تربیت اولاد

732

اسکالروں((schalarsماهریں(experts)ڈکٹروں اورپروفسروں نے طویل ریسرچ وکومشاهدات (معائنه )کے بعد یه نتیجه نکالا که بچه پیدائش سے قبل هی ماں کے احساسات و خیالات کا اثر قبول کرتاهے،اگر دوران حمل ماں کے خیالات پاکیزه ،عادات و گفتار و کردار نیک اور احساسات بلند وبالا اور شاندارهو تو یقینا وضع حمل کے بعد بچه انهیں خصوصیات کامل هوگا اور اوراگرماں کے خیالات گزارئے کردار وعادات برے اور احساسات گرے اور گٹھیا هوں تو بچه انهیں خصوصیات کواپنالے گا.قارئیں محترم آپ آپ کی دلچسپی اور زوق قرائت کے لئے ماهرین کے ریسرچ مشاهدات اور اس سے پهلے اسلامی تعلیمات کے بارے میں کچھ نمونے پیش خدمت هیں لیکن آپ کو(select)منتخب کرنا پڑے گا که آپ کی اولاد:عالم دین،عام انسان، تاجر(businessman)،صنعت کار(lndustrialist) ، کروڑ پٹییا پھر ارپ پتی بنے پوٹی کا سائیس دان یاپھر نامور موجدبنے.قابل احترام قوم و ملت کا لیڑو رهبر یا پھر سسمجھاهوا سیاستدان بنے،پایه کا ادیب یا پھر مائے ناز شاعر بنے ،شیردل مجاهد اسلام یا پھر دلاور جان باز بنے.اس کے ٹھوس اصول جو پهلے سے موجود هیں ان میں سے چند قارئین کی دل چسپی کے لئے درج کئے جارهے هیں:>نِساؤُكُمْ حَرْثٌ لَكُمْ فَأْتُوا حَرْثَكُمْ أَنَّى شِئْتُمْ وَ قَدِّمُوا لِأَنْفُسِكُمْ وَ اتَّقُوا اللَّهَ وَاعْلَمُوا أَنَّكُمْ مُلاقُوهُ وَ بَشِّرِ الْمُؤْمِنين <(1)تمہاری عورتیں تمہاری کھیتیاں ہیں لہٰذا اپنی کھیتی میں جہاں چاہو داخل ہوجاؤ اور اپنے واسطے پیشگی اعمال خدا کی بارگاہ میں بھیج دو اور اس سے ڈرتے رہو—- یہ سمجھو کہ تمہیں اس سے ملاقات کرنا ہے اورصاحبانِ ایمان کو بشارت دے دو.اس میں کوئی شک نهیں که جب انسان کوئی بیج بوئے تو اس سے اسی وقت معقول نفع حاصل کرسکتاهے جب وه بیج ایک موافق اور مناسب زمین هیں چھڑکاجائے کیونکه شورزمین سے سنبل کا اگناممکن نهیں.
تربیت معصوم علیهم السلام کی نگاه میں:دنیا میں حیاتیات کے ایک مستقل سائنس کے طور پرنمودار هونے سےصدیوں پهلے رسول اکرمﷺنے فرمایا تھا:”إِيَّاكُمْ وَ تَزْوِيجَ الْحَمْقَاءِ فَإِنَّ صُحْبَتَهَا بَلَاءٌ وَ وُلْدَهَا ضِيَاعٌ “(2)”کندزهن اور احمق عورتوں سے شادی کرنےسے اجتناب بر تو کیونکه ایسی عورتوں کی هم نشینی رنج اور مصیبت هے اور اگروه کوئی بچه پیدا کریں تووه بچه ناکاره هوگا.””إِيَّاكُمْ وَ خَضْرَاءَ الدِّمَنِ قِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَ مَا خَضْرَاءُ الدِّمَنِ قَالَ الْمَرْأَةُ الْحَسْنَاءُ فِي مَنْبِتِ السَّوْءِ”(3)”حضور اکرمﷺ نے فرمایا: جو سبزیاں کوڑے کے ڈھیرکے پاس اگیں ان سے دور رهو.””کسی نے پوچھا :یارسول اللهﷺ کوڑے کے ڈھیر کے پاس اگنے والی سبزیاں سے کیا مرادهے؟آپﷺنے فرمایا:وه خوش شکل عورت جس نے پست اور رزیل خاندان میں پرورش پائی هو،اسلام نے مسلمانوں کے فاسد نسلوں میں مبتلا هونے اور غیر صالح اولاد پیدا کرنے سے بچاؤ کےلئے شادی بیاده کے معاملے میں تمام ضروری حفاظتی تدابیر اختیار کی هیں اور مرد اور عورت کے تمام روحانی، جسمانی اور اخلاقی پهلورں کی جانب توجه دی هے. “هم نے اخباروں اور جرائدمیں پڑھاهے که زمین کی خرابیوں کو دور کرکے لاکھوں ایکڑکو قابل کاشت بنادیاگیاهے اور وه فصل بھی اچھی دے رهی هیں.