گوھر خلقت کے ساتھ اُمت کا برتاؤ

274

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
قال اللہ الحکیم فی محکم کتابہ أعوذ باللہ من الشیطان الرجیم ” إِنَّ الَّذِينَ يُؤۡذُونَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ لَعَنَهُمُ اللَّهُ فِي الدُّنۡيَا وَالْآخِرَةِ وَأَعَدَّ لَهُمْ عَذَاباً مُّهِيناً”[1]۔ جو لوگ اللہ اوراس کے رسول کو اذیت دیتے ہیں ان پر دنیا اور آخرت میں اللہ نے لعنت کی ہے اور اس نے ان کے لیے ذلت آمیز عذاب تیار کر رکھا ہے۔
اہم سوال:
حضرت صدیقۃ کبریٰ فاطمۃ الزہرا علیہا السلام کی مظلومانہ شہادت کی مناسبت سے اس نشست کی گفتگو کا آغاز کچھ اس طرح کرتے ہیں کہ آج کی رات کی مناسبت کو بھی بیان کردیا جائے اور سلسلہ گفتگو بھی ٹوٹنے نہ پائے اور ضمناً بعض سوالوں کا جواب بھی واضح ہوجائے۔ اب سوال یہ ہے کہ اس طرح کی مناسبتوں کو منانے کی کیا ضرورت ہے؟ اس قسم کی مناسبتوں سے مربوط شخصیات کے بارے میں ہم کیوں گفتگو کرتے ہیں؟ کس دلیل کی بنا پر ہمارے لیے ضروری ہے کہ ہم ان حضرات اور ان کے مقام و منزلت کی معرفت حاصل کریں؟
اس سوال کے جواب کی وضاحت کے لیے قابل غور نکتہ یہ ہے کہ جس دلیل کی بنا پر ہم پر معرفت خدا لازم ہے اُسی دلیل کی بنا پر ہمیں نبوت اور نبی کی معرفت حاصل کرنی چاہیے اور اُسی دلیل کے تحت ائمہ علیہم السلام کے مقام و منزلت کے بارے میں معرفت حاصل کرنی چاہیے اور اس ساری کلام کی بازگشت گزشتہ بیان ہونے والی ابحاث کی طرف ہے۔
خداوند متعال اس جہان خلقت میں جو چاہتا ہے انجام دیتا ہے اور معصومین علیہم السلام، فیض الٰہی کو مخلوقات تک پہنچانے کے وسیلے اور واسطے ھیں اور اللہ کے اذن سے عالم تکوین میں ہر قسم کا تصرف کرسکتے ہیں۔ لہٰذا ہمیں اس جہان خلقت اور عالم تکوین میں تصرف کرنے والوں کی معرفت حاصل کرنی چاہیے۔
دنیاوی سعادت ، راہ راست کے حصول اور باطل سے حق کی پہچان کے لیے جس نکتہ کی طرف ہماری توجہ ہونی چاہیے وہ یہ ہے کہ جن کے وجود میں حق نمایاں ہے اور جن کی رضا، خدا کی رضا اور جن کی ناراضگی، خداوند متعال کی ناراضگی اور جن کی اطاعت خدا کی اطاعت اور جن کی نافرمانی خدا کی نافرمانی ہو اُن کی معرفت ہونی چاہیے۔
حضرت زہرا علیہا السلام کا مقام، عصمت سے بالا تر:
آپ نے رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ فرمان کئی مرتبہ سنا ہوگا کہ آپ نے فرمایا: ” انّ اللہ یرضی لرضا فاطمہ و یغضب لغضبھا”[2] خداوند متعال ، فاطمہ زہرا علیہا السلام کی رضا سے راضی اور اُن کی ناراضگی سے ناراض ہوتا ہے۔ اس کلام سے واضح ہوتا ہے کہ مقام عصمت سے بالا تر مسئلہ بیان ہورہا ہے، کیونکہ عصمت یعنی انسان اپنی تمام خواہشات اور اُمور کو خداوند متعال کی مرضی اور ناراضگی کے ساتھ پرکھے۔ اگر کوئی شخص، خدا کی رضا پر راضی اور اُس کی ناراضگی پر ناراض ہو تو وہ مقام عصمت پر فائز ہے۔ لیکن فاطمۃ الزہرا علیہا السلام کا مقام ، عصمت سے بالاتر ہے۔ کیونکہ خداوند متعال، فاطمہ زہرا علیہا السلام کی رضا سے راضی اور اُن کی ناراضگی سے ناراض ہوتا ہے۔
