جنگ احزاب

581

” یہ جنگ احزاب” جیسا کہ اس کے نام سے ظاھر ھے تمام اسلام دشمن طاقتوں اور ان مختلف گرو هوں کی طرف سے ھر طرح کا مقابلہ تھا کہ اس دین کی پیش رفت سے ان لوگوں کے ناجائز مفادات خطرے میں پڑگئے تھے ۔ جنگ کی آگ کی چنگاری”نبی نضیر” یهودیوں کے اس گروہ کی طرف سے بھڑکی جو مکہ میں آئے اور قبیلہ “قریش” کو آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے لڑنے پر اکسایا اور ان سے وعدہ کیا کہ آخری دم تک ان کا ساتھ دیں گے پھر قبیلہ “غطفان ” کے پاس گئے اور انھیں بھی کارزار کے لئے آمادہ کیا ۔ان قبائل نے اپنے ھم پیمان اور حلیفوں مثلاً قبیلہ ” بنی اسد ” اور” بنی سلیم ” کو بھی دعوت دی اور چونکہ یہ سب قبائل خطرہ محسوس کئے هوئے تھے، لہٰذا اسلام کا کام ھمیشہ کے لئے تمام کرنے کے لئے ایک دوسرے کے ھاتھ میں ھاتھ دےدیا تاکہ وہ اس طرح سے پیغمبر کو شھید ، مسلمانوں کو سر کوب ، مدینہ کو غارت اور اسلام کا چراغ ھمیشہ کے لئے گل کردیں ۔
کل ایمان کل کفر کے مقابلہ میںجنگ احزاب کفر کی آخری کوشش ،ان کے ترکش کا آخری تیراور شرک کی قوت کا آخری مظاھرہ تھا اسی بنا پر جب دشمن کا سب سے بڑا پھلو ان عمروبن عبدودعالم اسلام کے دلیر مجاہد حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام کے مقابلہ میں آیا تو پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا :”سارے کا سارا ایمان سارے کے سارے (کفر اور ) شرک کے مقابلہ میں آگیا ھے “۔کیونکہ ان میں سے کسی ایک کی دوسرے پر فتح کفر کی ایمان پر یا ایمان کی کفر پر مکمل کا میابی تھی دوسرے لفظوں میں یہ فیصلہ کن معرکہ تھا جو اسلام اور کفر کے مستقبل کا تعین کررھا تھا اسی بناء پر دشمن کی اس عظیم جنگ اور کار زار میں کمر ٹوٹ گئی اور اس کے بعد ھمیشہ مسلمانوں کاپلہ بھاری رھا ۔دشمن کا ستارہٴ اقبال غروب هوگیا اور اس کی طاقت کے ستون ٹوٹ گئے اسی لئے ایک حدیث میں ھے کہ حضرت رسول گرامی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے جنگ احزاب کے خاتمہ پر فرمایا :”اب ھم ان سے جنگ کریں گے اور ان میں ھم سے جنگ کی سکت نھیں ھے” ۔
لشکر کی تعدادبعض موٴرخین نے لشکر کفار کی تعداد دس ہزار سے زیادہ لکھی ھے ۔مقریزی اپنی کتاب “الا متاع ” میں لکھتے ھیں :”صرف قریش نے چارہزار جنگ جوؤں ، تین سو گھوڑوں اور پندرہ سواونٹوں کے ساتھ خندق کے کنارے پڑاؤ ڈالا تھا ،قبیلہٴ” بنی سلیم “سات سو افراد کے ساتھ “مرالظھران ” کے علاقہ میں ان سے آملا، قبیلہ “بنی فرازہ” ہزار افراد کے ساتھ ، “بنی اشجع” اور” بنی مرہ” کے قبائل میں سے ھر ایک چار چار سو افراد کے ساتھ پہنچ گیا ۔ اور دوسرے قبائل نے بھی اپنے آدمی یہ بھیجے جن کی مجموعی تعداد دس ہزار سے بھی زیادہ بنتی ھے “جبکہ مسلمانوں کی تعداد تین ہزار سے زیادہ نہ تھی انهوں نے (مدینہ کے قریب )” سلع ” نامی پھاڑی کے دامن کو جو ایک بلند جگہ تھی وھاںپر لشکر کفر نے مسلمانوں کا ھر طرف سے محاصرہ کرلیا اور ایک روایت کے مطابق بیس دن دوسری روایت کے مطابق پچیس دن اور بعض روایات کے مطابق ایک ماہ تک محاصرہ جاری رھا ۔باوجودیکہ دشمن مسلمانوں کی نسبت مختلف پھلوؤں سے برتری رکھتا تھا لیکن جیسا کہ ھم کہہ چکے ھیں ،آخر کار ناکام هو کر واپس پلٹ گیا۔
خندق کی کھدائیخندق کے کھودنے کا سلسلہ حضرت سلمان فارسی ۻکے مشورہ سے وقوع پذیر هوا خندق کے اس زمانے میں ملک ایران میں دفاع کا موثر ذریعہ تھا اور جزیرة العرب میں اس وقت تک اس کی مثال نھیں تھی اور عرب میں اس کا شمار نئی ایجادات میں هوتا تھا اطراف مدینہ میں اس کا کھود نا فوجی لحاظ سے بھی اھمیت کا حامل تھا یہ خندق دشمن کے حوصلوں کو پست کرنے اور مسلمانوں کے لئے روحانی تقویت کا بھی ایک موثر ذریعہ تھی ۔خندق کے کو ائف اور جزئیات کے بارے میں صحیح طور پر معلومات تک رسائی تو نھیں ھے البتہ مورخین نے اتنا ضرور لکھا ھے کہ اس کا عرض اتنا تھاکہ دشمن کے سوار جست لگا کر بھی اس کو عبور نھیں کرسکتے تھے اس کی گھرائی یقینا اتنی تھی کہ اگر کو ئی شخص اس میں داخل هوجاتاھے تو آسانی کے ساتھ دوسری طرف باھر نھیں نکل سکتا تھا ،علاوہ ازیں مسلمان تیر اندازوں کا خندق والے علاقے پر اتنا تسلط تھا کہ اگر کوئی شخص خندق کو عبور کرنے کا ارداہ کرتا تھا تو ان کے لئے ممکن تھا کہ اسے خندق کے اندرھی تیر کا نشانہ بنالیتے ۔رھی اس کی لمبائی تو مشهور روایت کو مد نظر رکھتے هوئے کہ حضرت رسالت مآب صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے دس ،دس افراد کو چالیس ھاتھ (تقریباً ۲۰ میڑ) خندق کھودنے پر مامور کیا تھا،اور مشهور قول کے پیش نظر لشکر اسلام کی تعداد تین ہزار تھی تو مجموعی طورپر اس کی لمبائی اندازاً بارہ ہزار ھاتھ (چھ ہزار میڑ) هوگی۔اس بات کا بھی اعتراف کرنا چاہئے کہ اس زمانے میںنھایت ھی ابتدائی وسائل کے ساتھ اس قسم کی خندق کھودنا بہت ھی طاقت فرسا کام تھا خصوصاً جب کہ مسلمان خوراک اور دوسرے وسائل کے لحاظ سے بھی سخت تنگی میں تھے ۔یقینا خندق کھودی بھی نھایت کم مدت میں گئی یہ امر اس بات کی نشاندھی کرتا ھے کہ لشکر اسلام پوری هوشیاری کے ساتھ دشمن کے حملہ آور هونے سے پھلے ضروری پیش بندی کرچکا تھا اور وہ بھی اس طرح سے کہ لشکر کفر کے مدینہ پہنچنے سے تین دن پھلے خندق کی کھدائی کا کام مکمل هوچکا تھا۔
عمرو بن عبدود دسے حضرت علی (ع)کی تاریخی جنگاس جنگ کا ایک اھم واقعہ حضرت علی علیہ السلام کا دشمن کے لشکر کے نامی گرامی پھلو ان عمروبن عبددد کے ساتھ مقابلہ تھا تاریخ میں آیا ھے کہ لشکر احزاب نے جن دلاوران عرب میں سے بہت طاقت ور افراد کو اس جنگ میں اپنی امداد کے لئے دعوت دے رکھی تھی، ان میں سے پانچ افراد زیادہ مشهور تھے، عمروبن عبدود ، عکرمہ بن ابی جھل ،ھبیرہ ، نوفل اور ضرار یہ لوگ دوران محاصرہ ایک دن دست بدست لڑائی کے لئے تیار هوئے ، لباس جنگ بدن پر سجایا اور خندق کے ایک کم چوڑے حصے سے ، جو مجاہدین اسلام کے تیروں کی پہنچ سے کسی قدر دور تھا ، اپنے گھوڑوں کے ساتھ دوسری طرف جست لگائی اور لشکر اسلام کے سامنے آکھڑے هوئے ان میں سے عمروبن عبدود زیادہ مشهور اور نامور تھا اس کی”کوئی ھے بھادر “کی آواز میدان احزاب میں گونجی اور چونکہ مسلمانوں میں سے کوئی بھی اس کے مقابلہ کے لئے تیار نہ هوا لہٰذا وہ زیادہ گستاخ هوگیا اور مسلمانوں کے عقاید اورنظریات کا مذاق اڑا نے لگا اور کہنے لگا :”تم تویہ کہتے هو کہ تمھارے مقتول جنت میں ھیں اور ھمارے مقتول جہنم میں توکیاتم میں سے کوئی بھی ایسا نھیں جسے میں بہشت میں بھیجوں یا وہ مجھے جہنم کی طرف روانہ کرے ؟”