پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیرت

209

اس بناپر ،انسانی معاشرہ میں جوروش عام ہونی چاہئے ،وہ یہ ہے کہ سب آپس میں متحد اور بھائی بھائی ہوں اور کوئی اپنے لئے خدا کے سواکسی کو بلا قید وشرط حاکم مطلق قرار نہ دے، چنانچہ خدائے متعال فرماتا ہے :(قل یااہل الکتاب تعالوا الی کلمةٍ سواء بیننا وبینکم الا نعبد الااللّہ ولا نشرک بہ شیئا ولا یتّخذ بعضنا بعضا ارباباً من دون اللّہ ۔۔۔) (آل عمران٦٤)”اے پیغمبر !آپ کہدیں کہ اہل کتاب !آئوایک منصفانہ کلمہ پر اتفاق کر لیں کہ خدا کے علاوہ کسی کی عبادت نہ کریں ،کسی کو اس کا شریک نہ بنائیں آپس میں ایک دوسرے کو خدائی کا درجہ نہ دیں …”اس آسمانی حکم کے مطابق ،آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی سیرت میںسبھی کو برابر وبرادر قرار دیتے تھے اوراحکام وحدودالہیٰ کے نفاذ میں ہرگز امتیازی سلوک اور استثنا کے قائل نہیں تھے ،اس طرح اپنے اور پرائے ،طاقت ور اور کمزور،امیر وغریب اور مرداورعورت میں فر ق نہیں کرتے تھے اور ہرایک کے حق کو دین کے احکام وقوانین کے مطابق اس تک پہنچاتے تھے ۔کسی کو کسی دوسرے پرحکم فرمائی اور فرمانروائی اور زبردستی کرنے کاحق نہیں تھا۔لوگ قانون کے حدود کے اندر زیادہ سے زیادہ آزادی رکھتے تھے ۔(البتہ قانون کے مقابلہ میں آزادی نہ صرف اسلام میں بلکہ دنیا کے اجتماعی قوانین میں بھی کو ئی معنی نہیں رکھتی ہے)آزادی اور اجتماعی عدالت کی اسی روش کے بارے میں خدائے متعال اپنے پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا تعارف کراتے ہوئے فر ماتا ہے :(الّذین یتّبعون الرّسول النبیّ الامیّ الذی یجدونہ مکتوباً عندہم فی التوریٰة والانجیل یامرہم بالمعروف وینہٰہم عن المنکر و یحلّ لہم الطیبت ویحرّم علیہم الخبٰئث ویضع عنہم اصرہم والاغلل الّتی کانت علیہم فالّذین امنوا بہ وعزّروہ ونصروہ واتّبعوا النّور الّذی انزل معہ اولئک ہم المفلحون٭قل یا ایّہا النّاس انّی رسول اللّہ الیکم جمیعا۔۔۔) (اعراف١٥٨١٥٧)”جو لوگ رسول نبی امی کا اتباع کرتے ہیں کہ،جس کا ذکر اپنے پاس توریت اور انجیل میں لکھا ہوا پاتے ہیں کہ وہ نیکیوں کا حکم دیتا ہے اور برائیوں سے روکتا ہے اور پاکیزہ چیزوں کو حلال قرار دیتا ہے اور خبیث چیزوںکو حرام قرار دیتا ہے اور ان پرسے احکام کے سنگین بوجھ اور قید وبند کو اٹھا دیتا ہے ،پس جولوگ اس پر ایمان لائے،اس کا احترام کیا ،اس کی امداد کی اوراس نور کا اتباع کیا جواس کے ساتھ نازل ہوا ہے وہی درحقیقت فلاح یافتہ اور کامیاب ہے ٠ پیغمبر !کہدو اے لوگو!میںتم سب کی طرف اللہ کا رسول اور نمائندہ ہوں …”یہاں پر معلوم ہوتا ہے کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی زندگی میں اپنے لئے کسی قسم کا امتیاز نہیں برتتے تھے اور ہر گز وہ شخص جو پہلے سے آپۖکونہیں جانتاتھا ، اس میں اور دوسروں میں امتیاز نہیں برتا جاتا تھا ۔آپۖاپنے گھر کاکام خودانجام دیتے تھے ،ہر ایک کو ذاتی طور پرشرف یابی بخشتے تھے، حاجتمندوں کی باتوں کوخود سنتے تھے ،تخت اور صدر محفل کی جگہ پر نہیں بیٹھتے تھے ۔