تقویٰ و پرہیزگاری کے فوائد
انسان بچپن سے آخری وقت تک دیکھتا ، سنتا ، چکھتا ، لمس کرتا، سونگھتا اور سعی و کوشش کرتا ہے۔
انسان اور اس کی خواہشات
انسان بچپن سے آخری وقت تک دیکھتا ، سنتا ، چکھتا ، لمس کرتا، سونگھتا اور سعی و کوشش کرتا ہے۔
جس چیز کو دیکھتا، سنتا، چکھتا، لمس کرتا، سونگھتا اور کوشش کرتا ہے اسی کوچاہتا ہے۔
دیکھنے، سننے، چکھنے، لمس کرنے او رسونگھنے والی چیزوں کے مناظر بہت زیادہ دلربا ہوتے ہیں ، چنانچہ انھیں مناظر کی وجہ سے انسان کے خواہشات بھی بہت زیادہ ہوجاتی ہیں۔
دیکھی ہوئی ،اورسنی ہوئی یا مزہ دار چیزوں میں ،ان اشیاء کا استعمال کرنا جو خود اس کے لئے،یا اس کے اہل خانہ اور معاشرہ کے لئے نقصان دہ ہو، حرام اور ممنوع ہیں؛ خداوندعالم کے حکم سے حرام کردہ یہ سب چیزیں انبیاء اور ائمہ علیہم السلام کی ذریعہ بیان ہوئی ہیں، اور تمام چیزوں کا بیان کرنا رحمت پروردگار ،انبیاء اور ائمہ علیہم السلام کی محبت کا نتیجہ ہے۔
انسان روپیہ پیسہ، غذا، لباس، زمین و جائداد، گاڑی، خواہشات نفسانی اورجاہ و مقام کی آرزورکھتا ہے، لیکن یہ غور کرنا چاہئے کہ خواہشات بے قید و شرط کے نہ ہوں، ہماری خواہشات دوسروں کے حقوق کی پامالی کا سبب نہ بنیں، ہماری خواہشات کسی کا گھر یا معاشرہ کو درہم و برہم نہ کرڈالیں، ہماری خواہشات ،انسانی شرافت کونہ کھوبیٹھے ہماری، خواہشات اس حد تک نہ ہو ںکہ انسان اپنی آخرت کو کھوبیٹھے اور غضب الٰہی کا مستحق بن جائے اور ہمیشہ ہمیشہ کے لئے نار جہنم میں جلتا رہے، اس چیز کی اجازت نہ شریعت دیتی ہے اور نہ عقل و منطق، آپ کسی بھی صاحب فطرت اور صاحب وجدان اور عقل سلیم رکھنے والے شخص سے سوال کرلیں کہ میں مال و دولت، مقام ومنصب یا عورت کو حاصل کرنے کے بعد دوسرے کے حق کو پامال اور ان پر ظلم کرنا چاہتا ہوں، یا کسی کے دل کو جلانا یاکسی کا گھر برباد کرنا چاہتا ہوں تو دیکھئے وہ کیا جواب دیتا ہے، یا ان تمام سوالوں کو اپنی عقل و فکر اور وجدان سے پوچھ کر دیکھیں تو کیا جواب ملے گا؟
خود آپ اور دوسروں کی عقل صرف یہی جواب دے گی کہ ناجائز خواہشات کو ترک کردو، اور جس چیز کی خواہش ہے اسے اس طرح حاصل کرو جس طرح تمہارا حق ہے، اگر اس طرح آپ نے خواہشات پر عمل کیا تونہ کسی کا کوئی حق ضائع ہوگا اور نہ ہی کسی پر ظلم ہوگا۔
اگر یہی سوال خدا، انبیاء اور ائمہ علیہم السلام سے کریں گے تو جواب ملے گا اگر تمہارا حق ہے تو چاہو، اور اگر تمہارا حق نہیں ہے تو اس چیز کی خواہش نہ کرو، قناعت کے ساتھ ساتھ حلال طریقہ سے خواہشات کو پورا کرو لیکن اگر تمہاری خواہشات غیر شرعی طریقہ سے ہو یا اجتماعی قوانین کے خلاف ہے تو یہ ظلم و ستم ہے۔
اگر تمام خواہشات میں قوانین الٰہی اور معاشرتی حدود کی رعایت کی جائے تو زندگی کی سلامتی، حفظ آبرو، اور اخلاقی کمالات پر پہنچنے کا سبب ہیں، لیکن اگر ان خواہشات میں معاشرہ اور الٰہی قوانین کی رعایت نہ کی جائے تو انسان کی زندگی برباد ہوجاتی ہے ، اس کی عزت خاک میں مل جاتی ہے اور انسان میں شیطانی صفات اور حیوانی خصلتیں پیدا ہوجاتی ہیں۔
بہر حال انسانی زندگی میں پیش آنے والی تمام خواہشات دو قسم کی ہوتی ہیں: حساب شدہ خواہشات، اور غیر حساب شدہ خواہشات۔
حساب شدہ وہ خواہشات ہوتی ہیں جو خدا کی مرضی کے مطابق ہوں، اور اس کی مرضی کے مطابق ہی انسان آرزو کرے،جو قوانین الٰہی اور اس کے حدود کے مطابق ہوں. اس وقت انسان مال و دولت چاہتا ہے لیکن حلال مال و دولت، مکان چاہتا ہے لیکن حلال،شہوانی خواہشات کی آگ بجھانا چاہتا ہے لیکن شرعی نکاح کے ذریعہ، مقام و منصب چاہتا ہے لیکن رضائے الٰہی اور محتاج لوگوں کی مدد کرنے کے لئے، T.V دیکھنا چاہتا ہے لیکن صحیح او رمناسب پروگرام، ان تمام صورتوںمیں خواہشات رکھنے والا ایسا انسان مؤمن، بیدار، صاحب بصیرت، قیامت کو یاد رکھنے والا، ذمہ داری کا احساس کرنے والا، لوگوں سے نیکی اور مہربانی کرنے والا، معاشرے کے سلسلہ میں دلسوز، رضائے الٰہی کو حاصل کرنے والا، دین و دنیا کی سعادت چاہنے والا اور جہاد اکبر کرنے والاہوجاتا ہے۔
غیر حساب شدہ خواہشات وہ ہوتی ہیں جن میں صرف نفس شامل ہوتا ہے، جن میں انانیت کی بو آتی ہو، جن کی وجہ صرف تکبر و غرور اور خود خواہی ہوتی ہے اور وہ ضلالت و گمراہی سے ظاہر ہوتی ہیں۔
اس صورت میں آدمی مال و دولت چاہتا ہے لیکن جس راہ سے بھی ہو اس کے لئے کوئی مشکل نہیں چاہے سود ، چوری، غصب، مکاری، دھوکا فریب، رشوت وغیرہ کے ذریعہ ہی کیوں نہ ہو، مکان چاہتا ہے چاہے وہ اعزاء و دوستوں کے حق کو پامال کرنے سے ہو، شہوت کی آگ بجھانا چاہتا ہے چاہے استمنائ، لواط زنا وغیرہ کے ذریعہ سے ہی کیوں نہ ہو، مقام و منصب چاہتا ہے، چاہے دوسروں کو ان کے حق سے نامحروم کرنے ذریعہ ہی کیوں نہ ہو، کچھ سننا چاہتا ہے چاہے غیبت، تہمت اور حرام موسیقی اور گانا ہی کیوں نہ ہو۔
ایسی خواہشات رکھنے والا شخص بے دین، ضعیف الایمان، دل کا اندھا، بے بصیرت ، آخرت کو خراب کرنے والا، غضب الٰہی کا خریدنے والا اور ظلمت و گمراہی کے میدان میں شیطان کا نوکر ہوتا ہے۔
قرآن مجید نے ایسی خواہشات رکھنے والے انسان کو ‘ہوا و ہوس کے غلام’سے تعبیر کیا ہے۔
ہوا و ہوس انسان کی اس باطنی قوت کا نام ہے جو انسان پر حکومت کرتی ہے ، اور خود خدا کی جگہ قرار پاتی ہے ،خود اپنی کو معبود کہلواتی ہے، انسان کو اپنا غلام بنالیتی ہے اور انسان کو خدا کی عبادت و اطاعت کرنے کے بجائے اپنی عبادت کے لئے مجبور کرتی ہے:
( َرََیْتَ مَنْ اتَّخَذَ ِلَہَہُ ہَوَاہُ َفََنْتَ تَکُونُ عَلَیْہِ وَکِیلًا).(١)
‘کیا آپ نے اس شخص کودیکھاہے جس نے اپنی خواہشات ہی کو اپنا خدا بنا لیا ہے ،کیا آپ اس کی بھی ذمہ داری لینے کے لئے تیا ر ہے’۔
انسان اپنی زندگی کے آغازسے جس چیز کو دیکھتا ہے اس کو حاصل کرنا چاہتا ہے، جس چیز کو سنتا ہے اس کے پیچھے دوڑتا ہے اور جس چیز کا دل چاہتا ہے اس کو حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے، اپنے پیٹ کو حلال و حرام کی پروا ہ کئے بغیر بھرتا ہے، شہوت کی آگ بجھانا چاہتا ہے چاہے جس طرح سے بھی ہو، مال و دولت کے حصول کے لئے، مقام و عہدہ پانے کے لئے کسی بھی حق کی رعایت نہیں کرتا، درحقیقت ایسا انسان ہوا وہوس کے بت سازکارخانہ میں داخل ہوجاتا ہے، جو کچھ ہی مدت کے بعد اپنے ہاتھوں سے بت تراشناشروع کردیتا ہے، اور اس بت کو دل میں بسالیتا ہے اور یہی نہیں بلکہ اپنے ہاتھ سے بنائے ہوئے بت کی پوجا شروع کردیتا ہے!
