خلافت و امامت صحیحین کی روشنی میں

501

منصب خلافت و امامت فرمان علی علیہ السلام کی نظر میں :

”ذَرَعُوا الْفُجورَ،وسَقَوہ الغُرورَ،وحَصَدُوْا الثُّبُورَ،لایُقاسُ بِآلِ محمد(ص) من ہذہ اُلامَّةِ اَحَد،ٌ وَ لَایُسوَّی بِہِمْ مَنْ جَرَتْ نِعَمَتُھم علیہ اَبَداً،ہُم اَساسُ الدِّین، وَعِمادُ الیقین، اِلیھم یَفِئیُ الغَالِی،وبھم یُلْحَقُ التاَّلِی ،ولَہُم خَصائِصُ حّقِّ الوِلَایَة،ِ وَ فِیھم الوَصِیَّةُ وَالْوِراثَةُ،اَلْآنَ اِذْرَجَعَ الْحَقُّ اِلیٰ اَهلہ، ونُقِل اِلیٰ مُنْتَقَلِہ!“ (1)
انہوں نے فسق و فجور کی کاشت کی ،غفلت و فریب کے پانی سے اسے سینچا اور اس سے ھلاکت کی جنس حاصل کی، اس امت میں کسی کو آل محمد(علیھم السلام) پر قیاس نھیں کیا جاسکتا،جن لوگوں پر ان کے احسانات ھمیشہ جاری رھے ہوں ،وہ ان کے برابر نھیں ہوسکتے، وہ دین کی بنیاد اور یقین کے ستون ھیں ، آگے بڑھ جانے والے کو ان کی طرف پلٹ کر آنا ھے اور پیچھے رہ جانے والوں کو ان سے آکر ملنا ھے، حق ولایت کی خصوصیات انھیں کے لئے ھیں،انھیں کے بارے میں پیغمبر(ص) کی وصیت اور انھیں کے لئے نبی کی وراثت ھے، اب یہ وقت وہ ھے کہ حق اپنے اھل کی طرف پلٹ آیا اور اپنی صحیح جگہ پر منتقل ہوگیا ۔

روش بحث،مقصداورتین سوال

قارئین کرام !جیسا کہ عنوانِ بحث سے ظاھر ھے کہ آئندہ ھم صحیحین کی ان احادیث کو پیش کریں گے جو خلافت سے متعلق ھیں ، لہٰذا ھمارا مقصد یھا ں پر صرف اِن احادیث کا نقل کرنا ھے نہ کہ مسئلہٴ خلافت کی تحقیق،کیونکہ ھماری کتاب علم کلام کی کتاب نھیں ھے کہ جس میں مسئلہ خلافت کی تحقیق وتحلیل کریں اور فریقین میں سے ایک گروہ کے عقیدہ کو ثابت کرنے کے لئے محکم اور ٹھوس دلائل پیش کریں،یا پھر دوسرے گروہ کے عقیدہ کو ھدف تنقید قرار دے کر حق کو بیان کریں ،بلکہ ھمارا مقصد یہ ھے کہ اھل سنت کی اھم ترین اساسی کتابیں ”صحیحین“کے مختلف ابواب میں نقل کردہ وہ حدیثیں جو براہ راست خلافت سے متعلق ھیں،ان کو محترم قارئین کے سامنے پیش کریں،لہٰذا ھمارے اوپریہ لازم نھیں کہ ھم اِن روایات کے تمام تاریخی جزئیات کوجو ان روایتوں کے بارے میں پائے جاتے ھیں نقل کریں،یا ان کی عمیق ودقیق تحقیق و تنقید کریں ،کیونکہ:
ا ولاً: یہ بحث ھمارے موضوع سے خارج ھے۔
ثانیاً :اس بحث کیلئے ایک مستقل کتاب کی ضرورت ھے اور حسن اتفاق سے اس موضوع سے متعلق ھمارے یھاں بھت سی کتابیں لکھی جا چکی ھیں ، چنانچہ اگر ھم نے کھیں پرخلافت سے متعلق بعض مطالب کو بیان کیا ھے تووہ صرف اپنے مطلوب اورمحل بحث احادیث کے مفہوم کی وضاحت کے خاطرھے نہ کہ موضوعِخلافت چھیڑناھے، بھر کیف تمھیدکے طورپر ھم پھلے تین سوال پیش کرتے ھیں اور ان سوالوں کے جوا بات ھر اس شخص سے پوچھنا چاھتے ھیں جو خلافت پر اعتقاد رکھتا ھے۔
مسئلہٴخلافت سے متعلق تین سوال
مسئلہٴ خلافت رسول اسلام کا وہ اساسی ترین مسئلہ ھے جو مسلمانوں کے درمیان ایک،دو،پانچ، دس صدی سے محل ِ اختلاف قرار نھیں پایا بلکہ یہ مسئلہ آفتاب ِ رسالت (ص)کے غروب ہونے کے بعد ھی اختلاف کی نظرہوگیا تھا،جیسا کہ عالم اھل سنت جناب شھرستانی اپنی کتاب”الملل والنحل“ میں کھتے ھیں :
امت اسلام سب سے زیادہ مسئلہ امامت میں اختلاف کرتی ھے، یعنی مسلمانوں کے درمیان سب سے بڑا مسئلہٴامامت اور خلافت کا ھے جو سبب ِ اختلاف قرار پایا ھے، کیونکہ اسی مسئلہٴامامت کی وجہ سے ہزاروں لوگوں کی جانیں گئی ھیں ، امامت کے علاوہ اور کوئی ایسا مسئلہ نھیں ھے جس میں اس قدر اختلاف اور خونریزی ہوئی ہو:
”اعظم خلاف بین الامة خلاف الامامةاذماسل سیف فی الاسلام علی قاعدة دینیة مثل ما سل علی الامامة فی کل زمان…“(2)
ھ میں اس ا ختلاف کے وجود میں آنے کی کیفیت اور تاریخ سے کوئی سرو کار نھیں لیکن آیندہ آنے والی احادیث کے لئے تمھید کے طورپر تین مطالب کو بعنوان سوال ذکر کرتے ھیں :
۱۔ جب مسئلہٴ خلافت و امامت اتنا اھم مسئلہ ھے تووہ خدا کہ جس نے اسلام کے ماننے والوں کے لئے رسول(ص) کے ذریعہ چھوٹے سے چھوٹے حکم کو بیان کیا ھے ،جیسے سونا ، جاگنا، کھانا، پینا، حمام،غسل کنگھی کرنا ، نامحرم عورتوںپر نگاہ ڈالنا ایک لمحہ بھر ھی کیوں نہ ہو، دوسرے کی غیبت کرنا اگرچہ ایک کلمہ کے ذریعہ ھی کیوں نہ ہو،چنانچہ ان احکام کی تعداد واجبات ،محرمات ،مستحبات اور مکروھات میں بےشمار ھے ،یعنی انسان کی زندگی کا کوئی ایسا پھلو ترک نھیں کیا گیا ھے جس میں شریعت کی طرف سے کوئی حکم نہ ھو ،تو پھر یہ کیسے ممکن ھے کہ امامت جیسے اھم مسئلہ کے بارے میں کچھ نھیں کھاگیا ہو؟ !اور امت کو بغیر کسی رھبر اورھادی کے چھوڑ کر خدا نے اپنے حبیب کو اپنے پاس بلالیا؟! اگر کھاجائے کہ خدا اور رسول(ص)نے اس مسئلہ کو خود مسلمانوں کے حوالہ کردیا تھا،تو پھر یہ سوال پیدا ہوتا ھے کہ اسلام کے جزئیات اور فروعات کو خدا ورسول(ص) نے خود مسلمانوں کے حوالے کیوں نہ کیا؟! اوران کو خود کیوں بیان فرمایا ؟! اور جب جزئی اور فرعی احکام جیسے سر منڈوانا، ناخون کٹوانا، حج و زیارات، پیشاب، پاخانہ کے آداب، ھمبستر ہونے کے آداب وغیرہ میں بھی سکوت اور چشم پوشی کرنا قاعدہ ٴ لطف کی بنا پر جائز نھیں،تو پھر یہ کیسے تصور کیا ج ا سکتا ھے کہ خدا وند متعال مسلمانوں کے اھم ترین مسئلہٴامامت پر سکوت اختیار کرلے گا؟ !کیا قاعدہٴ لطف یھاں پر تقاضہ نھیں کرتا ؟! اور اگر اس نے سکوت اختیار نھیں کیا تو ھ میں اس خلیفہ کانام اور وہ کن شرائط کا حا مل ھے اس کاپتہ بتلائیں ؟!!اوراگر کوئی خلیفہ تعین نھیں ھو اتو خدا کی ذات ھدف ِ تنقید قرار پاتی ھے!! ”نعوذ بالله من ذالک“ یہ وہ باتیں ھیں جو اس بات کا پتہ دیتی ھیں کہ رسول(ص) نے بحکم خدا ضرور کوئی خلیفہ منتخب کیا تھا اور اگر مان لیا جائے کہ رسول(ص) نے مقرر نھیں فرمایا تو کم سے کم جو رسول(ص) کے بعد اس منصب الہٰی کا بوجھ اٹھائے اس کے لئے کچھ شرائط تو ضرور بیان فرمائے ہوں گے؟!!