اس موقع پر پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے حکم دیا کہ کوئی شخص کھڑا هواور اس کے شر کو مسلمانوں کے سرسے کم کردے لیکن حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام کے سوا کوئی بھی اس کے ساتھ جنگ کے لئے آمادہ نہ هوا تو آنحضرت نے علی ابن اطالب علیہ السلام سے فرمایا : یہ عمر وبن عبدود ھے ” حضرت علی علیہ السلام نے عرض کی حضور : میں بالکل تیار هوں خواہ عمروھی کیوں نہ هو، پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ان سے فرمایا ” میرے قریب آؤ : چنانچہ علی علیہ السلام آپ کے قریب گئے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ان کے سر پر عمامہ باندھا اور اپنی مخصوص تلوار ذوالفقار انھیں عطا فرمائی اور ان الفاظ میں انھیں دعا دی :خدایا ،علی کے سامنے سے ، پیچھے سے ، دائیں اور بائیں سے اور اوپر اور نیچے سے حفاظت فرما ۔حضرت علی علیہ السلام بڑی تیزی سے عمرو کے مقابلہ کےلئے میدان میں پہنچ گئے ۔یھی وہ موقع تھا کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ختمی المرتبت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے وہ مشهور جملہ ارشاد فرمایا :”کل ایمان کل کفر کے مقابلہ میں جارھا ھے “۔ضربت علی (ع) ثقلین کی عبادت پر بھاریامیر المو منین علی علیہ السلام نے پھلے تو اسے اسلام کی دعوت دی جسے اس نے قبول نہ کیا پھر میدان چھوڑکر چلے جانے کو کھا اس پر بھی اس نے انکار کیا اور اپنے لئے باعث ننگ وعار سمجھا آپ کی تیسری پیشکش یہ تھی کہ گھوڑے سے اتر آئے اور پیادہ هوکر دست بدست لڑائی کرے ۔عمرو آگ بگولہ هوگیا اور کھا کہ میں نے کبھی سوچا بھی نہ تھا کہ عرب میں سے کوئی بھی شخص مجھے ایسی تجویزدے گا گھوڑے سے اتر آیا اور علی علیہ السلام پر اپنی تلوار کا وار کیا لیکن امیرالمومنین علی علیہ السلام نے اپنی مخصوص مھارت سے اس وار کو اپنی سپرکے ذریعے روکا ،مگر تلوار نے سپر کو کاٹ کرآپ کے سرمبارک کو زخمی کردیا اس کے بعد حضرت علی علیہ السلام نے ایک خاص حکمت عملی سے کام لیا عمر وبن عبدود سے فرمایا :تو عرب کا زبردست پھلو ان ھے ، جب کہ میں تجھ سے تن تنھا لڑرھا هوں لیکن تو نے اپنے پیچھے کن لوگوں کو جمع کررکھا ھے اس پر عمر ونے جیسے ھی پیچھے مڑکر دیکھا ۔حضرت علی علیہ السلام نے عمرو کی پنڈلی پر تلوار کا وار کیا ، جس سے وہ سروقد زمین پر لوٹنے لگا شدید گردوغبار نے میدان کی فضا کو گھیررکھا تھا کچھ منافقین یہ سوچ رھے تھے کہ حضرت علی علیہ السلام ، عمرو کے ھاتھوں شھید هوگئے ھیں لیکن جب انھوں نے تکبیر کی آواز سنی تو علی کی کامیابی ان پر واضح هوگئی اچانک لوگوں نے دیکھا کہ آپ کے سرمبارک سے خون بہہ رھا تھا اور لشکر گاہ اسلام کی طرف خراماں خراماں واپس آرھے تھے جبکہ فتح کی مسکراہٹ آپ کے لبوں پر کھیل رھی تھی اور عمر و کا پیکر بے سر میدان کے کنارے ایک طرف پڑا هوا تھا ۔عرب کے مشهور پھلوان کے مارے جانے سے لشکر احزاب اور ان کی آرزوؤں پر ضرب کاری لگی ان کے حوصلے پست اور دل انتھائی کمزور هوگئے اس ضرب نے ان کی فتح کی آرزووٴں پر پانی پھیردیا اسی بناء پر آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اس کامیابی کے بارے میں حضرت علی علیہ السلام سے ارشاد فرمایا :”اگر تمھارے آج کے عمل کو ساری امت محمد کے اعمال سے موازنہ کریں تو وہ ان پر بھاری هوگا، کیونکہ عمرو کے مارے جانے سے مشرکین کا کوئی ایسا گھر باقی نھیں رھا جس میں ذلت وخواری داخل نہ هوئی هو اور مسلمانوں کا کوئی بھی گھر ایسا نھیں ھے جس میں عمرو کے قتل هوجانے کی وجہ سے عزت داخل نہ هوئی هو” ۔اھل سنت کے مشهور عالم ، حاکم نیشاپوری نے اس گفتگو کو نقل کیا ھے البتہ مختلف الفاظ کے ساتھ اور وہ یہ ھے :” لمبارزة علی بن ابیطالب لعمروبن عبدود یوم الخندق افضل من اعمال امتی الی یوم القیامة “” یعنی علی بن ابی طالب کی خندق کے دن عمروبن عبدود سے جنگ میری امت کے قیامت تک کے اعمال سے ا فضل ھے “آپ کے اس ارشاد کا فلسفہ واضح ھے ، کیونکہ اس دن اسلام اور قرآن ظاھراً نابودی کے کنارے پر پہنچ چکے تھے، ان کے لئے زبردست بحرانی لمحات تھے،جس شخص نے پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی فداکاری کے بعد اس میدان میں سب سے زیادہ ایثار اور قربانی کا ثبوت دیا،اسلام کو خطرے سے محفوظ رکھا، قیامت تک اس کے دوام کی ضمانت دی،اس کی فداکاری سے اسلام کی جڑیں مضبوط هوگئیں اور پھر اسلام عالمین پر پھیل گیا لہٰذا سب لوگوں کی عبادتیں اسکی مرهون منت قرار پا گئیں۔بعض مورخین نے لکھا ھے کہ مشرکین نے کسی آدمی کو پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی خدمت میں بھیجا تاکہ وہ عمر و بن عبدود کے لاشہ کو دس ہزار درھم میں خرید لائے (شاید ان کا خیال یہ تھا کہ مسلمان عمرو کے بدن کے ساتھ وھی سلوک کریں گے جو سنگدل ظالموںنے حمزہکے بدن کےساتھ جنگ میں کیاتھا)لیکن رسول اکرم نے فرمایا: اس کا لاشہ تمھا ری ملکیت ھے ھم مردوں کی قیمت نھیں لیا کرتے۔یہ نکتہ بھی قابل توجہ ھے کہ جس وقت عمرو کی بہن اپنے بھائی کے لاشہ پر پہنچی اوراس کی قیمتی زرہ کو دیکھا کہ حضرت علی علیہ السلام نے اس کے بدن سے نھیں اتاری تو اس نے کھا:”میں اعتراف کرتی هوں کہ اس کا قاتل کریم اور بزرگوارشخص ھی تھا”
نعیم بن مسعود کی داستان اور دشمن کے لشکر میں پھوٹنعیم جو تازہ مسلمان تھے اور ان کے قبیلہ”غطفان “کو لشکر اسلام کی خبر نھیں تھی،وہ پیغمبر اکرم کی خدمت میں آئے اور عرض کی کہ آپمجھے جو حکم بھی دیں گے ،میں حتمی کامیابی کے لئے اس پر کار بند رهوں گا۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا :”تمھارے جیسا شخص ھمارے درمیان اور کوئی نھیںھے ۔اگر تم دشمن کے لشکر کے درمیان پھوٹ ڈال سکتے هو تو ڈ الو! ۔کیونکہ جنگ پوشیدہ تدابیر کا مجموعہ ھے “۔نعیم بن مسعود نے ایک عمدہ تدبیر سوچی اور وہ یہ کہ وہ بنی قریظہ کے یهودیوںکے پاس گیا ،جن سے زمانہٴ جاھلیت میں ان کی دوستی تھی ان سے کھا اے بنی قریظہ !تم جانتے هوکہ مجھے تمھارے ساتھ محبت ھے۔انھوں نے کھا آپ سچ کہتے ھیں :ھم آپ پراس بارے میں ھر گز کوئی الزام نھیں لگاتے ۔نعیم بن مسعود نے کھا :قبیلہ قریش اور عظفان تمھاری طرح نھیں ھیں، یہ تمھارا اپنا شھر ھے، تمھارا مال اولاد اور عورتیں یھاں پر ھیں اور تم ھر گز یہ نھیں کر سکتے کہ یھاں سے کو چ کر جا ؤ۔