اهل جمل پر غلبه وقت آپ کا خطبه

151

۱) اگر کوئی شخص اسباب و ذرائع کے ہوتے ہوئے کسی عملِ خیر میں کوتاہی کر جائے، تویہ کوتاہی و بے التفاقی اس کی نیت کی کمزوری کی آئینہ دار ہو گی۔ اگر عمل میں کوئی مانع سد راہ ہو جائے یا زندگی وفا نہ کرے جس کی وجہ سے عمل تشنہٴ تکمیل رہ جائے تو اس صورت میں انما الا عمال بالنیات کی بناء پر اللہ اسے اجرو ثواب سے محروم نہ کرے گا۔ کیونکہ اس کی نیت تو بہر حال عمل کے بجالانے کی تھی ، لہذا کسی حد تک وہ ثواب کا مستحق بھی ہو گا۔
عمل میں تو ممکن ہے کہ ثواب سے محرومی ہو جائے اس لئے کہ عمل میں ظاہر داری و ریا کاری ہو سکتی ہے ۔ مگر نیت تو دل کی گہرائیوں میں مخفی ہوتی ہے ۔ اس میں نہ دکھا وا ہو سکتا ہے نہ اس میں ریاکا شائبہ آ سکتا ہے ۔ وہ خلوص و صداقت اور کمال صحت کی جس حد پر ہو گی اسی حد پر رہے گی خواہ عمل کسی مانع کی وجہ سے نہ ہو سکے بلکہ اگر موقع و محل کے گزر جانے کی وجہ سے نیت و ارادہ کی گنجائش نہ بھی ہو ۔ لیکن دل میں ایک تڑپ اور ولولہ ہو تو انسان اپنے قلبی کیفیات کی بناء پر اجرو ثواب کا مستحق ٹھہرے گا اور اسی چیز کی طرف امیر المومنین نے اس خطبہ میں ارشاد فرمایا ہے ۔ اگر تمہارے بھائی کو ہم سے محبت تھی ، تو وہ ان لوگوں کے ثواب میں شریک ہو گا۔ جنہوں نے ہماری معیت میں جامِ شہادت پیا ہے ۔
 

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.