معراج رسول (ص)

2,453

معراج کی کیفیت قرآن و حدیث کی نظر سے
قرآن حکیم کی دوسورتوں میں اس مسئلے کی طرف اشارہ کیا گیا ھے پھلی سورت بنی اسرائیل ھے اس میں اس سفر کے ابتدائی حصے کا تذکرہ ھے ۔ (یعنی مکہ کی مسجد الحرام سے بیت المقدس کی مسجد الاقصٰی تک کا سفر) اس سلسلے کی دوسری سورت ۔ سورہٴ نجم ھے اس کی آیت ۱۳ تا ۱۸ میں معراج کا دوسرا حصہ بیان کیا گیا ھے اور یہ آسمانی سیر کے متعلق ھے ارشاد هوتا ھے :ان چھ آیات کا مفهوم یہ ھے : رسول اللہ نے فرشتہ وحی جبرئیل کو اس کو اصلی صورت میں دوسری مرتبہ دیکھا (پھلے آپ اسے نزول وحی کے آغاز میں کوہ حرا میں دیکھ چکے تھے) یہ ملاقات بہشت جاوداں کے پاس هوئی ، یہ منظر دیکھتے هوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کسی اشتباہ کا شکار نہ تھے آپ نے عظمت الٰھی کی عظیم نشانیاں مشاہدہ کیں۔یہ آیات کہ جو اکثر مفسرین کے بقول واقعہٴ معراج سے متعلق ھیں یہ بھی نشاندھی کرتی ھیں کہ یہ واقعہ عالم بیداری میں پیش آیا خصوصا “مازاغ البصروماطغی” اس امر کا شاہد ھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی آنکھ کسی خطا واشتباہ اور انحراف سے دوچار نھیں هوئی ۔اس واقعے کے سلسلے میں مشهور اسلامی کتابوں میں بہت زیادہ روایات نقل هوئی ھیں ۔علماء اسلام نے ان روایات کے تو اتر اور شھرت کی گواھی دی ھے ۔[30]
معراج کی تاریخواقعہٴ معراج کی تاریخ کے سلسلے میں اسلامی موٴرخین کے درمیان اختلاف ھے بعض کا خیال ھے کہ یہ واقعہ بعثت کے دسویں سال ۲۷ رجب کی شب پیش آیا، بعض کہتے ھیں کہ یہ بعثت کے بارهویں سال ۱۷رمضان المبارک کی رات وقوع پذیر هوا جب کہ بعض اسے اوائل بعثت میں ذکر کرتے ھیں لیکن اس کے وقوع پذیر هونے کی تاریخ میں اختلاف،اصل واقعہ پر اختلاف میں حائل نھیں هوتا ۔اس نکتے کا ذکر بھی ضروری ھے کہ صر ف مسلمان ھی معراج کا عقیدہ نھیں کھتے بلکہ دیگرادیان کے پیروکار وں میں بھی کم و بیش یہ عقیدہ پایا جاتا ھے ان میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں یہ عقیدہ عجیب تر صورت میں نظر آتا ھے جیسا کہ انجیل مرقس کے باب ۶لوقاکے باب ۲۴اور یوحنا کے باب ا۲میں ھے:عیسٰی علیہ السلام مصلوب هونے کے بعد دفن هوگئے تو مردوں میں سے اٹھ کھڑے هوئے ،اور چالیس روز تک لوگوں میں موجود رھے پھر آسمان کی طرف چڑھ گئے ( اور ھمیشہ کے لئے معراج پر چلے گئے )ضمناً یہ وضاحت بھی هوجائے کہ بعض اسلامی روایات سے بھی معلوم هوتا ھے کہ بعض گزشتہ انبیاء کو بھی معراج نصیب هوئی تھی ۔پیغمبرگرامی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے یہ آسمانی سفر چند مرحلوں میں طے کیا۔پھلا مرحلہ،مسجدالحرام اور مسجد اقصیٰ کے درمیانی فاصلہ کا مرحلہ تھا، جس کی طرف سورہٴ اسراء کی پھلی آیت میں اشارہ هوا ھے: “منزہ ھے وہ خدا جو ایک رات میں اپنے بندہ کو مسجد الحرام سے مسجد اقصیٰ تک لے گیا”۔ بعض معتبر روایات کے مطابق آپ نے اثناء راہ میں جبرئیل(ع) کی معیت میں سر زمین مدینہ میںنزول فرمایا او روھاں نماز پڑھی ۔