عقل وفھم

342

عقل وفھم

ِانَّ شَرَّالدَّوَابِّ عِندَ اللّہِ الصُّمُّ الْبُکْمُ الَّذِیْنَ لاَ یَعْقِلُون
اللہ کے نزدیک زمین پر چلنے والوں میں سے بدترین لوگ وہ بہرے اور گونگے ہیں جو عقل سے کام نہیں لیتے۔(سورہ انفال آیت نمبر ٢٢)
عن ابی بصیر:قال الصادق علیہ السلام یا ابا محمد لقد ذکرکم اللّٰہ تعالےٰ فی کتابہ حیث ‘قال ھل یستوی الّذین یعلمون والّذین لا یعلمون: انما یتذکر اولوالالباب’.شیعتنا ھم اولوالالباب
ابو بصیر سے روایت ہے کہ حضرت امام جعفرصادق ں نے فرمایا:اے ابو محمد خداوندتعالیٰ نے اپنی کتاب (قرآن)میں تم شیعوں کا تذکرہ کیا ہے۔چنانچہ ارشاد فرماتا ہے.کہ وہ لوگ جو جانتے ہیں کیا ان کہ برابر ہو جائیں گے جو نہیں جانتے۔اس بات سے نصیحت صرف عقل والے ہی حاصل کرتے ہیں۔(اے ابو بصیر) ہمارے شیعہ ہی وہ ہیں جو صاحبان عقل ہیں۔
عن ابی خالد الکابلی:قال دخلت علی سیدی علی ابن الحسین علیہ السلام فقال لی یا ابا خالد ان اھل زمان غیبتہ والقائلین بامامتہ والمنتظرین بظہورہ افضل من اھل کلّ زمان لان اللہ تبارک و تعالے ذکرہ اعطاھم من العقول والافھام ما صارت بہ الغیبتہ بمنزلةالمشاھدةاولئک المخلصون حقاوشیعتناصدقا۔
ابو خالد کابلی بیان کرتے ہیں کہ میں اپنے مولا وآقا حضرت امام زین العابدین ں کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ نے فرمایا اے ابو خالد ہمارے قائم(حجةابن الحسن )کی غیبت کے زمانے میں وہ لوگ جو ان کی امامت کے قائل ہونگے اور ان کے ظہور کے منتظر ہوں گے یہ دوسرے تمام زمانوں کے لوگوں سے افضل و برتر ہوں گے کیونکہ اللہ تبارک و تعالے نے ان کو ایسی عقل و فھم عطا کی ہو گی کہ جسکے سبب سے ان کے لئے (امام کی )غیبت مثل مشاھدہ کے ہو گی۔ اے ابو خالد وہی لوگ حقیقتا مخلص ہوں گے اور وہی ہمارے سچے شیعہ ہونگے۔
٭٭٭٭٭
تشریح: یہ بات مسلم الثبوت ہے کہ عقل ہی وہ گرانبھا جوہر ہے کہ جس کی وجہ سے انسان کو باقی تمام مخلوقات سے اشرف وافضل قرار دیا گیا ہے۔صرف یہی نہیں بلکہ انسان کا صاحب ایمان ہونا بھی اسی کے ساتھ وابستہ ہے۔چنانچہ شیخ کلینی’کافی’ میںنقل کرتے ہیں کہ حضرت امام جعفر صادق نے فرمایا :
من کان عاقلاکان لہ دین ومن کان لہ دین دخل الجنة
یعنی جو صاحب عقل ہو گا وہ دیندار ہو گا اور جو دیندار ہوگا وہ جنت میںداخل ہو گا۔
(اصول کافی جلد ١ صفحہ ٩)
اصبغ بن نباتہ بیان کرتے ہیں کہ امیرالمؤمنین نے ارشاد فرمایا:
ھبط جبرائیل علیہ السلام علی آدم علیہ السلام قال یا آدم انی امرت ان اخیرک واحدةمن ثلاث فاخترھاودع اثنتین فقال لہ آدم یا جبرائیل وما الثلاث؟
فقال العقل و الحیاء و الدین۔فقال آد م یا جبرائیل انی قد اخترت العقل فقال جبرائیل للحیا و الدین انصرفا و دعاہ فقال یا جبرائیل انا امرنا ان نکون مع العقل حیث۔قال فشانکما و عرج۔
جناب جبرائیل ں حضرت آدم ں کے پاس آئے اور کہامجھے (اللہ کی طرف سے )حکم دیا گیا ہے کہ میں تین چیزوں میں سے ایک کو منتخب کرنے کا آپ کو اختیار دوں پس آپ نے کہا اے جبرائیل وہ تین چیزیں کونسی ہیں ؟جبرائیل نے کہا وہ عقل ،حیا اور دین ہے تو حضرت آدم ں نے فرمایا میں اپنے لئے عقل کو منتخب کر تا ہوںپس جبرائیل نے حیا اور دین سے کہا تم واپس چلو اور اس کو آدم کے پاس چھوڑ دو وہ دونوں کہنے لگے اے جبرائیل ہمیں یہ حکم دیا گیا ہے کہ جہاں عقل رہے تم دونوںبھی اس کے ساتھ رہو ۔ جبرائیل نے کہا اگر تمھیں یہی حکم ہے تو تم اس کے ساتھ رہو یہ کہا اور واپس چلے گئے۔
