امام زین العابدین علیہ السلام کا ہم فکر جماعت کی تشکیل

196

بہر حال ،یہ امام علیہ السلام کے بیانات کی ایک قسم تھی ۔ دوسری قسم کے بیانات وہ ہیں جن میں امام زین العابدین علیہ السلام کے مخاطب کچھ مخصوص افراد ہیں اگر چہ یہ مشخص نہیں ہے کہ یہ کن لوگوں سے خطاب ہے لیکن یہ کاملا طے ہے کہ آپ کا خطاب ایک ایسے گروہ سے ہے جو موجودہ حکومت سے بیزار اور اس کا مخالف ہے چاہے وہ جو لوگ بھی ہوں ۔اور شاید یہ کہنا بھی غلط نہ ہو کہ یہ وہی گروہ ہے جو امام علیہ السلام کی اطاعت اور حکومت اہلبیت (ع) پر یقین و اعتقاد رکھتا ہے ۔کتاب” تحف العقول “میں خوش قسمتی سے امام علیہ السلام کے اس قسم کے بیانات کا ایک نمونہ موجود ہے ( ایک نمونہ اس لئے کہ جب ہم اس طرح کی دوسری کتابوں کی چھان بین کرتے ہیں تو ان میں بھی ایسے چند نمونوں کے سوا امام زین العابدین علیہ السلام سے منقول کوئی اور چیز نہیں ملتی )پھر بھی انسان یہ محسوس کرسکتا ہے کہ امام زین العابدین علیہ السلام کی زندگی میں اس طرح کے بے انتہا نمونے پیش آئے ہوں گے مگر موجودہ حالات اور آپ (ع) کی حیات کے دوران پیش آنے والے طرح طرح کے حوادث گھٹن کی زندگی دشمنوں کے حملے ،اذیتیں ،اصحاب ائمہ کا قتل اور شہادت یہ سب اس بات کا باعث بنے کہ وہ گراں بہا آثار باقی نہ رہ سکے چنانچہ بہت ہی کم مقدار میں چیزیں ہمارے ہاتھ لگ سکی ہیں ۔بہر حال امام علیہ السلام کا یہ بیان کچھ اس طرح شروع ہوتا ہے :”کفانا اللّٰہ و ایاکم کید الظالمین و بغی الحاسد ین و بطش الجبارین “خدا وند عالم ہم کو اور تم کو ظالموں کے مکر و فریب ،حاسدوں کی بغاوت و سر کشی اور جابروں کی جبر و زیادتی سے محفوظ و مامون رکھے ۔خود خطاب کا انداز بتاتا ہے کہ امام علیہ السلام اور آپ کا مخاطب گروہ دونوں اس جہت میں شریک ہیں یعنی موجودہ حکومت و نظام کی طرف سے وہ سب کے سب خطرہ میں ہیں اور ظاہر ہے کہ یہ بات ایک مخصوص گروہ سے تعلق رکھتی ہے اور اس جماعت کو لفظ مومنین یا اہلبیت کے محبین و ،مقربین سے تعبیر کیا جا سکتا ہے ۔چنانچہ اس انداز کے خطابات ” یا ایھاالموٴمنون ” سے شروع ہوتے ہیں ۔جب کہ پہلی نوعیت کے بیانات میں “ایھا الناس”یا بعض موارد میں” یابن آدم “سے خطاب کیا گیا ہے اور یہاں ایھا المومنون ہے یعنی امام علیہ السلام کے خطاب میں اپنے مخاطبین کے صاحب ایمان ہونے کا اعتراف موجود ہے اور یہ وہ مومنین ہیں جو اہلبیت علیہم السلام اور ان کے افکار و نظر یات پر واقعی ایمان رکھتے تھے ۔اس منزل میں جب امام علیہ السلام اپنے اصل مطلب پہ آتے ہیں تو آپ (ع)کی گفتگو بھی اس چیز کی واضح نشان دہی کرتی ہے کہ آپ (ع)کے مخاطب مومنین ۔یعنی اہلبیت علیہم السلام سے قربت رکھنے والے افراد ہیں ۔”لا یفتننکم الطواغیت واتباعھم من اہل الرغبۃ فی الدنیا المائلون الیھا ،المفتنون بھا المقبلون علیھا””یہ طاغوتی افراد اور ان کے مطیع و فرمانبردار جو دنیا کے حریص ،اس کے شیدائی ،اس پر فریفتہ و قربان اور اس کی طرف دوڑ نے والے لوگوں سے ہیں تم کو فریب میں مبتلا نہ کر دیں “یہاں۔ مومنین سے خطاب کے وقت اصل لب و لہجہ میں ان کو شر سے محفوظ رہنے اور آئندہ ہم فکر ی کے ساتھ کام کرنے کے لئے آمادہ کیا جا رہا ہے ۔ ظاہر ہے موجودہ طاغوتی نظام کے طرفداروں اور ائمہ کے ہمنواؤں کے درمیان اندر اندر جو شدید مخالفت اور مقابلہ آرائی جاری تھی اس کی وجہ سے ائمہ علیہم السلام کے چاہنے والوں کو بڑی سخت محرومیت اور رنج و مصیبت جھیلنی پڑ رہی تھی ۔چنانچہ امام علیہ السلام کے اس بیان میں اس نکتہ کو پیش نظر رکھتے ہوئے مومنین کو اس بات سے خبردار کیا گیا ہے کہ اس دنیا کی وقتی تڑک بھڑک اور جھوٹی نمائش کے چکر میں اگر آگئے تو اس کی قیمت کے طور پر تم کو اہل طاغوت سے ہاتھ ملانا پڑے گا ۔اور یہ انداز اور لب و لہجہ نہ صرف اس بیان میں بلکہ امام علیہ السلام سے منقول اور بھی بہت سے دوسرے مختصر اقوال و روایات میں آپ مشاہدہ فرماسکتے ہیں ۔اگر آپ ان کو دیکھیں تو محسوس کریں گے کہ امام علیہ السلام نے لوگوں کو دنیا سے پر ہیز کی دعوت دی ہے ۔دنیا سے پرہیز سے کیا مطلب ہے ؟ یعنی لوگوں کو اس لہر سے محفوظ رکھیں جو انسان کو ناز و نعم میں غرق کر دیتی ہے اور اس کے دام میں گرفتار ہو کر انسان اپنے ایمان سے ہاتھ دھو بیٹھتا ہے اور اس کی انقلابی جد و جہد سرد پڑ جاتی ہے ۔اور یہ دعوت مومنین سے متعلق خطابات میں ملتی ہے عوام الناس سے خطاب کے دوران یہ انداز بہت کم نظر آتا ہے ۔عوام سے خطاب کے وقت ،جیسا کہ ہم پہلے عرض کر چکے ہیں زیادہ تر جولب و لہجہ اپنایا گیا ہے وہ ہے کہ : لوگو، خدا کی طرف متوجہ رہو قبر و قیامت کا دھیان رکھو ،اپنے کو کل کے لئے آمادہ کر و یا اسی طرح کی دوسری باتیں۔ان حقائق کی روشنی میں اگر کوئی سوال کرے کہ اس دوسرے قسم کے خطابات سے امام علیہ السلام کا مقصد کیا تھا ؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ امام ایک ہم فکر جماعت تیار کرنا چاہتے ہیں امام (ع) چاہتے ہیں کہ کسی ضروری موقع کے لئے مومنین کا ایک گروہ رہے یہی وجہ ہے ان لوگوں کو اعلیٰ اقتدار کی ہوس اور جھوٹی مراعات کی چکا چوند سے محفوظ رکھیں اس دوسرے قسم کے بیان میں امام (ع) بار بار موجودہ حاکم نظام کا تذکرہ کرتے ہیں جب کہ گزشتہ قسم کے بیان میں یہ چیز اتنی وضاحت کے ساتھ نظر نہیں آتی یہاں امام سجاد علیہ السلام بڑے ہی سخت لب ولہجہ میں حکومتی مشینری کو مورد ملامت قرار دیتے ہوئے اس کو شیطان کا ہم پلہ بتاتے ہیں مثال کے طور پر فرماتے ہیں ۔”وان الا مور الواردۃ علیکم فی کل یوم و لیلۃ من مظلمات الفتن و حوادث البدع و سنن الجور و بوائق الزمان “تم لوگ جن امور سے ہر شب و روز دو چار رہتے ہو (یعنی) یہ ظلمت خیز فتنے نئی نئی بدعتیں —-وہ بدعتیں جو ظالم نظام کی اختراع ہیں —- ظلم و جور پر مبنی سنتیں اور زمانہ بھر کی سختیاں ۔” و ھیبۃ السلطان” یہ سلطنت کا خوف و ہراس ۔”ووسوسۃ الشیطان ” اور شیطانی وسوسے ۔