او رمسجد الاقصیٰ میں بھی ابراھیم و موسیٰ و عیسیٰ علیھم السلام انبیاء کی ارواح کی موجود گی میں نماز پڑھی اور امام جماعت پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم تھے، اس کے بعد وھاں سے پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا آسمانی سفر شروع هوا، اور آپ نے ساتوں آسمانوںکو یکے بعد دیگرے عبور کیا او رھر آسمان میں ایک نیاھی منظر دیکھا ، بعض آسمانوں میں پیغمبروں اور فرشتوں سے، بعض آسمانوں میں دوزخ او ردوزخیوں سے اور بعض میں جنت اور جنتیوں سے ملاقات کی ،او رپیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ان میں سے ھر ایک سے بہت سی تربیتی اور اصلاحی قیمتی باتیں اپنی روح پاک میں ذخیرہ کیں اور بہت سے عجائبات کا مشاہدہ کیا جن میں سے ھر ایک عالم ہستی کے اسرار میں سے ایک راز تھا، اور واپس آنے کے بعد ان کو صراحت کے ساتھ اور بعض اوقا ت کنایہ اور مثال کی زبان میں امت کی آگاھی کے لئے مناسب فرصتوں میں بیان فرماتے تھے، اور تعلیم وتربیت کے لئے اس سے بہت زیادہ فائدہ اٹھاتے تھے۔یہ امر اس بات کی نشاندھی کرتا ھے کہ اس آسمانی سفر کا ایک اھم مقصد،ان قیمتی مشاہدات کے تربیتی و عرفانی نتائج سے استفادہ کرنا تھا،اور قرآن کی یہ پر معنی تعبیر”لقد رایٰ من آیات ربہ الکبریٰ “[31]ان تمام امور کی طرف ایک اجمالی اور سربستہ اشارہ هو سکتی ھے۔البتہ جیسا کہ ھم بیان کرچکے ھیں کہ وہ بہشت اور دوزخ جس کو پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے سفر معراج میں مشاہدہ کیا اور کچھ لوگوں کو وھاں عیش میں اور عذاب میں دیکھا ، وہ قیامت والی جنت اور دوزخ نھیں تھیں ، بلکہ وہ برزخ والی جنت ودوزخ تھیں ، کیونکہ قرآن مجیدکے مطابق جیسا کہ کہتا ھے کہ قیامت والی جنت ودوزخ قیام قیامت اور حساب وکتاب سے فراغت کے بعد نیکو کاروں اور بدکاروں کو نصیب هوگی ۔آخر کار آپ ساتویں آسمان پر پہنچ گئے ، وھاں نور کے بہت سے حجابوں کا مشاہدہ کیا ، وھی جگہ جھاں پر “سدرة المنتھیٰ” اور” جنة الماٴویٰ” واقع تھی، اور پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اس جھان سراسر نوروروشنی میں، شهود باطنی کی اوج، اور قرب الی اللہ اور مقام ” قاب قوسین اوادنی”پر فائز هوئے اور خدا نے اس سفر میں آپ کو مخالب کرتے هوئے بہت سے اھم احکام دیئے اور بہت سے ارشادات فرمائے جن کا ایک مجموعہ اس وقت اسلامی روایات میں” احادیث قدسی ” کی صورت میں ھمارے لئے یادگار رہ گیا ھے ۔قابل توجہ بات یہ ھے کہ بہت سی روایات کی تصریح کے مطابق پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اس عظیم سفر کے مختلف حصوں میں اچانک علی علیہ السلام کو اپنے پھلو میں دیکھا، اور ان روایات میں کچھ ایسی تعبیریں نظر آتی ھیں، جو پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے بعد علی علیہ السلام کے مقام کی حد سے زیادہ عظمت کی گواہ ھیں ۔