انسانی کردار کی بلندی

191

 فرائض ہمیشہ ایک ہی شکل و صورت پر نہیں ہوتے کوئی بڑے سے بڑا حکیم و دانشمند فرائض کی کوئی ایسی فہرست نہیں مرتب کرسکتا جو ہر شخص کے لئے ہر حال میں قابل ادائی ہو۔  سچ بولنے ہی کو لیجئے۔  یہ بے شک انسانی فرض ہے مگر کیا ہر موقع پر؟  مثال کے طور پر کوئی ظالم شمشیر بکف کسی مظلوم کے تعاقب میں ہو،  وہ اس کی نظر بچا کر ہماری آنکھوں کے سامنے کہیں مخفی ہو جائیں۔  اب وہ ظالم ہم سے پوچھے کہ کیا تم نے دیکھا ہے وہ کس طرف گیا ہے؟  اب کیا ہمیں سوچ بولنا چاہئے؟  یقیناً اگر ہم نے سچ سچ کہہ دیا تو ظالم کی تلوار ہو گی اور مظلوم کا گلا ہو گا،  اور اس خونِ ناحق کی ذمہ داری ہمارے سچ پر ہو گی۔ متعدد گناہان کبیرہ ہیں جو سچ سچ کہنے ہی سے وقوع میں آتے ہیں مثلاً نمامی یعنی لگائی بجھائی کرنا۔  چغلی کھانا۔  یہ سچ ہی ہوتا ہے جھوٹ نہیں  ہوتا  مگر  وہ  بہت  بڑا  گناہ  ہے۔  اسی  طرح  غیبت  گناہِ کبیرہ  ہے۔  وہ  بھی  سچ  ہی  کہنے  سے ہوتی ہے معلوم ہوا کہ ہر صورت میں سچ کہنا فریضہٴ انسانی نہیں ہے۔ اسی طرح امانت واپس کرنا۔  ضرور انسانی فریضہ ہے مگر اسی صورت میں کہ جب کوئی ظالم مظلوم کے قتل کا ارادہ رکھتا ہو اگر اس نے اپنی تلوار  اتفاق  سے  ہمارے  پاس  امانت  رکھوائی  ہو۔  اب  اس  وقت  وہ  اپنی  تلوار  ہم  سے  مانگے  تو  ہرگز  ہم  کو  نہ  دینا  چاہئے  ورنہ ہم شریکِ قتل ہوں گے۔ مذہبی حیثیت سے عبادات میں سب سے اہم نماز ہے لیکن اگر کوئی ڈوبتا ہو او راس کا بچانا نماز توڑنے پر موقوف ہو تو نماز کاتوڑ دینا واجب ہو گا۔  اگر وہ ڈوب گیا اور نماز پڑھتے رہے تو یہ نماز بارگاہِ الٰہی سے مسترد ہو جائے گی۔  کہ میرا بندہ ڈوب گیا اور تم نماز پڑھتے رہے مجھے ایسی نماز نہیں چاہئے۔  معلوم ہوا کہ فرائض اور عبادات باعتبارحالات و واقعات بدلتے رہتے ہیں۔  فرائض کی یہی نگہداشت جوہرِ انسانیت ہے۔
انسانِ کامل کی شان: فرض شناس انسان کے افعال بتقاضائے طبیعت نہیں ہوتے بلکہ بتقاضائے فرض ہوتے ہیں اس کا عمل انتہاپسندی کے دو نقطوں کے درمیان ہوتا ہے اسی کا نام عدل و اعتدال ہے،  جو معیار حسنِ اخلاق ہے اور چونکہ عام افراد بشر عموماً طبیعتوں کے تقاضوں میں اسیر ہوتے ہیں اور افراط و تفریط میں مبتلا۔  اس لئے بلند افراد انسان کے خلاف عموماً دو طرف سے اعتراضات ہوتے ہیں۔  ایک ادھر والے انتہاپسندوں کی طرف سے  اور  دوسرے  ادھر  والے  انتہاپسندوں  کی  جانب  سے  مگر  وہ  کبھی  ان  اعتراض  کی  پروا  نہیں  کرتے  انہیں  تو فرائض کے ادا کرنے سے مطلب ہوتا ہے۔ انسان کامل کے اعمال سطحی نگاہ والوں کو بسااوقات متضاد نظر آتے ہیں مگر ان میں حقیقتاً کوئی تضاد نہیں ہوتا۔  بلکہ وہ مختلف حالات کے جداگانہ تقاضے ہوتے ہیں جو اس کے افعال میں ظاہر ہوتے ہیں۔ اس  کے  لئے  ہمارے  سامنے  چودہ  سیرتیں  موجود  ہیں  جن  میں  سب  سے  مقدم  حضرت  خاتم الانبیاء  محمد  مصطفیﷺ کی سیرتِ پاک ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.