مکتب خلفاء کےنظریات کا تحقیقی جائزہ ۲
زیاد نے اس سے کہا:
مہاجرین و انصار اپنے بارے میں تم سے زیادہ جانتے ہیں۔
حارث نے کہا:
نہیں قسم ہے اللہ کی تم لوگوں نے اہل بیت رسول(ص) کو امارت سے محروم نہیں کیا مگر حسد کی بناء پر۔ میرا دل قبول نہیں کرتا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایسے شخص کو معین کئے بغیر دنیا سے چلے گئے ہوں جس کا لوگ اتباع کریں۔ لہذا آپ یہاں سے چلے جائیں کیونکہ تم ایک ناپسندیدہ امر کی دعوت دے رہے ہو۔ پھر حارث کہنے لگا:
کان الرسول ھو المطاع فقد مضی صلی علیہ الله لم یستخلف۔
اطاعت کے قابل تو رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہی تھے جن پر اللہ کا سلام ہو۔ آپ کسی کو جانشین بنائے بغیر چلے گئے۔
اس کے بعد زیاد نے زکات کے اونٹ مدینہ بھیج دئیے پھر خود بھی مدینہ کی طرف چل پڑا اور ابوبکرکو وہ روئیداد سنائی۔ حضرت ابوبکرنے زیاد کو چار ہزار سپاہیوں سے لیس کر دیا۔ زیاد حضر موت کے ارادے سے نکلا۔ راستے میں قبائل کندہ پر وہ بے خبری میں حملے کرتا، ان کو قتل کرتا اور اسیر بناتا چلا گیا جس طرح انہوں نے بنی ہند پر حملہ کر کے بعض کو قتل کیا تھا نیز ان کی عورتوں
اور بچوں کو اسیر بنا لیا تھا۔ انہوں نے کندہ کے قبیلہ بنی عاقل کی بے خبری میں خبر لی۔ جب لشکر ان کے سر پر پہنچ گیا تو عورتیں چلانے لگیں۔ کچھ دیر تک مردوں نے جنگ کی پھر ان کی شکست ہو
گئی۔ پس زیاد نے ان کی عورتوں اور بچوں کو قیدی بنا لیا۔ اس کے علاوہ زیاد نے رات کی تاریکی میں اپنے سواروں کے ساتھ قبیلہ کندہ کی ایک شاخ بنی حجر پر حملہ کر کے دو سو افراد کو قتل اور پچاس کو اسیر بنا لیا۔ باقی مرد بھاگ گئے۔ عورتیں اور بچے اسیر بنا لئے گئے۔
پھر اشعث بن قیس نے اس کے ساتھ جنگ کی اور اسے تیم کے شہر میں محصور کر دیا۔ پھر اموال اور بچوں کو واپس لے کر متعلقہ افراد کے حوالے کر دیا۔ اس کے بعد حضرت ابوبکرنے اشعث کو راضی کرنے کے لئے ایک خط لکھا۔ اشعث نے نامہ بر سے کہا:
تمہارا ساتھی ابوبکرہمیں اس لئے کافر قرار دیتا ہے کہ ہم اس کے مخالف ہیں لیکن اپنے ساتھی کو جس نے میری قوم اور میری قوم کے بھائی بندوں کو قتل کیا کافر نہیں سمجھتا۔
یہ سن کر نامہ بر نے کہا:
ہاں اے اشعث وہ تمہیں کافر سمجھتا ہے کیونکہ خدا نے تمہیں مسلمانوں کی جماعت سے مخالفت کرنے کی بناء پر کافر قرار دیا ہے۔
