان کیا کہ:
‘ ابھی کچھ عرصہ بعد میں آپ کے درمیان نہیں ہوں گا۔ اور پھر فرمایا: من کنت مولاہ فعلی مولاہ۔ یعنی: جس کا میں مولی ہوں اس کے علی ـ مولا ہیں۔'(15)
٧۔ واضح ہے کہ کلمہ مولیٰ عموم کے نزدیک صاحب اختیار کے معنی میں ہے اور اگر دوست، غلام یا دوسرے معانی میں استعمال ہو تو قرینہ کا محتاج ہوتا ہے۔
٨۔ کلمہ مولیٰ سے عام انسانی ذہن میں صاحب اختیار ہونے کا تبادر ہوتا ہے نہ دوسرے معانی کا ، اس بارے میں دو اور شاہد موجود ہیں کہ آنحضرت ۖ کے بیان (من کنت مولاہ فعلی مولاہ) میںمولیٰ سے مقصود صاحب اختیار ہے۔
الف۔ واضح ہے کہ کلمہ مولیٰ خود رسول اللہ ۖ کی نسبت سے بمعنی صاحب اختیار ہے اور آپ نے اپنے بارے میں جو اعلان فرمایا وہ سب کے لیے قابل قبول تھا اور حضرت امیرالمؤمنین ں کے لیے بھی وہی اعلان فرمایا۔ پس کلمہ مولیٰ حضرت امیرالمؤمنین ں کے بارے میں بھی بمعنی صاحب اختیار ہے۔
ب۔ فرمان پیغمبر ۖ کے آغاز میں بہت سے راویان حدیث نے یہ جملہ نقل کیا ہے۔ (ألست أولیٰ بأنفسکم منکم؟ قالو: بلیٰ ثم قال من کنت مولاہ فعلی مولاہ) اس بنا پر واضح ہے کہ کلمہ مولیٰ صاحب اختیارکے معنی میں ہے۔ اگر کہا جائے (جیسا کہ بعض اہل سنت کہتے ہیں) کلمہ مولیٰ کیونکہ مختلف معانی صاحب اختیار، سید، عبد، دوست میں استعمال ہوتا ہے۔ کلمہ مولیٰ مجمل ہے لہذا شیعہ کے دعویٰ کی دلیل و سند نہیں بن سکتا ،تو ہم کہیں گے:
مذکورہ بیانات کے مطابق کلمہ مولیٰ ہرگز مجمل نہیں ہے اور اگر اس کے مجمل ہونے پر اصرار کیا جائے، تو ہم کہیں گے کہ یہ رسول خدا ۖ کی توہین ہے۔ کیونکہ اگر کلمہ مولیٰ مجمل ہو تو روز غدیر جتنی زحمات کی گئیں وہ سب بیہودہ، لغو تھیں ۔ حضور اکر م ۖ اور ایک لاکھ چوبیس ہزار حاجیوں کا ٹھہرنا عبث و بے نتیجہ کام ہو گا۔ کیونکہ کلمہ مولیٰ کے مجمل فرض کرنے سے رسول اکرم ۖ نے جو مطلب بیان فرمایا وہ قابل فہم نہیں اور لوگ اس سے کوئی واضح معنی نہیں سمجھ سکتے۔ رسول خدا ۖ کی طرف یہ نسبت بہت ہی ناروا ہے۔ اب ہم کہتے ہیں، کہ گذشتہ مطالب کی بناء پر غدیر خم کا واقعہ حضرت امیرالمؤمنین ں کی خلافت بلا فصل کو ثابت کرنے کی واضح دلیل ہے۔
سوم: خلافت بلا فصل امیرالمؤمنین ں کو ثابت کرنے کی تیسری دلیل جو آپ کی امامت پر نص ہے، حدیث منزلت ہے:
قال رسول اللّٰہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم لعلیں أنت منی بمنزلة ھارون من موسیٰ الاّ انّہ لا نبیّ بعدی ۔
یعنی: رسول خدا ۖ نے حضرت علی ـ سے فرمایا:’آپ کی مجھ سے وہی نسبت ہے جو ہارون ـکی موسی ـ سے تھی مگر یہ کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے۔'(16)
یہ حدیث شیعہ، سنی کتب میں نقل ہوئی ہے۔ مسلم اپنی صحیح میں نقل کرتا ہے کہ معاویہ نے سعد سے کہا، تم علیں کو دشنام کیوں نہیں دیتے؟ تو سعد نے کہا، میں اس شخص کو کیسے دشنام دوں جو تین ایسے فضائل رکھتاہے، کہ ان میں سے اگر ایک فضیلت بھی مجھے مل جائے تو میں اس کی ہر قیمت ادا کرنے کو تیار ہوں۔
١۔ پیغمبر اکرم ۖ نے ایک غزوہ میں انہیں اپنی جگہ مدینہ میں چھوڑا، تو حضرت علی ںنے عرض کی یا رسول اللہ ۖ آیا مجھے آپ عورتوں، بچوں کے ساتھ چھوڑ رہے ہیں؟ تو آنحضرت ۖ نے فرمایا: کیا تمہیں پسند نہیں کہ تجھے مجھ سے وہی نسبت ہو جوہارونکو موسیٰ سے تھی مگر میرے بعد کوئی نبی نہیں ہو گا۔
٢۔ میں نے خود سنا کہ آنحضرت ۖ نے روز خیبر فرمایا: ‘میں یقینا پرچم اس شخص کو دوں گا جو خدا اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہو گا اور خدا اور اس کا رسول اس سے محبت کرتے ہوں گے۔’ جب مقررہ دن آیا سب لوگ گردن بڑھائے خود کو رسول خدا کے سامنے پیش کر رہے تھے (تاکہ ہو سکتا ہے رسول اکرم ۖ کی نگاہ انتخاب ان کا انتخاب کر لے لیکن) آپ ۖ نے فرمایا: علی ـ کو میرے پاس بلاؤ حضرت علی ـ اس حال میں آئے کہ آپ کی آنکھوں میں درد تھاپیغمبر اکرم ۖ نے اپنا لعاب دہن علی ـ کی آنکھوں میں ڈالا (تو فورا آپ کا عارضۂ چشم دور ہو گیا) اور آپ ۖ نے پرچم علی ـ کے ہاتھوں میں دیا اور خداوند تعالی نے آپ ـ کے ہاتھ پر فتح عنایت فرمائی۔
٣۔ جب یہ آیت شریفہ : ‘ فَقُلْ تَعَالَوْا نَدْعُ أَبْنٰائّنٰا وَ أَبْنٰائَکُمْ'(17) (یعنی: ‘ پیغمبر تم ان سے کہہ دیجئے کہ آؤ ہم لوگ اپنے اپنے فرزندوں کو بلائیں۔’ ) نازل ہوئی تو پیغمبر اکرم ۖ نے علی ـ، فاطمہ ، حسنـ، حسین ـ کو بلایا اور پھر عرض کی اے اللہ یہی میرے اہل بیت ہیں(18) اس حدیث شریف سے حضرت علی ں کی تمام صحابہ پر برتری ثابت ہوتی ہے۔ اور حدیث کے پہلے حصے سے حضرت علی ں کی خلافت بلا فصل ثابت ہوتی ہے۔ کیونکہ حضرت موسیٰ ں کے ساتھ حضرت ہارون کا مقام و منزلت خلافت و وزارت تھی پس امیرالمؤمنین ں کی منزلت بھی وہی ہو گی۔
اگر کہا جائے کہ یہ واقعہ منزلت اور حضرت رسول خد ا ۖ کا قائم مقام ہونا ایک مخصوص وقت کے لئے تھا نہ کہ ہمیشہ کے لئے ۔ کیونکہ جب پیغمبر اکرم ۖ جنگ تبوک کے لیے گئے تھے تو حضرت علی ں کو اپنی جگہ قائم مقام بنایا تھالہٰذا اس قائم مقامی کو دوام و استمرار حاصل نہیں بلکہ یہ خاص وقت کے لیے ہے۔
تو ہم عرض کریں گے، اگرچہ اس بات کا بیان ایک خاص زمانہ میں ہوا لیکن یہ مطلب دیگر روایات کی گواہی کے مطابق عمومیت رکھتا ہے جن میں مسئلہ منزلت کا اعلان کیا گیا ہے، اور اگر کلیت و عمومیت نہ رکھتا ہو تو جملہ ِالاّ (مگر یہ کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں) کا کوئی معنی نہیں ہو گا۔ یہ جملہ تداوم و تسلسل منزلت کو مشخص کرتا ہے اور خلافت و جانشینی کوہمیشہ کے لئے ثابت کرتا ہے۔
دلیل اوّل کے اختتام میں بتانا ضروری ہے کہ اس بارے میں بہت زیادہ واضح محکم کتب لکھی گئی ہیں۔ اور اس بارے میں صرف متاخرین میں سے ایک بزرگ مرحوم آیة اللّٰہ بہبہانی کی کتاب مصباح الھدایة فی اثبات الولایة میں چالیس آیات کی تفسیر میں چالیس احادیث ذکر کی گئی ہیں۔ اور شروع سے لے کر اب تک بزرگوں نے اتمام حجت کیا ہے اور مختلف زبانوں میں بہت سی کتب لوگوں کی خدمت میں پیش کی ہیں۔
دوسرا راستہ
اگرچہ آغاز بعثت سے لے کر آخر تک متعدد مواردسفر، حضر، چھوٹے بڑے اجتماع میں امیرالمؤمنین ںکی خلافت پر آنحضرت ۖکی نص و تصریح کے ہوتے ہوئے ، کسی اور راستے کی ضرورت نہیں لیکن چونکہ اور راستے بھی موجود ہیں لہذا ان کی طرف بھی مختصر طور پر اشارہ کیا جاتا ہے۔
حضرت امیرالمؤمنین ں کی خلافت بلا فصل کے اثبات کے لیے ایک اور راستے سے استفادہ کیا گیا ہے اور وہ دعویٰ امامت کے ساتھ معجزہ کا ہونا ہے۔ اس میں شک نہیں کہ حضرت امیرالمؤمنین ںنیپیغمبر اکرم ۖکی رحلت کے بعد خلافت بلافصل کا دعویٰ کیا تھا اور فرمایاتھا کہ میں حکم الہٰی سے رسول خدا ۖ کی طرف سے منصب خلافت پر منصوب ہوں لہذا حضرت ـکا ادعائے خلافت بدیہات میں سے ہے اور سب کے لیے قابل قبول ہے۔
