مکتب خلفاء کےنظریات کا تحقیقی جائزہ

402

مکتب خلفاء کےنظریات کا تحقیقی جائزہ

اس سے قبل ذکر شدہ سات عدد اصطلاحات کے مطالعے کے بعد اب خلافت و امامت کے بارے میں دونوں مکاتب کے نظریات اور اس سلسلے میں ان کے استدلالات کا تحقیقی جائزہ لینا آسان ہو جائے گا۔ یہاں ہم مکتب خلفاء کے نظریات سے بحث کا آغاز کرتے ہیں۔

مکتب خلفاء کا عقیدہ اور ان کے دلائل۔

الف۔ حضرت ابوبکرنے کہا: یہ امارت قریش کے علاوہ کسی کے لئے تسلیم نہیں کی جا سکتی۔ یہ لوگ نسب اور خاندان کے لحاظ سے پورے عرب میں سب سے زیادہ معزز ہیں۔ میں تمہارے لئے ان دونون مردوں ”عمراور ابوعبیدہ“ کو پسند کرتا ہوں۔ پس دونوں میں سے جس کی چاہو بیعت کرو۔

ب۔ حضرت عمر  بن خطاب نے کہا: کوئی شخص یہ سوچ کر دھوکہ نہ کھائے کہ ابوبکرکی بیعت اتفاقاً اور بغیر سوچے سمجھے کامل ہو گئی۔  بیشک معاملہ یونہی تھا لیکن اس کے برے عواقب سے اللہ نے بچایا۔ تم میں سے کوئی شخص ایسا نہیں جو ابو بکرکی برابری کر سکے۔ جو شخص مسلمانوں سے مشورہ کئے بغیر کسی کی بیعت کرے تو نہ اس کی بیعت کی جائے گی اور نہ اس کی جس کی اس نے بیعت کی کیونکہ خطرہ ہے کہ وہ دونوں دھوکہ بازی کے جرم میں قتل کر دیئے جائیں۔ ۱

ان دونوں دلیلوں کا تنقیدی جائزہ

یہاں پہلے ہم نے سقیفہ میں حضرت ابوبکرکے استدلال کی طرف اشارہ کیا ہے اور اس کے بعد حضرت عمرکی طرف سے اپنے بعد ولی امر کے تعین کے لئے شوری کا نعرہ لگانے کاذکر کیا۔

رہا سقیفہ میں حضرت ابو بکرکا استدلال تو حقیقت یہ ہے کہ اس دن ان سب کے استدلالات قبیلہ پرستی پر مبنی طرز فکر کی عکاسی کر رہے تھے کیونکہ جب انصار آقائے دو جہان صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جنازے کو آپ(ص) کے اہل خانہ کے پاس چھوڑ کر حضرت سعدبن عبادہ کو امارت سونپنے کی غرض سے جلدی میں سقیفہ بنی ساعدہ پہنچے تو انہوں نے یہ نہیں کہا

حضرت سعدبن عبادہ سب سے افضل ہے اور اس امارت کا سب سے زیادہ سزاوار ہے بلکہ انہوں نے کہا کہ لوگ تمہارے زیر سایہ رہ رہے ہیں اور کوئی تمہاری مخالفت کی جرات نہیں کر سکتا۔

قریش کے مہاجرین جب ان کے پاس پہنچ گئے تو انہوں نے بھی قبیلہ پرستی پر مبنی سوچ کے مطابق استدلال کرتے ہوئے کہا :

بیشک قریش خاندانی لحاظ سے تمام عرب میں سب سے زیادہ صاحب فضلیت ہیں اور کہا کہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حکومت میں ہمارے ساتھ کون نزاع کر سکتا ہے جبکہ ہم اس کے اہل اور رشتہ دار ہیں؟
یہی حال اس انصاری کی گفتگو کا تھا کہ جس نے کہا:

ایک امیر ہم میں سے ہو گا ایک تم میں سے اور اس مہاجر کی بات کا بھی جس نے کہا: امارت ہماری ہو گی اور وزارت تمہاری۔

اسی طرح اسید  بن حضیر اور سقیفہ میں موجود قبیلہ اوس کے دیگر افراد کے نقطہ نظر بھی قبائلی سوچ پر مبنی تھا۔ اسی لئے انہیں خوف ہوا کہ کہیں قبیلہ خزرج کو ان کے اوپر تسلط حاصل نہ ہو جائے۔ انہیں اوس و خزرج کے درمیان ہونے والی جنگ بعاث یاد آگئی جس کو واقع ہوئے دو دہائیاں بھی نہیں گزری تھیں۔ چنانچہ وہ بولے:

اللہ کی قسم اگر خزرج کو ایک بار تمہارے اوپر امارت حاصل ہو گئی تو انہیں تمہارے مقابلے میں فضیلت ہو جائے گی اور وہ ہرگز تمہیں امارت میں شریک نہیں کریں گے۔پس اٹھو اور ابو بکرکی بیعت کرو۔

آخرکار قبیلہ اسلم کی آمد سے مہاجرین قریش کا پلہ بھاری ہو گیا کیونکہ قبیلہ اسلم سے مدینہ کی گلیاں بھر گئیں۔ پھر انہوں نے حضرت ابو بکرکی بیعت کی اور انصاریوں کے مقابلے میں مہاجرین قریش کی حمایت کی۔ اسی لئے بعد میں حضرت عمرنے بجا طور پر حضرت ابو بکرکی بیعت کو ایک ناگہانی اور سوچے سمجھے بغیر انجام پانے والا عمل قرار دیا۔

یہ تھی اس واقعے کی حقیقت خواہ اس میں استدلال کے طور طریقے جس قسم کے بھی ہوں۔ رہی حضرت عمرکی پیش کردہ شوری والی تجویز تو ہم اللہ تعالیٰ کی مدد سے مکتب خلفاء کے پیروکاروں کے نظریات کا جائزہ لیتے وقت ذیل میں اس پر روشنی ڈالیں گے۔

مسئلہ خلافت میں مکتب خلفاء کے پیروکاروں کے نظریات

خلافت اور نظام خلافت کو عملی شکل دینے کے بارے میں مکتب خلفاء کے نظریات کا خلاصہ درج ذیل دو باتیں ہیں:
پہلی بات: نظام خلافت درج ذیل طریقوں سے قائم ہوتا ہے:
۱۔ شوری سے
۲۔ بیعت سے
۳۔ اس سلسلے میں صحابہکی سیرت پر عمل سے۔
۴۔ طاقت کے زور سے

