جنگ احد
جنگ احد [43]جنگ احد کا پیش خیمہجب کفار مکہ جنگ بدر میں شکست خوردہ هوئے اور ستر(۷۰) قیدی چھوڑکر مکہ کی طرف پلٹ گئے تو ابو سفیان نے لوگوں کو خبر دار کیا کہ وہ اپنی عورتوں کو مقتولین بدر پر گریہ وزاری نہ کرنے دیں کیونکہ آنسو غم واندوہ کو دور کردیتے ھیں اور اس طرح محمد کی دشمنی اور عداوت ان کے دلوں سے ختم هوجائے گی ، ابو سفیان نے خود یہ عہد کررکھا تھا کہ جب تک جنگ بدر کے قاتلوں سے انتقام نہ لے لے اس وقت تک وہ اپنی بیوی سے ھمبستری نھیں کرے گا ،بھر حال قریش ھر ممکن طریقہ سے لوگوں کوپیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے خلاف اکساتے تھے اور انتقام کی صدا شھر مکہ میں بلند هورھی تھی ۔ہجرت کے تیسرے سال قریش ہزار سوار اور دوہزار پیدل کے ساتھ بہت سامان جنگ لے کر آپ سے جنگ کرنے کے لئے مکہ سے نکلے اور میدان جنگ میں ثابت قدمی سے لڑنے کے لئے اپنے بڑے بڑے بت اور اپنی عورتوں کو بھی ھمراہ لے آئے ۔
جناب عباس کی بر وقت اطلاعحضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے چچاحضرت عباس جو ابھی مسلمان نھیں هوئے تھے اور قریش کے درمیان ان کے ھم مشرب و ھم مذھب تھے لیکن اپنے بھتیجے سے فطری محبت کی بنا پر جب انھوں نے دیکھا کہ قریش کا ایک طاقتور لشکر پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے جنگ کرنے کے لئے مکہ سے نکلا ھے تو فوراً ایک خط لکھا اور قبیلہ بنی غفار کے ایک آدمی کے ھاتھ مدینہ بھیجا ،عباس کا قاصد بڑی تیزی سے مدینہ کی طرف روانہ هوا ،جب آپ کو اس کی اطلاع ملی تو آپ نے سعد بن اُبَيٴ کو عباس کا پیغام پہنچایا اور حتی الامکان اس واقعہ کو پردہ راز میں رکھنے کی کوشش کی ۔
پیغمبر کا مسلمانوں سے مشورہجس دن عباسۻ کا قاصد آپ کو موصول هوا آپ نے چند مسلمانوں کو حکم دیا کہ وہ مکہ ومدینہ کے راستہ پر جائیں اور لشکر کفار کے کوائف معلوم کریں، آپ کے دو نمائندے ان کے حالات معلوم کرکے بہت جلدی واپس آئے اور قریش کی قوت وطاقت سے آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو مطلع کیا اور یہ بھی اطلاع دی کہ طاقتور لشکر خود ابوسفیان کی کمان میں ھے ۔پیغمبراکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے چند روز کے بعد تمام اصحاب اور اھل مدینہ کو بلایا اور ان در پیش حالات کا مقابلہ کرنے کے لئے میٹنگ کی، اس میں عباسۻ کے خط کو بھی پیش کیا گیا اور اس کے بعد مقام جنگ کے بارے میں رائے لی گئی اس میٹنگ میں ایک گروہ نے رائے دی کہ جنگ دشمن سے مدینہ کی تنگ گلیوں میں کی جائے کیونکہ اس صورت میں کمزور مرد ،عورتیں بلکہ کنیزیں بھی مدد گار ثابت هوسکیں گی۔عبد اللہ بن ابی نے تائید ا ًکھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم آج تک ایسا نھیں هوا کہ ھم اپنے قلعوں اور گھروں میں هوں اور دشمن ھم پر کامیاب هوگیا هو ۔اس رائے کو آپ بھی اس وقت کی مدینہ کی پوزیشن کے مطابق بنظر تحسین دیکھتے تھے کیونکہ آپ بھی مدینہ ھی میں ٹھھرنا چاہتے تھے لیکن نوجوانوں اورجنگجو وٴں کا ایک گروہ اس کا مخالف تھا چنانچہ سعد بن معاذ اور قبیلہ اوس کے چند افراد نے کھڑے هو کر کھا اے رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم گذشتہ زمانے میں عربوں میں سے کسی کو یہ جراٴت نہ تھی کہ ھماری طرف نظر کرے جبکہ ھم مشرک اور بت پرست تھے اب جبکہ ھمارے درمیان آپ کی ذات والا صفات موجود ھے کس طرح وہ ھمیں دبا سکتے ھیں اس لئے شھرسے باھر جنگ کرنی چاہئے اگر ھم میں سے کوئی مارا گیا تو وہ جام شھادت نوش کرے گا اور اگر کوئی بچ گیا تو اسے جھاد کا اعزازوافتخار نصیب هوگا اس قسم کی باتوں اور جوش شجاعت نے مدینہ سے باھر جنگ کے حامیوں کی تعدا دکو بڑھا دیا یھاں تک کہ عبد اللہ بن اُبَيٴ کی پیش کش سرد خانہ میں جاپڑی خود پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے بھی اس مشورے کا احترام کیااور مدینہ سے باھر نکل کر جنگ کے طرف داروں کی رائے کو قبول فرمالیا اور ایک صحابی کے ساتھ مقام جنگ کا انتخاب کرنے کے لئے شھر سے باھر تشریف لے گئے آپ نے کوہ احد کا دامن لشکر گاہ کے لئے منتخب کیا کیونکہ جنگی نقطہ نظر سے یہ مقام زیادہ مناسب تھا۔
