غمِ عیال اور آگ سے نجات

ایک دن امیرالمؤمنین علی علیہ السلام گھر سے باہر تشریف لے گئے۔ راستے میں آپ کی ملاقات سلمان فارسی سے ہوئی۔ آپؑ نے فرمایا: اے سلمان! تم کس حالت میں ہو؟

122

ایک دن امیرالمؤمنین علی علیہ السلام گھر سے باہر تشریف لے گئے۔ راستے میں آپ کی ملاقات سلمان فارسی سے ہوئی۔ آپؑ نے فرمایا: اے سلمان! تم کس حالت میں ہو؟

سلمان فارسی نے عرض کیا: میں چار چیزوں کے غم میں مبتلا ہوں۔

حضرت علیہ السّلام نے فرمایا: وہ چار غم کیا ہیں؟

سلمان نے عرض کیا:

1. پہلا: میری بیوی اور اہل و عیال، جو مجھ سے کھانے پینے اور زندگی کی دیگر ضروریات کا مطالبہ کرتے ہیں۔

2. دوسرا: اللہ تعالیٰ، جس کی اطاعت اور فرمانبرداری مجھ پر لازم ہے۔

3. تیسرا: شیطان مردود، جو ہر وقت مجھے حق کے راستے سے ہٹانے اور گناہ میں ڈالنے کی کوشش کرتا ہے۔

4. چوتھا: عزرائیل (ملک الموت)، جو میری جان لینے کے انتظار میں ہے۔

حضرت علیہ السّلام نے فرمایا:
اے سلمان! تمہیں بشارت ہو ان بلند مقامات اور عظیم فضائل کی جو جنت میں تمہارے لیے ہیں۔ کیونکہ ایک دن میں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ آپؐ نے فرمایا: اے علی! تم کس حال میں ہو؟

میں نے عرض کیا:
میں سخت حالت میں ہوں اور اپنی بیوی اور اپنے دو بیٹوں امام حسن علیہ السلام اور امام حسین علیہ السلام کے بارے میں فکر مند ہوں، کیونکہ ہمارے گھر میں پینے کے پانی کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔

رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ نے فرمایا:

اے علی! مرد کا اپنے اہل و عیال کے مسائل دور کرنے کے لیے غمگین ہونا، اسے جہنم کی آگ سے نجات دیتا ہے۔

اللہ کی اطاعت انسان کو اللہ کے غضب کی آگ سے بچاتی ہے۔

زندگی کی مشکلات پر صبر کرنا اللہ کی راہ میں جہاد کے برابر ہے، بلکہ ساٹھ سال کی مستحب عبادت سے بھی افضل ہے۔

اور ہر وقت موت کو یاد رکھنا گناہوں کا کفارہ بنتا ہے۔

پھر فرمایا:

اللہ تعالیٰ ہی بندوں کی روزی اور ضروریات پوری کرتا ہے، اور اس بارے میں غم کرنا کوئی دنیاوی فائدہ یا نقصان نہیں دیتا، سوائے اس کے کہ انسان کو اللہ کے ہاں اجر و ثواب ملتا ہے۔

اور آخر میں فرمایا:

جان لو! سب سے اہم غم، اپنے اہل و عیال کے لیے غم کرنا ہے۔

📚 حوالہ: جامع الاخبار، صفحہ 91۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.