معراج کی ان سب روایات کے باوجود کچھ ایسے پیچیدہ اور اسرار آمیز جملے ھیں جن کے مطالب کو کشف کرنا آسان نھیں ھے، اور اصطلاح کے مطابق روایات متشابہ کا حصہ ھیں یعنی ایسی روایات جن کی تشریح کوخود معصومین علیھم السلام کے سپرد کردینا چاہئے ۔[32]ضمنی طورپر، معراج کی روایات اھل سنت کی کتابوں میں بھی تفصیل سے آئی ھیں،اور ان کے راویوں میں سے تقریباً ۳۰افراد نے حدیث معراج کو نقل کیا ھے۔یھاں یہ سوال سامنے آتاھے : یہ اتنا لمبا سفر طے کرنا اور یہ سب عجیب اور قسم قسم کے حادثات، اور یہ ساری لمبی چوڑی گفتگو ، اور یہ سب کے سب مشاہدات ایک ھی رات میں یاایک رات سے بھی کم وقت میں کس طرح سے انجام پاگئے ؟لیکن ایک نکتہ کی طرف توجہ کرنے سے اس سوال کا جواب واضح هوجاتاھے ، سفر معراج ھرگز ایک عام سفر نھیں تھا ، کہ اسے عام معیاروں سے پرکھاجائے نہ تو اصل سفر معمولی تھا اور نہ ھی آپ کی سواری معمولی اور عام تھی،نہ آپ کے مشاہدات عام اور معمولی تھے اور نہ ھی آپ کی گفتگو ، اور نہ ھی وہ پیمانے جواس میں استعمال هوئے، ھمارے کرہٴ خاکی کے محدود اور چھوٹے پیمانوں کے مانند تھے، اور نہ ھی وہ تشبیھات جواس میں بیان هوئی ھیں ان مناظر کی عظمت کو بیان کرسکتی ھیں جو پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے مشاہدہ کیے ، تمام چیزیں خارق العادت صورت میں ، اور اس مکان وزمان سے خارج هونے کے پیمانوں میں، جن سے ھم آشنا نھیں، واقع هوئیں ۔اس بناپر کوئی تعجب کی بات نھیں ھے کہ یہ امور ھمارے کرہٴ زمین کے زمانی پیمانوں کے ساتھ ایک رات یا ایک رات سے بھی کم وقت میں واقع هوئے هوں۔[33]
معراج جسمانی تھی یاروحانی ؟شیعہ اور سنی علمائے اسلام کے درمیان مشهور ھے کہ یہ واقعہ عالم بیداری میں صورت پذیر هوا، سورہ بنی اسرائیل کی پھلی آیت اور سورہ نجم کی مذکورہ آیات کا ظاھری مفهوم بھی اس امر کا شاہد ھے کہ یہ واقعہ بیداری کی حالت میں پیش آیا ۔تواریخ اسلامی بھی اس امرپر شاہد وصادق ھیں،تاریخ کہتی ھے : جس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے واقعہٴ معراج کا ذکر کیا تو مشرکین نے شدت سے اس کا انکار کردیا اور اسے آپ کے خلاف ایک بھانہ بنالیا۔یہ بات گواھی دیتی ھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ھرگز خواب یا مکا شفہٴ روحانی کے مدعی نہ تھے ورنہ مخالفین اس قدر شور وغوغا نہ کرتے ۔یہ جو حسن بصری سے روایت ھے کہ : “یہ واقعہ خواب میں پیش آیا “۔اور اسی طرح جو حضرت عائشہ سے روایت ھے کہ : “خداکی قسم بدن رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ھم سے جدا نھیں هوا صرف آپ کی روح آسمان پر گئی” ایسی روایات ظاھر ًاسیاسی پھلو رکھتی ھیں ۔
معراج کا مقصدگزشتہ مباحث پر غور کرنے سے یہ بات واضح هوجاتی ھے کہ معراج کا مقصد یہ نھیں کہ رسول اکرم دیدار خدا کے لئے آسمانوں پر جائیں، جیسا کہ سادہ لوح افرادخیال کرتے ھیں، افسوس سے کہنا پڑتا ھے کہ بعض مغربی دانشور بھی ناآگاھی کی بناء پر دوسروں کے سامنے اسلام کا چھرہ بگاڑکر پیش کرنے کے لئے ایسی باتیں کرتے ھیں ان میں سے ایک مسڑ” گیور گیو” بھی ھیں وہ بھی کتاب “محمد وہ پیغمبر