افسوس کی بات ہے کہ بہت لوگوں کی عمر کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ان کا باطن بت خانہ بن جاتا ہے اور اس کی تلاش و کوشش کا ثمرہ ‘ہواپرستی کا بت ‘ ہوتا ہے اور ان کا کام اس بت کی عبادت کرنا ہوتا ہے، ایک عارف کے بقول:
انسانی نفس خود سب سے بڑا بت ہے
اس بت کی پوجا کرنے والے یہ لوگ کسی جاندار کی جان کو جان نہیں سمجھتے، کسی کی عزت کو کوئی اہمیت نہیں دیتے، کسی کے حق کی رعایت نہیں کرتے، ایک معاشرہ کی عزت وناموس کو پامال کردیتے
(١)سورۂ فرقان آیت ٤٣.
ہیں، ہر چیز پر اپنا حق جتاتے ہیں لیکن دوسروں کے لئے کسی بھی طرح کے حق کے قائل نہیں ہوتے۔
خداوندعالم نے تمام بندوں کو دنیا و آخرت کی خیر و بھلائی کے لئے نفس اور اس کی بے حساب و کتاب خواہشات کی پیروی نہ کرنے کا حکم دیا ہے، اگرچہ ہوائے نفس کی مخالفت ظاہراً ان کے اور دوسروں کے لئے نقصان دہ ثابت ہوتی ہو۔
( یَاَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوا کُونُوا قَوَّامِینَ بِالْقِسْطِ شُہَدَائَ لِلَّہِ وَلَوْ عَلَی َنفُسِکُمْ َوْ الْوَالِدَیْنِ وَالَْقْرَبِینَ ِنْ یَکُنْ غَنِیًّا َوْ فَقِیرًا فَاﷲُ َوْلَی بِہِمَا فَلاَتَتَّبِعُوا الْہَوَی َنْ تَعْدِلُوا…).(١)
‘اے ایمان والو! عدل و انصاف کے ساتھ قیام کرو اور اللہ کے لئے گواہ بنو چاہے اپنی ذات یا اپنے والدین اور اقرباء ہی کے خلاف کیوں نہ ہوں جس کے لئے گواہی دینا ہے وہ غنی ہو یا فقیر، اللہ دونوں کے لئے تم سے اولیٰ ہے، لہٰذا تم ہوا و ہوس کی پیروی نہ کرو، اور عدالت سے کام لو ‘۔
قرآن مجید نے ہوائے نفس کے بت کی پیروی کو ضلالت و گمراہی ، حق سے منحرف ہونے اورروز قیامت کو فراموش کرنے کا سبب بتایا ہے، اور قیامت کے دن درد ناک عذاب میں مبتلا ہونے کا سبب بیان کیا ہے۔
( وَلاَتَتَّبِعْ الْہَوَی فَیُضِلَّکَ عَنْ سَبِیلِ اﷲِ ِنَّ الَّذِینَ یَضِلُّونَ عَنْ سَبِیلِ اﷲِ لَہُمْ عَذَاب شَدِید بِمَا نَسُوا یَوْمَ الْحِسَابِ).(٢)
‘اور خواہشات کا اتباع نہ کرو کہ وہ راہ خدا سے منحرف کردے ،بے شک جو
(١)سورۂ نساء ،آیت ١٣٥. (٢)سورۂ ص،آیت٢٦.
لوگ راہ خدا سے بھٹک جاتے ہے ان کے لئے شدید عذاب ہے کہ انہوں نے روز حساب کو بالکل نظر انداز کردیا ہے۔’
قرآن مجید نے عظمت خدا سے خوف زدہ اورہوائے نفس سے مقابلہ کرنے کو بہشت میں داخل ہونے کا سبب بتایا ہے:
(وَأَمَّامَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّہِ وَنَھَی النَّفْسَ عَنِ الْھَویٰ فَِنَّ الْجَنَّةَ ھِیَ الْمَاویٰ).(١)
‘اور جس نے رب کی بارگاہ میں حاضری کا خوف پیدا کیا ہے اور اپنے نفس کو خواہشات سے روکا ہے، تو جنت اس کا ٹھکانہ او رمرکز ہے’۔
قرآن مجید نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے زمانہ کے مشہور عالم ‘بلعم باعورا’ کے ایمان سے ہاتھ دھونے، روحانیت اور معنویت سے جدائی، مادیت سے آلودہ ہونے اور اس کے اندر پیدا ہونے والی بُری صفات کی وجہ ،ہوائے نفس کی پیروی بتایاہے:
(… وَلَکِنَّہُ َخْلَدَ ِلَی الَْرْضِ وَاتَّبَعَ ہَوَاہُ فَمَثَلُہُ کَمَثَلِ الْکَلْبِ ِنْ تَحْمِلْ عَلَیْہِ یَلْہَثْ َوْ تَتْرُکْہُ یَلْہَثْ ذَلِکَ مَثَلُ الْقَوْمِ الَّذِینَ کَذَّبُوا بِآیَاتِنَا…).(٢)
‘…لیکن وہ خود زمین کی طرف جھک گیااور اس نے خواہشات کی پیروی اختیار کر لی تو اب اس کی مثال کتے جیسی ہے کہ اس پر حملہ کرو تو بھی زبان
(١)سورۂ نازعات آیت ٤٠.
(٢)سورۂ اعراف،آیت ١٧٦.
