صلح حدیبیہ
یہ جمعیت جو تقریباًایک ہزار چار سوافراد پر مشتمل تھی ،سب کے سب نے لباس احرام پہنا هوا تھا ،او رتلوار کے علاوہ جو مسافروں کا اسلحہ شمار هو تی تھی ،کوئی جنگی ہتھیار ساتھ نہ لیا تھا ۔جب مسلمان “ذی الحلیفہ” مدینہ کے نزدیک پهونچے،اور بہت اونٹوں کو قربانی کے لئے لے لیا۔پیغمبر (اور آپ (ع)کے اصحاب کا)طرز عمل بتارھا تھا کہ عبادت کے علاوہ کوئی دوسرا قصد نھیں تھا۔جب پیغمبر مکہ کے نزدیکی مقام آپ کو اطلاع ملی کہ قریش نے یہ پختہ ارادہ کرلیا ھے کہ آپ کو مکہ میں داخل نہ هونے دیں گے ،یھاں تک کہ پیغمبرمقام” حدیبیہ”میں پہنچ گئے ( حدیبیہ مکہ سے بیس کلو مٹر کے فاصلہ پر ایک بستی ھے ،جو ایک کنویں یا درخت کی مناسبت سے اس نام سے مو سوم تھی )حضرت نے فرمایا: کہ تم سب اسی جگہ پر رک جاؤ،لوگوں نے عرض کی کہ یھاں تو کوئی پانی نھیں ھے پیغمبر نے معجزانہ طور پر اس کنویںسے جو وھاںتھا ،اپنے اصحاب کے لئے پانی فراھم کیا ۔اسی مقام پر قریش او رپیغمبر کے درمیان سفراء آتے جاتے رھے تاکہ کسی طرح سے مشکل حل هو جائے ، آخرکا ر”عروہ ابن مسعودثقفی”جو ایک هوشیا ر آدمی تھا ،قریش کی طرف سے پیغمبر کی خدمت میں حاضر هوا ،پیغمبر نے فرمایا میں جنگ کے ارادے سے نھیں آیا او رمیرا مقصد صرف خانہٴ خدا کی زیارت ھے ،ضمناًعروہ نے اس ملاقات میں پیغمبر کے وضو کرنے کا منظربھی دیکھا،کہ صحابہ آپ کے وضو کے پانی کا ایک قطرہ بھی زمین پرگرنے نھیں دیتے تھے ،جب وہ واپس لوٹا تو اس نے قریش سے کھا :میں قیصر وکسریٰ او رنجاشی کے دربارمیں گیا هوں ۔میں نے کسی سربراہ مملکت کو اس کی قوم کے درمیان اتنا با عظمت نھیں دیکھا ،جتنا محمدکی عظمت کو ان کے اصحاب کے درمیان دیکھا ھے ۔ اگر تم یہ خیال کرتے هو کہ محمدکو چھوڑ جائیںگے تویہ بہت بڑی غلطی هو گی ،دیکھ لو تمھارا مقابلہ ایسے ایثار کرنے والوں کے ساتھ ھے ۔یہ تمھارے لئے غور و فکر کا مقام ھے ۔
بیعت رضواناسی دوران پیغمبر نے عمر سے فرمایا: کہ وہ مکہ جائیں ، او ر اشراف قریش کو اس سفرکے مقصد سے آگاہ کریں ،عمر نے کھاقریش مجھ سے شدید دشمنی رکھتے ھیں ،لہٰذامجھے ان سے خطرہ ھے ، بہتر یہ ھے کہ عثمان کو اس کام کے لئے بھیجا جائے ،عثمان مکہ کی طرف آئے ،تھوڑی دیر نہ گذری تھی کہ مسلمانوں کے ورمیان یہ افواہ پھیل گئی کہ ان کو قتل کر دیاھے ۔ اس مو قع پرپیغمبرنے شدت عمل کا ارادہ کیا او رایک درخت کے نیچے جو وھاں پرموجودتھا ،اپنے اصحاب سے بیعت لی جو “بیعت رضوان” کے نام سے مشهو رهوئی ،او ران کے ساتھ عہد وپیمان کیا کہ آخری سانس تک ڈٹیں گے،لیکن تھوڑی دیر نہ گذری تھی کہ عثمان صحیح و سالم واپس لوٹ آئے او رانکے پیچھے پیچھے قریش نے”سھیل بن عمر”کو مصالحت کے لئے پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی خدمت میں بھیجا ،لیکن تاکید کی کہ اس سال کسی طرح بھی آپکا مکہ میںورود ممکن نھیں ھے ۔بہت زیادہ بحث و گفتگو کے بعد صلح کا عہد و پیمان هوا،جس کی ایک شق یہ تھی کہ مسلمان اس سال عمرہ سے باز رھیں او ر آئندہ سال مکہ میں آئیں،اس شرط کے ساتھ کہ تین دن سے زیادہ مکہ میں نہ رھیں ،او رمسافرت کے عام ہتھیارکے علاوہ او رکوئی اسلحہ اپنے ساتھ نہ لائیں۔اورمتعددمواد جن کا دارومداران مسلمانوںکی جان و مال کی امنیت پر تھا،جو مدینہ سے مکہ میں واردهوں،او راسی طرح مسلمانوں اورمشرکین کے درمیان دس سال جنگ نہ کرنے او رمکہ میں رہنے والے مسلمانوںکے لئے مذھبی فرائض کی انجام دھی بھی شامل کی گئی تھی۔یہ پیمان حقیقت میں ھر جہت سے ایک عدم تعرض کا عہد و پیمان تھا ،جس نے مسلمانوںاو رمشرکین کے درمیان مسلسل اوربار با رکی جنگوں کو وقتی طور پر ختم کردیا ۔