مسلمانوں کی دفاعی تیاریاںجمعہ کے دن آپ نے یہ مشورہ لیا اور نماز جمعہ کا خطبہ دیتے هوئے آپ نے حمدو ثناء کے بعد مسلمانوں کو لشکر قریش کی آمد کی اطلاع دی اور فرمایا:” تہہ دل سے جنگ کے لئے آمادہ هوجاؤ اور پورے جذبہ سے دشمن سے لڑو تو خدا وند قددس تمھیں کامیابی وکامرانی سے ھمکنار کرے گا اور اسی دن آپ ایک ہزار افراد کے ساتھ لشکر گاہ کی طرف روانہ هوئے آپ خود لشکر کی کمان کررھے تھے مدینہ سے نکلنے سے قبل آپ نے حکم دیا کہ لشکر کے تین علم بنائے جائیں جن میں ایک مھاجرین اور دو انصار کے هوں”۔پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے مدینہ اور احد کے درمیانی فاصلے کو پاپیادہ طے کیا اور سارے راستے لشکر کی دیکھ بھال کرتے رھے خود لشکر کی صفوں کو منظم ومرتب رکھا تاکہ وہ ایک ھی سیدھی صف میں حرکت کریں ۔ان میں سے کچھ ایسے افراد کو دیکھا جو پھلی وفعہ آپ کو نظر پڑے پوچھا کہ یہ لوگ کون ھیں ؟ بتایا گیا کہ یہ عبداللہ بن ابی کے ساتھی کچھ یهودی ھیں اور اس مناسبت سے مسلمانوں کی مدد کے لئے آئے ھیں آپ نے فرمایا کہ مشرکین سے جنگ کرنے میں مشرکین سے مدد نھیں لی جاسکتی مگریہ کہ یہ لوگ اسلام قبول کرلیں یهودیوں نے اس شرط کو قبول نہ کیا اور سب مدینہ کی طرف پلٹ آئے یوں ایک ہزار میں سے تین سو افراد کم هوگئے ۔لیکن مفسرین نے لکھا ھے کہ چونکہ عبداللہ بن اُبَيٴ کی رائے کو رد کیا گیا تھا اس لئے وہ اثنائے راہ میں تین سوسے زیادہ افراد کو لے کر مدینہ کی طرف پلٹ آیا بھر صورت پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم لشکر کی ضروری چھان بین (یهودیوں یا ابن ابی ابی کے ساتھیوں کے نکالنے) کے بعد سات سو افراد کو ھمراہ لے کر کوہ احد کے دامن میں پہنچ گئے، اور نماز فجر کے بعد مسلمانوں کی صفوں کو آراستہ کیا۔عبد اللہ بن جبیر کو پچاس ماھر تیر اندازوں کے ساتھ پھاڑ کے درہ پر تعینات کیا اور انھیں تاکید کی کہ وہ کسی صورت میں اپنی جگہ نہ چھوڑیں اور فوج کے پچھلے حصے کی حفاظت کریں اور اس حد تک تاکید کی کہ اگر ھم دشمن کا مکہ تک پیچھا کریں یا ھم شکست کھاجائیں اور دشمن ھمیں مدینہ تک جانے پر مجبور کردے پھر بھی تم اپنا مورچہ نہ چھوڑنا، دوسری طرف سے ابو سفیان نے خالد بن ولید کو منتخب سپاھیوں کے ساتھ اس درہ کی نگرانی پر مقرر کیا اور انھیں ھر حالت میں وھیں رہنے کا حکم د یا اور کھا کہ جب اسلامی لشکر اس درہ سے ہٹ جائے تو فوراً لشکر اسلام پر پیچھے سے حملہ کردو۔
آغاز جنگدونوں لشکر ایک دوسرے کے آمنے سامنے جنگ گے لئے آمادہ هوگئے اور یہ دونوں لشکر اپنے نوجوانوں کو ایک خاص انداز سے اکسا رھے تھے، ابوسفیان کعبہ کے بتوں کے نام لے کر اور خوبصورت عورتوں کے ذریعے اپنے جنگی جوانوںکی توجہ مبذول کراکے ان کو ذوق وشوق دلاتا تھا۔جب کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم خدا کے اسم مبارک اور انعامات اعلیٰ کے حوالے سے مسلمانوں کو جنگ کی ترغیب دیتے تھے اچانک مسلمانوں کی صدائے اللہ اکبراللہ اکبر سے میدان اور دامن کوہ کی فضا گونج اٹھی جب کہ میدان کی دوسری طرف قریش کی لڑکیوں نے دف اور سارنگی پر اشعار گا گا کر قریش کے جنگ جو افراد کے احساسات کو ابھارتی تھیں۔