حضرت فاطمہ زہرا علیہا السلام کے مقام و منزلت کی معرفت حاصل کرنا ہماری عقل کی دسترس بالاتر ہے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں: ” انَّما سمّیت فاطمۃ لأنّ الخلق فطموا عن معرفتہا”[3] آپ کو فاطمہ اس وجہ سے کہا جاتا ہے کیونکہ مخلوقات اُن کی معرفت سے عاجز ہیں۔ رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اس کلام میں آپ غور کریں کہ فاطمہ علیہا السلام کا نام کیوں فاطمہ علیہا السلام رکھا گیا ہے؟ کیونکہ تمام مخلوقات اُن کی معرفت سے عاجز ہیں۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس روایت میں یہ نہیں فرمایا کہ تمام انسان، اُن کی معرفت سے عاجز ہیں بلکہ فرمایا: تمام مخلوقات اُن کے مقام کی معرفت حاصل کرنے سے عاجز ہیں۔ یعنی ناموس وحی جبرائیل امین بھی حضرت فاطمہ علیہا السلام کے مقام کو نہیں پہچان سکتے۔ میکائیل، اسرافیل، عزرائیل اور اللہ کے سارے انبیاء حضرت فاطمہ زہرا علیہا السلام کی معرفت سے عاجز ہیں۔ خلق ہر اُس موجود کو کہتے ہیں جو پیدا ہوئی ہو۔ جب یہ (الف لام) کے ہمراہ ہو تو اس کا معنی وسیع ہوجاتا ہے بہ الفاظ دیگر (الف ولام) کے ہمراہ اگر خلق استعمال ہو تو یہ تمام مخلوقات کو شامل ہے۔ مرحوم مجلسی قدس سرہ نے کتاب بحار الانوار کے باب معاد میں ایک مفصل روایت نقل کی ہے (میں تمام احباب کو نصیحت کرتا ہوں کہ اگر ہوسکے تو اس کتاب کا مطالعہ ضرور کریں)۔ رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت فاطمہ علیہا السلام سے فرمایا: ” اذا استقرّ أولیاء اللہ فی الجنّۃ زارک آدم و من دونہ النبیین”[4]۔ جب تمام اولیاء اللہ جنت میں مقیم ہوجائیں گے تو آدم اور اُن کے بعد کے تمام انبیا تیری زیارت کے لیے آئیں گے۔ ہ کتنا بلند اور باعظمت مقام ہے کہ اُس ابدی جہان میں تمام انبیاء الٰہی علیہم السلام، حضرت فاطمہ علیہا السلام کی زیارت کے لیے آئیں گے۔ یہ کیسا مقام ہے کہ خداوند متعال نے خلقت کے اس گوہر کو عطا کیا ہے؟ حضرت فاطمہ علیہا السلام کے بلند مقام کے بارے میں روایات اس قدر زیادہ اور متواتر ہیں کہ ہمیں یقین ہوجاتا ہے کہ انسان کی ناقص عقل اُن کے اس مقام و منزلت کو سمجھنے کی طاقت نہیں رکھتی۔
حضرت فاطمہ علیہا السلام کی خلقت کا واقعہ:
تمام شیعہ سنی مآخذ نے حضرت فاطمہ علیہا السلام کی خلقت کے واقعه کو نقل کیا ہے۔ ہم اس روایت کے پہلے حصہ کو امام صادق علیہ السلام کی زبان مبارک اور باقی حصے کو اہل سنت کے مآخذ سے نقل کرتے ہیں: یہ روایت صحیح ہے اور اس کی سند میں کسی قسم کا نزاع نہیں ہے اور اس کی بنا پرفتویٰ دیا جاسکتا ہے۔ امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں: “کان النبیّ یکثر تقبیل فاطمہ فعاتبتہ علی ذلک عایشۃ فقالت: یا رسول اللہ انَّکَ لتکثر تقبیل فاطمۃ”[5]۔ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، فاطمہ علیہا السلام کو بہت زیادہ پیار کرتے تھے۔ عایشہ نے اُن پر اعتراض کرتے ہوئے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آپ فاطمہ علیہا السلام کو بہت زیادہ پیار کرتے ہیں۔ اس روایت کے بقیہ حصے کو اہل سنت کے مآخذ سے نقل کرتے ہیں۔ سیوطی اپنی کتاب درالمنثور[6] اور طبرانی معجم[7] میں نقل کرتے ہیں کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عایشہ کے اعتراض کے جواب میں یوں فرمایا: “لمّا اُسری بی الی السماء اُدخلت الجنۃ فوقعت علی شجرۃ من أشجار الجنۃ لم أرنی الجنۃ أحسن منھا ولا أبیض ورقا ولا أطیب ثمرۃ فتناولت ثمرۃ من ثمراتھا فأکلتھا فصارت نطفۃ فی صلبی فلمّا ھبطت الی الارض واقعت خدیجۃ فحملت بفاطمہ فاِذا أنا اشتقت الٰی ریح الجنّۃ شممت ریح فاطمہ”۔ جب مجھے معراج[8] کے لیے آسمانوں کی طرف لے جایا گیا اور مجھے جنت میں داخل کیا گیا تو میں نے جنت کے درختوں میں سے ایک ایسے درخت کو دیکھا کہ جس سے زیادہ خوبصورت اور پتوں کی چمک والا اور پھلوں کی خوشبو والا درخت نہیں دیکھا تھا۔ میں نے اُس کا پھل کھایا تو وہ نطفہ میں تبدیل ہوگیا اور معراج سے واپسی پر وہ نطفہ حضرت خدیجہ علیہا السلام کے رحم میں ٹھہرا اور وہ فاطمہ علیہا السلام سے حاملہ ہوگئیں۔ پس میں جب بھی جنت کی خوشبو کا مشتاق ہوتا ہوں تو فاطمہ علیہا السلام کی خوشبو سونگھتا ہوں۔