اور اس دعویٰ کے ساتھ ردّ شمس، در خیبر کو اّکھاڑنا، حیوانات کے ساتھ مکالمہ جیسے بہت سے معجزات نقل ہوئے ہیں،جیسا کہ بحث اعجاز میں بیان ہو چکا ہے اگر ادعائے امامت ، کرامت کے ہمراہ ہو تو یہ صاحب کرامت کی صداقت کی دلیل ہے اور اگر یہ دلیل صداقت نہ ہو تو اس کا لازمہ یہ ہے کہ خداوندمتعال اپنے بندوں کے لیے گمراہی کے اسباب پیدا کرتا ہے۔
کیونکہ واضح ہے کہ اگر ایسا دعویٰ اور اس کا مدعی جھوٹا ہو تو خداوندمتعال نے اس جھوٹے کے ہاتھوں خارق عادت کام ظاہر کیا ہے۔ اور واضح ہے کہ خداوندمتعال دروغ گو کے ہاتھوں خارق عادت کام انجام نہیں دیتا۔
تیسرا راستہ
امیرالمؤمنین ں کی خلافت بلافصل و امامت کے لیے جس تیسرے راستے سے استفادہ کیا جاتا ہے وہ خلافت کے متناسب فضائل و کمالات کی تحقیق ہے۔
وضاحت: حصہ اوّل و دوم میں جو کچھ بیان ہوا ہے اسے مدّنظر رکھتے ہوئے تیسرے راستے سے استفادہ کی ضرورت نہیں۔ لیکن جیسا کہ حصہ دوم میں بیان ہوا ہے دونوں راستوں سے قطع نظر تیسرا راستہ اثبات امامت امیرالمؤمنین ںکے لیے کافی ہے۔اس میں شک نہیں کہ اسلامی معاشرہ کو علمی، عملی اجتماعی لحاظ سے آگے بڑھانا اور مکتب وحی کو انحراف ، تحریف سے محفوظ کرنا اور مختلف موارد میں اختلاف کو دور کرنا بالخصوص فہم دین میں مسلمانوں کے مختلف افکار میں رفع اختلاف اور دشمنان دین کا دلائل، جہاد سے مقابلہ کرنا ایک قابل و لائق سرپرست سے مربوط ہے ۔اور اسلامی معاشرہ کے سرپرست میں جس قدر مہم صفات و خصوصیات جیسے علم ، عدالت ، شجاعت، سخاوت زیادہ ہوں گی اسی قدر اسلامی امور کی حفاظت بہتر ہو گی۔ اس بناء پر اگر پیغمبر اکرم ۖکے بعد اسلامی معاشرہ کے سربراہ کا انتخاب ہو، تو لائق سربراہ کے انتخاب کا لازمہ امیرالمؤمنین علیں کا انتخاب ہے۔
وہ شخصیت جس نے اپنی خاندانی شرافت کے ساتھ اپنی علمی، عملی خصوصیات سے سب کو خاضع کر دیا ہے وہ شخصیت کہ جس کے علم ودانش ا ور فضائل و انسانیت کے سامنے سارے جہان کی علمی و نابغہ شخصیات سر تعظیم خم کرتی ہیںجس کا علمی نعرہ یہ ہے ‘سلونی قبل ان تفقدونی’ ۔ یعنی: ‘اس سے پہلے کہ مجھے نہ پاؤ مجھ سے پوچھ لو’ (19)
وہ انسان جس کی عدالت حیرت انگیز ہے۔ یہاں تک کہ آپ نے فرمایا :
‘ واللّٰہ لأن أبیت علی حسک السّعدانِ مُسھَّداً،و أجَرّفی الأغلال مصفَّداّ أحبّ الیَّ منْ أن ألقی اللّٰہ و رسولہ یوم القیامة ظالماً لبعض العباد، و غاصباً لشیء من الحُطام …’
ترجمہ: ‘خدا کی قسم! اگرمجھے شام سے صبح تک سوزناک کانٹوں پر زنجیروں میں جکڑکرگھسیٹا جائے تو یہ میرے لیے اس سے زیادہ محبوب ہے کہ میں قیامت کے دن خدا و رسول سے اس حال میں ملاقات کروں کہ خد اکے بعض بندوں پر میں نے ظلم کیا ہو اور ان کا مال غصب کیا ہو…'(20)
وہ انسان جس کے سب محتاج ہیں اور وہ کسی کا محتاج نہیں اورآفتاب عالم تاب کی طرح جس کا نور وجود جہالت کی تاریکیوں کو روشن کرتا ہے، وہ شخصیت جس کے فضائل و کمالات دوستوں نے خوف کی وجہ سے اوردشمنوں نے دشمنی کی وجہ سے چھپایا لیکن اس کے باوجود آپ کے فضائل نے دنیا کو مبہوت کر رکھا ہے۔
وہ انسان جو علم کی زندگی اور جہالت کی موت ہے اور جب آپ کا ایک مختصر جملہ علمی محفل میں پیش کیا جائے تو اس کے اطراف میں سب کلام کریں، آپ کے کلمات کی دیگر علماء کے کلمات سے وہی نسبت ہے جو نور کو ظلمت کے ساتھ ہے۔واضح ہے کہ اگر خلیفہ کا انتخاب ہو تو صرف (آپ ہی) کا انتخاب مناسب ہو گاکیونکہ مفضول کا افضل پر انتخاب حکم عقل کے مطابق باطل ہے اور افضل کا انتخاب لازم و واجب ہے۔
اس بحث (بحث امامت ) کے اختتام پر مرحوم سلطان المحققین خواجہ نصیر الدین طوسی کی محکم ومتقن عبارت نقل کرتے ہیں اور اس کی وضاحت کرتے ہیں:
]وجوب النصّ علی الامام [
و العصمة تقتضی النصّ، و سیرتہ ]امامة أمیرالمؤمنین علی ابن ابی طالب ں[ و ھما مختصّان بعلی ں : ‘سلّموا علیہ بامرة المؤمنین’ و ‘أنت الخلیفة بعدی’ و غیرھا۔ و لقولہ تعالیٰ ( ِانَّمَا وَلِیُّکُمُ اللّٰہُ وَ رَسُولَہُ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوا الَّذِیْنَ یُقِیْمُونَ الصَّلٰوةِ وَ یُوتُونَ الزَّکاٰةِ وَ ہُمْ رٰاکِعُونْ ) و انّما اجتمعت الأوصاف فی علی ں ولحدیث الغدیر المتواتر، و لحدیث المنزلة المتواتر، و لاستخلافہ علی المدینة فیعمّ لاجماع۔
ولقولہ: أنت أخی و وصییّ و خلیفتی من بعدی و قاضی دینی بکسر الدّال۔ و لأنّہ أفضل و امامة المفضول قبیحة عقلاً۔ ولظھور المعجزة علی یدہ، کقلع باب خیبر، و رفع الصخرة عن القلیب، و محاربة الجنّ و ردّ الشمس، و غیر ذلک۔ وادعی الامامة فیکون صادقاً۔ و لسبق کفر غیرہ فلا یصلح للامامة، فیتعیّن ھو ں۔ (2١)
ترجمہ و تشریح:عصمت و سیرۂ پیغمبرِ ۖ امام کے وجود پر نص کی متقاضی ہے(٢2)اور یہ عصمت و نصّ امیرالمؤمنین میں منحصر ہے
فرمان پیغمبر ۖمیں نصّ جلی یہ ہے کہ آپ نے فرمایا علی ں پر بعنوان امیرالمؤمنین سلام کرو۔ اور فرمایا: اے علی تو میرے بعد خلیفہ ہے اور اس کے علاوہ دیگر احادیث.
اور فرمان خداوندمتعال کی روشنی میں کہ’ بے شک تمہارا ولی خداا و رسول اور وہ لوگ ہیں جو ایمان لائے اور نماز قائم کرتے ہیں اور حالت رکوع میں زکات دیتے ہیں’۔امیر المومنین ـکی خلافت بلافصل کے اثبات کے
لئے مہم ترین نص آیت ولایت ہے جو سورہ مبارکہ مائدہ کی آیت ٥٥ ہے۔ انماولیکم اللّٰہ ورسولہ والذین آمنواالذین یقیمون الصلوة ویوتون الزکاة وھم راکعون ۔
اس آیت سے اس طرح استدلال کیا جاتا ہے کہ خداوند متعال نے مومنین کو بتایا ہے کہ تمہارا ولی اللہ ہے اوراس کا رسول ہے اوروہ مومنین ہیں جو حالت رکوع میں زکات دیتے ہیں پہلے اوردوسرے ولی کی والایت متعین ہے ۔ لیکن تیسرے ولی کی ولایت مجمل انداز میں بیان ہوتی ہے ۔ لیکن جب ہم تفاسیر اور آیت کے ذیل میں بیان ہونے والی روایات کی طرف رجوع کرتے ہیں تو یہ ولایت بھی واضح ہوجاتی ہے ۔ کیونکہ شیعہ و سنی مفسرین نے نقل کیا ہے کہ یہ آیت علی ـ کی طرف سے رکوع کی حالت میں ایک سائل کو انگوٹھی عطاکرنے کے بارے میں نازل ہوئی ہے اور یہ تمام صفات حضرت علی ںمیں جمع ہیں۔
اور واقعہ غدیر جو متواتر نقل ہوا ہے۔ اور حدیث منزلت جو متواتر ہے اور پیغمبر اکرم ۖ کے حضرت امیرں کو مدینہ میں اپنا جانشین قرار دینے کی وجہ سے اور یہ خلافت اجماع کی وجہ سے عمومیت رکھتی ہے۔
اور فرمان پیغمبر ۖ کی بنا پر کہ اے علی تو میرا بھائی، میراوصی اور میرے بعد میرا خلیفہ ہے اور میرے قرض ادا کرنے والا ہے۔ اور کیونکہ علی ں دوسروں سے افضل ہیںاور مفضول کی امامت عقلاً درست نہیں ۔ علی ںکے ہاتھوں پر معجزات کا ظہور جیسے در خیبر کو اکھاڑنا، کنویں سے پتھر اُٹھانا، جنوں سے جنگ، رد شمس و غیرہ ان کی صداقت کی دلیل ہیں اور کیونکہ امیرالمؤمنین ں کے علاوہ جن افراد نے دعویٰ خلافت کیا ہے وہ سابقہ کفر رکھتے ہیں . پس امامت کے لائق نہیں۔ اور نتیجتاً امامت حضرت امیرالمؤمنین ں متعین و قطعی ہے۔
(١)یعنی جو مدینہ میں خلافت کو تسلیم کرتا ہے غیر مدینہ میں بھی خلافت کا قائل ہے.