دوسری بات: بیعت کے بعد خلیفہ کی اطاعت واجب ہو جاتی ہے اگرچہ وہ خدا کی نافرمانی کرے۔

گزشتہ صفحات میں ذکر شدہ اصطلاحات کے مطالعے کی روشنی میں اب ہم ان آراء پر یکے بعد دیگرے بحث کا سلسلہ بہ آسانی شروع کر سکتے ہیں۔

شوریٰ سے استدلال پر تحقیقی بحث

سب سے پہلے جس شخص نے شوری کا ذکر چھیڑا اور خلیفہ کے تعین کے لئے شوریٰ کی تشکیل کا حکم دیا وہ حضرت عمرتھے۔ البتہ انہوں نے اسلام میں شوریٰ کے ذریعے امامت کی تعیین کی کوئی دلیل پیش نہیں کی۔ بعد میں آنے والے مکتب خلفاء کے پیروکاروں نے شوری کے ذریعے امام کی تعیین کی صحت پر قرآن کریم کی دو آیتوں سے استدلال کیا ہے نیز اس بات کا بھی حوالہ دیا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے اصحاب سے بعض اہم امور میں مشورہ فرمایا کرتے تھے۔ علاوہ ازیں انہوں نے حضرت علی(ع) کے ایک فرمان سے بھی استدلال کیا ہے۔ یہاں ہم ان کی دلیلوں سے بحث کی ابتدا کرتے ہیں۔ اس کے بعد ہم حضرت عمرکے حکم سے وجود میں آنے والی مجلس شوری پر گفتگو کریں گے۔

شوریٰ کے حق میں قرآناور سنت رسول(ص) سے استدلال

پہلی دلیل: شوری کے حق میں قرآن کی اس آیت سے استدلال کیا گیا ہے:
وَ اَمْرُ ھُمْ شُوْرٰی بَیْنَھُمْ 2
دوسری دلیل: یہ اس قرآنی آیت سے عبارت ہے:
وَشَاوِرْھُمْ فِی الْاَمْرِ۔ 3

تیسری دلیل: رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اہم معاملات میں اپنے اصحاب سے مشورہ کیا کرتے تھے۔
ان دلائل پر تبصرہ کرتے ہوئے ہم عرض کرتے ہیں:
الف۔ قرآن کی آیت:
وَاَمْرُ ھُمْ شُوْرٰی بَیْنَھُمْ
اور اپنے معاملات باہمی مشاورت سے انجام دیتے ہیں۔

سے استدلال کے بارے میں واضح ہو کہ یہ جملہ سورة شوریٰ کی آیت ۳۸ کا ایک حصہ ہے۔ اس جملے کے بعد ارشاد ہوتا ہے:
وَمِمَّا رَزَقْنَاھُمْ یُنْفِقُوْنَ۔ 4

نیز جو کچھ ہم نے انہیں عطا کیا ہے، اس میں سے خرچ کرتے ہیں۔

یہ دونوں جملے مشورے اور انفاق کے بہتر ہونے پر دلالت تو کرتے ہیں لیکن ان کے وجوب پر نہیں۔ یہ تھا پہلا نکتہ۔

دوسرا نکتہ یہ کہ مشورہ وہاں درست ہے جہاں اللہ اور رسول کی طرف سے کوئی حکم موجود نہ ہو۔ چنانچہ ارشاد ربانی ہے:

وَمَا کَانَ لمُوٴْمِنٍ وَّلَامُوٴْمِنَةٍ اِذَا قَضَی الله ُ وَ رَسُوْلُہ ٓ اَمْراً اَنْ یَّکُوْنَ لَھُمُ الْخِیَرَةُ مِنْ اَمْرِھِمْق وَمَنْ یَّعْصِ اللهَ وَرَسُوْلَہفَقَدْ ضَلَّ ضَلَالاً مُّبِیْنًا۔ 5

اور کسی مومن مرد اور مومنہ عورت کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ جب اللہ اور اس کا رسول کسی معاملے میں فیصلہ کر دیں تو انہیں اپنے معاملے کا اختیار حاصل رہے اور جس نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی وہ صریح گمراہی میں مبتلا ہو گیا۔

اس کے بعد ہم جلد ہی امامت کے بارے میں اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وہ فرامیں نقل کریں گے جن کی موجودگی میں مشورے کی کوئی گنجائش نہیں رہتی۔

ب۔ وَشَاوِرْھُمْ فَی الْاَمْرِ والی آیت سے استدلال کے بارے میں عرض ہے کہ یہ سورة آل عمران کی آیت ۱۵۹ ہے۔ اس آیت کا ذکر اس سورت کی ۱۳۹ ویں آیت سے لے کر ۱۶۶ ویں آیت تک کے تسلسل میں ہوا ہے۔ ان سب میں غزوات رسول(ص) اور ان میں سے بعض آیتوں میں مسلمانوں خاص کر جنگ کرنے والوں کو مخاطب قرار دیا گیا ہے اور انہیں نصیحت کی گئی ہے اور بعض میں فقط رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے خطاب ہوا ہے۔ اسی سلسلے کی ایک آیت یہ بھی ہے:

فَبِمَا رَحْمَةٍ مِّنَ اللهِ لِنْتَ لَھُمْط وَلَوْ کُنْتَ فَظًّا غَلِیْظَ الْقَلْبِ لاَنْفَضُّوْا مِنْ حَوْلِکَص فَاعْفُ عَنْھُمْ وَاسْتَغْفِرْ لَھُمْ وَ شَاوِرْھُمْ فِی الْاَمْرِج فَاِذَا عَزَمْتَ فَتَوَکّٰلْ عَلَی اللهِ ط اِنَّ اللهَ یُحِبُّ الْمُتَوَکِّلِیْنO 6

(اے رسول) یہ مہر الہٰی ہے کہ آپ ان کے لئے نرم مزاج واقع ہوئے اور اگر آپ تند خو اور سنگ دل ہوتے تو یہ لوگ آپ کے پاس سے منتشر ہو جاتے، پس ان سے در گزر کرو اور ان کے لئے مغفرت طلب کرو اور معاملات میں ان سے مشورہ لیا کرو پھر جب آپ عزم کر لیں تو اللہ پر بھروسہ کر لیں، بے شک اللہ بھروسہ کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔

قارئین کرام بات واضح ہے کہ اس آیت مبارکہ میں مشورہ کرنے کا حکم لوگوں کے ساتھ ملائمت اور شفقت کے اظہار کی خاطر دیا گیا ہے نہ کہ ان کی رائے پر ضرور بالضرور عمل کرنے کے لئے۔ چنانچہ ساتھ ہی فرمایا ہے: فَاِذَا عَزَمْتَ فَتَوَکَّلْ ” جب اپنا ارادہ کر لو تو پھر توکل کرو “۔ اپنی رائے پر عمل کرو۔ پھر تمام آیات پر نظر کرنے سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس مشورے کا تعلق جنگوں سے ہے۔ روایات کے مطابق حضرت رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اصحاب سے جو مشورے کئے تھے ان کا تعلق بھی جنگوں سے ہی ہے جیسا کہ ہم ذیل میں ذکر کرنے والے ہیں۔

ج۔ رہی بات اس دلیل کی کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے اصحاب سے مشورہ فرمایا

کرتے تھے تو واضح ہو کہ اصحاب کے ساتھ آپ(ص) کے مشورے جنگوں کے دوران ہوتے تھے۔ اس مشورے کی داستان کچھ یوں ہے کہ آپ(ص) نے اصحاب کو شام سے ابو سفیان کی قیادت میں لوٹنے والے قریش کے تجارتی قافلے کا سامنا کرنے کے لئے نکلنے کا حکم دیا۔ آپ ۳۱۳ افراد کے ساتھ تجارتی قافلے کا سامنا کرنے کے لئے نکلے۔ آپ کا مقصد جنگ کرنا نہ تھا۔ ابو سفیان کو اس کی خبر مل گئی۔ پس اس نے اپنا راستہ بدل لیا اور مکہ میں قریش کے پاس واویلا مچایا۔ قریش جنگ کے لئے تیار ہو کر نکلے۔ اس لشکر میں تقریباً ایک ہزار جنگجو تھے۔ ادھر ابوسفیان اپنے قافلے کے ساتھ بچ کر نکل گیا۔ اب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے دو راستے تھے۔ ایک یہ کہ صحیح سلامت مدینہ لوٹ جاتے اور دوسرا یہ کہ جنگ کے لئے آمادہ لشکر قریش کے ساتھ اپنے اس لشکر کے سہارے جنگ فرماتے جو تعداد اور ساز و سامان کے لحاظ سے دشمن کی برابری نہ کر سکتا تھا۔
واقعے کی تفصیل

ابن ہشام نے نقل کیا ہے: آپ(ص) کو قریش اور قافلے کی حفاظت کے لئے ان کی روانگی کی اطلاع ملی۔ پس آپ(ص) نے لوگوں سے مشورہ کیا اور انہیں قریش کے بارے میں بتایا۔ تب ابو بکرنے کھڑے ہو کر گفتگو کی اور خوب گفتگو کی۔ اس کے بعد عمر بن خطاب نے کھڑے ہو کر بات کی اور عمدہ بات کی۔ پھر مقداد کھڑے ہو گئے۔ ابن ہشام نے اس کے بعد انصار کی باتوں کو نقل کیا ہے جبکہ حضرت ابو بکراور حضرت عمرکی باتوں کا تذکرہ نہیں کیا۔ 7  صحیح مسلم میں مذکور ہے: پس ابو بکرنے بات کی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے منہ موڑ لیا پھر عمر نے بات کی لیکن حضور نے اس سے بھی منہ پھیر لیا۔ اس کے بعد مقداد کھڑے ہو گئے۔ 8

یہ تھا مسلم کا بیان جس میں حضرت ابوبکرکی گفتگو کو نقل نہیں کیا گیا نیز دونوں کتابوں میں مکمل روایت بیان نہیں کی گئی۔ یہاں ہم کتاب المغازی اور مقریزی کی امتاع الاسماع سے پوری روایت نقل کرتے ہیں۔ المغازی کے الفاظ یہ ہیں:
حضرت عمر  نے کہا:

اے اللہ کے رسول(ص)! اللہ کی قسم یہ قریش اور ان کی عزت کا معاملہ ہے۔ اللہ کی قسم جب سے قریش کو عزت ملی ہے اس کے بعد سے وہ کبھی ذلیل نہیں ہوئے اور اللہ کی قسم! جب سے وہ کافر ہوئے ہیں ایمان نہیں لائے۔ اللہ کی قسم قریش اپنی عزت پر ہرگز حرف نہیں آنے دیں گے اور ضرور آپ سے جنگ کریں گے۔ پس اس کے لئے سامان جنگ آمادہ کر لیں اور اپنی تیاری کر لیں۔
اس کے بعد حضرت مقداد  بن عمرو کھڑے ہو گئے اور کہنے لگے:

اے اللہ کے رسول(ص)! خدا کے کام کے لئے چل پڑیں۔ہم آپ(ص) کے ساتھ ہیں۔ اللہ کی قسم ہم آپ سے وہ بات نہیں کریں گے جو بنی اسرائیل نے اپنے نبی سے کہی تھی:

فَاذْھَبْ اَنْتَ وَ رَبُّکَ فَقَاتِلَآ اِنَّا ھٰھُنَا قَاعِدُوْنَ 9

آپ اور آپ کا پروردگار جا کر جنگ کریں ہم یہیں بیٹھے رہیں گے۔

بلکہ ہم کہتے ہیں: آپ اپنے رب کے ساتھ جائیں اور جنگ کریں ہم بھی آپ دونوں کی معیت میں جنگ کریں گے۔ قسم ہے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث کرنیوالے کی اگر آپ ہمیں ”برک الغماد“10  لے جائیں تب بھی ہم آپ کے ساتھ جائیں گے۔

پس آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے سراہا اور دعائے خیر دی۔ اس کے بعد فرمایا:لوگو مجھے مشورہ دو۔ آپ کی مراد انصار تھے۔ آپ کا خیال تھا کہ انصار آپ کی مدد صرف مدینہ میں کریں گے، اس سے باہر نہیں کیونکہ انہوں نے آپ سے وعدہ کیا تھا کہ وہ آپ کی حفاظت اسی طرح کریں گے جس طرح اپنی جانوں اور اولاد کی۔ پس آپ نے فرمایا: لوگو! مجھے مشورہ دو۔ یہ سن کر حضرت سعد  بن معاد نے کھڑے ہو کر کہا: انصار کی طرف سے جواب دیتا ہوں۔ اے رسول خدا! شاید آپ کی مراد ہم ہیں۔ فرمایا: ہاں۔ تو سعدنے کہا:

شاید آپ کسی اور کام کے لئے وحی کے مطابق نکلے تھے۔ بلاشبہ ہم آپ پر ایمان لا چکے ہیں اور آپ کی تحقیق کر چکے ہیں کہ آپ کا ہر پیغام برحق ہے ہم نے آپ سے عہد و پیمان باندھا ہے کہ ہم آپ کی بات سنیں گے اور اطاعت کریں گے۔ پس اے اللہ کے نبی قسم ہے اس کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث کیا اگر آپ اس سمندر میں پھاندیں گے تو ہم آپ کے ساتھ پھاندیں گے جب

۲ برک الغماد مکہ کے پیچھے سمندر سے متصل ساحل کے پار پانچ دنوں کی مسافت پر واقع ہے۔ مکہ سے یمن جاتے ہوئے یہاں تک آٹھ دن لگتے تھے۔

تک ہمارا ایک مرد بھی باقی ہے۔ آپ جسے چاہیں عطا کریں، جسے چاہیں عطا نہ کریں۔ ہمارے اموال سے جس قدر چاہیں لے لیں۔ آپ ہمارے اموال سے جو لیں گے وہ ہمارے لئے اس مال سے زیادہ عزیز ہے جو آپ چھوڑیں گے۔ قسم ہے اس کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے،میں اس راستے پر کبھی نہیں چلا تھا اور نہ مجھے اس کا کوئی علم ہے۔ ہمیں اپنے دشمنوں سے روبرو ہونے میں کراہت محسوس نہیں ہوتی۔ ہم جنگوں میں بہت صابر ہیں اور دشمن کے مقابلے میں بے جگری سے لڑتے ہیں۔ شاید خدا ہمارے ذریعے آپ کی آنکھوں کو ٹھنڈک پہنچائے۔
ایک اور روایت ہے کہ سعدنے کہا:

اے رسول خدا (ص) ہم اپنے پیچھے اپنی قوم کے بعض ایسے لوگوں کو چھوڑ آئے ہیں جو آپ کی محبت میں ہم سے بھی آگے اور آپ کی اطاعت میں ہم سے بڑھے ہوئے ہیں۔ وہ جہاد میں دلچسپی رکھتے ہیں اور اس کا ارادہ بھی۔ اے رسول اللہ اگر انہیں پتہ چلتا کہ آپ کا دشمن سے سامنا ہونے والا ہے تو وہ پیچھے نہ رہتے۔ لیکن وہ تو بس یہی سمجھے تھے کہ وہ ایک قافلہ ہے۔ ہم آپ کے لئے ایک تخت بناتے ہیں جس پر آپ تشریف رکھیں گے اور ہم آپ کے لئے سواریوں کا انتظام کریں گے پھر اپنے دشمن سے جنگ کریں گے۔ پس اگر اللہ تعالیٰ ہماری مدد فرمائے اور ہمیں دشمن پر غالب کر دے تو ہمارا مقصود ہو گا لیکن اگر اس کے برعکس ہوا تو آپ اپنی سواریوں پر بیٹھ کر ہمارے پیچھے موجود لوگوں سے جا ملیں گے۔

پس سرور کائنات صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے سراہا اور فرمایا: اے سعد شاید خدا اس سے بھی بہتر فیصلہ کرے۔

جب حضرت سعدمشورہ دے چکے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:

خدا کی برکت کے سہارے چل پڑو کیونکہ خدا نے مجھ سے ایک گروہ (پر فتح) کا وعدہ کیا ہے۔ واللہ میں دشمن کے گر کر مرنے کی جگہوں کا منظر دیکھ رہا ہوں۔

صحابہکہتے ہیں کہ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں اس دن دشمنوں کے گر کر مرنے کی جگہوں کی نشاندہی کی اور فرمایا: یہ فلاں کی قتل گاہ ہے اور یہ فلاں کی قتل گاہ ہے۔ یوں آپ(ص) نے ہر ایک کے مقتل کی نشاندہی فرمائی۔ پس لوگوں کو معلوم ہواکہ انہیں جنگ سے روبرو ہونا پڑے گا اور یہ کہ اب قافلہ ہاتھ سے نکل چکا ہے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فرمان کی وجہ سے انہیں فتح کی امید ہو گئی۔11 یہ تھا اس مقام پر رسول اللہ(ص) کا اپنے اصحاب کے ساتھ مشورے کا واقعہ۔

حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے اصحاب سے مشورہ لے رہے تھے کہ انہوں نے کیا کرنا ہے جبکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بتا دیا تھا کہ مسلمان جنگ کریں گے اور فتح یاب ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ نے حضورصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دشمنوں کے گر کر مرنے کی جگہوں سے بھی آگاہ کیا تھا۔ اور آپ(ص) نے بھی اصحاب کی طرف سے جنگ کے مسئلے میں آپ سے موافقت کرنے پر انہیں دشمنوں کی قتل گاہوں کے بارے میں بتا دیا۔ جب آپ ان سے مشورہ لے رہے تھے تو مقصد یہ نہ تھا کہ ان کی رائے سے فائدہ حاصل کریں بلکہ ایک قسم کی شفقت و ملائمت کا اظہار نیز قریش کے تجارتی قافلے کے چھوٹنے کے بارے میں ان کو باخبر کرنا اور یہ بتا دینا مقصود تھا کہ معاملہ مال تجارت پر قبضے کی بجائے جنگ کی صورت اختیار کر چکا ہے اس لئے جنگ کی تیاری کرو
غزوہ احد

یہ تھا جنگ بدر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اصحاب کے ساتھ مشورہ۔ اس کے بعد اب جنگ احد میں اصحاب کے ساتھ مشورے کا واقعہ بیان ہو گا۔ اس دفعہ باہمی مشورے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے اصحاب کی رائے پر عمل کیا۔ چنانچہ کتاب المغازی اور مقریزی کی کتاب امتاع الاسماع میں منقول ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم زیب منبر ہوئے اور خدا کی حمد و ثناء کے بعد فرمانے لگے:

لوگو میں میں نے ایک خواب دیکھا ہے۔ میں نے دیکھا کہ میں ایک مضبوط زرہ پہنے ہوئے ہوں اور گویا میری تلوار ذوالفقار میان سے ٹوٹ چکی ہے۔ میں نے دیکھا کہ ایک گائے ذبح کی جا رہی ہے اور میں ایک مینڈھے کو اپنے پیچھے لئے جا رہا ہوں۔
لوگوں نے پوچھا:
یا رسول اللہ(ص) ! اس کی تعبیر آپ نے کیا کی ہے؟
فرمایا:

یہ مضبوط زرہ شہر مدینہ ہے پس اسی کے اندر بیٹھے رہو۔ میری تلوار کا ٹوٹنا ایک مصیبت کی علامت ہے جو مجھے پیش آئے گی۔ رہی ذبح ہونے والی گائے تو اس سے مراد میرے شہید ہونے والے اصحاب ہیں او ر ایک مینڈھے کو اپنے ساتھ لے جانے کی تعبیر یہ ہے کہ ہم فوجی دستے کے سردار کو انشاء اللہ قتل کر دیں گے۔
ایک اور روایت میں مذکور ہے:

میری تلوار کا ٹوٹنا میرے گھرانے کے ایک فرد کے قتل ہونے کی علامت ہے۔
آپ نے فرمایا:
مجھے مشورہ دو۔

آپ کا خیال تھا کہ مدینہ سے نہ نکلیں گے۔ عبد اللہ بن ابی جیسے منافق اور بڑے بڑے صحابہنے بھی اس رائے کی حمایت کی۔ ان میں مہاجرین بھی تھے انصار بھی۔ تب آپ نے فرمایا:

مدینہ میں ہی رہو۔ عورتوں اور بچوں کو (پتھر کے) قلعوں میں رکھو۔ اگر وہ شہر میں داخل ہو گئے تو ہم گلی کوچوں میں ان سے جنگ کریں گے کیونکہ ہم ان سے زیادہ ان گلیوں کو جانتے ہیں۔ پھر انہیں قلعوں اور پتھر کے گھروں کے اوپر سے نشانہ بنائیں گے۔

انہوں نے شہر مدینہ میں ہر طرف عمارتوں کا جال بچھا دیا تھا۔ یوں مدینہ ایک قلعے کی صورت اختیار کر گیا تھا۔ اس وقت چند نو عمر جوانوں نے جو جنگ بدر میں شریک نہ ہو سکے تھے اور شہادت کے طالب اور دشمن سے روبرو ہونے کے شوقین تھے کہنے لگے:
دشمن کا مقابلہ کرنے کے لئے ہمیں لے کر باہر نکلیں۔

حضرت حمزہ، سعدبن عبادہ اور نعمانبن مالک بن ثعلبہ نے انصار کی ایک جماعت کے ساتھ مل کر کہا:

اے اللہ کے رسول(ص)! ہمیں خوف ہے کہیں ہمارے دشمن یہ نہ سمجھیں کہ ہم ان کے ساتھ جنگ کے معاملے میں بزدلی کی وجہ سے باہر نہیں نکلے۔ اس صورت میں ہمارے خلاف ان کے حوصلے بلند ہوں گے۔ جنگ بدر میں آپ کے ساتھ تین سو افراد تھے لیکن اللہ تعالیٰ نے آپ کو ان پر فتح دی جبکہ آج ہماری تعداد زیادہ ہے۔ ہم اس دن کی تمنا کر رہے تھے اور اللہ تعالیٰ سے اس کی دعا کرتے تھے۔ اب اللہ اسے ہمارے ہاں کھینچ لایا ہے۔

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کے اصرار کو دیکھ کر رنجیدہ خاطر تھے، جبکہ وہ مسلح ہو چکے تھے۔ حضرت حمزہنے کہا:

قسم ہے اس کی جس نے آپ پر کتاب اتاری میں آج کھانا نہیں کھاؤں گا جب تک ان پر مدینہ سے نکل کر اپنی تلوار سے پے در پے وار نہ کر لوں۔

وہ جمعہ کے دن روزے سے تھے اور ہفتہ کے دن بھی۔ حضرت ابو سعید خدری  کے باپ مالکبن سنان اور نعمان  بن مالک بن ثعلبہ نیز ایاسبن اوس بن عتیک نے شہر سے باہر نکل کر جنگ کرنے کے بارے میں گفتگو کی، جب وہ لوگ اس بات پر اڑ گئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز جمعہ لوگوں کے ساتھ پڑھی پھر انہیں استقامت اور جہاد کے بارے میں وعظ و نصیحت کی نیز انہیں خبر دی کہ اگر وہ صبر کریں تو انہیں فتح حاصل ہو گی۔ یہ سن کر لوگ دشمن کے مقابلے کے لئے باہر نکلنے کے معاملے میں خوش ہوگئے لیکن بہت سے لوگ باہر نکلنے سے خوش نہ تھے۔ اس کے بعد آپ(ص) نے لوگوں کے ساتھ عصر کی نماز پڑھی جس میں لوگوں کا اژدہام تھا پھر اہالیان عوالی12  بھی آ گئے۔ انہوں نے عورتوں کو پتھر کے قلعہ نما مکانات میں منتقل کیا۔

اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے گھر میں داخل ہوئے جبکہ آپ(ص) کے ساتھ ابو بکراور عمرتھے۔ ان دونوں نے آپ(ص) کو عمامہ اور جنگی لباس پہنایا۔ لوگ حضورصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حجرے سے لے کر آپ کے منبر تک آپ کے لئے صف بستہ کھڑے تھے۔ پھر سعدبن معاذ اور اسیدبن حضیر آئے اور ان دونوں نے لوگوں سے کہا:

تم لوگوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے جو کہنا تھا سو کہا اور ان کے سامنے مدینہ سے باہر نکلنے پر ناخوشی کا اظہار کیا ہے حالانکہ آپ پر آسمان سے حکم نازل ہوتا ہے۔ پس اس مسئلے کو خود ان پر چھوڑ دو اور وہ جو فیصلہ کریں اس پر عمل کرو۔ نیز ان کی رائے اور خواہش کی اطاعت کرو۔

جب وہ لوگ یہ باتیں کر رہے تھے اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم باہر نکلے۔ آپ نے سامان جنگ زیب تن کر رکھا تھا۔ آپ نے زرہ اوپر پہن رکھی تھی اور اس کے وسط میں ایک کمربند باندھا ہوا تھا جو چمڑے کا تھا اور اس میں تلوار لٹکائی جاسکتی تھی۔ پھر آپ نے عمامہ پہنا اور تلوار لٹکائی۔
پھر جو لوگ اصرار کر رہے تھے وہ کہنے لگے:

یا رسول اللہ(ص)! ہمیں آپ کی مخالفت نہیں کرنی چاہیے تھی۔ جو آپ کو مناسب لگے وہی کیجئے۔
آپ(ص) نے فرمایا:

میں نے تمہیں اس بات کی دعوت دی لیکن تم لوگوں نے انکار کیا اور کسی نبی کے لئے یہ درست نہیں کہ اپنا سامان جنگ پہننے کے بعد اسے اتارے۔ یہاں تک کہ خدا اس کے دشمنوں کے درمیان فیصلہ نہ کر دے۔ میں جو حکم دیتا ہوں اس پر غور کرو اور اس کی پیروی کرو۔ اللہ تعالیٰ کا نام لے کر چلو۔ اگر تم صبر کرو گے تو تمہیں فتح حاصل ہو گی۔

مدینہ سے نکلنے کے بارے میں اصحابکے اصرار کی حکمت شاید یہ ہو کہ اگر آپ ان

کی بات منظور نہ کرتے تو ان کے ذہنوں پر برا اثر مرتب ہوتا اور شجاعت و پامردی کی بجائے کمزوری اور سستی کے شکار ہو جاتے۔ رہا یہ سوال کہ جب انہوں نے آپ کی رائے سے موافقت کر لی تو اس کے بعد آپ(ص) نے ان کی بات قبول کیوں نہیں کی تو اس کی حکمت عملی حضورصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خود بیان فرمائی۔

اصحاب کی رائے پر آپ(ص) کے عمل کی ایک اور مثال غزوہ خندق میں پیش آنے والے ایک واقعہ میں ملتی ہے جس کا ہم یہاں ذکر کرتے ہیں۔
غزوہ خندق

موٴرخین نے غزوہ خندق کے بارے میں لکھا ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ(ص)کے صحابہکئی دنو ں تک محصور رہے یہاں تک کہ تکلیف سنگین ہو گئی۔ آپ(ص) نے فرمایا:

خدایا میں تجھے تیرا عہد اور وعدہ یاد دلاتا ہوں۔ خدایا اگر تو چاہتا ہے تو تیری عبادت نہ کی جائے گی۔

آپ نے عیینہ بن حصن اور حارث بن عوف کو (جو غطفان کے سردار تھے) بلا بھیجا کہ ان دونوں کو مدینہ کے کھجوروں کا ایک تہائی حصہ دینے کا معاہدہ کر لیا جائے تاکہ اس کے عوض وہ اپنے ہمراہیوں کے ساتھ لوٹ جائیں۔ ان دونوں نے کھجوروں کا نصف حصہ طلب کیا لیکن حضورصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک تہائی سے زیادہ دینے سے انکار کر دیا تو وہ دونوں راضی ہو گئے۔ وہ دونوں اپنی قوم کے دس افراد کے ساتھ آئے یہاں تک کہ معاملہ طے ہونے کے قریب ہوا۔ اس کے بعد کاغذ اور دوات لائے گئے تاکہ باہمی صلح نامہ تحریر کریں۔ اس وقت عباد بن بشر آپ(ص) کے پاس لوہے میں غرق کھڑا تھا۔ اتنے میں حضرت اسیدبن حضیر آئے جبکہ عیینہ اپنے دونوں پاؤں پھیلائے بیٹھا تھا۔ پس جناب اسید نے اس سے کہا:

اے لومڑی کے بچے اپنی ٹانگیں سمیٹ لو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے آگے اپنے پاؤں پھیلاتے ہو؟ واللہ اگر نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہاں نہ ہوتے تو میں تمہاری دونوں چھاتیوں کو نیزے سے چھلنی کردیتا۔
اس کے بعد کہا:

یا رسول اللہ(ص)! اگر یہ آسمانی حکم ہے تو اسے انجام دیں اور اگر ایسا نہیں ہے تو پھر اللہ کی قسم ہم انہیں نہیں دیں گے مگر تلوار کا تحفہ۔ تمہیں ہم سے اس کی طمع کب سے ہونے لگی ہے؟

پس آپ نے سعدبن معاذ اور سعدبن عبادہ کو بلایا اور ان دونوں سے خفیہ مشورہ لیا۔ ان دونوں نے کہا:

اگر یہ آسمانی حکم ہے تو اسے انجام دیں اور اگر یہ آسمانی حکم نہیں ہے بلکہ آپ(ص) کی ذاتی خواہش ہے تب بھی ہم آپ کے حکم کو دل و جان سے قبول کرتے ہیں۔ لیکن اگر محض ایک رائے ہے تو پھر ہمارے پاس ان کے لئے صرف تلوار ہے۔
یہ سن کر آپ(ص) نے فرمایا:

میں نے دیکھا کہ عرب تمہیں ایک ہی کمان سے تیر کا نشانہ بنا رہے ہیں یعنی سب تمہارے خلاف متحد ہو کر جنگ کے لئے آئے ہیں تو میں نے سوچا کہ میں ان کو راضی کر لوں گا اور ان سے جنگ نہیں کروں گا۔
پس وہ دونوں بولے:

یا رسول اللہ(ص)! قسم ہے اللہ کی جب یہ لوگ ایام جاہلیت میں مجبوری کے ہاتھوں علھز کھاتے تھے اس وقت وہ ہم سے ہرگز اس بات کی توقع نہ رکھتے کہ وہ بغیر خریدے یا بغیر مانگے ہم سے میوہ حاصل کریں۔ اب جب اللہ تعالیٰ نے آپ کو ہمارے پاس بھیجا اور آپ کے ذریعے ہمیں عزت و ہدایت دی تو اس کے بعد ہم انہیں کمزوری دکھائیں؟ ہم انہیں ہرگز نہیں دیں گے مگر تلوار۔
تب حضورصلی اللہ علیہ وآلہ وسلمنے فرمایا:
کاغذ کوپھاڑ دو۔

تو حضرت سعدنے اسے پھاڑ دیا۔ یہ دیکھ کر عیینہ اور حارث کھڑے ہو گئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بلند آواز سے فرمایا:
لوٹ جاؤ ہمارے تمہارے درمیان تلوار فیصلہ کرے گی۔

یہ تھا اس جنگ میں آپ(ص) کا اپنے صحابہسے مشورہ لینے کا واقعہ۔ اس میں رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی گفتگو سے ظاہر ہوتا ہے کہ آپ(ص) دشمن قبائل کے درمیان افتراق ڈالنا چاہتے تھے۔ خاص کر آپ نے آخر میں بلند آواز سے فرمایا: لوٹ جاؤ ہمارے درمیان تلوار فیصلہ کرے گی، تاکہ یہ خبر قریش کے درمیان پھیل جائے اور ان کے درمیان اختلاف پڑ جائے۔ چنانچہ روایت میں ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نعیم بن مسعود کو حکم دیا اور کامیابی ہوئی۔ اس طرح سے آپ نے بنی قریظہ اور قریش کے درمیان افتراق، شکوک اور شبہات پیدا کئے اور یہ ان کی شکست کی ایک وجہ تھی۔ 13