اہل سنت کے بہت سے قابل اعتماد مآخذ میں نقل ہونے والی روایات میں غور کیجئے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم معراج کے دوران، جنت میں داخل ہوتے ہیں یعنی اس کائنات اور عالم خلقت کا پہلا شخص، جنت میں داخل ہوکر ان پھلوں میں سے سب سے بھترین پھل کھاتے ہیں اور پھر فاطمہ علیہا السلام کا نطفہ منعقد ہوتا ہے۔
روح اور بدن کا باہمی تعلق:
قرآن کریم کی آیات کی رو سے بدن اور روح میں باہمی تعلق پایا جاتا ہے۔ قرآن، حضرت آدم علیہ السلام کی خلقت کے بارے میں فرماتا ہے: “فاذا سوّیتُہُ وَنَفَخۡتُ فیہ من رُّوحِی”[9] پھر جب اس کی تخلیق مکمل کرلوں اور اس میں اپنی روح پھونک دوں۔ ” لَقد خلقنا الانسان فی أحۡسن تقویم”[10] ۔ بتحقیق ہم نے انسان کو بہترین ساخت پر پیدا کیا۔ ( اس کائنات کی کوئی مخلوق خلق اور خُلق کے لحاظ سے انسان سے بہتر نہیں ہے۔ بعض آیات اوراحادیث میںنقل ہونے والے لفظ (فسوّاھا) کا معنی اس طرح منظم اور مرتب ہونا ہے کہ ہر چیز اپنے مقام پر واقع ہو۔ اس نظم اور ترتیب کے بعد بدن فیض حاصل کرنے کے قابل ہوتا ہے اور خداوند متعال اپنی روح میں سے اُس میں پھونکتا ہے، کیونکہ بدن کی آمادگی کے بعد، خداوند اُس میں روح پھونکتا ہے۔ ہر جسم میں فیض الٰہی کے حاصل کرنے کی صلاحیت نہیں ہے۔ بہ الفاظ دیگر بعض موجودات روح انسانی کو قبول کرنے کی صلاحیت نیہں رکھتے۔
اس مقدمہ کے تحت ہم اس مطلب پر پہنچے ہیں کہ اس دنیا کی اشیاء سے تشکیل پانے والا بدن روح خدا کو حاصل کرنے کی صلاحیت اور قابلیت پیدا کرلیتا ہے اور خداوند متعال اپنی روح اُس میں پھونکتا ہے۔ اب اگر کسی جسم کی بنیاد اور حقیقت، جنت کے بہترین پھلوں سے ہو تو ایسا جسم کس طرح کے فیض کو حاصل کرنے کی صلاحیت پیدا کرے گا اور کیسی روح کو دریافت کرے گا؟ جیسا کہ روایت سے معلوم ہوا ہے کہ حضرت زہرا علیہا السلام کے بدن کی اساس جنت کا بہترین پھل ہے پس ان کا جسم اس دنیا کے تمام اجسام سے فرق رکھتا ہے پس بنابر این اس جسم میں پھونکی جانے والی روح بھی باقی تمام روحوں سے متفاوت ہوگی۔ اسی وجہ سے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ساری مخلوقات، فاطمہ علیہا السلام کے مقام و منزلت کی معرفت سے عاجزہیں۔
ائمہ علیہم السلام کے مخصوص صحابی جابر بن یزید جعفی کہتے ہیں: میں نے امام صادق علیہ السلام سے سوال کیا کہ فاطمہ زہرا علیہا السلام کو کیوں زہرا کا نام دیا گیا ہے؟ آپ علیہ السلام نے فرمایا: لأنّ اللہ عزّوجلّ خلقھا من نور عظمتہ، فلمّا أشرقت أضاءت السماوات والأرض بنورھا، و غشیت أبصار الملائکہ و خرّت الملائکہ اللہ ساجدین و قالوا: الھنا و سیّدنا، ما ھذا النور؟ فاوحی اللہ الیھم: ھذا نور من نوری و أسکنتہ فی سمائی، خلقہ من عظمتی أخرجہ من صلب نبیّ من أنبیائی افضّلہ علٰی جمیع الأنبیاء و اُخرج من ذلک النور ائمّۃ یقومون بأمری یھدون الی حقّی وأجعلھم خلفائی فی أرضی بعد انقضاء وحیی”[11] کیونکہ خداوند متعال نے فاطمۃ زہرا علیہا السلام کو اپنی عظمت کے نور سے خلق فرمایا، جب یہ نور چمکا تو اس نے تمام آسمانوں اور زمین کو منور کیا، اس نور کی چمک و دمک سے ملائکہ کی آنکھیں چُندھیا گئیں اور اُنھوں نے خداوند متعال کی بارگاہ میں سجدہ ریز ہوتے ہوئے خداوند متعال سے سوال کیا: اے ہمارے پروردگار یہ کیسا نور ہے؟ خداوند متعال نے اُنھیں وحی کرتے ہوئے فرمایا: یہ نور میرے نور سے ہے اور میں نے اسے آسمانوں میں قرار دیا ہے اور یہ نور میری عظمت سے خلق ہوا ہے۔ میں اس نور کو تمام انبیاء سے افضل نبی کے صُلب سے خارج کروں گا اور اس نور سے حق کی طرف ہدایت کرنے والے اور میرے امر کے لیے قیام کرنے والے ائمہ کو خلق کروں گا اور وحی کے منقطع ہونے کے بعد میں انہیں زمین پر اپنا جانشین قرار دوں گا۔
پس فاطمۃ زہرا علیہا السلام، خداوند متعال کے نور سے خلق ھوئیں اور ان کا بدن جنتی پھلوں سے بنا ہے اورمخلوق خداوند میں سب سے بہترین مخلوق، اس نور کے اس بدن میں انتقال کا سبب بنی۔ لیکن سوال یہ ہے کہ ایسی عظمت والا وجود کس لیے دنیا میں آیا ہے اور آخرت میں کیا کرے گا؟
امام صادق علیہ السلام، پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ایک روایت نقل فرماتے ہیں: “قال رسول اللہ:خُلق نور فاطمہ قبل أن تخلق الأرض والسماء فقال بعض النَّاس: یا نبی اللہ فلیست ھی انسیّۃ؟ فقال: فاطمہ حوراء انسیّۃ۔ فقالوا: یا نبی اللہ کیف ھی حوراء انسیّۃ؟ قال: خلقھا اللہ عزّوجلّ من نورہ قبل أن یخلق آدم اِذ کانت الارواح فلمّا خلق اللہ عزّوجلّ آدم عرضت علی آدم۔ قیل یا نبی اللہ و أین کانت فاطمۃ؟ قال: کانت فی حقّۃ تحت ساق العرش۔ قالوا: یا نبیّ اللہ فما کان طعامھا؟ قال: التسبیح والتقدیس والتھلیل والتمجید”[12]۔
امام صادق علیہ السلام نے پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے نقل فرمایا کہ: آسمانوں اورزمین کی خلقت سے پہلے نور فاطمہ علیہا السلام خلق ہوا۔ حاضرین میں سے بعض نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کیا وہ انسان نہیں ہیں؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: فاطمہ علیہا السلام حوراء انسیۃ (انسان نما حور) ہیں۔ اُنھوں ن کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وہ کس طرح انسان نما حور ہیں؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: آدم علیہ السلام کی خلقت سے پہلے (جب ارواح موجود تھیں) خداوند متعال نے اُن کے نور کو خلق فرمایا۔ جب خداوند متعال نے آدم علیہ السلام کو خلق کیا تو نور فاطمہ علیہا السلام کو آدم علیہ السلام کے سامنے پیش کیا۔ اُنھوں نے دوبارہ سوال کیا: اُس وقت فاطمہ علیہا السلام کس مقام پر واقع تھیں؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ عرش الٰہی کے نیچے ایک صندوق میں تھیں۔ اُنھوں نے پوچھا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! اُس وقت اُن کی غذا کیا تھی؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تسبیح، تقدیس، تمجید اور تھلیل الٰہی اُن کی غذا تھی۔
عبادت حضرت زہرا علیہا السلام:
اس روایت کے آخر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں: اُس عالم میں فاطمہ علیہا السلام کی غذا، تسبیح اور حمد پروردگار تھی۔ اس مسئلہ کے بیان سے شاید تسبیحات حضرت زہرا علیہا السلام کا اُن کے ساتھ تعلق اور اُن کا مقام واضح ہوجائے۔ عرش الٰہی کے ستون میں امانت کے طور پر رہنے والی فاطمہ علیہا السلام اور تسبیح اُن کی غذا ہونے سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ محراب عبادت میں اس قدر قیام کرتی تھیں کہ آپ کے زانو مبارک پر ورم آجاتے: ” ما کان فی ھذہ الاُمّۃ أعبد من فاطمہ علیہا السلام کانت تقوم حتّی تورّم قدماھا”[13] ۔ اس امت میں فاطمہ علیہا السلام سے زیادہ کوئی عابد نہیں تھا، آپ عبادت میں اس قدر کھڑی ہوتی تھیں کہ پاؤں زخمی ہوجاتے تھے۔
حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی عبادات اس بات سے حکایت کرتی ہیں کہ آپ اپنی حقیقت (یعنی عرش الٰہی کے سایہ میں ذکر خدا) سے جدا نہیں ہوئیں۔ اس کے علاوہ دوسری روایات بھی ہیں جو آپ کی باعظمت شخصیت کے دوسرے پہلوؤں کو اُجاگر کرتی ہیں۔
حضرت امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں: “فمن عرف فاطمۃ حق معرفتھا فقد أدرک لیلۃ القدر”[14] جس شخص نے فاطمہ علیہا السلام کی صحیح معرفت حاصل کی اُس نے شب قدر کودرک کرلیا۔
ایک اور روایت میں امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں: “ھی الصدیقۃ الکبری وعلیٰ معرفتھا دارت القرون الاولی”[15]۔ وہ صدیقہ کبری ہیں اور گزشتہ ادوار کی گردش اُن کی معرفت کی بنا پر تھی۔
حضرت زہرا علیہا السلام، رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وجود کا حصہ ہیں:
خرج رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وھو آخذ بید فاطمۃ فقال: من عرف ھذہ فقد عرفھا و من لم یعرفھا فھی فاطمۃ بنت محمد، وھی بضعۃ منی وھی قلبی و روحی التی بین جنبیّ فمن آذاھا فقد آذانی، ومن آذانی فقد آذی اللہ”[16]۔ ایک دن پیغمبر گرامی اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فاطمہ علیہا السلام کا دست مبارک پکڑے ہوئے باہر تشریف لائے اور فرمایا: جو شخص انہیں پہچانتا ہے وہ جانتا ہے کہ یہ کون ہیں اورجو شخص انہیں نہیں پہچانتا وہ جان لے کہ یہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دختر فاطمہ زہرا علیہا السلام ہے، یہ میرے جسم کا ٹکڑا ہے، اور یہ میرے سینہ میں موجود میری روح اور قلب ہے، جس نے اُسے اذیت دی اُس نے مجھے اذیت دی اور جس نے مجھے اذیت دی اُس نے خدا کو اذیت پہنچائی۔ اس روایت کی بنا پر، پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت زہرا علیہا السلام کواپنے بدن کا ٹکڑا قراردیاہے، بہت سے شیعہ اور سنی مصادر میں نقل ہونے والی تعبیر (بضعہ منی) میں ایک نکتہ پایا جاتا ہے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ نہیں فرمایا کہ فاطمہ علیہا السلام میرے جسم کا ٹکڑا ہیں۔ بلکہ فرمایا یہ میرے وجود کا حصہ ہیں یعنی فاطمہ علیہا السلام میری حقیقت اور شخصیت کا ایک حصہ ہیں۔ فاطمہ علیہا السلام کا سرچشمہ میری نبوت اور الٰہی رسالت ہے۔ اسی روایت میں پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت زہرا علیہا السلام کو اپنا قلب و دل قرار دیا ہے، رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا دل، دوسرے دلوں کی طرح نہیں ہے۔ ان کا دل ، اولین اور آخرین کے علوم سے مالا مال ہے۔ انبیاء کو عطا ہونے والے تمام علوم آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس موجود ہیں۔ ابتداء سے لیکر آخر تک کے تمام انبیاء اور اولیاء کی عقل، رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس ہے اور یہ تمام کمالات، حضرت زہرا علیہا السلام کے وجود مبارک میں مجسم ہیں۔
حدیث کے مطابق نہ صرف اس دور میں بلکہ خلقت کے ابتدائی ایام کی گردش، فاطمۃ علیہا السلام کی معرفت کی بنا پرتھی۔ یعنی اگرگزشتہ ادوار (اس عالم سے قبل) میں معرفت فاطمۃ علیہا السلام نہ ہوتی تو اس عالم میں گردش و حرکت نہ ہوتی بہ الفاظ دیگر خلقت کی حرکت کا محور حضرت فاطمہ زہرا علیہا السلام کی معرفت ہے۔