(٢)امام کی شرائط میں سے ایک شرط یہ ہے کہ وہ ماضی میں کافر نہ رہا ہو اورصورت حال یہ ہے کہ امیر المؤمنین ـ سے پہلے کے تینوں خلفاء جو خلافت و جانشینی رسول خدا ۖ کے دعویدار ہیں،ماضی میں کافر اور بت پرست رہے ہیں.سورہ بقرہ کی آیت١٢٤ اس طرح سے ہے.واذابتلی ابراھیم ربّہ بکلمات فاتمھن قال انی جاعلک للناس اماماً قال و من ذرّیتی قا لا ینال عھدی الظالمین.
حضرت ابراہیم ـ نبوت ورسالت اور مقام خلّت پر فائز ہونے کے بعد امتحانات سے گزرکرمنصب امامت پر پہنچے تو انھوں نے اپنی ذریت کیلئے بھی اس منصب کی درخواست کی خدا نے جواب میں فرمایا ‘لاینال عھدی الظالمین’امامت میرا عہد ہے جو ظالموں کو نہیں ملے گا.کفر و شرک اور اس کے علاوہ ہر گناہ اور فسق و فجور ظلم ہے لہذا منصب امامت غیر معصوم یعنی ظالم کو نہیں مل سکتا.بتیجةً صرف امیر المؤمنین ـ ہی ہی حضورۖ کی خلافت بلافصل کے اھل ہیں اسلئے کہ ان کے دامن پر کسی قسم کے گناہ کا کوئی دھبہ نہیں ہے.
حضرت امام مہدی (عج (تک دوسرے آئمہ ٪ کی امامت
حضرت امیرالمؤمنین ں کے بعد دوسرے آئمہ ٪ کی امام زمانہ(عج) تک امامت بھی گذشتہ تینوں دلائل نص، کرامت کے ساتھ دعویٰ امامت ا ور افضلیت سے ثابت ہوتی ہے۔
الف۔ نص
پیغمبر اکرم ۖ کی طرف سے بارہ آئمہ میں سے ہر ایک کی امامت پر تفصیلی طور پر نام اور صفات کے بیان کے ساتھ بہت سی احادیث منقول ہیں۔ اور کلی طور پر’ میرے بعد بارہ امام ہوں گے’ کے مضمون کی بھی بہت سی روایات شیعہ و سنی سے منقول ہیں۔ اور پھر ہر امام نے اپنے بعد والے امام کی تصریح کی ہے۔جن میں سے بعض روایات کو ذکر کیا جاتا ہے۔
١۔ مرحوم علامہ حلی بحث امامت میں فرماتے ہیں:
‘ واستدلّ علی ذلک بوجوہ ثلاثة(الأوّل)النقل المتواتر من الشیعةخلفاًعن سلف فانّہ یدلّ علی امامة کلّ واحدمن ھؤلآء بالتنصیص وقدنقل المخالمفون ذلک من طرق متعددة تارةعلی الاجمال واخری علی التفصیل،کماروی عنہ ۖمتواتراً انّہ قال الحسین ھذا ابنی امام ابن امام أخو امام أبو أئمّة تسعة تاسعھم قائمھم۔'(23)
ترجمہ: ‘اس امر پر کہ پیغمبر اکرم ۖ کے بعد امام بارہ ہیں، تین
طریقوں سے استدلال ہوا ہے: ایک یہ کہ شیعوں کی طرف سے ان کے بزرگوں سے متواتر طور پر نقل ہوا ہے کہ تمام بارہ اماموں پر نص موجود ہے اور مخالفین( اہل تسنن) نے بھی یہ مطلب متعدد طریقوں سے بیان کیا ہے اور انہوں نے کبھی اجمالا او رکبھی تفصیلا اس بات کو نقل کیا ہے جیسا کہ
پیغمبر اکرم ۖ سے متواتر حدیث میں نقل ہوا ہے کہ آپ ۖ نے امام حسینـ سے فرمایا: میر ایہ بیٹا امام ہے، امام کا بیٹا ہے، امام کا بھائی ہے، نو اماموں کا باپ ہے کہ جن میں سے نواں قائم(عج) ہے۔’
٢۔ مسلم بن الحجاج پیغمبر اکرم سے ۖ نقل کرتا ہے:
‘ لا یزال الدین قائماّ حتّی تقوم الساعة أو یکون علیکم اثنا عشر خلیفة کلّھم من قریش’ (24)
ترجمہ: ‘دین قیام قیامت تک قائم رہے گا یہاں تک کہ تم پر بارہ خلیفے اور جانشین آ جائیں کہ وہ سب کے سب قریش سے ہوں گے۔’
٣۔ علامہ مجلسی، شیخ صدوق کی کتاب کمال الدین سے نقل کرتے ہیں کہ حضرت خاتم الانبیاء ۖ نے ولادت امام حسین کے وقت حضرت زہرا سے فرمایا:
‘الأئمة بعدی: الھادی علیّ والمھتدی الحسن، الناصر الحسین، المنصور علی بن الحسین، الشافع محمّد بن علیّ، النفّاع جعفر بن محمّد، الأمین موسیٰ بن جعفر، الرّضا علیّ بن موسیٰ، الفعّال محمّد بن علیّ، المؤتمن علیّ بن محمّد، العلاّم الحسن بن علیّ، و من یصلی خلفہ عیسیٰ بن مریم …'(25)
امام حسین ـ کی ولادت با سعادت کے دن جب حضرت زہرا اپنے بیٹے کے کربلا کے مصائب پر رورہی تھیں تو آنحضرت ۖ نے انھیں تسلی دیتے ہوئے آئمہ ٪ کے اسماء گرامی بتائے.
ب۔دعوائے امامت کے ساتھ اظہار کرامت
حضرت علی ںکے بعد دوسرے آئمہ کی امامت کو ثابت کرنے کا دوسرا ذریعہ یہ ہے کہ ان میں سے ہر ایک نے دعویٰ امامت کیااور ان سے بہت سے معجزات و کرامات دیکھے گئے جو مفصل کتب میں منقول ہیں۔
ج۔ فضائل و کمالات
آئمہ معصومین ٪کی امامت ثابت کرنے کا ایک اور ذریعہ ان کے فضائل و کمالات ہیں۔ بے شک جو بھی آئمہ معصومین ٪ کی زندگی کا مطالعہ کرے تو اس پر واضح ہو گا کہ یہ شخصیات علم، حلم، شجاعت، سخاوت، عدالت کی وجہ سے مکمل طور پر لیاقت خلافت رکھتی ہیں۔
ان حضرات کے جسمانی، روحانی، علمی اور اخلاقی کمالات حیرت انگیز اور تمام انسانیت کے لیے نمونہ ہیں۔ اس بحث کے آخر میں مناسب ہے کہ ہم مرحوم سلطان المحققین خواجہ نصیر الدین طوسی کے کلام کو ذکر کریں۔
وہ اپنی کتاب تجرید الاعتقاد میں لکھتے ہیں:
‘و النقل المتواتر دلّ علی الأحد عشر، ولوجوب العصمة،
و انتفائھا عن غیرھم، و وجود الکمالات فیھم۔’
ترجمہ: ‘اور متواتر احادیث امام علی ـ کے بعد گیارہ اماموں کی امامت پر دلالت کرتی ہیں اورعصمت کا وجوب اور شیعہ کے اماموں کے غیر میں عصمت کا نہ پایا جانا، نیز (علمی، عملی اور اخلاقی) امتیازات کا آئمہ ٪میں پایا جانا ان کی امامت کی دلیل ہے۔'(26)
حضرت امام مہدی(عج)کی طویل عمر اور غیبت کا مسئلہ
بحث امامت میں جن مسائل پر بحث کرنا مناسب ہے وہ بارہویں امام حضرت حجة ابن الحسن العسکری ںکی امامت سے مربوط ہیں۔ یہ بحث مختلف تفصیلی مطالب پرمشتمل ہے اور کیونکہ اس تحریر میں اختصار مدنظر ہے، لہذا خلاصہ کے طور پر ہم اس مسئلہ کو ذکر کریں گے۔
الف۔ بارہویں امام(عج) کی امامت دیگر آئمہ معصومین ٪کی طرح نص
پر استوار ہے اور پیغمبر اکر م ۖ اور ہر ایک امام نے بارہویں امام کی امامت کی خبر دی ہے اور واضح طور پر آپ کی خصوصیات کو بیان کیا ہے۔ کتاب
شریف منتخب الاثر میں کتب اہل سنت سے ٦٥٧احادیث ظہور حضرت مہدی ںکی بشارت میں نقل ہوئی ہیں۔(27) یہاں پر صرف ایک حدیث اہل سنت اور ایک حدیث شیعہ کو نقل کرنے پر اکتفاء کرتے ہیں۔
١۔ سنن ابی داود میں پیغمبر اکرم ۖسے منقول ہے:
‘لو لم یبق من الدھر الاّ یوم لبعث اللّٰہ رجلاً من أھل بیتی یملاء ھا عدلاً کما ملئت جوراً’۔(28)
‘اگر زمانہ میں صرف ایک دن باقی ہو تو بھی خداوند متعال میرے اہل بیت٪میں سے ایک شخص کو بھیجے گا جو زمین کو اسی طرح عدالت سے پر کردے گا جس طرح وہ ظلم سے بھر چکی ہوگی’
٢۔ دلائل الامامة میں پیغمبر اکرم ۖسے منقول ہے۔
‘لا تقوم الساعة حتّی تملاء الأرض ظلماً و عدواناً ثمّ یخرج من عترتی أو قال: من أھل بیتی یملاء ھا قسطاً و عدلاً، کما ملئت ظلماً و عدواناً۔ (29)
‘قیامت قائم نہیں ہوسکتی یہاں تک کہ زمین ظلم سے بھر جائے پھر میری عترت میں سے ایک شخص خروج کرے گاجو زمین کو اسی طرح عدالت سے بھر دے گا جس طرح وہ ظلم سے بھر چکی ہوگی’
کتاب شریف منتخب الاثر میں ٣٨٩ احادیث اس بارے میں ذکر ہیں کہ حضرت مہد ی (عج)پیغمبر اکرم ۖ کی عترت و ذریت میںسے ہیں (30) اور ٤٨ احادیث اس بارے میں ہیں کہ حضرت مہدی (عج)کا اسم مبارک اسم پیغمبر اکرمۖ اور آپ کی کنیت، کنیت پیغمبرۖ ہے۔ اور آپ شکل و صورت رفتار و گفتار میں پیغمبر اکرم ۖکے مشابہ ترین شخص ہیں۔ (31)اور ٢١٤ احادیث اس بارے میں ہیں کہ حضرت مہدی (عج)امیرالمؤمنین علی بن ابی طالب ںکے فرزندان میں سے ہیں۔(32) اور ١٩٢ احادیث اس بارے میں ہیں کہ حضرت مہدی ںفرزندان زہرا میں سے ہیں اور ١٠٧ احادیث اس بارے میں ہیں کہ حضرت مہدی (عج)حضرت امام حسنں اور امام حسین ںکی اولاد میں سے ہیںاور اسی طرح آئمہ معصومین ٪میں سے ہر ایک کے ساتھ آپ کی نسبت کے بارے میں شیعہ و سنی بہت سی روایات نقل ہوئی ہیں۔ یہاں تک کہ ١٣٦ احادیث اسی بارے میں نقل ہوئی ہیں کہ حضرت مہدی (عج) آخری اور بارہویں امام ہیں۔(33)