صلح نامہ کی تحریر”صلح کے عہدو پیمان کا متن “اس طرح تھاکہ پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے علی علیہ السلام کوحکم دیا کہ لکھو:”بسم اللہ الرحمن الرحیم”:سھیل بن عمرنے،جو مشرکین کانمائندہ تھا ،کھا :میںاس قسم کے جملہ سے آشنا نھیں هو ں،لہٰذا”بسمک اللھم” لکھو:پیغمبر نے فرمایا لکھو :”بسمک اللھم”اس کے بعد فرمایا: لکھویہ وہ چیز ھے جس پر محمدرسو ل اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے سھیل بن عمرو سے مصالحت کی ، سھیل نے کھا : ھم اگر آپ کو رسول اللہ سمجھتے تو آپ سے جنگ نہ کرتے ،صرف اپنا او راپنے والد کا نام لکھئے،پیغمبرنے فرمایا کو ئی حرج نھیں لکھو :”یہ وہ چیز ھے جس پرمحمد بن عبد اللہ نے سھیل بن عمرو سے صلح کی ،کہ دس سال تک دو نو ں طرف سے جنگ مترو ک رھے گی تاکہ لو گوں کو امن و امان کی صورت دوبارہ میسرآئے۔علاوہ ازایں جو شخص قریش میں سے اپنے ولی کی اجازت کے بغیر محمد کے پاس آئے (او رمسلمان هو جائے )اسے واپس کردیں اورجو شخص ان افراد میں سے جو محمد کے پاس ھیں ،قریش کی طرف پلٹ جائے تو ان کو واپس لوٹانا ضروری نھیں ھے ۔تمام لوگ آزاد ھیں جو چاھے محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے عہد و پیمان میں داخل هو او رجو چاھے قریش کے عہد و پیمان میں داخل هو،طرفین اس بات کے پابندھیں کہ ایک دوسرے سے خیانت نہ کرےں،او رایک دوسرے کی جان و مال کو محترم شمار کریں ۔اس کے علاوہ محمد اس سال واپس چلے جائیں او رمکہ میں داخل نہ هوں،لیکن آئندہ سال ھم تین دن کے لئے مکہ سے باھر چلے جائیں گے او ران کے اصحاب آجائیں ،لیکن تین دن سے زیادہ نہ ٹھھریں ، (اور مراسم عمرہ کے انجام دے کر واپس چلے جائیں )اس شرط کے ساتھ کہ سواے مسافرکے ہتھیار یعنی تلوار کے،وہ بھی غلاف میں کو ئی ہتھیار ساتھ نہ لائیں ۔اس پیمان پر مسلمانوں او رمشرکین کے ایک گروہ نے گواھی دی او راس عہد نامہ کے کاتب علی (ع)ابن ابی طالب علیہ السلام تھے ۔مرحو م علامہ مجلسی ۺنے بحار الانوارمیں کچھ او رامور بھی نقل کئے ھیں ،منجملہ ان کے یہ کہ :”اسلام مکہ میں آشکارا هوگا اورکسی کو کسی مذھب کے انتخاب کرنے پر مجبورنھیںکریں گے ،اورمسلمان کو اذیت و آزارنھیں پہنچائیںگے”۔اس موقع پرپیغمبراسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے حکم دیا کہ قربانی کے وہ اونٹ جووہ اپنے ھمراہ لائے تھے ،اسی جگہ قربان کردیںاور اپنے سروں کو منڈوائیں اور احرام سے باھرنکل آئیں ،لیکن یہ بات کچھ مسلمانوں کو سخت ناگوار معلوم هوئی ،کیونکہ عمرہ کے مناسک کی انجام دھی کے بغیر ان کی نظرمیں احرام سے باھر نکل آنا ممکن نھیںتھا ،لیکن پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ذاتی طور پرخودپیش قدمی کی او رقربانی کے اونٹوںکو نحر کیا او راحرام سے باھرنکل آئے اورمسلمانوںکو سمجھایاکہ یہ احرام اور قربانی کے قانون میں استثناء ھے جو خداکی طرف سے قراردیا گیا ھے ۔مسلمانوں نے جب یہ دیکھا تو سر تسلیم خم کردیا ،او رپیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا حکم کامل طورسے مان لیا،اوروھیںسے مدینہ کی راہ لی،لیکن غم واندوہ کا ایک پھاڑ ان کے دلوںپر بوجھ ڈال رھا تھا ،کیونکہ ظاھر میں یہ سارے کا ساراسفرایک نا کامی اور شکست تھی ،لیکن اسی وقت سورہٴ فتح نازل هوئی اورپیغمبرگرامی اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو فتح کی بشارت ملی ۔
