فـاطـمہ بنت اسـدؒ کے حـق میـں پـیغـمـبر اکـرم (ص) کی دعـا
طـبرانی نے اپنـی مشہـور کـتاب ” معجـم طـبرانی ” میـں انس بن مالـک کی سنـد سے لکھا ہـے کہ جب حضرت علیؑ کی والـدہ حضرت فـاطـمہ بنت اسدؒ کی وفـات ہوئـی تـو رسـولِ خدا ان کے سرہانے تـشریف لائے اور فـرمـایـا:
” میـری دوسری مـاں ! خدا آپ پـر رحمت نازل فرمـائے ، آپ خود بھـوکی رہتـی تھیـں لیکـن مجھے کھانا کھلاتی تھیـں ، خود بـے بـس رہتـی تھیـں مجھے لبــاس پہنـاتی تھیں ، خود روکھـی سوکھـی کھـاتـی تھیں لیکـن مجھے لـذیـذ غذا کھـلاتـی تھـی اس کام میـں رضائے الٰہـی کے حصول کے علاوہ آپ کا اور مطـمـحِ نظـر نہیـں تھا
پھـر آنحضـرت (ص) نے حکـم دیا کہ تیــن بار انہیـں غـسل دیا جائے ، آپ (ص) نے اپنـا پـیراہـن عطا کـیا اور فـرمایا کہ انہیـں مـیرے پـیراہن کا کفـن پہناؤ ، بعـد ازاں آنحضرت (ص) کے حکم سے ان کے لـئے لحد بنـائـی گـئی
آنحضـرت (ص) دفــن سے پہلے اس قـبر میـں خود اتـرے اور قـبـر کی خاک کـو اپنے ہاتھـوں سے باہـر نکالا ، اس عمل سے فـارغ ہونے کے بعـد آپ (ص) خود قـبـر میں سو لیـٹے اور کہا: خدا ہـی ہـے جو زنـدہ کرتا ہـے اور موت دیتـا ہـے ، وہ زنــدہ ہے اس پر موت نہـیں ہـے
پھـر آپ (ص) نے یہ کہا:
“اِغْفِر لاُمّی فَاطِمَۃَ بِنْتَ اَسَدٍ وَلَقِّنْھا حُجَّتَھا وَ اَؑو سِع مَدْ خَلَھٰا بِحَقِّ نَبِیِّک وَ الاَنْبِیاء الَّذِینّ مِنْ قَبْلِیْ فَاِنَّک اَرْحَمُ الرَّاحِمین ”
خدایـا ! مـیـری مـاں فاطـمـہ بنت اسد کی مغـفـرت فرمــا اپنـی حجت کی اسے تلـقـین فـرمـا ، اس کی قـبـر کـو وسیـع فـرمـا ، تجھے تیـرے نبـی اور مجھ سے پہلے انبـیـاء کے حق کا واسطـہ ، اس دعـا کـو قبول فـرمـا ، بـے شک تـو تمـام رحم کـرنے والـوں سے زیـادہ رحـم کـرنے والا ہـے “حــوالہ جـــات:
حلیۃ الاولیا ، جلد -3 ، ص -121 // مستدرک حاکم ، جلد-3 ، ص -108
استیعاب در حاشیہ الاصابۃ ، جلد -4 ، ص -382 // سیر اعلام النبلاء ، جلد -2 ، ص -118 ، حدیث -7
مجمع الزوائد بیہقی ، جلد -9 ، ص -256 ۔ کنز العمال ، جلد -13 ، ص -636 ، حدیث – 37608