منجی عالم بشریت دین یہود کی روشنی میں

305

منجی عالم بشریت کے ظہور پر ایمان رکھنا، عادل حکومت کا برپا ہونا ہے اور عادل حکومت کا چاہنا انسانی فطرت ہے جسکی وجہ سے یہ عقیدہ ہر ملت اور ہر دین میں موجود ہے۔
 
محمد امین زین الدین کہتے ہیں : اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ )موجودہ وضعیت سے( اصلاح جامعہ کا عقیدہ، تاریخ بشریت کی ابتداء سے لوگوں کے ذہنوں میں موجود ہے۔
 
دین اسلام کے عقاید سے مخصوص نہیں ہے کیونکہ اس عقیدہ کو اسلام سے پہلے ادیان آسمانی میں پایا گیا کہ سب نے بالاتفاق اس حقیقت کے واقع ہونے کی خبر دی ہے اور حتی مصلح کی صفات اور انکے اصلاحی کاموں کو بھی بیان کیا، البتہ ان کا نام مھدی اور انکی دعوتِ اصلاحی کو مھدویت کا نام نہیں دیا…… یہ عقیدہ اور فکر حتی دوسرے ادیان جیسے زردشتی برھمن و….، میں سرایت کرگیا ہے [1]
انبیاء طول تاریخ میں اپنی بعثت کو مقصد خلقت بشر جو حکومت عدل اور توحیدی بتایا ہے۔ جیسے خداوند متعال قرآن مجید میں فرماتا ہے:
“و لقد کتبنا فی الزّبور من بعد الذکر انّ الارض یرثھا عبادی الصالحون” [2]
ترجمہ:اور ہم نے ذکر کے بعد زبور میں بھی لکھدیا ہے کہ ہماری زمین کے وارث ہمارے نیک بندے ہی ہوں گے۔
اور دوسری جگہ فرماتا ہے:
“و نرید ان نّمنّ علی الذین استضعفوا فی الارض و نجعلھم ائمّۃًح وّ نجعلھم الوارثین” [3]
ترجمہ:اور ہم یہ چاہتے ہیں کہ جن لوگوں کو زمین میں کمزوربنادیا گیا ہے ان پر احسان کریں اور انھیں لوگوں کا پیشوا بنائیں اور زمین کا وارث قرار دیدیں۔
اور سورہ صف میں خداوند فرماتا ہے:
“ھو الّذی ارسل رسولہ بالھدیٰ و دین الحقّ لیظھرہ علی الدّین کلّہ و لو کرہ المشرکون” [4]
ترجمہ:وہی خدا وہ ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دین حق کے ساتھ بھیجا ہے تاکہ اسے تمام ادیان پر غالب بنائے چاہے یہ بات مشرکین کو کتنی ہی ناگوار کیوں نہ ہو۔
منجی عالم بشریت دین یہود میں
جس طرح ہر مذہب میں منجی موعود کا عقیدہ ہے اسی طرح قوم یہود بھی منجی موعود کا عقیدہ رکھتے ہیں
یہود معتقد ہے کہ آخر الزمان میں “ماشع” ظھور کرےگا اور ابدالآباد جھان میں حکومت کرےگا۔ وہ انکو اولاد حضرت اسحاق سمجھتے ہیں، حالانکہ توریت “کتاب مقدس یہود” میں صریحاً انکو اولاد اسماعیل جانا ہے [5]
یہودیوں کے نزدیک آخری نجات بخش “ماشیا” یا “مسیح” ہے جو جھان کو پاک کرےگا [6]
توریت میں کتاب اشعیا نبی گیارہویں باب میں آزاد کروانے والے کے بارے میں کہتے ہیں: مسکینوں کے درمیان عدالت کے ساتھ داوری کرےگا، مظلومون پر ظالموں
کے ظلم کو رکوادےگا،شریروں کو زیر کرےگا اور جھان میں عدالت الھی کو عام کرنے کے لئے کمر باندھ کے کھڑا ہوجائےگا، جس کے ظھور ہونے کی وجہ سے تمام ہستی سے ستم ختم ہوجائےگا، بھیڑ اور بھیڑئے، چیتا اور بکری، ایک ساتھ ہونگے، گائے،شیر اور بھیڑ ایک ہی ساتھ )ایک ہی جنگل میں( چرےنگے۔۔۔۔۔۔۔[7]
منجی عالم در اصل خدا ہی ہے:
توریت میں اس نجات دھندہ کو کبھی خود یہودیوں کے خدا کو کہا گیا ہے: جیسا کہ اشعیا نبی نے توریت میں کہا: نجات دھندہ در واقع وہی خدا ہے جو ہر چیز سے دانا و آگاہ ہے کہ جو اپنے بندوں کو طاقت عطا کرےگا روح کی نجات کےلئے اور اس کے علاوہ کوئی نجات بخش نہیں ہے۔