صلح حدیبیہ کے سیاسی ،اجتماعی او رمذھبی نتائجہجرت کے چھٹے سال (صلح حدیبیہ کے وقت )مسلمانوں کی حالت میں او ردو سال بعد کی حالت میںفرق نمایاں تھا ،جب وہ دس ہزار کے لشکر کے ساتھ فتح مکہ کے لئے چلے تاکہ مشرکین کو پیمان شکنی کا دندان شکن جواب دیا جائے،جنانچہ انھوںنے فوجوں کو معمولی سی جھڑپ کے بغیرھی مکہ کوفتح کرلیا ،اس وقت قریش اپنے اندر مقابلہ کرنے کی معمولی سی قدرت بھی نھیں رکھتے تھے ۔ایک اجمالی موازنہ اس بات کی نشاندھی کرتا ھے کہ “صلح حدیبیہ” کا عکس العمل کس قدر وسیع تھا ۔خلاصہ کے طور پر مسلمانوں نے ا س صلح سے چند امتیاز او راھم کامیابیاںحاصل کیں ،جنکی تفصیل حسب ذیل ھے ۔۱)عملی طور پر مکہ کہ فریب خوردہ لوگوں کو یہ بتا دیا کہ وہ جنگ و جدال کا ارادہ نھیںرکھتے ،او رمکہ کے مقدس شھر اور خانہٴ خداکے لئے بہت زیادہ احترام کے قائل ھیں،یھی بات ایک کثیرجماعت کے دلوںکے لئے اسلام کی طرف کشش کا سبب بن گئی ۔۲)قریش نے پھلی مرتبہ اسلام او رمسلمانوں کی رسموں کو تسلیم کیا ،یھی وہ چیز تھی جو جزیرةالعرب میں مسلمانوں کی حیثیت کو ثابت کرنے کی دلیل بنی ۔۳)صلح حدیبیہ کے بعد مسلمان سکون واطمنان سے ھر جگہ آجا سکتے تھے او رانکا جان و مال محفوظ هوگیا تھا ،او رعملی طورپرمشرکین کے ساتھ قریبی تعلق اورمیل جول پیدا هوا،ایسے تعلقات جس کے نتیجہ میں مشرکین کو اسلام کی زیادہ سے زیادہ پہچان کے ساتھ ان کی توجہ اسلام کی طرف مائل هو ئی ۔۴)صلح حدیبیہ کے بعد اسلام کی نشر واشاعت کے لئے سارے جزیرةالعرب میں راستہ کھل گیا ،او رپیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی صلح طلبی کی شرط نے مختلف اقوام کو،جو پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی ذات او راسلام کے متعلق غلط نظریہ رکھتے تھے ،تجدید نظر پر آمادہ کیا ،او رتبلیغاتی نقطہٴ نظرسے بہت سے وسیع امکانات ووسائل مسلمانوںکے ھاتھ آئے ۔۵)صلح حدیبیہ نے خیبر کو فتح کرنے او ریهودیوں کے اس سرطانی غدہ کو نکال پھینکنے کے لئے،جوبالفعل اوربالقوہ اسلام او رمسلمانوں کے لئے ایک اھم خطرہ تھا ،راستہ ھموار کردیا۔۶)اصولی طو رپر پیغمبرکی ایک ہزار چار سو افراد کی فوج سے ٹکرلینے سے قریش کی وحشت جن کے پاس کسی قسم کے اھم جنگی ہتھیاربھی نھیں تھے، او رشرائط صلح کو قبول کرلینا اسلام کے طرفداروں کے دلوں کی تقویت ،او رمخالفین کی شکست کے لئے ،جنهوں نے مسلمانوں کو ستایاتھا خود ایک اھم عامل تھا۔۷)واقعہ حدیبیہ کے بعد پیغمبر نے بڑے بڑے ملکو ں،ایران وروم وحبشہ کے سربراهوں ،او ردنیا کے بڑے بڑے بادشاهوںکو متعددخطوط لکھے او رانھیں اسلام کی طرف دعوت دی او ریہ چیزاچھی طرح سے اس بات کی نشاندھی کرتی ھے کہ صلح حدیبیہ نے مسلمانوں میں کس قدر خود اعتمادی پیداکردی تھی،کہ نہ صرف جزیرہ عرب میں بلکہ اس زمانہ کی بڑی دنیا میں ان کی راہ کو کھول دیا۔اب تک جو کچھ بیان کیا گیا ھے ،اس سے یہ بخوبی معلوم کیا جا سکتا ھے، کہ واقعاً صلح حدیبیہ مسلمانوں کے لئے ایک عظیم فتح او رکامیابی تھی ،اور تعجب کی بات نھیں ھے کہ قرآن مجیدا سے فتح مبین کے عنوان سے یاد کرتا ھے :
صلح حدیبیہ یا عظیم الشان فتحجس و قت پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم حدیبیہ سے واپس لوٹے (او رسورہٴ فتح نازل هوئی )تو ایک صحابی نے عرض کیا :”یہ کیا فتح ھے کہ ھمیں خانہٴ خدا کی زیارت سے بھی رو ک دیا ھے او رھماری قربانی میں بھی رکاوٹ ڈال دی”؟!پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا:”تو نے بہت بری بات کھی ھے ،بلکہ یہ تو ھماری عظیم ترین فتح ھے کہ مشرکین اس بات پر راضی هوگئے ھیں کہ تمھیں خشونت آمیز طریقہ سے ٹکر لئے بغیر اپنی سرزمین سے دور کریں، اور تمھارے سامنے صلح کی پیش کش کریں اوران تمام تکالیف او ررنج وغم کے باو جود جو تمھاری طرف سے انھوں نے اٹھائے ھیں ،ترک تعرض کے لئے تمھاری طرف مائل هوئے ھیں ۔