۲۔ آیات، احادیث اور رسول(ص) کی زندگی کا مطالعہ کرنے سے پتہ چلتا ھے کہ فرزندان ِ توحید ھمیشہ قرآن و احادیث کی شرح و تفسیر ، دینی اخلاقی و دنیوی مسائل میں رسول(ص) کی طرف رجوع کرتے تھے، یھی نھیں بلکہ حوادثات ، امور دنیوی اور اپنی زندگی کے جزئی معاملات میں بھی آنحضرت (ص)کو اپنا ملجاٴ وماوہ سمجھتے اور آپ سے معلومات حا صل کرتے تھے ،یھاں تک کہ اپنی پریشانیوں کے حل اور مریضوں کے معالجہ کے لئے بھی رسول(ص) سے ھی استشفاء کرتے تھے،جیسا کہ صحیح بخاری ،سنن ترمذی ا ور صحیح مسلم میں آیا ھے :
”ایک شخص نے رسول(ص) سے کھا: یا رسول الله (ص) ! میرا بھائی پیچش میں مبتلا ھے، رسول (ص)نے فرمایا : اس سے کھو شھد کا استعما ل کرے ، چند دنوں کے بعد وہ شخص پھر آیا اور کهنے لگا :اے رسول خدا(ص)!شھد سے میرے بھائی کی ابھی پیچش ٹھیک نھیں ہوئی ھے، رسول(ص) نے اس سے کھا: شھد کا استعمال جاری رکھے، تیسری مرتبہ پھر اس نے پیچش کی شکایت کی ،رسول(ص) پھر شھد کھانے کی تاکید فرماتے ھیں ،یھاں تک کہ اس کی پیچش ٹھیک ھو جاتی ھے۔“(3)
پس یھاں پر سوال یہ پیدا ہوتا ھے کہ رسول(ص) کی ۲۳ سالہ زندگی میں کسی شخص کے ذهن میں یہ سوال نہ آیا اور کوئی بھی صحا بیٴرسول (ص)اس بات کی طرف متوجہ نھیں ھو ا کہ رسول(ص) کے بعد مسئلہٴجانشینی کا کیا ہوگا؟!اور نہ ھی کسی مسلمان نے رسول(ص) سے اس بات کو پوچھا: ”اے رسول!(ص) آپ نے اسلام کو خون ِ دل دے کر پروان تو چڑھا یا ھے مگر اس کی حفاظت آپ کے بعد کون کرے گا؟ ! ھم لوگ آپ کی وفات کے بعد اپنے مسائل کے بارے میں کس طرف رجوع کریں گے؟ !!“ آخر تما م مسلمانوں پر غفلت کا پردہ کیوں پڑا رھا ؟! جبکہ سب لوگ یہ جانتے تھے کہ رسول(ص) بھی بشر ھیں لہٰذا آپ(ص) کو بھی موت سے ھمکنار ہونا ھے ،چنانچہ ان آیتوں کو اس وقت کے سبھی مسلمان سنتے اور پڑھتے ہوں گے: <اِنَّکَ مَیِّتٌ وَ اِنَّہُمْ مَیِّتُوْن۔(4) اے میرے حبیب آپ کو بھی موت آئے گی اور یہ لوگ تو مریں گے ھی><…اٴَفَاٴِنْ مَّاْ َ اَوْقُتِلَ اِنْقَلَبْتُمْ عَلیٰ اَعْقَاْبِکُم …۔(5)پھر کیا اگر (محمد(ص) ) اپنی موت سے مرجائیں ،یا مار ڈالے جائیں،تو تم الٹے پاوٴں (اپنے کفر کی طرف )پلٹ جاوٴ گے >
اور دوسری جانب سب لوگ یہ بھی جانتے تھے کہ مسئلہٴخلافت انسان کی دنیاوی اوراخروی زندگی سے جڑا ہوا ھے یعنی یہ وہ مسئلہ ھے جو نبوت کی طرح ا نسان کی زندگی میں عمیق اثر رکھتا ھے،اس کے بغیر نہ انسان کی دنیاوی زندگی کامیاب ھو سکتی ھے اور نہ ھی اخروی، اس کے بغیر نہ روح ا نی کمال تک پهنچا جاسکتا ھے اور نہ مادی اورسب سے زیادہ تعجب تو یہ ھے کہ خود رسول(ص) کو بھی فکر نہ ہوئی کہ میں نے اتنی محنتوں سے اسلام کو پھیلایا ھے لیکن اس کا محا فظ میرے بعد کون ہوگا؟!اس کا اتاپتہ نھیں ! پس نہ رسول کو فکر ہوئی اور نہ ھی اس بارے میں کسی نے ۲۳ سال کے اندر آپ سے سوا ل کیا !!