پس متعلقہ مدارک ومآخذسے واضح ہوتا ہے کہ حضرت امام مہدی (عج)امام حسن عسکری ںکے بلافصل فرزند ہیں۔ یہاں پر مناسب ہے کہ حضرت امام مہدی(عج) کی خصوصیات وصفات پر مشتمل بہت سی احادیث میںسے ایک حدیث کو نقل کریں جو کتاب شریف منتخب الاثر میں مرحوم شیخ صدوق کی کتاب کمال الدین سے نقل ہوئی ہے۔
‘عن عبدالعظیم بن عبداللّٰہ الحسنی عن الامام محمّد بن علیّ بن موسیٰ بن جعفر بن محّمد بن علیّ بن الحسین بن علیّ بن أبی طالب علیہم السلام عن آبائہ عن أمیرالمؤمنین قال: للقائم منّا غیبة أمدھا طویل کأنی بالشیعة یجولان جولان النعم فی غیبة یطلبون المرعی فلا یجدونہ، ألا فمن ثبت منھم علی دینہ و لم یقس قلبہ لطول غیبة امامہ فھو معی فی درجتی یوم القیامة ثمّ قال: انّ القائم منّا اذا قام لم یکن لأحد فی عنقہ بیعة فلذلک تخفی ولادتہ، و یغیب شخصہ۔
حضرت عبدالعظیم حسنی امام محمد بن علی بن موسی بن جعفر محمد بن علی بن الحسین بن علی ابن ابی طالبـ سے روایت کرتے ہیں کہ امیرالمومنینـ نے فرمایا :
‘ہمارے قائم کے لئے طولانی غیبت ہے گویا کہ میں دیکھ رہاہوں کہ شیعہ چراگاہ کی متلاشی حیران بھیڑوں کی طرح حیران ہوں گے ۔ اس زمانہ میں جو شخص اپنے دین پر ثابت رہے اورامام مہدی(عج) کی طویل غیبت کی وجہ سے سنگ دل نہ ہو تووہ ( روز قیامت) میرے ساتھ میرے درجہ میں ہوگا۔ بے شک جب ہمارے قائم قیام کریںگے تو ان کی گردن میں کسی کی بیعت نہیں ہوگی ۔ اسی وجہ سے ان کی ولادت اوروہ خود بھی لوگوں کی نظروں سے مخفی ہیں'(34)
ب۔ حضرت امام مہدی ںکی غیبت طولانی اور طویل عمر کے بارے میں آنحضرت کی اصل امامت کی طرح پیغمبر اکرم ا تمام آئمہ معصومین ٪سے نص صریح موجود ہے۔ اور ان تمام بزرگوں نے آپ (عج)کے مشخصات و علامات کو بیان فرمایا ہے، جو کہ آپ کی طویل عمر، غیبت اور وقت ظہور اورجہان میں عدالت برقرار کرنا ہے۔اس بنا پر جس طرح امام مہدی ںکی امامت آنحضرت ۖ اورر آئمہ معصومین ٪کی نص صریح پر استوار ہے اسی طرح آپ کی صفات و خصوصیات بھی نص پیغمبرۖاور معصومین ٪ پر استوار ہیں۔ اور اس بارے میں بہت سی کتب تألیف ہوئی ہیں جن میں سے دو کتب یہ ہیں کمال الدین مرحوم صدوق و منتخب الاثر۔اس (طول عمر، غیبت) کے حوالے سے جو اشکالات بعض افراد کی طرف سے کیے جاتے ہیں، ان کے بارے میں درج ذیل باتیں لائق توجہ ہیں۔ انسان کو جو امور پیش آتے ہیں وہ تین صورتوں سے خارج نہیں۔
١۔ بعض مطالب خلاف عقل ہیں اور عام عقلاء انہیں خلاف عقل شمار کرتے ہیں۔ جیسے کہ کوئی ایسی بات کرے جس کا لازمہ اجتماع ضدین یا اجتماع نقیضین و غیرہ ہو۔ یا بعبارت دیگر، مطالب کسی بھی عاقل کے لیے قابل قبول نہیں اور عقل عمومی کے ساتھ سازگار نہیں اور عموم کے نزدیک عقلی طور پر محال ہیں۔ مثلاً اگر کوئی کہے، دو جمع دو مساوی پانچ ہے۔ واضح ہے کہ ایسی بات سنتے ہی اس کے بطلان و محال ہونے کا حکم لگایا جائے گااور اس کی نادرستی میں کوئی شک و شبہ نہیں۔
٢۔ بعض مطالب، پہلے مطالب کے برعکس ہیں اور عقل کے لیے واضح و روشن ہیںاور جس کے سامنے بیان کیے جائیں وہ فوراً قبول کر لیتا ہے اور ان کی درستی کا حکم لگایا جاتا ہے، جیسے بہت سے مسائل اخلاقی وغیراخلاقی کہ عدالت اچھی چیز ہے ، اور ظلم قبیح ہے، علم و دانش اہمیت رکھتے ہیں۔ واضح ہے کہ ان مطالب کو عاقل انسان پہلی فرصت میں قبول کر لیتا ہے۔
٣۔ بعض مسائل نہ خلاف عقل ہیں کہ فوراً انکار کر دیا جائے، اور نہ واضح مسائل میں سے ہیں کہ انہیں فوراً قبول کر لیا جائے بلکہ ان کا قبول کرنا کچھ مشکل ہے.
جیسے بہت سے غیر عادی امور مثلاً اگر کوئی کہے کہ ایسی مشین ایجاد ہوئی ہے کہ جو مثلاً دو گاڑیوں کے ایکسیڈنٹ کے بعداور ایکسیڈنٹ کے منظر کے خاتمہ کے بعد اس حادثہ کی فلم برداری کر سکتی ہے او ر جو کچھ ہوا ہے اس کو منعکس کر سکتی ہے۔
ایسے موارد میں عاقل انسان نہ تو اس خبر کی نفی کرتا ہے ، کیونکہ خلاف عقل نہیں اور فوراً قبول بھی نہیں کرتا کیونکہ سادہ، واضح بات بھی نہیں ۔بلکہ اگر کوئی معتبر دلیل ہو جیسے ایسے شخص کی خبر جس نے خود اس مشین کو دیکھا ہو، اور فہم وصداقت کے لحاظ سے مورداطمینان ہو تو اس کو قبول کرتا ہے وگرنہ اس کو نہ ردّ کرتا ہے اور نہ قبول بلکہ اس کو امکان کے کھاتے میں ڈال دیتا ہے
مذکورہ بالا مقدمہ پر توجہ کے بعد کہتے ہیںکہ دین مقدس اسلام کے مسائل میں سے کوئی مسئلہ قسم اوّل میں سے نہیں، اور اس مکتب میں کوئی بات بھی خلاف عقل نہیں۔ اور دوسری قسم کے مطالب بہت زیادہ ہیں اور اس مکتب الہٰی میں اکثر باتیں فطرت کے مطابق ہیں اور عقل ان کے حسن و صحت کو درک کرتی ہے۔
اور کچھ مسائل تیسری قسم میں سے ہیں جو نہ خلاف عقل ہیں اور نہ ہی ان کا سمجھنا سادہ و آسان ہے۔ ان موارد میں جیسا کہ اصل تقسیم میں بیان ہوا ہے اگر کوئی بات مکتب وحی میں دلیل معتبر رکھتی ہو تو قابل قبول ہو گی وگرنہ اسے حتمی طور پر مکتب وحی کی طرف نسبت نہیں دی جاسکتی۔ اور جب معتبر دلیل ہو تو واضح ہے کہ چونکہ خلاف عقل نہیں لہذا قابل قبول ہے۔
اور اگر فرض کیا جائے کہ کوئی بات تمام عقلاء کے نزدیک خلاف عقل ہے اور پھر یہ کہ قطعی طور پر مکتب وحی کی طرف منسوب ہے (اگرچہ ایسی کوئی بات نہیں بلکہ صرف فرض ہے) تو اس صورت میں اس کی توجیہ و تاویل کرنی چاہیے اور ظاہری معنی سے عدول کیا جائے۔ (35)
اس بنا پر مسئلہ معاد جسمانی جیسا کہ تصریح قرآن ہے (اور بحث معاد میں بیان ہو گا) اورمسئلہ معراج جسمانی اورمسئلہ طول عمر حضرت مہد ی (عج)تیسری قسم کے مطالب میں سے ہیں۔
یعنی ان مطالب میں سے ہیں جو نہ خلاف عقل ہیںاور نہ ہی واضح وبدیہی، لہذا اگر مکتب وحی میںان مطالب کے متعلق دلیل معتبر موجودہو تو حتمی طور پر قبول کریں گے۔ اور حضرت مہدی (عج)کے بارے میں ایسا ہی ہے جس کی نیچے وضاحت کی جاتی ہے۔
طول عمر محالات میں سے نہیں اور عقلی طور پر ممکن ہے۔ کہ کوئی زندہ موجود بہت طویل عمر رکھتا ہوکیونکہ عمر، زندگی مختلف درجات و مراتب رکھتی ہے جیسے نور، ظلمت، تیزی، کندی، گرمی، سردی جن کے درجات بہت مختلف ہیں۔
ایک شمع کا نور بھی نور ہے اور ایک سو وولٹ کے بلب کی روشنی بھی نور ہے۔ چاند کی روشنی بھی نور ہے اور سورج کی روشنی بھی نور ہے۔ نور مختلف درجات و مراتب رکھتا ہے عمر بھی اسی طرح ہے جس قدر بقاء انسان کے سبب اور عامل میں تسلسل ہو گا عمر انسان بھی طولانی تر ہو گی۔ پس طویل عمر محالات اورناممکن امور میں سے نہیں۔ قرآن کریم فرماتا ہے کہ حضرت نوح ںنے بعثت کے بعد اورقبل از طوفان اپنی قوم میں ٩٥٠ سال زندگی بسر کی ہے۔ (36) اس بناء پر واضح ہے کہ طول عمر محال عقلی نہیں اور دوسری طرف حضرت مہدی ںکی طول عمر پر بہت سے معتبر نقلی دلائل موجود ہیں۔ اور کتاب کمال الدین و منتخب الاثر میں شیعہ و سنی مدارک سے بہت زیادہ روایات نقل کی گئی ہیں۔
درج بالا مطالب سے اچھی طرح واضح ہے کہ طول عمراور غیبت حضرت مہدی (عج) قطعی طور پر مورد قبول ہے۔
ادلہ منکرین امامت بلافصل علی بن ابی طالب ں اور ان کا جواب
اہل سنت جو حضرت امیرالمؤمنین ں کی امامت و خلافت بلافصل کے منکر ہیں اور ابو بکر، عمر، عثمان و حضرت علی ںکی خلافت کے معتقد ہیں، کہتے ہیں چونکہ امت اسلامی کے لیے خلیفہ پیغمبر اکرم ۖاور رہبر کا وجود ضروری ہے اور پیغمبر اکرمۖ کی طرف سے کوئی نص صریح اس بارے میں موجود نہیںاور شوریٰ و مشورت اسلام میں اہمیت رکھتی ہے پس ضروری ہے کہ خلیفہ کا انتخاب(شوریٰ کے ذریعے) کیا جائے۔
اور جب انہوں نے دیکھا کہ اگر معیار خلافت شوریٰ ہو تو حضرت عمر کی خلافت کی کوئی دلیل نہیں ہو گی تو کہا کہ استخلاف بھی خلافت کی دلیل ہے یعنی اگر کوئی خلیفہ کسی اور کو خلیفہ متعین کرے تو یہی کافی ہے اور کسی اور دلیل کی ضرورت نہیںوہی خلیفہ سابق کی تعیین دوسرے خلیفہ کی خلافت کے
اثبات کے لیے کافی ہے.