اسی طرح مائیں بھی اپنے کھیت کی خرابیوں کو دور کرکے یعنی بری سوچوں، وفکروں اوربرے کاموں سے دور ره کر اچھی سوچوں کو اپنا کردار اور اچھے کاموں کو کرکے قابل فخر قوم وملت اولاد پیدا کرسکتی هیں.زندگی کی صحیح راه اختیار کرنے کے لئے بچپن کا زمانه بهترین اور موزوں هوتاهے.چونکه بچه بڑوں کی باتوں کو سننے اور بڑوں کی تقلید اور اکتساب کی جس انتهائی شدید هوتی هے اور بچه اپنے معلم کے تمام اعمال ،گفتار کردار اور طور طریقے سے اپنے ذهن کی مموری (memory)میں محفوظ کرسکتاهے.امام علینے اپنے فرزند امام حسن مجتبٰیسے فرمایا:”إ ِنَّمَا قَلْبُ الْحَدَثِ كَالْأَرْضِ الْخَالِيَةِ مَا أُلْقِيَ فِيهَا مِنْ شَيْ‏ءٍ قَبِلَتْهُ فَبَادَرْتُكَ بِالْأَدَبِ قَبْلَ أَنْ يَقْسُوَ قَلْبُكَ وَ يَشْتَغِلَ لُبُّكَ “(4)”ایک نو عمربچے کادل ایسی زمین کی مانند جو بیج اور گھاس سے خالی هو.اس میں جو بیج لو لیے جا ئے وه اسے قبول کر کےاسکی پرورش کر تی هے.اے فرزند عزیز ! میں نے تیر ے بچپن کے زمانے سے فائده اٹھا پا اور قبل اس سے تیرا تر بیت پذیر دل سخت هو جا ئے اور تیری عقل رو سر ے مائل میں مشغول هو جا ئے میں تیری تربیت میں لگ گیا .”والدین جو تربیت کنندگاں هیں ان کے لئے لازمی هے که وه جس طرح بچے بچوں کی جسمانی صحت کا خیال رکھتے هیں اسی طرح انکی روحانی اور احساساتی پهلو کوبھی اهمیت دینی چاهیں چونکه یه دونوں پهلو به پهلوایک دوسرے کےساتھ منزل کمال کی جانب رواندوان هوتاهے.پس والدین اور تربیت کنندگاں کو چاهیے که وه اپنے بچوں کی تربیت اسی نقط آغاز سے سچائی ،ادب،فرض شناسی ،مهربانی، احساس ذمےداری تمام صفات پسندیده سکھائیں اور اپنے بچوں کےلئے صحیح قابل قدر آئیڈیل اور نمونه عملی اور قولی مثال بنیں.بچه جو صحیح یا غلط کام هوتے هوئے دیکھتاهے اور جواچھی یا بری بات سنتاهے اسے اپنے لے ایک نمونه اور آئیڈیل تصور کرتاهے اور اپنے طور طریقے اسی کے مطابق ڈھالتاهے سب سےپهلے وه آزادانه طور پر ماں باپ کی تقلید کرتاهے.اسی لئے اسلامی تعلیمات نےوالدین کو ان کی عظیم اورنازک ذمےداری کی جانب توجه دلائی هےاور هر قسم کی ضروری نصیحتین کی.امام جعفرصادق نے فرمایا:”أَحِبُّوا الصِّبْيَانَ وَ ارْحَمُوهُمْ وَ إِذَا وَعَدْتُمُوهُمْ شَيْئاً فَفُوا لَهُمْ فَإِنَّهُمْ لَا يَدْرُونَ إِلَّا أَنَّكُمْ تَرْزُقُونَهُمْ “(5)”دو بچوں کودوست رکھو اور ان پر مهربان رهو جب ان سے کوئی وعده کرو تو اسے ضرور پورا کرو کیونکه بچے تمهیں اپنا مربی سمجھتے هیں.”امام حسیننے اپنے ایک خطبے میں جو آپ نے اپنی زندگی کے آخری دن یعنی یوم عاشوره کودیا صحیح تربیت کی اهمیت اور انسان کی زندگی پر اس کے گهرے اثر کی جانب اشاره کیا اور فرمایا:”أَلَا إِنَّ الدَّعِيَّ ابْنَ الدَّعِيَّ قَدْ رَكَزَ بَيْنَ اثْنَتَيْنِ بَيْنَ القلة [السَّلَّةِ] وَ الذِّلَّةِ وَ هَيْهَاتَ مَا آخُذُ الدَّنِيَّةَ أَبَى اللَّهُ ذَلِكَ وَ رَسُولُهُ وَ جُدُودٌ طَابَتْ وَ حُجُورٌ طَهُرَتْ وَ أُنُوفٌ حَمِيَّةٌ وَ نُفُوسٌ أَبِيَّةٌ لَا تُؤْثِرُ مَصَارِعَ اللِّئَامِ عَلَى مَصَارِعِ الْكِرَامِ”(6)”اے لوگو!آگاه رهو که حرامزادے کا حرامی بیٹا(عبیدالله بن زیاد)دو باتوں پر اصرار کررهاهے،جنگ یا ذلت(یزید کی بیعت کی خاطر)یه کبھی بھی نهیں هوسکتاکه میں ذلت اور خواری قبول کرلوں.