۳۔ خداوند متعال وصیت کے سلسلے میں ارشاد فرماتا ھے:
<کُتِبَ عَلَیْکُمْ اِذَ اْ حَضَرَ اَحَدَکُمُ الْمَوْتُ اِن تَرَکَ خَیراً نِ الوَصِیَّةُ لِلوَالِدَیْنِ والاَقرَبِیْنَ بِالْمَعْرُوْفِ حَقّاً عَلَی المُتَّقِینَ>(6)
مسلمانو!تم کو حکم دیا جاتا ھے کہ جب تم میں سے کسی کو موت واقع ھو نے والی ھو بشرطیکہ مرنے والا کچھ مال چھوڑ جائے تو ماں باپ اور قرابتداروں کے لئے اچھی وصیت کرے ،جو خد ا سے ڈرتے ھیں ان پر یہ ایک حق ھے۔
اسی طرح خودرسول(ص) اسلام اس وظیفہٴوصیت کے بارے میں ارشادفرماتے ھیں :
”قال(ص):ماحق امریٴمسلم لہ شیء یوصی فیہ یبیت لیلتین،الاووصیتہ مکتوبة عندہ۔“
ایک مسلمان مرد کا اھم ترین وظیفہ یہ ھے کہ وہ دو راتیں نہ گزارے مگر اپنے لئے وصیت نامہ تیار کر کے رکھ لے۔(7)
عبد اللہ ابن عمر کھتے ھیں :
میں نے اس مطلب کو جب سے رسول(ص) سے سنا ھے تب سے کوئی بھی رات ایسی نھیں گزری مگر میرا وصیت نامہ میرے ساتھ تھا۔(8)
محترم قارئین!جب قرآن او راحادیث سے ثابت ھے کہ وصیت کرنا ایک ضروری امر ھے توپھرعقل اس بات کو کیسے تسلیم کرسکتی ھے کہ جو رسول(ص) دوسروں کے حق میں وصیت کے لئے اس قدر تاکید کرے وہ خود وصیت کئے بغیر چلا جائے گا؟! کیایہ کھا جاسکتا ھے کہ رسول(ص) نے کسی کے لئے وصیت نھیں کی تھی ؟!جب کہ آپ کے لئے وصیت کرنا اشد ضروری تھا ؟!کیونکہ رسول (ص)ایک اھم ثروت و ترکہ( دین اور قوانین الٰھیہ )کو چھوڑ کر جارھے تھے، اس سے زیادہ قیمتی اور کوئی ترکہ ہوھی نھیں سکتا تھا ، لہٰذا ان کی حفاظت تو بھت ھی ضروری تھی، ان کے لئے ایک ولی اور سرپرست ھو نا بیحد لازمی تھا ،ان شرائط کے باوجود اگر رسول(ص) اپنے بعد ملت ِمسلمہ اوردین اسلام کا کوئی محا فظ نہ چنیں تو گویا کہ آپ نے سارے جھان کو لاوارث چھوڑدیا!کیا ھمارا وجدان آنحضرت(ص)جیسے دور اندےش اور زیرک ترین شخص کے لئے یہ سوچ سکتا ھے کہ آپ کی عقل ِ کامل اس اھم ترین گوشہ کی طرف کبھی متوجہ ھی نھیں ہوئی ! جس کی وجہ سے آپ نے اپنے بیش قیمت ترکہ( قوانین الٰھیہ) اورملت ِمسلمہ بلکہ سارے جھان کو بغیر ولی اور سرپرست کے یونھی چھوڑ دیااورکسی طرح کا انتظام نھیں کیا ؟!! قطع ِ نظر حکم ِعقل و وجدان کے یہ بات بھی تاریخ اسلام سے ثابت ھے کہ جب رسول(ص) کسی جنگ میں کوئی لشکر بھیجتے تھے تو اس کا ایک رھبر اور سپہ سالا ر معین فرماتے تھے اور اس کے ساتھ یہ بھی تاکید کر دیتے تھے کہ اگر فلاں شخص شھید ھو جائے تو فلاں کو اپن ا سپہ سالار چن لینا اور اگر وہ بھی شھید ھو جائے تو فلاں کو سردار منتخب کر لینا، وغیر ہ وغیرہ ، اسی طرح یہ بات تاریخ میں مسلم الثبوت ھے کہ آنحضرت نے اپنی تدفین ،غسل اور ادائیگیٴقرض کے بارے میں حضرت علی علیہ السلام کو وصیت کردی تھی،لہٰذا ان تاکیدات کے باوجودیہ کیسے سوچا جاسکتا ھے کہ آپ(ص) نے خلافت کے لئے کسی کے حق میں وصیت نھیں کی تھی؟!پس جو رسول(ص)قرض،دفن اور کفن جیسے جزئی مسئلہ کو نہ بھولے وہ خلافت جیسے اھم مسئلہ کو کیسے بھول جائے گا؟!!العجب ثم العجب ۔
محترم قارئین ! ان سوالوں کا جواب اھل سنت نھیں دے سکتے ھیں ، ان کا جواب صرف مذھب اھل تشیع کے نزدیک واضحا ور روشن ھے، کیو نکہ یہ وہ مذھب ھے جو عقیده رکھتا ھے کہ نہ خدا و رسول(ص) نے اور نہ ھی رسول(ص)کی زندگی میں مسلمانوں نے اس مسئلہٴخلافت کے بارے میں سکوت اختیار کیا اور نہ ھی اسکے اظھارسے امتناع کیااورنہ تساھلی سے کام لیابلکہ جس روز سے رسول(ص)مبعوث برسالت ہوئے اسی دن سے آپ کو مامور کیاگیا تھا کہ آپ نبوت کے ساتھ ساتھ منصب خلافت کے حقدار کا بھی لوگوں کے درمیا ن اعلان کردیں، چنانچہ رسول اسلام(ص) نے بھی اس بارے میں کسی طرح کا ابھام نھیں چھوڑا، بلکہ آپ نے ھر جگہ اپنے متعددخطبات و بیانات میں اپنی جانشینی کے مسئلہ کو پیش کیااور جو لوگ آپ کے بعدمنصب ِ خلافت کے حقدارتھے، ان کی پہچان کروائی چنانچہ اوائل ِ بعثت میں جب آیہٴ <وَاَنذِرْ عَشِیرَتَکَ الاَقْرَبِینَ> نازل ہوئی تو رسول اسلام(ص) نے اپنے خاندان والوں کو دعوت پر بلایا اور کھا نے کے بعد آپ نے تقریر کرنا چاھی،لیکن ابو لھب نے یہ کہہ کر مجمع کو بھکا دیا کہ آپ ساحر ا ور جادو گر ھیں ، کوئی ان کی باتیں نہ سنے ،مجمع متفرق ہوگیا ،لہٰذا رسول اسلام(ص) نے دوسرے دن پھر بلایا اور کھانے کے بعد تقریر کرنا شروع کردی اور اپنی تقریر میں پیغام وحی سنایا اور حضرت امیر المومنین علی علیہ السلام کیلئے اپنی طرف سے جانشین ا ور خلیفہ ہونے کا اعلان کیا اور بعض لوگوں کے نزدیک حضرت علی علیہ السلام کی جانشینی کا مسئلہ مضحکہ خیز بھی قرار پایاکہ ابھی ان کی نبوت کو کوئی مانتا نھیں اور انھیں دیکھو!جانشینی کا اعلان ابھی سے کررھے ھیں ؟!