مرحوم شیخ صدوق ایک روایت کرتے ہیں کہ حضرت نوح نے٢٥٠٠سال عمر کی.
عن ھشام بن سالم………………………….
اور ان میں سے بعض چونکہ شوریٰ و استخلاف دونوں کو کافی نہیں سمجھتے کیونکہ معاویہ کی خلافت نہ شوریٰ کے ذریعے تھی اور نہ ہی خلیفہ سابق کے انتخاب سے تھی لہذا قہر، غلبہ کو بھی خلافت کی دلیل قرار دیتے ہیں اور کہتے ہیں، ملاک ومعیار خلافت شوریٰ یا انتخاب خلیفہ سابق یا قہروغلبہ ہیں۔اور بعض اجماع امت کو بھی معیار خلافت قرار دیتے ہیں۔ اور کچھ لوگ بیعت جمہور کو معیار خلافت قرار دیتے ہیں۔
جواب: آغاز بحث امامت میں جو مطالب بیان ہوئے ہیںاور واضح کیا جا چکا ہے کہ عقل و نقل کے مطابق خلیفہ و جانشین پیغمبر ۖ کو معصوم ہونا چاہیے،اور واضح ہے کہ انتخاب معصوم صرف علم محیط پروردگار سے مربوط ہے،اور اول بعثت سے لے کر رحلت پیغمبر اکر م ۖتک پیغمبر اکرم ۖکی طرف سے خلافت وامامت امیرالمؤمنین ںکے بارے میں مختلف نصوص بیان ہوئی ہیں ان سب کو مدنظر رکھتے ہوئے، خلافت و امامت کے لیے کوئی اور معیار نہیں ہونا چاہیے۔ اور واضح ہے کہ نص و تصریح پیغمبر ۖ جو اس قدر زیادہ ہیں، کہ اگر شیعہ کتب سے صرف نظر کیا جائے تو بھی اہل سنت کی کتب سے خلافت علی بن ابی طالب ں کو ثابت کرتی ہیں،ان کے مقابلہ میں شوریٰ یا انتخاب خلیفہ جس کا اپناانتخاب الہٰی نہ ہو اور اسی طرح قہروغلبہ کا کوئی معنی نہیں ہو گا۔ اب درج بالا بیان کے علاوہ مختلف جہات سے اہل سنت کے نظریہ کے بطلان کو واضح کرتے ہیں۔
١۔ اگر معیار خلافت کبھی شوریٰ اور کبھی خلیفہ سابق کی طرف سے تعیین اور کبھی قہر، غلبہ و قوت ہو تو اس کا مطلب یہ ہے کہ در حقیقت خلافت کا کوئی معیار نہیں۔ بلکہ جو بھی جس طرح خلافت تک پہنچ جائے وہ خلیفہ ہو گا اور اگر اسلام میں خلافت کے لیے کوئی معیار نہ ہو تو اس کا معنی یہ ہے کہ اسلام خلافت جیسے مہم امر سے غافل ہو اور رسول اکرم ۖ حفاظت اسلام ومسلمین میں اپنی تمام دلسوزی کے باوجود خلافت سے غافل ہوںاوریہ واضح ہے کہ ایسا تصور ناپسندیدہ تصور ہے۔
٢۔ خلافت کے لیے قہرو غلبہ کے معیار ہونے کا لازمہ تمام موازین اسلامی کی نفی ہے ، کیونکہ جو بھی قہر، غلبہ سے مخلوق پر مسلط ہو جائے اور بعنوان خلیفہ معروف ہو جائے تو واضح ہے کہ وہ بہت زیادہ ظلم کا ارتکاب کرے گا اور واضح ہے کہ اس صورت میں اسلام کی کیا حالت ہو گی۔
٣۔ شوریٰ بھی قہر، غلبہ کی طرح معیار خلافت نہیں ہو سکتی کیونکہ اگر شوریٰ سے مقصود تمام مسلمانوں مردوزن اور امت اسلامی کی مشاورت ہو تو ایسی شوریٰ ممکن نہیں یا حداقل محال کے نزدیک ہے اور اگر مقصود اہل حل و عقد کی مشاورت ہو تو ہم کہیں گے اگر وہ دو گروہوں میں تقسیم ہو جائیں یا مختلف شہروں کے لوگ مختلف نظر دیں اور ایک دوسرے کی مخالفت کریںتو پھر کیا ہو گا اس صورت میں شوریٰ نہ صرف معیار خلافت نہیں بلکہ موجب اختلاف و فساد بھی ہو گی۔
٤۔ شوریٰ نص کے مقابلہ میں کوئی معنی نہیں رکھتی اور پیغمبر اکرم ۖنے مسئلہ خلافت میں بار بار حضرت علی ںکی خلافت کی تصریح کی ہے۔ اور اگر کہا جائے کہ شوریٰ اچھی چیز ہے اور امور، مصالح اجتماعی میں مشاورت مناسب ہے اور چونکہ خلیفہ پیغمبر آنحضرت ۖ کی نیابت میں امور دین و دنیا میں مسلمانوں کی سرپرستی کا ز مہ دار ہے لہذا اسے معصوم ہونا چاہیے اور مقام عصمت کا علم ، علم غیب کا محتاج ہے توشوریٰ کے لیے کوئی مورد باقی نہیں رہے گا کیونکہ مشاورت سے غیب تک دسترس حاصل نہیں ہوتی۔
٥۔ مشاور ت کرنا اور بعض موارد میں اکثریت کی مراعات کرنا ناچاری کی وجہ سے ہے۔ اور واضح ہے کہ اکثریت دلیل و سند نہیں بلکہ غالباً اکثریت اشتباہ میں ہوتی ہے اور واضح ہے کہ اگر عدد معیار ہو تو ایک عادی شخص کی رائے ایک دانشمند و عالم کی رائے کے مساوی ہوگی۔
٦۔ استخلاف اور خلیفہ سابق کی تعیین کا بطلان واضح ہے ، کیونکہ اگر تعیین کرنے والا خلیفہ خداوند متعال کی طرف سے ہو تو دوسرے کی تعیین بھی نص ہو گی اور نص معیار خلافت ہو گی نہ استخلاف اور اگر تعیین کرنے والا خلیفہ خداوندمتعال کی طرف سے منصوب نہ ہو تو ایسے شخص کی تعیین سند نہیں اور خلیفہ اول کی خلافت بھی باطل ہو گی۔
٧۔ بعض اہل سنت نے اجماع کو معیار خلافت قرار دیا ہے۔ واضح ہے کہ قطع نظر اس کے کہ اجماع اگر حکم معصوم کو کشف کرنے کا ذریعہ نہ ہو تو اس کی حجیت پر کوئی دلیل نہیں، مسئلہ خلافت میں اجماع محقق نہیں ہواکیونکہ تحقق اجماع کی بنیاد اتفاق اہل حل و عقد ہے۔اور واضح ہے کہ معروف صحابہ کرام ابو بکر کی خلافت کے مخالف تھے۔ اور مؤرخین کے مطابق مخالفین میں سے درج ذیل اشخاص ہیں۔(37)
١۔ سعد بن عبادہ ٢۔ سہل بن حنیف
٣۔ حباب بن مندر ٤۔ عثمان بن حنیف
٥۔ زبیر ٦۔ اسامہ بن زید
٧۔ ابوذر غفاری ٨۔ عمار یاسر
٩۔ ابوالہیثم بن قیہان ١٠۔ ابی قحافہ
١١۔ عمر بن سعید ١٢۔ عبداللہ بن عباس
١٣۔ فضل بن عباس ١٤۔ خالد بن سعید
١٥۔ مقداد بن اسود ١٦۔ خزیمہ بن ثابت، ذوالشہادتین
١٧۔ ابو سفیان ١٨۔ زید بن وہب
١٩۔ عباس بن عبدالمطلب ٢٠۔ اُبی بن کعب
٢١۔ قیس بن سعد ٢٢۔ سلمان فارسی
٢٣۔ بریدہ أسلمی ٢٤۔ مالک بن نویرہ
اور بہت سے لوگ جن کا نام تاریخ میں ثبت ہے کہ وہ ابو بکر کی خلافت کے مخالف تھے۔ اور ان سب سے مہم تر یہ ہے کہ اہل بیت ٪جو رکن امت اور اسلام کی بنیاد ہیں اور ان کی محبت اجر رسالت
کے طور پر قرآن میں اعلان کی گئی ہے نہ صرف یہ ہے کہ مخالف تھے بلکہ خلافت کو اپنا حق سمجھتے
تھے(اور حق ایسا ہی تھا )یہاں تک کہ اس معاملہ میں اختلاف کا نتیجہ یہ برآمد ہوا کہ ابو بکر کے حواریوں نے حضرت علی ںکے گھر پر حملہ کر دیا۔ اور یہ اہل بیت پیغمبر کی ابو بکر کی خلافت کی مخالفت عدم تحقق اجماع کی بہترین دلیل ہے۔ (38)
اور واضح ہے کہ اجماع دینداری کی بنیاد پر اہمیت رکھتا ہے نہ کہ خواہشات نفسانی کی بنیاد پر۔ اور واضح ہے کہ امر خلافت میں ان کا نزاع و جدال ان کی خواہشات نفسانی کی نشاندہی کرتا ہے۔
مذکورہ بالا بیان سے واضح ہو گیا، کہ حجیت اجماع کی خاص شرائط ہیں (جو زیربحث اجماع میں موجود نہیں) اور بنیادی طور پر اجماع محقق ہی نہیں ہواکہ اس سے استدلال کیا جائے۔
٨۔ خلیفہ کی خلافت کی حقانیت کے لیے جو معیار بیان کرتے ہیں ان میں سے ایک بیعت ہے اس بارے میں ہم کہتے ہیں کہ بیعت اس شخص کی خلافت کی تثبیت و تحکیم میں مؤثر ہے جس کی خلافت واضح دلیل (نص) سے ثابت ہو چکی ہو نہ کہ خلافت کے لیے کسی شخص کی حقانیت کو ثابت کرتی ہے۔ بعبارت دیگر اگر بیعت سے مقصود شوریٰ یا اجماع ہو، تو شوریٰ و اجماع پر جو اشکالات بیان کیے گئے ہیں یہاں بھی درپیش ہیں۔ اور اگر شوریٰ یا اجماع مقصود نہیں توبیعت کا معنی صرف اس شخص کی خلافت کو مضبوط کرنا ہے جس کی حقانیت ثابت ہو چکی ہو.
