جنگ حنین
جنگ حنین [96]اس جنگ کی ابتداء یوں هوئی کہ جب “هوازن” جو بہت بڑا قبیلہ تھا اسے فتح مکہ کی خبر هوئی تو اس کے سردار مالک بن عوف نے افراد قبیلہ کو جمع کیا او ران سے کھا کہ ممکن ھے فتح مکہ کے بعد محمد ان سے جنگ کے لئے اٹھ کھڑے هو، کہنے لگے کہ مصلحت اس میں ھے کہ اس سے قبل کہ وہ ھم سے جنگ کرے ھمیں قدم آگے بڑھا نا چاہئے ۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو یہ اطلاع پهونچی تو آپ نے مسلمانوں کو حکم دیا کہ وہ سر زمین هوازن کی طرف چلنے کو تیار هو جائیں ۔۱ ہجری رمضان المبارک کے آخری دن تھے یا شوال کا مھینہ تھا کہ قبیلہ هوازن کے افراد سردار “مالک بن عوف “کے پاس جمع هوئے اور اپنا مال ، اولاد او رعورتیں بھی اپنے ساتھ لے آئے تاکہ مسلمانوں سے جنگ کرتے دقت کسی کے دماغ میں بھاگنے کا خیال نہ آئے،اسی طرح سے وہ سرزمین “اوطاس” میں وارد هوئے۔پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے لشکر کا بڑا علم باندھ کر علی علیہ السلام کے ھاتھ میں دیا او روہ تمام افراد جو فتح مکہ کے موقع پر اسلامی فوج کے کسی دستے کے کمانڈر تھے آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے حکم سے اسی پرچم کے نیچے حنین کے میدان کی طرف روانہ هوئے ۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو اطلاع ملی کہ “صفوان بن امیہ” کے پاس ایک بڑی مقدار میں زرھیں ھیں آپ نے کسی کو اس کے پاس بھیجا اور اس سے سو زرھیں عاریتاً طلب کی، صفوان نے پوچھا واقعاً عاریتاً یا غصب کے طور پر ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا: عاریتاً ھیں اور ھم ان کے ضامن ھیں کہ صحیح و سالم واپس کریں گے ۔صفوان نے زرھیں عاریتاً پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کودےدیں اورخود بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے ساتھ چلا ۔فوج میں کچھ ایسے افراد تھے جنهوں نے فتح مکہ کے موقع پر اسلام قبول کیا تھا، ان کے علاوہ دس ہزار وہ مجاہدینِ اسلام تھے جو پیغمبر اکرم کے ساتھ فتح مکہ کے لئے آئے تھے ، یہ تعداد مجموعاً بارہ ہزار بنتی ھے، یہ سب میدان جنگ کی طرف چل پڑے ۔
دشمن کے لشکر کا مورچہ”مالک بن عوف” ایک مرد جری او رھمت و حوصلے والا انسان تھا، اس نے اپنے قبیلے کو حکم دیا کہ اپنی تلواروں کے نیام توڑ ڈالیں او رپھاڑ کی غاروں میں ، دروں کے اطراف میں او ردرختوں کے درمیان لشکر اسلام کے راستے میں کمین گاھیں بنائیں اور جب اول صبح کی تاریکی میں مسلمان وھاں پہنچیں تو اچانک اور ایک ھی بار ان پر حملہ کردیں اور اسے فنا کردیں ۔اس نے مزید کھا :محمد کا ابھی تک جنگجو لوگوں سے سامنا نھیں هوا کہ وہ شکست کا مزہ چکھتا ۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اپنے اصحاب کے ھمراہ نماز صبح پڑھ چکے تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے حکم دیا کہ سر زمین حنین کی طرف چل پڑیں ،اس موقع پر اچانک لشکر” هوازن” نے ھر طرف سے مسلمانوں پرتیروں کی بوچھار کر دی، وہ دستہ جو مقدمہٴ لشکر میں تھا (اور جس میں مکہ کے نئے نئے مسلمان بھی تھے ) بھاگ کھڑا هوا، اس کے سبب باقی ماندہ لشکر بھی پریشان هوکر بھاگ کھڑا هوا ۔خداوندمتعال نے اس موقع پر دشمن کے ساتھ انھیں ان کی حالت پر چھوڑ دیا او روقتی طور پر ان کی نصرت سے ھاتھ اٹھالیا کیونکہ مسلمان اپنی کثرت تعداد پر مغرور تھے، لہٰذا ان میں شکست کے آثار آشکار هوئے، لیکن حضرت علی علیہ السلام جو لشکر اسلام کے علمبردار تھے وہ مٹھی بھر افراد سمیت دشمن کے مقابلے میں ڈٹے رھے او راسی طرح جنگ جاری رکھے رھے ۔