” فاخذ رقبتی ( علی(ع) ) ثم قال : ان ہٰذا اخی ووصی وخلیفتی فیکم فاسمعوا لہ و اطیعوا قال: فقام القوم یضحکون… “(9)
کیونکہ و ہ لوگ سمجھ رھے تھے کہ ابھی کسی نے ان کی نبوت قبول نھیں کی تو جانشین کو کیسے قبول کریں گے، لیکن رسول(ص) پھلے ھی مرحلے میں ظاھر کر دینا چاھتے تھے کہ جانشینی کا حق علی (ع) و اولاد علی (ع) کا ھے، لہٰذا جو بھی میرا دین قبول کرے وہ اس لالچ میں قبول نہ کرے کہ آئندہ آپ اسے رھبری کا عھدہ سپرد کردیں گے! کیونکہ منصب ِ خلافت و ولایت ھر کس و ناکس کو نھیں ملتا بلکہ اس کا وھی حقدار ھے جس کا خدا نے انتخاب کیا ہو۔
اسی طرح آ پ(ص) نے غدیر کے بے آب وگیاہ چٹیل میدان اوررچلچلاتی دھوپ میں آگے جانے والے اور پیچھے رہ جانے والے حجاج کو بلا کر اپنے آخری حج کے بعد بحکم خدا ” من کنت مولاہ فہٰذا علی مولاہ“کہہ کر حضرت علی علیہ السلا م کی خلافت کا اعلان فرمایا۔
اور جب آپ کی عمر کے آخری لمحے گزر رھے تھے ، جب آپ کی پےشانی پر موت کا پسینہ آچکا تھا، اس حساس موقع پر بھی آپ نے اس اھم مسئلہ کو فراموش نھیں کیا، چونکہ آپ کی نظروں میں الله کا دین وآئین گردش کررھا تھا ، لہٰذا آپ کے سامنے اس امت کی سرنوشت مجسم تھی کہ جس کی ھدایت میں آپ نے شدید سے شدید مشقتیں اٹھائیں تھیں ، لہٰذا آپ نے حکم دیا کہ مجھے قلم و دوات دیدو تاکہ میں ایک ایسی چیز ( مسئلہ جانشینی) لکھتا جاؤں، جو میرے بعد تم کوگمراہ ہونے سے بچا لے۔(10)
اورکبھی آپ(ص) منبر پر تشریف لے جاتے اور فرماتے تھے:
”اِنیّ مخلف فیکم الثقلین کتاب الله وعترتی ماان تمسکتم بھما لن تضلوا ابداً“
اورکبھی اپنے حقیقی خلفاء کے اسم لیتے اور لوگوں کے سامنے ان کا تعارف کراتے، کبھی ان کی تعداد بیان فرماتے: ((الخلفاء بعدی اثنی عشر))اورکبھی ان آیات کو پڑھتے تھے جو آپ کے خلفاء کی شان میں نازل ہوئیں ،کبھی آپ ارشاد فرماتے تھے :
”یا علی انت منی بمنزلةھارون من موسیٰ الا انہ لا نبی بعدی“۔
کبھی اپنے بعد آئندہ اسلام میں ہونے وا لی بدعتوں کا تذکرہ کرکے اپنے گھرے افسوس کا اظھار کرتے تھے جونا حق خلافت کی وجہ سے وجود میں آئیں گی ۔
چنانچہ چودہ صدیوں سے ظالم اور جابر حکومتیںمسئلہ ٴ خلافت کو دھندلااور حقائق کو پوشیدہ کرنے کی سعی ٴ لاحا صل کئے جارھی ھیں ، حقائق کو چھپانے میں اپنی تما تر قوّتیں صر ف کردیں ، اپنے تمام وسائل اس مسئلہ میں استعمال کرلئے کہ خلافت کو اس کے حقیقی اور واقعی محور و مرکز سے ہٹا کر دوسری جگہ لیجائیں اور اس کو اصلی لباس سے برهنہ کرکے اس لباس میں پیش کریں جو باطل کا خود بافتہ و ساختہ ھے، لیکن جسے خدا رکھے اسے کون چکھے، آج بھی سنیوں کی اصلی اورمدر ک کی کتاب صحیح بخاری ، صحیح مسلم کے مختلف ابواب اسی طرح مسلمانوں کی دیگرمعتبر کتابوں میں ایسی ایسی روایات موجود ھیں جن سے صحیح واقعیات و حقائق اور حضرت علی اور بقیہ آئمہ علیھم السلام کی خلافت ِ بلا فصل کا اثبات ہوتاھے جو شیعوں کا عیں ہ ھے ،البتہ صحیحین کے موٴلفین نے کافی کوشش کی ھے کہ ایسی کوئی حدیث نقل نہ کریں جس سے حضرت امیرالموٴمنین (ع)کی خلافت کا اثبات ہوسکے،مگر:
” وہ شمع کیا بجھے جسے روشن خدا کر ے ‘ ‘
چنانچہ آئندہ فصلوں میں پھلے ھم ان احادیث کو ذکر کر یں گے جو اھل بیت (ع) کی فضیلت کے سلسلے میں صحیح بخاری ا ور صحیح مسلم میں منقول ھیں ،اس کے بعد صحیحین میں نقل کردہ روایات کے مضمون کے مطابق خلفاء کا تعارف پیش کریں گے۔

۱۔ خاندان رسالت کے فضائل صحیحین کی روشنی میں
۱۔ آیت تطھیراوراھل بیت پیغمبر(ص)
۱۔”قالت عائشة:خرج النبی(ص)غداة وعلیہ مرط مرحل من شعراسود، فجاء الحسن ابن علی،فادخلہ،ثم جاء الحسین،فدخل معہ،ثم جااٴت فاطمة سلام الله علیھافادخلھا،ثم جاء علی،فادخلہ،ثم قال: <اِنَّمَا یُرِیْدُ اللّٰہُ لِیُذْہِبَ عَنْکُمُ الرِّجْسَ اَهل الْبَیْتِ وَیُطَہِّرَکُمْ تَطَہِیْرًا>(11)
حضرت عائشہ کھتی ھیں :
ایک مرتبہ حضرت رسول خدا (ص)بوقت صبح گھر سے اس حا لت میں خارج ہوئے کہ آپ کالی چادر اوڑھے ہوئے تھے ، اسی هنگام حضرت امام حسن ابن علی (ع) آپ کے پاس تشریف لائے، آپ نے شہزادے کو زیرچادر داخل کرلیا ،اس کے بعد حضرت امام حسین (ع)آئے ، وہ بھی زیر چادر آپ کے ساتھ داخل ھو گئے ،اس کے بعد حضرت فاطمہ زھرا (ع) تشریف لائیں ، آپ(ص) نے ان کو بھی زیر چادر داخل کرلیا، اس کے بعد حضرت علی (ع) آئے ، آپ(ص) نے انھیں بھی زیر چادر بلا لیا، اس کے بعد اس آیت کی تلاوت فرمائی:
<اِنَّمَا یُرِیْدُ اللّٰہُ لِیُذْہِبَ عَنْکُمُ الرِّجْسَ اَهل الْبَیْتِ وَیُطَہِّرَکُمْ تَطَہِیْرًا>(12)
<اور اللہ کا ارادہ ھے کہ اے اھل بیت نبی! تم کو پاک رکھے جو پاک رکھنے کا حق ھے اورھر رجس و خباثت سے دور رکھے>۔
مذکورہ حدیث مسلم کے علاوہ اھل سنت کی کتب تفاسیر و احادیث میں تواترکے ساتھ نقل کی گئی ھے، جیسا کہ ھم نے بحث”رسول(ص) خداازنظرآیات و احادیث“ میں اس جانب اشارہ کیا تھا ۔
