اسلام کی حقیقت
آج مغرب کے لا دین اور منحرف ادیان پر کاربند دانشوروں کا سب سے بڑا رونا یہ ہے کہ یورپ میں اسلام کی طرف رجحان کیوں بڑھ رہا ہے دوسری طرف بعض مغرب نواز کم فہم نام نہاد مسلمان یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ آنحضرت محمّد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی حیات طیبہ کا مطالعہ کیوں کیا جائے جو کہ انسانوں کی طرح 1400 سال قبل اس دارفانی سے کوچ فرما گئے اور اس دوران سائنس کی قابل قدر ترقی کے ساتھ ساتھ ہمارے حالات اور زندگی کے بارے میں ہمارے نظریات میں ٹھوس تبدیلیاں آ چکی ہیں؟ ایک مسلمان کے لیے اس کا جواب انتہائی سادہ ہے کہ وہ اس وقت مسلمان نہیں ہو سکتا جب تک وہ اپنے رہبر و رہنما حضرت محمّد مصطفیٰ صلی الله علیہ وسلم کے اسوۂ حسنہ کی پیروی نہ کرے، لیکن وہ افراد جو ابھی تک نبی آخرالزماں حضرت محمّد (ص) کی سیرت (سوانح حیات) کی تفصیلات سے آگاہ و آشنا نہیں ہیں ان کے لیے چند حقائق کی یاد دہانی اہمیت کی حامل ہے۔
رسول اکرم حضرت محمد (ص) کی تعلیمات آئندہ آنے والی نسلوں کے لیے آپ (ص) کی اپنی نگرانی میں انتہائی قابل اعتماد انداز میں محفوظ کرنے کی خاطر تحریر میں لائی گئیں. دوسرے مختلف بڑے مذاہب کے بانیوں میں سے صرف حضرت (ص) کی ذات پاک ہے جنہوں نے وقتاً فوقتاً رب تعالیٰ جل شانہ، کی جانب سے وحی اور احکامات کو نہ صرف اپنی صحبت کے افراد تک پہنچایا بلکہ اپنے کاتبوں کو لکھوایا اور یہ کہ اس کے کئی نسخے اپنے پیروکاروں تک پہنچانے کا محتاط و محفوظ انتظام بھی فرمایا۔ جہاں تک آپ (ص) کی تعلیمات کے تحفظ کا تعلق ہے یہ مسلمانوں کا مذہبی فریضہ بن گیا کہ وہ رب تعالیٰ جل شانہ، کی جانب سے نازل ہونے والے کلام کے مختلف حصّوں ( اقتباسات) کو اپنی نمازوں میں تلاوت کریں۔ اس طرح اس متبرک کلام کا زبانی یاد کرنا لازم ہو گیا۔ یہ روایت بغیر کسی رکاوٹ کے جاری و ساری رہی کہ رب کائنات کے کلام قرآن الحکیم کے تحریر شدہ نسخے محفوظ رکھے جائیں دوسرا یہ کہ انہیں زبانی حفظ کیا جائے۔ یہ دونوں طریقے الله تبارک و تعالیٰ کے کلام کی اصلی زبان میں مستند و معتبر ترسیل و تفسیر میں ایک دوسرے کے مددگار ثابت ہوئے۔ قرآن الحکیم اپنے مواد کے اعتبار سے “عہد نامہ قدیم ” کی پہلی پانچ کتابوں مع ” عہد نامہ جدید” کی پہلی چار کتابوں سے بھی زیادہ عظیم ہے۔ چناچہ اس امر میں حیرت و حیرانی کی کوئی بات نہیں کہ قرآن الحکیم میں تمام شعبہ ہائے حیات کے بارے میں ہدایات موجود ہیں۔ پیغمبر اسلام حضرت محمد مصطفیٰ صلی الله علیہ وسلم، رب تعالیٰ جل شانہ، کے نبی اور رسول کا اعزاز حاصل کرنے پر اپنی اجارہ داری کا اعلان نہیں فرماتے بلکہ اس کے برعکس آپ صلی الله علیہ وآلہ وسلم اس بات کا اقرار کرتے ہیں کہ آپ (ص) سے پہلے الله تبارک و تعالیٰ نے تمام قوموں کے لیے پیغمبر بھیجے۔ آپ (ص) نے ان میں سے چند کے نام بھی لیے ہیں جیسا کہ حضرت آدم علیہ السلام، حضرت نوح علیہ السلام ، حضرت ادریس علیہ السلام، حضرت ابراہیم علیہ السلام حضرت موسیٰ علیہ السلام، حضرت داؤد علیہ السلام اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام۔