قریش اور قبیلہ عظفان محمد اور ان کے اصحاب کے ساتھ جنگ کرنے کے لے آئے هوئے ھیںاور تم نے ان کی حمایت کی ھے جبکہ ان کا شھر کھیںاو رھے اور ان کے مال او رعورتیں بھی دوسری جگہ پر ھیں، اگر انھیں موقع ملے تو لوٹ مار اور غارت گری کر کے اپنے ساتھ لے جائیں گے، اگر کوئی مشکل پیش آجا ئے تو اپنے شھر کو لوٹ جائیں گے، لیکن تم کو اور محمدکو تو اسی شھر میں رہنا ھے او ریقیناتم اکیلے ان سے مقابلہ کرنے کی طاقت نھیں رکھتے ،تم اس وقت تک اسلحہ نہ اٹھاؤجب تک قریش سے کوئی معاہدہ نہ کر لو او رو ہ اس طرح کہ وہ چندسرداروں اور بزرگوں کو تمھارے پاس گروی رکھ دیں تاکہ وہ جنگ میں کو تاھی نہ کریں۔بنی قریظہ کے یهودیوں نے اس نظریہ کوبہت سراھا۔پھر نعیم مخفی طور پر قریش کے پاس گیا اور ابو سفیان اور قریش کے چندسرداروں سے کھا کہ تم اپنے ساتھ میری دوستی کی کیفیت سے اچھی طرح آگاہ هو، ایک بات میرے کانوںتک پہنچی ھے، جسے تم تک پہنچا نا میں اپنا فریضہ سمجھتا هوں تا کہ خیر خواھی کا حق اداکر سکوں لیکن میری خواہش یہ ھے کہ یہ بات کسی او رکو معلو م نہ هونے پائے ۔
انھوں نے کھا کہ تم بالکل مطمئن رهو ۔نعیم کہنے لگے : تمھیں معلوم هو نا چاھیے کہ یهودی محمد کے بارے میںتمھارے طرز عمل سے اپنی برائت کا فیصلہ کر چکے ھیں ،یهودیوں نے محمد کے پاس قاصد بھیجا ھے او رکھلوایا ھے کہ ھم اپنے کئے پر پشیمان ھیں اور کیا یہ کافی هو گا کہ ھم قبیلہ قریش او رغطفان کے چندسردار آپکے لئے یرغمال بنالیں اور ان کو بندھے ھاتھوں آپ کے سپرد کردیں تاکہ آپ ان کی گردن اڑادیں، اس کے بعد ھم آپ کے ساتھ مل کر ان کی بیخ کنی کریں گے ؟محمد نے بھی ان کی پیش کش کوقبول کرلیا ھے، اس بنا ء پر اگر یهودی تمھارے پاس کسی کو بھیجیں او رگروی رکھنے کا مطالبہ کریں تو ایک آدمی بھی ان کے سپرد نہ کر نا کیونکہ خطرہ یقینی ھے ۔پھر وہ اپنے قبیلہ غطفان کے پاس آئے اور کھا :تم میرے اصل اور نسب کو اچھی طرح جانتے هو۔ میں تمھاراعاشق او رفریفتہ هوں او رمیں سوچ بھی نھیں سکتا کہ تمھیں میرے خلوص نیت میںتھوڑا سابھی شک اور شبہ هو ۔انھوںنے کھا :تم سچ کہتے هو ،یقینا ایسا ھی ھے ۔نعیم نے کھا : میںتم سے ایک بات کہنا چاہتا هوں لیکن ایسا هو کہ گو یا تم نے مجھ سے بات نھیں سنی ۔انھوں نے کھا :مطمئن رهویقینا ایسا ھی هو گا ،وہ بات کیا ھے ؟نعیم نے وھی بات جو قریش سے کھی تھی یهودیوں کے پشیمان هونے او ریر غمال بنانے کے ارادے کے بارے میں حرف بحرف ان سے بھی کہہ دیا او رانھیں اس کام کے انجام سے ڈرایا ۔اتفاق سے وہ ( ماہ شوال سن ۵ ہجری کے ) جمعہ او رہفتہ کی درمیانی رات تھی ۔ ابو سفیان او رغطفان کے سرداروں نے ایک گروہ بنی قریظہ کے یهودیوںکے پاس بھیجا او رکھا : ھمارے جانور یھاں تلف هو رھے ھیں اور یھاں ھمارے لئے ٹھھر نے کی کو ئی جگہ نھیں ۔ کل صبح ھمیں حملہ شروع کرنا چاھیے تاکہ کام کو کسی نتیجے تک پہنچائیں ۔یهودیوں نے جواب میں کھا :کل ہفتہ کا دن ھے او رھم اس دن کسی کام کو ھاتھ نھیں لگاتے ،علاوہ ازیں ھمیں اس بات کا خوف ھے کہ اگر جنگ نے تم پر دباؤ ڈالا تو تم اپنے شھروں کی طرف پلٹ جاؤ گے او رھمیں یھاں تنھاچھوڑدوگے ۔ ھمارے تعاون او رساتھ دینے کی شرط یہ ھے کہ ایک گروہ گروی کے طور پر ھمارے حوالے کردو، جب یہ خبر قبیلہ قریش او رغطفان تک پہنچی تو انھوں نے کھا :خداکی قسم نعیم بن مسعود سچ کہتا تھا،دال میں کالا ضرو رھے ۔لہٰذا انھوںنے اپنے قاصد یهودیوں کے پاس بھیجے اور کھا : بخدا ھم تو ایک آدمی بھی تمھارے سپرد نھیں کریں گے او راگر جنگ میں شریک هو تو ٹھیک ھے شروع کرو ۔بنی قریظہ جب اس سے با خبر هوئے تو انھوں نے کھا :واقعا نعیم بن مسعود نے حق بات کھی تھی !یہ جنگ نھیں کرنا چاہتے بلکہ کوئی چکر چلا رھے ھیں، یہ چا ہتے ھیں کہ لوٹ مار کر کے اپنے شھروں کو لوٹ جائیں او رھمیں محمد کے مقابلہ میں اکیلا چھوڑجا ئیں پھر انهوں نے پیغام بھیجا کہ اصل بات وھی ھے جو ھم کہہ چکے ھیں ،بخدا جب تک کچھ افرادگروی کے طور پر ھمارے سپرد نھیں کروگے ،ھم بھی جنگ نھیں کریں گے ،قریش اورغطفان نے بھی اپنی بات پراصرار کیا، لہٰذا ان کے درمیان بھی اختلاف پڑ گیا ۔ اور یہ وھی موقع تھا کہ رات کو اس قدر زبردست سرد طوفانی هوا چلی کہ ان کے خیمے اکھڑگئے اور دیگیں چو لهوں سے زمین پر آپڑیں ۔یہ سب عوامل مل ملاکر اس بات کا سبب بن گئے کہ دشمن کو سر پر پاؤں رکھ کر بھا گنا پڑا اور فرار کو قرار پر ترجیح دینی پڑی ۔ یھاں تک کہ میدان میں انکا ایک آدمی بھی نہ رھا۔
حذیفہ کا واقعہبہت سی تواریخ میں آیا ھے ،کہ حذیفہ یمانی کہتے ھیں کہ ھم جنگ خندق میں بھوک او رتھکن ،وحشت اوراضطراب اس قدر دو چار تھے کہ خدا ھی بہتر جانتا ھے ،ایک رات (لشکر احزاب میں اختلاف پڑ جانے کے بعد )پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا:کیا تم میں سے کوئی ایسا شخص ھے جو چھپ چھپا کر دشمن کی لشکر گاہ میں جائے اور ان کے حالات معلوم کر لائے تا کہ وہ جیت میں میرا رفیق اور ساتھی هو۔حذیفہ کہتے ھیں: خدا کی قسم کوئی شخض بھی شدت وحشت ، تھکن اور بھوک کے مارے اپنی جگہ سے نہ اٹھا ۔جس وقت آنحضرتنے یہ حالت دیکھی تو مجھے آوازدی، میں آپ کی خدمت میں حاضر هوا تو فرمایاجاؤ اور میرے پاس ان لوگوں کی خبر لے آؤ ۔ لیکن وھاںکوئی اور کام انجام نہ دینا یھاں تک کہ میرے پاس آجاؤ ۔میںایسی حالت میں وھاںپہنچا جب کہ سخت آندھی چل رھی تھی اور طوفان برپا تھا اور خدا کا یہ لشکر انھیں تہس نہس کررھا تھا ۔ خیمے تیز آندھی کے سبب هوا میںاڑ رھے تھے ۔ آگ بیابان میں پھیل چکی تھی۔ کھانے کے برتن الٹ پلٹ گئے تھے اچانک میںنے ابو سفیان کا سایہ محسوس کیاکہ وہ اس تاریکی میں بلند آواز سے کہہ رھا تھا: اے قریش ! تم میں سے ھر ایک اپنے پھلو میں بیٹھے هوئے کو اچھی طرح سے پہچان لے تا کہ یھاں کوئی بے گانہ نہ هو ، میںنے پھل کر کے فوراًھی اپنے پاس بیٹھنے والے شخص سے پوچھا کہ تو کون ھے ؟ اس نے کھا ، فلاں هوں ، میں نے کھابہت اچھا ۔پھر ابو سفیان نے کھا:خدا کی قسم !یہ ٹھھرنے کی جگہ نھیں ھے، ھمارے اونٹ گھوڑے ضائع هو چکے ھیں اور بنی قریظہ نے اپنا پیمان توڑ ڈالا ھے اور اس طوفان نے ھمارے لئے کچھ نھیں چھوڑا ۔پھر وہ بڑی تیزی سے اپنے اونٹ کی طرف بڑھا اور سوار هو نے کے لئے اسے زمین سے اٹھا یا، اور اس قدر جلدی میں تھا کہ اونٹ کے پاؤںمیں بندھی هوئی رسی کھولنا بھول گیا ،لہٰذا اونٹ تین پاؤں پر کھڑا هو گیا، میں نے سوچا ایک ھی تیرسے اسکا کام تمام کردوں،ابھی تیر چلہ کمان میں جوڑا ھی تھا کہ فوراًآنحضرت کا فرمان یادآگیا کہ جس میں آپ نے فرمایا تھا کچھ کاروائی کے بغیر واپس آجا نا،تمھارا کام صرف وھاں کے حالات ھمارے پاس لانا ھے، لہٰذا میں واپس پلٹ گیا اور جا کر تمام حا لات عرض کئے ۔ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے بارگاہ ایزدی میں عرض کیا :”خداوندا ! تو کتاب کو نازل کرنے والا او رسریع الحساب ھے ، توخود ھی احزاب کو نیست و نا بو دفرما !خدایا ! انھیں تباہ کردے اور ان کے پاؤں نہ جمنے دے “۔