را ستہ چلتے وقت جاہ وحشم اور سر کاری تکلفات سے نہیں چلتے تھے ۔اگر کوئی مال آپۖ کے ہاتھ میں آتا تو اپنے ضروری مخارج کے علاوہ باقی مال کو فقرا میں تقسیم کرتے تھے اور کبھی اپنی ضرورت کی اشیا ء کو بھی حاجتمندوں میں تقسیم کر کے خود بھوکے رہتے تھے اور ہمیشہ فقیرانہ زندگی گزارتے تھے اور فقرا ء کے ساتھ ہم نشیں ہوتے تھے ،لوگوں کے حقوق کی دادرسی میں کبھی غفلت اور لاپر وائی نہیں کرتے تھے ،لیکن اپنے ذاتی حقوق میں زیادہ تر عفو وبخشش سے کام لیتے تھے ۔جب فتح مکہ کے بعد قریش کے سرداروں کو آپۖ کی خدمت میں حاضر کیا گیا ،توآپۖنے کسی قسم کی تندی اور سختی کا مظاہرہ نہیں کیا بلکہ سبھی کو عفو کیا ،جبکہ ہجرت سے پہلے انہوں نے مستقل آپۖپرظلم کئے تھے اور ہجرت کے بعد بھی فتنے برپا کر کے آپۖکے ساتھ خونین جنگیں لڑی تھیں ۔آپۖاورآپۖ کے اہل بیت پر خدا کا درودو سلام ہو۔بخوبی جان لیناچاہئے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دین اور توحید کے نشر کے علاوہ کوئی مقصد نہیں رکھتے تھے ،اور اچھے اخلاق ،خندہ پیشانی اور واضح ترین استد لال وبرہان سے لوگوں کو توحید کی دعوت دیتے تھے اور اپنے اصحاب کو بھی اسی روش پر عمل کرنے کی نصیحت فر ماتے تھے ،چنانچہ خدائے متعال آپ ۖ کواس طرح حکم فر ماتا ہے:(قل ہذہ سبیلی ادعوا الی اللّہ علی بصیرة انا و من اتّبعنی۔۔۔) (یوسف١٠٨)”آپ کہدیجئے کہ یہ میرا راستہ ہے کہ میں بصیرت کے ساتھ خدا کی طرف دعوت دیتا ہوں اور میرے ساتھ میرا اتباع کرنے والا بھی ہے”
آنحضرت صلی اللہ علیہ وآ لہ وسلم اس امر کی طرف انتہائی توجہ رکھتے تھے کہ اسلامی معاشرہ میں ہر فرد (اگر چہ غیر مسلمان اور اسلام کے ذمہ دار میںہو )اپنا حق حاصل کرے اور الہی قوانین کے نفاذ میں کسی قسم کا استثنا پید اہونے نہ پائے اور حق و عدل کے سامنے سب مساوی ہوں ،کوئی کسی پر (تقوی کے علاوہ )کسی قسم کا امتیاز نہ جتلائے اورمال ودولت یاحسب ونسب اور عام قدرت کے بل بوتے پر کسی پر ترجیح حاصل کرنے کی کوشش نہ کرے،فخر نہ جتائے اور معاشرے کے مالدار لوگ کمزوروں اورمحتاجوں پر زبر دستی نہ کریں اور اپنے ماتحتوں پر ظلم نہ کریں ۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خود بھی فقیرانہ زندگی بسر کرتے تھے ،اور اٹھنے ،بیٹھنے اور راستہ چلنے میں ہر گز تکلفات سے کام نہیں لیتے تھے ۔اپنے گھریلو کام بھی انجام دیتے تھے ،آپۖکے پاس محافظ ونگہبان نہیں تھے ۔لوگوں کے درمیان عام شخص جیسے لگتے تھے ،جب لوگوں کے ہمراہ چلتے تھے تو کبھی آگے نہیں بڑھتے تھے، جب کسی محفل میں داخل ہوتے تو نزدیک ترین خالی جگہ پر بیٹھ جاتے،اصحاب کو نصیحت فرماتے تھے کہ دائرے کی صورت میں بیٹھیں تاکہ محفل صدرنشین کی حالت پیدانہ کرے،جس کو دیکھتے ، چاہے عورت ہو یا بچہ سب کو سلام کرتے تھے ۔ایک دن آپۖ کاایک صحابی آپۖ کے سامنے خاک پر گرکر سجدہ کرنا چاہتا تھا توآپۖنے فرمایا:کیا کر رہے ہو؟یہ قیصروکسری کی روش ہے اور میری شان پیغمبری اور بندگی ہے،آپۖنے اپنے صحابیوں کو نصیحت فرماتے تھے کہ حاجتمندوں کی حاجتوں اور کمزوروں کی شکا یتوں کو مجھ تک ضرور پہنچائیں اوراس سلسلہ میں کوتاہی نہ کریں۔کہا جاتا ہے کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جو آخری نصیحت لوگوںکو کی وہ غلاموں اور عورتوں کے بارے میں تھی ۔
پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیرت کے بارے میں چند نکاتپیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے نیک اخلاق میں دوست ودشمن میں معروف ومشہور تھے۔ آپۖکے حسن اخلاق کا یہ عالم تھا کہ،ظالم دشمنوںاورنادان دوستوں کی بد اخلاقی اورآزار و بے ادبی وجسمانی اذیتوںکے باوجو د آپ کی تیوری پر بل نہ آتے تھے اورناراضگی کا اظہار نہیں کرتے تھے۔سلام کرنے میں عورتوں بچوں اور ماتحتوں پر سبقت کرتے تھے ۔جب آپۖکو خدا کی طرف سے دین کی تبلیغ اور لوگوں کی رہبری کرنے کی ذمہ داری ملی ،توآپۖنے فریضہ کی انجام دہی میں ایک لمحہ بھی کوتاہی نہیں کی اور اپنی انتھک کوششوں کی بنا پر کبھی آرام سے نہیں بیٹھے ۔ہجرت سے تیرہ سال پہلے مکہ میں،مشرکین عرب کی طرف سے ناقابل برداشت مشکلات اوراذیتوں کے باوجودعبادت ودین خدا کی تبلیغ میں مسلسل مشغول رہتے تھے۔ہجرت کے بعددس سال کے دوران بھی دین کے دشمنوں کی طرف سے روزبروز مشکلات اور یہودیوں اور مسلمان نمامنا فقوں کی طرف سے روڑے ا ٹکا ئے جاتے رہے۔معارف دین اور قوانین اسلام کوحیرت انگیز وسعت کے ساتھ لوگوں تک پہنچایا دشمنان اسلام سے ٨٠ سے زیادہ جنگیں لڑیں ۔اس کے علاوہ اسلامی معاشرے کی باگ ڈور ۔جو ان دنوں تمام جزیرئہ نما عرب پر پھیلا ہوا تھا۔آپۖکے ہا تھوں میں تھی ، یہاں تک کہ لوگوں کی چھوٹی سے چھوٹی شکایتوں اور ضرورتوں کو بھی کسی رکاوٹ کے بغیر خود بر طرف فرماتے تھے۔پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شجاعت اور شہامت کے بارے میں اتناہی کافی ہے کہ آپۖنے اس وقت تن تنہا حق کی دعوت کا پرچم بلند کیا ،جبکہ دنیابھر میں ظلم وزبردستی اورحق کشی کے علاوہ حکومت نہیں کی جا سکتی تھی آپۖنے وقت کے ظالموں سے بے انتہا جسمانی اذیتیں اور تکلفیں اٹھائیں ،لیکن یہ سب چیزیں آپۖ کے عزم وارادے میں سستی اور کمزوری پیدا نہ کرسکیں اورآپ نے کسی جنگ میں پیٹھ نہیں دکھائی ۔پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نہایت پا کیزہ نفس کے مالک تھے ،فقیرانہ لباس پہنتے تھے اور سادہ زندگی گزار تے تھے،آپۖکے اورنوکروںوغلاموں کے درمیاں کوئی فرق نظرنہیں آتا تھا ،آپۖ کے پاس کافی مال ومنال آتاتھالیکن اسے مسلمان فقراء میں تقسیم کرتے تھے ،تھوڑی مقدار میں اپنی اور اپنے اہل وعیال کی زندگی کے لئے لیتے تھے۔بعض اوقات کئی دنوں تک آپۖ کے گھر سے دھواں نہیں اٹھتا تھا اورپکاہوا کھانانصیب نہیں ہوتا تھا ۔زندگی میں صفائی خاص کرعطر کو بہت پسند فرماتے تھے ۔ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کبھی اپنی حالت نہیں بدلی ،جو تواضع و فروتنی آپۖ کی ابتدائی زندگی میں تھی وہی آخر تک رہی اور اس گراں قدر حیثیت کے مالک ہونے کے باوجود،ہر گز اپنے لئے ایسے امتیاز کے قائل نہ ہوئے جس سے آپۖکی اجتماعی قدر ومنزلت دکھائی دیتی ۔آپۖ کبھی تخت پر نہیں بیٹھے ، محفل کی صدرنشین کو کبھی اپنے لئے مخصو ص نہ کیا ،راستہ چلتے وقت کبھی دوسروں سے آگے نہیں بڑھے اور کبھی حکمراں اور فرمانرواکا قیافیہ اختیار نہیں کیا ۔ جب اپنے اصحاب کے ساتھ کسی عام محفل میں تشریف فرما ہوتے تھے ،تو اگر کوئی اجنبی شخص آپۖسے ملا قات کے لئے آجا تا تھاتو وہ آپۖکو نہیں پہچان پا تا تھا اوروہاں پر موجود لوگوںسے مخاطب ہو کر کہتا تھا :آپ میں کون شخص پیغمبر خداۖہے ؟پھر لوگ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا تعارف کراتے تھے۔پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی پوری زندگی میں کسی کو گالی نہیں دی اور کبھی بیہودہ کلام نہیں کیا،کبھی قہقہہ لگا کر نہیں ہنسے اور ،کوئی ہلکا اور بے فائدہ کام انجام نہ دیا ۔غور وخوض کو پسند فرماتے تھے ،ہردردمند کی بات اور ہرایک کا اعتراض سنتے تھے ،پھر جواب دیتے تھے ،کبھی کسی کی بات نہیں کاٹتے تھے ،آزاد تفکر میں رکاوٹ نہیں بنتے تھے ،لیکن اشتباہ کرنے والے کو اشتباہ کو واضح کر کے اس کے اندورونی زخم پر مرہم لگاتے تھے ۔پیغمبراسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مہربان اور انتہائی نرم دل تھے ،ہر مصیبت زدہ کی مصیبت کو دیکھ کر رنجیدہ ہوتے تھے ،لیکن بد کاروں اور مجرموں کو سزا دینے میں نرمی نہیں کرتے تھے اورسزا کوجاری کرتے وقت اپنے اور پرایے اور بیگانہ وآشنا میں کوئی فرق نہیں کرتے تھے ۔ایک انصاری کے گھر میں چوری ہوئی تھی ،اس سلسلہ میں ایک یہودی اور ایک مسلمان ملزم ٹھہرائے گئے ۔انصار کی ایک بڑی جماعت آنحضرتۖکے پاس آئی اوردبائوڈالا کہ مسلمانوں خاص کر انصارکی آبرو بچانے کے لئے ،صرف یہودی کو سزادی جائے ۔کیونکہ انصار کے ساتھ یہودیوں کی کھلم کھلادشمنی تھی ۔لیکن آنحضرتۖنے حق کو ان کی مرضی کے برخلاف ثابت کیا ،یہودی کی آشکارا طور پر حمایت کی اور مسلمان کو سزا سنادی ۔جنگ بدر کی پکڑ دھکڑ کے دوران مسلمانوں کی صفوں کو منظم کرتے ہوئے جب آنحضرت ایک سپاہی کے پاس پہنچے جو تھوڑ اسا آگے تھا ،تو آپ نے اپنے عصا سے اس سپاہی کے پیٹ پر رکھ کر تھوڑاساڈھکیلاتاکہ ا پیچھے ہٹے اور صف سیدھی ہو جائے ۔سپاہی نے کہا: یارسول اللہ ! خدا کی قسم میرے پیٹ میں درد ہونے لگا۔میں آپۖسے قصاص لوں گا۔آنحضرتۖنے اپنے عصا کو اس کے ہاتھ میں دیدیا ،اور اپنے شکم سے لباس ہٹادیا اور فر مایا آئو قصاص لے لو ۔سپاہی نے بڑھ کر آنحضرتۖکے شکم مبارک کو چوما اور کہا :”میں جانتا ہوں کہ آج قتل کیا جائوں گا ،میں اس طرح آپۖکے بدن مقدس کا بوسہ لینا چاہتا تھا(١) ”اسکے بعد اس سپاہی نے دشمن پر حملہ کیااور تلوار چلائی یہاں تک کہ شہید ہوگیا ۔…………..١۔طبری ،تاریخ ،ج ٢،ص١٤٩
