اختلاف کے ظاہر ہونے کے اصل اسباب
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پکارنا
اور آپ کو خدا کے حضور وسیلہ قرار دینا
اب تک ہم واضح کر چکے ہیں کہ اگر کوئی خدا کے حکم سے قاضی، مالک ،شفاعت کرنے والا، خلق کرنے والا، مارنے والا اور ولی بن جائے تو ان امور کو غیر اللہ سے نسبت دینا یا یہ کہنا کہ فلاں کام خدا کے بغیر انجام پایا یہ کہنا کہ کسی نے خدا کے ساتھ مل کر ان کو انجام دیا درست نہیں ہے۔ بنابریں اگر خدا کی بارگاہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو وسیلہ قرار دیتے ہوئے آپ(ص) کو پکارا جائے اور وہ بھی خدا کے اذن سے تو پھر ہر گز یہ نہیں کہا جا سکتا کہ غیر اللہ کو پکارا گیا یا خدا کو نہیں پکارا گیا ہے اور یہ اس آیت کا مصداق نہیں جس میں کہا گیا ہے:
فَلَا تَدْعُوْا مَعَ اللهِ اَحَدًا ۱
لہذا اللہ کے ساتھ کسی کو نہ پکارو
چنانچہ مسند احمد، سنن ترمذی، ابن ماجہ اور بیہقی سے مروی روایات کہ جن کو صحیح قرار دیا گیا ہے ۔ ہم ملاحظہ کر چکے ہیں ۔ ایک روایت یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے ایک نابینا صحابی سے کہ وہ نماز کے بعد دعا کرے اور کہے:
اے اللہ میں تجھ سے دعا کرتا ہوں اور تیرے نبی رحمت محمد(ص) کا واسطہ دیتا ہوں۔ اے محمد(ص)!میں تیرے وسیلے سے اپنے رب کی طرف رخ کرتا ہوں تاکہ وہ میری حاجت روا کرے۔ پس اے اللہ انہیں میرا شفیع قرار دے ۔ ,۲
پس اللہ تعالیٰ نے اس صحابی کی حاجت پوری کر دی اور رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو اس کا شفیع قرار دیتے ہوئے اسے شفا دی۔ اس قسم کا توسل خدا کے اس قول کا مصداق ہے:
وَابْتَغُوْٓ اِلَیْہِ الْوَسِیْلَةَ ۳
اس کی طرف (قربت کا) ذریعہ تلاش کرو۔
الف ۔ابتدائے امر میں اختلافکے ظاہر ہونے کے اصل اسباب
اب تک ہم بعض اختلافی مسائل اور ان کے ظاہری اسباب کی طرف اشارہ کر چکے ہیں۔ ذیل میں ہم ابتدائے امر میں اختلاف کی حقیقی وجہ پر روشنی ڈالیں گے۔
گزشتہ صفحات میں ہم نے احادیث اور قرآن مجید کی آیات کے متعلق کچھ مثالیں پیش کیں۔ ان سب کے پیچھے دو حقیقی وجوہات ایسی ہیں جن سے ابتدائے کار میں اختلافی مسائل نے جنم لیا۔ پھر بعد میں آنے والوں نے پہلے والوں کے خیالات کی تقلید کی۔ ان دو وجوہات میں سے پہلی وجہ وہ ہے جس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے ابلیس کے واقعہ میں ذکر کیا ہے۔ جب اس نے حضرت آدم(ع) کے آگے سجدہ کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ ارشاد خداوندی ہے
قَالَ یٰٓاِبْلِیْسُ مَا مَنَعَکَ اَنْ تَسْجُدَ لِمَا خَلَقْتُ بِیَدَیَّط اَسْتَکْبَرْتَ اَمْ کُنْتَ مِنَ الْعَالِیْنَ۔ قَالَ اَنَا خَیْرٌ مِّنْہُ۔4