اس کے بعد پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے وہ تکالیف جو انھوں نے بدر واحزاب میں جھیلی تھیں انھیں یاد دلائیں، تو مسلمانوں نے تصدیق کی کہ یہ سب سے بڑی فتح تھی او رانھوں نے لا علمی کی بناء پر یہ فیصلہ کیا تھا ۔”زھری “جو ایک مشهور تابعی ھے، کہتا ھے:کوئی بھی فتح صلح حدیبیہ سے زیادہ عظیم نھیں تھی ،کیونکہ مشرکین نے مسلمانوں کے ساتھ ارتباط اور تعلق پیدا کیا او راسلام ان کے دلوں میں جاں گزیں هوا ،او رتین ھی سال کے عرصہ میں ایک عظیم گروہ اسلام لے آیا او رمسلمانوں میں ان کی وجہ سے اضافہ هوا”۔
پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا سچا خوابجیسا کہ ھم نے شروع میں عرض کیا کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے مدینہ میں ایک خواب دیکھا کہ آپ اپنے صحابہ کے ساتھ عمرہ کے لئے مناسک ادا کرنے کے لئے مکہ میں داخل هورھے ھیں اور اس خواب کو صحابہ کے سامنے بیان کردیا ، وہ سب کے سب شاد و خوش حال هوئے لیکن چونکہ ایک جماعت یہ خیال کرتی تھی کہ اس خواب کی تعبیر اسی سال پوری هوگی، تو جس وقت قریش نے مکہ میں ان کے دخیل هونے کا راستہ حدیبیہ میں ان کے آگے بند کردیا تو وہ شک و تردید میں مبتلا هوگئے، کہ کیا پیغمبر کا خواب غلط بھی هوسکتا ھے، کیا اس کا مطلب یہ نھیں تھا کہ ھم خانہٴ خدا کی زیارت سے مشرف هوں؟ پس اس وعدہ کا کیا هوا؟ اور وہ رحمانی خواب کھاں چلا گیا؟پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اس سوال کے جواب میں فرمایا:کیا میں نے تمھیںیہ کھا تھا کہ یہ خواب اسی سال پورا هوگا؟ اسی بارے میں مدینہ کی طرف بازگشت کی راہ میں وحی الٰھی نازل هوئی اور تاکید کی کہ یہ خواب سچا تھا او رایسا مسئلہ حتمی و قطعی اور انجام پانے والا ھے۔ارشاد خدا وندعالم هوتا ھے:”خد نے اپنے پیغمبر کو جو کچھ دکھلایا تھا وہ سچ اور حق تھا”۔[76]اس کے بعد مزید کہتا ھے: “انشاء اللہ تم سب کے سب قطعی طور پر انتھائی امن وامان کے ساتھ اس حالت میں کہ تم اپنے سروں کو منڈوائے هوئے هوں گے، یا اپنے ناخنوں کو کٹوائے هوئے هوں گے مسجد الحرام میں داخل هوں گے اور کسی شخص سے تمھیں کوئی خوف ووحشت نہ هوگی”۔[77]
مومنین کے دلوں پرنزول سکینہیھاںگذشتہ میں جو کچھ بیا ن هوا ھے،وہ اتنی عظیم نعمتیں تھیں جو خدا نے فتح مبین و (صلح حدیبیہ) کے سائے میں پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو عطا فرمائی تھیں لیکن یھاں پراس عظیم نعمت کے بارے میں بحث کی جارھی ھے جو اس نے تمام مئومنین کو مرحمت فرمائی ھے ، فرماتاھے : وھی تو ھے ، جس نے مومنین کے دلوں میں سکون واطمینان نازل کیا، تاکہ ان کے ایمان میںمزید ایمان کا اضافہ کر”اور سکون واطمینان ان کے دلوں پر نازل کیوں نہ هو” در آنحالیکہ آسمانوں اور زمین کے لشکر خدا کےلئے ھیں اور وہ دا ناو حکیم ھے “[78]
یہ سکینہ کیا تھا ؟ضروری ھے کہ ھم پھر”صلح حدیبیہ” کی داستان کی طرف لوٹیں اور اپنے آپ کو” صلح حدیبیہ ” کی فضا میں اور اس فضاء میں جو صلح کے بعد پیدا هوئی ، تصور کریں تاکہ آیت کے مفهوم کی گھرائی سے آشنا هوسکیں ۔پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ایک خواب دیکھا تھا (ایک رؤیائے الٰھی ورحمانی) کہ آپ اپنے اصحاب کے ساتھ مسجد الحرام میں داخل هورھے ھیں اور اس کے بعد خانٴہ خدا کی زیارت کے عزم کے ساتھ چل پڑے زیادہ تر صحابہ یھی خیال کرتے تھے کہ اس خواب اورر وٴیائے صالحہ کی تعبیر اسی سفر میں واقع هوگی، حالانکہ مقدر میں ایک دوسری چیز تھی یہ ایک بات۔