جنگ کے شروع هوتے ھی مسلمانوں نے ایک شدید حملہ سے لشکر قریش کے پرخچے اڑادئیے اور وہ حواس باختہ هوکر بھاگ کھڑے هوئے اور لشکر اسلام نے ان کا پیچھا کرنا شروع کردیا خالدبن ولید نے جب قریش کی یقینی شکت دیکھی تو اس نے چاھا کہ درہ کے راستے نکل کر مسلمانوں پر پیچھے سے حملہ کرے لیکن تیراندازوں نے اسے پیچھے ہٹنے پر مجبور کردیا قریش کے قدم اکھڑتے دیکھ کر تازہ مسلمانوں کے ایک گروہ نے دشمن کو شکت خوردہ سمجھ کرمال غنیمت جمع کرنے کے لئے اچانک اپنی پوزیشن چھوڑدی ، ان کی دیکھا دیکھی درہ پر تعینات تیراندازوں نے بھی اپنا مورچہ چھوڑدیا، ان کے کمانڈرعبد اللہ بن جبیرنے انھیں آ نحضرت کا حکم یاددلایا مگرسوائے چند (تقریبا ًدس افراد) کے کوئی اس اھم جگہ پر نہ ٹھھرا۔پیغمبراکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی مخالفت کا نتیجہ یہ هوا کہ خالدبن ولید نے درہ خالی دیکھ کر بڑی تیزی سے عبد اللہ بن جبیر پر حملہ کیا اور اسے اس کے ساتھیوں سمیت قتل کردیا، اس کے بعد انهوں نے پیچھے سے مسلمانوں پر حملہ کردیا اچانک مسلمانوں نے ھر طرف چمک دار تلواروں کی تیزدھاروں کو اپنے سروں پر دیکھا تو حواس باختہ هوگئے اور اپنے آپ کو منظم نہ رکھ سکے قریش کے بھگوڑوں نے جب یہ صورتحال دیکھی تو وہ بھی پلٹ آئے اور مسلمانوں کو چاروں طرف سے گھیرلیا۔اسی موقع پر لشکر اسلام کے بھادر افسر سید الشہداء حضرت حمزہ نے دوسرے مسلمانوں کے ساتھ جام شھادت نوش کیا ،سوائے چند شمع رسالت کے پروانوں کے اور بقیہ مسلمانوں نے وحشت زدہ هوکر میدان کو دشمن کے حوالے کردیا۔اس خطرناک جنگ میں جس نے سب سے زیادہ فداکاری کا مظاھرہ کیا اور پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم پر هونے والے دشمن کے ھر حملے کا دفاع کیا وہ حضرت علی بن ابی طالب علیہ السلام تھے ۔حضرت علی علیہ السلام بڑی جراٴت اور بڑے حوصلہ سے جنگ کررھے تھے یھاں تک کہ آپ کی تلوار ٹوٹ گئی، اور پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اپنی تلوار آپ کو عنایت فرمائی جو ذوالفقار کے نام سے مشهور ھے بالآخر آپ ایک مورچہ میں ٹھھرگئے اور حضرت علی علیہ السلام مسلسل آپ کا دفاع کرتے رھے یھاں تک کہ بعض مورخین کی تحقیق کے مطابق حضرت علی علیہ السلام کے جسم پر ساٹھ کاری زخم آئے، اور اسی موقع پر قاصد وحی نے پیغمبراکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے عرض کیا :اے محمد ! یہ ھے مواسات ومعاونت کا حق ،آپ نے فرمایا ( ایسا کیوں نہ هو کہ ) علی مجھ سے ھے اور میں علی سے هوں ،تو جبرئیل نے اضافہ کیا : میں تم دونوں سے هوں ۔امام صادق ارشاد فرماتے ھیں کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے قاصد وحی کو آسمان میں یہ کہتے هوئے دیکھا کہ: “لاسیف الاذوالفقار ولا فتی الا علی ” (ذوالفقار کے علاوہ کوئی تلوار نھیں اور علی کے سوا کوئی جوانمرد نھیں)اس اثناء میں یہ آواز بلند هوئی کہ محمد قتل هوگئے ۔یہ آواز فضائے عالم میں گونج اٹھی اس آواز سے جتنابت پرستوں کے جذبات پر مثبت اثر پیدا هوا اتناھی مسلمانوں میں عجیب اضطراب پیدا هوگیا چنانچہ ایک گروہ کے ھاتھ پاؤں جواب دے گئے اور وہ بڑی تیزی سے میدان جنگ سے نکل گئے یھاں تک کہ ان میں سے بعض نے سوچا کہ پیغمبر شھیدهو گئے ھیں لہٰذا اسلام ھی کو خیرباد کہہ دیا جائے اور بت برستوں کے سرداروں سے امان طلب کرلی جائے لیکن ان کے مقابلہ میں فداکاروں اور جانثاروں کی بھی ایک قلیل جماعت تھی جن میں حضرت علی ابود جانہ اور طلحہ جیسے بھادر لوگ موجود تھے جوباقی لوگوں کوپامردی اور استقامت کی دعوت دے رھے تھے ان میں سے انس بن نضر لوگوں کے درمیان آیا اور کہنے لگا :اے لوگو ! اگر محمد شھید هوگئے ھیں تو محمد کا خدا تو قتل نھیں هوا چلو اور جنگ کرو ،اسی نیک اور مقدس ہدف کے حصول کے لئے درجہ شھادت پر فائز هو جاؤ ،یہ گفتگو تمام کرتے ھی انھوں نے دشمن پر حملہ کردیا یھاں تک کہ شھید هوگئے ،تاھم جلد معلوم هوگیا کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سلامت ھیں اور اطلاع ایک شایعہ تھی ۔