نکالے رہے اور چھوڑ دو تو بھی زبان نکالے رہے .یہ اس قوم کی مثال ہے جس نے ہماری آیات کی تکذیب کی ..’۔
قرآن مجید نے غافلوں ،ہوائے نفس میں گرفتار اور ذلیل و پست افراد کی اطاعت کرنے سے سخت منع کیا ہے :
(… وَلاَتُطِعْ مَنْ َغْفَلْنَا قَلْبَہُ عَنْ ذِکْرِنَا وَاتَّبَعَ ہَوَاہُ وَکَانَ َمْرُہُ فُرُطًا).(١)
‘…اور ہرگز اس کی اطاعت نہ کرنا جس کے دل کو ہم نے اپنی یاد سے محروم کردیا ہے اور وہ اپنے خواہشات کا پیروکار ہے اور اس کاکام سراسر زیادتی ہے’۔
قرآن مجید کے مختلف سوروں] جیسے سورہ مائدہ، سورہ انعام، سورہ رعد، سورہ مومنون، سورہ قصص، سورہ شوریٰ، سورہ جاثیہ اور سورہ محمد(٢)[ کے لحاظ سے ہوائے نفس کی پیروی کتب آسمانی کی تکذیب، گمراہی، ولایت خدا سے دوری، زمین و آسمان اوران میں رہنے والوں میں فساد ، نبوت سے دوری، استقامت کو کھوبیٹھنے، غافل اور جاہل لوگوں کے جال میں پھنسنے اور ان کے دل پر مہر لگنے کا سبب ہیں۔
ہوائے نفس کی غلامی کی پہچان درج ذیل چیزیں ہیں:
بُرا اخلاق، بُرا عمل ، بے حساب و کتاب زندگی، دوسری مخلوق کے حقوق کی رعایت نہ کرنا،
(١)سورۂ کہف ،آیت ٢٨.
(٢) سوروں کی ترتیب کے لحاظ سے آیات نمبر ٧٧۔ ١٥٠۔ ٣٧۔ ٧١۔ ٥٠۔ ١٥۔ ٢٣ ۔١٦.
دوسروں پر ظلم و ستم کرنا، ترک عبادت، گناہان کبیرہ سے آلودہ ہونا، گناہان صغیرہ پر اصرار کرنا، غیظ و غضب اور غصہ سے کام لینا،لمبی لمبی آرزوئیں کرنا،نیک لوگوں کی صحبت سے دور ہونااورگناہگار او ر بُرے لوگوں کی صحبت سے لذت اٹھانا ۔
جہاد اکبر
اگر ہوائے نفس میں گرفتار شخص اپنی دنیا و آخرت کی بھلائی چاہتا ہے، اگر اپنے ماتحت لوگوں کی خیرخواہی چاہتا ہے، اگر اپنے باطن و عمل اور اخلاق کی اصلاح کرنا چاہتا ہے تو ایسے شخص کے لئے چارہ کار یہ ہے کہ ایک شجاع و بہادر فوج کی طرح ہوائے نفس سے جنگ کے لئے کھڑا ہوجائے اور اس بات پر یقین رکھے کہ اس جنگ میں خدا کی نصرت و مدد اور اس کی رحمت شامل حال ہوگی اور سو فی صد اس کی کامیابی اور ہوائے نفس کی شکست ہے۔
اگر اس جنگ میں کامیابی ممکن نہ ہوتی تو پھر انبیاء علیہم السلام کی بعثت، ائمہ علیہم السلام کی امامت اور آسمانی کتابوں کا نزول لغو اوربے ہودہ ہوجاتا۔
چونکہ اس جنگ میں شریک ہونا اور اس میں کامیابی حاصل کرنا نیز ہوائے نفس کے بت کو شکست دینا سب کے لئے ممکن ہے، لہٰذا انبیاء علیہم السلام کی بعثت، ائمہ علیہم السلام کی امامت اور آسمانی کتابوں کا نزول ہوا ، اور اس سلسلہ میں سب پر خدا کی حجت تمام ہوگئیں، اور اب کسی کے پاس دنیا میں یا آخرت میںکوئی قابل قبول عذر نہیں ہے ۔
لہٰذا انسان کو چاہئے کہ ہوائے نفس میں گرفتار ہونے اور اپنے باطن میں یہ خطرناک بت پیدا ہونے سے پہلے ہی خود اپنی حفاظت کرے اور ہمیشہ یاد خدا میں غرق رہے،اور خودکو گناہوں سے محفوظ رکھے تاکہ یہ خطرناک بت اس کے دل میں گھر نہ بنالے اگر ایساکر لیااور اپنے نفس کو محفوظ رکھ لیا تو یہی عین کرامت اور شرافت ہے جس کے ذریعہ انسان میں تقویٰ اور انسانیت پیدا ہوتی ہے۔
لیکن جب انسان کے اندر غفلت کی وجہ سے یہ بت پیدا ہوجاتا ہے، اور ایک مدت کے بعد خدائی چمک یا نفسانی الہام، یا وعظ و نصیحت، یا نیک لوگوں کی سیرت کے مطالعہ کے بعد اس بت کے پیدا ہونے سے مطلع ہوجائے ،اس کی حکومت کے خطرناک آثار سے آگاہ ہوجائے اور اس کے بعد بھی اس سے جنگ کے لئے قدم نہ اٹھائے، بلکہ ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھ جائے یا سستی سے کام لے توکم از کم ایک واجب کے عنوان سے یا واجب سے بھی بالاتر خداوندعالم کے حکم کی اطاعت،اور انبیاء و ائمہ علیہم السلام کی دعوت پر لبیک کہتے ہوئے اپنے اخلاق و اعمال کی اصلاح کے لئے آگے بڑھے اور اپنے گناہوں سے توبہ کرتے ہوئے واجبات کو انجام دے ،خدا کی عبادت کرے، نیک اور صالح افراد کے ساتھ بیٹھے، مال حرام سے پرہیز کرتے ہوئے ‘ہوائے نفس کے بت ‘سے جنگ کے لئے تیار ہوجائے کہ اس جنگ میں فتح کا سہرا اسی کے سر ہوگا، اس جنگ کو دینی تعلیمات میں ‘جہاد اکبر’ کہا جا تا ہے۔
حضرت امام صادق علیہ السلام سے روایت ہے:
‘اِنَّ النَّبِیَّ بَعَثَ سَریَّةً، فَلَمَّا رَجَعُوا قَالَ: مَرْحَباً بِقَوْمٍ قَضَوُا االْجِہَادَ الاَصْغَرَ، وَ بَقِیَ عَلَیْہِمُ الْجِہَادَ الاَکْبَرُ . فَقِیْلَ یَا رَسُوْلَ اﷲِ! وَمَا الْجِہَادُ الاَکْبَرُ؟ قَالَ: جِہَادُ النَّفْسِ’.(١)
‘پیغمبر اکرم ۖ نے بعض اصحاب کو جنگ کے لئے بھیجا، جب وہ اسلامی لشکر جنگ سے واپس لوٹا، تو آنحضرت ۖ نے فرمایا: مرحبا ،اس قوم پر جو جہاد اصغر انجام دے کر آرہی ہے، اور جہاد اکبر ان کے ذمہ باقی ہے. لوگوں نے سوال کیا: یا رسول اللہۖ! جہاد اکبر کیا چیزہے، توآپ نے فرمایا:
(١)وسائل الشیعہ،ج١٥،ص١٦١،چاپ آل البیت باب ١ حدیث ٢٠٢٠٨.