بھر کیف اس آیت کے رسول وآل رسول علیهم السلام کی شان میں نازل ہونے کے بارے کوئی شک وشبہ نھیں چنانچہ جلد اول میں ھم نے اس آیت کے ذیل میں سنیوں کے بعض مدارک کی طرف اشارہ کیا ھے اور اسی جگھاس نکتہ کو بیان کیا کہ اس آیت کے ذریعہ خدا ومند متعال نے اھل بیت(ع) کو ھر گناہ سے پاک رکھنے کی ضمانت لی ھے اور آپ کو معصوم قرار دیا ھے اور یہ کہ آ یت ِ تطھیر اس بات پر بھی دلالت کرتی ھے کہ اھلبیت (ع)کبھی سہواً بھی کسی گناہ کا ارتکاب نھیں کرتے کیونکہ سھو و نسیان حکم تکلیفی(عقاب) کو تو برطر ف کر سکتے ھیں لیکن رجس اور حرمت کے ا ثر وضعی اوراس کی ذاتی نجاست کو مرتفع نھیں کر سکتے۔
۲۔ اھل بیت علیهم السلام اور آیہٴ مباھلہ
۲۔,,…عن عامر بن سعدبن وقاص عن ابیہ؛قال:امرمعاویة بن ابی سفیان سعداً:فقال:ما منعک ان تسب ابا تراب؟فقال:اماما ذکرت ثلاثاً قالھن لہ رسول اللّٰہ ،فلن اسبہ،لان تکون لی واحدہ منهن احب الی من حمر النعم ، سمعت رسول اللّٰہ(ص) یقول لہ خلفہ فی بعض مغازیہ،فقال علی:یارسول اللّٰہ(ص)!خلفتنی مع النساء والصبیان؟فقال لہ رسول اللّٰہ(ص):” اَمَاْ تَرَضیٰ َانْ تَکُوْنَ مِنِّیْ بِمَنْزِلَةِ ہَاْرُوْنَ مِنْ مُوْسٰی اِلَّااَنَّہ ُلَانَبُوَّةَ بَعْدِیْ“وسمعتہ یقول یوم خیبر:” لاعطین الرایة رجلاًیحب اللّٰہ ورسولہ و یحبہ اللّٰہ ورسولہ“قال فتطاولنا لھا،فقال:ادعوا لی علیا،فاتی بہ ارمد، فبصق فی عینہ،ودفع الرایة الیہ، ففتح اللّٰہ علیہ،ولما نزلت ہذہ الآیہ:<… فَقُلْ تَعَاْلَوْا نَدْعُ اٴَبَنآئَنَاْ واٴَبَنآئَکُم…> (13) دعیٰ رسول(ص) اللّٰہ عَلِیاًّ،وفاطمة،وحسناوحسینا،ً فقال:اَللّٰہُم َّہٰوٴلآءِ اَهلی“ (14)
ایک روز معاویہ ابن ابی سفیان نے سعد بن ابی وقاص سے کھا: تجھے کس چیز نے روکا ھے کہ ابو تراب (علی (ع)) کو گالی نھیں دیتا؟!“ سعد بن ابی وقاص نے کھا : رسول(ص) خدا نے حضرت علی علیہ السلام کے بارے میں ایسی تین فضیلتیں بیان کی ھیں جب بھی وہ فضیلتیں مجھے یاد آجاتی ھیں تو میں گالی دینے سے باز رھتا ہوںاور اگر ان میں سے ایک فضیلت بھی میں رکھتا ہوتا تو میرے لئے وہ سرخ اونٹوں سے بھتر ہوتی اور وہ تین فضیلتیں یہ ھیں :
۱۔ حضرت علی (ع)ھارون امت محمدیہ :ایک مرتبہ رسول خدا(ص) کسی ایک جنگ میں جانے کے لئے آمادہ ہوئے تو حضرت علی علیہ السلام کومدینہ میں اپنا جانشین مقرر فرمایا، اس وقت حضرت علی (ع) نے رسول(ص) سے عرض کیا: یا رسول اللہ! مجھے آپ بچوں اور عورتوں میں چھوڑے جا رھے ھیں ؟ اس وقت میں نے اپنے دونوں کانوں سے سنا کہ رسول(ص) نے فرمایا:” اے علی (ع)!کیا تم اس بات سے راضی نھیں کہ تمھاری منزلت میرے نزدیک وھی ھے جو موسی (ع) کے نزدیک ھارون (ع) کی تھی ،بس فرق اتنا ھے کہ تم میرے بعد پیغمبرنھیں ھو لیکن ھارون (ع)، موسیٰ(ع) کے بعد پیغمبر تھے“۔
۲۔ مردِ میدان خیبر:اسی طرح جنگ خیبر کے روز میں نے رسول(ص) سے سنا کہ آپ نے فرمایا:
”کل میں یہ َعلم اس شخص کو دوں گا جو مرد ہوگااور اللہ و رسول (ص)کو دوست رکھتا ہوگا اور اللہ و رسول(ص) اس کو دوست رکھتے ہوں گے۔“
سعد ابن ابی وقاص معاویہ سے کھتے ھیں :ھم سب لوگ اس دن اس َعلم کی تمنا رکھتے تھے، لیکن رسول(ص) خدا نے فرمایا: علی (ع) کو میرے پاس بلاوٴ !حضرت علی علیہ السلام کو آپ کے پا س اس حال میں لایا گیا کہ آپ (ع) کی آنکھیں درد میں مبتلا تھیں ، رسول(ص) نے اپنا لعاب دهن علی (ع) کی آنکھوں میں لگایا اور علم دے دیا، چنانچہ خدا نے حضرت علی علیہ السلام کے ھاتھوں جنگ خیبر میں اسلام کو کامیابی عطا فرمائی ۔
۳۔ مصداق آیہ ٴمبا ھلہ: جو میں نے دهن ِرسول(ص) سے سنی وہ یہ ھے کہ جب آیہٴمباھلہ<…فَقُلْ تَعَالَوْانَدْعُ اَبنَائَنَاوَاَبنَائَکُمْ…> نازل ہوئی تو رسول(ص) نے علی، فاطمہ ، حسن اور حسین کو بلایا اور فرمایا خدایا!یہ میرے اھل بیت ھیں ۔
۳۔ حدیث غد یر اور اھل بیت علیهم السلام
حدثنی یزید بن حیان؛ قال:انطلقت اناوحُصَین بن سَبْرَةَوعمر بن مسلم، الی زید بن ارقم،فلمّا جلسناالیہ، قال لہ حُصَین: یازید !لقد لقیت خیرا کثیرا، راٴیت رسول(ص)َ اللّٰہ، وسمعت حدیثہ،وغزوت معہ،و صلیت خلفہ، لقد لقیت یا زیدُ !خیرا کثیرا،ً حدثنا یا زید! م ا سمعت من رسول(ص) اللّٰہ، قال یابن اخی:واللّٰہ لقد کَبِرت سنی،وقَدُمَ عھدی،و نسیت بعض الذی اٴعِی من رسول(ص) اللّٰہ، فماحدّثتُکم فاقبلوا،ومالا۔،فلاتکلفونیہ۔ثم قال:قام رسول(ص) اللّٰہ یوما فینا خطیباًبِماءٍ یُدْعیٰ خماًبین مکة و المدینة، فحَمِد اللّٰہ َو اَثْنیٰ علیہ و وعظ و ذکَّر،ثم قال: اَما بعدُ:الَاَ یا ایھا الناس! فانما انا بشر یوشک ان یاٴتِیَ رسول(ص) ربی، فاُجیب،و اَنَا تاَرِکٌ فِیْکُمُ ثَقَلَیْن اَوَّلُہُماَ کتاَبُ اللّٰہ ،فِیْہِ الہُدیٰ وَ النُّورِ، فَخُذُوا بکِتاَب اللّٰہِ وَاسْتَمْسِکُوُاْ بہ، فَحَث بِکِتاَبِ اللّٰہ وَ رَغَّبَ فِیْہِ، ثم قاَلَ: وَ اَهل بَیْتیِ اُذَکِّرُکُمُ اللّٰہ فی اَهل بَیتْیِ اُذَکِّرُ کُمُ اللّٰہ فیِ اَهل بَیْتیِ اُذَکِرُکُمُ اللّٰہ فِی اَهل بَیْتی ثلَاَثاٌ،فقال لہ حصین :و من اھل بیتہ؟ یازید !اٴَلَیس نسائُہ من اھل بیتہ؟ قال: نسائہ من اھل بیتہ، و لکن اھل بیتہ من حُرِم الصّدقة بعدہ ،قال :و من ھم؟ قال: ھم آلُ عَلی،وآل عقیل، و آل جعفر،وآل عباس، قال: کل ہٰوٴلاء حُرِم الصدقةُ،قال: نعم…۔“
مسلم نے روایت کی ھے کہ یزید بن حیاَّن کھتے ھیں :
ایک مرتبہ میں و حُصَین بن سبرہ اور عامربن مسلم، زید بن ارقم کے پاس گئے اور زید بن ارقم کی مجلس میں بیٹھ گئے، حصین زید سے اس طرح گفتگو کرنے لگے:
”اے زید بن ارقم !تو نے خیر کثیر کو حا صل کیا ھے کیو نکہ تورسول خدا(ص) کے دیدار سے مشرف ھو چکا ھے اور حضرت(ص) کی گفتگو سے لطف اندوز ہوچکاھے، تونے رسول (ص)کے ساتھ جنگوں میں شرکت کی اور حضرت(ص) کی اقتداء میں نماز پڑھی اس طرح تو نے خیر کثیر کو حا صل کیا ھے لہٰذا جو تونے رسول(ص) سے سنا ھے اسے ھمارے لئے بھی نقل کر!زید بن ارقم کھتے ھیں : اے برادر زادہ !اب تو میں بوڑھا ہوگیا ہوں اور میری عمر گزر چکی ھے، چنانچہ بھت کچھ کلام رسول(ص) میں فراموش کرچکا ہوں، لہٰذا جو بھی کہہ رھا ہوں اسے قبول کرلینااور جھاں سکوت کرلوں اصرار نہ کرنا،اس کے بعد زید بن ارقم کھتے ھیں : ایک روز رسول اسلام(ص)مکہ اور مدینہ کے درمیان میدان غدیر خم میں کھڑے ہوئے اور ایک خطبہ ارشاد فرمایا اور بعد از حمد و ثنا و موعظہ و نصیحت فرمائی: اے لوگو ! میں بھی تمھاری طرح بشر ہوں لہٰذا ممکن ھے کہ موت کا فرشتہ میرے سراغ میں بھی آئے اور مجھے موت سے ھم کنار ہونا پڑے ،(لیکن یہ یاد رکھو) یہ دو گرانقدر امانتیں میں تمھارے درمیان چھوڑے جا رھا ہوں، ان میں سے پھلی کتاب خدا ھے جو ھدایت کرنے والی اور روشنی دینے والی ھے، لہٰذا کتاب خدا کا دامن نہ چھوٹنے پائے اس سے متمسک رھو اور اس سے بھرہ مند رہو، اس کے بعد آپ نے فرمایا:
اے لوگو!دوسری میری گرانقدر امانت میرے اھل بیت(ع) ھیں اور میرے اھل بیت (ع)کے بارے میں خد ا سے خوف کرنااور ان کو فراموش نہ کرنا (یہ جملہ تین مرتبہ تکرار کیا)زید نے جب حدیث تمام کردی، تو حصین نے پوچھا: اھل بیت رسول(ص) کون ھیں جن کے بارے میں اس قدر سفارش کی گئی ھے؟ کیا رسول(ص) کی بیویاں اھل بیت میں داخل ھیں ؟
زید ابن ارقم نے کھا: ھاں رسول(ص) کی بیویاں بھی اھل بیت(ع) میں ھیں مگر ان اھل بیت(ع) میں نھیں جن کی سفارش رسول(ص) فرمارھے ھیں ، بلکہ یہ وہ اھل بیت(ع) ھیں جن پر صدقہ حرام ھے۔
حصین نے پوچھا : وہ کون حضرات ھیں جن پر صدقہ حرام ھے؟زید بن ارقم نے کھا :وہ اولاد علی (ع)، فرزندان عقیل و جعفر و عباس ھیں !حصین نے کھا: ان تمام لوگوں پر صدقہ حرام ھے ؟ زید نے کھا ھاں۔(15)
عرض موٴلف
اس حدیث کو مسلم نے متعددسندوں کے ساتھ اپنی صحیح میں نقل کیا ھے لیکن افسوس کہ حدیث کا وہ جملہ جو غدیر خم سے متعلق تھاحذف کردیا ھے، حا لانکہ حدیث غدیر کے سیکڑوں راویوں میں سے ایک راوی زید بن ارقم بھی ھیں جو یہ کھتے تھے :
اس وقت رسول(ص) نے فرمایا : خدا وند متعال میرا اور تمام مومنین کا مولا ھے، اس کے بعد علی (ع) کا ھاتھ پکڑا اور فرمایا :جس کا میں مولا ہوں یہ علی (ع)اس کے مولا و آقا ھیں ، خدایا ! جو اس کو دوست رکھے تو اس کو دوست رکھ اور جو اس کو دشمن رکھے تو اس کو دشمن رکھ۔(16)
البتہ زید بن ارقم نے اپنے عقیده کے لحا ظ سے اھل بیت(ع) کے مصداق میں بھی فرق کر دیا ھے، حا لانکہ خود رسول(ص) نے اھل بیت (ع)سے مراد آیہٴ تطھیر اور آیہٴ مباھلہ کے ذیل میں بیان فرما دیا ھے،جیساکہ آپ نے آیہٴ تطھیر کی شان ِ نزول کے ذیل میں گزشتہ صفحات میں ملاحظہ فرمایا ۔
شدیدتعصب کی عینک
واقعہٴغدیر خم اور حدیث ثقلین ان موضوعات و واقعات میں سے ھیں جن کو علمائے اھل سنت نے اپنی معتبر اور بنیادی کتابوں میں تفصیل کے ساتھ نقل کیا ھے،سینکڑوں کتب تاریخ وحدیث اور تفسیر میں علمائے اھل سنت نے ان واقعات اور روا یات کودسیوں سند کے ساتھ قلمنبد فرمایا ھے، لیکن امام بخاری اور مسلم کی کوتاہ نظری یہ ھے کہ (جیسا کہ ھم نے جلد اول میں بیان کیا) آپ حضرات نے اپنی آنکھوں پر ایسی تعصب کی عینک لگائی کہ حضرت امیرالمومنین علیہ السلام کی بنیادی اور روز روشن کی طرح واضح و آشکار فضائل جیسے حدیث ِغدیرخم ، وحدیث ِ ثقلین وغیرہ نظر نہ آئے !! چنانچہ جو حدیث صحیح مسلم میں آئی ھے اس میں مسلم نے تاریخ اسلام کے مشہور واقعہٴ غدیر کے بعض حصے توڑ مروڑ کر ذکر کئے ھیں ۔
مناسب ھے کہ ھم اس جگہ عالم اھل سنت امام غزالی ابوحا مد کے قول کو نقل کردیں جو ھماری گفتگو سے مربوط ھے ،آپ فرماتے ھیں :
اھل سنت کے اکثر علماء نے رسول(ص) کے اس قول کو نقل کیا ھے جسے آپ(ص) نے میدان غدیر میں صحا بہ کے جم غفیر کے درمیان ارشاد فرمایا: ”مَنْ کُنْتُ مَوْلاَہُ فَھٰذَاْ عَلِیٌ مَوْلَاہُ “
اس کے بعد تحریر کرتے ھیں :
بنی کے اس جملے کے بعد حضرت عمر اٹھے اور فرمایا:
”بخ بخ لک یا امیرالموٴ منین اصبحت مولای و مولا کل مومن و مو منة“
مبارک ھو مبارک ھو اے مومنوں کے امیر( علی (ع)) آج آپ میرے اور تمام مومنین مرد وعورت کے مولا بن گئے ۔
امام غزالی فرماتے ھیں :
اس جملہ کا مفہوم حضرت عمر کا علی (ع) کو حا کم مانتے ہوئے ان کی حکومت کے سامنے سر تسلیم خم کرنا ھے،لیکن بعد میں حب ِ ریاست اور پر چم ِ خلافت کے اٹھا نے کے شوق نے ان کو آلیا اور لشکر کشی اورفتوحا ت کی حرص نے کاسہ ٴ ہوا وہوس کو ان کے ھاتھوں میں تھمادیااور اس طرح یہ اسلام سے منحرف ہوکر زمانہ ٴجاھلیت کی طرف پلٹ گئے اور رسول(ص) کے ساتھ جو عھد و پیمان (غدیر میں )کیا تھا،اس کو فراموش کر کے قلیل قیمت میں فروخت کردیا یہ کتنا بر ا سودا ھے:
<فبئس ما یشترون >”ثم بعد ہٰذا غلب الہوی لحب الریاسة و حمل الخلافة ، عقود البنود وخفقان الہوی …“(17)
۴۔ اھل بیت (ع)”صلوات“ میں شریک ِ رسول(ص)ھیں
