نوجوان امام صادقؑ کے کلام کی روشنی میں

415

خلفاء عباسی کے زمانے میں جب محمد بن عبداللہ بن حسن کے والد شہید ہوگئے تو انہوں نے قیام فرمایا اور لوگوں کو حق کی جانب دعوت دی،حضرت امام صادقؑ نے رہنما کے عنوان سے انہیں فرمایا:”یاابن اخی علیک بالشّباب ودع عنک الشیوخ” [1]اے میرے بھتیجے جوانوں کو تلاش کرو اور بوڑھوں کو رہاکردو۔
امام صادقؑ سے مروی ہے کہ نوجوان بہت جلد حق بات کو قبول کرلیتے ہیں اور خیر ونیکی کی جانب بڑھتے ہیں، اسماعیل بن عبدالخالق نے نقل کیا ہے کہ میں نے سنا کہ امام صادقؑ ابو جعفر احوَل سے سوال کررہے تھے کہ کیاتم بصرہ گئے تھے؟اس نے کہا ہاں، امام نے فرمایا:امامت کے سلسلے میں لوگوں کو کیسا پایا؟اس نے جواب دیا خدا کی قسم شیعہ بہت کم ہیں، تلاش وجستجو کے بعد بھی کوئی فائدہ نہ ہوا۔امام صادقؑ نے فرمایا:”علیک بالاحداث فاِنھم اسرع الی کل خیر”[2]نوجوانوں کی تلاش میں رہو کیونکہ وہ نیکی کے راستے میں جلد بڑھتے ہیں ۔
انسان کے معنوی رشد کا سب سے بہترین وقت اس کی جوانی کا زمانہ ہے انبیاء علیھم السلام کو نبوت ملنے کی ایک وجہ ان کی جوانی میں ان کی عبادتیں تھیں۔ امام صادقؑ فرماتے ہیں :”اِنّ احب الخلائق الی اللہ تعالیٰ شابٌ حدث السنّ فی صورۃ حسنۃ جعل شبابہ ومالہ فی طاعۃ اللہ تعالی ذاک الذی یباھی اللہ تعالیٰ ملائکتہ فیقول عبدی حقاً”[3]
بے شک خدا کے نزدیک سب سے عزیز وہ کم سن نوجوان ہے جس نے اپنی جوانی اور خوبصورتی کو خدا کی اطاعت میں لگایا، خدا وندمتعال بھی ملائکہ کے درمیان ایسے نوجوان پہ فخر کرتے ہوئے کہتا ہے کہ یہ میرا حقیقی بندہ ہے۔
عبادت کسی سن وسال میں انجام دی جائے وہ بہت قیمتی ہوتی ہے لیکن جوانی میں اس کے آثار وبرکات الگ خاصیت کے حامل ہیں۔
امام صادقؑ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ پیغمبر اسلامؐ نے لوگوں کے ساتھ نماز صبح ادا کی تو دیکھا کہ ایک نوجوان مسجد میں آیا ہے جو نیند کی وجہ سے پریشان ہے ،اس کا رنگ زرد ہے اور وہ بہت کمزور ہے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا اے جوان صبح کیسے کی ؟
اس نے کہا: اے پیغمبر میں نے یقین کے ساتھ صبح کی ، پیغمبرؐ نے اس کی بات سننے کے بعد تعجب کیااور فرمایا ہر یقین کسی حقیقت پہ مبنی ہواکرتا ہے تمہارے یقین کی حقیقت کیا ہے؟اس نے کہا:اے پیغمبر میرا یقین ایک ایسی چیز ہے جس نے مجھے غمگین بنادیا ہے راتوں کو جاگتا ہوں دن میں روزہ رکھتا ہو ں میں نے دنیا اور مافیھا کو ترک کردیا ہے اور گویا میں دیکھ رہا ہوں کہ قیامت برپا پے اور لوگ حساب وکتاب کے لئے اپنی قبروں سے نکل رہے ہیں اور میں بھی ان میں کھڑا ہوں ۔پیغمبر اسلام صلی اللہ علی وآلہ وسلم نے فرمایا:یہ ایک ایسا بندہ ہے جس کے دل کو خدا نے نور ایمان سے منور بنادیا ہے اس کے بعد فرمایا: اپنی حفاظت کرنا۔جوان نے کہا اے رسول خدا میرے حق میں دعا کریں کہ خدا مجھے آپؐ کے ساتھ شہادت پہ فائز کرے۔ پیغمبر اسلامؐ نے اس کے حق میں دعا کی اور کچھ عرصہ کے بعد ایک جنگ میں وہ شہید ہوگیا۔[4]
 
 
[1] کافی،محمد بن یعقوب کلینی،ج۱،ص۳۶۲،ح۱۷
[2] کافی،ج۸،ص۹۳،ح۶۶
[3] اعلام الدین ،حسن دیلمی، قم موسسہ آل البیت،ص۱۲۰۔
[4] کافی،ج۲،ص
 

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.