‘جہاد بالنفس’ ]یعنی اپنے نفس سے جنگ کرنا[
یہ بات واضح ہے کہ ‘نفس سے جنگ ‘،خود نفس سے جنگ کرنا نہیں ہے بلکہ اس کے خطرناک پہلو سے جنگ کرنا مراد ہے جس کو قرآن کریم نے ‘ہواو ہوس’ کا نام دیا ہے۔
ہوائے نفس کے مقابل لڑنا اور جہادکرنا ہر دوسرے جہاد سے بالاتر ہے، ہوائے نفس سے ہجرت کرنے والے کی ہجرت ہر ہجرت سے افضل ہے، ا ور اس جہاد کا ثواب ہردوسرے ثواب سے بہتر ہے۔
حضرت علی علیہ السلام کہ خود آپ نفس سے جہاد کرنے والوں میں بے نظیر ہیں؛ فرماتے ہیں:
‘مَاالْمُجَاہِدُ الشَّہِیْدُ فِی سَبِیْلِ اﷲِ بِاَعْظَمَ اَجْراً مِمَّنْ قَدَرَ فَعَفَّ، لَکَادَ الْعَفِیْفُ اَنْ یَکُونَ مَلَکاً مِنَ الْمَلاَئِکَةِ’.(١)
‘راہ خدا میں جہاد کرکے شہید ہوجانے والا اس سے زیادہ اجر کا حقدار نہیں ہوتا ہے جتنا اجر اس شخص کے لئے ہے جو اختیارات کے باوجود عفت سے کام لے کہ عفیف و پاکدامن انسان قریب ہے کہ وہ صفوف ملائکہ میں شمار ہو ‘۔
اصلاح نفس کا طریقہ
ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء علیہم السلام کی بعثت کے پیش نظر ، معتبر اسلامی کتابوں اور قرآن مجید میں احکام الٰہی بیان ہوئے ہیں، اسی طرح آسمانی کتابوں کے پیش نظر خصوصاً قرآن مجید میںجو خاتم الانبیاء حضرت محمد مصطفی ۖ کا زندۂ جاوید معجزہ ہے، نیز ائمہ علیہم السلام کی امامت کہ جن کے ارشادات زندگی کے ہر پہلو کے لئے کتب حدیث میں موجود ہیں، اسی طرح انسانی فطرت، عقل
(١)نہج البلاغہ،حکمت ٤٧٤.
اور وجدان کے پیش نظر جو انسان کے پاس الٰہی امانتیں ہیں اور دنیا و آخرت کے لئے مفید سرمایہ ہیں، لہٰذا ان تمام معنوی اور روحانی امور کے ذریعہ زندگی کے تمام پہلوئوں میں سب انسانوں پر خدا کی حجت تمام ہوچکی ہے، کیا یہ کہا جاسکتا ہے کہ انسان کے لئے اصلاح کا راستہ بندہوگیا ہے یا یہ کہ انسان میں اصلاح کے راستہ پرچلنے کی طاقت نہیں ہے، یا انسان اپنے اعمال و اعتقادات اور اخلاق میں مجبور ہے؟
مسلّم طور پر ان تمام مسائل کا جواب منفی ہے، اصلاح کا راستہ روز قیامت تک سب کے لئے کھلا ہے، اور اس راستہ پر چلنے کی طاقت ہر انسان میںموجود ہے، اور انسان کسی بھی اعتقاد و عمل اور اخلاق کے سلسلہ میں مجبور نہیں ہے۔
ہمیشہ تاریخ میں ایسے افراد ملتے ہیں جنھوں نے گناہوں میں مبتلا ہونے،معصیت سے آلودہ ہونے اور ہوائے نفس کا اسیر ہونے کے بعد اپنے گناہوں سے توبہ کی اور معصیت کی گندگی سے پاک اور ہوائے نفس کی غلامی سے آزاد ہوگئے، جو خود اس بات کی دلیل ہے کہ نہ تو اصلاح کا راستہ بند ہے اور نہ انسان بُرے کام کرنے پر مجبور ہے۔
یقینااس طرح کے بے بنیاد مسائل اور بے دلیل مطالب انسانی تہذیب میں ان لوگوں کی طرف سے داخل ہوگئے جو اپنے گناہوں پر عذر پیش کرنا چاہتے ہیں یا دنیاوی لذتوں کے شکار ہوچکے ہیں، وہ خود بھی خواہشات اور ہوا و ہوس میںگرفتار ہوچکے ہیں اور دوسرے کو بھی گمراہ کرنا چاہتے ہیں۔
یہ لوگ اپنی باتوں کے بے بنیاد ہونے سے آگاہ ہیں اور اس بات کو اچھی طرح جانتے ہیں کہ یہ باتیں بے دلیل اور علم و منطق کے برخلاف ہیں اگرچہ ان باتوں کو کبھی کبھی تہذیبی و نفسیاتی ماہرین یا مشرقی اور مغربی یونیورسٹی کے اساتید کی زبان سے سنتے ہیں جن پر شہوتوں کا بھوت سوار رہتا ہے:
( بَلْ الِْنسَانُ عَلَی نَفْسِہِ بَصِیرَة ٭وَلَوْ َلْقَی مَعَاذِیرَہُ ).(١)
(١)سورۂ قیامت ،آیت ١٤۔١٥.
‘بلکہ انسان خود بھی اپنے نفس کے حالات سے خوب باخبر ہے.چاہے وہ کتنے ہی عذر کیوں نہ پیش کرے’۔
کیا وہ افراد جو حیلہ او رمکاری، دھوکا اور فریب اور ریاکاری کرتے ہیں،اور دوسروں کو ذلیل و رسوا کرتے ہیں،یا کسی بے بنیاد مسئلہ کو علمی رنگ دے کر پیش کرتے ہیں یا اپنا واقعی چہرہ مخفی رکھتے ہیں یا عوام الناس کو دھوکہ میں ڈال کر ان پر حکومت کرنا چاہتے ہیں یا کسی قوم و ملت کو بے بنیاد مکتب لیکن علمی رنگ دے کر لوگوں کو اس کی دعوت دیتے ہیں،کیا یہ لوگ خود معاشرہ میں پیش کرنے والے مسائل کے بارے میں آشنائی نہیں رکھتے؟!
قرآن مجید کے بیان کے مطابق یہ لوگ ان تمام مسائل کو جانتے ہیں لیکن یہ وہ افراد ہیں جنھوں نے انسانی زندگی کے آب حیات کو ہمیشہ مٹی سے آلودہ کردیا ہے تاکہ اپنی خواہشات کو پورا کرنے کے لئے خوب مچھلی پکڑسکیں۔
بے شک اس ماحول میں گمراہی اور ضلالت پائی جاتی ہے، یہاں پر نخوت و تکبر اور جہالت کا دور دورہ ہے۔
ایسے لوگ جو حقائق کائنات اورخالق کے وجود کا انکار کرتے ہیں، اور خداوندعالم کی نشانیوں کو جھٹلاتے ہیں، ان لوگوں کایہی کام ہونا بھی چاہئے، بے بنیاد اور باطل مسائل ہی ان کے ذہن میں خطور کرسکتے ہیں، اس کے بعد اس کو ایک ‘آئین و مکتب فکر’ قرار دیدیتے ہیں، تاکہ دوسرے لوگوں کو حقائق سے اور خداوندعالم سے دور کردیں۔
یہ لوگ زمین پر فتنہ و فساد، نسل کشی، تباہی و بربادی اور قوم و ملت کو گناہ و معصیت میں آلودہ کرنے کے علاوہ کوئی ہدف نہیں رکھتے۔
(وَِذَا تَوَلَّی سَعَی فِی الَْرْضِ لِیُفْسِدَ فِیہَا وَیُہْلِکَ الْحَرْثَ وَالنَّسْلَ وَاﷲُ لاَیُحِبُّ الْفَسَادَ.) (١)
‘اور جب آپ کے پاس سے منھ پھیر تے ہیں تو زمین میں فساد برپا کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور کھیتیوں اور نسلوں کو برباد کرتے ہیں جب کہ خدا فساد کو پسند نہیں کرتا ہے’.