کون پکارا کہ محمد (ص) قتل هوگئے ؟”ابن قمعہ” نے اسلامی سپاھی مصعب کو پیغمبر سمجھ کر اس پر کاری ضرب لگائی اور باآواز بلند کھا :لات وعزی کی قسم محمد قتل هوگئے ۔اس میں کوئی شک نھیں ھے کہ یہ افواہ چاھے مسلمانوں نے اڑائی یا دشمن نے لیکن مسلمانوں کے لئے فائدہ مند ثابت هوئی اس لئے کہ جب آواز بلند هوئی تو دشمن میدان چھوڑ کر مکہ کی طرف چل پڑے ورنہ قریش کا فاتح لشکر جو حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے لئے دلوں میں کینہ رکھتا تھا اور انتقام لینے کی نیت سے آیا تھا کبھی میدان نہ چھوڑتا، قریش کے پانچ ہزار افراد پر مشتمل لشکر نے میدان جنگ میں مسلمانوں کی کامیابی کے بعد ایک رات بھی صبح تک وھاں نہ گذاری اور اسی وقت مکہ کی طرف چل پڑے۔پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی شھادت کی خبر نے بعض مسلمانوں میں اضطراب وپریشانی پیدا کردی ،جو مسلمان اب تک میدان کارزار میں موجود تھے، انھوں نے اس خیال سے کہ دوسرے مسلمان پراکندہ نہ هوں آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو پھاڑ کے اوپر لے گئے تاکہ مسلمانوں کو پتہ چل جائے کہ آپ بقید حیات ھیں ، یہ دیکھ کر بھگوڑے واپس آگئے اور آنحضرت کے گرد پروانوں کی طرح جمع هوگئے ،آپ نے ان کو ملامت وسرزنش کی کہ تم نے ان خطرناک حالات میں کیوں فرار کیا ،مسلمان شرمندہ تھے انهوں نے معذرت کرتے هوئے کھا : یا رسول خدا ھم نے آپ کی شھادت کی خبر سنی تو خوف کی شدت سے بھاگ کھڑے هوے۔مفسر عظیم مرحوم طبرسی، ابو القاسم بلخی سے نقل کرتے ھیں کہ جنگ احد کے دن( پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے علاوہ)سوائے تیرہ افرادکے تمام بھاگ گئے تھے، اور ان تیرہ میں سے آٹھ انصار اور پانچ مھاجرتھے، جن میں سے حضرت علی علیہ السلام اور طلحہ کے علاوہ باقی ناموں میں اختلاف ھے، البتہ دونوں کے بارے میں تمام موٴرخین کا اتفاق ھے کہ انھوں نے فرار نھیں کیا۔یوں مسلمانوں کو جنگ احد میں بہت زیادہ جانی اورمالی نقصان کا سامنا کرنا،پڑا مسلمانوں کے ستر افراد شھید هوئے اور بہت سے زخمی هوگئے لیکن مسلمانوں کو اس شکست سے بڑا درس ملا جو بعد کی جنگوں میں ان کی کامیابی و کامرانی کا باعث بنا ۔
جنگ کا خطرناک مرحلہجنگ احد کے اختتام پر مشرکین کا فتحیاب لشکر بڑی تیزی کے ساتھ مکہ پلٹ گیا لیکن راستے میں انھیں یہ فکر دامن گیر هوئی کہ انهوں نے اپنی کامیابی کو ناقص کیوں چھوڑدیا ۔کیا ھی اچھا هو کہ مدینہ کی طرف پلٹ جائیں اور اسے غارت و تاراج کردیں اور اگر محمد زندہ هوں تو انھیں ختم کردیں تاکہ ھمیشہ کے لئے اسلام اور مسلمانوں کی فکر ختم هوجائے ، اور اسی بنا پر انھیں واپس لوٹنے کا حکم دیا گیا اور درحقیقت جنگ احد کا یہ وہ خطر ناک مرحلہ تھا کیونکہ کافی مسلمان شھید اور زخمی هوچکے تھے اور فطری طور پر وہ ازسر نو جنگ کرنے کے لئے آمادہ نھیں تھے ۔جبکہ اس کے برعکس اس مرتبہ دشمن پورے جذبہ کے ساتھ جنگ کرسکتا تھا۔یہ اطلاع پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو پہنچی تو آپ نے فوراً حکم دیا کہ جنگ احد میں شریک هونے والا لشکر دوسری جنگ کے لئے تیار هوجائے ،آپ نے یہ حکم خصوصیت سے دیا کہ جنگ احد کے زخمی بھی لشکر میں شامل هوں،(حضرت علی علیہ السلام نے جن کے بدن پر دشمنوں نے ۶۰زخم لگائے تھے،لیکن آپ پھر دوبارہ دشمنوں کے مقابلہ میں آگئے) ایک صحابی کہتے ھیں :میں بھی زخمیوں میں سے تھا لیکن میرے بھائی کے زخم مجھ سے زیادہ شدید تھے ، ھم نے ارادہ کرلیا کہ جو بھی حالت هو ھم پیغمبر اسلام کی خدمت میں پهونچے گے، میری حالت چونکہ میرے بھائی سے کچھ بہتر تھی ، جھاں میرا بھائی نہ چل پاتا میں اسے اپنے کندھے پر اٹھالیتا، بڑی تکلیف سے ھم لشکر تک جا پہنچے، پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اور لشکر اسلام “حمراء الاسد” کے مقام پر پہنچ گئے اور وھاں پر پڑاؤ ڈالا یہ جگہ مدینہ سے آٹھ میل کے فاصلے پر تھی۔