ھیںجنھیں پھرسے پہچاننا چاہئے”[34] میں کہتے ھیں:”محمد اپنے سفر معراج میں ایسی جگہ پہنچے کہ انھیں خدا کے قلم کی آواز سنائی دی، انهوں نے سمجھا کہ اللہ اپنے بندوںکے حساب کتاب میں مشغول ھے البتہ وہ اللہ کے قلم کی آواز تو سننے تھے مگر انھیں اللہ دکھائی نہ دیتا تھا کیونکہ کوئی شخص خدا کو نھیں دیکھ سکتا خواہ پیغمبر ھی کیوں نہ هوں”یہ عبارت نشاندھی کرتی ھے کہ قلم لکڑی کا تھا، ایسا کہ کاغذ پر لکھتے وقت لرزتاتھا اور آواز پیدا کرتا تھا، اسی طرح کی اور بہت سارے خرافات اس میں موجود ھیں “۔ جب کہ مقصد معراج یہ تھا کہ اللہ کے عظیم پیغمبر کائنات میں بالخصوص عالم بالا میں موجود عظمت الٰھی کی نشانیوں کا مشاہدہ کریں اور انسانوں کی ہدایت ورھبری کے لئے ایک نیا ادراک اور ایک نئی بصیرت حاصل کریں ۔یہ ھدف واضح طورپر سورہٴ بنی اسرائیل کی پھلی آیت اور سورہٴ نجم کی آیت ۱۸ میں بیان هوا ھے۔امام صادق علیہ السلام سے مقصد معراج پوچھاگیا تو آپ نے فرمایا :”خدا ھرگز کوئی مکان نھیں رکھتا اور نہ اس پر کوئی زمانہ گزرتاھے لیکن وہ چاہتا تھا کہ فرشتوں اور آسمان کے باسیوں کو اپنے پیغمبر کی تشریف آوری سے عزت بخشے اور انھیں آپ کی زیارت کا شرف عطاکرے نیزآپ کو اپنی عظمت کے عجائبات دکھائے تاکہ واپس آکر آپ انھیں لوگوں سے بیان کریں”۔
معراج اور سائنسگزشتہ زمانے میں بعض فلاسفہ بطلیموس کی طرح یہ نظریہ رکھتے تھے کہ نو آسمان پیاز کے چھلکے کی طرح تہہ بہ تہہ ایک دوسرے کے اوپر ھیں واقعہٴ معراج کو قبول کرنے میں ان کے لئے سب سے بڑی رکاوٹ ان کا یھی نظریہ تھا ان کے خیال میں اس طرح تویہ ماننا پڑتا ھے کہ آسمان شگافتہ هوگئے اور پھر آپس میں مل گئے۔[35]لیکن” بطلیموسی “نظریہ ختم هو گیا تو آسمانوںکے شگافتہ هونے کا مسئلہ ختم هوگیا البتہ علم ہئیت میں جو ترقی هوئی ھے اس سے معراج کے سلسلے میں نئے سوالات ابھر ے ھیں مثلاً؛۱)ایسے فضائی سفر میں پھلی بار رکاوٹ کشش ثقل ھے کہ جس پر کنٹرول حاصل کرنے کے لے غیر معمولی وسائل و ذرائع کی ضرورت ھے کیونکہ زمین کے مداراور مرکز ثقل سے نکلنے کے لئے کم از کم چالیس ہزار کلو میٹر فی گھنٹہ رفتار کی ضرورت ھے ۔۲)دوسری رکاوٹ یہ ھے کہ زمین کے باھر خلا میں هوا نھیں ھے جبکہ هوا کے بغیر انسان زندہ نھیں رہ سکتا ۔۳)تیسری رکاوٹ ایسے سفر میں اس حصہ میں سورج کی جلادینے والی تپش ھے جبکہ جس حصہ پر سورج کی مستقیماً روشنی پڑرھی ھے اور اسی طرح اس حصے میں جان لیوا سردی ھے جس میں سورج کی روشنی نھیں پڑرھی ھے۔۴) اس سفر میں چوتھی رکاوٹ وہ خطرناک شعاعیں ھیں کہ جو فضا ئے زمین کے اوپر موجود ھیں مثلا کا سمک ریز cosmic ravs الٹرا وائلٹ ریز ultra violet ravsاور ایکس ریز x ravsیہ شعاعیں اگر تھوڑی مقدار میں انسانی بدن پر پڑیں تو بدن کے آرگانزم otganismکے لئے نقصان دہ نھیں ھیں لیکن فضائے زمین کے باھر یہ شعاعیں بہت تباہ کن هوتی ھیں (زمین پر رہنے والوں کے لئے زمین کے اوپر موجود فضاکی وجہ سے ان کی تپش ختم هوجاتی ھے )۵) ایک اور مشکل اس سلسلہ میں یہ ھے کہ خلامیں انسان بے وزنی کی کیفیت سے دوچار هوجاتا ھے اگرچہ تدریجاًبے وزنی کی عادت پیدا کی جاسکتی ھے لیکن اگر زمین کے باسی بغیر کسی تیاری اور تمھید کے خلا میں جا پہنچیں تو بےوزنی سے نمٹنا بہت ھی مشکل ھے ۔