صہیونیزم کے رہنماؤں نے اپنی ‘پروٹوکل’ "Protocole"کتاب میں لکھا ہے: ہم نے ‘داروین’، ‘مارکس’ اور ‘نیچہ ‘کی کامیابی کو انہیں نظریات پر بنیاد رکھی ہے، اور جس کے برے اثرات ہمارے لئے بہت واضح ہیں( جس کا اثر غیر یہودی لوگوں پر ہورہا ہے)
یہودیت کے اپنے تین دانشوروں : مارکس، فرویڈاور ڈرکائم کے ذریعہ ‘داروین’ اور ‘تدریجی ترقی’پیش کی گئی جس سے یورپ میں موجود فضیلت کو بالکل ختم کردیا ہے، ان تینوں دانشوروں نے ہمیشہ دین کی توہین کی ہے، ان لوگوں نے دین کی صورت کو بگاڑ کر بد صورت بنا کر پیش کیا ہے۔(٢)
ان لوگوں نے اپنے سے وابستہ دانشوروں کے نظریات کی بدولت کسی بھی انسانی فضیلت کو خراب کئے بغیرنہیں چھوڑا، کیونکہ انھوں نے خالق کائنات کے رابطہ سے لے کرعالم ہستی نوع بشر کے تمام رابطوں کو فاسد او رتباہ و برباد کردیا ہے، انھیںخرافات میں بدل دیا ہے۔
ان کے اصلی انحرافات خدا کے بارے میں ہیں اسی طرح انسان کا خدا سے کیا تعلق ہے یااس کائنات کا خداسے اور خدا کا اس سے کیا ربط ہے، نیزانسان کا رابطہ دنیا سے اور دنیا کا رابطہ انسان سے کیا ہے، خلاصہ یہ کہ انھوں نے ان تمام چیزوں میں انحراف پیدا کردیا ہے۔
(١)سورہ بقرہ آیت٢٠٥.
(٢)جاہلیت قرن بستم،٥٣.
زندگی کا تصور ، زندگی کے اہداف و مقاصد، انسانی نفس ، ایک انسان کا دوسرے انسان سے رابطہ، بیوی شوہر کارابطہ اورمعاشرہ کا رابطہ غرض یہ کہ زندگی کے تمام پہلوئوں میں انحراف پیدا کرڈالا ہے۔
انہی غلط اور خطرناک انحرافات کا نتیجہ یہ ہوا کہ انسان کی حقیقی زندگی ہوائے نفس سے متاثر ہوگئی، انسان طاغوت کے سامنے جھک گیا ہے، شہوت میں گرفتار ہوگیا ہے ، چنانچہ ہر روز فتنہ و فساد میں اضافہ ہوتا چلا جارہا ہے، اور ان ہلاک کنندہ فساد کی انتہا اس وقت ہوگی جب ‘خدا’ کو بے تاثیر معبود قرار دیا جانے لگے گا اور دوسرے باطل معبودوں کو انسانی زندگی پر قبضہ ہوجائے گا۔(١)
یہ لوگ (بقول خود)اپنی علمی چھلانگ کے ذریعہ اس جگہ پہنچ چکے ہیں کہ دنیا کے اکثر لوگوں کو یہ یقین کرادیا کہ اقتصاد، اجتماع اور تاریخ کی طاقت ہی انسان کی زندگی پر اثر انداز ہوتی ہے اور انسان کو اس کی مرضی کے بغیر اپنے تحت لے کر اس کو مسخر کرلیا ہے۔
ان بے بنیاد اور باطل گفتگو نے امریکہ اور یورپ میں بہت سے لوگوں خصوصاً جوانوں کو اس جگہ پہنچا دیا ہے کہ آج کل کے انسان کی زبان پر یہ نعرہ ہے:
‘میں قید و بند کی زنجیر میں جکڑا ہوا ہوں، مجھے اپنی مرضی سے اپنی زندگی کو منظم کرنا چاہئے!
میں اپنے عقائد اور طرز زندگی کو اپنی عقل کے لحاظ سے تنظیم کرنا چاہتا ہوں۔
میں اس وقت اور آئندہ کی زندگی کو مستقل طور پر اور خدا کی سرپرستی کے علاوہ ہی منظم کرنا چاہتا ہوں!’
چنانچہ انسان انھیں چیزوں کی وجہ سے خدا کی حمایت سے دور ہوتاجارہا ہے اور شیطان کے مکر و فریب میں پھنستا جارہا ہے ۔
(١)جاہلیت قرن بستم،٧٨.
اسی نظریہ اور غرور کی وجہ سے پوری دنیا میں ظلم و ستم کا بول بالا ہے، اور انسان مختلف غلامی کی ذلت میں گرفتار ہوگیا ہے بعض لوگ مال و دولت کے غلام، بعض لوگ حکومت کے غلام اور بعض لوگ ڈیکٹیٹری کے غلام اور بعض شہوت اور مستی کے غلام بن گئے ہیں۔
اسی وجہ سے ساری دنیا میں فسق و فجور پھیلا ہوا ہے، اور تمام جوان لڑکوں اور لڑکیوں کو گناہوں کے کھنڈر میں گرادیا ہے۔
اسی انحراف کی وجہ سے انسان جنون کی حد تک پہنچ گیاہے اور ماڈرن ممالک کے ہسپتالوںمیں ان دیوانوں کے لئے جگہ نہیں ہے،دوسری طرف سے مڈرنیزم پرستی ، فلم اور فلمی ستاروں اور دوسری شہوتوں نے انسان کو اپنی حقیقت کے بارے میں غور وفکر کرنے سے روک دیا ہے جس سے اس کی تمام عمر یونہی غفلت و تباہی میں برباد ہوتی جارہی ہے۔
اس منحوس زندگی کے نتائج نے (جس نے انسان کے ظاہر و باطن کو آلودگی، انحراف اور فسق و فجور میں غرق کردیا ہے) دنیا بھر کے بہت سے لوگوں کو مایوس کردیا ہے ان کی روح میں یاس و ناامیدی پیدا ہوگئی ہے، اپنی فطرت کو برداشت نہ کرتے ہوئے کہتے ہیںکہ انسان کے لئے اصلاح کا راستہ بند ہے اور اگر کھلا بھی ہو تو انسان میں اس راستہ پر چلنے کی طاقت نہیں ہے، اور نسبتاً اپنے سکون کے لئے کہتے ہیں: انسان اپنے تمام امور میں قضا و قدر اور جبر کاتابع ہے، یعنی انسان خودکچھ نہیں کرسکتا جیسا اس کی تقدیر میں ہوگا ویسا ہوکر ہی رہے گا۔
حقیقی اسلام کی ثقافت نے مذہب شیعہ اثناعشری میں ایک خاص روشنی پیدا کردی ہے ، قرآنی آیات اور ائمہ علیہم السلام کی تعلیمات کے پیش نظر دلیل و حکمت او رمنطق و برہان کے ساتھ یہ اعلان ہوتا ہے کہ کسی بھی انسان کے لئے ‘اصلاح کا راستہ ‘بند نہیں ہے اور قیامت تک کسی بھی انسان کے لئے بند نہیں ہوگا، نیز اس راستہ پر چلنا ہر خاص و عام کے لئے ممکن ہے، اگرچہ مختلف گناہوں سے آلودہ ہوں، اور انسان کے اعمال و عقائد اور اس کا اخلاق قضا و قدر کے تابع نہیں ہے، بلکہ انسان اپنے اختیار سے سب کچھ کرتا ہے۔
قارئین کرام! انسان کی خیر و بھلائی ، پاکیزگی اور پاکدامنی کے لئے دینی تعلیمات کی طرف ایک اشارہ کرنا مناسب ہے۔
حضرت امام صادق علیہ السلام نے ایک شخص سے فرمایا:
‘اِنَّکَ قَدْ جُعِلْتَ طَبِیبَ نَفْسِکَ ،وَبُیِّنَ لَکَ الدّائُ ،وَعُرِّفْتَ آیَةَ الصِّحَّةِ ،وَ دُلِلْتَ عَلَی الدَّوَائِ،فَانْظُرْکَیْفَ قِیَامُکَ عَلَی نَفْسِکَ’.(١)
‘بے شک تم اپنے کو ایک طبیب کی طرح قرار دو، تمہیں مشکلات اور مرض کے بارے میں بتادیا گیا، اور صحت کی نشانیوں کو بھی بیان کردیا گیا ہے، تمہاری دوائی بھی بتادی گئی ہے ، لہٰذا نتیجہ کے بارے میں غور و فکر کرو کہ کس طرح اپنی حالت کی اصلاح کے لئے قدم بڑھاسکتے ہو’۔
جی ہاں انسان اپنی حالت سے خوب واقف ہے اس کا درد باطل عقائد ، شیطانی بد اخلاقی اور غیر صالح اعمال ہیں جن کی تفصیل قرآن و حدیث میں بیان ہوئی ہے، صحیح ایمان، اخلاق حسنہ، باطنی سکون اورعمل صالح یہ تمام چیزیں سلامتی اور صحت کی نشانی ہیں، توبہ و استغفار، تقویٰ ،عفت اور گناہوں سے مقابلہ ان تمام دردوں کی دوا ہے، لہٰذا انسان کو ان تمام حقائق کے ذریعہ مدد حاصل کرتے ہوئے اپنی اصلاح کے لئے قدم اٹھانا چاہئے۔
(١)من لا یحضر الفقیہ: ٣٥٢٤، باب النوادر، حدیث ٥٧٦٢؛ وسائل الشیعہ: ١٦٢١٥، باب ١، حدیث ٢٠٢١٤.