نتیجہ: درج بالا بیانات سے واضح ہوتا ہے کہ اجماع، شوریٰ، بیعت، قہر، غلبہ، استخلاف کوئی بھی خلیفہ کے انتخاب کامعیار نہیں ہو سکتا۔
عصمت آئمہ
بحث امامت سے مربوط مسائل میں سے ایک مسئلہ عصمت آئمہ معصومین ٪ہے۔ اس بارے میں مختصر طور پر عرض کرتے ہیں کہ عصمت انبیاء کے بارے میں جو دلائل بیان ہوئے ہیں وہی دلائل عصمت آئمہ معصومین ٪میں بھی جاری ہیں۔ اور خلیفہ پیغمبرۖ کے معصوم نہ ہونے کی صورت میں درج ذیل مفاسد لازم آئیں گے۔
١۔ اگر جانشین پیغمبر ۖمعصوم نہ ہو تو وہ قابل اطمینان و اعتماد نہیں ہو گا اور خلافت و وصایت کی غرض ختم ہو جائے گی۔
٢۔ اگر جانشین پیامبراکرم ۖ معصوم نہ ہو تو امت کے درمیان اختلاف کو رفع نہیں کیا جا سکے گا۔ اور امت دین سے مختلف نظریات حاصل کر کے منتشر ہو جائے گی اور مخلوق پر حجت تمام نہیں ہو گی۔
٣۔ اگر جانشین پیغمبر اکرم ۖمعصوم نہ ہو تو لوگ دین کامل پر عمل کرنے پر قادر نہیں ہوں گے؛ کیونکہ وہ خود مختلف احکام اسلام کو نہیں جانتے اور جو جانشین پیغمبر اکرم ۖ ہے ممکن ہے وہ گناہ، خطا کی وجہ سے احکام الہٰی کو صحیح طورپر لوگوں تک نہ پہنچائے۔
٤۔ اگر جانشین و خلیفہ پیغمبر اکرم ۖ معصوم نہ ہو تو اس کی مطلق اطاعت جو اطاعت الہٰی سے متصل ہے نہیں کی جا سکتی،جب کہ اللہ تعالیٰ نے اولی الامر کی اطاعت کو اطاعت الہٰی کا قرین قرار دیا ہے۔
یاٰٰأَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُوْا أَطِیْعُوا اللّٰہَ وَ أَطِیعُوا الرَّسُولَ وَ أُوْلیِ الْأَمْرِ مِنْکُمْ ۔ (39)
ترجمہ: ‘اے ایمان والو اللہ کی اطاعت کرو رسول اور صاحبانِ امر کی اطاعت کرو جو تم ہی میں سے ہیں ۔’
درج بالا آیت میں خداوندمتعال نے اولی الامر کی اطاعت مطلق کو لازم قرار دیا ہے اور واضح ہے کہ وجوب اطاعت مطلق کا لازمہ گناہ و خطا سے عصمت ہے۔
٥۔ اگر جانشین پیامبراکرم ۖ معصوم نہ ہو تو اس کے لیے ایک اور امام کو متعین کیاجانا چاہیے۔ اور اس دوسرے امام کے لیے بھی ایک اور امام متعین کیا جانا چاہیے اور یہ لا متناھی سلسلہ چلتا رہے گا ۔ کیونکہ علت تعیین ونصب امام لوگوں کا خطا و اشتباہ میں پڑنا ہے۔ چونکہ لوگ معرفت دین میں خطاکرتے ہیں لہذاضروری ہے کہ ان کے لیے امام متعین کیا جائے۔ اس بنا پر اگر یہ امام خود خطاکار ہو تو ضروری ہے کہ اس کے لیے بھی ایک امام کو متعین کیا جائے اور اس امام کے لیے اور امام اور نتیجتاً بے شمار امام متعین کیے جائیں۔ اور واضح ہے کہ ایسا کرنا باطل و محال ہے۔ پس عصمت امام ضروری ہے۔
٦۔ اگر جانشین پیامبراکرم ۖ معصوم نہ ہو تولوگ اطاعت کرنے میں تضاد سے دوچار ہو جائیں گے۔ کیونکہ جب امام خطا کرے گا یا گناہ کا ارتکاب کرنے گا تو اس کو نہی کرنا واجب ہے۔ در صورتیکہ اس کی اطاعت کو ضروری قرار دیا گیا ہے۔ تو لزوم اطاعت اور لزوم نہی از معصیت میں تضاد لازم آئے گا۔
٧۔ اگر جانشین پیامبراکرم ۖ معصوم نہ ہو توضروری ہے کہ اس کا مقام دیگر لوگوں سے کم ترہو کیونکہ امام کی عقلی و علمی طور پر باقی لوگوں سے کوئی نسبت نہیں۔ اس بنا پر اگر وہ گناہ گار ہو تو اس کا مقام عام لوگوں سے کمتر ہو گا۔ در حالانکہ امام تمام لوگوں سے بلند مرتبہ ہوتا ہے۔
اس بارے میں مناسب ہے کہ سلطان المحقیقین خواجہ نصیر الدین طوسی کے کلام کو نقل کیا جائے۔
‘ و امتناع التسلسل یوجب عصمتہ، ولأنّہ حافظ للشرع۔ لوجوب الانکار علیہ، لو أقدم علی المعصیة فیضاد أمر الطاعة و یفوت الغرض من نصبہ ولانحطاط رتبتہ عن أقلّ العوام’۔(40)
تسلسل کا محال ہونا عصمت امام و خلیفہ کا باعث ہے اور کیونکہ وہ محافظ
پس یہ وجوب اطاعت امام کے متضاد ہے۔ اور اگر امام معصوم نہ ہو تو غرض نصب امام ختم ہو جائے گی اور اگر امام معصوم نہ ہو تو رتبہ امام عام لوگوں سے کمتر ہو گا۔ مذکورہ بیان سے اچھی طرح واضح ہو گیا ہے کہ آئمہ بزرگوار، خلفاء پیغمبر اکرم ۖ گناہ و خطا سے محفوظ ہیں۔
شخصیت و خصوصیات آئمہ معصومین ٪
آئمہ اہل بیت ٪کی عظمت وبرتری کو کسی حد تک ثابت کرنے کا ایک راستہ ان ہستیوں کی زندگی کے بارے میں تحقیق کرنا ہے۔ با عظمت و شرافت زندگی جو کہ مکمل طور پر علم، عدالت، استقامت، انسانیت، اخلاق حسنہ، مکارم اخلاق سے پر ہے۔ ان ہستیوں کی بلندی مرتبہ کی علامت ہے۔ حتیٰ کہ تمام آئمہ معصومین ٪ کے علمی، اخلاقی، اجتماعی، عدالتی، عبادی آثار نے سب کو مبہوت کر دیا ہے۔ لیکن جو راستہ ان ہستیوں کی عظمت کو واضح کرتا ہے وہ فرامین ہیں جو انہوں نے اپنے تعارف کے لیے خود فرمائے ہیں۔
بہ الفاظ دیگر ان ہستیوں کی صداقت کو مدنظر رکھتے ہوئے اور ان کی امامت کو قبول کر لینے کے بعد ان کی معرفت کا بہترین راستہ اپنی عظمت و مقام کے بارے میں خود ان کے فرامین ہیں۔ واضح ہے کہ ان ہستیوں کا اپنا تعارف کرانا خود ثنائی نہیں ہے۔ (کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ آئمہ معصومین ٪ ہر قسم کے غیر شائستہ کام سے منزہ ہیں) بلکہ مہم ترین مصلحتوں کے لیے ہے۔ منجملہ یہ کہ لوگ ان کی معرفت حاصل کرنے کے بعد بہتر انداز میں ان کی پیروی کر سکیںاور اپنی سعادت کو پا سکیں۔ ہاں کئی موارد پر انہوں نے اپنی شخصیت و مقام کا دنیا کے سامنے بیان کیا ہے۔ اب ہم مختصر طور پر تین حصوں میں آئمہ معصومین ٪کی عظمت کو بیان کرتے ہیں۔
اوّل: خلقت نوری
بہت سی معتبر روایات سے آئمہ معصومین ٪کی خلقت نوری اور حیرت انگیز خلقت کا پتہ چلتا ہے۔اس بارے کئی سو احادیث میں سے ایک حدیث کو کتاب شریف کافی سے نقل کرتے ہیں۔
محمد بن سنان حضرت امام جواد ںسے نقل کرتے ہیں کہ جب آپ کے مسامنے شیعوں کے درمیان اختلاف کا ذکر ہوا تو آپ نے فرمایا :
‘ یا محمّد انّ اللہ تبارک و تعالیٰ لم یزل متفرّدا بوحدانیّتہ ثمّ خلق محمّداً و علیّاً و فاطمة فمکثوا ألف دھر، ثمّ خلق جمیع الأشیاء فأشھدھم خلقھا و أجری طاعتھم علیھا و فوّض أمورھا الیہم، فہم یحلّون ما یشأؤون و یحرّمون یا یشاؤون ولن یشاؤوا الاّ أن یشاء اللّٰہ تبارک و تعالیٰ، ثمّ قال: یا محمّد ھذہ الدّیانة الّتی من تقدّمھا مرق و من تخلّف عنھا مھق، و من لزمھا لحق، خذھا الیک یا محمّد’ ۔(41)
ترجمہ:’ اے محمد بن سنان خداوند متعال ہمیشہ یکتا تھا پھر اس نے محمد ۖ ، علی ـ اور فاطمہ کو خلق فرمایا ،پس وہ ایک ہزاردہر(زمانہ)اسی طرح ہے پھر اللہ نے مخلوقات کو پیدا کیا اورانہیں تمام مخلوقات پر گواہ بنایا اور تمام مخلوقات پر ان کی اطاعت کو ضروری قرار دیا اورمخلوقات کے امور کو ان کے سپرد کیا پس وہ جس چیز کو چاہیں حلال کریں یا حرام کریں اوروہ نہیں چاہتے مگر وہی جو اللہ چاہتا ہے، پھر فرمایا: اے محمد یہ وہ(حقیقی)دین ہے کہ جو اس سے آگے بڑھے گا ہلاک ہوجائے گا اورجواس سے پیچھے رہے گا برباد ہوجائے گا ۔ اورجوان سے متمسک رہے گا وہ منزل مقصود کو پالے گا۔ اے محمد ان باتوں کو اچھی طرح یاد رکھو’
اس حدیث شریف اور اِس جیسی دسیوں احادیث سے درج ذیل باتیں معلوم ہوئی ہیں۔
١۔ ان ہستیوں کی خلقت تمام عالم سے پہلے ہے۔ جس کو خلقت نوری کے عنوان سے بیان کیا جاتا ہے۔
(١)۔(اصول کافی کتاب الحجة ابواب التاریخ،باب مولد النبیۖ و وفاتہ،ح٥،١/٤٤١.
