حضرت صالح علیہ السلام

309

قوم ثمود اور اس كے پیغمبر جناب صالح(ع) كی جو “وادی القریٰ” میں رہتے تھے جو”مدینہ” اور “شام” كے درمیان واقع ھے یہ قوم اس سرزمین میںخوشحال زندگی بسر كررھی تھی لیكن اپنی سركشی كی بناء پرصفحہٴ ہستی سے یوں مٹ گئی كہ آج اس كا نام ونشان تك باقی نھیں رھا۔
قرآن اس سلسلے میں فرماتا ھے: “قوم ثمودنے (خدا كے) رسولوں كو جھٹلایا “۔(سورہٴ شعراء آیت ۱۴۱۔)
كیونكہ تمام انبیاء كی دعوت حق ایك جیسی تھی اور اس قوم كا اپنے پیغمبر جناب صالح كی تكذیب كرنا در حقیقت تمام رسولوں كی تكذیب كے مترادف تھا۔
“جبكہ ان كے ھمدرد پیغمبر صالح نے ان لوگوں سے كھا۔آیا تقویٰ اختیار نھیں كرتے هو؟” (سورہٴ شعراء آیت ۱۴۲ ۔)
وہ جو كہ تمھارے بھائی كی طرح تمھاراھادی اورراھبر تھا اس كی نظر میں نہ برتری جتانا تھا اور نہ ھی مادی مفادات، اسی لئے قرآن نے جناب صالح(ع) علیہ السلام كو “اخوھم” سے تعبیر كیا ھے جناب صالح نے بھی دوسرے انبیاء كی مانند اپنی دعوت كا آغاز تقویٰ اور فرض كے احساس سے كیا ۔
پھر اپنا تعارف كرواتے هوئے فرماتے ھیں: “میں تمھارے لئے امین پیغمبر هوں” (سورہٴ شعراء آیت۱۴۳۔)
میرا ماضی میرے اس دعویٰ كی بین دلیل ھے ۔
“اسی لئے تم تقویٰ اختیار كرو، خداسے ڈرو اور میری اطاعت كرو”(سورہٴ شعراء آیت ۱۴۵)
كیونكہ میرے مد نظر رضائے الٰھی، تمھاری خیرو خوبی اور سعادت كے سوا اور كچھ نھیں ۔
بنابریں “اس دعوت كے بدلے میں تم سے كوئی اجرت نھیں مانگتا۔” (سورہٴ شعراء آیت۱۴۵)
میں تو كسی اور كے لئے كام كرتاهوں اور میرا اجر بھی اسی كے پاس ھے ” ھاں تو میرا اجر صرف عالمین كے پروردگار كے پاس ھے” (سورہٴ شعراء آیت۱۴۵)یہ جناب صالح علیہ السلام كی داستان كا ابتدائی حصہ تھا جو دو جملوں میں بیان كیا گیا ھے ایك دعوت كا پیش كرنا اوردوسرے رسالت كو بیان كرنا ۔
پھر دوسرے حصے میں افراد قوم كی زندگی كے قابل تنقید اور حساس پھلوؤں كی نشاندھی كرتے هوئے انھیںضمیر كی عدالت كے كٹھرے میں لاكھڑاكیا جاتا ھے ارشاد هوتا ھے: “آیا تم یہ سمجھتے هو كہ ھمیشہ امن وسكون اور نازونعمت كی زندگی بسركرتے رهوگے “۔ (سورہ ٴشعراء آیت ۱۴۵)
كیا تم یہ سمجھتے هو كہ تمھاری یہ مادی اور غفلت كی زندگی ھمیشہ كے لئے ھے اور موت، انتقام اور سزا كا ھاتھ تمھارے گریبانوں تك نھیں پہنچے گا؟ !!