حضرت امام محمد باقر علیہ السلام اپنے آباء و اجداد کے حوالے سے نقل فرماتے ہیں کہ پیغمبر اکرمۖ نے حضرت امیر المومنین علی بن ابی طالب علیہ السلام سے فرمایا:
‘یَاعَلِی،اَفْضَلُ الْجِھَادِ مَنْ اَصْبَحَ لاَ یَھُمُّ بِظُلْمِ اَحَدٍ’.(١)
‘یا علی! سب سے بہتر اور افضل جہاد یہ ہے کہ انسان صبح اٹھے تو کسی پر ظلم و ستم کا ارادہ نہ رکھتا ہو’۔
اگر انسان ہر روز گھر سے باہر نکلتے وقت کسی شخص پر یہاں تک کہ اپنے دشمن پر بھی ظلم کرنے کا ارادہ نہ رکھتا ہو اور ان کی نسبت خیر و نیکی کی نیت ہو اور لوگوں کی خدمت کے علاوہ کوئی دوسرا قصد نہ ہو تو پھر اگر یہی صورت حال رہی تو انسان کے اندر نور ایمان پیدا ہوجاتا ہے اور ظاہری اصلاح و نیکی سے مزین ہوجاتا ہے۔
حضرت امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں:
‘مَنْ مَلَکَ نَفْسَہُ اِذَارَغِبَ ،وَاِذَا رَھِبَ،وَاِذَا شْتَھَیٰ، وَاِذَا غَضِبَ، وَاِذَا رَضِیَ،حَرَّمَ اﷲُ جَسَدَہُ عَلَی النَّارِ’.(٢)
‘اگر انسان رغبت، خوف، خواہشات، غیظ و غضب اور خوشی و غم کے وقت اپنے کو گناہ و معصیت اور ظلم و ستم سے محفوظ رکھے تو خداوندعالم اس کے بدن کو آتش دوزخ پر حرام کردیتا ہے’۔
حضرت امیر المومنین علیہ السلام اکثر فرمایا کرتے تھے:
(١)کافی: ٤٥٤٢، باب محاسبة العمل، حدیث ٦؛ وسائل الشیعہ: ١٦١١٥، باب ١، حدیث ٢٠٢١٠.
(٢) امالی صدوق: ٣٢٩،مجلس ٥٣،حدیث٧؛ ثواب الاعمال : ١٥٩؛وسائل الشیعہ :ج١٥،ص١٦٢ ، باب ١، حدیث ٢٠٢١٥.
‘نَبِّہْ بِالتَّفَکُّرِ قَلْبَکَ ،وَجَافِ عَنِ اللَّیْلِ جَنْبَکَ ،وَاتَّقِ اﷲَ رَبَّکَ’.(١)
‘اپنے دل کو غور و فکر کے ذریعہ بیدار رکھو، رات کو عبادت کرو، اور زندگی کے تمام امور میں تقویٰ الٰہی اختیار کرو’۔
حضرت امام صادق علیہ السلام کا ارشاد ہے:
‘اَلتَّفَکُّرُ یَدعُوا اِلَی الْبِرِّ وَالْعَمَلِ بِہِ’.(٢)
‘تمام امور میں تفکر اور غور و فکر کرنے سے انسان میں نیکی اور عمل صالح کا جذبہ پیدا ہوتا ہے’۔
ایک شخص نے امام صادق علیہ السلام کی خدمت میں عرض کیا: مجھے اخلاقی کر امت اور شرافت تعلیم فرمائیں، تو اس وقت امام علیہ السلام نے فرمایا:
‘اَلْعَفْوُ عَمَّنْ ظَلَمَکَ ،وَصِلَةُ مَنْ قَطَعَکَ ،وَاِعْطَائُ مَنْ حَرَمَکَ، وَ قَوْلُ الْحَقِّ وَلَوْ عَلَی نَفْسِکَ’.(٣)
‘جس نے تجھ پر ظلم کیا ہو اس کو بخش دے اور جس نے تجھ سے قطع تعلق کیا ہو اس سے صلہ رحم کر، جس نے تجھے محروم کردیا ہو اس کو عطا کر،اور حق بات کہہ اگرچہ تیرے لئے نقصان دہ ثابت ہو’۔
(١)کافی :٥٤٢، باب التفکر، حدیث١؛ بحار الانوار: ٣١٨٦٨، باب ٨٠، حدیث١.
(٢)کافی :٥٥٢، باب التفکر، حدیث٥؛ وسائل الشیعہ؛ ١٩٦١٥، باب ٥، حدیث ٢٠٢٦٢.
(٣) امالی صدوق: ٢٨٠، مجلس ٤٧، حدیث ١٠؛ وسائل الشیعہ: ١٩٩١٥، باب ٦، حدیث ٢٠٢٧٢.
حضرت رسول خدا ۖ نے فرمایا:
اگر کسی کے لئے بُرے کام یا حرام طریقہ سے شہوت بجھانے کا موقع آجائے لیکن خوف خدا کی وجہ سے اس کام سے اجتناب کرے تو خداوندعالم ]بھی[ اس پر آتش جہنم کو حرام کردیتا ہے، اور روز قیامت کی عجیب و غریب وحشت سے نجات دیدیتا ہے، اور اپنی کتاب میں دئے ہوئے وعدہ کو وفا کرتا ہے کہ جہاں ارشاد ہوتا ہے: ‘جو شخص اپنے پروردگار سے ڈرتا ہے اس کے لئے دو جنت ہیں’۔
جان لو! کہ اگر کسی شخص نے دنیا کو آخرت پر ترجیح دی تو روز قیامت اس حال میں خدا سے ملاقات کرے گا کہ عذاب الٰہی سے نجات دلانے والی کوئی نیکی اس کے پاس نہ ہوگی، لیکن اگر کوئی آخرت کو دنیا پر ترجیح دے اور فنا ہونے والی دنیا کو اپنا معبود قرار نہ دے تو خداوندعالم اس سے راضی و خوشنود ہوجاتا ہے اور اس کی برائیوںکو بخش دیتا ہے۔(١)
راوی کہتا ہے کہ میں نے حضرت امام صادق علیہ السلام سے عرض کیا:
‘قَوْم یَعْمَلُوْنَ بِالْمَعَاصِی وَ یَقُولُونَ :نَرْجُو،فَلاَ یَزالُونَ کَذَلِکَ حَتَّی یَاتِیَھُم الْمَوتُ !فَقَالَ:ھٰؤُلاَئِ قَوم یَتَرَجَّحُوْنَ فِی الْاَمَانِیَّ،کَذَبُوا،لَیْسُوا بِراجینَ،اِنَّ مَنْ رَجَا شَیْئاً طَلَبَہُ ،وَمَنْ خَافَ
مِنْ شَیْئٍ ھَرَبَ مِنْہُ’.(٢)
(١) عن رسول اﷲ ۖ فی حدیث المناہی، قال: من عرضت لہ فاحشة او شہوة فاجتنبہا مخافة اللہ عزوجل حرم اللہ علیہ النار، وآمنہ من الفزع الاکبر، وانجز لہ ما وعدہ فی کتابہ فی قولہ تعالیٰ (وَلِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّہِ جَنَّتَانِ) الا ومن عرضت لہ دنیا و آخرة فاختار الدنیا علی الاخرة، لقی اﷲ عزوجل یوم القیامة و لیست لہ حسنة یتقی بہا النار؛ ومن اختار الآخرة وترک الدنیا، رضی اللہ عنہ و غفر لہ مساوی عملہ.