یہ سنکر اشعث کے چچا کی اولاد سے ایک جوان نے اپنی تلوار کی ضرب مار کر اسے ہلاک کر دیا۔ اشعت نے اس کے اقدام کو سراہا۔ اس بات سے اشعث کے اکثر ساتھی ناراض ہو گئے یہاں تک کہ قریباً ایک ہزار افراد اس کے ساتھ رہ گئے۔ پس زیاد نے ابوبکرکو پیام رسان کے قتل ہونے سے اپنے محاصرے کی اطلاع دی۔ تو انہوں نے مسلمانوں سے مشورہ طلب کیا۔ حضرت ابو ایوب انصاری نے مشورہ دیا: ان لوگوں کی تعداد زیادہ ہے۔ اگر وہ جمع ہونا چاہیں تو بہت بڑی جماعت بن جائے گی۔ اگر آپ اس سال لشکر کشی نہ کریں تو مجھے امید ہے کہ وہ آئندہ اپنی مرضی سے زکات دیں گے۔ ابوبکرنے کہا:
واللہ اگر یہ لوگ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف سے ان پر واجب شدہ اموال میں سے ایک رسی(جس سے اونٹ کا پاؤں باندھتے ہیں) بھی ادا نہ کریں تو میں ان کے ساتھ آخری دم تک جنگ کروں گا مگر یہ کہ وہ حق کی طرف لوٹ آئیں۔
اس کے بعد حضرت ابوبکرنے عکرمہ بن ابوجہل کو خط لکھاکہ مکہ سے اس کے ساتھ جانے پر تیار لوگوں کو لے کر زیاد سے جا ملے اور راستے میں موجود عرب قبائل کو بھی آمادہ کرتا جائے۔ پس عکرمہ قریش کے دو ہزار سواروں، ان کے غلاموں اور حلیفوں کو لے کر چلا۔ پھر وہ مارب کی طرف روانہ ہوا۔ اس کی خبر اہالیان دبا کو پہنچی اور وہ طیش میں آگئے اور انہوں نے کہا کہ ہم اسے کندہ کے بھائی بندوں کے ساتھ جنگ سے روکیں گے۔ چنانچہ انہوں نے ابوبکرکے عامل کو نکال دیا۔ حضرت ابوبکرنے اسے خط لکھا کہ ان کی طرف چل پڑے اور ان کو نہ بخشے اور جب ان سے فارغ ہو جائے تو ان کو اسیر بنا کر روانہ کرے۔ پس عکرمہ ان کی طرف بڑھا۔ اس نے ان سے جنگ کی اور ان کا محاصرہ کر لیا۔ انہوں نے صلح کرنے اور زکات دینے کی درخوست کی لیکن اس نے قبول نہیں کیا مگر یہ کہ وہ اس کی اطاعت کریں اور انہوں نے قبول کر لیا۔ پس عکرمہ ان کے قلعے میں داخل ہو گیا۔ اس نے ان کے رؤساء کو باندھ کر قتل کیا، عورتوں اور بچوں کو اسیر کر لیا، اموال کو چھین لیا اور باقی ماندہ لوگوں کو حضرت ابوبکرکے پاس روانہ کر دیا۔ حضرت ابوبکرنے ان کو قتل کر نے نیز عورتوں اور بچوں کو تقسیم کرنے کا ارادہ کیا۔ تب حضرت عمرکو کہنا پڑا:
اے ابوبکر! یہ لوگ مسلمان ہیں اور اللہ کی قسم کھاتے ہیں کہ انہوں نے دین اسلام نہیں چھوڑا۔
پس حضرت ابوبکرنے انہیں قید رکھایہاں تک کہ حضرت ابوبکرکی وفات ہو گئی پھر حضرت عمرنے اپنے عہد میں انہیں آزاد کر دیا۔
اس کے بعد عکرمہ، زیاد کے پاس چلا گیا۔ اس بات کی خبر اشعث بن قیس کو مل گئی تو اس نے قلعہ نجیر میں پناہ لی۔ وہاں اس نے اپنی اور قوم کی عورتوں کو جمع کیا۔ ابوبکرکے پیام رساں کے قتل کے بعد اشعث کو چھوڑ کر چلے جانے والے قبائل کندہ کے لوگ اس سے مطلع ہوئے تو انہوں نے اپنے ہم قبیلہ بھائیوں کو محاصرے میں بے یار و مددگار چھوڑنے پر ایک دوسرے کی ملامت کی اور زیاد سے جنگ کے لئے چل پڑے۔ زیاد گھبرا گیا۔ عکرمہ نے کہا:
میری رائے یہ ہے کہ تم قلعے والوں کا محاصرہ جاری رکھو اور میں جا کر ان لوگوں کی خبر لیتا ہوں۔
زیاد نے کہا:
ٹھیک ہے لیکن اگر اللہ نے فتح دی تو تلوار نیام میں نہ رکھو یہاں تک کہ ان کا ایک فرد بھی باقی نہ رہے۔
عکرمہ نے کہا:
میں مقدور بھر کوشش کروں گا۔
اس کے بعد عکرمہ روانہ ہو گیا یہاں تک کہ دشمنوں سے آمنا سامنا ہو گیا اور ان میں جنگ چھڑ گئی۔ اس جنگ میں کبھی ایک طرف کا پلہ بھاری ہوتا کبھی دوسرے کا۔ اشعث بن قیس کو اس کی کوئی خبر نہ تھی۔ محاصرہ طول پکڑ گیا۔ نیز بھوک اور پیاس کی شدت نے ستانا شروع کیا تو اس نے زیاد سے اپنے گھروالوں اور اپنے دس چیدہ چیدہ افراد کے لئے امان طلب کی۔ ان میں خط وکتابت ہوئی۔ زیاد نے وہ تحریر عکرمہ کو بھیجی۔ عکرمہ نے قبائل کندہ کو اس کی اطلاع دی انہیں وہ تحریر دکھائی چنانچہ وہ جنگ سے دست بردار ہو کر چلے گئے۔ ادھر زیاد قلعے میں داخل ہو گیا اور لڑنے والوں کو باندھ کر قتل کرنا شروع کر دیا۔ پھر اس کو حضرت ابوبکرکا خط ملا کہ اس کی اطاعت کرنے والوں کو مدینہ بھیج دیا جائے۔ زیاد نے باقی ماندہ ولوگوں کو زنجیروں میں باندھ کر مدینہ روانہ کیا۔18
یوں حضرت ابوبکرکی بیعت پوری ہو گئی جسے حضرت عمرایک ناگہانی اور بلا سوچے سمجھے سرزد ہونے والا عمل قرار دیتے تھے۔
اسی بیعت پر حضرت ابوبکرو عمراور حضرت عثمانکی خلافت استوار ہوئیں اور وہ اسی کی بنیاد پر استدلال کرتے ہیں۔
حوالہ جات
۱ صحیح بخاری باب رجم الحبلیٰ۔
2سورة شوریٰ آیت ۳۸
3 سورة آل عمران آیت ۵۹
4 سورة البقرہ آیت ۳
5 سورة الاحزاب آیت ۳۶
6 سورة آل عمران آیت ۱۵۹
7سیرة ابن ہشام ج۲ صفحہ ۲۵۳
8صحیح مسلم باب غزوة بدر ج۳ صفحہ ۱۴۰۳
9 سورة المائدہ آیت ۲۴
10 برک الغماد مکہ کے پیچھے سمندر سے متصل ساحل کے پار پانچ دنوں کی مسافت پر واقع ہے۔ مکہ سے یمن جاتے ہوئے یہاں تک آٹھ دن لگتے تھے۔
11 امتاع الاسماع صفحہ ۷۴، ۷۵، کتاب المغازی ج۱ صفحہ ۴۸ طبع آکسفورڈ، عیون الاثر لابن سید الناس ج۱ صفحہ ۲۴۷، دلائل النبوة بیہیقی ج۲ صفحہ ۳۷۷
12 واضح رہے کہ ”عوالی“ ایک جگہ کا نام ہے جو مدینہ منورہ سے تین میل کے فاصلے پر واقع ہے۔
13 امتاع الاسماع مقریزی صفحہ ۲۳۵، کتاب المغازی ج۲ صفحہ ۴۷۷
14 سورة آل عمران آیت ۱۵۹
15 تاریخ طبری ج۱ صفحہ ۱۹۶۷، ۱۹۲۸ طبع یورپ، تاریخ یعقوبی ج۲ صفحہ ۱۳۱ طبع بیروت
16 تاریخ ابو الفداء صفحہ ۱۵۸، وفیات الاعیان حالات وثیمہ وغیرہ کتب معتبرہ ۳ فتوح البلدان ”ردة بنی ولیعة والاشعت بن قیس“۔
17 سورہ احزاب آیت ۶
18 فتوح البلدان ذکر ردة بنی ولیعة والا شعت ابن قید الکندی صفحہ ۱۲۲، ۱۲۳، معجم البلدان حموی مادہ ”حضر موت“ فتوح ابن اعثم ج۱ صفحہ ۵۷،۷۵