دوسری طرف مسلمانوں نے احرام باندھا هوا تھا، لیکن ان کی توقع کے بر خلاف خانہٴ خدا کی زیارت کی سعادت تک نصیب نہ هوئی اور پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے حکم دے دیا کہ مقام حدیبیہ میں ھی قربانی کے اونٹوں کو نحرکہ دیں ،کیونکہ ان کے آداب وسنن کا بھی اور اسلامی احکام ودستور کا بھی یھی تقاضا تھا کہ جب تک مناسک عمرہ کو انجام نہ دے لیں احرام سے باھر نہ نکلیں ۔تیسری طرف حدیبیہ کے صلح نامہ میں کچھ ایسے امور تھے جن کے مطالب کو قبول کرنا بہت ھی دشوار تھا،منجملہ ان کے یہ کہ اگر قریش میں سے کوئی شخص مسلمان هوجائے اور مدینہ میں پناہ لے لے تو مسلمان اسے اس کے گھروالوں کے سپرد کردیں گے،لیکن اس کے برعکس لازم نھیں تھا ۔چوتھی طرف صلح نامہ کی تحریر کے موقع پر قریش اس بات پر تیار نہ هوئے کہ لفظ ” رسول اللہ” محمد” کے نام کے ساتھ لکھا جائے، اور قریش کے نمائندہ ” سھیل ” نے اصرار کرکے اسے حذف کرایا ، یھاں تک کہ “بسم اللہ الرحمن الرحیم” کے لکھنے کی بھی موافقت نہ کی ،اور وہ یھی اصرار کرتا رھا کہ اس کے بجائے “بسمک اللھم”لکھاجائے ، جو اھل مکہ کی عادت اور طریقہ کے مطابق تھاواضح رھے، کہ ان امور میں سے ھر ایک علیحدہ علیحدہ ایک ناگوار امرتھا۔چہ جائیکہ وہ سب کے سب مجموعی طور سے وھاں جاتے رھے، اسی لئے ضعیف الایمان ،لوگوں کے دل ڈگمگا گئے ،یھاںتک کہ جب سورہٴ فتح نازل هوئی تو بعض نے تعجب کے ساتھ پوچھا :کونسی فتح ؟یھی وہ موقع ھے جب نصرت الٰھی کو مسلمانوں کے شامل حال هونا چاہئے تھا اور سکون واطمینان ان کے دلوں میں داخل هوتا تھا نہ یہ کہ کوئی فتور اورکمزوری ان میں پیداهوتی تھی۔بلکہ “لیزدادوا ایمانا مع ایمانھم”۔ کے مصداق کی قوت ایمانی میں اضافہ هونا چاہئے تھا اوپر والی آیت ایسے حالات میں نازل هوئی ۔ممکن ھے اس سکون میں اعتقادی پھلو هو اور وہ اعتقاد میں ڈگمگا نے سے بچائے ، یا اس میں عملی پھلو هواس طرح سے کہ وہ انسان کو ثبات قدم ، مقاومت اور صبر و شکیبائی بخشے ۔
پیچھے رہ جانے والوں کی عذر تراشیگذشتہ صفحات میں ھم بیان کرچکے ھیں کہ پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ایک ہزار چار سو مسلمانوں کے ساتھ مدینہ سے عمرہ کے ارادہ سے مکہ کی طرف روانہ هوئے۔پیغمبر کی طرف سے بادیہ نشین قبائل میں اعلان هوا کہ وہ بھی سب کے سب کے ساتھ چلیں لیکن ضعیف الایمان لوگوں کے ایک گروہ نے اس حکم سے رو گردانی کرلی،اور ان کا تجزیہ تھا کہ یہ کیسے ممکن ھے کہ مسلمان اس سفر سے صحیح وسالم بچ کر نکل آئیں ، حالانکہ کفار قریش پھلے ھی ھیجان واشتعال میں تھے ، اور انھوں نے احدواحزاب کی جنگیں مدینہ کے قریب مسلمانوں پر تھوپ دی تھیں اب جبکہ یہ چھوٹا ساگروہ بغیر ہتھیاروں کے اپنے پاؤں سے چل کر مکہ کی طرف جارھا ھے ، گویا بھڑوں کے چھتہ کے پاس خود ھی پہنچ رھا ھے ، تو یہ کس طرح ممکن ھے کہ وہ اپنے گھروں کی طرف واپس لوٹ آئیں گے ؟لیکن جب انھوں نے دیکھا کہ مسلمان کا میابی کے ساتھ اور قابل ملا حظہ امتیازات کے ھمراہ جو انھوں نے صلح حدیبیہ کے عہد وپیمان سے حاصل کئے تھے ، صحیح وسالم مدینہ کی طرف پلٹ آئے ھیں اور کسی کے نکسیر تک بھی نھیں چھوٹی ، تو انهوں نے اپنی عظیم غلطی کا احساس کیا اور پیغمبر کی خدمت میں حاضر هوئے تاکہ کسی طرح کی عذر خواھی کرکے اپنے فعل کی توجیہ کریں ، اور پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے استغفار کا تقاضا کریں ۔لیکن وحی نازل هوئی اور ان کے اعمال سے پردہ اٹھادیا اور انھیں رسوا کیا ۔