جنگ احزاب قرآن کی روشنی میںقرآن اس ماجرا تفصیل بیان کرتے هوئے کہتا ھے: “اے وہ لوگ! جو ایمان لائے هو، اپنے اوپر خدا کی عظیم نعمت کو یاد کرو،اس موقع پر جب کہ عظیم لشکر تمھاری طرف آئے “۔[50]”لیکن ھم نے ان پر آندھی اور طوفان بھیجے اور ایسے لشکر جنھیں تم نھیں دیکھتے رھے تھے اور اس ذریعہ سے ھم نے ان کی سرکوبی کی اور انھیں تتر بتر کردیا “۔[51]” نہ دکھنے والے لشکر ” سے مراد جو رسالت مآب صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی نصرت کے لئے آئے تھے ، وھی فرشتے تھے جن کا مومنین کی جنگ بدر میں مدد کرنا بھی صراحت کے ساتھ قرآن مجید میں آیا ھے لیکن جیسا (کہ سورہٴ انفال کی آیہ ۹ کے ذیل میں) ھم بیان کرچکے ھیں ھمارے پاس کوئی دلیل نھیں ھے کہ یہ نظر نہ آنے والا فرشتوں کا خدائی لشکر باقاعدہ طور پر میدان میں داخل هوا اور وہ جنگ میں بھی مصروف هوا هو بلکہ ایسے قرائن موجود ھیں جو واضح کرتے ھیں کہ وہ صرف مومنین کے حوصلے بلند کرنے اور ان کا دل بڑھانے کے لئے نازل هوئے تھے ۔بعد والی آیت جو جنگ احزاب کی بحرانی کیفیت ، دشمنوں کی عظیم طاقت اور بہت سے مسلمانوں کی شدید پریشانی کی تصویر کشی کرتے هوئے یوں کہتی ھے !” اس وقت کو یاد کرو جب وہ تمھارے شھر کے اوپر اور نیچے سے داخل هوگئے ،اور مدینہ کو اپنے محاصرہ میں لے لیا) اور اس وقت کو جب آنکھیں شدت وحشت سے پتھرا گئی تھیں اور جاںبلب هوگئے تھے اور خدا کے بارے میں طرح طرح کی بدگمانیان کرتے تھے “۔[52]اس کیفیت سے مسلمانوں کی ایک جماعت کے لئے غلط قسم کے گمان پیدا هوگئے تھے کیونکہ وہ ابھی تک ایمانی قوت کے لحاظ سے کمال کے مرحلہ تک نھیں پہنچ پائے تھے یہ وھی لوگ ھیں جن کے بارے میں بعد والی آیت میں کہتا ھے کہ وہ شدت سے متزلزل هوئے ۔شایدان میں سے کچھ لوگ گمان کرتے تھے کہ آخر کار ھم شکست کھا جائیں گے اور اس قوت و طاقت کے ساتھ دشمن کا لشکر کامیاب هوجائے گا، اسلام کے ز ندگی کے آخر ی دن آپہنچے ھیں اور پیغمبر کا کا میابی کا وعدہ بھی پورا هوتا دکھا ئی نھیںدیتا ۔ٰٰالبتہ یہ افکار اور نظریات ایک عقیدہ کی صورت میں نھیں بلکہ ایک وسوسہ کی شکل میں بعض لوگوںکے دل کی گھرائیوں میں پیدا هو گئے تھے بالکل ویسے ھی جیسے جنگ احد کے سلسلہ میں قرآن مجید ان کا ذکر کرتے هو ئے کہتا ھے :”یعنی تم میں سے ایک گروہ جنگ کے ان بحرانی لمحات میںصرف اپنی جان کی فکر میں تھا اور دورجا ھلیت کے گمانوں کی مانند خدا کے بارے میں بدگمانی کررھے تھے “۔یھی وہ منزل تھی کہ خدائی امتحان کا تنور سخت گرم هوا جیسا کہ بعد والی آیت کہتی ھے کہ “وھاں مومنین کو آزمایا گیا اور وہ سخت دھل گئے تھے۔[53]فطری امر ھے کہ جب انسان فکری طوفانوںمیںگھر جاتا ھے تو اس کا جسم بھی ان طوفانوں سے لا تعلق نھیں رہ سکتا ،بلکہ وہ بھی اضطراب اور تزلزل کے سمندر میں ڈوبنے لگتا ھے ،ھم نے اکثر دیکھا ھے کہ جب لوگ ذہنی طور پر پریشان هوتے ھیں تو وہ جھاں بھی بیٹھتے ھیں اکثر بے چین رہتے ھیں، ھاتھ ملتے کاپنتے رہتے ھیں اور اپنے اضطراب اور پریشانیوںکو اپنی حرکات سے ظاھر کرتے رہتے ھیں۔اس شدید پریشانی کے شواہد میں سے ایک یہ بھی تھا جسے مورخین نے بھی نقل کیا ھے کہ عرب کے پانچ مشهور جنگجو پھلوان جن کا سردار عمرو بن عبدود تھا ،جنگ کا لباس پہن کر اورمخصوص غرور اور تکبر کے ساتھ میدان میں آئے اور “ھل من مبارز”( ھے کو ئی مقابلہ کرنے والا )کی آواز لگانے لگے ، خاص کر عمرو بن عبدود رجز پڑھ کر جنت اور آخرت کا مذاق اڑا رھا تھا ،وہ کہہ رھا تھا کہ “کیا تم یہ نھیںکہتے هوکہ تمھارے مقتول جنت میں جائیں گے ؟تو کیا تم میں سے کوئی بھی جنت کے دیدار کا شوقین نھیںھے ؟لیکن اس کے ان نعروں کے برخلاف لشکر اسلام پر بُری طرح کی خاموشی طاری تھی اور کوئی بھی مقابلہ کی جر ائت نھیںرکھتا تھا سوائے علی بن ابی طالب علیہ السلام کے جو مقابلہ کے لئے کھڑے هوئے اور مسلمانوں کو عظیم کامیابی سے ھم کنار کردیا ۔اس کی تفصیل نکات کی بحث میںآئےگی۔جی ھاں جس طرح فولاد کو گرم بھٹی میں ڈالتے ھیں تا کہ وہ نکھر جائے اسی طرح اوائل کے مسلمان بھی جنگ احزاب جیسے معرکوں کی بھٹی میں سے گزریں تا کہ کندن بن کر نکلیںاو رحوادثات کے مقابل میں جراٴت اور پا مردی کا مظاھرہ کر سکیں ۔
منا فقین او رضعیف الایمان جنگ احزاب میںھم کہہ چکے ھیں کہ امتحان کی بھٹی جنگ احزاب میں گرم هوئی او رسب کے سب اس عظیم امتحان میں گھر گئے۔ واضح رھے کہ اس قسم کے بحرانی دور میں جولوگ عام حالات میں ظاھراًایک ھی صف میں قرارپاتے ھیں ،کئی صفوںمیںبٹ جاتے ھیں،یھاں پربھی مسلمان مختلف گروهوںمیں بٹ گئے تھے، ایک جماعت سچے مومنین کی تھی ،ایک گروہ ہٹ دھرم اور سخت قسم کے منافقین کا تھا اور ایک گروہ اپنے گھر بار ،زندگی اور بھاگ کھڑے هونے کی فکر میں تھا ،اور کچھ لوگوں کی یہ کوشش تھی کہ دوسرے لوگوں کو جھاد سے روکیں ۔ اور ایک گروہ اس کوشش میں مصروف تھا کہ منافقین کے ساتھ اپنے رشتہ کو محکم کریں ۔خلاصہ یہ کہ ھر شخص نے اپنے باطنی اسراراس عجیب “عرصہٴ محشر”اور “یوم البروز”میںآشکار کردیئے۔میں نے ایران، روم اور مصرکے محلوں کو دیکھا ھےخندق کھودنے کے دوران میں جب ھر ایک مسلمان خندق کے ایک حصہ کے کھودنے میں مصروف تھا تو ایک مرتبہ پتھر کے ایک سخت اوربڑے ٹکڑے سے ان کا سامنا هوا کہ جس پر کوئی ہتھوڑا کار گر ثابت نھیں هورھا تھا ،حضرت رسالت مآب صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو خبر دی گئی تو آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم بنفس نفیس خندق میں تشریف لے گئے او راس پتھر کے پاس کھڑے هو کراورہتھوڑا لے کر پھلی مرتبہ ھی اس کے دل پر ایسی مضبوط چوٹ لگائی کہ اس کا کچھ حصہ ریزہ ریزہ هو گیا اور اس سے ایک چمک نکلی جس پر آپ نے فتح وکامرانی کی تکبیر بلند کی۔ آپ کے ساتھ دوسرے مسلمانوںنے بھی تکبیرکھی۔آپ نے ایک اورسخت چوٹ لگائی تو اس کا کچھ حصہ او رٹوٹا اوراس سے بھی چمک نکلی۔اس پر بھی سرورکونین صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے تکبیرکھی اور مسلمانوں نے بھی آپ کے ساتھ تکبیرکھی آخر کاآپ نے تیسری چوٹھی لگائی جس سے بجلی کوند ی اورباقی ماندہ پتھر بھی ٹکڑے ٹکڑے هو گیا ،حضوراکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے پھر تکبیر کھی او رمسلمانوںنے بھی ایسا ھی کیا، اس موقع پر جناب سلمان فارسیۻ نے اس ماجرا کے بارے میں دریافت کیا تو سرکاررسالت مآب صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا :”پھلی چمک میں میںنے “حیرہ”کی سرزمین او رایران کے بادشاهوں کے قصر ومحلات دیکھے ھیں او رجبرئیل نے مجھے بشارت دی ھے کہ میری امت ان پر کامیابی حاصل کرے گی،دوسری چمک میں “شام او رروم”کے سرخ رنگ کے محلات نمایاں هوئے او رجبرئیل نے پھر بشارت دی کہ میری امت ان پرفتح یاب هوگی، تیسری چمک میں مجھے “صنعا و یمن “کے قصور ومحلات دکھائی دئیے اورجبرئیل نے نوید دی کہ میری امت ان پربھی کامیابی حاصل کرے گی، اے مسلمانو!تمھیں خوشخبری هو!!منافقین نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا او رکھا: کیسی عجیب و غریب باتیںکر رھے ھیں اور کیا ھی باطل اور بے بنیاد پروپیگنڈاھے ؟مدینہ سے حیرہ او رمدائن کسریٰ کو تو دیکھ کر تمھیں ان کے فتح هونے کی خبردیتا ھے حالانکہ اس وقت تم چند عربوں کے چنگل میں گرفتا رهو (او رخو ددفاعی پوزیشن اختیار کئے هوئے هو )تم تو” بیت الحذر”(خوف کی جگہ ) تک نھیں جا سکتے ( کیا ھی خیال خام او رگمان باطل ھے ۔
الٰھی وحی نازل هوئی او رکھا:”یہ منا فق او ردل کے مریض کہتے ھیں کہ خدا او راس کے رسو ل نے سوائے دھوکہ و فریب کے ھمیں کوئی وعدہ نھیں دیا، (وہ پر و ردگارکی بے انتھا قدرت سے بے خبر ھیں”۔)[54]اس وقت اس قسم کی بشارت او رخوشخبری سوائے آگاہ او ربا خبر موٴمنین کی نظر کے علاوہ ( باقی لوگوں کے لئے )دھوکا او ر فریب سے زیادہ حیثیت نھیںرکھتی تھی لیکن پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی ملکوتی آنکھیں ان آتشیں چنگاریوں کے درمیان سے جو کدالوں او رہتھوڑوں کے خندق کھودنے کے لئے زمین پرلگنے سے نکلتی تھیں، ایران روم او ریمن کے بادشاهوں کے قصرو محلات کے دروازوں کے کھلنے کو دیکھ سکتے تھے او رآئندہ کے اسرارو رموز سے پردے بھی اٹھاسکتے تھے۔
منافقانہ عذرجنگ احزاب کے واقعہ کے سلسلے میں قرآن مجیدمنافقین او ردل کے بیمارلوگوں میں سے ایک خطرناک گروہ کے حالات تفصیل سے بیان کرتا ھے جو دوسروں کی نسبت زیادہ خبیث او رآلودہٴ گناہ ھیں، چنانچہ کہتا ھے: “او راس وقت کو بھی یا دکرو، جب ان میں سے ایک گروہ نے کھا: اے یثرب (مدینہ )کے رہنے والو!یھاں تمھارے رہنے کی جگہ نھیں ھے ،اپنے گھروںکی طرف لوٹ جاؤ”[55]خلاصہ یہ کہ دشمنوںکے اس انبوہ کے مقابلہ میں کچھ نھیں هو سکتا، اپنے آپ کو معرکہٴ کار زار سے نکال کرلے جاؤ او راپنے آپ کو ھلاکت کے اور بیوی بچوں کو قید کے حوالے نہ کرو۔ اس طرح سے وہ چاہتے تھے کہ ایک طرف سے تو وہ انصار کے گروہ کو لشکر اسلام سے جدا کرلیں اوردوسری طرف “انھیں منافقین کا ٹولہ جن کے گھر مدینہ میں تھے ،نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے اجازت مانگ رھے تھے کہ وہ واپس چلے جا ئیں او راپنی اس واپسی کے لئے حیلے بھانے پیش کررھے تھے ، وہ یہ بھی کہتے تھے کہ ھمارے گھردل کے درودیوارٹھیک نھیں ھیں حالانکہ ایسا نھیں تھا ،اس طرح سے وہ میدان کو خالی چھوڑکر فرارکرنا چاہتے تھے”۔[56]منافقین اس قسم کا عذر پیش کرکے یہ چاہتے تھے کہ وہ میدان جنگ چھوڑکر اپنے گھروں میں جاکرپناہ لیں ۔ایک روایت میں آیا ھے کہ قبیلہ “بنی حارثہ “نے کسی شخص کو حضور رسالت پناہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی خدمت میں بھیجااو رکھا کہ ھمارے گھر غیر محفوظ ھیں اور انصار میں سے کسی کا گھر بھی ھمارے گھروں کی طرح نھیں اور ھمارے او رقبیلہ “غطفان “کے درمیان کوئی رکا وٹ نھیں ھے جو مدینہ کی مشرقی جانب سے حملہ آور هو رھے ھیں، لہٰذا اجا زت دیجئے تا کہ ھم اپنے گھروں کو پلٹ جا ئیں او راپنے بیوی بچوں کا دفاع کریں تو سرکار رسالت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے انھیں اجازت عطا فرمادی ۔جب یہ بات انصار کے سردار “معد بن معاذ “کے گوش گذارهوئی توانھوںنے پیغمبراسلام کی خدمت میں عرض کیا “سرکا ر!انھیں اجازت نہ دیجئے ،بخدا آج تک جب بھی کوئی مشکل درپیش آئی تو ان لوگوں نے یھی بھانہ تراشا،یہ جھوٹ بولتے ھیں”۔[57]چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے حکم دیا کہ واپس آجائیں ۔[58]قرآن میں خداوندعالم اس گروہ کے ایمان کی کمزوری کی طرف اشارہ کرتے هوئے کہتا ھے: “وہ اسلام کے اظھار میں اس قدر ضعیف اور ناتواں ھیں کہ اگر دشمن مدینہ کے اطراف و جوانب سے اس شھر میں داخل هوجائیں اور مدینہ کو فوجی کنٹرول میں لے کر انھیں پیش کش کریں کہ کفر و شرک کی طرف پلٹ جائیں توجلدی سے اس کو قبول کرلیں گے اور اس راہ کے انتخاب کرنے میں ذراسا بھی توقف نھیں کریں گے”۔[59]ظاھر ھے کہ جو لوگ اس قدرت ضعیف، کمزور اور غیر مستقل مزاج هوں کہ نہ تو دشمن سے جنگ کرنے چند ایک روایات میں آیاھے کہ رسالت مآب صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا کہ “اس شھر کو یثرب نہ کھا کرو شاید اسکی وجہ یہ هو کہ یثرب اصل میں “ثرب”(بروزن حرب)کے مادہ سے ملامت کرنے کے معنی میں ھے اور آپ اس قسم کے نام کو اس بابرکت شھر کے لئے پسند نھیں فرماتے تھے۔بھرحال منافقین نے اھل مدینہ کو “یااھل یثرب”کے عنوان سے جو خطاب کیا ھے وہ بلاوجہ نھیں ھے او رشاید اس کی وجہ یہ تھی کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو اس نام سے نفرت ھے ،یا چاہتے تھے کہ اسلام او ر”مدینةالرسول”کے نام کو تسلیم نہ کرنے کااعلان کریں ۔یالوگوںکو زمانہٴ جاھلیت کی یادتازہ کرائیں ۔کے لئے تیار هوں اور نہ ھی راہ خدا میں شھادت قبول کرنے کے لئے، ایسے لوگ بہت جلد ہتھیار ڈال دیتے ھیں اور اپنی راہ فوراً بدل دیتے ھیں۔پھر قرآن اس منافق ٹولے کو عدالت کے کٹھرے میں لاکر کہتا ھے: “انھوں نے پھلے سے خدا کے ساتھ عہد و پیمان باندھا هوا تھا کہ دشمن کی طرف پشت نھیں کریں گے اور اپنے عہد و پیمان پر قائم رہتے هوئے توحید، اسلام اور پیغمبر کے لئے دفاع میں کھڑے هوں گے، کیا وہ جانتے نھیں کہ خدا سے کئے گئے عہد و پیمان کے بارے میں سوال کیا جائے گا”۔[60]جب خدا نے منافقین کی نیت کو فاش کردیا کہ ان کا مقصد گھروں کی حفاظت کرنا نھیں ، بلکہ میدان جنگ سے فرار کرنا ھے تو انھیں دود لیلوں کے ساتھ جواب دیتا ھے۔پھلے تو پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے فرماتا ھے: “کہہ دیجئے کہ اگر موت یا قتل هونے سے فرار کرتے هو تو یہ فرار تمھیں کوئی فائدہ نھیں پهونچائے گااور تم دنیاوی زندگی کے چند دن سے زیادہ فائدہ نھیں اٹھاپاؤ گے”۔[61]دوسرا یہ کہ کیا تم جانتے هوکہ تمھارا سارا انجام خدا کے ھاتھ میں ھے اور تم اس کی قدرت و مشیت کے دائرہ اختیار سے ھرگز بھاگ نھیں سکتے۔”اے پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ! ان سے کہہ دیجئے : کون شخص خدا کے ارادہ کے مقابلہ میں تمھاری حفاظت کرسکتا ھے، اگر وہ تمھارے لئے مصیبت یا رحمت چاہتا ھے”۔[62]