(اصول الکافی کتاب العقل)
پس معلوم ہوا کہ عقل ہی کی بنیاد پر انسان دیندار قرار پاتا ہے اور اسی کی وجہ سے آخرت میں وہ اجر وثواب کا مستحق بنتا ہے کوئی انسان اس وقت تک کامل الایمان نہیںہو سکتا جب تک وہ کامل العقل نہ ہو اور انسان اسوقت تک کامل العقل نہیں ہوتا جب تک اس میںیہ دس خصلتیں موجود نہ ہوں چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں:
لا یکون المؤمن عاقلاحتی تجتمع فیہ عشر خصال:الخیر منہ مأمول ۔والشر منہ مأمون۔یستکثر قلیل الخیر من غیرہ۔و یستقل کثیر الخیرمن نفسہ۔ولایسئم من طلب العلم طول عمرہ۔ولا یتبرم بطلاب الحوائج قبلہ۔الذل احب الیہ من العزوالفقراحب الیہ من الغنی ۔نصیبہ من الدنیاالقوت۔والعاشرة:لا یریٰ احداًالاقال ہو خیر منی فاذارأی من ہو خیر منہ و اتقی تواضع لہ لیلحق بہ۔واذا لقی الّذی ھو شرّ منہ و ادنی قال عسی خیر ھذا باطن و شرہ ظاھروعسی ان یختم لہ بخیر۔فاذا فعل ذالک فقد علا مجدہ وساداھل زمانہ۔
یعنی مؤ من اس وقت تک کامل العقل نہیںہوتا جب تک اس میں یہ دس خصلتیں نہ پائی جائیں:
١۔لوگ اس سے بھلائی کی امید رکھتے ہوں ۔
٢۔لوگ اس کے شر سے محفوظ ومطمئن ہوں ۔
٣۔دوسروں کی تھو ڑی نیکی کو زیادہ سمجھتا ہو ۔
٤۔اپنی زیادہ نیکی کو تھوڑا سمجھتا ہو۔
٥۔اپنی طولانی زندگی میں بھی وہ علم حاصل کرنے سے دلبرداشتہ نہ ہو۔
٦۔حاجتمندوں کے کثرت سوال سے دل تنگ نہ ہو ۔
٧۔دنیوی جاہ جلال کے مقابلہ میں ذلت کو زیادہ پسند کرتا ہو۔
٨۔دولت و ثروت کے مقابلہ میں فقر کو ترجیح دیتا ہو ۔
٩۔دنیا سے اس کا حصہ فقط قوت لا یموت ہو۔
١٠۔دسویں صفت یہ ہے کہ جب بھی کسی کو دیکھے تو یہ کہے کہ یہ مجھ سے بہتر ہے ۔
پس جب کسی ایسے شخص کو ملے جو اس سے زیادہ نیک و صاحب تقویٰ ہو تو ا سکے سامنے عاجزی وانکساری کرے اور کوشش کرے کہ نیکی اور پرہیزگاری میں اس جیسا ہو جائے اور جب کسی ایسے شخص کود یکھے جو اس سے بدتراور پست ہو تو یہ سمجھے کہ یہ ظاہر میں ایسا ہے باطن میں یہ بہتر ہو گا۔اور اس کا انجام بخیر ہو گا (پھر آپ نے فرمایا)جب وہ اپنے اندر یہ خصلتیں پیدا کر لے گا تو اسے عزت و عظمت اور بلندی و رفعت حاصل ہو جائے گی۔اور اسے زمانے کی سرداری مل جائے گی۔(میزان الحکمة جلد٦صفحہ٤٢٨)
تفسیر نور الثقلین میں ہے کہ حضرت رسولِ خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تم میں سے بہتر وہ لوگ ہیں جو اہل عقل ہیں۔کسی نے عرض کیا یا رسول اللہ ارشاد فرمائیں وہ اہل عقل کون ہیں ؟آپ نے فرمایا:اہل عقل وہ ہیں جن کا اخلاق بہتر ہو ۔جن کی سوچ اچھی ہو جو اپنے رشتہ داروں سے حسن سلوک سے پیش آتے ہوں اور ماں باپ سے بھلائی کرتے ہوںاور فقراء و ہمسائیوںکا خیال رکھتے ہوں اور لوگوں کو کھانا کھلاتے ہوںاور سلام کرتے ہوںاور رات کے وقت جب لوگ سوئے ہوئے ہوں تو وہ اٹھ کر خدا کی عبادت کرتے ہوں(تفسیر نورالثقلین)۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.