آپ (ص) نے بتایا کہ جن پیغمبروں کے آپ (ص) نے نام لیے ہیں ان کے علاوہ اور بھی کئی پیغمبر ہیں. آپ (ص) محض یہ دعویٰ فرماتے ہیں کہ آپ (ص) حقانیت و وحدانیت کی بحالی کا کردار ادا کرنے آئے ہیں۔ آپ (ص) سابقہ پیغمبروں کی تعلیمات کا احیاء چاہتے ہیں جو کہ حضرت آدم علیہ السلام و حضرت حوا کے جانشینوں کی بدقسمت تاریخ کے دوران جنگوں اور انقلابات کے ذریعے بےقدری و تنزلی کا شکار ہوئیں۔ محمد رسول (ص) کی خوش قسمت و مقدّس یادداشت کی بہت مضبوط و مستحکم اور غیر مصالحانہ توثیق و تصدیق یہ رہی کہ رب تعالیٰ جل شانہ، کے کلام کی ترسیل و ابلاغ آپ(ص) کے بعد بھی برقرار رہی جس سے رب تعالیٰ جل شانہ، کی طرف سے مزید پیغمبر بھیجنے کی ضرورت نہ رہی۔ یقینی طور پر ہمارے پاس قرآن الحکیم اور احادیث اپنی اصلی زبان میں محفوظ ہیں۔
نبی آخرالزماں حضرت محمد مصطفیٰ (ص) مشن کے پہلے ہی روز سے تمام دنیا سے مخاطب ہوئے۔ آپ (ص) کسی قوم یا کسی زمانے تک محدود نہیں رہے۔ آپ (ص) نے رنگ و نسل اور سماجی و معاشرتی درجہ بندیوں کی غیر مساوی تقسیم کو تسلیم نہیں کیا۔ اسلام میں تمام انسان مکمل طور پر برابر ہیں اور ذاتی برتری کی بنیاد نیک اعمال و افعال پرہے۔ انسانی معاشرے میں مکمل طور پر اچھے اور مکممل طور پر برے انسان شاذ و نادر ہی ہوتے ہیں۔ اکثریت کا تعلق متوسط درجہ سے ہوتا ہے۔ حضرت محمد مصطفیٰ (ص) نے یہ سمجھ کر اطمینان حاصل نہیں کیا کہ آپ (ص) انسانوں میں سے “فرشتوں” سے مخاطب ہیں بلکہ آپ (ص) نے اپنے پیغام کا رخ بنیادی طور پرعام لوگوں اور فانی انسانوں کی بہت زیادہ اکثریت کی جانب رکھا۔ قرآن الحکیم کے الفاظ میں انسان کو “اس دنیا کے اچھے حصے اور آخرت کے اچھے حصے” کے حصول کے لیے کوشش وکاوش کرنی چاہیئے۔
انسانی معاشرے میں عظیم سلاطین، عظیم فاتحین، عظیم مصلحین اور عظیم متقین کی کمی نہیں لیکن زیادہ تر افراد اپنے متعلقہ شعبے ہی میں مہارت اور قدر و قیمت رکھتے ہیں۔ ان تمام اوصاف کا تمام پہلوؤں کے حوالے سے اجتماع صرف ایک ہی شخص میں ہونا۔ جیسا کہ سرور کائنات حضرت محمد مصطفیٰ (ص) کی شخصیت میں ہے۔ نہ صرف بہت ہی نایاب و کمیاب ہوتا ہے بلکہ وہاں ہوتا ہے جب معلم کو اپنی تعلیمات کو بذات خود عملی شکل دینے کا موقع ملتا ہے یعنی جب تدریس و تجربہ میں توازن پیدا ہوتا ہے۔ اتنا کہنا کافی ہے کہ پیغمبر اسلام حضرت محمد (ص) ایک صالح کی حثیت سے ایک مذہب کے بانی ہیں جو دنیا کہ بڑے مذاہب میں سے ایک ہے جس کا ہمیشہ شاندار و جاندار وجود رہا ہے، جس کا نقصان اس کے روزانہ کے فوائد و ثمرات کے مقابلہ نہ ہونے کہ برابر ہے۔ اپنے ہی بتائے ہوئے اصول و ضوابط پر انتہائی ریاضت و استقامت کے ساتھ عمل پیرا ہونے کے حوالے سے رحمتہ للعالمین حضرت (ص) کی حیات طیبہ بےداغ ہے۔