حضرت فاطمۃ زہرا علیہا السلام کے ساتھ اصحاب کا برتاؤ:
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ان کے بارے میں اس قدر تاکید اور اتنی عظمت کے مقام پر فائز ھونے والی حضرت زہرا علیہا السلام کے ساتھ اس دور کے لوگوں نے کیسا رویہ اختیار کیا؟ ان ایام میں حضرت فاطمہ زہرا علیہا السلام کے ساتھ کیا سلوک رکھا؟ جب خلافت کے غاصب لوگ امیر المومنین علیہ السلام کے دروازے پر آئے اور امام علیہ السلام دروازہ کھولنے کی خاطر جانا چاہتے تھے لیکن فاطمۃ زہرا علیہا السلام نے آپ علیہ السلام کو جانے سے منع کردیا۔ یہ اُس وقت تھا جب خلیفہ دوم، خلیفہ اول کے لیے بیعت لینے کے لیے امیرالمومنین علیہ السلام کے دروازے پر آیا۔ خلیفہ دوم کہتا ہے: “والّذی نفس عمر بیدہ لتخرجنّ أولا حرقّنھا علی من فیھا۔ فقیل:یا أبا حفص! انّ فیھا فاطمہ۔ فقال و اِن”[17] اُس ذات کی قسم کہ جس کے قبضہ قدرت میں عمر کی جان ہے یا گھر سے باہر نکل آؤ یا اس گھر کو اس کے اھل خانہ سمیت آگ لگادوں گا۔ کسی نے کہا: اے عمر! اس گھر میں فاطمہ علیہا السلام رہتی ہیں۔ اُس نے کہا: اگرچہ اس گھر میں فاطمہ ھی کیوں نہ ہوں، میں گھر کو آگ لگادوں گا۔
حضرت زہرا علیہا السلام نے اُن آنے والوں سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا: میں نے تم سے زیادہ بے شرم اور بے حیاء شخص نہیں دیکھا۔ تم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاک جنازہ کو چھوڑ کر ہمارے حق کو غصب کرنے میں جلدی کررہے ہو۔[18]
ان حملہ کرنے والوں نے رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زیر سایہ تربیت پائی اور وہ بلند مقامات پر فائز ہوئے۔ لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رحلت کے بعد اُن کے جنازے کو چھوڑ کر دنیا پرست ہوگئے۔ اوراب پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دختر کے گھر کو آگ لگانے آئے ھیں۔
یہ ایک اہم سوال ہے کہ ان چند دنوں میں کیا ہوا کہ لوگ اس طرح بے وفا ہوگئے۔ جو لوگ کل تک پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زیارت کرتے اُن کی اقتداء میں نماز پڑھتے تھے اور جب پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اصحاب سے خدا حافظ کیا اور اُن سے اُن کی زیادتیوں سے معذرت طلب کی تو پوری مسجد میں گریہ و زاری بلند ہوگیا۔ یہ وہی لوگ تھے جو انسان نما تھے جنھوں نے رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیٹی کے گھر کو آگ لگائی۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زبان سے حضرت زہرا علیہا السلام کے مصائب:
سعید بن جبیر،ابن عباس سے نقل کرتے ہیں کہ ابن عباس نے کہا: ایک دن پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف فرما تھے کہ امام حسن علیہ السلام آئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اُنھیں خوش آمدید کہا اور اُن کا پرتپاک انداز سے استقبال کرتے ہوئے اپنے دائیں زانو پر بٹھایا۔ ان کے بعد امام حسین علیہ السلام تشریف لائے اور رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بائیں زانو پر بیٹھ گئے۔ پھر فاطمۃ زہرا علیہا السلام تشریف لائیں اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے بیٹھ گئیں۔ امیر المومنین علیہ السلام بھی تشریف لائے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انھیں اپنی دائیں جانب بٹھایا۔ ان ہستیوں میں سے جو بھی تشریف لاتی، رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سخت گریہ فرماتے۔ کسی نے پوچھا: یا رسول اللہ! کیوں اتنا گریہ کرتے ہیں؟ کیا ان چاروں ہستیوں میں سے کوئی بھی آپ کو مسرور نہیں کرتی؟ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جواب میں ان میں سے ہر ایک کے فضائل ومصائب کو بیان کرنا شروع فرمایا۔ جب حضرت زہرا علیہا السلام کے بارے میں کلام کرنے کی باری آئی تو آپ نے اُن کے کچھ فضائل بیان کرنے کے بعد فرمایا: “انِّی لمّا رأیتھا ذکرت ما یصنع بھا بعدی”[19] میں نے جب فاطمہ علیہا السلام کو دیکھا تو میرے بعد اُس پر آنے والے مصائب میرے ذھن میں آگئے۔
اھل سنت نے جو یہ روایات نقل کی ہیں[20] کیا وہ ان احادیث میں توجہ کرتے ہیں؟
اگر حضرت فاطمہ علیہا السلام کی رضا، خدا کی رضا ہے ، اگر اُن کی ناراضگی، خدا کی ناراضگی ہے ، تو جب حضرت فاطمۃ علیہا السلام نے حضرت ابوبکر اورعمر سے خطاب کرکے فرمایا:”فانّی اُشھد اللہ و ملائکتہ أنّکما أسخطتمانی وما أرضیتمانی”[21] میں خداوند متعال اور فرشتوں کو گواہ بناتی ہوں کہ تم دونوں نے مجھے اذیتیں دی ہیں ار مجھے راضی نہیں کیا۔ کیا حضرت زہرا علیہا السلام کی ناراضگی، خداوند متعال اور رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ناراضگی نہیں؟ جس نے صدیقہ کبری علیہا السلام کو اذیت دی کیا وہ صراط حق سے منحرف نہیں ہوا ہے؟
کہا جاتا ہے کہ اُس زمانے میں پیش آنے والے حالات کے بارے میں گفتگو نہ کرو اور اس قسم کی گفتگو کرنے کا کیا فائدہ ہے؟ خلیفہ پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کون تھا اسے جاننے کا کیا فائدہ ہے؟ البتہ یہ بہت مہم ہے۔ ہمیں جاننا چاہیے کہ خلیفہ اول کون تھا تاکہ حق معلوم ہوجائے۔ جن لوگوں نے راہ حق کو چهوڑ کرلوگوں کو باطل کی طرف دعوت دی، وہ کون لوگ تھے تاکہ سعادت تک پہنچنے کیلئے حق کی پیروی اور باطل سے دوری اختیار کریں۔ ہم زیارت آل یاسین میں پڑھتے ہیں: ” الحقّ ما رضیتموہ والباطل ما أسخطموہ”[22] جس چیز سے آپ راضی ہیں وہ حق ہے اور جس چیز سے آپ ناراض ہیں وہ باطل ہے۔ “کانِّی بھا و قد دخل الذلّ بیتھا”[23]۔ گویا کہ میں دیکھ رہا ہوں کہ آج کی اس عزت کی بجائے فاطمہ علیہا السلام کے گھر میں ذلت داخل ہورہی ہے۔ اور اس سے بالاتر اور کون سی ذلت ہوسکتی ہے کہ کچھ لوگ گھر کے دروازے کے باہر اکٹھے ہوجائیں تاکہ گھر کو آگ لگادیں؟ اس سے زیادہ اور اہانت کیا ہوگی کہ حضرت امیر المومنین علیہ السلام کے سامنے اُن کی ناموس کو طمانچے مارے جائیں؟
ابن ابی الحدید نقل کرتے ہیں: میں نے اپنے اُستاد ابو جعفر نقیب کو ھبّار بن اسود اور فتح مکہ کا قصہ سنایا کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مکہ میں داخل ہونے کے بعد چند افراد کا خون مباح قرار دیا۔ اُن میں سے ایک ھبار بن اسود تھا۔ اس نے رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سوتیلی بیٹی زینب کے کجاوہ کی طرف نیزہ پھینک کر اُنھیں ڈرایا اور اس ڈر کی وجہ سے اُن کاحمل سقط ہوگیا۔ اس جرم کی بنا پر پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اُس کے قتل کا حکم صادر فرمایا۔ ابن ابی الحدید کہتے ہیں: میرے اُستاد نے کہا: اگر پیغمبر زندہ ہوتے تو جس نے اُن کی بیٹی فاطمہ علیہا السلام کو ڈرایا اور اُن کے بیٹے کو سقط کیا، اُس کا خون بھی مباح قرار دیتے۔[24]
اھل سنت کے عالم ذھبی اپنی کتاب میزان الاعتدال میں لکھتے ہیں: “انّ عمر رفس فاطمہ حتی أسقطت بمحسن”[25]۔ عمر نے فاطمہ علیہا السلام کو پاؤں کی ٹھوکر ماری جس کی وجہ سے اُن کا بچہ، محسن علیہ السلام سقط ہوگیا۔