٢۔ یہ ہستیاں ارادہ الہٰی سے پوری کائنات پر حاکم ہیں اور کائنات میں ان کی مشیت نافذ ہے اور وہ اس میں ہر طرح کا تصرف کر سکتی ہیں۔
٣۔ ان بزرگوں کے قلوب مشیت و ارادہ الہٰی کے مرکز ہیںیہاں تک کہ یہ کچھ نہیں چاہتے سوائے اس کے جو خدا چاہتا ہے۔
اس کتاب اصول کافی میں مرحوم کلینی نے بہت سی روایات نقل کی ہیں اور آئمہ معصومین٪ کی خلقت نوری کو بیان کیا ہے،اور بعض احادیث میں واضح کیاگیاہے کہ مذکورہ خصوصیات تمام معصومین٪ کے لیے ہیں۔
دوّم: علمی خصوصیات
آئمہ معصومین ٪کی خصوصیات میں سے ایک ان کی وسعت علمی ہے کہ تعلیم الہٰی سے وہ ہر چیز سے آگاہ ہیں۔ اس بارے میں سینکڑوں احادیث معتبرہ سے ایک معتبر حدیث کو نقل کرتے ہیں۔
‘ عن المفضّل بن عمر قال: أبو عبداللّٰہ انّ سلیمان ورث داود، و انّ محمّدۖاً ورث سلیمان، و انّا ورثنا محمّدۖاً و انّ عندنا علم التوراة والانجیل والزبور، و تبیان ما فی الألواح، قال: قلت: انّ ھذا لھو العلم؟ قال: لیس ھذا ھو العلم، انّ العلم الّذی یحدث یوماً بعد یوم و ساعة بعد ساعة۔(١)
ترجمہ:’مفضل امام صادق ـ سے نقل کرتے ہیں: کہ آپـ نے فرمایا بے شک حضرت سلیمان نے داؤد کی وراثت حاصل کی اورحضرت محمد ۖ نے سلیمانـ سے وراثت پائی اورہم نے پیغمبر اکرم ۖ سے وراثت پائی ہے اوربے شک ہمارے پاس تورات، انجیل وزبور کا علم ہے اورجوکچھ( حضرت موسیٰ ـ کی) الواح میں تھا ۔ اس کی وضاحت ہمارے پاس ہے تو میں نے عرض کی ، کیا یہی علم ہے؟ توآپ ـ نے فرمایا یہ علم نہیں ہے بے شک علم وہ ہے جولمحہ بہ لمحہ اورروز بروز پیداہوتا ہے’
اس حدیث شریف سے آئمہ معصومین ٪کا تمام احکام الہٰی، حوداث، وقائع جہان کا عالم ہونا ثابت ہوتا ہے۔ اور یہ حدیث آئمہ معصومین ٪کی عظمت علمی کو بیان کرتی ہے۔
سوّم:قدرت آئمہ معصومین ٪
مدارک وحی سے مستفاد آئمہ طاہرین ٪ کی خصوصیات میں سے ایک کائنات میں تصرف کی قدرت ہے۔ اختصار کی وجہ سے ہم یہاں صرف ایک حدیث نقل کرتے ہیں۔
‘ عن جابر عن أبی جعفر قال: انّ اسم اللّٰہ الأعظم علی ثلاثة و سبعین حرفاً و انّما کان عند آصف منھا حرف واحد فتکلّم بہ فخسف بالأرض مابینہ و بین سریر بلقیس حتّی تناول السریر بیدہ ثمّ عادت الأرض کما کانت أسرع من طرفة عین و نحن عندنا من الاسم الأعظم اثنان و سبعون حرفاً، و حرف واحد عنداللّٰہ تعالیٰ استأثر بہ فی علم الغیب عندہ، ولا حول ولا قوة الاّ باللّٰہ العلی العظیم ‘۔
‘بے شک خداوند متعال کا اسم اعظم ٧٣حروف پر مشتمل ہے اورآصف بن برخیا کے پاس ایک حرف تھا جس کے ذریعے انہوںنے گفتگو کی تھی توزمین نے ان کے اور تخت بلقیس کے درمیان فاصلہ کوکم کردیا یہاں تک کہ انہوں نے تخت بلقیس ہاتھوں میں اٹھالیا اور پلک جھپکنے کی دیر میںپھر زمین اپنی اصلی حالت میں پلٹ گئی. اورہمارے پاس اسم اعظم کے ٧٢حروف ہیں اورایک حرف کا علم اللہ نے اپنے پاس مخصوص رکھا ہے اوراس کی قوت وطاقت کے بغیر اورکوئی طاقت نہیں’
مذکورہ حدیث مخلوق میں آئمہ طاہرین ٪کے تصرف کو واضح کرتی ہے۔ اور کیونکہ تمام خصوصیات کاسر چشمہ علم و قدرت ہے اور علم و قدرت سے تمام کمالات پیدا ہوتے ہیںلہذا کسی حد تک آئمہ معصومین ٪ کی عظمت روشن ہو چکی ہے۔ ہاں تمام انسانوں کی سر پرستی کے لیے اللہ تعالیٰ نے انہیں منتخب کیا ہے۔ اور واضح ہے کہ جب انتخاب کرنے والا خداوندمتعال ہو، اور مقصد انتخاب تمام انسانی خصوصیات میں تمام افراد کی سرپرستی ہوتو ضروری ہے کہ منتخب افراد بھی خاص عظمت و خصوصیات رکھتے ہوں۔
بحث امامت کے اختتام پر مناسب ہے کہ حضرت امام رضا ںکے کلام مبارک کو ذکر کیا جائے جو معتبر کتب حدیث میں نقل ہوا ہے۔حضرت امام رضا ں مرو میں تھے کہ مسجد جامع میں جمعہ کے دن مسئلہ امامت کے بارے میں بحث شروع ہو گئی تو آپ کے محبین میں سے عبدالعزیز نامی ایک شخص مسجد میں حاضر تھا، وہ امام رضا ںکی خدمت میں حاضر ہوااور مسجد کے اندر ہونے والی گفتگو آپ کی خدمت میں عرض کی تو حضرت امام رضا ںنے امامت کے بارے مفصل بیان دیا۔ اب ہم ان بیانات کے بعض حصوں کو پیش کرتے ہیں۔
‘ قالں: الامام المطھّر من الذنوب والمبّرا عن العیوب، المخصوص بالعلم، الموسوم بالحلم، نظام الدین، و عزّ المسلمین و غیظ المنافقین، وبوارالکافرین’۔(42)
ترجمہ: ‘امام گناہوں سے پاک اورعیوب سے منزہ و مبّرا ہوتا ہے ، علم وحلم کے ساتھ مخصوص ہوتا ہے امام دین کا نظام اورمسلمانوں کی عزت ہوتا ہے اورمنافقین وکافرین کی ہلاکت کاذریعہ ہوتا ہے’
‘ و قالں: الامام واحد دھرہ، لایدانیہ أحد، ولا یعادلہ عالم، ولا یوجد منہ بدل ولالہ مثلً ولا نظیر، مخصوص بالفضل کلّہ من غیر طلب منہ لہ ولا اکتساب، بل اختصاص من المفضّل الوھّاب’۔(43)
ترجمہ: ‘امام زمانہ میں بے مثال ہوتا ہے اورکوئی اس کے فضائل کے برابر فضائل نہیں رکھتا اورنہ ہی کوئی اس جیسا عالم ہوتا ہے اور نہ ہی اس کا کوئی متبادل ہوتا ہے امام کی کوئی مثل و نظیر نہیں ہوتی وہ کسب وکوشش کے بغیرتمام فضائل سے متصف ہوتا ہے، کیونکہ وہ کمالات خدا کی طرف سے اسے عنایت ہوتے ہیں’
‘ و قالں: و انّ العبد اذا اختارہ اللّٰہ عزّ وجلّ لاُمور عبادہ، شرح صدرہ لذلک، و أودع قلبہ ینابیع الحکمة، وألھمہ العلم الھاماً، فلم یعی بعدہ بجواب، ولا یحیر فیہ عن الصواب، فھو معصوم مؤیّد موفّق مسدد قد أمن من الخطایا والزلل والعثار، یخصّہ اللّٰہ بذلک لیکون حجتہ علی عبادہ، و شاھدہ علی خلقہ و ذلک فضل اللّٰہ یؤتیہ من یشاء واللّٰہ ذوالفضل العظیم’۔(44)
ترجمہ:جب خداوند متعال اپنے بندوں کے امور کیلئے کسی بندے کو چن لیتا ہے تو اس کے سینے کو کھول دیتا ہے اوراس کے دل میں حکمت کے چشمے قرار دیتا ہے اوراسے علم کا الہام کرتا ہے ، تاکہ وہ کسی سوال کے جواب سے عاجز نہ ہو اورکسی سوال کے جواب میں غلطی نہ کرے ،امام معصوم ہوتا ہے اورخدا کی طرف سے
اس کی تائید ہوتی ہے اورامام موفق مستحکم ہوتا ہے .