اس طرح سے منافقین اور مشرکین کی سرنوشت کا ذکر کر نے کے بعد، یھاں پیچھے رہ جانے والے ضعیف الایمان لوگوں کی کیفیت کا بیان هورھا ھے تاکہ اس بحث کی کڑیاں مکمل هوجائیں ۔فرماتاھے ” عنقریب بادیہ نشین اعراب میں سے پیچھے رہ جانے والے عذر تراشی کرتے هوئے کھیں گے: ھمارے مال ومتاع اور وھاںپر بچوں کی حفاظت نے ھمیں اپنی طرف مائل کرلیاتھا، اور ھم اس پرُبرکت سفر میں آپ کی خدمت میں نہ رہ سکے، رسالتماب صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ھمارے عذر کو قبول کرتے هوئے ھمارے لئے طلب بخشش کیجئے ،وہ اپنی زبان سے ایسی چیز کہہ رھے ھیں جو ان کے دل میں نھیں ھے “۔[79]
وہ تو اپنی توبہ تک میں بھی مخلص، نھیں ھیں ۔لیکن ان سے کہہ دیجئے : “خدا کے مقابلہ میں اگر وہ تمھیں نقصان پہنچانا چاھے تو کس کی مجال ھے کہ وہ تمھارا دفاع کرسکے، اور اگر وہ تمھیں کچھ نفع پہنچانا چاھے تو کس میں طاقت ھے، کہ اسے روک سکے “۔ [80]خدا کے لئے یہ بات کسی طرح بھی مشکل نھیں ھے ، کہ تمھیں تمھارے امن وامان کے گھروں میں ، بیوی بچوں اور مال ومنال کے پاس ،انواع واقسام کی بلاؤں اور مصائب میں گرفتار کردے ،اور اس کےلئے یہ بھی کوئی مشکل کام نھیں ھے کہ دشمنوں کے مرکز میں اور مخالفین کے گڑھ میں تمھیں ھر قسم کے گزندسے محفوظ رکھے، یہ تمھاری قدرت خدا کے بارے میںجھالت اور بے خبری ھے جو تمھاری نظر میں اس قسم کے انکار کو جگہ دیتی ھے ۔ھاں، خدا ان تمام اعمال سے جنھیں تم انجام دیتے هو باخبر اور آگاہ ھے “[81]بلکہ وہ تو تمھارے سینوں کے اندر کے اسرار اور تمھاری نیتوں سے بھی اچھی طرح باخبر ھے ، وہ اچھی طرح جانتا ھے کہ یہ عذر اور بھانے واقعیت اور حقیقت نھیں رکھتے اور جو اصل حقیقت اور واقعیت ھے وہ تمھاری شک و ترید، خوف وخطر اور ضعف ایمان ھے ، اور یہ عذر تراشیاں خدا سے مخفی نھیں رہتیں، اور یہ ھرگز تمھاری سزا کو نھیں روکیں گی ۔قابل توجہ بات یہ ھے کہ قرآن کے لب ولہجہ سے بھی اور تواریخ سے بھی یھی معلوم هوتا ھے کہ یہ وحی الٰھی پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی مدینہ کی طرف بازگشت کے دوران نازل هوئی، یعنی اس سے پھلے کہ پیچھے رہ جانے والے آئیں اورعذر تراشی کریں ، ان کے کام سے پردہ اٹھادیا گیا اور انھیں رسوا کردیا۔قرآن اس کے بعد مزید وضاحت کے لئے مکمل طور پر پردے ہٹاکر مزید کہتا ھے :”بلکہ تم نے تو یہگمان کرلیا تھا کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اور مومنین ھرگز اپنے گھروالوں کی طرف پلٹ کرنھیں آئیں گے” ۔[82]ھاں ، اس تاریخی سفر میں تمھارے شریک نہ هونے کا سبب ، اموال اور بیوی بچوں کا مسئلہ نھیں تھا، بلکہ اس کا اصلی عامل وہ سوء ظن تھا جو تم خدا کے بارے میں رکھتے تھے، اور اپنے غلط اندازوں کی وجہ سے یہ سوچتے تھے کہ یہ سفر پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے ختم هونے کا سفر ھے اور کیونکہ شیطانی وسوسہ تمھارے دلوں میں زینت پاچکے تھے ،اور یہ تم نے برا گمان کیا”۔[83]کیونکہ تم یہ سوچ رھے تھے کہ خدا نے پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو اس سفر میں بھیج کر انھیں دشمن کے چنگل میں دےدیا ھے ، اور ان کی حمایت نھیں کرے گا ،” اور انجام کار تم ھلاک هوگئے “۔[84] اس سے بدتر ھلاکت اور کیا هوگی کہ تم اس تاریخی سفر میں شرکت ، بیعت رضوان، اور دوسرے افتخارات واعزازات سے محروم رہ گئے، اور اس کے پیچھے عظیم رسوائی تھی اور آئندہ کے لئے آخرت کادردناک عذاب ھے ، ھاں تمھارے دل مردہ تھے اس لئے تم اس قسم کی صورت حال میں گرفتار هوئے۔