ہم نے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مشوروں پر جو تبصرے کئے ان کی روشنی میں ہمارے لئے یہ بات بالکل واضح ہو جاتی ہے کہ ان مشوروں کامقصد یہ نہیں تھا کہ آپ(ص) اپنے صحابہسے صحیح رائے سیکھ کر ان پر چلتے بلکہ گاہے مقصد یہ ہوتا تھا کہ آپ(ص) مشورے کی صورت میں انہیں صحیح رائے سے آگاہ فرماتے تھے جو آپکے علم میں پہلے سے ہوتا تھا تاکہ وہ اس پر عمل کرتے۔

غزوہ بدر میں بھی صحابہکے ساتھ آپ(ص) کے مشورے کی نوعیت یہی تھی کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو پہلے ہی نتیجہ سے آگاہ کر دیا تھا کہ مسلمان قریش سے جنگ کر کے فتح حاصل کریں گے۔ مشورے کے بعد رسول خداصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مسلمانوں کو نتیجے سے آگاہ بھی کر دیا اور کفار قریش کے قتل ہونے کی جگہوں کی نشاندہی بھی فرمائی۔ بنابریں اصحاب کے ساتھ مشورے کی غرض و غایت مشورے کی شکل میں مسلمانوں کو ان امور سے آگاہ کرنا تھی جن پر عمل کرنا ان کے لئے ضروری تھا، ان جابر حکمرانوں کے برعکس جو اپنی آراء کو لوگوں پر جبراً ٹھونستے ہیں اور (مثال کے طور پر) کہتے ہیں کہ ہم بادشاہ ہیں اور یہ ہے ہمارا شاہی فرمانوغیرہ۔

آیت مجیدہ کا ابتدائی حصہ اس امر پر صاف دلالت کرتا ہے کیونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے:

فَبِمَا رَحْمَةٍ مِّنَ اللهِ لِنْتَ لَھُمْط وَلَوْ کُنْتَ فَظًّا غَلِیْظَ الْقَلْبِ لاَنْفَضُّوْا مِنْ حَوْلِکَص فَاعْفُ عَنْھُمْ وَاسْتَغْفِرْ لَھُمْ وَ شَاوِرْھُمْ فِی الْاَمْرِص 14

(اے رسول) یہ مہر الہٰی ہے کہ آپ ان کے لئے نرم مزاج واقع ہوئے اور اگر آپ تند خو اور سنگ دل ہوتے تو یہ لوگ آپ کے پاس سے منتشر ہو جاتے، پس ان سے در گزر کرو اور ان کے لئے مغفرت طلب کرو اور معاملات میں ان سے مشورہ لیا کرو۔

پس یہاں مشورے کی غرض و غایت لوگوں کے ساتھ شفقت و نرمی اور خدا کی رحمت کا اظہار تھی جیسا کہ ان دونوں باتوں کا ذکر آیت مبارکہ کے پہلے حصے میں ہوا۔

گاہے مشورے کا مقصد اظہار شفقت و نرمی ہوتا تھا جیسا کہ سابقہ مثالوں سے واضح ہوا اور کبھی مسلمانوں کی ذہنی تربیت جس کی مثال جنگ احد والا مشورہ ہے کیونکہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے رائے لینے کے بعد احد کی طرف جانے کے لئے سامان حرب زیب تن کیا تو صحابہ  شہر مدینہ سے نکلنے کے لئے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے اپنے اصرار پر نادم ہو گئے اور کہنے لگے:

اے اللہ کے رسول(ص) ہمیں آپ(ص) کی مخالفت نہیں کرنی چاہیے تھی، پس آپ وہی کیجئے جو آپ کو مناسب لگے۔
آپ(ص) نے فرمایا:

میں نے تمہیں اس بات کی دعوت دی لیکن تم نے انکار کیا اور کسی نبی کے لئے مناسب نہیں کہ سامان جنگ زیب تن کرنے کے بعد اسے اتار دے جب تک اللہ تعالیٰ اس کے اور اس کے دشمنوں کے درمیان فیصلہ نہ کر دے۔

اس موقع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور صحابہکے درمیان ہونے والی گفتگو سے ظاہر ہے کہ اگر آپ شہر سے نکلنے کے معاملے میں ان کی شدید خواہش کو رد کر دیتے تو ان کے ذہنوں پر برے اثرات مرتب ہوتے، ان کے حوصلے کمزور ہو جاتے، وہ تردد کا شکار ہوتے اور ان میں جنگ کی ہمت نہ رہتی۔

بیعت سے استدلال پر تحقیقی بحث

قبل ازیں معلوم ہو چکا ہے کہ بیعت بھی بیع (خرید و فروخت) کی طرح مرضی اور اختیار سے ہونی چاہیے نہ کہ جبر و اکراہ اور تلوارکے زور سے نیز آپ یہ بھی جان چکے ہیں کہ گناہ پر بیعت نہیں ہو سکتی۔

 حکم خدا کی مخالفت میں بیعت نہیں ہو سکتی اور گناہ گار کی بیعت نہیں ہو سکتی۔

ہم یہ بھی ملاحظہ کرچکے ہیں کہ جناب رسالتمآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات کے بعد سب سے پہلی بار جو بیعت لی گئی وہ حضرت ابو بکرکی بیعت تھی اور بیعت عمرکی صحت اس بیعت کی صحت پر موقوف ہے کیونکہ حضرت عمرکی بیعت حضرت ابوبکرکے حکم سے ہوئی۔ اسی طرح حضرت عثمانکی بیعت بھی تب صحیح ہو سکتی ہے جب حضرت عمرکی بیعت برحق ہو کیونکہ حضرت عثمانکی بیعت حضرت عمرکے اس حکم کی بدولت ہوئی کہ ان کی طرف سے معین شدہ چھ قریشیوں میں سے اس شخص کی بیعت کی جائے جس کی بیعت عبدالرحمانبن عوف کرے اور اس حکم کی مخالفت کرنے والے کو قتل کر دیا جائے۔