فرمایا: اے ابلیس! جسے میں نے اپنے دونوں ہاتھوں سے بنایا ہے اسے سجدہ کرنے سے کس چیز نے روکا؟ کیا تو نے تکبر کیا ہے یا تو اونچے درجہ والوں میں سے ہے؟۔ اس نے کہا: میں اس سے بہتر ہوں
اور ابلیس نے یہ بھی کہا
لَمْ اَکُنْ لِّاَ سْجُدَ لِبَشَرٍِ خَلَقْتَہمِنْ صَلْصَالٍ مِّنْ حَمَاٍ مَّسْنُوْنٍ5
میں ایسے بشر کو سجدہ کرنے کا نہیں ہوں جسے تو نے سڑے ہوئے گارے سے تیار شدہ خشک مٹی سے پیدا کیا ہے۔
ابلیس نے فرشتوں کی عمر کے برابر خدائے وحدہ لا شریک کی عبادت کی پھر آدم صفی اللہ کے دور میں ان کے آگے نہیں جھکا اور ان کو حقیر جانا۔ پس اس کا جو انجام ہوا سو ہوا۔ رہے وہ لوگ جنہوں نے اس کے بعد تکبر کیا اور خدا کے انبیاء علیہم السلام اور برگزیدہ بندوں کو حقیر جانا ان کے بارے میں ہم چند مثالیں یہاں بیان کرتے ہیں:
سابقہ امتوں میںحضرت نوح علیہ السلام نے اپنے نبی سے کہا:
مَا نَرٰکَ اِلَّا بَشَرًا مِثْلَنَا وَمَا نَرٰی لَکُمْ عَلَیْنَا مِنْ فَضْلٍ۔,6
ہماری نظر میں تم صرف ہم جیسے بشر ہو اور کوئی ایسی بات بھی نظر نہیں آتی جس سے تمہیں ہم پر فضلیت حاصل ہو۔
نیز انہوں نے کہا:
مَا ھَذَآ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُکُمْلا یُرِیْدُ اَنْ یَّتَفَضَّلَ عَلَیْکُم ْط 7
یہ تو بس تم جیسا بشر ہے۔ جو تم پر اپنی بڑائی چاہتا ہے
اسی طرح حضرت نوح، عاد اور ثمود کی قوموں نے اپنے انبیاء علہیم السلام سے کہا:
اِنْ اَنْتُمْ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُنَا8
تم تو ہم جیسے بشر ہو۔
انہوں نے اپنے نبی سے کہا:
مَا ھٰذَآ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُکُمْلا یَاْ کُلُ مِمَّا تَاْکُلُوْنَ مِنْہُ وَیَشْرَبُ مِمَّا تَشْرَبُوْنَ۔9
یہ تو بس تم جیسا بشر ہے۔ وہی کھاتا ہے جو تم کھاتے ہو اور یہ وہی پیتا ہے جو تم پیتے ہو۔
انبیاء علہیم السلام اس اعتراض اور اہانت کا جواب جو اپنی قوموں کو دیتے تھے اسے خدا نے یوں بیان کیا ہے:
قَالَتْ لَھُمْ رُسُلُھُمْ اِنْ نَّحْنُ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُکُمْ وَلٰکِنَّ اللهَ یَمُنُّ عَلیٰ مَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِہ10
ان کے رسولوں نے ان سے کہا: بے شک ہم تم جیسے بشر ہیں لیکن اللہ اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے احسان کرتا ہے
ابلیس نے اپنے اوپر خدا کے نبی آدم صفی اللہ میں کوئی برتری نہیں دیکھی۔ پس وہ آدم علیہ السلام کے آگے نہ جھکا اور ان کے بارے میں کہا:
وہ تو بشر ہے۔
ادھر نوح، عاداور ثمود کی قوم نے اپنے اوپر اپنے انبیائعلیہم السلام میں کوئی برتری نہیں دیکھی۔ اسی لئے وہ ان سے کہتے تھے:
تم لوگ تو بس ہمارے جیسے بشر ہو۔
اسی طرح خوارج کا رئیس ذوالخویصرہ اس گروہ کے بارے میں کہ جس میں رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی موجود تھے کہتا ہے:
اس گروہ میں مجھ سے افضل اور بہتر کوئی نظر نہیں آتا۔
دوسری وجہ: خدا کے برگزیدہ بندوں کو حقیر جاننے کی دوسری وجہ (خاص کرامت مسلمہ کی صدیوں پر محیط تاریخ میں) یہ ہے کہ مسلمانوں پر حکومت کرنے والے حکمرانوں کو اس بات کی ضرورت پڑی کہ انبیاء و اصفیاء علہیم السلام جو انسانیت کے لئے نمونہ عمل ہیں کی زندگی کی ایسی تصویر پیش کی جائے جو ان حکمرانوں کی شہوت پرستی اور نفسانی خواہشات میں غرق زندگی سے متصادم نہ ہو۔
ان دونوں وجوہات کا نتیجہ بعض قرآنی آیات میں تاویل کی صورت میں نکلا تاکہ یہ ثابت کیا جائے کہ انبیاء اور اصفیاء سے بھی گناہ سرزد ہوتے ہیں۔ مذکورہ وجوہات کے نتیجے میں بہت ساری جعلی روایات اس بات کے اثبات کے لئے وضع کی گئیں کہ انبیاء و اوصیاء شہوت پرستی اور لہو و لعب میں مشغول رہتے تھے۔ اور اس سلسلے میں گاہے اسرائیلیات سے بھی استقادہ کیا گیاہے۔ مثال کے طور پر حضرت داؤد اور زوجہ اوریا کے بارے میں مروی قصہ,11 اور اس قسم کی بہت ساری دیگر روایات جو انبیاء علیہم السلام کی سیرت کے ضمن میں مذکور ہیں۔ افضل الانبیاء خاتم المرسلین محمد سرور کائنات صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیرت طیبہ کے بارے میں مروی بعض روایات ایک مکتب کی کتب میں پائی جاتی ہیں۔ اسی مقصد کے تحت یعنی انبیاء اور اصفیاء کے مقام کو گھٹانے اور عام لوگوں کے مقابلے میں ان کے امتیاز کا تصور ختم کرنے کے لئے قرآن کریم کی ان آیات کی من پسند تاویلیں کی گئیں جو انبیاء کے معجزات کو صریحاً بیان کرتی ہیں۔ مثال کے طور پر حضرت عیسیٰ کا باذن خدا مٹی سے پرندہ بنانا وغیرہ وغیرہ۔ چنانچہ ایسی روایت گھڑی گئیں جو ان کے اس پروپیگنڈے سے ہم آہنگ تھیں کہ انبیاء و اصفیاء علہیم السلام کو باقی انسانوں پر کوئی امتیاز حاصل نہیں ہے۔
ان احادیث اور قرآنی آیات میں مذکورہ حکام کی طرف سے کی گئی من پسند تاویلات کے مقابلے میں ہم تفسیر، حدیث اور سیرت کی کتابوں میں بھی ایسی احادیث پاتے ہیں جو خدا کے برگزیدہ بندوں کی ممتاز صفات کو بیان کرتی ہیں۔ مسلمانوں کا ایک طبقہ ان پر ایمان رکھتا ہے اسی لئے یہ طبقہ قرآن کی آیات مبارکہ کی تاویل ان احادیث کے مطابق کرتا ہے۔ ان وجوہات کی بنیاد پر خدا کی صفات، انبیاء کی صفات، عرش، کرسی او دیگر اسلامی تعلیمات کے بارے میں دونوں مکاتب فکر میں سے ہر ایک کا ایک خاص نقطہ نظر سامنے آیا جو دوسرے مکتب فکر کے نقطہ نظر کے منافی ہے۔ ہر فریق اپنے ہاں موجود چیزوں پر ایمان رکھتا ہے اور مخالف رائے رکھنے والے کو کافر قرار دیتا ہے۔
