بات کی صفائی اور حقیقت کا اعلان

381

  اپنی کمزوریاں’ مایوسیاں’ ناامیدیاں ان اشخاص سے مخفی رکھی جاتی ہیں۔ کہ جن سے کام لینا منظور ہے۔ چہ جائیکہ یہ کہنا “تم ہمارا ساتھ چھوڑ دو’ تم ہمارے پاس سے چلے جاؤ ہم نہیں چاہتے کہ تم ہماری وجہ سے اپنی جان دو۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ انسان کے ضمیر کی سچائی اور انسان کی ایمانداری و دیانتداری پر بڑا حرف آتا ہے اس امر سے کہ وہ کسی کو دھوکے میں مبتلا رکھے اور ایک سچے داعی مذہب اور حقیقی رہنما کے لیے ننگ و عار ہے کہ وہ دوسروں کو غلط توقعات قائم کرکے اپنے ساتھ شریک کرے یا کم از کم خاموش رہ کر ان کو عرصہ تک غلط فہمی میں مبتلا رہنے دے۔ امام حسین (ع) نے شروع سے آخر تک اس بات کی کوشش کی کہ کوئی ہمارے ساتھ غلط فہمی میں مبتلا نہ ہو اور غلط توقعات کی بناء پر ہمارا ساتھ دینے پر آمادہ نہ ہو۔ صرف آخری وقت میں نہیں بلکہ شروع سے! اس وقت جبکہ ظاہری اسباب کی بناء پر آپ کی دنیاوی کامیابی کی توقع بہت قوی ہوسکتی تھی۔ اسی وقت سے آپ نے اس امر کی کوشش کی کہ کسی کو غلط فہمی نہ پیدا ہو اور ان ظاہری اسباب سے جو توقعات پیدا ہوتے ہیں ان پر بھروسہ کرکے کوئی ہمارے ساتھ نہ آئے اس لیے آپ برابر حقیقت حال سے اور اپنے آخری  انجام سے مطلع کرتے رہے اور اعلان فرماتے رہے کہ ہمارا آخری نتیجہ اس سفر میں موت ہے۔ اس وقت جب آپ ابھی مدینہ منورہ سے روانہ بھی نہ ہوئے تھے اغیار آپ کے ساتھ نہ ہوئے تھے اور خاص اعزاء کی جماعت آپ کے ساتھ چلنے پر آمادہ تھی۔ اس وقت آپ ایسی باتیں کرتے تھے جن سے خود بخود موت کے استقبال کی تیاری کا پتہ چلتا تھا۔ چنانچہ ابوسعد مقبری جو رجب ۶۰ھ میں جب امام حسین (ع) مدینہ منورہ سے روانہ ہوئے ہیں’ وہاں موجود تھے’ ناقل ہیں کہ میں نے امام حسین (ع) کو دیکھا کہ آپ مسجد نبوی میں تشریف لیے جارہے ہیں اور دو آدمی دو طرف سے آپ کے بازو تھامے ہوئے ہیں اور آپ ابن مفرغ شاعر کے اس قول کو بطور تمثیل پڑھ رہے ہیں۔لاذعرت السوام فی فلق الصبحصغیراولا دعیت یزیدایوم اعطی من المھایة ضیماوالمنابابر صدتنی ان احیدا شاعر نے اپنا نام نظم کیا ہے لیکن آپ کی زبان سے شعر کا مطلب یہ ہے کہ “میرا نام حسین (ع) نہیں اگر موت کے خوف سے میں ذلت کو برداشت کروں اور اس وقت کہ جب موت میری تاک میں ہے میں ہٹ جاؤں۔ یہ کوئی تقریر نہیں تھی اور نہ کوئی خاص اعلان تھا’ مگر سننے والے نے سمجھ لیا اور وہ بیان کرتا ہے کہ فقلت فی نفسی واللہ ماتمثل بھذین النبیین الایشئی یرید۔”