یہاں امام علیہ السلام ذکر سلطان کے فورا بعد وسوسہ شیطان کا ذکر کر تے ہیں یعنی پوری صراحت کے ساتھ حاکم وقت کا ذکر کرتے ہیں اور اس کو شیطان کا دست راست قرار دیتے ہیں ۔گفتگو کے آخر میں امام (ع) ایک نہایت ہی عمدہ جملہ ارشاد فرماتے ہیں چوں کہ یہ جملہ بڑی اہمیت کا حامل ہے لہٰذا ہم اسے یہاں نقل کر دینا چاہتے ہیں یہ جملہ اسی مطلب کی نشان دہی کرتا ہے جس کی طرف ابھی ہم اشارہ کر چکے ہیں ۔امام (ع)فرماتے ہیں :” لتثبط القلوب عن نیتھا”یہ حوادث جو انسانی زندگی میں شب و روز پیش آتے ہیں ۔خصوصا ایسے گھٹن کے ماحول میں دلوں کو ان کی نیت اور جہت سے موڑ دیتے ہیں ، جہاد کے شوق اور اس کے محرکات کو ختم کر دیتے ہیں ۔– ” وتذہلھا عن موجود الھدیٰ”موجودہ ہدایت کو یعنی وہ ہدایت جو موجودہ معاشرہ میں پائی جاتی ہے اس کی طرف سے ذہنوں کو غافل و برگشتہ کر دیتے ہیں ۔” ومعرفۃ اھل الحق”(اور انسان سے ) اہل حق کی معرفت سلب کرکے فراموشی میں مبتلا کر دیتے ہیں اور اہل حق کی یاد کو ان کے دلوں میں باقی نہیں رہنے دیتے ۔امام علیہ السلام کے اس پورے بیان میں وہی اسلوب وانداز پایا جاتا ہے جس کا ہم نے شروع میں ذکر کیا ہے یعنی لوگوں کو موعظہ و نصیحت کے انداز میں خبر دار کر رہے ہیں کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ اس طرح کے حوادث زندگی ان کو ان کی مجاہدانہ روش سے غافل بنا دیں اور انھیں ان کے راستہ سے منحرف کردیں اور دل و دماغ اس کی یاد سے خالی ہو جائے ۔ امام علیہ السلام کے ایسے متعدد بیانات ملتے ہیں جن میں سلطان و حاکم جور کا ذکر کیا گیا ہے ۔ایک دوسرے مقام پر ارشاد فرماتے ہیں:”وایاکم و صحبۃ العاصین و معونۃ الظالمین “ایسا نہ ہوکہ تم لوگ گناہ گاروں کی ہم نشینی اختیار کو لو اور ستم گروں کی مدد کرنے لگو۔یہاں گناہگاروں سے مراد کون لوگ ہیں؟ یہ وہی لوگ ہیں جو عبدالملک کے ظالمانہ نظام کا جز بن چکے ہیں ۔ امام علیہ السلام ان کی ہم نشینی سے منع کر رہے ہیں کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ تم لوگ ظالموں کی مدد کا ذریعہ بن جاؤ۔اب ان حقائق کی روشنی میں امام سجاد علیہ السلام کی تصویر پر دہٴ تخیل پر اتار کر دیکھئے کہ حضرت کی کیسی شخصیت آپ کے ذہن میں ابھر کر سامنے آتی ہے آیا اب بھی وہی مظلوم و بے زبان کمزور و بیمار امام جو امور زندگانی سے کوئی مطلب نہیں رکھتا آپ کے ذہن میں آتاہے ؟! امام علیہ السلام اپنے کچھ مومن دوستوں طرفداروں اور بہی خواہوں کو ایک جگہ جمع کرتے ہیں اور موجودہ حالات میں ان کو ظالم حکام اور درباریوں کی قریب وہم نشینی نیز اپنی مقدس مہم اور جد و جہد سے غافل و بے پرواہ ہونے سے سختی کے ساتھ منع کرتے ہیں اور ان کو اجازت نہیں دےتے کہ وہ اپنی مجاہدانہ سر گرمیوں سے منحرف ہو جائیں ۔ امام علیہ السلام ان کے ایمانی جذبات کو تر و تازہ اور زندہ و باقی رکھنا چاہتے ہیں تاکہ ایک روز ان کا وجود اسلامی حکومت کے قیام کی راہ میں موثر ثابت ہو سکے ۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.