اگر حدیبیہ میں جنگ هوجاتیقرآن اسی طرح سے ” حدیبیہ” کے عظیم ماجرے کے کچھ دوسرے پھلووٴں کو بیان کرتے هوئے، اور اس سلسلہ میں دو اھم نکتوں کی طرف اشارہ کررھا ھے۔پھلا یہ کہ یہ خیال نہ کرو کہ سرزمین ” حدیبیہ ” میں تمھارے اور مشرکین مکہ کے درمیان جنگ چھڑجاتی تو مشرکین جنگ میں بازی لے جاتے، ایسا نھیں ھے، اکثر کفار تمھارے ساتھ وھاں جنگ کرتے تو بہت جلدی پیٹھ پھیر کر بھاگ جاتے، اور پھر کوئی ولی ویاورنہ پاتے “۔[85]اور یہ بات صرف تم تک ھی منحصر نھیں ھے ، ” یہ تو ایک سنت الٰھی ھے ،جو پھلے بھی یھی تھی اور تم سنت الٰھی میں ھرگز تغیرو تبدیلی نہ پاؤ گے۔[86]وہ اھم نکتہ جو قرآن خاص طور پر بیان کررھاھے، یہ ھے کہ کھیں قریش بیٹھ کر یہ نہ کہنے لگیں ، کہ افسوس ھم نے جنگ کیوں نہ کی اوراس چھوٹے سے گروہ کی سرکوبی کیوں نہ کی، افسوس کہ شکارھمارے گھر میں آیا، اور اس سے ھم نے غفلت برتی ، افسوس ، افسوس ۔ھرگز ایسا نھیں ھے اگر چہ مسلمان ان کی نسبت تھوڑے تھے، اور وطن اور امن کی جگہ سے بھی دور تھے، اسلحہ بھی ان کے پاس کافی مقدار میں نھیں تھا، لیکن اس کے باوجود اگر جنگ چھڑجاتی تو پھر بھی قوت ایمانی اور نصرت الٰھی کی برکت سے کامیابی انھیں ھی حاصل هوتی، کیا جنگ “بدر ” اور” احزاب ” میں ان کی تعداد بہت کم اور دشمن کا سازو سامان اور لشکر زیادہ نہ تھا؟ ان دونوں مواقع پر دشمن کو کیسے شکست هوگئی ۔بھرحال اس حقیقت کا بیان مومنین کے دل کی تقویت اور دشمن کے دل کی کمزوری اور منافقین کے ” اگر ” اور ” مگر ” کے ختم هونے کا سبب بن گئی اور اس نے اس بات کی نشاندھی کردی کہ ظاھری طور پر حالات کے برابر نہ هونے کے باوجود اگر جنگ چھڑجائے تو کامیابی مخلص مومنین ھی کو نصیب هوتی ھے ۔دوسرا نکتہ جو قرآن میں بیان هوا ھے یہ ھے کہ فرماتاھے “وھی تو ھے جس نے کفار کے ھاتھ کو مکہ میں تم سے باز رکھا اور تمھارے ھاتھ کو ان سے،یہ اس وقت هوا جبکہ تمھیں ان پر کامیابی حاصل هوگئی تھی، اور خدا وہ سب کچھ جو تم انجام دے رھے هو دیکھ رھاھے “۔[87]مفسرین کی ایک جماعت نے اس آیت کےلئے ایک ” شان نزول” بیان کی ھے اور وہ یہ ھے کہ: مشرکین مکہ نے “حدیبیہ “کے واقعہ میں چالیس افراد کو مسلمانوں پرضرب لگانے کےلئے مخفی طور پر حملہ کے لئے تیار کیا، لیکن ان کی یہ سازش مسلمانوں کی هوشیاری سے نقش برآب هوگئی اور مسلمان ان سب کو گرفتار کرکے پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی خدمت میں لے آئے ، اور پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے انھیں رھا کردیا ۔ بعض نے یہ بھی کھا ھے کہ جس وقت پیغمبر درخت کے سائے میں بیٹھے هوئے تھے تاکہ قریش کے نمائندہ کے ساتھ صلح کے معاہدہ کو ترتیب دیں ، اور علی علیہ السلام لکھنے میں مصروف تھے، تو جوانان مکہ میں سے ۳۰ افراد اسلحہ کے ساتھ آپ پر حملہ آور هوئے،اور معجزا نہ طورپر ان کی یہ سازش بے کار هوگئی اور وہ سب کے سب گرفتار هوگئے اور حضرت نے انھیں آزاد کردیا ۔
عمرة القضاء”عمرة القضاء”وھی عمرہ ھے جو پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے حدیبیہ سے ایک سال بعد یعنی ہجرت کے ساتویں سال کے ماہ ذی القعدہ میں اسے( ٹھیک ایک سال بعد جب مشرکین نے آپ کو مسجد الحرام میں داخل هونے سے روکا تھا) اپنے اصحاب کے ساتھ انجام دیا اوراس کا یہ نام اس وجہ سے ھے ، چونکہ یہ حقیقت میں گزشتہ سال کی قضاء شمار هوتا تھا۔ اس کی وضاحت اس طرح ھے کہ : قرار داد حدیبیہ کی شقوں میں سے ایک شق کے مطابق پروگرام یہ تھا کہ مسلمان آئندہ سال مراسم عمرہ اور خانہ خدا کی زیارت کو آزادانہ طور پر انجام دیں، لیکن تین دن سے زیادہ مکہ میں توقف نہ کریں اور اس مدت میں قریش کے سردار اور مشرکین کے جانے پہچانے افراد شھرسے باھر چلے جائیں گے تاکہ ایک تو احتمالی ٹکراؤ سے بچ جائیں اور کنبہ پروری اور تعصب کی وجہ سے جو لوگ مسلمانوں کی عبادت توحیدی کے منظر کو دیکھنے کا یارا اور قدرت نھیں رکھتے، وہ بھی اسے نہ دیکھیں)بعض تواریخ میں آیا ھے کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اپنے صحابہ کے ساتھ احرام باندھا اور قربانی کے اونٹ لے کر چل پڑے اور ” ظھران”کے قریب پہنچ گئے اس موقع پر پیغمبر نے اپنے ایک صحابی کو جس کا نام ” محمد بن مسلمہ” تھا، عمدہ سواری کے گھوڑوں اور اسلحہ کے ساتھ اپنے آگے بھیج دیا، جب مشرکین نے اس پر وگرام کو دیکھا تو وہ سخت خوف زدہ هوئے اور انھوں نے یہ گمان کرلیا کہ حضرت ان سے جنگ کرنا اور اپنی دس سالہ صلح کی قرار داد کو توڑنا چاہتے ھیں ، لوگوں نے یہ خبر اھل مکہ تک پہنچادی لیکن جب پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم مکہ کے قریب پہنچے تو آپ نے حکم دیا کہ تمام تیر اور نیزے اور دوسرے سارے ہتھاراس سرزمین میں جس کا نام “یاجج” ھے منتقل کردیں، اور آپ خود اور آپ کے صحابہ صرف نیام میں رکھی هوئی تلواروں کے ساتھ مکہ میں دارد هوئے ۔ اھل مکہ نے جب یہ عمل دیکھا تو بہت خوش هوئے کہ وعدہ پورا هوگیا، (گویا پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا یہ اقدام مشرکین کے لئے ایک تنبیہ تھا،کہ اگر وہ نقض عہد کرنا چاھیں اور مسلمانوں کے خلاف سازش کریں،تو ان کے مقابلہ کی قدرت رکھتے ھیں )رؤ سائے مکہ، مکہ سے باھر چلے گئے، تاکہ ان مناظر کو جوان کےلئے دل خراش تھے نہ دیکھیں لیکن باقی اھل مکہ مرد ، عورتیں اور بچے سب ھی راستوں میں ، چھتوں کے اوپر ، اور خانہ خدا کے اطراف میں جمع هوگئے تھے ، تاکہ مسلمانوں اور ان کے مراسم عمرہ کو دیکھیں ۔ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم خاص رُعب اور دبدبہ کے ساتھ مکہ میں وارد هوئے اور قربانی کے بہت سے اونٹ آپ کے ساتھ تھے، اورآپ نے انتھائی محبت اور ادب کے ساتھ مکہ والوں سے سلوک کیا،اور یہ حکم دیا کہ مسلمان طواف کرتے وقت تیزی کے ساتھ چلیں ، اور احرام کو ذراسا جسم سے ہٹالیں تاکہ ان کے قوی اور طاقتور اور موٹے تازے شانے آشکار هوں ، اور یہ منظر مکہ کے لوگوں کی روح اور فکر میں ، مسلمانوں کی قدرت وطاقت کی زندہ دلیل کے طور پر اثراندز هو ۔مجموعی طور سے ” عمرة القضاء” عبادت بھی تھا اور قدرت کی نمائش بھی ،یہ کہنا چاہئے کہ ” فتح مکہ ” جو بعد والے سال میں حاصل هوئی ، اس کا بیج انھیں دنوں میں بویا گیا ، اوراسلام کے مقابلہ میں اھل مکہ کے سرتسلیم خم کرنے کے سلسلے میں مکمل طور پر زمین ھموار کردی ۔ یہ وضع وکیفیت قریش کے سرداروں کے لئے اس قدر ناگوار تھی کہ تین دن گزرنے کے بعد کسی کو پیغمبر کی خدمت میں بھیجا کہ قرادداد کے مطابق جتنا جلدی هو سکے مکہ کو چھوڑدیجئے ۔ قابل توجہ بات یہ ھے ، کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے مکہ کی عورتوں میں سے ایک بیوہ عورت کو،جو قریش کے بعض سرداروں کی رشتہ دار تھی، اپنی زوجیت میں لے لیا، تاکہ عربوں کی رسم کے مطابق ،اپنے تعلق اور رشتے کو ان سے مستحکم کرکے ان کی عداوت اور مخالفت میں کمی کریں ۔جس وقت پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے مکہ سے باھر نکل جانے کی تجویز سنی تو آپ نے فرمایا : میں اس ازدواج کے مراسم کے لئے کھانا کھلانا چاہتا هوں اور تمھاری بھی دعوت کرنا چاہتاهوں ،یہ دعوت رسمی طور پررد کردی گئی ۔