ان اشعار کو سنتے ہی میں نے اپنے دل میں کہاکہ خدا کی قسم ان شعروں کا پڑھنا رمز سے خالی نہیں ہے اور کوئی مقصد آپ کے پیش نظر ہے جبھی یہ شعر اس وقت پڑھ رہے ہیں”اس کے بعد دو دن نہ گزرے تھے کہ آپ مدینہ سے روانہ ہوگئے۔ اب وہ وقت آیا ہے۔ کہ آپ مکہ معظمہ سے روانہ ہونے والے ہیں یہ وہ وقت ہے کہ کوفہ عراق کا پایہ تخت اور بڑا مرکز ہے امیر المومنین (ع) کا دار السلطنت رہ چکا ہے اور لوگوں کی نظر میں علی (ع) اور اولاد علی (ع) کے دوستوں سے پر ہے۔ وہاں سے بارہ سو نامے آچکے ہیں کہ آپ آیئے اور ہم آپ کی نصرت میں اپنا خون پسینہ کی طرح بہانے کے لیے تیار ہیں۔ ان خطوط کے بعد حضرت مسلم (ع) روانہ کیے جاچکے ہیں۔ ان کا خط آچکا ہے’ کہ اٹھارہ ہزارآدمیوں نے بیعت کی ہے ان سب باتوں کے بعد امام حسین (ع) کوفہ کی طرف روانہ ہو رہے ہیں تو عام افراد کا خیال اس سفر کے متعلق کیا ہوسکتا ہے؟ یہی کہ آپ ایسی جگہ جا رہے ہیں جہاں تاج و تخت کے مالک ہوں گے اور بادشاہ تسلیم کیے جائیں گے۔ اس لیے قدرتاً آپ کے ساتھ بہت سے لوگوں کو اس خیال سے ہو جانا چاہئے تھا کہ وہاں جاکر آپ کی سلطنت سے فائدہ اٹھائیں اور نیز چونکہ آپ زرخیز زمین پرجا رہے ہیں’ اس لیے وہاں جاکر مالی منافع بھی حاصل کریں۔ اس طرح یقیناً آپ جو کوفہ کی طرف تشریف لے جاتے تو ایک کثیر جماعت جو ایک لشکر کی حیثیت رکھتی ہوتی آپ کے ساتھ ہوتی اور یقیناً شرو ع شر وع تو اگر جنگ کا موقع ہوتا وہ فتح کے توقعات میں آپ کے ساتھ جنگ میں بھی شریک ہوتی لیکن یہ آپ کو منظور نہ تھا۔ آپ نے ضرورت محسوس کی کہ عام لوگوں کے سامنے حقیقت کو واضح فرمادیں اور سب کو بتلادیں کہ ان کے خوش آیند توقعات سراب سے زیادہ حقیقت نہیں رکھتے۔ آپ نے مکہ معظمہ سے روانگی کے ایک دن قبل عام مجمع میں تقریر فرمائی جس میں بعد حمدو صلوٰة کے حسب ذیل الفاظ ارشاد کیے تھے۔ “موت اولاد آدم(ع) کے گلے کا ہار ہے میں کتنا اپنے اسلاف کی ملاقات کا مشتاق ہوں’ اتنا’ جتنا یعقوب (ع) یوسف (ع) کی ملاقات کے مشتاق تھے میرے لیے بہتر سے بہتر وہ جگہ ہوگی جہاں میں قتل کرکے گرایا جاؤں یہ خبریں تھیں جو سینہ بہ سینہ رسول سے پہنچی تھیں جن کی بنیاد پر آپ اپنے مستقبل کی خبر دے رہے تھے۔ میرے پیش نظر ہے وہ منظر میرے جوڑ بندوحشی درندے قطع کررہے ہوں گے’ مقام نو اویس اور کربلا کے درمیان میں وہ مجھ سے اپنی پیاس بجھا رہے ہوں گے اور اپنی حسرتیں میرے قتل سے نکال رہے ہوں گے’ کوئی چارہ کار نہیں ہے کوئی مفر نہیں ہے اس دن سے جو قلم تقدیر نے لکھ دیاہے۔ جو خدا کی مرضی ہو اسی میں ہم اہل بیت(ع) کی مرضی ہے۔ ہم اس کی آزمائش پر صبر کرتے ہیں اور جو صابرین کا اجر ہے اس کو پورا پورا حاصل کرتے ہیں’ رسالت مآب سے ان کے جگر کے ٹکڑے دور تھوڑی ہوسکتے ہیں بلکہ وہ بارگاہ قدس میں جنت اعلیٰ میں ان کے پاس مجتمع ہونے والے ہیں۔ جس سے ان کی آنکھیں خنک ہوں گی’ ان کا وعدہ پورا ہوگا۔ جو اپنی جان میرے ساتھ فدا کرنا چاہتا ہو اور موت پرکمر باندھے ہوئے ہو وہ میرے ساتھ چلے میں صبح کو انشاء اللہ روانہ ہو جاؤں گا۔ دیکھئے ان الفاظ کے ساتھ لوگوں کو اپنے ساتھ آنے کی دعوت دی جا رہی ہے کیا ا س سے بڑھ کر دنیامیں حقانیت اور سچائی کاثبوت ہوگا؟ کیا اس سے بڑھ کر صاف گوئی طہارت ضمیر کامظاہرہ ہوگا؟ اب ساتھ چلنے والے وہی لوگ تھے جو جان دینے کے اوپر تیار تھے’ جو حقیقتاً استقلال اور ثابت قدمی رکھتے تھے’ جن کو دنیا کی کوئی توقع اور راحت’ دنیا کا کوئی خیال اپنی طرف متوجہ نہیں کر رہا تھا بلکہ وہ حقیقت کے طالب تھے’ اور مجاز کے پردوں کو چاک کرکے حقیقت کو حاصل کرنا چاہتے تھے۔ اس حقیقت پر ور تقریر کے بعد وہی لوگ آپ کے ساتھ ہوئے جو دنیا کے مال و دولت جاہ و حشم کو خاک سیاہ سمجھتے تھے جو زندگی کے طالب تھے اور اسے موت کا نتیجہ سمجھتے تھے’ بس وہی آپ کے ساتھ روانہ ہوئے۔ منتخب مجمع چھٹے ہوئے لوگ یہ طریقہ تھا امام (ع) کے انتخاب کا اور اس طرح آپ نے چاہا تھا کہ حشوو زوائد آپ کے ساتھ نہ ہونے پائیں وہی آئیں جو موت کے والہ و شیفتہ ہوں۔ یہ تقریر مکہ معظمہ کی تھی جس نے ہر قسم کی غلط فہمی کے پردہ کو چاک کر دیا۔ اور حقیقت حال واضح کردی مگر مکہ معظمہ سے روانگی کے بعد راستہ کے اعراب’ بادیہ نشین قبائل’ بے خبر اشخاص ‘ خالی الذہن افراد امام (ع) کو دیکھتے ہیں کہ ایک جمعیت کے ساتھ ایک بڑے قافلہ کی شان سے جا رہے ہیں’ دریافت کرتے ہیں “کہاں جا رہے ہیں” معلوم ہوتا ہے عراق وہاں سے طلبی ہوئی ہے۔ لوگوں کو خیال ہوتا ہے کہ ہم بھی آپ کے ساتھ چلیں نتیجہ یہ ہوا کہ مکہ معظمہ سے ساتھ آنے والی جماعت مختصر تھی مگر راستہ میں طرح طرح کے لوگ شریک ہونے لگے اور وہ جمعیت جو اس کے قبل ایک قافلہ کی حیثیت رکھتی تھی اب ایک لشکر کی صورت میں آگئی’ کوئی اور ہوتا تو اس فوج کو غنیمت سمجھتا اس لشکر کے اپنے ساتھ ہو جانے کوبہترین موقع خیال کرتا وہ چاہتا کہ کسی طرح انہیں اپنے ساتھ گرویدہ رکھے اور اپنی گرفت سے نکلنے نہ دے۔ ابھی تک امام حسین (ع) بھی خاموش تھے مجمع بڑھتا جاتا تھا۔ ہر منزل پر کچھ نہ کچھ نئے لوگ آکر شریک ہوتے تھے یہاں تک کہ جب عراق کے حدود میں پہنچے اور منزل زر ود پر قافلہ پہنچا۔عبد اللہ ابن سلیم اورمنذر ابن مشمعل اسدی نے جو مکہ معظمہ سے آکر قافلہ سے ملحق ہوئے تھے ایک شخص کو کوفہ کی طرف سے آتے دیکھا۔ امام (ع) کی بھی نظر اس پرپڑی اور ٹھہر کر یہ چاہا کہ کچھ حالات کوفہ کے اس سے دریافت کریں لیکن اس نے یہ دیکھ کرراستہ بدل دیا اور دوسری طرف روانہ ہوا۔ امام (ع) اس کے بعد آگے بڑھ گئے مگر عبد اللہ اور منذر نے قافلہ سے الگ ہو کر اس شخص سے ملاقات کی اور اس سے کوفہ کے حالات دریافت کیے۔ اس نے بیان کیا کہ میں کوفہ سے اس وقت چلا ہوں جب مسلم بن عقیل  اور ہانی ابن عروہ قتل ہوچکے تھے۔ یہ دونوں آدمی حالت معلوم کرکے واپس آئے شام کا وقت تھا۔ رات بھر انہوں نے یہ بات دل میں رکھی۔ صبح کو جب امام (ع) اپنے مخصوص احباب کے مجمع میں تشریف فرماتے تھے تو وہ دنوں آدمی حاضر ہوئے اور عرض کیا۔ “ہم نے کچھ عرض کرنا ہے ارشاد ہو تو ان لوگوں کے سامنے عرض کریں ا ور اگر حکم ہو تو علیحدہ حضرت نے ایک نظر ان اصحاب پر ڈالی جو اس وقت موجود تھے اور فرمایا “مادون ھولاء سر”ان لوگوں سے راز کی بات کیا ہوگی؟ دونوں شخصوں نے عرض کیا آپ نے اس سوار کوملاحظہ فرمایا تھا جو کل شام کو کوفہ کی طرف سے آرہا تھا؟ حضرت نے فرمایا ہاں اور میں نے چاہا بھی تھا کہ اس سے کچھ حالات دریافت کروں” انہوں نے عرض کیا ہم نے حضور کا منشا ء پورا کردیا وہ ہمارے ہی قبیلہ کا ایک شخص ہے۔ قابل اطمینان اور معتبر’ اس نے یہ بیان کیا کہ مسلم ابن عقیل(ع) و ہانی ابن عروہ شہید ہوگئے اور ان کی لاشیں بازار میں پھرائی گئی۔ امام (ع) نے یہ سن کر بس چندمرتبہ انا للہ وانا الیہ راجعون رحمتہ اللہ علیھما کا کلمہ زبان پر جاری فرمایا اور خاموش ہوگئے۔ یہ دونوں آدمی جو شب بھر اس وحشت ناک خبر کو اپنے دل میں رکھ کر اس سے کافی اثر لے چکے تھے اور تمام صورتِ حال پر غور کرچکے تھے کہ کوفہ جانا اب بیکار ہے اور کوئی امیدکوفہ میں باقی نہیں ہے۔ انہوں نے بے تاب ہو کر کہا۔ ننشدک اللہ فی نفسک واھل بیتک الاانصرفت من مکانک ھذا فانہ لیس لک بالکوفة ناصرولا شیعة بل نتخوب ان تکون علیک۔”ہم حضور کو خدا کا واسطہ دے کر کہتے ہیں کہ بس یہیں سے واپس چلیے کیونکہ کوفہ میں آپ کا نہ کوئی مددگار ہے اور نہ دوست بلکہ ہمیں اندیشہ ہے کہ کوئی ناگوار صورت پیش نہ آئے۔ حضرت نے مناسب جواب دے کر ان لوگوں کی تسلی کردی اور پھر خاموشی اختیارفرمالی۔ معلوم ہوتا ہے کہ حقیقتاً جیسا امام (ع) نے مجمع کو دیکھ کر فرمایا تھا کہ “ان لوگوں سے کوئی راز کی بات راز نہیں ہے” تو وہ جماعت تھی ہی ایسی راز دارواما نتدار کہ ایسی عظیم خبر کی اطلاع ہوئی۔ اور اس مجمع میں بیان کی گئی مگر پھر بھی عام اہل قافلہ سے وہ راز ہی کی صورت میں رہی اور کسی شخص کو اس کی اطلاع نہ ہوئی اور نہ کوئی انتشار پیدا ہوا نہ اضطراب ۔ عبد اللہ بن یقطر جو حضرت کے رضاعی بھائی تھے اور آپ نے ان کو راستہ سے روانہ فرمایا تھا ان کی شہادت کی بھی خبر آگئی۔ اور حضرت (ع) نے سن لی۔ عام قافلہ والے اب بھی یہی سمجھتے ہیں کہ کوفہ کی فضا امام (ع) کے موافق ہے لیکن امام (ع) لوگوں کی غلط فہمی سے فائدہ اٹھانا کب منظور کرسکتے ہیں۔ آپ نے چاہا کہ حقیقت حال واضح ہو جائے چنانچہ جب آپ منزل پر پہنچے تو آپ نے قیام فرمایا۔ اور ایک تحریر جسے سرکاری بیان کہنا چاہئے۔ آپ نے تمام اہل قافلہ کے مجمع میں سب کو پڑھ کر سنائی۔ بسم اللہ الرحمن اما بعد’ فقد اتاناخبر فظیع قتل مسلم بن عقیل وھانی بن عروة و عبد اللہ بن یقطروقد خذلتنا شیعتنا فمن احب منکم الانصراف فلینصرف فلیس علیہ مناذمام۔”ہمارے پاس ایک درد ناک خبر پہنچی ہے کہ مسلم بن عقیل (ع) اور ہانی بن عروةاور عبد اللہ بن یقطر شہیدکر ڈالے گئے اور وہ لوگ جو ہماری دوستی کا دعوی کرتے تھے انہوں نے ہمارا ساتھ چھوڑ دیا۔ اس صورت حال کے بعدجو شخص تم میں سے واپس جانا چاہئے وہ واپس چلا جائے ہماری طرف سے اس پرکوئی ذمہ داری عائد نہیں ہے” یہ حضرت کہ تقریر تھی جس کے بعد “تفرق الناس عنہ تفرقا فاخذ وایمینا وشمالاحتی بقی فی اصحابہ الذین جاؤ وامعہ من المدینة”لوگ متفرق ہونے لگے اور کوئی داہنی طرف کوئی بائیں طرف اٹھ اٹھ کے جانے لگے یہاں تک کہ بس وہی منتخب جماعت رہ گئی جو آپ کے ساتھ مدینہ منورہ سے آئی تھی’ اس طرح سے مجمع چھٹ گیا اور صرف وہی لوگ رہ گئے جو آپ کی مکہ معظمہ والی تقریر سن چکے تھے۔ اور حقیقتاً موت پرآمادہ تھے۔ مورخ کا بیان “آپ نے یہ صورت اس لیے اختیار کی کہ آپ کو خیال تھا کہ عام عرب راستہ سے آپ کے ساتھ ہوگئے ہیں اس گمان پر کہ آپ ایسے شہر جا رہے ہیں جہاں کے لوگ پورے طور سے آپ کے فرماں بردار اور مطیع ہیں جہاں کی زمین پورے طور سے ہموار ہو چکی ہے۔ آپ کو یہ گوارانہ ہوا کہ وہ لوگ غلط فہمی میں مبتلا رہیں۔ آپ نے چاہا کہ صرف وہی لوگ آپ کے ساتھ رہ جائیں جو حقیقت حال سے مطلع ہوں ا ور سمجھ چکے ہوں کہ صورت حال کیا ہے۔ آپ کو یقین تھا کہ آپ کے اعلان کے بعد بس وہی لوگ رہ جائیں گے جو آپ کے سچے ہمدرد اور آپ کے ساتھ جان دینے پر تیار ہیں”(طبری ج ۶ ۲۲) راستہ کی منزلیں ختم ہوئیں اور اب وہ وقت ہے کہ حضرت (ع) کربلا پہنچ چکے۔ صلح کی گفتگو ختم ہوچکی اور دشمن نے حملہ بھی کر دیا۔ صرف ایک رات کی مہلت ملی ہے اور وہ بھی بمشکل عبادت خدا کے لیے مگر امام حسین (ع) اب بھی اتمام حجت کرتے ہیں۔ ساتھیوں کو ایک آخری موقع دیتے ہیں۔ یہ ضرور ہے کہ اب جو لوگ تھے وہ منتخب وہ حقیقتاً موت پر تیار مگر حضرت (ع) نے چاہا کہ ان کا بھی  امتحان ہو جائے اور ان کے ثبات قدم کا بہترین مظاہرہ سامنے آجائے۔ چنانچہ امام زین العابدین (ع) کی روایت ہے کہ جب عمر بن سعد سے ایک شب کی مہلت مل گئی ا ور عمرسعد کی فوج واپس گئی تو حضرت (ع) نے اپنے اصحاب ؓ کو جمع فرمایاامام زین العابدین (ع) فرماتے ہیں کہ میں بیمار تھا۔ مگر ذرا قریب پہنچا کہ سنوں۔ حضرت (ع) کیا فرماتے ہیں۔ حضرت (ع) نے فرمایا۔اثنی علی اللہ تبارک و تعالی احسن الثناء واحمدہ علی السراء والضراء” میں خدا کی بہترین ثنا کا فرض ادا کرتا اورسختی ہو یا آسانی ہر حال میں ا س کا شکر کرتا ہوں۔ “اللھم انی احمدک علی ان اکرمتتا بالنبوة علمتنا القران وفقھتنافی الدین وجعلت لنا اسماعا وابصارا وافئدہ ولم تجعلنا من المشرکین” “خداوند میں تیرا شکر ادا کرتا ہوں کہ تو نے نبوت عطا کرکے ہماری عزت بڑھائی اور قرآن کی تعلیم ہم کو عطا کی اور دین میں ہم کو فقیہہ قرار دیا۔ ہم کو تو نے گوشِ شنوا اور چشم بینا اور قلب دانا عطا فرمائے اور ہم کو تو نے جماعت مشرکین سے نہیں قرار دیا” امابعد فانی لا اعلم اصحابا اوفی ولاخیر من اصحابی ولااھل بیت ابرولا اوصل من اھل بیتی مجزاکم اللہ عنی جمیعاً خیرا’ اب حضرت نے اصحاب ؓ کا ذکر پہلے کر دیا اس لیے کہ غیروں کا معاملہ تھا مگر خیال ہوا کہ عزیزوں کی دل شکنی نہ ہو اس لیے اصحاب کے بعد عزیزوں کا تذکرہ ضروری معلوم ہو اور نہ مجھے کسی کے اعزا (خاندان والے) معلوم ہیں جو میرے عزیزوں سے زیادہ حق شناس اور مطیع و فرمانبردار ہوں۔ خدا تم سب کو میری طرف سے نیک بدلہ دے اور جزائے خیر عطا فرمائے۔ آگاہ ہو کہ میرے خیال میں کل کا دن ہمارا ان اعداء کے ساتھ تاریخی دن ہوگا۔ میں نے تمہارے متعلق غور کیاہے اور میری رائے تمہارے لیے یہ ہے کہ تم سب اس وقت چلے جاؤ اور میری اجازت ہے کہ میرا ساتھ چھوڑ دو کوئی تمہارے اوپر میری طرف سے ذمہ داری عائد نہ ہوگی۔ دیکھو یہ رات کا پردہ پڑ گیا ہے’ اسے تم اپنے لیے غنیمت سمجھو۔ اور اس سے فائدہ اٹھاؤ۔ عزیزوں سے خود نہیں کہا کہ تم چلے جاؤ۔ مگر اس لیے کہ اصحاب کو برا نہ معلوم ہو اصحاب سے یہ فرمایا کہ “لیا خذکل رجل منکم بید رجل من اھل بیتی ثم تفرقوافی سواد کم ومدائنکم حتی یفرج اللہ فان القوم انما یطلبونی ولوقدا صابونی لھم اعن طلب غیری۔ تم خود جاؤ اور اتنا اور بھی کرو کہ ہر ایک تم میں سے ایک ایک میرے عزیز کا ہاتھ پکڑے اور اسے ساتھ لیتا جائے۔ اس کے بعد اپنے اپنے دیہات اور شہروں میں متفرق ہو جاؤ۔ تاوقت یہ کہ تمہیں کشائش اور بنی امیہ کی سلطنت سے نجات حاصل ہو اور اس لیے کہ یہ لوگ صرف میرے طالب ہیں اگر میں انہیں مل جاؤں اور مجھ کو قتل کر ڈالیں تو پھر انہیں کسی دوسرے کی فکر نہ ہوگی” بس یہ اتمام حجت تھی لیکن ایسی جماعت کے سامنے کا کوئی فرد حقیقت حال سے بے خبر ہو کر ساتھ نہیں آیا تھا کوئی لالچ اور طمع دنیوی پیش نظر رکھ کر شریک نہیں ہوا تھا۔ اس لیے ایک طرف اعزا کھڑے ہوگئے’ بھائی’ بیٹے’ بھتیجے اور عبد اللہ بن جعفر (ع) کی اولاد اور سب نے کہا جن میں سب سے پہلے بولنے والے حضرت عباس (ع) بن علی (ع) تھے کہ لم نفعل لنبقی بعدک لاارانا اللہ ذلک ابدا “یہ کیوں؟ کس لیے؟ کس واسطے ہم واپس چلے جائیں؟ اس لیے کہ آپ کے بعد زندہ رہیں؟ خدا ہم کو یہ روز بد نصیب نہ کرے” حضرت متوجہ ہوئے اولاد عقیل (ع) کی طرف اور فرمایا۔ تمہارے لیے مسلم (ع) کا قتل ہونا کیا کم ہے؟ تم چلے جاؤ’ تم کو میں نے اجازت دے دی۔ انہوں نے کہا ایسا نہیں ہوسکتا۔ بلکہ ہم بھی اپنی جانیں آپ کے قدموں پر نثار کریں گے” اصحاب ؓ بظاہر اعزا کے احترام کی وجہ سے خاموش تھے۔ جب اعزا اپنے خیالات کا اظہار کرچکے تو وہی اسی برس کا ضعیف العمر جان نثار مسلم بن عوسجہ مجمع کے درمیان سے کھڑا ہوا۔ انصار حسین (ع) میں ان سے زیادہ مسن کوئی نہ تھا۔ پشت خمیدہ اور جسم کمزور تھا مگر دیکھنے کی بات ہے کہ کہیں الفاظ سے دل کی کمزوری نمایاں نہیں ہے عرض کرتے ہیں۔ “ہم آپ کو چھوڑدیں؟ اس صورت میں خدا کو کیا جواب دیں گے؟ خدا کی قسم میں ان دشمنوں کو اتنے نیزے لگاؤں گا کہ ان کے سینوں میں میرا نیزہ ٹوٹ جائے اور اس وقت تک شمشیر زنی کروں گا جب تک اس کا قبضہ میرے ہاتھ میں رہے’ میں آپ سے کسی وقت جدا نہ ہوں گا۔ اور اگر ہتھیار میرے پاس نہ ہوں گے اور بیکار ہو جائیں گے’ تب بھی پتھروں سے ان سے جنگ کروں گا۔ یہاں تک کہ آپ کی نصرت میں کام آؤں اور آپ کے قدموں پر اپنی جان نثار کروں”۔ مسلم بن عوسجہ ؓ نے جو کہنا تھا وہ کہہ کر بیٹھ گئے تب ان سے کم عمر کے جو لوگ تھے ان کو جرات ہوئی کچھ کہنے کی یہ ادب تھا یہ اخلاقی تربیت تھی۔ یہ شائستگی تھی۔ جس طرح بنی ہاشم سے پہلے اصحاب نے کچھ نہیں کیا اسی طرح اصحاب میں کسی نو عمر آدمی کو اس وقت تک جرات نہیں ہوئی۔ جب تک مسلم ؓ اپنے خیالات کا اظہار نہیں کرچکے۔ اب سعید بن عبد اللہ حنفی کھڑے ہوئے انہوں نے کہا “خدا کی قسم ہم آپ کا ساتھ نہ چھوڑیں گے جب تک ثابت نہ کردیں کہ ہم نے جناب رسول خدا کی وصیت کو جو آپ کے بارے میں تھی پورا کردیا۔ خدا کی قسم اگر مجھے معلوم ہو کہ میں قتل ہوں گا۔ پھر زندہ کیا جاؤں گا’ پھر جیتے جی آگ میں جلایا جاؤں گا۔ پھر میری خاک ہوا میں منتشر کی جائے گی ایسا ہی میرے ساتھ ستر مرتبہ سلوک ہوگا تب بھی آپ سے جدا نہ ہوں گا جب تک کہ آخری موت آپ ہی کے قدموں پر نہ آئے چہ جائیکہ اب میں آپ کا ساتھ چھوڑوں گا؟ حالانکہ جانتا ہوں کہ ایک ہی مرتبہ قتل ہونا ہے اور اس کے بعد زندگی ہی زندگی اور عزت دائمی ہے۔ اس کے بعد زہیر بن القین ؓکھڑے ہوئے یہ وہی پرجوش جان نثار ہیں جنہوں نے حر ؓ کے معاملہ میں کہا تھا کہ ہمیں ان سے لڑ لینے دیجئے۔ یہ کھڑے ہوئے اور کہا معلوم ہوتا ہے دلوں میں وہ تلاطم ہے کہ الفاظ تلاش کرتے ہیں مگرمطلب ادا کرنے کو ملتے نہیں۔ خدا کی قسم میری تو یہ آرزو ہے کہ میں قتل کیا جاؤں اور پھر زندہ ہوں ا ور پھر قتل کیاجاؤں یونہی ہزار مرتبہ میرے ساتھ سلوک ہو’ لیکن کسی طرح آپ کی اور آپ کے اعزاواقارب ان ہاشمی جوانوں تک جان بچ جائے جو آپ کے ساتھ ہیں”۔ دیگر اصحاب نے بھی ملتے جلتے الفاظ میں اسی قسم کے جذبات کاا ظہار کیا اور سب نے متفق اللہجہ یہ کہا کہ:”ہم آپ سے جدا نہیں ہوں گے۔ بلکہ اپنی جان آپ پر فدا کریں گے۔ اپنے سینے سر’ بازو’ تمام اعضاء وجوارح آپ کی نصرت میں صرف کر دیں گے۔ جب ہم مرجائیں گے اور دنیا سے رخصت ہو جائیں گے تو اس وقت سمجھیں گے کہ ہم نے وفا کی اور جو ہمارا فرض تھا اس کو ادا کردیا۔ امام حسین (ع) نے اس طرز عمل سے یہ سبق دیا کہ دنیا میں حقانیت ضمیر کی صفائی اور امانت کا لحاظ رکھنا چاہئے۔ کسی غلط فہمی سے فائدہ اٹھا کر اپنا مقصد نہ نکالے۔ کبھی غلط توقعات قائم کرکے اپنی کار برآری نہ کرے۔ غلط فہمی کا سدباب کرکے جو حقیقی جان نثار ہیں بس ان کی ہمدردی کو قبول کرے اور کسی کی غلط اندیشی و فریب پذیری سے فائدہ نہ اٹھائے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.