صدیوں پر محیط اختلافات مذکورہ وجوہات کی پیداوار ہیں۔ رہا اس مشکل کا حل تو اس کا ذکر ہم انشا اللہ جلد ہی اختتامی بحث میں کریں گے۔
حضرت خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عہد مبارک میں
ابن حجرعسقلانی نے خوارج کے رائیس ذوالخویصرہ کے حالات بیان کرتے ہوئے
ہوئے الاصابہ میں انس بن مالک کی ایک روایت نقل کی ہے جس میں وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے دور میں ایک شخص تھا جس کی عبادت اور جانفشانی سے ہم تعجب کرتے تھے۔ ہم نے اس کا ذکر آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے کیا لیکن آپ(ص) نے اسے نہیں پہچانا پھر ہم نے اس کی صفات بیان کیں لیکن آپ نے نہیں پہچانا۔ جب ہم اس کے بارے میں بات کر رہے تھے تو وہ ہماری طرف آتا دکھائی دیا۔ تو ہم نے کہا وہ شخص یہی ہے۔ آپ نے فرمایا:
تم مجھے ایسے شخص کے بارے میں خبر دیتے ہو جس کے چہرے پر شیطانی زخم کا نشان ہے۔
پس وہ ان کے پاس آکر ٹھہر گیا اور انہیں سلام نہیں کیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا:
تجھے خدا کا واسطہ، یہ بتاؤ کہ جب تم نے حاضرین کو دیکھا تو کیا یہ نہیں سوچا کہ اس محفل میں مجھ سے بہتر کوئی نہیں ہے؟
وہ بولا:
ہاں۔
پھر وہ نماز میں مشغول ہو گیا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا:
اس شخص کو کون قتل کرے گا؟ الخ۔
اس حدیث کے آخر میں یہ الفاظ ہیں کہ حضور نے فرمایا:
اگر یہ قتل ہو جاتا تو میری امت کے دو آدمی بھی آپس میں اختلاف نہ کرتے۔,12
خلاصہٴ بحث
اللہ تعالیٰ نے دین اسلام کو انسانی تقاضوں سے ہم آہنگ نظام قرار دیا ہے اور اپنے رسولوں کے ذریعے بنی نوع انسان کو ہدایت عنایت فرمائی۔ جب بھی کوئی نبی رحلت کر جاتا اور اس کی امت اس کی شریعت کو بدل دیتی تو اللہ تعالیٰ ایک نئے نبی کے ذریعے اپنے دین کی تجدید کرتا رہا۔ پھر خدا کی حکمت کا تقاضا یہ ہوا کہ خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ذیعے شریعتوں کا سلسلہ روک دیا جائے۔ بنا بریں اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کو کمی و بیشی سے محفوظ قرار دیے کر ہمیشہ کے لئے اسلام کے بنیادی اصولوں کی حفاظت کا سامان فراہم کیا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے سنت رسول کو اسلامی احکام اور ان کی تفصیلات کے بیان کا ذریعہ قرار دیا ہے۔ لیکن اس سنت کو قرآن کی طرح کمی بیشی سے محفوظ رکھنے کی ضمانت نہیں دی اور راوایان سنت کو بھی سہو و نسیان سے مبرا قرار نہیں دیا اور احادیث کی کتابوں کے نسخہ برداروں نے بھی خطا و لغزش سے محفوظ رکھنے کی ذمہ داری نہیں لی۔ پھر چودہ صدیوں تک سنت رسول(ص) راویوں کے ذریعے نقل ہوتی رہی اور مسلمان سنت رسول(ص) سے خواہ وہ سیرت رسول(ص) کی شکل میں ہو یا احادیث رسول کی صورت میں ایک دوسرے سے ایسی بہت ساری احادیث نقل کرتے رہے جن کے اندر بہت زیادہ اختلاف تھا۔ اور ان کے درمیان مجمل بھی تھیں، مبین بھی، عام بھی،اور خاص بھی تھیں۔ ان کے علاوہ خارجی عوامل بھی حدیث کی روایت کے عمل پر تسلسل کے ساتھ اثر انداز رہے جیسا کہ ہم نے قبل ازیں ان کی طرف اشارہ کیا ہے۔ یوں ان مختلف اور متضاد احادیث میں سے بعض کو بعض پر ترجیح دینے کے مسئلے پر محدثین میں اختلاف پیدا ہوا۔ چونکہ یہ محدثین مختلف اسلامی احکام و تعلیمات میں اپنا اپنا الگ نقطہ نظر بھی رکھتے تھے۔ نتیجتاً ہر آنے والے محدث نے اپنے نظریات کی جانبداری میں تعصب سے کام لیا ۔ اس طرح اسلام کے بارے میں ہر گروہ کا ایک الگ نقطہ نظر وجود میں آیا اور انہی کی روشنی میں ہر ایک نے قرآن کریم کی متشابہ اور غیر واضح آیات کی من پسند تاویل کی بلکہ وہ قرآن کی محکم اور واضح آیات کو بھی اپنے نقطہ نظر پر محمول کرتے رہے۔
بد قسمتی سے مسلمان مختلف مذاہب اور فرقوں میں بٹ گئے اور اسی حالت میں صدیاں بیت گئیں۔ اس دوران وہ ایک دوسرے کو مذکورہ وجوہات کی بناء پر کافر قرار دیتے رہے۔ وہ کبھی اپنے نظریاتی مخالفین کو قتل کرتے اور ان کی بستیوں کو ویران بھی کرتے رہے۔ بنا بریں ان اختلافات کی موجودگی میں مسلمان کیسے متحد ہو سکتے ہیں جن کی بعض مثالیں ہم نے گزشتہ صفحات میں پیش کی ہیں؟ جب تک مسلمان سابقہ لوگوں کے ذاتی اجتہادات کی چشم بستہ تقلید کرتے رہیں گے ان کے درمیان اتحاد ہرگز نہیں ہو سکتا۔ مسلمانوں کے ہر گروہ پر لازم ہے کہ وہ اسلام، تاویل قرآن، مروی احادیث اور گزشتہ لوگوں کے اجتہادات کے بارے میں اپنے ان نظریات کو واضح کریں جو امت کے درمیان اختلاف کا باعث بنے ہیں، اس شرط کے ساتھ کہ یہ کام حق کی طرف دعوت اور ٹھوس علمی تحقیق کے اسلوب کے مطابق انجام پائے اور اس سلسلے میں اپنے اور اپنے گروہی نظریات کی حمایت کے لئے گالی گلوچ اور تہمتوں کا سہارا نہ لیں (خدا ہمیں اس برائی سے بچائے) اور اس کے بعد ہر قسم کے تعصبات سے ماوراء ہو کر دیگر گروہوں کے نظریات کا بھی اسی طرح جائزہ لیا جائے۔