۶) آخری مشکل اس سلسلے میں زمانے کی مشکل ھے اور یہ نھایت اھم رکاوٹ ھے کیونکہ دورحاضر کے سانٴسی علوم کے مطابق روشنی کی رفتار ھر چیز سے زیادہ ھے اور اگر کوئی آسمانوں کی سیر کرنا چاھے تو ضروری هو گاکہ اس کی رفتار سے زیادہ هو ۔
ان سوالات کے پیش نظر چندچیزوں پر توجہان امور کے جواب میں ان نکات کی طرف توجہ ضروری ھے ۔۱۔ھم جانتے ھیں کہ فضائی سفر کی تمام تر مشکلات کے باوجود آخر کار انسان علم کی قوت سے اس پر دسترس حاصل کرچکا ھے اور سوائے زمانے کی مشکل کے باقی تمام مشکلات حل هوچکی ھیں اور زمانے والی مشکل بھی بہت دور کے سفر سے مربوط ھے ۔۲۔اس میں شک نھیں کہ مسئلہ معراج عمومی اور معمولی پھلو نھیں رکھتا بلکہ یہ اللہ کی لامتناھی قدرت و طاقت کے ذریعے صورت پذیر هوا اور انبیاء کے تمام معجزات اسی قسم کے تھے زیادہ واضح الفاظ میں یہ کھا جاسکتا ھے کہ معجزہ عقلاً محال نھیں هونا چاہئے اور جب معجزہ بھی عقلاً ممکن ھے ، توباقی معاملات اللہ کی قدرت سے حل هوجاتے ھیں ۔جب انسان یہ طاقت رکھتا ھے کہ سائنسی ترقی کی بنیاد پر ایسی چیزیں بنالے جو زمینی مرکز ثقل سے باھر نکل سکتی ھیں ، ایسی چیزیں تیار کرلے کہ فضائے زمین سے باھر کی هولناک شعاعیں ان پر اثر نہ کرسکیں اور ایسے لباس تیار کرلے کہ جو اسے انتھائی زیادہ گرمی اور سردی سے محفوظ رکھ سکیں اور مشق کے ذریعے بے وزنی کی کیفیت میں رہنے کی عادت پیدا کرلے ،یعنی جب انسان اپنی محدود قوت کے ذریعے یہ کام کرسکتا ھے تو پھر کیا اللہ اپنی لا محدود طاقت کے ذریعہ یہ کام نھیں کرسکتا ؟ھمیں یقین ھے کہ اللہ نے اپنے رسول کو اس سفر کے لئے انتھائی تیز رفتار سواری دی تھی اور اس سفرمیں در پیش خطرات سے محفوظ رہنے کے لئے انھیں اپنی مدد کا لباس پہنایا تھا ،ھاں یہ سواری کس قسم کی تھی اور اس کا نام کیا تھا براق ؟ رفرف ؟ یا کوئی اور ۔۔۔؟یہ مسئلہ قدرت کاراز ھے، ھمیں اس کا علم نھیں ۔ان تمام چیزوں سے قطع نظر تیز تریں رفتار کے بارے میں مذکورہ نظریہ آج کے سائنسدانوںکے درمیان متزلزل هوچکا ھے اگر چہ آ ئن سٹائن اپنے مشهور نظریہ پر پختہ یقین رکھتا ھے ۔آج کے سائنسداں کہتے ھیں کہ امواج جاذمہrdvs of at f fionزمانے کی احتیاج کے بغیر آن واحد میں دنیا کی ایک طرف سے دوسری طرف منتقل هوجاتی ھیں اور اپنا اثر چھوڑتی ھیں یھاں تک کہ یہ احتمال بھی ھے کہ عالم کے پھیلاؤ سے مربوط حرکات میں ایسے منظومے موجودھیں کہ جوروشنی کی رفتارسے زیادہ تیزی سے مرکز جھان سے دور هوجاتے ھیں (ھم جانتے ھیں کہ کائنات پھیل رھی ھے اور ستارے اور نظام ھائے شمسی تیزی کے ساتھ ایک دوسرے سے دور هورھے ھیں )(غور کیجئے گا)مختصر یہ کہ اس سفر کے لئے جو بھی مشکلات بیان کی گئی ھیں ان میں سے کوئی بھی عقلی طور پر اس راہ میں حائل نھیں ھے اور ایسی کوئی بنیاد نھیں کہ واقعہٴ معراج کو محال عقلی سمجھا جائے ,اس راستے میں درپیش مسائل کو حل کرنے کے لئے جو وسائل درکار ھیں وہ موجود هوں تو ایسا هوسکتا ھے ۔