پھر ہم نے یہ بھی دیکھ لیا کہ سقیفہ بنی ساعدہ میں حضرت ابوبکرکی بیعت کس طرح سے بزور لی گئی۔ پھر قبیلہ اسلم کی پشت پناہی سے مدینہ کی گلیوں میں یہی ہوا۔ نیز یہ بھی آپ نے مشاہدہ کر لیا کہ دختر پیغمبرصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کے گھر پر کس طرح سے آگ لے جائی گئی اس جرم میں کہ وہاں بیعت سے انکار کرنے والے پناہ لئے بیٹھے تھے۔ ادھر بیعت سے انکار پر حضرت سعد  ابن عبادہ کو جنوں نے دوتیروں سے قتل کر دیا۔ یہ تھا شہر مدینہ میں بیعت کا حال۔ رہی مدینہ سے باہر کی حالت تو وہاں حضرت ابوبکرکی بیعت اور ان کے عاملوں کو زکوة دینے سے انکار کرنے والے مردوں کے عامل صحابی رسول(ص) حضرت مالکبن نویرہ جن کا تعلق بنی تمیم سے تھا اور ان کے خاندان کو اسی صورت حال کا سامنا کرنا پڑا۔ خالد بن ولید کے لشکر نے رات کے وقت ان پر اچانک یورش کر دی اور انہوں نے بھی اپنے دفاع میں اسلحہ اٹھا لیا۔ خالد کے لشکر نے کہا:
بیشک ہم مسلمان ہیں۔
مالک کے خاندان نے کہا:
ہم بھی مسلمان ہیں۔
خالد کے لشکریوں نے کہا:
اگر ایسا ہی ہے تو اسلحہ رکھ دو۔

پس انہوں نے اپنے ہتھیار رکھ دئیے اور خالد کے لشکر کے ساتھ نماز پڑھی۔15  اس کے بعد مالککو خالد بن ولید کے پاس لے گئے۔ خالد نے مالککی گردن مارنے کا حکم دیا۔ حضرت مالک  اپنی زوجہ کی طرف متوجہ ہوئے اور خالد سے مخاطب ہو کر کہا:
درحقیقت اِس نے مجھے قتل کیا ہے۔
وہ نہایت حسین و جمیل تھی۔ خالد نے کہا:

نہیں بلکہ تجھے اللہ نے اسلام کو چھوڑ کر مرتد ہونے کی وجہ سے قتل کیا ہے۔
حضرت مالکنے کہا:
بے شک و شبہ ہم مسلمان ہیں۔

مالککو قتل کرنے کے بعد خالد کے حکم سے مالک  کے سر کو ہانڈی کے پتھر کی جگہ استعمال کیا گیا۔ پھر خالد نے اسی رات مالککی بیوی سے ہم بستری کی جبکہ مالک دفن بھی نہیں ہوئے تھے۔ 16

اسی طرح قبائل کندہ کو بھی یہی دن دیکھنے پڑے کیونکہ حضرت ابوبکرکے عامل زیاد بن لبید البیاضی نے بنی کندہ کے ایک جوان شخص کی اونٹنی پر قبضہ کر لیا۔ کندی جوان نے کہا:
اس کے بدلے کوئی اور اونٹنی لے لو۔

لیکن عامل انکار پر مصر رہا کیونکہ اس نے اونٹنی پر زکات و صدقات کے حیوانوں کا نشانہ لگا دیا تھا۔17  پس وہ جوان کندہ کے ایک رئیس حارثہ بن سراقہ کے پاس گیا اور کہا:

اے میرے بھائی زیاد بن لبید نے میری ایک اونٹنی زبردستی لے لی ہے اور اسے زکات کے اونٹوں کے ساتھ رکھا ہے حالانکہ مجھے یہ اونٹنی بہت پسند ہے۔ اگر آپ اس کے ساتھ اس اونٹنی کے بارے میں بات کرنا مناسب سمجھیں تو شاید وہ اسے چھوڑ دے اور اس کے بدلے میں میرے اونٹوں میں سے کوئی اور لینے پر راضی ہو جائے۔
پس حارثہ، زیاد کے پاس آیا اور کہنے لگا :

اگر آپ اس جوان کی اونٹنی واپس کر کے اس کے بدلے میں کوئی اور لے لیتے تو احسان ہوتا۔
زیاد نے کہا:
اس پر تو زکات کا نشان لگ چکا ہے۔

پھر ان دونوں میں تلخ کلامی ہوئی۔ اس کے بعد حارثہ زکات کے اونٹوں کے پاس آیا۔ اس نے اونٹنی کو نکال لیا اور جوان سے کہا:

اپنی اونٹنی لے لو۔ اگر کوئی شخص اعتراض کرے تو میں تلوار سے اس کی ناک توڑ دوں گا۔
اس کے بعد وہ کہنے لگا:

ہم نے تو بس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زندگی میں آپ کی اطاعت کی تھی۔ اگر آپ کے اہل بیت  میں سے کوئی شخص آپ کی جگہ لیتا تو ہم اس کی اطاعت کرتے، لیکن ابو قحافہ کے بیٹے کی اطاعت نہیں کریں گے۔ اللہ کی قسم ہم اس کی اطاعت اور بیعت کے پابند نہیں ہیں۔
پھر اس نے کچھ اشعار پڑھے جن میں سے ایک شعر یہ ہے:
اطعنا رسول الله اذکان بیننا
فیا عجبا ممن یطیع ابابکر

ہم نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زندگی میں آپ کی اطاعت کی لیکن تعجب ہے اس شخص پر جو ابوبکر  کی اطاعت کرے۔
کندہ کے ایک رئیس حارث بن معاویہ نے زیاد سے کہا:

تم ایک ایسے شخص کی اطاعت کی دعوت دے رہے ہو جس کے بارے میں نہ ہمیں کوئی وصیت ہوئی ہے نہ تمہیں۔
زیاد نے کہا:

تیری بات صحیح ہے لیکن ہم نے اسے امارت کے لئے چن لیا ہے۔
حارث نے کہا:

مجھے بتاؤ کہ تم لوگوں نے اہل بیت رسول کو اس منصب سے کیوں محروم کر دیا ہے؟ حالانکہ وہ لوگوں میں اس منصب کے سب سے زیادہ حقدار ہیں کیونکہ اللہ عزوجل فرماتا ہے:

وَاُولُوا الْاَرْحَامِ بَعْضُھُمْ اَوْلٰی بِبَعْضٍ فِیْ کِتَابِ اللهِ۔ 18

اور کتاب اللہ کی رو سے رشتہ دار آپس میں مومنین اور مہاجرین سے زیادہ حق دار ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.