فرزدق اور یحییٰ کے اعتراضات

279

 یہ نازو نعم کا پروردہ ان افراد سے تو تھا نہیں کہ انسانوں کے ہجوم میں دھکے کھاتا ہوا حجر اسود کو بوسہ دے ۔چنانچہ حجر اسود کے استلام سے مایوس ہوکر مسجد الحرام کی ایک بلندی پر پہنچ گیا اور وہیں بیٹھ کر مجمع کا تماشہ کرنے کی ٹھہری ۔ اس کے ارد گرد بھی کچھ لوگ بیٹھے ہوئے تھے ۔ اسی درمیان ایک شخص ،وقار و متانت کا مرقع ملکوتی زہد و ورع کے ساتھ طواف کرنے والوں کے درمیان ظاہر ہوا اور حجر اسود کی طرف قدم بڑھایا مجمع نے فطری طور پر اس کو راستہ دے دیا اور کسی قسم کی زحمت کے بغیر اس نے باطمینان حجر اسود کو استلام کیا ،بوسہ دیا اور پھر واپس ہو کر طواف میں مشغول ہو گیا۔یہ منظر ہشام بن عبد الملک کے لئے نہایت ہی سخت تھا ،وہ خلیفہ وقت کا فرزند ارجمند !! اور کوئی اس کے احترام و ارجمندی کا قائل نہیںہے !اس کو مجمع کے مکّے اور لات سہکر واپس ہونا پڑجاتا ہے ۔استلام کرنے کے لئے اس کو راہ نہیں ملتی ! دوسری طرف ایک شخص آتا ہے جو بڑے سکون و اطمینان کے ساتھ حجر اسود کو استلام کر لیتا ہے ۔آتش حسد سے لال ہو کر سوال کر بیٹھتا ہے ،یہ کون شخص ہے ؟ ارد گرد بیٹھے ہوئے افراد حضرت علی ابن الحسین علیہ السلام کو اچھی طرح پہچانتے ہیں لیکن صرف اس لئے خاموش ہیں کہ کہیں ہشام ان کی طرف سے مشتبہ نہ ہو جائے کیوں کہ ہشام کے خاندان کے ساتھ امام سجاد علیہ السلام کے خاندان کے اختلاف کسی سے ڈھکا چھپا نہیں تھا ،ہمیشہ بنی امیہ اور بنی ہاشم کے درمیان اختلاف کی آگ روشن رہی ہے ۔ وہ یہ کہنے کی جراٴت نہ کر سکے کہ یہ شخص تیرے دشمن خاندان کا قائد ہے ،جس کے لئے لوگ اس قدر عقیدت و احترام کے قائل ہیں ۔ ظاہر ہے یہ بات ایک طرح سے ہشام کی اہانت میں شمار ہو تی ۔مشہور شاعر فرزدق جو اہلبیت (ع)سے خلوص و محبت رکھتا تھا وہیں موجود تھا ،اس نے جب محسوس کیا کہ لوگ تجاہل سے کام لے رہے ہیں اور یہ باور کرانا چاہتے ہیں کہ ہم علی ابن الحسین علیہ السلام کو نہیں پہچانتے ،آگے بڑھا اور آواز دی : اے امیر !اگر اجازت دے تو میں اس شخص کا تعارف کرا دوں ؟ ہشام نے کہا: ہاںہاں بتاؤ کون ہے ؟ اس وقت فرزدق نے وہیں ایک برجستہ قصیدہ پڑھنا شروع کر دیا جو شعرائے اہلبیت (ع) کے معروف ترین قصیدوں سے ہے اور شروع سے آخر تک امام زین العابدین علیہ السلام کی شاندار مدح سے معمور ہے مطلع یوں شروع ہوتا ہے ۔ھٰذا الذی تعرف البطحاء و طاٴ تہوالبیت یعرفہ والحل و الحرماگر تم اس کو نہیں پہچانتے ہو ( تو نہ پہچانو) یہ وہ ہے کہ سر زمین بطحی اس کے قدموں کے نشان پہچانتی ہے یہ وہ شخص ہے کہ حل و حرم اس کو پہچانتے ۔اور پھر ․․یہ وہ ہے ،زمزم و صفا جس کو پہچانتے ہیں ․․․ یہ پیغمبر اسلام (ص) کا فرزند ہے ․․․ یہ بہترین انسان کا فرزند ہے ․․․ مدح کے موتی لٹانے پر آیا تو ایک قصیدہ ٴ غرار میں اس طرح امام سجاد علیہ السلام کے خصوصیات کا ذکر کر نا شروع کر دیا کہ ہر ہر مصرع ہشام کے سینے میں خنجر کی طرح چھبتا چلا گیا ۔اور اس کے بعد ہشام کے غضب کا نشانہ بھی بننا پڑا ،ہشام نے بزم سے نکال باہر کیا لیکن امام سجاد علیہ السلام نے اس کے لئے انعام کی تھیلی روانہ کی جس کو فرزدق نے اس معذرت کے ساتھ واپس کر دیا کہ : میں نے یہ اشعار خدا کی خوشنودی کے لئے کہے ہیں ،آپ (ع) سے پیسہ لینا نہیں چاہتا ۔اس طرح کے انداز مزاحمت ،امام کے اصحاب کے یہاں مشاہدہ کئے جاسکتے ہیں جس کا ایک اور نمونہ یحیٰ بن ام الطویل کا طرز عمل ہے ۔البتہ یہ ذکر شعر و شاعری کے ضمن میں نہیں آتا ۔یحیٰ بن ام الطویل بیت سے وابستہ نہایت ہی مخلص اور شجاع جوانوں میں سے ہے جس کا معمول یہ ہے کہ وہ کوفہ جاتا ہے لوگوں کو جمع کرتا ہے اور آواز دیتا ہے : اے لوگو( مخاطب حکومت بنی امیہ کے آگے پیچھے بھاگنے والے افراد ہیں ) ہم تمھارے ( اور تمھارے آقاؤں کے ) منکر ہیں جب تک تم لوگ خدا پر ایمان نہیں لاتے ،ہم تم کو قبول نہیں کر تے ۔اس گفتگو سے ایسا لگتا ہے کہ وہ لوگوں کو مشرک سمجھتا ہے اور ان کو کافر و مشرک کے الفاظ سے خطاب کرتا ہے ۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.