نه هی خدا مجھے اس بات کی اجازت دیتاهے اور نه هی رسول خدا نه وه پاک دامن(جنھوں نے میری پرورش کی هے)اور نه هی میرے باوقار آباواجدا کے متفکر اور غیور دماغ ان میں سے کوئی بھی مجھے اس امر کی اجازت نهیں دیتاکه میں فردمایه لوگوں کی اطاعت کی ذلت کو باعزت موت پر ترجیح دوں.”ان چند جملوں میں امام اس امر کی جانب اشاره فرماتے هیں که فرومایه لوگوں کےسامنے سر تسلیم خم نه کرنے کا اصل اور بنیادی راز والدین کی تربیت کی ماهیت اور تربیت دینے والوں کی صفات اور خصوصیات میں پنهاں هے .پھر آپ فرماتے هیں:چونکه میں نے پاک پستان سےدوھ پیا هےاور پاک آباؤواجدا اور پاک صاحب عزت اور شریف النفس سرپرستوں سے تربیت پائی هےاس لئے عزت،شرف اور آزادگی مجھے ورثے میں ملی هیں اور میرے لئے یه ممکن نهیں که زنده رهنے کے لئے ذلت وخواری قبول کروں.اس طرح آپ کے والدگرامی امام علی بھی فرماتے هیں:”وَ قَدْ عَلِمْتُمْ مَوْضِعِي مِنْ رَسُولِ اللَّهِ ص بِالْقَرَابَةِ الْقَرِيبَةِ وَ الْمَنْزِلَةِ الْخَصِيصَةِ وَضَعَنِي فِي حِجْرِهِ وَ أَنَا وَلِيدٌ [وَلَدٌ] يَضُمُّنِي إِلَى صَدْرِهِ وَ يَكْنُفُنِي فِي فِرَاشِهِ وَ يُمِسُّنِي جَسَدَهُ وَ يُشِمُّنِي عَرْفَه‏”(7)”تم میری رسول اکرمﷺ سے قرابت اور اس خاص منزلت سے بخوبی واقف هو جو مجھے انکے نزدیک حاصل تھی میں ایک نوعمر لڑکاتھا وه مجھے اپنے دامن پر بٹھاتے تھے ،مجھے اپنی آغوش میں لے لیتے تھے،سینے سے چمٹاتے تھے ،کبھی مجھے اپنے بستر میں سلاتے تھے ،مجھ پر نوازش فرماتے تھے،مجھے بدن مبارک کی لطیف خوشبوسنگھاتے تھے…جب بھی نیادن طلوع هوتا آپﷺ اپنی اخلاقی صفات کا کوئی نه کوئی نمونه پیش فرماتے تھے اور مجھے حکم دیتے تھے که میں ان کے اخلاق کی پیروی کروںو”امام حسین اور امام علی علیهماالسلام جوتمام اقوام عالم اور عالم بشریت کے لئے انسان کامل کا ایک آئیڈیل اور نمونه هیں ان کلمات اور واشگاف الفاظ میں اپنے بچپن کے زمانے کی پرورش کی اهمیت پر زوریتے هوئے سبق دے رهے هیں که اپنی عزت ،شرف ،منزلت ومقام او رسعادت کو صحیح تربیت اور جو تربیت انهیں رسول اکرمﷺ کی باریک بین نظر کے تحت حاصل هوئی اس پر فخر ومباحات بھی کرتے هیں که انهیں ایسا لائق سرپرست نصیب هوا.اس سے پته چلتاهے که والدین اور معلمین کی ذمےداری کتنی بھاری اور اهم هے.اگر بچوں کی تربیت محض ان کی خوراک،لباس، صحت اورپڑھائی تک محدود هو تو یه کام بڑا ساده اور آسان هے لیکن تربیت میں بنیادی چیز اندورنی صلاحیتوں کی پرورش اور روحانی قوتوں کو پروان چڑھانا هے اور یه کام بڑا دقیق اور نازک کام خاص احتیاط اور توجه کا طالب هے.مگر آفسوس هے که همارا پورا معاشره صفات نبی اکرمﷺاور صفات ائمه اطهار علیهم السلام اخذ کرنے اور ان پر عمل پیرا هونے کے بجائے صفات رزیله معاویه ابن ابی سفیان ویزید بن معاویه پر عمل کرتے هوئے آج هر گھر،مکان، گلی کوچه اور حتی مساجد خدا اور امام بارگاهوں میں بھی سیرت معاویه اور گالی گلوچ عام هوچکاهے.اب والدین اور معلم کی ذمه داری هے که اس گالی کی لعنت (خصوصا جهل و نادانی اور مغربی فرهنگ )کو معاشرے سے ختم کرنے میں اهم اور ضروری اقدام کریں.

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.