مباہلہ

206

مباہلہ

 
 
 

خداوندعالم نے اپنے پيغمبر(ص) كو حكم ديا ہے كہ ان واضح دلائل كے بعد بھى كوئي شخص تم سے حضرت عيسى (ع) كے بارے ميں گفتگو اور جھگڑا كرے تو اسے’مباھلہ’كى دعوت دو اور كہو كہ وہ اپنے بچوں،عورتوں اور نفسو ںكو لے آئے اور تم بھى اپنے بچوںكو عورتوں اور نفسں كو بلا لو پھر دعا كرو تاكہ خدا جھوٹوں كو رسوا كردے_
بغير كہے يہ بات واضح ہے جب كہ مباہلہ سے مراد يہ نہيں كہ طرفين جمع ہوں ،اور ايك دوسرے پر لعنت اور نفرين كريں اور پھر منتشر ہو جائيں كيونكہ يہ عمل تو نتيجہ خيز نہيں ہے_
بلكہ مراد يہ ہے كہ دعا او رنفرين عملى طور پر اپنا اثر ظاہر كرے اور جو جھوٹا ہو فوراً عذاب ميں گرفتار ہو جائے_
آيات ميں مباہلہ كا نتيجہ تو بيان نہيں كيا گيا ليكن چونكہ يہ طريقہ كار منطق و استدلال كے غير موثر ہونے پر اختيار كيا گيا تھا اس لئے يہ خود اس بات كى دليل ہے كہ مقصود صرف دعا نہ تھى بلكہ اس كا خاجى اثر پيش نظر تھا_
مباہلہ كا مسئلہ عرب ميں كبھى پيش نہيں آيا تھا،اور اس راستہ سے پيغمبر اكرم(ص) كو صدقت و ايمان كو اچھى سرح سمجھا جاسكتا تھا،كيسے ممكن ہے كہ جو شخص كامل ارتباط كے ساتھ خدا پر ايمان نہ ركھتا ہو وہ ايسے ميدان كى طرف آئے اور مخالفين كو دعوت دى كہ آئو اكھٹے درگاہ خدا ميں چليں،اس سے درخواست كريں اور دعا كريسيں كہ وہ جھوٹے كو رسو اكردے اور پھر يہ بھى كہے كہ تم عنقريب اس كا نتيجہ خودديكھ لو گے كہ خدا كس طرح جھوٹوں كو سزا ديتا ہے او رعذاب كرتا ہے_
يہ مسلم ہے كہ ايسے ميدان كا رخ كرنا بہت خطرناك معاملہ ہے كيونكہ اگر دعوت دينے والے كى دعا قبول نہ ہوئي اور مخالفين كو ملنے والى سزا كا اثر واضح نہ ہوا تو نتيجہ دعوت دينے والے كى رسوائي كے علاوہ كچھ نہ ہوگا_
كيسے ممكن ہے كہ ايك عقلمند اورسمجھ دار انسان نتيجے كے متعلق اطمينان كئے بغير اس مرحلے ميں قدم ركھے _ اسى لئے تو كہا جاتا ہے كہ پيغمبراكرم(ص) كى طرف سے دعوت مباھلہ اپنے نتائج سے قطع نظر،آپ (ص) كى دعوت كى صداقت اور ايمان كى دليل بھى ہے_
اسلامى روايات ميں ہے كہ’مباھلہ’كى دعوت دى گئي تو نجران كے عيسائيوں كے نمائندے پيغمبر اكرم(ص) كے پاس آئے اور آپ(ص) سے مہلت چاہى تا كہ اس بارے ميں سوچ بچار كرليں اور اس سلسلے ميں اپنے بزرگوں سے مشورہ كرليں_ مشورہ كى يہ بات ان كى نفسياتى حالت كى چغلى كھاتى ہے_
بہر حال مشورے كا نتيجہ يہ نكلا كہ عيسائيوں كے ما بين يہ طے پاياكہ اگر محمد(ص) شور وغل،مجمع اور دادوفريادكے ساتھ’مباھلہ’كے لئے آئيں تو ڈرا نہ جائے اورمباہلہ كرليا جائے كيونكہ اگر اس طرح آئيں تو پھر حقيقت كچھ بھى نہيں ،جب بھى شوروغل كا سہارا ليا جائے گا اور اگر وہ بہت محدود افراد كے ساتھ آئيں،بہت قريبى خواص اور چھوٹے بچوں كو لے كر وعدہ گاہ ميں پہنچيں تو پھر جان لينا چاہيے كہ وہ خدا كے پيغمبرہيں اور اس صورت ميں اس سے ‘مباھلہ’كرنے سے پرہيز كرنا چاہيے كيونكہ اس صورت ميں معاملہ خطرناك ہے_
طے شدہ پروگرام كے مطابق عيسائي ميدان مباہلہ ميں پہنچے تو اچانك ديكھا كہ پيغمبر(ص) اپنے بيٹے حسين(ع) كو گود ميں لئے حسن(ع) كا ہاتھ پكڑے اور على (ع) اور فاطمہ(ع) كو ہمراہ لئے آپہنچے ہيں اور انہيں فرمارہے ہيں كہ جب ميں دعاكروں ،تم آمين كہنا_
عيسائيوں نے يہ كيفيت ديكھى تو انتہائي پريشان ہوئے اور مباہلہ سے رك گئے اور صلح و مصالحت كے لئے تيار ہوگئے اور اہل ذمہ كى حيثيت سے رہنے پر آمادہ ہوگئے _
عظمت اہل بيت كى ايك زندہ سند