اس مقصد کے حصول کا صحیح راستہ یہ ہے کہ علماء کرام ، دانشور اور سکالرز مذکورہ میدانوں میں مکمل طور پر سنجیدگی کے ساتھ مکمل، خالص اور بے لاگ علمی تحقیق کے لئے کمر ہمت باندھ لیں اور پھر ان تحقیقات کا نتیجہ اسلام کے عظیم علمی مراکز مثلاً قاہرہ کی جامع الازہر، مدینہ کی اسلامی یونیورسٹی، مکہ مکرمہ میں رابطہ عالم اسلامی اور نجف اشرف، قم، خراسان ،قیروان اور زیتونہ کی عظیم اسلامی یونیورسٹیوں میں مزید تحقیقات کے لئے پیش کر دیا جائے۔ اس کے بعد اسلامی ممالک کی حکومتیں ان یونیورسٹیوں کی تحقیقات کے ماحصل کو تمام مسلمانوں تک پہنچانے کا بندوبست کیا کریں تاکہ مسلمانوں کو ایک دوسرے کے نظریات بغیر کسی ابہام و غموض اور الزام تراشی کے صحیح طریقے سے سمجھنے کا موقع ملے پھر وہ دوسروں کے نظریات کو معقول طریقے سے اپنائیں یا اپنے مسلمان بھائی کو ایک خاص نظریہ اپنانے کے معاملے میں معذور سمجھیں۔ یوں مسلمانوں کو موقع ملے گا کہ وہ ایک دوسرے کو سمجھیں، ایک دوسرے کے نزدیک ہوں اور اپنے مشترکہ مفادات کے لئے متحد ویک جان ہو کر تحفظ اسلام کے لئے کوشش کریں۔,13
اس ہدف تک پہنچنے کے لئے اسلامی شریعت کے منابع و مآخذ سے استقادے اور سنت نبوییہ(ص) تک رسائی کے طریقوں سے بحث کی ابتدا ہونی چاہئے۔ اس عظیم مقصد تک رسائی کی خاطر میں نے اللہ تعالیٰ کی مدد پر بھروسہ کرتے ہوئے مندرجہ ذیل نہج پر کتاب ہذا کی تالیف کے لئے کمر ہمت باندھی ہے۔
حوالہ جات
۱ سورہ جن آیت ۱۸
۲ملاحظہ کیجئے اسی کتاب کے مقدمہ میں باب الاستشفاع برسول الله فی حیاتہ ۳ سورة المائدہ آیت ۳۵
4 سورة ص ٓ آیت ۷۵،۷۶
5 سورة الحجر آیت ۳۳
6 سورہ ھود آیت ۲۷
7 سورہ مومنون آیت ۲۴
8 سورہ ابراہیم آیت ۱۰
9 سورة المومنون آیت ۳۳
10 سورة ابراہیم آیت ۱۱
11 حضرت داؤد علیہ السلام کی سیرت سے متعلق روایات کے لئے تاریخ طبری وغیرہ کا مطالعہ کیجئے۔
12 ذوالخویصرہ تمیمی حرقوس بن زہیر خوارج کی جڑ تھا۔ ایک دفعہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم مال تقسیم فرما رہے تھے تو اس نے آپ سے کہا تھا اے محمد عدل سے کام لیں آپ نے فرمایا: افسوس تجھ پر اگر میں عدل سے کام نہیں لے رہا تو پھر کون عدل سے کام لے گا؟ آپ نے اس کے بارئے میں فرمایا تھا کہ تم میں سے کوئی اس کی نماز کے مقابلے میں اپنی نماز کو اور اس کے روزوں کے مقابلے میں اپنے روزے کو دیکھے گا تو اپنی نمازوں اور روزوں کو حقیر سمجھے گا۔ یہ لوگ دین سے اس طرح خارج ہوں گے جسطرح تیر شکار کو چیر کر نکل جاتا ہے۔ تفصیل کے لئے صحیح مسلم باب ذکر الخوارج ، الاصابہ اور اسد الغابہ وغیرہ کتب کی طرف رجوع فرمائیں۔
13 ہم نے خالص علمی نقطہ ٴ نظر سے سنت رسول(ص) کے مربوط اور تقابلی مطالعے کی ضرورت کے بارے میں اکثر ممالک مثلاً مصر، حجاز، شام ،لبنان، پاکستان، ہندوستان اور عراق وغیرہ کے مسلمان علماء، دانشوار و مفکرین اور اہل قلم، اسلامی یونیورسٹیوں او علمی محافل میں انفرادی نشستوں میں اس اہم ضرورت کو بڑی تفصیل سے آگاہ کیا ہے۔