امالی صدوق: ٤٢٩،مجلس ٦٦، حدیث١؛ وسائل الشیعہ: ٢٠٩١٥، باب ٩، حدیث ٢٠٢٩٧.
(٢) کافی: ٦٨٢، باب الخوف والرجائ، حدیث٥؛ وسائل الشیعہ: ٢١٦١٥، باب ١٣، حدیث ٣٠٣١٢.
‘ایک گروہ، گناہگار اور اہل معصیت ہے لیکن وہ لوگ کہتے ہیں کہ ہم ان گناہوں کے باوجود بھی امید وار ہیں، اور اسی طرح زندگی بسر کرتے ہیں اور اسی حالت میں مرجاتے ہیں! امام علیہ السلام نے فرمایا: یہ لوگ امید کے اہل نہیں ہیں، کیونکہ کسی چیز کی امید کرنے والا شخص اس سلسلہ میں کوشش کرتا ہے اور جس چیز سے ڈرتا ہے اس سے دور بھاگتا ہے’۔
حضرت امام صادق علیہ السلام نے درج ذیل آیت کے بارے میں فرمایا:
(وَلِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّہِ جَنَّتَانِ).(١)
‘مَنْ عَلِمَ اَنَّ اﷲَ یَرَاہُ،وَ یَسْمَعُ مَایَقُولُ ،وَیَعْلَمُ مَا یَعْمَلُہُ مِنْ خَیْرٍاَوْ شَرٍّ، فَیَحْجُزُہُ ذَلِکَ عَنِ الْقَبِیْحِ مِنَ الاَعْمَالِ ،فَذَلِکَ الَّذِی خاَفَ مَقَامَ رَبِّہِ وَنَھَی النَّفْسَ عَنِ الھَویٰ’.(٢)
‘جو شخص جانتا ہے کہ خدا مجھے دیکھتا ہے اور جو کچھ میں کہتا ہوں اس کو سنتا ہے، اور جو نیکی یا برائی انجام دیتا ہوں اس کو دیکھتا ہے، چنانچہ یہی توجہ اس کو برائیوں سے روکتی ہے، اور ایسا شخص ہی عظمت خدا سے خوف زدہ اور اپنے نفس کو ہوا و ہوس سے روکتا ہے’۔
حضرت امام صادق علیہ السلام نے عمرو بن سعید سے فرمایا:
‘اُوصِیکَ بِتَقَوی اﷲِ وَالْوَرَعِ وَالاِجْتِھادِ،وَاعْلَمْ اَنَّہُ لاَ یَنْفَعُ
(١)سورۂ رحمن،آیت٤٦.
(٢)کافی: ٧٠٢، باب الخوف والرجاء حدیث ١٠؛ بحار الانوار، ٣٦٤٦٧، باب ٥٩، حدیث٨.
اِجْتِھاد لاَ وَرَعَ فِیْہِ’.(١)
‘میں تم کو تمام امور میں تقویٰ الٰہی ،گناہوں سے دوری ، عبادت میں کوشش، اور خدمت خلق کی سفارش کرتا ہوں، جان لو کہ جس کوشش میں گناہوں سے دوری نہ ہوں اس کا کوئی فائدہ نہیں ہے’۔
امام صادق علیہ السلام کا فرمان ہے:
‘عَلَیْکَ بِتَقْوَی اﷲِ ،وَالْوَرَعِ ،وَالاِجْتِھَادِ،وَ صِدْقِ الْحَدِیْثِ، وَاَدَائِ الاَمَانَةِ،وَ حُسْنِ الْخُلْقِ،وَحُسْنِ الْجِوَارِ،وَکُونُوا دُعاةً اِلَی اَنْفُسِکُمْ ِبغَیْرِ اَلْسِنَتِکُمْ،وَکُونُوا زَیْناً وَلاَتَکُونُوا شَیْناً،وَعَلَیْکُمْ بِطُولِ الرُّکُوعِ وَالسُّجُودِ،فَاِنَّ اَحَدَکُمْ اِذَااَطالَ الرُّکُوعَ وَالسُّجُودَ ھَتَفَ اِبْلِیْسُ مِنْ خَلْفِہِ وَقاَلَ:یَا وَیْلَہُ ،اَطَاعَ وَ عَصَیْتُ، وَسَجَدَ وَاَبَیْتُ’.(٢)
‘تمام امور میں تقویٰ الٰہی اختیار کرو، گناہوں سے بچو، عبادت خدا اور خدمت خلق میں کوشش کرتے رہو، صداقت و امانت کا لحاظ رکھو، حسن خلق اپنائو ، پڑوسیوں کا خیال رکھو،اپنی زبانوں کے علاوہ اپنی نفسوں کے ذریعہ بھی دین حق کی دعوت دو، دین کے لئے باعث زینت بنو،دین کے لئے ذلت کا
باعث نہیں، نمازوں میں اپنے رکوع و سجود طولانی کرو،ایسا کرنے سے
(١)کافی: ٧٨٢، باب الورع، حدیث١١؛ وسائل الشیعہ: ٢٤٣١٥، باب ٢١، حدیث ٢٠٣٩٢.
(٢)کافی:٧٧٢، باب الورع، حدیث٩؛ وسائل الشیعہ: ٢٤٥١٥، باب ٢١، حدیث ٢٠٤٠٠؛ بحار الانوار: ٢٩٩٦٧، باب ٥٧، حدیث٩..
شیطان فریاد کرتا ہے: ہائے افسوس! یہ شخص اطاعت کررہا ہے ، اور میں نے خدا کی مخالفت کی ، یہ سجدہ کررہا ہے اور میں نے نہیں کیا!