شيعہ اورسنى مفسرين اور محدثين نے تصريح كى ہے كہ آيہ مباہلہ اہل بيت رسول عليہم السلام كى شان ميں نازل ہوئي ہے اور رسول اللہ (ص) جن افراد كو اپنے ہمراہ وعدہ گاہ كى طرف لے گئے تھے وہ صرف ان كے بيٹے امام حسن(ع) اور امام حسين(ع) ،ان كى بيٹى فاطمہ زہرا سلام اللہ عليہا اور حضرت على (ع) تھے _ اس بناء پر آيت ميں ‘ابنائنا ‘سے مراد صرف امام حسن(ع) اور امام حسين(ع) ہيں_’نسائنا’سے مراد جناب فاطمہ سلام اللہ عليہا ہيں اور’انفسنا’ سے مراد صرف حضرت على (ع) ہيں_
اس سلسلے ميں بہت سى احاديث نقل ہوئي ہيں_ اہل سنت كے بعض مفسرين نے جوبہت ہى تعداد ميں ہيں_ اس سلسلے ميں وارد ہونے والى احاديث كا انكار كرنے كى كوشش كى ہے_ مثلاًمولف’المنار’نے اس آيت كے ذيل ميں كہا ہے:
‘يہ تمام روايات شيعہ طريقوں سے مروى ہيں،ان كا مقصد معين ہے،انہوں نے ان احاديث كى نشرو اشاعت اور ترويج كى كوشش كى ہے_ جس سے بہت سے علماء اہل سنت كو بھى اشتباہ ہوگيا ہے’_
ليكن اہل سنت كى بنيادى كتابوں كى طرف رجوع كيا جائے تو وہ نشاندہى كرتى ہيں كہ ان ميں سے بہت سے طريقوں كا شيعوں يا ان كى كتابوں سے ہرگز كوئي تعلق نہيںہے اور اگر اہل سنت كے طريقوںسے مروى ان احاديث كا انكار كيا جائے تو ان كى باقى احاديث اوركتب بھى درجہ اعتبار سے گرجائيں گي_
اس حقيقت كو زيادہ واضح كرنے كے لئے اہل سنت كے طريقوں سے كچھ روايات ہم يہاںپيش كريں گے_
قاضى نوراللہ شوسترى اپنى كتاب نفيس ‘احقاق الحق'(1)ميں لكھتے ہيں:
‘مفسرين اس مسئلے ميں متفق ہيں كہ ‘ابنائنا’سے اس آيت ميں امام حسن(ع) او رامام حسين(ع) مراد ہيں،’نسائنا’سے ‘حضرت فاطمہ سلام اللہ عليہا’اور’انفسنا’ميں حضرت على عليہ السلام كى طرف اشارہ كيا گيا ہے’_
اس كے بعد كتاب مذكور كے حاشيے پر تقريباً ساٹھ بزرگان اہل سنت كى فہرست دى گئي ہے جنہوں نے تصريح كى ہے كہ آيت مباہلہ اہل بيت رسول عليہم السلام كى شان ميں نازل ہوئي ہے_(۲)
‘غاية المرام’ ميں صحيح مسلم كے حوالے سے لكھا’:
‘ايك روز معاويہ نے سعد بن ابى وقاص سے كہا:’
تم ابو تراب ( على (ع) ) كو سب وشتم كيوں نہيں كرتے_وہ كہنے لگا_
جب سے على (ع) كے بارے ميں پيغمبر(ص) كى كہى ہوئي تين باتيں مجھے ياد آتى ہيں،ميں نے اس كام سے صرف نظركرليا ہے_ان ميں سے ايك يہ تھى كہ جب آيت مباہلہ نازل ہوئي تو پيغمبر(ص) نے فاطمہ(ع) ،حسن(ع) ،حسين(ع) ،اور على (ع) كو دعوت دي_اس كے بعد فرمايا’اللھم ھو لاء اھلي'(يعنى خدايا يہ ميرے نزديكى اور خواص ہيں)_
تفسير’كشاف’كے مو لف اہل سنت كے بزرگوں ميں سے ہيں_ وہ اس آيت كے ذيل ميں كہتے ہيں_’يہ آيت اہل كساء كى فضيلت كو ثابت كرنے كے لئے قوى ترين دليل ہے’_
شيعہ مفسرين،محدثين اور مو رخين بھى سب كے سب اس آيت كے ‘اھل بيت ‘كى شان ميں نازل ہونے پر متفق ہيں چنانچہ’نورالثقلين’ ميں اس سلسلے ميں بہت سى روايات نقل كى گئي ہيں_ ان ميں سے ايك كتاب’عيون اخبار الرضا’ہے_ اس ميں ايك مجلس مناظرہ كا حال بيان كيا گيا ہے،جو مامون نے اپنے دربار ميں منعقد كى تھي_
اس ميں ہے كہ امام على بن موسى رضا عليہ السلام نے فرمايا:
‘خدا نے اپنے پاك بندوں كو آيت مباہلہ ميں مشخص كرديا ہے اور اپنے پيغمبر(ص) كو حكم ديا ہے:
‘فمن حاجك فيہ من بعد ما جاء ك من العلم فقل’
اس آيت كے نزول كے بعد پيغمبر(ص) ،على (ع) ،فاطمہ(ع) ،حسن(ع) ،اور حسين(ع) كو اپنے ساتھ مباھلہ كے لئے لےگئے اور يہ ايسى خصوصيت اور اعزاز ہے كہ جس ميں كوئي شخص اہل بيت عليہم السلام پر سبقت حاصل نہيں كرسكا اور يہ ايسى منزلت ہے جہاں تك كوئي شخص بھى نہيں پہنچ سكا اور يہ ايسا شرف ہے جسے ان سے پہلے كوئي حاصل نہيں كرسكا’_
تفسير’برہان’،’بحارالانوار’اور تفسير’عياشي’ميں بھى اس مضمون كى بہت سى روايات نقل ہوئي ہيں جو تمام اس امر كى حكايت كرتى ہيں كہ مندرجہ بالا آيت’اہل بيت’عليہم السلام كے حق ميں نازل ہوئي ہے_
* * * * *