ہم جانتے ہیں کہ ایک سماجی و معاشرتی منتظم کی حیثیت سے پیغمبر اسلام حضرت محمّد (ص) نے ایسے ملک میں صفر سے سفر کا آغاز کیا جہاں ہر ایک شخص، ہر دوسرے شخص سے الجھا ہوا تھا. سرور کونین حضرت مصطفیٰ (ص) کو ایک ایسی ریاست کی بنیاد رکھنے میں دس سال لگے جو تیس 30 لاکھ مربع کلومیٹر سے زیادہ کے علاقے میں پھیلی ہوئی تھی اور جس میں تمام جزیرہ نمائے عرب کے ساتھ ساتھ فلسطین اور جنوبی عراق کے علاقے شامل تھے۔ آپ (ص) نے اتنی بڑی سلطنت کو اپنے جانشینوں کے لیے ورثہ میں چھوڑا جنہوں نے آپ (ص) کے بعد پندرہ سال کے عرصے میں اسے یورپ، افریقہ اور ایشیا کے تین براعظموں تک وسعت دے دی۔ (طبری، جلد اول صفحہ ٢٨١٧ )۔ فاتح کی حیثیت سے آپ (ص) کی جنگی و عسکری معرکوں میں دونوں جانب سے انسانی جانوں کے ضیاع کی کل تعداد چند سو افراد سے زیادہ نہیں ہے لیکن ان علاقوں کی رعایا میں آپ (ص) کی اطاعت کامل و اکمل تھی۔ درحقیقت رحمتہ للعالمین حضرت (ص) نے جسموں کی بجاۓ دلوں پر حکمرانی کی۔ جہاں تک آپ (ص) کی حیات مبارکہ میں ہی آپ (ص) کے مشن کی کامیابی و کامرانی کا تعلق ہے، مکہ مکرمہ میں حجتہ الوداع کے موقع پر آپ (ص) نے ڈیڑھ لاکھ پیروکاروں کے اجتماع سے خطاب کیا جبکہ ابھی تک مسلمانوں کی ایک کثیر تعداد اس تاریخی موقع پر اپنے اپنے گھروں میں رہی ہو گی ( کیونکہ ہر سال حج کرنا فرض نہیں ہے)۔
پیغمبر اسلام حضرت (ص) نے جو قوانین اپنے پیروکاروں کے لیے لاگو کیے اپنے آپ کو بھی قوانین سے بالاتر نہیں سمجھا بلکہ اس کے برعکس جس قدر آپ (ص) کے پیروکاروں سے عمل کی توقع ہو سکتی تھی آپ (ص) نے ان سے بڑھ کر عبادت و ریاضت کی، روزے رکھے اور رب تعالیٰ جل شانہ، کی راہ میں خیرات کی۔ آپ (ص) انصاف پسند تھے اور حتیٰ کہ اپنے دشمنوں کیساتھ نرمی و ہمدردی سے پیش آتے تھے چاہے وہ امن کا زمانہ یا جنگ کا دور ہو۔آپ (ص) کی تعلیمات زندگی کے ہر شعبہ کا احاطہ کرتی ہیں۔ یعنی عقائد، روحانی عبادت، اخلاقیات، معاشیات، سیاست الغرض وہ تمام کچھ جس کا انسان کی انفرادی یا اجتماعی، روحانی و مادی زندگی سے ہے، اور سب سے بڑھ کر یہ کہ آپ (ص) نے ان تمام شعبہ ہائے حیات میں اپنے فعل و عمل کی مثال چھوڑی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج جو بھی آپ کی سیرت طیبہ کا مطالعہ کرتا ہے وہ آپ کے دین کا گرویدہ ہو جاتا ہے، آج اسلام کے خلاف تمام منفی پروپیگنڈوں اور اسلام و فوبیا کے باوجود اگر دین اسلام کی طرف آنے والوں کی تعدار بڑھ رہی ہے تو اسکی بنیادی وجہ قرآن اور آپکی حیات طیبہ ہے، جو ہر باشعور کو اپنا گرویدہ بنا لیتی ہے۔