روکنے والا ٹولہاس کے بعد قرآن مجید منافقین کے اس گروہ کی طرف اشارہ کرتا ھے جو جنگ احزاب کے میدان سے خودکنارہ کش هوا اور دوسروں کو بھی کنار کشی کی دعوت دیتا هو فرماتا ھے: ” خدا تم میں سے اس گروہ کو جانتا ھے جو کوشش کرتے تھے کہ لوگوں کو جنگ سے منحرف کردیں ،اور اسی طرح سے ان لوگوں کو بھی جانتا ھے جو اپنے بھائیوں سے کہتے تھے کہ ھماری طرف آؤ” اور اس خطرناک جنگ سے دستبردار هوجاؤ ۔وھی لوگ جواھل جنگ نھیں ھیں اور سوائے کم مقدار کے اور وہ بھی بطور جبر واکراہ یاد کھاوے کے؛ جنگ کے لئے نھیں جاتے۔ [63]ھم ایک روایت میں پڑھتے ھیں کہ ایک صحابی رسول کسی ضرورت کے تحت میدان” احزاب ” سے شھر میں آیا هوا تھا اس نے اپنے بھائی کو دیکھا کہ اس نے اپنے سامنے روٹی ، بھنا هوا گوشت اور شراب رکھے هوئے تھے ، تو صحابی نے کھا تم تو یھاں عیش وعشرت میں مشغول هواور رسول خدا نیزوں اور تلواروں کے درمیان مصروف پیکار ھیں اس نے جواب میں کھا ، اے بے وقوف : تم بھی ھمارے ساتھ بیٹھ جاؤ اور مزے اڑاؤ اس نے کھا:اس خدا کی قسم جس کی محمد کھاتا ھے وہ اس میدان سے ھرگز پلٹ کر واپس نھیں آئے گا اور یہ عظیم لشکر جو جمع هوچکا ھے اسے اور اس کے ساتھیوں کو زندہ نھیں چھوڑے گا ۔یہ سن کر وہ صحابی کہنے لگے :تو بکتا ھے،خدا کی قسم میں ابھی رسول اللہ کے پاس جاکر تمھاری اس گفتگو سے باخبر کرتا هوں، چنانچہ انھوں نے بارگاہ رسالت میں پہنچ کر تمام ماجرا بیان کیا ۔
وہ ھرگز ایمان نھیں لائےقرآن فرماتاھے :” ان تمام رکاوٹوں کا باعث یہ ھے کہ وہ تمھاری بابت تمام چیزوں میںبخیل ھیں”۔[64]نہ صرف میدان جنگ میں جان قربان کرنے میں بلکہ وسائل جنگ مھیا کرنے کے لئے مالی امداد اور خندق کھودنے کے لئے جسمانی امداد حتی کہ فکری امداد مھیا کرنے میں بھی بخل سے کام لیتے ھیں، ایسا بخل جو حرص کے ساتھ هوتا ھے اور ایسا حرص جس میں روز بروز اضافہ هوتا رہتا ھے ۔ان کے بخل اور ھر قسم کے ایثارسے دریغ کرنے کے بیان کے بعد ان کے ان دوسرے اوصاف کو جو ھر عہد اور ھر دور کے تمام منافقین کے لئے تقریباً عمو میت کا درجہ رکھتے ھیں بیان کرتے هوئے کہتا ھے :” جس وقت خوفناک اور بحرانی لمحات آتے ھیں تو وہ اس قدر بزدل اور ڈرپوک ھیں کہ آپ دیکھیں گے کہ وہ آپ کو دیکھ رھے ھیں حالانکہ ان کی آنکھوں میں ڈھیلے بے اختیار گردش کررھے ھیں ، اس شخص کی طرح جو جاں کنی میں مبتلا هو ” [65]چونکہ وہ صحیح ایمان کے مالک نھیں ھیں اور نہ ھی زندگی میں ان کا کوئی مستحکم سھارا ھے ، جس وقت کسی سخت حادثہ سے دوچار هوتے ھیں تو وہ لوگ بالکل اپنا توازن کھوبیٹھتے ھیں جیسے ان کی روح قبض ھی هوجائے گی۔پھر مزید کہتا ھے: ” لیکن یھی لوگ جس وقت طوفان رک جاتاھے اور حالات معمول پر آجاتے ھیں تو تمھارے پاس یہ توقع لے کر آتے ھیں کہ گویا جنگ کے اصلی فاتح یھی ھیں اور قرض خواهوں کی طرح پکار پکار کر سخت اور درشت الفاظ کے ساتھ مال غنیمت سے اپنے حصہ کا مطالبہ کرتے ھیں اور اس میں سخت گیر، بخیل اور حریص ھیں “۔[66]آخر میں ان کی آخری صفت کی طرف جو درحقیقت میں ان کی تمام بد بختیوں کی جڑ اور بنیاد ھے ، اشارہ کرتے هوئے فرماتاھے ” وہ ھر گز ایمان نھیں لائے۔اور اسی بناپر خدانے ان کے اعمال نیست ونابود کردئیے ھیںکیونکہ ان کے اعمال خدا کے لئے نھیں ھیں اور ان میں اخلاص نھیں پایا جاتا۔[67]”وہ اس قدر وحشت زدہ هو چکے ھیں کہ احزاب اور دشمن کے لشکروں کے پر اگندہ هوجانے کے بعد بھی یہ تصور کرتے ھیں کہ ابھی وہ نھیں گئے”۔[68]وحشتناک اور بھیانک تصور نے ان کی فکر پر سایہ کر رکھا ھے گویا کفر کی افواج پے درپے ان کی آنکھوں کے سامنے قطاردر قطار چلی جارھی ھیں ، ننگی تلواریں اور نیزے تانے ان پر حملہ کررھی ھیں۔یہ بزدل جھگڑالو ، ڈرپوک منافق اپنے سائے سے بھی ڈرتے ھیں ، جب کسی گھوڑے کے ہنہنانے یا کسی اونٹ کے بلبلانے کی آواز سنتے ھیں تو مارے خوف کے لرزنے لگتے ھیں کہ شاید احزاب کے لشکر واپس آرھے ھیں ۔اس کے بعدکہتا ھے ” اگر احزاب دوبارہ پلٹ کر آجائے تو وہ اس بات پر تیار ھیں کہ بیابان کا رخ کرلیں اور بادیہ نشین بدووٴںکے درمیان منتشر هو کر پنھاں هو جائیں ھاں، ھاں وہ چلے جائیں اور وھاں جاکر رھیں” اور ھمیشہ تمھاری خبروں کے جویا رھیں “۔[69]ھر مسافر سے تمھاری ھر ھر پل کی خبر کے جویا رھیں ایسا نہ هوکہ کھیں احزاب ان کی جگہ قریب آجائیں اور ان کا سایہ ان کے گھر کی دیواروں پر آپڑے اور تم پر یہ احسان جتلائیں کہ وہ ھمشہ تمھاری حالت اور کیفیت کے بارے میں فکر مند تھے ۔اور آخری جملہ میں کہتا ھے:”بالفرض وہ فراربھی نہ کرتے اور تمھارے درمیان ھی رہتے ، پھر بھی سوائے تھوڑی سی جنگ کے وہ کچھ نہ کرپاتے”۔[70]نہ ان کے جانے سے تم پریشان هونا اور نہ ھی ان کے موجود رہنے سے خوشی منانا، کیونکہ نہ تو ان کی قدر وقیمت ھے اور نہ ھی کوئی خاص حیثیت، بلکہ ان کا نہ هونا ان کے هونے سے بہتر ھے ۔ان کی یھی تھوڑی سی جنگ بھی خدا کےلئے نھیں بلکہ لوگوں کی سرزنش اور ملامت کے خوف اور ظاھرداری یاریاکاری کےلئے ھے کیونکہ اگر خدا کے لئے هوتی تو اس کی کوئی حدو انتھا نہ هوتی اور جب تک جان میں جان هوتی وہ اس میدان میں ڈٹے رہتے ۔