بھرحال واقعہٴ معراج نہ تو عقلی دلائل کے حوالے سے ناممکن ھے اور نہ دور حاضر کے سائنسی معیاروں کے لحاظ سے ، البتہ اس کے غیر معمولی اور معجزہ هونے کو سب قبول کرتے ھیں لہٰذا جب قطعی اور یقینی نقلی دلیل سے ثابت هوجائے تو اسے قبول کرلینا چاہئے۔
شب معراج پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے خداکی باتیںپیغمبر نے شب معراج پروردگار سبحان سے اس طرح سوال کیا :پروردگار ا: کونساعمل افضل ھے ؟خدا وند تعالیٰ نے فرمایا :” کوئی چیز میرے نزیک مجھ پر توکل کرنے ، اور جو کچھ میںنے تقسیم کرکے دیا ھے اس پر راضی هونے سے بہتر نھیں ھے ،اے محمد جولوگ میری خاطر ایک دوسرے کو دوست رکھتے ھیں میری محبت ان کے شامل حال هوگی اور جو لوگ میری خاطر ایک دوسرے پر مھربان ھیں اور میری خاطر دوستی کے تعلقات رکھتے ھیں انھیں دوست رکھتا هوں علاوہ بر ایں میری محبت ان لوکوں کے لئے جو مجھ پر توکل کریں فرض اور لازم ھے اور میری محبت کے لئے کوئی حد او رکنارہ اوراس کی انتھا نھیں ھے “۔!اس طرح سے محبت کی باتیں شروع هوتی ھیں ایسی محبت جس کی کوئی انتھا نھیں ،جو کشادہ اور اصولی طور پر عالم ہستی میںاسی محور محبت پر گردش کررھا ھے ۔ایک اور ددسرے حصہ میں یہ آیا ھے ۔”اے احمد !بچوں کی طرح نہ هونا جو سبز وزرد اور زرق وبرق کو دوست رکھتے ھیں اور جب انھیں کوئی عمدہ اور شیریں غذا دیدی جاتی ھے تو وہ مغرور هوجاتے ھیں اور ھر چیز کو بھول جاتے ھیں “۔پیغمبرنے اس موقع پر عرض کیا :پروردگارا :!مجھے کسی ایسے عمل کی ہدایت فرماجو تیری بارگاہ میں قرب کا باعث هو ۔فرمایا : رات کو دن اور دن کو رات قرار دے ۔عرض کیا : کس طرح ؟فرمایا : اس طرح کے تیرا سونا نماز هو اور ھرگز اپنے شکم کو مکمل طور پر سیر نہ کرنا ۔ایک اور حصہ میں آیا ھے :”اے احمد! میری محبت فقیروں اور محروموں سے محبت ھے ،ان کے قریب هوجاوٴ اور ان کی مجلس کے قریب بیٹھو کہ میں تیرے نزدیک هوں اور دنیا پرست اور ثروت مندوں کو اپنے سے دور رکھو اور ان کی مجالس سے بچتے رهو “۔
اھل دنیا و آخرتایک اور حصہ میں آیاھے:”اے احمد !دنیا کے زرق برق اور دنیا پرستوں کو مبغوض شمار کر اور آخرت کو محبوب رکھ” عرض کرتے ھیں :پروردگارا :!اھل دنیا اور اھل آخرت کون ھیں ؟۔فرمایا :”اھل دنیا تو وہ لوگ ھیں جو زیادہ کھاتے ھیں زیادہ ہنستے ھیں زیادہ سوتے ھیں اور غصہ کرتے ھیں اور تھوڑا خوش هوتے ھیں نہ ھی تو برائیوں کے مقابلہ میں کسی سے عذر چاہتے ھیں ۔اور نہ ھی کسی عذر چاہنے والے سے اس کا عذر قبول کرتے ھیں اطاعت خدا میں سست ھیں اور گناہ کرنے میں دلیر ھیں، لمبی چوڑی آرزوئیں رکھتے ھیں حالانکہ ان کی اجل قریب آپہنچی ھے مگر وہ ھر گز اپنے اعمال کا حساب نھیں کرتے ان سے لوگوں کو بہت کم نفع هوتا ھے، باتیں زیادہ کرتے ھیں احساس ذمہ داری نھیں رکھتے اور کھانے پینے سے ھی غرض رکھتے ھیں ۔