________________________________________(1) جلد سوم طبع جديد صفحہ46

862

________________________________________
(۲) ان كے نام او ران كى كتاب كى خصوصيات صفحہ _46 سے ليكر صفحہ76 تك تفصيل سے بيان كى گئي ہے ان شخصيتوں ميں سے يہ زيادہ مشہور ہيں.
1_مسلم بن حجاج نيشاپوري،مو لف صحيح مسلم جو نامور شخصيت ہيں اور ان كى حديث كى كتاب اہل سنت كى چھ قابل اعتماد صحاح ميں سے ہے ملا حظہ ہو مسلم،ج7ص120طبع مصر زير اہتمام محمد على صبيح.
2_احمد بن حنبل نے اپني’مسند’ميں لكھاہے ملاحظہ ہو ،ج2ص185طبع مصر.
3_طبرى نے اپنى مشہور تفسير ميں اسى آيت كے ضمن ميں لكھا ہے_ ديكھئے ج3ص192طبع ميمنيہ مصر.
4_حاكم نے اپني’مستدرك’ميںلكھا ہے،ديكھئےج3ص15مطبوعہ حيدرآباد دكن.
5_حافظ ابو نعيم اصفہاني،كتاب ‘دلائل النبوة’ص297مطبوعہ حيدرآباد دكن.
6_واحدى نيشاپوري،كتاب’اسباب النزول’ص74طبع ہند.
7_فخر رازي، نے اپنى مشہور تفسير كبير ميں لكھاہے،ديكھئےج8ص85طبع بہيہ،مصر.
8_ابن اثير،’جامع الاصول’جلد9ص470طبع سنتہ المحمديہ،مصر.
9_ابن جوزي’تذكرة الخواص’ صفحہ17طبع نجف.
10_قاضى بيضاوي،نے اپنى تفسير ميں لكھا ہے،ملاحظہ كريں ج2ص22طبع مصطفى محمد،مصر.
11_آلوسى نے تفسير’روح المعاني’ميں لكھا ہے_ ديكھئے _ج 3ص167طبع منيريہمصر.
12_معروف مفسر طنطاوى نے اپنى تفسير ‘الجواھر’ميں لكھا ہے _ج2ص120مطبوعہ مصطفى اليابى ال.حلبي،مصر.
13_زمخشرى نے تفسير’كشاف’ميں لكھا ہے،ديكھئے_ج1ص193،مطبوعہ مصطفى محمد،مصر.
14_حافظ احمد ابن حجر عسقلانى ،’الاصابة’_ج2ص503،مطبوعہ مصطفى محمد،مصر. –>
<– 15_ابن صباغ،’فصول المہمة’_ص108مطبوعہ نجف.
16_علامہ قرطبي،’الجامع الاحكام القرآن’_ج3ص104مطبوعہ مصر 1936.

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.