جنگ احزاب میں سچے مومنین کا کرداراب تک مختلف گر وهوںاور ان کے جنگ احزاب میں کارناموں کے بارے میں گفتگو هورھی تھی جن میں ضعیف الایمان مسلمان ، منافق، کفر ونفاق کے سرغنے اور جہد سے روکنے والے شامل ھیں ۔قرآن مجید اس گفتگو کے آخر میں ” سچے مئومنین ” ان کے بلند حوصلوں ، پامردیوں ، جرائتوں اور اس عظیم جھاد میں ان کی دیگر خصوصیات کے بارے میں گفتگو کرتا ھے ۔اس بحث کی تمھید کو پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی ذات سے شروع کرتا ھے جو مسلمانوں کے پیشوا ، سرداراور اسوہٴ کامل تھے، خدا کہتا ھے: ” تمھارے لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی زندگی اور (میدان احزاب میں ) ان کا کردار ایک اچھا نمونہ اوراسوہ ھے ، ان لوگوں کے لئے جورحمت خدا اور روز قیامت کی امید رکھتے ھیں اور خدا کو بہت زیادہ یاد کرتے ھیں ۔”[71]تمھارے لئے بہترین اسوہ اور نمونہ ،نہ صرف اس میدان میں بلکہ ساری زندگی پیغمبراسلام کی ذات والا صفات ھے آپ کے بلند حوصلے، صبرو استقامت ،پائمردی ،زیر کی ، دانائی ، خلوص ، خدا کی طرف تو جہ، حادثات پر کنڑول، مشکلات اور مصائب کے آگے سر تسلیم خم نہ کرنا ، غرضکہ ان میں سے ھر ایک چیز مسلمانوں کے لئے نمونہ ٴ کامل اور اسوہٴ حسنہ ھے ۔وہ ایسا عظیم نا خدا ھے کہ جب اس کی کشتی سخت ترین طوفانوں میں گھر جاتی ھے تو ذرہ برابر بھی کمزوری،گھبراہٹ اور سراسیمگی کا مظاھرہ نھیں کرتا وہ کشتی کانا خدا بھی ھے اور اس کا قابل اطمینان لنگر اور چراغ ہدایت بھی وہ اس میں بیٹھنے والوں کے لئے آرام وسکون کا باعث بھی ھے اور ان کے لئے راحت جان بھی ۔وہ دوسرے مئومنین کے ساتھ مل کر کدال ھاتھ میں لیتا ھے اور خندق کھودتا ھے،بلیچے کے ساتھ پتھر اکھاڑکرکے خندق سے باھر ڈال آتا ھے اپنے اصحاب کے حوصلے بڑھانے اور ٹھنڈے دل سے سوچنے کے لئے ان سے مزاح بھی کرتا ھے ان کے قلب و روح کو گرمانے کے حربی اور جوش وجذبہ دلانے والے اشعار پڑھ کر انھیں ترغیب بھی دلاتاھے، ذکر خدا کرنے پرمسلسل اصرار کرتا ھے اور انھیں درخشاں مستقبل اور عظیم فتوحات کی خوشخبری دیتاھے انھیں منافقوں کی سازشوں سے متنبہ کرتا ھے اور ان سے ھمیشہ خبردار رہنے کا حکم دیتا ھے ۔صحیح حربی طریقوں اور بہترین فوجی چالوں کو انتخاب کرنے سے ایک لمحہ بھی غافل نھیں رہتا اس کے باوجود مختلف طریقوں سے دشمن کی صفوں میںشگاف ڈالنے سے بھی نھیںچوکتا ۔جی ھاں: وہ موٴمنین کا بہترین مقتدا ھے اور ان کے لئے اسوہٴ حسنہ ھے اس میدان میں بھی اور دوسرے تمام میدانوں میں بھی۔
مومنین کے صفاتاس مقام پر مومنین کے ایک خاص گروہ کی طرف اشارہ ھے:” جو پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی اقتداء میں سب سے زیادہ پیش قدمی کرتے تھے وہ خدا سے کئے هوئے اپنے اس عہدو پیمان پرقائم تھے کہ وہ آخری سانس اور آخری قطرہٴ خون تک فداکاری اور قربانی کے لئے تیار ھیں فرمایا گیا ھے مومنین میں ایسے بھی ھیں جواس عہدوپیمان پر قائم ھیں جو انھوںنے خدا سے باندھا ھے ان میں سے کچھ نے تو میدان جھاد میں شربت شھادت نوش کرلیا ھے اوربعض انتظار میں ھیں ۔ور انھوں نے اپنے عہدوپیمان میں کسی قسم کی کوئی تبدیلی نھیں کی ” ۔[72]اور نہ ھی ان کے قدموں میں لغزش پیدا هوئی ھے۔مفسرین کے درمیان اختلاف ھے کہ یہ آیت کن افراد کے بارے میں نازل هوئی ھے ۔اھل سنت کے مشهور عالم ، حاکم ابوالقاسم جسکانی سند کے ساتھ حضرت علی علیہ السلام سے نقل کرتے ھیں کہ آپ نے فرمایا :آیہٴ “رجال صدقوا ما عاھدوا اللّٰہ علیہ ” ھمارے بارے میں نازل هوئی ھے اور بخدا میں ھی وہ شخص هوں جو(شھادت کا) انتظار کررھاهوں(اور قبل از ایں ھم میں حمزہ سید الشہداء جیسے لوگ شھادت نوش کرچکے ھیں )اور میں نے ھرگز اپنی روش اور اپنے طریقہٴ کار میں تبدیلی نھیں کی اور اپنے کیئے هوے عہدوپیمان پر قائم هوں ۔
جنگ بنی قریظہمدینہ میں یهودیوں کے تین مشهور قبائل رہتے تھے : بنی قریظہ، بنی النضیر اور بنی قینقاع۔تینوں گروهوں نے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے معاہدہ کر رکھا تھا کہ آپ کے دشمنوں کا ساتھ نھیں دیں گے، ان کے لئے جاسوسی نھیں کریں گے، اور مسلمانوں کے ساتھ مل جل کر امن و آشتی کی زندگی گزاریں گے، لیکن قبیلہ بنی قینقاع نے ہجرت کے دوسرے سال اور قبیلہ بنی نضیر نے ہجرت کے چوتھے سال مختلف حیلوں بھانوں سے اپنا معاہدہ توڑ ڈالا، اور پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے مقابلہ کے لئے تیار هوگئے آخر کار ان کی مزاحمت اور مقابلہ کی سکت ختم هوگئی اور وہ مدینہ سے باھر نکل گئے۔بنی قینقاع” اذر عات” شام کی طرف چلے گئے اور بنی نضیر کے کچھ لوگ تو خیبر کی طرف اور کچھ شام کی طرف چلے گئے ۔اسی بناء پر ہجرت کے پانچویں سال جب کہ جنگ احزاب پیش آئی تو صرف قبیلہ بنی قریظہ مدینہ میں باقی رہ گیا تھا ، وہ بھی اس میدان میں اپنے معاہدہ کو توڑکر مشرکین عرب کے ساتھ مل گئے اور مسلمانوں کے مقابلہ میں تلواریں سونت لیں ۔جب جنگ احزا ب ختم هوگئی اور قریش، بنی غطفان اور دیگر قبائل عرب بھی رسوا کن شکست کے بعد مدینہ سے پلٹ گئے تو اسلامی روایات کے مطابق پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اپنے گھر لوٹ آئے اور جنگی لباس اتارکر نھانے دھونے میں مشغول هوگئے تو اس موقع پر جبرئیل حکم خدا سے آپ پر نازل هوئے اور کھا : کیوں آپ نے ہتھیار اتار دیئے ھیں جبکہ فرشتے ابھی تک آمادہ پیکار ھیں آپ فوراً بنی قریظہ کی طرف جائیں اور ان کا کام تمام کردیں ۔واقعاً بنی قریظہ کا حساب چکانے کے لئے اس سے بہتر کوئی اور موقع نھیں تھا مسلمان اپنی کامیابی پر خوش خرم تھے، بنی قریظہ شکست کی شدید وحشت میں گرفتار تھے اور قبائل عرب میں سے ان کے دوست اور حلیف تھکے ماندے اور بہت ھی پست حوصلوں کے ساتھ شکست خوردہ حالت میں اپنے اپنے شھروںاور علاقوں میں جاچکے تھے اور کوئی نھیں تھا جوان کی حمایت کرے ۔بھرحال منادی نے پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی طرف سے ندادی کہ نماز عصر پڑھنے سے پھلے بنی قریظہ کی طرف چل پڑو مسلمان بڑی تیزی کے ساتھ ھی بنی قریظہ کے محکم ومضبوط قلعوںکو مسلمانوں نے اپنے محاصرے میں لے لیا ۔پچیس دن تک محاصرہ جاری رھا چنانچہ لکھتے ھیں کہ مسلمانوں نے بنی قریظہ کے قلعوں پر حملہ کرنے کے لئے اتنی جلدی کی کہ بعض مسلمان نماز عصر سے غافل هوگئے کہ مجبوراً بعد میں قضا کی،خداوند عالم نے ان کے دلوں میں سخت رطب و دبدبہ طاری هوگیا۔