مسلمانوں کو پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وصیتعالم بشریت ،کائنات کے دوسرے ان تمام اجزاء کے مانند تغیر وتبدل کی حالت میں ہے کہ جس کا ہم مشاہدہ کرتے ہیں۔اور لوگوں کی بناوٹ میں جو اختلاف پایا جاتا ہے اس کی وجہ سے انسان میں مختلف سلیقے وجود میںآئے ہیں کہ جن کے نتیجہ میں لوگ ،فہم وادراک کی تیزی وکندی ،حفظ اورافکار کی فراموشی میں مختلف ہیں ۔اس لحاظ سے ،عقائد اوراسی طرح رسو مات اور ایک معاشرہ میںجاری قوانین کی ایک پائدار بنیاد کی حفاظت کے لئے اگر باایمان وقابل اعتماد نگہبان ومحافظ نہ ہوں ،تووہ تھوڑی ہی مدت کے بعد تغیر وتبدل اور انحراف کا شکار ہو کر نابود ہو جائیں گے ۔مشاہدہ اور تجربہ ہمارے لئے اس مسئلہ کو واضح ترین صورت میں ثابت کرتا ہے ۔پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے عالمی اورابدی دین کو در پیش خطرے سے بچانے کے لئے پائدارو محکم سند اور با صلا حیت محافظ کے طورپرکتاب خدا اور اپنے اہل بیت علیہم السلام کو لوگوں کے کے سامنے پیش کیا .چنانچہ شیعہ اور سنی راویوں نے تواتر کے ساتھ نقل کیا ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بار ہا فرمایا :”میں اپنے بعد،خدا کی کتاب اور اہل بیت کو تم لوگوں میں چھوڑ رہا ہوں ،یہ دونوںکبھی ایک دوسرے سے جدا نہیں ہوں گے ،جب تک تم لوگ ان سے متمسک رہو گے،گمراہ نہیں ہوگے ۔”(١)
پیغمبراسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رحلت اور جانشینی کا مسئلہوہ آخری شہر ،جس کا فتح ہو نا اسلام کے جزیرئہ نما عرب پر تسلط جمانے کا سبب بنا،شہر ”مکہ” تھا،کہ جہاں پر حرم خدا اور کعبہ ہے ۔یہ شہر ٨ھ میں اسلامی لشکر کے ہاتھوں فتح ہوا اور اس کے فوراہی بعد شہر طائف بھی فتح ہوا ۔١٠ھ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فریضہ حج انجام دینے کے لئے مکہ مکرمہ تشریف لے گئے۔حج کے اعمال اور لوگوں تک ضروری تعلیمات پہنچانے کے بعد مدینہ روانہ ہوئے ۔راستہ میں ”غدیر خم ”نامی ایک جگہ پر قافلہ کو آگے بڑھنے سے روکنے کاحکم فرمایا اور مختلف علاقوں سے آئے ہوئے ایک لاکھ بیس ہزار حاجیوں کے درمیان حضرت علی علیہ السلام کے ہاتھ کو پکڑ کر بلند کیا اور تمام لوگوں میں حضرت علی کی ولایت اور جانشینی کا اعلان فرمایا ۔پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اس اقدام سے اسلامی معاشرہ میں والی کا مسئلہ۔کہ جو اسلامی معاشرہ میں مسلمانوں کے امورپر ولایت رکھتا ہے اور کتاب وسنت اور دینی…………..١۔(انی تارک فیکم الثقلین !کتاب اللّہ وعترتی اہل بیتی !ما ان تمسکتم بہمالن تضلوابعدی ابداوانہمالن یفترقا حتی یرداعلی الحوض۔۔۔) (غایة المرام،ص٢١٢الغدیر،ج١،ص٥٥)معارف اور قوانین کی حفاظت کرتاہے۔حل ہوا اور آیئہ شریفہ:(یا ایّہا الرّسول بلّغ ما انزل الیک من ربّک وان لم تفعل فما بلّغت رسالتہ۔۔۔) (مائدہ ٦٧)کا حکم نافذ ہوا ۔پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مد ینہ لو ٹے،ستّردن کے بعد،تقریبا ٢٨ماہ صفر ١١ھ کو رحلت فرمائی ۔
 

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.