امام خطا اورلغزش سے محفوظ ہوتا ہے۔ اللہ اس لئے اسے یہ خصوصیات عطاکرتا ہے تاکہ امام اللہ کی طرف سے اس کی مخلوقات پر حجت ہو اوراس کی مخلوق پر شاہد ہو یہ اللہ کا فضل ہے جو وہ جسے چاہتا ہے عطا کرتا ہے اورخدا بہت بڑا فضل کرنے والا ہے’
حوالاجات
(١)۔الباب الحادی عشر، الاصل الرابع، الفصل السادس فی الامامة، صفحہ ٦٧ و شرح المقاصد، (التفتازانی) الفصل الرابع فی الامامة، ٥ ٢٣٢)
(2)۔ الفاطر(٢٤)
(3)۔ الرعد (٧)
(4)۔النحل (٨٩)
(5)۔الاصول من الکافی، کتاب الحجة ، باب من مات و لیس لہ امام… ح٣؛ ٣٧٧١)
شرح المقاصد،الفصل الرابع فی الامامة،المبحث الاول،نصب الامام٥/٢٣٩.
(6)۔ البقرة (٣٠)
(7). الأنبیاء (٧٣)
(8). ص (٢٦)
(9) . سجدہ (٢٤)
(10)۔طہ (٢٩ـ٣١)
(11)۔ قصص (٦٨)
(12)۔ البرہان فی تفسیر القرآن، ذیل الآیة ٦٨، القصس ٢٣٧٣، ح٥؛ و مصباح الھدایة فی اثبات الولایة، الحدیث الرابع عشر، ص ١٥٣)
(13)۔الشعراء (٢١٤)
(14)۔ المائدہ (٦٧)
(15)۔غایة المرام، الباب السادس عشر، فی النص علی امیر المؤمنین من رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فی یوم غدیر خم، ٢٦٧١)
(16)۔شواھد التنزیل، ذیل آیہ ٥٩ النسائ۔ ١ ١٩٠ حاکم حسکانی اس حدیث کی بعض اسناد بیان کرنے کے بعد لکھتا ہے: ہمارے استاد ابو حازم کہا کرتے تھے: میں نے اس حدیث کی پانچ ہزار اسناد استخراج کی ہیں)
(17)آل عمران/٦١
(18)صحیح مسلم،کتاب فضائل الصحابہ،باب من فضائل علی بن ابی طالبـ،٤/١٨٧١
(19)۔بحار الانوار، کتاب الاحتجاج، باب ٨، ح ١، ١١٧١٠
(20)۔نہج البلاغہ، (فیض الاسلام) کلام ٢١٥، ص ٧١٣
(2١)۔تجرید الاعتقاد، المقصد الخامس فی الامامة، ص ٢٢٣
(2٢)مذکورہ درج بالا عبارت کی وضاحت یہ ہے کہ عقلی فیصلہ ہے کہ امام کو معصوم ہونا چاہیے وگرنہ امت میں اختلاف کا خاتمہ نہیں ہوسکے گا اورحقیقی دین واضح نہیں ہوگا لیکن کون معصوم ہے؟ اس کو کوئی نہیں جانتا کیونکہ عصمت مخفی امور میں سے ہے اورخدا کے علاوہ اسے کوئی نہیں جانتا ۔ لہٰذا ضروری ہے کہ امام کو مشخص کرنے کے لئے اللہ اور رسول خدا ۖ کی طرف سے صریح نص ہو۔
ثانیاً پیغمبراکرم ۖ کی عملی سیرت اسلام کواہمیت دینا ہے اورمسلمانوں کو بے سہارا اور اپنے حال پہ چھوڑنا نہیں ہے کیونکہ رسول خدا ۖ جو اسلام اوردین کے چھوٹے سے چھوٹے کام کو پوری اہمیت دیتے تھے یہاں تک کہ آپ ۖ نے فرمایا: من اصبح ولم یھتم بامورالمسلمین فلیس بمسلم ( جو بھجی صبح کرے اورمسلمانوں کے امور کو اہمیت نہ دے تومسلمان نہیں ) وہ رسول ۖ امت اسلامی کے امامت جیسے اہم ترین مسئلہ کو کس طرح ایسے ہی چھوڑ سکتے ہیں؟ بالخصوص جب کہ آپ ۖ جانتے تھے کہ اس مسئلہ میں امت کے درمیان کس قدر اختلاف ہوگا؟ لہٰذا عصمت اورسیرة پیغمبر کا تقاضا ہے کہ پیغمبر ۖ مسئلہ خلافت و امامت کو واضح کریں۔
(23)۔ (کشف المراد، المقصد الخامس، المسألة الثامنة فی امامة باقی الائمة علیہم السلام ٤٢٣۔ مزید احادیث دیکھنے کیلئے مناسب ہے کتاب شریف منتخب الأثر فی الامام الثانی عشر علیہ السلام، الفصل الاوّل، الباب السابع، فیما یدلّ علی الائمة الاثنیٰ عشر و أنّ تسعة منھم، صفحہ ١٢٢ تا صفحہ ١٣٩ کی طرف رجوع فرمائیں)
(24)۔صحیح مسلم، کتاب الامارة، باب الناس تبع لقریش و الخلافة فی قریش، ١٤٥٣٣، ح ١٠)
(25)بحار الانوار تاریخ الامامین الھمامین،باب ولادتھما واسمائھما و….٤٣/٢٤٩،ح٢٤.
(26)بحار الانوار، تاریخ الامامین الھمامین، باب ولادتھما و اسمئھما و … ٤٣ ٢٤٩، ح ٢٤
(27)منتخب الاثر فی الامام الثانی عشر(عج)،الفصل الثانی،الباب الاول فیما یدلّ علی ظہورہ و خروجہ،ص١٩١.
(28)سنن ابی داود،جزء الرابع،کتاب المہدی(عج)، ص١٠٧، حدیث ٤٢٨٣ ومنتخب الاثر،الفصل الثانی،الباب الاول،ص١٩٣،حدیث٦.
(29)دلائل الامامة،معرفة وجوب القائم(عج)وانّہ لا بدّ ان یکون ،ص٤٦٧ و مسند احمد بن حنبل، مسند ابی سعید الخدری،٣/٣٦.
(30)منتخب الاثر،الفصل الثانی،الباب الثانی فیما یدل علی انّہ من عترة رسول اللہۖ ومن اھل بیتہ و ذریتہ،ص٢٣٢.
(31)منتخب الاثر،الفصل الثانی،الباب الثالث فی انّ اسمہ اسم رسول اللہۖ و کنیتہ کنیتہ ۖ وانّہ اشبہ الناس بہ شمائلاً و…،ص٢٣٦.
(32)منتخب الاثر،الفصل الثانی،الباب الخامس فی انّہ من ولد امیر المؤمنین علی ، ص٢٤٣.
(33)منتخب الاثر،الفصل الثانی،الباب الرابع والعشرون فیما یدل علی انّہ الثانی عشر من الآئمة و خاتمھم۔ص٣٠٤.
(34)منتخب الاثر،الفصل الثانی،الباب السابع والعشرون،فی انّ لہ غیبتة طویلة الی ان یأذن اللہ تعالیٰ لہ بالخروج،ص٣١٧،ح٣.
(35)دینی متون میں ایسے مطالب ہیں جو بظاہر خلاف عقل ہیں اور ان کی ناسبت بھی مکتب وحی کی طرف ہے لیکن پھر خود مکتب نے ان کی توجیہہ کی ہے اورانہیں واضح کیا ہے جیسے’جاء ربّک'(سورہ فجر/٢٢)یعنی تیرا رب آیا اور’فاذا سوّیتہ و نفخت فیہ من روحی فقعوا لہ ساجدین'(سورة ص/٧٢)اور جب میں آدم کے پیکر میں اپنی روح پھونکوں تو تم اس کے سامنے سجدہ ریز ہو جانا،ان آیات میں آنے کی اور خدا کی طرف روح کی نسبت دی گئی ہے جو کہ خلاف عقل ہے کہ وہ آئے یا روح رکھتا ہو لیکن مکتب وحی میں اسکی توجیہہ کی گئی ہے کہ پہلی آیت میں آنے سے مراد خدا کے امر اور حکم کا آنا ہے اور دوسری آیت میں اضافہ تشریعی ہے یعنی جس طرح کعبہ کی خداکی طرف اضافت اور نسبت دی جاتی ہے حالانکہ ظاہر ہے کہ خدا کا کوئی گھر نہیں ہے اسی طرح روح کی بھی خدا کی طرف نسبت دی گئی ہے اس کی عظمت و شرف کی خاطر.
(36)قال اللہ تعالیٰ:’ولقدارسلنا نوحاً الی قومہ فلبث فیھم الف سنة الا خمسین عاماً فأخذھم الطوفان وھم ظالمون عنکبوت/١٤
(37)تاریخ یعقوبی اور تاریخ طبری نے ان بعض افراد کے نام لکھے ہیں جنھوں نے ابوبکر کی بیعت سے انکار کیا تھا.
(38)حضرت علی کے گھر پر حملہ کے دلخراش سانحے کی تفصیلات کیلئے ان…..کا مطالعہ فرمائیں
١.احراق بیت فاطمہ ،غیبت غلامی ٢.الھجوم علی بیت فاطمہ ،عبدالزہراء مھدی ٣.احراق بیت الزہرا فی مصادر اھل السنة،السید محمد حسین السجاد.
(39)۔ النساء (٥٩)
(40)تجرید الاعتقاد،المقصد الخامس فی الامامة،عصمة الامام ص٢٢٢.
(41)۔(اصول کافی کتاب الحجة)
(42)الاصول من الکافی،کتاب الحجة،باب نادر جامع فی فضل الامام و صفاتہ ح١،١/٢٠٠.
(43)الاصول من الکافی،باب الحجة،باب نادر جامع فی فضل الامام و صفاتہ،ح١،١/٢٠١
(44)……………………………………………ح
 

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.