تین تجاویز”کعب بن اسد” کا شمار یهودیوں کے سرداروں میں هوتا تھا اس نے اپنی قوم سے کھا : مجھے یقین ھے کہ محمد ھمیں اس وقت تک نھیں چھوڑیں گے جب تک ھم جنگ نہ کریں لہٰذا میری تین تجاویز ھیں ، ان میں سے کسی ایک کو قبول کرلو ،پھلی تجویز تویہ ھے کہ اس شخص کے ھاتھ میں ھاتھ دے کر اس پر ایمان لے آوٴ اور اس کی پیروی اختیار کرلو کیونکہ تم پر ثابت هوچکا ھے کہ وہ خدا کا پیغمبر ھے اوراس کی نشانیاں تمھاری کتابوں میں پائی جاتی ھیں تو اس صورت میں تمھارے مال ، جان، اولاد اور عورتیں محفوظ هوجائیں گی۔وہ کہنے لگے کہ ھم ھرگز حکم توریت سے دست بردار نھیں هوں گے اور نہ ھی اس کا متبادل اختیار کریں گے ۔اس نے کھا : اگر یہ تجویز قبول نھیں کرتے تو پھر آؤ اور اپنے بچوں اور عورتوں کو اپنے ھاتھوں سے قتل کرڈالو تاکہ ان کی طرف سے آسودہ خاطر هوکر میدان جنگ میں کود پڑیں اور پھر دیکھیں کہ خدا کیا چاہتا ھے ؟ اگر ھم مارے گئے تو اھل وعیال کی جانب سے ھمیں کوئی پریشانی نھیں هوگی اور اگر کامیاب هوگئے تو پھر عورتیں بھی بہت بچے بھی بہت ۔!!وہ کہنے لگے کہ ھم ان بے چاروں کو اپنے ھی ھاتھوں سے قتل کردیں ؟ان کے بعد ھمارے لئے زندگی کی قدرو قیمت کیارہ جائے گی ؟کعب بن اسد نے کھا : اگر یہ بھی تم نے قبول نھیں کیا تو آج چونکہ ہفتہ کی رات ھے محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اور اس کے ساتھی یہ خیال کریں گے کہ ھم آج رات حملہ نھیں کریں گے انھیں اس غفلت میں ڈال کر ان پر حملہ کردیں شاید کامیابی حاصل هوجائے ۔وہ کہنے لگے کہ یہ کام بھی ھم نھیں کریں گے کیونکہ ھم کسی بھی صورت میںہفتہ کا احترام پامال نھیں کریں گے ۔کعب کہنے لگا : پیدائش سے لے کر آج تک تمھارے اندر عقل نھیں آسکی ۔اس کے بعد انھوں نے پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے بات کی کہ” ابولبابہ” کو ان کے پاس بھیجا جائے تاکہ وہ ان سے صلاح مشورہ کرلیں ۔
ابولبابہ کی خیانتجس وقت ابولبابہ ان کے پاس آئے تو یهودیوں کی عورتیں اور بچے ان کے سامنے گریہ وزاری کرنے لگے اس بات کا ان کے دل پر بہت اثر هوا اس وقت لوگوں نے کھا کہ آپ ھمیں مشورہ دیتے ھیں کہ ھم محمد کے آگے ہتھیار ڈال دیں ؟ ابولبابہ نے کھا ھاں اور ساتھ ھی اپنے گلے کی طرف اشارہ کیا یعنی تم سب کو قتل کردیں گے ۔!ابولبابہ کہتے ھیں، جیسے ھی میں وھاں سے چلا تو مجھے اپنی خیانت کا شدید احساس هوا پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے پاس نہ گیا بلکہ سیدھا مسجد کی طرف چلا اور اپنے آپ کو مسجد کے ایک ستون کے ساتھ باندھ دیا اور کھا اپنی جگہ سے اس وقت تک حرکت نھیں کروں گا جب تک خدا میری توبہ قبول نہ کرلے ۔سات دن تک اس نے نہ کھانا کھایا نہ پانی پیا اور یونھی بے هوش پڑا رھا یھاں تک کہ خدا نے اس کی توبہ قبول کر لی،جب یہ خبر بعض مومنین کے ذریعہ اس تک پہنچی شتو اس ننے قسم کھائی میں خود رہنے کو اس ستون سے نھیں کھولوں گا یھاں تک کہ پیغمبر آکر کھولیں۔پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم آئے اور اس کو کھولا ابولبابہ نے کھا کہ اونی توبہ کو کامل هونے کے لئے اپنا سارا مال راہ خدا میں دیتا هوں۔اس وقت پیغمبر نے کھا:ایک سوم مال کافی ھے،”آخرکار خدانے اس کا یہ گناہ اس کی صداقت کی بنا ء پربخش دیا [73]لیکن آخر کار بنی قریظہ کے یهودیوں نے مجبور هوکر غیر مشروط طور پر ہتھیار ڈال دیئے۔جناب پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا سعد بن معاذ تمھارے بارے میں جو فیصلہ کردیں کیا وہ تمھیں قبول ھے ؟وہ راضی هوگئے ۔سعدبن معاذ نے کھا کہ اب وہ موقع آن پہنچا ھے کہ سعد کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کو نظر میں رکھے بغیر حکم خدا بیان کرے ۔سعد نے جس وقت یهودیوں سے دوبارہ یھی اقرار لے لیا تو آنکھیں بند کرلیں اور جس طرف پیغمبر کھڑے هوئے تھے ادھر رخ کرکے عرض کیا : آپ بھی میرا فیصلہ قبول کریں گے ؟ آنحضرت نے فرمایا ضرور: تو سعد نے کھا : میں کہتا هوں کہ جو لوگ مسلمانوں کے ساتھ جنگ کرنے پر آمادہ تھے (بنی قریظہ کے مرد ) انھیں قتل کردینا چاہئے ، ان کی عورتیں اور بچے قید اور ان کے اموال تقسیم کردیئے جائیں البتہ ان میں سے ایک گروہ اسلام قبول کرنے کے بعد قتل هونے سے بچ گیا ۔قرآن اس ماجرا کی طرف مختصر اور بلیغ اشارہ کرتا ھے اور اس ماجراکا تذکرہ خداکی ایک عظیم نعمت او رعنایت کے طور پر هوا ھے ۔پھلے فرمایا گیا ھے:”خدا نے اھل کتاب میں سے ایک گروہ کو جنهوںنے مشرکین عرب کی حمایت کی تھی ،ان کے محکم و مضبوط قلعوں سے نیچے کھینچا ۔[74]یھاں سے واضح هو جا تا ھے کہ یهو دیوں نے اپنے قلعے مدینہ کے پاس بلند او راونچی جگہ پربنا رکھے تھے او ران کے بلند برجوں سے اپنا دفاع کرتے تھے “انزل “(نیچے لے آیا ) کی تعبیر اسی معنی کی طرف اشارہ کرتی ھے ۔اس کے بعد مزید فرمایا گیا ھے : “خدا نے ان کے دلوں میں خوف او ررعب ڈال دیا “:آخر کار ان کا مقابلہ یھاں تک پہنچ گیا کہ “تم ان میں سے ایک گروہ کو قتل کررھے تھے او ردوسرے کو اسیر بنا رھے تھے ۔”او ران کی زمینیں گھر اور مال و متاع تمھارے اختیارمیں دے دیا “۔[75]یہ چند جملے جنگ بنی قریظہ کے عام نتائج کا خلاصہ ھیں ۔ ان خیانت کاروںمیں سے کچھ مسلمانوںکے ھاتھوںقتل هو گئے،کچھ قید هوگئے اوربہت زیادہ مال غنیمت جس میں ان کی زمینیں ،گھر ،مکا نات او رمال و متاع شامل تھا ،مسلمانوں کو ملا ۔———————————————————[50] سورہ احزاب آیت ۹۔[51] سورہ احزاب آیت ۹۔[52] سورہٴ احزاب آیت۱۰۔[53] سورہ احزاب آیت ۱۱۔[54] سورہ احزاب آیت ۱۲۔[55] سورہٴ احزاب آیت ۱۲۔[56] سورہ احزاب آیت ۱۳۔[57] سورہٴ احزاب۱۴۔[58] “یثرب “مدینہ کا قدیمی نام ھے ،جناب رسالت مآب صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے اس شھر کی طرف ہجرت کرنے سے پھلے تک اس کا نام “یثرب”رھا ۔ پھر آہستہ آہستہ اس کا نام “مدینةالرسول”(پیغمبرکا شھر )پڑگیا جس کا مخفف”مدینہ “ھے۔ اس شھرکے کئی ایک نام او ربھی ھیں ۔ سید مرتضٰی ۺنے ان دو ناموں ( مدینہ او ریثرب)کے علاوہ اس شھر کے گیارہ او رنام بھی ذکرکیے ھیں ،منجملہ ان کے “طیبہ””طابہ””سکینہ””محبوبہ””مرحومہ ” اور”قاصمہ”ھیں ۔ (اوربعض لوگ اس شھر کی زمین کو “یثرب”کا نام دیتے ھیں۔)[59] سورہ احزاب آیت ۱۴۔[60] سورہ احزاب آیت ۱۵۔[61] سورہ احزاب آیت ۱۶۔[62] سورہ احزاب آیت ۱۷۔[63] سورہ احزاب آیت۱۸۔[64] سورہ ٴ احزاف آیت۱۹ ۔[65] سورہ احزاب ۱۹۔[66] سورہ احزاب ۱۹۔[67] سورہ احزاب آیت ۱۹۔[68] سورہٴ احزاب آیت ۲۰۔[69] سورہٴ احزاب آیت ۲۰۔[70] سورہٴ احزاب آیت۲۰۔[71] سورہ احزاب آیت ۲۱۔[72] سورہ احزاب آیت ۲۳۔[73] سورہ توبہ آیت ۱۰۲۔[74] سورہ احزاب آیت ۲۶۔[75] سورہٴ احزاب آیت ۲۶،۲۷۔

 

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.