ابو بصیر کہتے ہیں کہ میں نے امام صادق علیہ السلام سے پوچھا: فاطمۃ زہرا علیہا السلام نے جوانی میں کیوں وفات پائی؟ امام علیہ السلام نے فرمایا: “وکان سبب وفاتھا أنّ قنفذ مولی عمر لکزھا بنعل السیف بأمرہ فسقطت محسنا و مرضت من ذلک مرضاً شدیداً”۔[26] حضرت فاطمہ زہرا علیہا السلام کا دنیا سے جانے کا سبب یہ تھا کہ عمر کے غلام قنفذ نے اپنے آقا کے دستور سے اپنی تلوار کے غلاف کے آخری حصے (جو لوہے کا تھا) سے حضرت فاطمہ علیہا السلام کے سینہ پر شدید چوٹ لگائی کہ جس کی وجہ سے محسن علیہ السلام سقط ہوگئے اور حضرت فاطمہ علیہا السلام شدید مریض ہوگئیں۔
سوالات:
۱۔ کس دلیل کی بنا پر ائمہ اطہار علیہم السلام کی معرفت حاصل کرنا چاہیے؟
۲۔ عصمت کا کیا معنی ہے؟ کیا حضرت فاطمۃ علیہا السلام کا مقام، عصمت سے بالاتر ہے، کیوں؟
۳۔ حضرت فاطمہ علیہا السلام کا فاطمہ نام رکھنے کا کیا سبب ہے اور کیا اُن کی مکمل معرفت حاصل کرنا ممکن ہے؟
۴۔ حضرت فاطمہ علیہا السلام کی خلقت کی داستان بیان کیجئے؟
۵۔ اس حدیث سے کیا مراد ہے کہ حضرت زہرا علیہا السلام، رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وجود کا حصہ ہیں؟
۶۔ اھل سنت کی کتابوں میں، حضرت زہرا علیہا السلام کے گھر پر حملہ کس طرح نقل ہوا ہے؟
۷۔ ابن ابی الحدید حضرت زہرا علیہا السلام کو ڈرانے کے بارے میں کہا کہتے ہیں؟
۸۔ حضرت زہرا علیہا السلام کی شہادت میں، عمر کا کیا کردار تھا؟
۹۔ کس دلیل کی بنا پر ہمیں اصحاب کے حضرت زہرا علیہا السلام پر مظالم کے بارے میں آگاہی حاصل کرنی چاہیے؟
۱۰۔ حضرت زہرا علیہا السلام کے مصائب کے بارے میں، پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی کلام کے بعض حصے کو بیان کیجئے؟
بشکریہ بلبل بلاگفا دات کام
 
[1] ۔ سورہ احزاب، آیت ۵۷
[2] ۔ شیعہ مآخذ میں سے دیکھیں: مؤتمر علماء بغداد ص ۷۸۱ و بحارالانوار، ج۳، ص ۳۵۳۔ اہل سنت کے منابع میں سے دیکھیں: مستدرک حاکم ج۳ ص ۴۵۱، المعجم الکبیر، ج۲۲ ص ۱۰۴ اور صحیح بخاری، ج۵، ص ۸۳
[3] ۔ بحار الانوار، ج۴۳، ص ۶۵
[4] ۔ بحار الانوار، ج۴۳، ص ۲۲۷
[5] ۔ بحار الانوار، ج۱۸ ص ۳۱۵
[6] ۔ درالمنثور، ج۴، ص ۱۵۳
[7] ۔ المعجم الکبیر، ج۲۲ ، ص ۴۰۱
[8] ۔ بعض احادیث میں نقل ہوا ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ۱۲۰ مرتبہ معراج پر گئے ہیں ۔ (تفسیر نور الثقلین، ج۳، ص ۹۸)
[9] ۔ سورہ حجر، آیت ۲۹
[10] ۔ سورہ تین، آیت ۴
[11] ۔ بحار الانوار، ج۴۳، ص ۱۲
[12] ۔ بحار الانوار، ج۴۳، ص ۴
[13] ۔ مناقب ابن شہر آشوب، ج۳ ص ۹۸۳ (یہ جملہ حسن بصری سے نقل ہوا ہے)
[14] ۔ بحار الانوار، ج۴۳، ص۶۶، تفسیر فرات کوفی، ص ۵۸۱
[15] ۔ امالی شیخ طوسی، ص ۶۶۸
[16] ۔ بحار الانوار، ج۴۳ ص ۵۴
[17] ۔ الامامۃ والسیاسۃ، ج۱، ص ۱۹۔ (قابل غور بات یہ ہے کہ یہ کتاب اہل سنت کے معتبر ترین مآخذ میں سے ہے اور اس کا مؤلف ابن قتیبہ ہے جو تیسری صدی ہجری میں تھا)
[18] ۔ ایضاً
[19] ۔ امالی شیخ صدوق، مجلس ۲۴ حدیث ۲ ص ۹۹۔ بحار الانوار، ج۲۸، ص ۳۷
[20] ۔ فرائد السمطین، ج۲ ، ص ۲۵
[21] ۔ الامامۃ والسیاسۃ، ج۱، ص ۲۰
[22] ۔ المزار، ص ۵۷۰ و مفاتیح الجنان
[23] ۔ امالی شیخ صدوق ، مجلس ۲۴ حدیث ۲ ص ۹۹۔ و بحار الانوار، ج۲۸، ص۳۷
[24] ۔ شرح نہج البلاغہ، ابن ابی الحدید، ج۳، ص ۳۵۱
[25] ۔ میزان الاعتدال ، ج۱ ص ۱۳۹، شمارہ ۵۵۲

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.