اس وقت پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم قلب لشکر میں تھے، رسول اللہ کے چچا عباسۻ بنی ھاشم کے چند افراد کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے گرد حلقہ باندھے هوئے تھے، یہ کل افراد نو سے زیادہ نہ تھے دسویں ام ایمن کے فرزند ایمن تھے، مقدمہ لشکر کے سپاھی فرار کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے پاس سے گزرے تو آنحضرت نے عباسۻ کو جن کی آواز بلند او رزور دار تھی کو حکم دیا کہ اس ٹیلے پر جو قریب ھے چڑھ جائیں او رمسلمانوں کو پکاریں :”یا معشر المھاجرین والانصار ! یا اصحاب سورةالبقرة !یا اھل بیعت الشجرة! الٰی این تفرون ھٰذا رسول اللہ ۔ “اے مھاجرین وانصار ! اے سورہٴ بقرہ کے ساتھیو!اے درخت کے نیچے بیعت کرنے والو! کھاں بھاگے جارھے هو؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم تو یھاں ھیں ۔ مسلمانوں نے جب عباسۻ کی آواز سنی تو پلٹ آئے اور کہنے لگے:لبیک لبیک !خصوصاً لوٹ آنے والوںمیں انصار نے پیش قدمی کی او رفوج دشمن پر ھر طرف سے سخت حملہ کیا اور نصرتِ الٰھی سے پیش قدمی جاری رکھی یھاں تک کہ قبیلہ هوازن وحشت زدہ هوکر ھر طرف بکھر گیا، مسلمان ان کا تعاقب کررھے تھے، لشکر دشمن میں سے تقریباً ایک سو افراد مارے گئے ،ان کے اموال غنیمت کے طور پر مسلمانوںکے ھاتھ لگے او رکچھ ان میں سے قیدی بنا لئے گئے ۔لکھا ھے کہ اس تاریخی واقعہ کے آخر میں قبیلہ هوازن کے نمائندے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی خدمت میں حاضر هوئے او راسلام قبول کرلیا،پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ان سے بہت محبت و الفت فرمائی، یھاںتک کہ ان کے سر براہ مالک بن عوف نے بھی اسلام قبو کر لیا، آپ نے اس کا مال او رقیدی اسے واپس کردئیے او راس کے قبیلہ کے مسلمانوں کی سرداری بھی اس کے سپرد کردی ۔درحققت ابتداء میں مسلمانوں کی شکست کا اھم عامل غرور و تکبر جو کثرت فوج کی وجہ سے ان میں پیدا هوگیا تھا، اسکے علاوہ دو ہزا رنئے مسلمانوں کا وجود تھا جن میں سے بعض فطری طور پر منافق تھے ، کچھ ان میں مال غنیمت کے حصول کے لئے شامل هوگئے تھے او ربعض بغیر کسی مقصد کے ان میں شامل هوگئے تھے۔نھائی کامیابی کا سبب حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ، حضرت علی علیہ السلام اور بعض اصحاب کا قیام تھا، اور پھلے والوںکا عہد و پیمان اور خدا پر ایمان اور اس کی مدد پر خاص توجہ باعث بنی کہ مسلمانوں کو اس جنگ میں کامیابی ملی۔
بھاگنے والے کون تھے ؟اس بات پر تقریباً اتفاق ھے کہ میدان حنین میں سے اکثریت ابتداء میں بھاگ گئی تھی، جو باقی رہ گئے تھے ان کی تعداد ایک روایت کے مطابق دس تھی او ربعض نے تو ان کی تعداد چار بیان کی ھے بعض نے زیادہ سے زیادہ سو افراد لکھے ھیں ۔بعض مشهور روایات کے مطابق چونکہ پھلے خلفاء بھی بھاگ جانے والوں میں سے تھے لہٰذا بعض اھلِ سنت مفسرین نے کوشش کی ھے کہ اس فرار کو ایک فطری چیز کے طور پر پیش کیا جائے ۔ المنار کے موٴلف لکھتے ھیں : “جب دشمن کی طرف سے مسلمانوں پر تیروں کی سخت بوچھارهوئی توجو لوگ مکہ سے مسلمانوں کے ساتھ مل گئے تھے، اورجن میں منافقین اورضعیف الایمان بھی تھے اور جو مال غنیمت کے لئے آگئے تھے وہ بھاگ کھڑے هوئے اور انهوں نے میدان میں پشت دکھائی تو باقی لشکر بھی فطری طور پر مضطرب او رپریشان هوگیا وہ بھی معمول کے مطابق نہ کہ خوف و ھراس سے ،بھاگ کھڑے هوئے اوریہ ایک فطری بات ھے کہ اگر ایک گروہ فرار هو جائے تو باقی بھی بے سوچے سمجھے متزلزل هو جاتے ھیں، لہٰذا ان کا فرار هونا پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی مدد ترک کرنے او رانھیں دشمن کے ھاتھ میں چھوڑ جانے کے طور پر نھیں تھا کہ وہ خداکے غضب کے مستحق هوں، ھم اس بات کی تشریح نھیں کرتے او راس کا فیصلہ پڑھنے والوں پر چھوڑتے ھیں “۔
[96] ذیل آیات ۲۵ تا ۲۷ سورہ ٴ توبہ ۔