اھل دنیا نہ تو نعمت میں خدا کا شکریہ ادا کرتے ھیں اورنہ ھی مصائب میں صبر کرتے ھیں ۔ زیادہ خدمات بھی ان کی نظر میں تھوڑی ھیں (اور خود ان کی اپنی خدمات تھوڑی بھی زیادہ ھیں ) اپنے اس کام کے انجام پانے پر جو انهوں نے انجام نھیں دیا ھے تعریف کرتے ھیں اور ایسی چیز کا مطالبہ کرتے ھیں جو ان کا حق نھیں ھے ۔ ھمیشہ اپنی آرزوؤں اور تمنا وں کی بات کرتے ھیں اور لوگوں کے عیوب تو بیان کرتے رہتے ھیں لیکن ان کی نیکیوں کو چھپاتے ھیں۔” عرض کیا :پروردگارا :!کیا دنیا پرست اس کے علاوہ بھی کوئی عیب رکھتے ھیں ؟”فرمایا : اے احمد !ان کا عیب یہ ھے کہ جھل اور حماقت ان میں بہت زیادہ ھے جس استاد سے انهوں علم سیکھا ھے وہ اس سے تواضع نھیں کرتے اور اپنے آپ کو عاقل کل سمجھتے ھیں حالانکہ وہ صاحبان علم کے نزدیک نادان اور احمق ھیں” ۔
اھل بہشت کے صفاتخدا وند عالم اس کے بعد اھل آخرت اور بہشتیوں کے اوصاف کو یوں بیان کرتا ھے : “وہ ایسے لوگ ھیں جو با حیا ھیں ان کی جھالت کم ھے ، ان کے منافع زیادہ ھیں ،لوگ ان سے راحت و آرام میں هوتے ھیں اور وہ خود اپنے ھاتھوں تکلیف میں هوتے ھیں اور ان کی باتیں سنجیدہ هوتی ھیں”۔وہ ھمیشہ اپنے اعمال کا حساب کرتے رہتے ھیں اور اسی وجہ سے وہ خود کو زحمت میں ڈالتے رہتے ھیں ان کی آنکھیں سوئی هوئی هوتی ھیں لیکن ان کے دل بیدار هوتے ھیں ان کی آنکھ گریاں هوتی ھے اور ان کا دل ھمیشہ یاد خدا میں مصروف رہتا ھے جس وقت لوگ غافلوں کے زمرہ میں لکھے جارھے هوں وہ اس وقت ذکر کرنے والوں میں لکھے جاتے ھیں ۔نعمتوں کے آغاز میں حمد خدا بجالاتے ھیں اور ختم هونے پر اس کا شکر ادا کرتے ھیں، ان کی دعائیں بارگاہ خدا میں قبول هوتی ھیں اور ان کی حاجتیں پوری کی جاتی ھیں اور فرشتے ان کے وجود سے مسرور اور خوش رہتے ھیں ۔۔۔(غافل )لوگ ان کے نزدیک مردہ ھیں اور خدا اُن کے نزدیک حی و قیوم اور کریم ھے (ان کی ھمت اتنی بلند ھے کہ وہ اس کے سوا کسی کے اوپر نظر نھیں رکھتے )لوگ تو اپنی عمر میںصرف ایک ھی دفعہ مرتے ھیں لیکن وہ جھاد باالنفس اور هواوهوس کی مخالفت کی وجہ سے ھر روز ستر مرتبہ مرتے ھیں (اور نئی زندگی پاتے ھیں)جس وقت عبادت کے لئیے میرے سامنے کھڑے هوتے ھیں تو ایک فولادی باندھ اور بنیان مرصوص کے مانند هوتے ھیں اور ان کے دل میںمخلوقات کی طرف کوئی توجہ نھیں هوتی مجھے اپنی عزت و جلال کی قسم ھے کہ میں انھیں ایک پاکیزہ زندگی بخشونگا اور عمر کے اختتام پر میں خود ان کی روح کو قبض کروںگا اور ان کی پرواز کے لئے آسمان کے دروازوں کو کھول دوں گاتمام حجابوں کو ان کے سامنے سے ہٹا دوں گا اور حکم دوں گا کہ بہشت خود اپنے ان کے لئے آراستہ کرے ۔۔۔ “اے احمد! عبادت کے دس حصہ ھیں جن میں سے نو حصے طلب رزق حلال میں ھیں جب تیرا کھانا اور پینا حلال هوگا تو تیری حفظ و حمایت میں هوگا۔۔۔۔”