“اور میں یھوہ، تمہارا خدا و قدوس اسرائیل کا نجات دھندہ ہوں)اشعیای بنی ۴۳ آیہ ۳[8]
شخصیت ماشیح دین یہود میں:
بشر خاکی، جیسا کہ یہودی مذھب کے متون میں آیا ہے. موضوع ماشیح و دگئولا)آخری نجات(اھداف اولیہ خلقت جہان ہے البتہ یہ اسکا ربط ماشیح کی روح سے ہے۔
مگر فیزیک اور جسمانی لحاظ سےدیکھا جائے تو “ماشیح ایک انسان ہےجو مٹی سے بنا ہوا ہے، اولاد بشر سے جو عادی صورت میں متولد ہوا ہے”اسکی اصل و نسب کی نسبت حضرت داوود اور سلیمان کی طرف دی جاتی ہے، اور دوسری نشانیاں اسکی یہ ہیکہ اسکی صداقت اور پارسائی بدو تولد سے رو بہ افزا ہے، اپنے اعمال صالح کی بنا پر عالی ترین اور والاترین درجات تکامل روحانی حاصل ہوئی۔[9]
ماشیح کی خاص صفات:
یشعیان نبی اسکی صفت کے بارے میں اسطرح کہتے ہیں : روح خداوند اس پر آئیگی، روح عقل وفہم، روح تدبیر وتوانایی، روح علم وترس الھی و۔۔۔۔،
اسکا فیصلہ سب کے لئے برابر ہوگا، زمین کو ظالموںسے خالی کرےگا۔۔۔۔، [10]
ھارامبام)موسی بن میمون( کے عقیدہ کے مطابق: اسکا عقل وعلم حضرت سلیمان سے بھی زیادہ ہوگی۔ وہ قوم یہود کے آباء و اجداد)ابراھیم، اسحاق و یعقوب( سے بھی اور انبیاء بنی اسرائیل جو حضرت موسی علیہ السلام کے بعد مبعوث ہوئے ہیں سے بلند مرتبہ ہوگا [11]
منجی عالم کے بارے میں یہودیوں کے اہم عقاید:
مہمترین اور اساسی ترین اصول آئین یہود میں، ماشیح کے ظھور اور دورہ نجات ) گئولا( کا ہے۔
ہر فرد یہودی جو ماشیح کا اعتقاد نہ رکھتا ہو اور اس کے آنے کے انتظار میں چشم بہ راہ نہ رکھتا ہو،)اسکو(حضرت موسی اور بقیہ انبیاء بنی اسرائیل کے باتوں کا منکر ماناجاتا ہے۔۔۔۔۔۔، [12]
زبور داوود میں لکھا ہے : بار الھی اپنی حکومت مَلِک کو دے اور اپنی عدالت کو مَلِک کے فرزند کو عطا فرما تاکہ لوگوں کے درمیان نیکی سے حکم و حکومت کرے۔[13]
عصر گئولا)نجات دھندہ( میں واقع ہونے والی چیزیں:
۱۔ یہودیوں کے عبادت کے سنتوں کی احیاء
۲۔ بدی اور گناہ کا خاتمہ
۳۔ درک الھیت اور وجود خداوندی سے واقعی آگاھی
۴۔ جھان کا فقط خداوند کی عبادت کرنا۔ [14]
مشایح کے ظھور کا زمانہ:
ماشیح کے ظھور کا زمانہ خداوند کے توسط سے معین ہوگا، یہ ایک ایسا راز ہے جو پوشیدہ ہے۔[15]
ماشیح کا کسی بھی دور میں آنے کا امکا ن ہے، نہ اس معنی میں کہ وہ ظھور کے لئے مناسب وقت میں آسمان سے زمین پر نازل ہوکر ظاہر ہوگا۔ بلکہ وہ ہمیشہ زمین پر موجود ہے….. وہ ہر دور میں حاضر وناظر ہے…..،[16]
[1] : موعود شناسی ص ۱۰۴
[2] : سورہ انبیاء ۱۰۵
[3] : سورہ قصص آیہ ۵
[4] : سورہ صف آیہ ۹
[5] : موعود نامہ ص ۷۰۸
[6] : اسطورہ سوشیانت ص ۳
[7] : اسطورہ سوشیانت ص ۴
[8] : اسطورہ سوشیانت ص ۴
[9] : موعود نامہ ص ۷۱۰
[10] : موعود نامہ ص ۷۱۰
[11] : موعود نامہ ص ۷۱۰
[12] : موعود نامہ ص ۷۰۸،۷۰۹
[13] : موعود شناسی ص ۱۱۰
[14] : موعود نامہ ۷۰۶-
[15] : موعود شناسی ص ۱۱۰
[16] : موعود نامہ ص ۷۱۰
 
 

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.