یہ خبر جب لشکر قریش تک پہنچی خصوصاً جب انھوں نے مقابلہ کے لئے ایسی آمادگی دیکھی کہ زخمی بھی میدان جنگ میں پہنچ گئے ھیں تو وہ پریشان هوگئے اور ساتھ ھی انھیں یہ فکر بھی لاجق هوئی کہ مدینہ سے تازہ دم فوج ان سے آملی ھے۔اس موقع پر ایسا واقعہ پیش آیا جس نے ان کے دلوں کو اور کمزور کردیا اور ان میں مقابلہ کی ھمت نہ رھی ، واقعہ یہ هوا کہ ایک مشرک جس کا نام “معبد خزاعی” تھا مدینہ سے مکہ کی طرف جارھا تھا اس نے پیغمبر اکرم اور ان کے اصحاب کی کیفیت دیکھی تو انتھائی متاثر هوا، اس کے انسانی جذبات میں حرکت پیدا هوئی، اس نے پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے عرض کیا: آپ کی یہ حالت و کیفیت ھمارے لئے بہت ھی ناگوار ھے آپ آرام کرتے تو ھمارے لئے بہتر هوتا، یہ کہہ کر وہ وھاں سے چل پڑااور” روحاء” کے مقام پر ابو سفیان کے لشکر سے ملا، ابو سفیان نے اس سے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے بارے میں سوال کیا تو اس نے جواب میں کھا: میں نے محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو دیکھا ھے کہ وہ ایسا عظیم لشکر لئے هوئے تمھارا تعاقب کرھے ھیں ایسا لشکر میں نے کبھی نھیں دیکھا او رتیزی سے آگے بڑھ رھے ھیں۔ابوسفیان نے اضطراب اور پریشانی کے عالم میں کھا : تم کیا کہہ رھے هو؟ھم نے انھیں قتل کیا زخمی کیا اور منتشر کر کے ر کھ دیا تھا ،معبد خزاعی نے کھا: میں نھیں جانتا کہ تم نے پایا کیا ھے ،میں تو صرف یہ جانتا هوںکہ ایک عظیم اور کثیر لشکر اس وقت تمھارا تعاقب کر رھا ھے ۔ابو سفیان اور اسکے سا تھیوں نے قطعی فیصلہ کر لیا کہ وہ تیزی سے پیچھے کی طرف ہٹ جا ئیں اور مکہ کی طرف پلٹ جا ئیں اور اس مقصد کے لئے کہ مسلمان ان کا تعاقب نہ کریں اور انھیں پیچھے ہٹ جا نے کا کا فی مو قع مل جا ئے ، انهوں نے قبیلہ عبد القیس کی ایک جما عت سے خواہش کی کہ وہ پیغمبر اسلا م صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اور مسلما نوں تک یہ خبر پہنجا دیں کہ ابو سفیان اور قریش کے بت پر ست با قی ماندہ اصحا ب پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے ختم کرنے کے لئے ایک عظیم لشکر کے ساتھ تیزی سے مدینہ کی طرف آ رھے ھیں، یہ جما عت گندم خرید نے کے لئے مدینہ جا رھی تھی جب یہ اطلاع پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اور مسلما نوں تک پہنچی تو انهوں نے کھا :”حسبنا اللہ و نعم الو کیل” (خدا ھمارے لئے کافی ھے اور وہ ھمارا بہترین حامی اور مدافع ھے )۔انهوں نے بہت انتظار کیا لیکن دشمن کے لشکر کی کو ئی خبر نہ هو ئی ، لہٰذا تین روز توقف کے بعد ،وہ مدینہ کی طرف لوٹ گئے۔
کھوکھلی باتیںجنگ بدر میں بعض مسلمانوں کی پر افتخا ر شھادت کے بعد بعض مسلمان جب باھم مل بیٹھتے تو ھمیشہ شھادت کی آرزو کرتے اور کہتے کاش یہ اعزاز میدان بدر میں ھمیں بھی نصیب هوجا تا ،یقینا ان میں کچھ لوگ سچے بھی تھے لیکن ان میں ایک جھوٹا گروہ بھی تھا جس نے اپنے آپ کو سمجھنے میں غلطی کی ،بھر حال زیادہ وقت نھیں گزرا تھا کہ جنگ احد کا وحشتناک معرکہ در پیش هوا تو ان سچے مجا ہدین نے بھادری سے جنگ کی اور جام شھادت نوش کیا اور اپنی آرزوکو پا لیا لیکن جھوٹوں کے گروہ نے جب لشکر اسلام میں شکست کے آثار دیکھے تو وہ قتل هونے کے ڈر سے بھاگ کھڑے هوئے تو یہ قرآن انھیں سرزنش کرتے هوئے کہتا ھے کہ” تم ایسے لوگ تھے کہ جو دلوں میں آرزو اور تمنائے شھادت کے دعویدار تھے، پھرجب تم نے اپنے محبوب کو اپنی آنکھوںکے سامنے دیکھا تو کیوںبھاگ کھڑے هوئے”۔[44]