حضرت رسول خدا ۖ نے امیر المومنین علیہ السلام سے فرمایا:
‘ثَلاثَة مَنْ لَقِیَ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ بِھِنَّ فَھُومِنْ اَفْضَلِ النَّاسِ :مَن اَتَی اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ بِمَا افْتَرَضَ عَلَیْہِ فَھُوَ مِنْ اَعْبَدِ النَّاسِ ،وَمَنْ وَرِعَ عَنْ مَحارِمِ اللّٰہِ فَھُوَمِنْ اَوْرَعِ النّاسِ،وَمَنْ قَنَعَ بِمَا رَزَقَہُ اللّٰہُ فَھُوَ مِنْ اَغْنَی النَّاسِ.ثُمَّ قالَ:یا عَلِیُّ! ثَلاث مَنْ لَمْ یَکُنَّ فِیہِ لَمْ یَتِمَّ عَمَلُہُ:وَرَع یَحْجُزُہُ عَنْ مَعاصِی اللّٰہِ ، وَخُلْق یُداری بِہِ النَّاسَ،وَحِلْم یَرُدُّ بِہِ جَھْلَ الْجاھِلِ اِلیٰ اَنْ قَالَ یَاعَلِیُّ!الِاسْلامُ عُرْیان،وَلِباسُہُ الْحَیائُ،وَ زِینَتُہُ الْعِفافُ، وَمُرُوَّتُہُ الْعَمَلُ الصّالِحُ ، وَعِمادُہُ الْوَرَعُ’.(١)
‘جو شخص تین چیزوں کے ساتھ خدا سے ملاقات کرے گا وہ بہترین لوگوں میں سے ہوگا، جو شخص اپنے اوپر واجب چیزوں پر عمل کرے گا، وہ بہترین لوگوں میں سے ہوگا، اور جو شخص خدا کی حرام کردہ تمام چیزوں سے پرہیز کرے گا وہ بندوںمیں پارسا ترین شخص ہوگا، اور جو شخص خدا کی عطا کردہ روزی پر قناعت کرے گا، وہ سب سے بے نیاز شخص ہوگا، اس کے بعد فرمایا: یا علی! جس شخص میں یہ تین چیزیں نہ ہوں اس کا عمل تمام نہیں،
(١)وسائل الیشعہ،ج١٥،ص٢٤٦،باب ٢١،حدیث٢٠٤٠٥.
انسان میں ایسی طاقت نہ ہو جس کو گناہوں کی رکاوٹ میں لگاسکے، اور ایسا اخلاق نہ ہو جس سے لوگوں کے ساتھ نیک سلوک کرسکے، اور ایسا حلم اور حوصلہ نہ ہو جس سے جاہل کے جہل کو خود اس کی طرف پلٹادے، یہاں تک آنحضرت ۖ نے فرمایا: یاعلی! اسلام برہنہ اور عریان ہے اس کا لباس حیائ، اس کی زینت عفت و پاکدامنی، اور اس کی شجاعت عمل صالح اور اس کے ستون ورع اورتقویٰ ہیں’۔
حضرت امام باقر علیہ السلام فرماتے ہیں:
‘اِنَّ اَفْضَلَ الْعِبَادَةِ عِفَّةُ الْبَطْنِ وَالْفَرْجِ’.(١)
‘بے شک شکم و شہوت کو ]حرام چیزوں[ سے محفوظ رکھنا بہترین عبادت ہے’۔
حضرت امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں:
‘اِنَّمَا شِیعَةُ جَعْفَرٍ مَنْ عَفَّ بَطْنُہُ وَ فَرْجُہُ،وَاشْتَدَّ جِھادُہُ وَعَمِلَ لِخالِقِہِ،وَرَجا ثَوابَہُ،وَخَافَ عِقابَہُ،فَاِذا رَأَیْتَ أُولٰئِکَ، فَأُولٰئِکَ شِیعَةُ جَعْفَرٍ’.(٢)
‘بے شک جعفر صادق کا شیعہ وہ ہے جو شکم اور شہوت کو حرام چیزوںسے محفوظ رکھے، راہ خدا میں اس کی سعی و کوشش زیادہ ہو ، صرف خدا کے لئے
(١)کافی ،ج٢،ص٧٩،باب العفة،حدیث٢؛تحف العقول :٢٩٦؛وسائل الشیعہ:١٥،ص٢٤٩،باب ٢٢،حدیث ٢٠٤١٤.
(٢)خصال ج ج١،ص ٢٩٥،حدیث ٦٣؛وسائل الشیعہ،ج١٥،ص٢٥١،باب٢٢،حدیث٢٠٤٢٥.
اعمال انجام دے، اس کے اجر و ثواب کا امیدوار اور اس کے عذاب سے
خوف زدہ رہے، اگر ایسے لوگوں کو دیکھو تو کہو وہ جعفرصادق کے شیعہ ہیں’۔
حضرت رسول خدا ۖ کا فرمان ہے:
‘لاَ تَزالُ اُمَّتِی بِخَیْرٍ ما تَحابُّوا وَ تَھادَوْا وَاَدُّواالاَمانَةَ،وَاجْتَنبُوا الحَرامَ ،وَ قَرَوُالضَّیْفَ ،وَاَقامُوا الصَّلاةَ ،وَآتُواالزَّکاةَ،فَاِذَا لَمْ یَفْعَلُواذٰلِکَ ابْتُلُوبِالْقَحْطِ وَالسِّنینَ’.(١)
‘جب تک میری امت میں یہ اعمال باقی رہیں گے اس وقت تک ان پرکوئی مصیبت نازل نہ ہوگی: ایک دوسرے سے محبت کرنا، ایک دوسرے کو ہدیہ دینا اور دوسروں کی امانت ادا کرنا ، حرام چیزوں سے پرہیز کرنا، مہمان کی مہمان نوازی کرنا، نماز قائم کرنا، زکوٰة ادا کرنا ، لیکن ان چیزوں کے نہ ہونے کی صورت میں میری امت قحط اور خشک سالی میں مبتلا ہوجائے گی’۔
قارئین کرام! گزشتہ احادیث کے مطالعہ کے بعد یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ اصلاح کا راستہ ہمیشہ ہر شخص کے لئے کھلا ہے، اور اس نورانی راستہ پر چلنا ہر شخص کے لئے ممکن ہے، انسان اپنے عمل، اعتقاد اور اخلاق میں مجبور نہیں ہے، انسان اپنے اختیار سے پاک نیت اور مصمم ارادہ کے ذریعہ مذکورہ بالا احادیث میں بیان شدہ خوبیوں سے مزین ہوسکتا ہے، ان تمام برائیوں اور شیطانی صفات کو چھوڑتے ہوئے ان تمام خیر و نیکی اور معنوی خوبیوںسے آراستہ ہوسکتا ہے، اور اپنے ہاتھوں سے البتہ خدا کی نصرت و مدد کے ساتھ ساتھ اخلاقی برائیوں اور برے اعمال کو ظاہری و باطنی نیکیوں میں تبدیل کرے، کیونکہ جوشخص
(١)عیون اخبار رضا ،ج٢ ص٢٩،باب ٣١،حدیث ٢٥،وسائل الشیعہ ،ج١٥،ص٢٥٤،باب ٢٣حدیث ٢٠٤٣٤.
بھی اصلاح کا راستہ اپناتا ہے تو خداوندعالم بھی اس کی برائیوں کو نیکیوں میں تبدیل کرنے میں مدد کرتا ہے، اور جب برائیوں کی جگہ نیکیاں آجاتی ہیںتو پھر اس کی تمام گزشتہ برائیاں بخش دی جاتی ہیں۔
( ِلاَّ مَنْ تَابَ وَآمَنَ وَعَمِلَ عَمَلًا صَالِحًا فَُوْلَئِکَ یُبَدِّلُ اﷲُ سَیِّئَاتِہِمْ حَسَنَاتٍ وَکَانَ اﷲُ غَفُورًا رَحِیمًا).(١)
‘علاوہ اس شخص کے جو توبہ کر لے اور ایمان لائے اور نیک عمل بھی کرے تو پروردگار اس کی برائیوں کو اچھائیوں سے تبدیل کردے گا اور خدا بہت زیادہ بخشنے والا اور مہربان ہے’۔
( ِلاَّ مَنْ ظَلَمَ ثُمَّ بَدَّلَ حُسْنًا بَعْدَ سُوئٍ فَِنِّی غَفُور رَحِیم).(٢)
‘ہاں کوئی شخص گناہ کر نے کے بعد توبہ کر لے اور اپنی برائی کو نیکی سے بد ل دے ، تو میں بخشنے والا مہربان ہوں’۔