نیکوں اور بروں کی مصاحبت
نیکوں کی مصاحبتاس کے باوجود کہ انسان بہت سے لوگوں کے ساتھ مل جل کر رہتا ہے ، مگر وہ زندگی کے تقاضے کے مطابق مجبورہے کہ کچھ لوگوں کے ساتھ دوسروں کی نسبت زیادہ مل جل کر رہے ،یہ وہ لوگ ہیں جو”دوست” کے نام مشہور ہیں ۔البتہ اس دوستی کاسبب اخلاق،روش، اورپیشہ وغیرہ میں ایک قسم کی یکسانیت ہے جودویاچند افراد کے درمیان پائی جاتی ہے اور چونکہ وابستگی اورمصاحبت کے نتیجہ میں رفتہ رفتہ دو ہم نشین افراد کے عادات واخلاق ایک دوسرے میں منتقل ہوتے ہیں ،لہذا انسان کونیک انسانوںکی دوستی اختیار کرنی چاہئے ،کیونکہ اس صورت میں ان کے نیک اخلاق اس میں سرایت کریں گے اس کی بے لوث اور خیرخواہانہ دوستی سے استفادہ کرے گا اوراس کی دوستی کی پائداری سے مطمئن رہے گا۔اس کے علا وہ لوگوںکی نظروں میں اس کی اجتماعی حیثیت بھی بڑھ جائے گی ۔امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں :”خیر الاصحاب من یَد لُّکَ علی الخیر””بہترین دوست وہ ہے جوتجھے نیک کام کی طرف راہنمائی کرے۔”مزید فرماتا ہے :”المرء یوزن بخلیلہ ””مرداپنے دوست کے ذریعہ تولا جاتا ہے ”(١)تو اول بگوباچہ کس زیستیکہ تامن بگویم کہ توکیستیہمان قیمت آ شنایان توبود قیمت و ارزش جان توتم پہلے یہ بتاوکہ تم کس کے ہم نشیں ہوتاکہ میں بتاسکوں کہ تم کون ہوتیری قدروقیمت بھی وہی ہوگی جو تیرے دوست کی ہے۔…………..١۔میزان الحکمة،ج٢،ص٣٢٧۔
بروں کی مصاحبتبروں اور گنہگاروںکے ساتھ اٹھنا بیٹھنا بدبختی اور برے انجام کاسبب بنتاہے ۔اس مطلب کی وضاحت کے لئے اتناہی کافی ہے کہ اگرہم مجرموں اور بدکرداروں جیسے چوروں اورڈاکوئوں سے ان کے انحراف وگمراہی کے سبب کے بارے میں پوچھیں تو وہ کسی شک وشبہہ کے بغیرجواب دیں گے کہ برے لوگوں کی مصاحبت اورمعاشرت نے ہمیںاس مصیبت میں گرفتارکیا ہے ۔ہزاروں بدکرداروں میں ایک آدمی بھی ایسا نہیں ملے گا کی جس نے خودبخودناشائستہ راستہ کوانتخاب کیاہو۔امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں :”بروں کی ہم نشنی سے پرہیز کرو،کیونکہ برادوست تم کو اپنے جیسا بنادے گا، اور وہ تمہارے جیسانہیں بنے گا”(١)مزید فرماتے ہیں :”ایاک ومصادقة الفاجر فانہ یبیع مصادقہ بالتّا فة”(٢)”بدکردارکی دوستی سے پرہیز کروکیونکہ وہ تم کو معمولی چیز کے مقابلہ میں بیچ دے گا.”بابدان کم نشین کہ درمانیخوپذیراست نفس انسانی”بروں کی ہم نشنی کم اختیار کرو،کیونکہ انسان دوسروں کی عادت کوقبول کرنے والا ہوتا ہے ”…………..١۔شرح غررالحکم ،ج٢،ص٢٨٩۔٢۔غررالحکم ،ح١٠٧،ص١٥٩۔