اھل سنت کی متعدد کتابوں میں نقل کیا گیا ھے کہ حضرت رسالتمآب (ص)نے تمام مسلمانوں کو حکم فرمایا ھے: جب آپ(ص) پر صلوات بھیجی جائے تو آپ کے اھل بیت علیھم السلا م کو بھی صلوات میں ضرور شریک کیا جائے ،یعنی تنھا رسول(ص) پر صلوات بھیجنا صحیح نہ ہوگا ،جب تک کہ آپ کے اھل بیت (ع)پر صلوات نہ بھیجی جائے گی،اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ مقام نبوت کی تعظیم وتکریم کے ساتھ ساتھ اھل بیت(ع) ِعصمت و طھارت کی بھی تعظیم وتکریم لازم ھے اوراس معاملہ میں آپ (ص)کے اور آپ کے خاندان کے درمیان کسی بھی طرح کا فاصلہ کرنا صحیح نھیں ھے ، چنانچہ کتب اھل سنت میں ایسی بھت ساری روایات موجود ھیں ،لیکن ھم صرف صحیحین سے چند نمونے پیش کر تے ھیں :
۱۔,,…حدثنا الحکم ؛قال: سمعت عبد الرحمٰن بن ابی لیلی؛ ٰقال: لقینی کعب بن عجرة فقال:الااھدی لک ھدیة ً؟ان النبی(ص) خرج علینا فقلنا، یا رسول الله ! لقد علمنا کیف نسلم علیک،فکیف نصلی علیک ؟ فقال(ص): قولوا!”اَللّٰہُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍوعَلیٰ آلِ مُحَمَّدٍ ،کَمَاْصَلَّیْتَ عَلٰی آلِ اِبَرَاہِیْمَ، اِنَّکَ حَمِیْدٌ مَّجِیْدٌ، اَللّٰہُمَّ بَاْرِکْ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَعَلٰی آلِ مُحَمَّد،کَمَاْ بَاْرَکْتَ عَلٰی آلِ اِبَرَاْہِیْم،َ اِنَّکَ حَمِیْدٌ مَجِیْدٌ ۔“
حکم نے عبد الرحمٰن بن ابی لیلیٰ سے نقل کیا ھے :
( ایک دن) کعب ابن عجرہ سے میری( عبد الرحمٰن ابن ابی لیلیٰ) ملاقات ھو ئی، تو اس نے مجھ سے کھا : کیا تو چاھتا ھے کہ تجھے ایک تحفہ پیش کروں؟وہ تحفہ یہ ھے کہ ایک مرتبہ رسول(ص)خدا ھمارے درمیان تشریف لائے، ھم لوگوں نے سلام کیا اور پوچھا:یا رسول الله (ص)!ھم نے آپ پر سلام کرنا تو سمجھ لیا !مگر صلوات کس طرح بھیجی جائے؟ آپ(ص)نے جواب میں فرمایا:
” اَللّٰہُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍوَعَلٰی آلِ مُحَمَّدٍ،کَمَاْصَلَّیْتَ عَلٰی آلِ اِبَرَاہِیْمَ،اِنَّکَ حَمِیْدٌ مَّجِیْدٌ، اَللّٰہُمَّ بَاْرِکْ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَعَلٰی آلِ مُحَمَّدٍ،کَمَاْ بَاْرَکْتَ عَلٰی آلِ اِبَرَاْہِیْم،َ اِنَّکَ حَمِیْدٌ مَجِیْدٌ۔“
” اے میرے معبود !رحمت نازل کر محمد وآل محمد پر،جس طرح تو نے رحمت نازل کی ابراھیم کی آل پر،بےشک تو بزرگ اور قابل حمد ھے، اے میرے معبود!اپنی برکت نازل فرما محمد وآل محمد پر، جس طرح تونے ابراھیم کی آل پر نازل کی ،بےشک تو صاحب مجد اور لائق تعریف ھے۔“(18)
۲۔,,… عن ابی مسعود الانصاری؛قال: اٴَتانارسول الله ،(ص)ونحن فی مجلس سعد بن عبادة ،فقال لہ بشر بن سعد،امرنا الله عزّوجلّ ان نصلی علیک یارسول الله !(ص) قال:فسکت رسول الله ،حتی تمنینا انہ لم یسئلہ،ثم قال رسول الله (ص): قولوا: اَللّٰھمَّ صَلّ علی محمد وعلی آل محمد ،کما صلیت علی آل ابراھیم،وبارک علیٰ محمدوعلیٰ آل محمد،کما بارکت علیٰ آل ابراھیم فی العالمین،انک حمید مجید ،والسلام کما علمتم۔“
مسلم نے ابومسعود انصاری سے نقل کیا ھیکہ ابومسعود کھتے ھیں :
ھم سعد بن عبادہ کی نشست میں بیٹھے تھے کہ رسول(ص) تشریف لائے ،تو بشر بن سعد نے کھا : یا رسول اللہ(ص)!ھم کو خدا نے آپ پر صلوات بھیجنے کا دستور دیا ھے، مگر ھم کس طرح صلوات بھیجیں ؟
ابو مسعود کھتے ھیں :
رسول(ص) نے اس وقت سکوت فرمایااور اتنی دیر ساکت رھے کہ ھم نے کھا : کا ش بشریہ سوال نہ کرتا،اس وقت آنحضرت(ص) نے فرمایا: صلوات اس طرح بھیجو :
” اللّٰھم صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّآلِ مُحَمَّدٍ کَمَاْ صَلَّیْتَ عَلٰی آلِ اِبَرَاْہِیْمَ وَبَارِکْ عَلیٰ مُحَمَّدٍوَّ عَلیٰ آلِ مُحَمَّدٍ کَمَا بَارَکْتَ عَلیٰ آلِ اِبْرَاہِیْمَ فِیْ العَالَمِیْنَ اِنَّکَ حَمِیْدٌ مَّجِیْدٌ“
اور سلام اسی طرح بھیجو جو تم جانتے ہو۔(19)
عرض موٴلف
اھل سنت کی کتب صحا ح و مسانیداور تواریخ و تفاسیرمیں دسیوں حدیثیں رسول(ص) اور آل رسول(ص) پر صلوات بھیجنے کے طریقہ کے بارے میں وارد ہوئی ھیں اوران سب میں جامع ترین تفسیر، دُرِّ منثور (سورہ ٴاحزاب کی تفسیر میں ) ھے۔
لیکن آنحضرت(ص)کی آنکھیں بند ہونے کے بعد حکومت اور جاہ طلبی نے اس قدر مسلمانوں کو اندھا کردیا کہ جتنا ھو سکتا تھا اھل بیت (ع)کے فضائل کو چھپایا جانے لگا !چنانچہ صلوات میں بھی دھیرے دھیرے اھل بیت(ص) کے نام کو حذف کرکے، صرف رسول (ص)پر ناقص اور دم بریدہ صلوات بھیجنے پراکتفاء کرنے لگے ،حا لانکہ رسول(ص)خدانے ایسی صلوات بھیجنے سے بارھا منع فرمایا تھا، مگر افسو س آج بھی مسلمانوں کی یھی سیرت ھے کہ رسول(ص) پر دم بریدہ صلوات بھیج کر دشمنی اھل بیت(ع) کاکھلم کھلا ثبوت دے رھے ھیں ، جب کہ علمائے اھل سنت کی آنکھوں کے سامنے آج بھی یہ حدیثیں موجود ھیں ، بلکہ خود یہ لوگ ان حدیثوں کو نقل بھی کرتے ھیں ، لیکن عملی میدان میں اپنی گفتگو اور تحریروں کے اندر ان احادیث کے مضمون اور حکم رسول (ص)کی صریحا مخالفت کرتے ہوئے رسول(ص) پر صلوات بھیجنے کے بارے میں اپنے اباوٴاجداد کی سنت پر عمل کرتے ھیں !لہٰذا اس جگہ دقت کرنے سے ھماری سمجھ میں صرف ایک ھی چیز آتی ھے اوروہ ھے اپنے آباوٴ اجداد کی طرحا ھل بیت(ع) کے بارے میں شدید تعصب میں مبتلا ہونا!