بہترین اور جاویدانی زندگیایک اور حصہ میں آیا ھے:”اے احمد ! کیا تو جانتا ھے کہ کونسی زندگی زیادہ گوارا اور زیادہ دوام رکھتی ھے”؟عرض کیا : خداوندا: نھیں۔فرمایا: گوارا زندگی وہ هوتی ھے جس کا صاحب ایک لمحہ کے لئے بھی میری یاد سے غافل نہ رھے، میری نعمت کو فراموش نہ کرے ، میرے حق سے بے خبر نہ رھے اور رات دن میری رضا کو طلب کرے۔لیکن باقی رہنے والی زندگی وہ ھے جس میں اپنی نجات کے لئے عمل کرے ، دنیا اس کی نظر میں حقیر هو اور آخرت بڑی اور بزرگ هو، میری رضا کو اپنی رضا پر مقدم کرے، اور ھمیشہ میری خوشنودی کو طلب کرے، میرے حق کو بڑا سمجھے اور اپنی نسبت میری آگاھی کی طرف توجہ رکھے۔ھرگناہ اور معصیت پر مجھے یاد کرلیا کرے ، اور اپنے دل کو اس چیز سے جو مجھے پسند نھیں ھے پاک رکھے، شیطانی وسو سوں کو مبغوض رکھے ،اور ابلیس کو اپنے دل پر مسلط نہ کرے ۔جب وہ ایسا کرے گا تو میں ایک خاص قسم کی محبت کو اس کے دل میں ڈال دوں گا اس طرح سے کہ اس کا دل میرے اختیار میں هوگا ، اس کی فرصت اور مشغولیت اس کا ھم وغم اور اس کی بات ان نعمتوں کے بارے میں هوگی جو میں اھل محبت کو بخشتا هوں ۔ میں اس کی آنکھ اور دل کے کان کھول دیتا هوں تاکہ وہ اپنے دل کے کان سے غیب کے حقائق کو سننے اور اپنے دل سے میرے جلال وعظمت کو دیکھے” :اور آخر میں یہ نورانی حدیث ان بیدار کرنے والے جملوں پر ختم هوجاتی ھے :” اے احمد ! اگر کوئی بندہ تمام اھل آسمان اور تمام اھل زمین کے برابر نماز ادا کرے ،اور تمام اھل آسمان وزمین کے برابر روزہ رکھے، فرشتوں کی طرح کھانانہ کھائے اور کوئی فاخرہ لباس بدن پر نہ پہنے (اور انتھائی زہد اور پارسائی کی زندگی بسر کرے) لیکن اس کے دل میں ذرہ برابر بھی دنیا پرستی یا ریاست طلبی یازینت دنیا کا عشق هو تو وہ میرے جاودانی گھر میں میرے جوار میں نھیں هوگا اور میںاپنی محبت کو اس کے دل سے نکال دوں گا ،میرا سلام ورحمت تجھ پر هو ،والحمد للہ رب العالمین “یہ عرشی باتیں ۔۔جو انسانی روح کو آسمانوں کی طرف بلند کرتی ھیں ، اور آستانٴہ عشق وشهود کی طرف کھینچتی ھیں ۔حدیث قدسی کا صرف ایک حصہ ھے ۔مزید براں ھمیں اطمینان ھے کہ پیغمبر نے اپنے ارشادات میں جو کچھ بیان فرمایا ھے ان کے علاوہ بھی، اس شب عشق وشوق اور جذبہ ووصال کی شب میں ، ایسی باتیں ، اسرارورموز اور اشارے آپ کے اور آپ کے محبوب کے درمیان هوتے ھیں جن کو نہ تو کان سننے کی طاقت رکھتے ھیں اور نہ عام افکار میں ان کے درک کی صلاحیت ھے، اور اسی بناپر وہ ھمیشہ پیغمبر کے دل وجان کے اندر ھی مکتوم اور پوشیدہ رھے ، اور آپ کے خواص کے علاوہ کوئی بھی ان سے آگاہ نھیں هوا ۔
[30] رجوع کریں تفسیر نمونہ ج[31] سورہٴ نجم آیت۱۸۔[32] روایات معراج کے سلسلہ میں مزید اطلاع کے لئے بحارالانوار کی جلد ۱۸ از ص ۲۸۲ تاص ۱۰ ۴ رجوع فرمائیں۔[33] تفسیر نمونہ ج ۱۳ ص۹۷ تا ۹۹ ۔[34] مذکورہ کتاب کے فارسی ترجمے کا نام ھے ” محمد پیغمبری کہ از نوباید شناخت ” ص ۱۲۵ دیکھئے۔[35] بعض قدیم فلاسفہ کا نظریہ یہ تھا کہ آسمانوں میں ایسا هونا ممکن نھیں ھے ۔اصطلاح میں وہ کہتے تھے کہ افلاک میں –“خرق “(پھٹنا)اور “التیام”(ملنا)ممکن نھیں ۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.