حضرت علی علیہ السلام کے زخمامام باقر علیہ السلام سے اس طرح منقول ھے:حضرت علی علیہ السلام کو احد کے دن اکسٹھ زخم لگے تھے اور پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے “ام سلیم” اور “ام عطیہ” کو حکم دیا کہ ہ دونوںحضرت علی علیہ السلام کے زخموںکا علاج کریں،تھوڑی ھی دیر گذری تھی کہ وہ حالت پریشانی میں آنحضرتکی خدمت میںعرض کرنے لگے: کہ حضرت علی علیہ السلام کے بدن کی کیفیت یہ ھے کہ ھم جب ایک زخم باندھتے ھیں تو دوسرا کھل جا تاھے اور ان کے بدن کے زخم اس قدرزیادہ اور خطرناک ھیں کہ ھم ان کی زندگی کے بارے میں پریشان ھیں تو حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اور کچھ دیگر مسلمان حضرت علی علیہ السلام کی عیادت کے لئے ان کے گھرآئے جب کہ ان کے بدن پر زخم ھی زخم تھے پیغمبراکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اپنے دست مبارک ان کے جسم سے مس کرتے تھے اور فرماتے تھے کہ جو شخص راہ خدا میں اس حالت کو دیکھ لے وہ اپنی ھی ذمہ داری کے آخری درجہ کو پہنچ چکا ھے اور جن جن زخموں پرآپ ھاتھ رکھتے تھے وہ فوراًمل جاتے تھے تواس وقت حضرت علی علیہ السلام نے فرمایا: الحمدا للہ کہ ان حالات میں جنگ سے نھیں بھا گا اوردشمن کو پشت نھیں دکھائی خدا نے ان کی کو شش کی قدر دانی کی۔
ھم نے شکست کیوں کھائی ؟کا فی شھید دےکر اور بہت نقصان اٹھا کر جب مسلمان مدینہ کی طرف پلٹ آئے تو ایک دوسرے سے کہتے تھے کہ کیا خدانے ھم سے فتح و کامیابی کا وعدہ نھیں کیا تھا،پھر اس جنگ میں ھمیں کیوں شکست هوئی ؟اسی سے قرآن میں انھیںجواب دیا گیا اور شکست کے اسباب کی نشاندھی کی گئی۔[45]قرآن کہتا ھے کہ کامیابی کہ بارے میں خدا کا وعدہ درست تھا اور اس کی وجہ ھی سے تم ابتداء جنگ میں کامیاب هوئے اور حکم خدا سے تم نے دشمن کو تتر بتر کر دیا ۔ کامیا بی کا یہ وعدہ اس وقت تک تھا جب تک تم استقامت اور پائیداری اور فرمان پیغمبری صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی پیروی سے دست بردار نھیں هو ئے اور شکست کا دروازہ اس وقت کھلا جب سستی اور نا فرمائی نے تمھیں آگھیرا ،یعنی اگر تم نے یہ سمجھ رکھا ھے کہ کا میابی کا وعدہ بلا شرط تھا تو تمھاری بڑ ی غلط فھمی ھے بلکہ کامیابی کے تمام وعدے فرمان خدا کی پیروی کے ساتھ مشروط ھیں ۔
عمومی معافی کا حکمجو لوگ واقعہٴ احد کے دوران جنگ سے فرار هوگئے تھے وہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے گرد جمع هوگئے اور انهوں نے ندامت وپشیمانی کے عالم میںمعافی کی درخواست کی تو خدا ئے تعالیٰ نے پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے انھیں عام معافی دینے کے لئے فرمایا لہٰذا حکم الٰھی نازل هوتے ھی آپ نے فراخ دلی سے توبہ کرنے والے خطا کاروں کو معاف کردیا ۔قرآن میں پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی ایک بہت بڑی اخلاقی خوبی کی طرف اشارہ کیا گیا ھے کہ تم پروردگار کے لطف وکرم کے سبب ان پر مھربان هوگئے اور اگر تم ان کے لئے سنگدل،سخت مزاج اور تند خو هوتے اور عملا ًان پر لطف وعنایت نہ کرتے تو وہ تمھارے پاس سے بکھر جاتے ۔ اس کے بعد حکم دیا گیا کہ” ان کی کوتاھیوں سے درگزر فرمائیے اور انھیں اپنے دامن عفو میں جگہ دیجئے”۔[46]یعنی اس جنگ میں انهوں نے جو بے وفائیاں آپ سے کی ھیں اور جو تکا لیف اس جنگ میں آپ کو پہنچائی ھیں ، ان کے لئے ان کی مغفرت طلب کیجئے اور میں خود ان کے لئے تم سے سفارش کرتا هوں کہ انهوں نے میری جو مخالفتیں کی ھیں ،مجھ سے ان کی مغفرت طلب کرو دوسرے لفظوں میں جو تم سے مربوط ھے اسے تم معاف کردو اورجو مجھ سے ربط رکھتا ھے اسے میں بخش دیتا هوں، آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمان خدا پر عمل کرتے هوئے ان تمام خطا کاروں کو عام معافی دےدی ۔[47]
پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم شہداء سے مخاطبابن مسعود پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے روایت کرتے ھیں : خدا نے شہداء بدرواحد کی ارواح کو خطاب کرتے هوئے ان سے پوچھا کہ تمھاری کیا آرزو ھے تو انهوں نے کھا : پروردگارا! ھم اس سے زیادہ کیا آرزو کرسکتے ھیںکہ ھم ھمیشہ کی نعمتوں میں غرق ھیں اور تیرے عرش کے سائے میں رہتے ھیں ، ھمارا تقاضا صرف یہ ھے کہ ھم دوبارہ دنیا کی طرف پلٹ جائیں اور پھر سے تیری راہ میں شھید هوں، اس پر خدا نے فرمایا : میرااٹل فیصلہ ھے کہ کوئی شخص دوبارہ دنیا کی طرف نھیں پلٹے گا ۔انهوں نے عرض کیا : جب ایسا ھی ھے تو ھماری تمنا ھے کہ ھمارے پیغمبر کو ھماراسلام کو پہنچادے ، ھماری حالت ھمارے پسما ندگان کوبتادے اور انھیں ھماری حالت کی بشارت دے تاکہ ھمارے بارے میں انھیں کسی قسم کی پریشانی نہ هو۔
حنظلہ غسیل الملائلکہ”حنظلہ بن ابی عیاش” جس رات شادی کرنا چاہتے تھے اس سے اگلے دن جنگ احد برپاهوئی پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اپنے اصحاب سے جنگ کے بارے میں مشورہ کررھے تھے کہ وہ آپ کے پاس آئے اور عرض کی اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اجازت دےدیں تو یہ رات میں بیوی کے ساتھ گزرالوں ، آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے انھیں اجازت دےدی ۔صبح کے وقت انھیں جھاد میں شرکت کرنے کی اتنی جلدی تھی کہ وہ غسل بھی نہ کرسکے اسی حالت میں معرکہٴ کارزار میں شریک هوگئے اور بالآخر جام شھادت نوش کیا ،رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ان کے بارے میں ارشاد فرمایا :میں نے فرشتوں کو دیکھا ھے کہ وہ آسمان وزمین کے درمیان حنظلہ کو غسل دے رھے ھیں ۔اسی لئے انھیں حنظلہ کو:” غسیل الملائکہ” کے نام سے یاد کیا جاتاھے ۔
قبیلہٴ بنی نضیر کی سازشمدینہ میں یهودیوں کے تین قبیلے رہتے تھے ، بنی نظیر، بنو قریظہ اور بنو قینقاع، کھا جاتاھے کہ وہ اصلاً اھل حجازنہ تھے لیکن چونکہ اپنی مذھبی کتب میں انهوں نے پڑھا تھا کہ ایک پیغمبر مدینہ میں ظهور کرے گا لہٰذا انهوں نے اس سر زمین کی طرف کوچ کیا اور وہ اس عظیم پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے انتظار میں تھے۔جس وقت رسول خدا نے مدینہ کی طرف ہجرت فرمائی تو آپ نے ان کے ساتھ عدم تعرض کا عہد باندھا لیکن ان کو جب بھی موقع ملا انهوں نے یہ عہد توڑا ۔دوسری عہد شکنیوں کے علاوہ یہ کہ جنگ احد(جنگ احد ہجرت کے تیسرے سال واقع هوئی ) کعب ابن اشرف چالیس سواروں کے ساتھ مکہ پہنچا وہ اور اس کے ساتھی سب قریش کے پاس اور ان سے عہد کیا کہ سب مل کر محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے خلاف جنگ کریں اس کے بعد ابوسفیان چالیس مکی افراد کے ساتھ اور کعب بن اشرف ان چالیس یهودیوں کے ساتھ مسجد الحرام میں وارد هوئے اور انهوں نے خانہ کعبہ کے پاس اپنے عہددپیمان کو مستحکم کیا یہ خبر بذریعہ وحی پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو مل گئی۔دوسرے یہ کہ ایک روز پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اپنے چند بزرگ اصحاب کے ساتھ قبیلہٴ بنی نضیر کے پاس آئے یہ لوگ مدینہ کے قریب رہتے تھے۔پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اور آپ کے صحابہ کا حقیقی مقصدیہ تھا کہ آپ اس طرح بنی نظیر کے حالات قریب سے دیکھناچاہتے تھے اس لئے کہ کھیں ایسانہ هو کہ مسلمان غفلت کا شکار هوکر دشمنوں کے ھاتھوں مارے جائیں۔پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم یهود یوںکے قلعہ کے باھر تھے آپ نے کعب بن اشرف سے اس سلسلہ میں بات کی اسی دوران یهودیوں کے درمیان سازش هونے لگی وہ ایک دوسرے سے کہنے لگے کہ ایسا عمدہ موقع اس شخض کے سلسلہ میں دوبارہ ھاتھ نھیں آئے گا، اب جب کہ یہ تمھاری دیوار کے پاس بیٹھا ھے ایک آدمی چھت پر جائے اور ایک بہت بڑا پتھر اس پر پھینک دے اور ھمیں اس سے نجات دلادے ایک یهودی ،جس کا نام عمر بن حجاش تھا ،اس نے آمادگی ظاھر کی وہ چھت پر چلا گیا رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم بذریعہ وحی باخبر هوگئے اور وھاں سے اٹھ کر مدینہ آگئے آپ نے اپنے اصحاب سے کوئی بات نھیں کی ان کا خیال تھا کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم لوٹ کر مدینہ جائیں گے ان کو معلوم هوا کہ آپ مدینہ پہنچ گئے ھیں چنانچہ وہ بھی مدینہ پلٹ آئے یہ وہ منزل تھی کہ جھاں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم پر یهودیوں کی پیما ن شکنی واضح وثابت هوگئی تھی آپ نے مسلمانوں کو جنگ کے لئے تیار هوجانے کا حکم دیا۔بعض روایات میں یہ بھی آیا ھے کہ بنی نظیر کے ایک شاعر نے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی ہجومیں کچھ اشعار کھے اور آپ کے بارے میں بد گوئی بھی کی ان کی پیمان شکنی کی یہ ایک اور دلیل تھی۔پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اس وجہ سے کہ ان پر پھلے سے ایک کاری ضرب لگائیں ، محمد بن مسلمہ کو جو کعب بن اشرف رئیس یهود سے آشنائی رکھتا تھا ،حکم دیا کہ وہ کعب کو قتل کردے اس نے کعب کو قتل کردیا، کعب بن اشرف کے قتل هوجانے نے یهودیوں کو متزلزل کردیا،ا س کے ساتھ ھی پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے حکم دیا کہ ھر مسلمان اس عہد شکن قوم سے جنگ کرنے کے لئے چل پڑے جس وقت وہ اس صورت حال سے باخبر هوئے تو انهوں نے اپنے مضبوط ومستحکم قلعوں میں پناہ لے لی اور دروازے بند کرلئے ،پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے حکم دیا کہ وہ چند کھجوروں کے درخت جو قلعوں کے قریب ھیں ، کاٹ دیے جائیں یا جلادئے جائیں۔یہ کام غالبا ًاس مقصد کے پیش نظر هوا کہ یهودی اپنے مال واسباب سے بہت محبت رکھتے تھے وہ اس نقصان کی وجہ سے قلعوں سے باھرنکل کر آمنے سامنے جنگ کریں گے مفسرین کی طرف سے یہ احتمال بھی تجویز کیا گیا ھے کہ کاٹے جانے والے کھجوروں کے یہ درخت مسلمانوں کی تیز نقل وحرکت میں رکاوٹ ڈالتے تھے لہٰذا انھیں کاٹ دیا جانا چاہئے تھا بھرحال اس پر یهودیوں نے فریاد کی انهوں نے کھا :”اے محمد ًآپ تو ھمیشہ اس قسم کے کاموں سے منع کرتے تھے یہ کیا سلسلہ ھے” تو اس وقت وحی نازل هوئی[48] اور انھیں جواب دیا کہ یہ ایک مخصوص حکم الٰھی تھا۔محاصرہ نے کچھ دن طول کھینچا اور پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے خوں ریزی سے پرھیز کرتے هوئے ان سے کھا کہ وہ مدینہ کو خیر باد کہہ دیں اور کھیں دوسری جگہ چلے جائیں انهوں نے اس بات کو قبول کرلیا کچھ سامان اپنا لے لیا اور کچھ چھوڑدیا ایک جماعت” اذرعات ” شام کی طرف اور ایک مختصر سی تعداد خیبر کی طرف چلی گئی ایک گروہ” حیرہ” کی طرف چلا گیا ان کے چھوڑے هوئے اموال،زمینیں،باغات اور گھر مسلمانوں کے ھاتھ لگے، چلتے وقت جتنا ان سے هوسکا انهوں نے اپنے گھر توڑپھوڑدئےے یہ واقعہ جنگ احد کے چھ ماہ بعد اور ایک گروہ کی نظرکے مطابق جنگ بدر کے چھ ماہ بعد هوا [49]
—————-
[43] جنگ احد کا واقعہ سورہ آل عمران آیت ۱۲۰ کے ذیل میں بیان هوا ھے۔[44] سورہٴ آل عمران آیت ۱۶۳۔[45] آل عمران آیت ۱۵۲۔[46] سورہ آل عمران آیت۱۵۹۔[47] واضح رھے کہ عفو ودر گزر کرنے کے لئے یہ ایک اھم اور بہت مناسب موقع تھا اور اگر آپ ایسانہ کرتے تو لوگوں کے بکھرجانے کےلئے فضا ھموار تھی وہ لوگ جو اتنی بری شکست کا سامناکر چکے تھے اور بہت سے مقتول ومجروح پیش گرچکے تھے (اگرچہ یہ سب کچھ ان کی اپنی غلطی سے هواتا ھم ) ایسے لوگوں کو محبت ، دلجوئی اور تسلی کی ضرورت تھی تاکہ ان کے دل اور جسم کے زخم پر مرھم لگ سکے اور وہ ان سے جانبرهوکر آئندہ کے معرکوں کےلئے تیار هوسکیں ۔[48] سورہٴ حشر آیت۵۔[49] یہ واقعہ سورہٴ حشرکی ابتدائی آیات میں بیان هوا ھے ۔