<وَاِذَاْ قِیْلَ لَھُمُ اْتَّبِعُوْا مَاْ اَنْزَلَ الله قَاْلُوْا بَلْ نَتَّبِعُ مَاْ وَجَدْنَاْ عَلَیْہِ آبا ئَنَاْ اَوَ لَوْکَاْنَ الشَّیْطَاْنُ یَدْعُوْھُمْ ِالیٰ عَذَاْبِ السَّعِیْرِ>(20)
” اور جب ان سے کھا جاتا ھے :جو کتاب خدا نے نازل کی ھے اس کی پیروی کرو ،تو وہ (چھوٹتے ھی یہ) کھتے ھیں : نھیں ھم تو اسی طریقہ پر چلیں گے جس پر ھم نے باپ داداؤں کو پایا، بھلا اگرچہ شیطان ان کے باپ داداؤں کو جهنم کے عذاب کی طرف بلاتارھا ہو، تو پھر کیا وہ ان کی پیروی کریں گے۔
حواله جات:

(1) شرح نہج البلاغہ ابن الی الحدید جلد۱،صفحہ ۱۳۸،خطبہ نمبر۲۔
(2) الملل ونحل جلد۱،المقدمة الرابعہ:در بیان شبہٴ اول ، الخلاف الخامس، صفحہ ۲۴۔
(3) صحیح بخاری ج ۷، کتاب الطب۔ سنن ترمذی کتاب الطب۔ صحیح مسلم کتاب الطب ، حدیث۲۲۱۷۔
(4) سورہٴزمر،آیت ۳۰َ،پ۲۴۔
(5) سورہٴ آل عمران آیت ۱۴۴ پ ۴۔
(6) سورہ بقرہ ،آیت ۱۸۰،پ۲۔
(7) صحیح بخاری ج۴ ،کتاب الوصایا ،باب( ۱) ح ۲۵۸۷۔ صحیح مسلم ج ۵، کتاب الوصیة۔ سنن ابی داوٴد ج ۱، باب” ما جاء فی یومر بہ من الوصیة“ ، ح ۲۸۶۲، ص ۶۵۴۔ سنن نسائی کتاب الوصایا ، باب الکراھیة فی تاخیر الوصیة ، ص ۲۳۹۔ سنن ابن ماجہ ج ۲، کتاب الوصایا، باب” الحث علی الوصیة“ ۔ سنن دارمی کتاب الوصایا باب من استحب الوصیة ص ۴۰۲۔ سنن ترمذی ،کتاب الوصیة ابواب الجنائز باب ما جاء فی الحث علی الوصیة ،ص ۲۲۴۔ مسند ج۲ ،مسند عبد الله ابن عمر، ص ۲ ، ۴ ،۵۷،۸۰۔
(8) صحیح مسلم جلد ۵، کتاب الوصیہ ۔
(9) الکامل جلد۱،” ذکر امر الله تعالی بنبیہ باظھار دعوتہ “ص۵۸۶ ، موٴلفہ ابن اثیر، تاریخ طبری حوادث ۳ ھ ۔
(10) افسوس کہ کچھ ایسے نافرمان صحا بہ رسول(ص) کی مجلس میں بیٹھے ہوئے تھے، جنہوں نے رسول(ص) کو نوشتہ نہ لکھنے دیا اور عذاب الیم کے مستحق بن گئے۔
صحیح بخاری جلد ۱ کتاب العلم باب کتابة العلم و جلد۷ ،کتاب المرضی باب ”قول المریض قوموا عنی“ دیکھئے :مزید معلومات کے لئے اسی کتاب کی فصل دوم بحث” امامت و خلافت صحیحین کی روشنی میں ،واقعہ قرطاس اور حضرت عمر کا رویہ“ مترجم۔۵۷۳۔
(11) سورہٴ احزاب، آیت۳۳،پ۲۲۔
(12) صحیح مسلم جلد۷،کتاب فضایل الصحا بة، باب” فضائل اھل بیت النبی صلی الله علیہ وآلہ وسلم“ ح ۲۴۲۴۔
(13) سورہٴ آل عمران،آیت۶۱، پ۴۔
(14) صحیح مسلم جلد۷ ، کتاب فضائل الصحا بة،باب” فضائل علی علیہ السلام“ حدیث۲۴۰۴۔ ۲۴۰۵۔ ۲۴۰۶۔ ۲۴۰۷۔
مسلم نے مذکورہ روایات کو دیگر متن و طریق کے ساتھ بھی نقل کیا ھے۔
(15) صحیح مسلم ج۷،کتاب فضایل الصحا بة، باب” فضائل علی علیہ السلام“ حدیث۲۴۰۸۔
(16) مستدرک حا کم، جلد۳ ،ذکر زید بن ارقم ،ص۵۳۳۔ مسند احمد ابن حنبل ،جلد۴ ،حدیث زید بن ارقم ،ص۳۷۲ ۔
(17) سرالعالمیَنْ وکشف ما فی الدارین ، باب فی المقالة الرابعة فی ترتیب الخلافة ص۲۱ ، مولفہ امام غزالی ،مطبوعة نعمان پریس ، دوسرا ایڈیشن ، ۱۹۶۵ء ،نجف عراق۔
(18) صحیح بخاری: جلد ۸، کتاب الدعوات، باب(۳۱)” الصلاة علی النبی(ص)“حدیث ۵۹۹۶۔۵۹۹۷۔ جلد ۳ ،کتاب الانبیاء، باب” یزفون النسلان فی المشی“(آیت نمبر۹۴) حدیث۳۱۹۰۔ جلد ۶، کتاب التفسیر تفسیر، سورہ احزاب، باب۱۰” آیة ان الله و ملائکتہ یصلون علی النبی “(ص)حدیث ۵۴۲۰ ،۴۵۱۹۔ صحیح مسلم جلد۲ ،کتاب الصلوة، باب” الصلٰوة بعد التشھد علی النبی“ حدیث ۴۰۵،۴۰۶،۴۰۷۔
(19) صحیح مسلم ج۱، کتاب الصلوٰة،باب” الصلوٰت النبی(ص)بعد التشھد“ح ۴۰۵، ۴۰۶،۴۰۷۔
(20) سورہٴلقمان،آیت ۲۱،پ۲۱۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.