“كیاتم گمان كرتے هو كہ یہ باغات اور چشمے میں اور یہ كھیت اور كھجور كے درخت جن كے پھل شیریں وشاداب اور پكے هوئے ھیں، ھمیشہ ھمیشہ كے لئے باقی ر ھیںگے ۔” (سورہ ٴشعراء آیت۴۷اتا ۱۴۸)
پھر ان پختہ اور خوشحال گھروں كو پیش نظر ركھتے هوئے كہتے ھیں: “تم پھاڑوں كو تراش كر گھر بناتے هو اور اس میں عیاشی كرتے هو ۔” (سورہٴ شعراء آیت ۱۴۹)
جبكہ قوم ثمودشكم كی اسیراور نازو نعمت بھری خوشحال زندگی سے بھرہ مند تھی ۔
فاسداوراسراف كرنے والوں كی اطاعت نہ كرو
حضرت صالح علیہ السلام اس تنقید كے بعد انھیں متبنہ كرتے هو ئے كہتے ھیں: “حكم خدا كی مخالفت سے ڈرو اور میری اطاعت كرو، اور مسرفین كا حكم نہ مانو، وھی جو زمین میں فساد كرتے ھیں اور اصلاح نھیں كرتے۔” (سورہ ٴشعراء آیات ۱۵۰ تا ۱۵۲) “یہ دھیان میں رھے كہ خدانے قوم “عاد” كے بعد تمھیں ان كا جانشین اور خلیفہ قرار دیا ھے اور زمین میں تمھیں جگہ دی ھے ” (سورہٴ اعراف آیت ۷۴)یعنی ایك طرف تو تم كواللہ كی نعمتوں كا خیال رہناچاھیئے، دوسرے یہ بھی یاد رھے كہ تم سے پھلے جو قوم تھی وہ اپنی سركشی اور طغیانی كے باعث عذاب الٰھی سے تباہ وبرباد هوچكی ھے۔
پھر اس كے بعد انھیں عطا كی گئی كچھ نعمتوں كا ذكر كیاگیا ھے، ارشاد هوتا ھے: ” تم ایك ایسی سرزمین میں زندگی بسر كرتے هو جس میں ھموار میدان بھی ھیں جن كے اوپر تم عالیشان قصر اور آرام دہ مكانات بناسكتے هو، نیز اس میں پھاڑی علاقے بھی ھیں جن كے دامن میں تم مضبوط مكانات تراش سكتے هو (جو سخت موسم، اورسردیوںكے زمانے میں) تمھارے كام آسكتے ھیں”۔ (سورہٴ اعراف آیت ۷۴)
اس تعبیر سے یہ پتہ چلتاھے كہ وہ لوگ (قوم عاد) سردی اور گرمی میں اپنی سكونت كی جگہ بدل دیتے تھے فصل بھار اور گرمیوں میں وسیع اور پربركت میدانوںمیں زراعت كرتے تھے اور پرندے اور چوپائے پالنے میں مشغول رھا كرتے تھے اس وجہ سے وہ وھاں خوبصورت اور آرام دہ مكانات بناتے تھے جو انهوں نے پھاڑوں پر تراش كربنائے تھے اور یہ مكانات انھیں سیلابوں اور طوفانوں سے محفوظ ركھتے تھے یھاں وہ اطمینان سے سردی كے دن گزار دیتے تھے۔ آخر میں فرمایا گیا ھے:
“خداوندكریم كی ان سب نعمتوں كو یاد كرو اور زمین میں فسادنہ كرو اور كفران نعمت نہ كرو”۔ (سورہٴ اعراف آیت۷۴)
قوم صالح كی ہٹ دھرمی
آپ حضرات، گمراہ قوم كے سامنے حضرت صالح علیہ السلام كی منطقی اور خیرخواھی پر مبنی گفتگو ملاحظہ فرماچكے ھیں جناب صالح(ع) كے جواب میں اس قوم كی گفتگو بھی سینے۔
انھوں نے كھا: “اے صالح: تم سحرزدہ هوكر اپنی عقل كھوچكے هو، لہٰذا غیر معقول باتیں كرتے هو” (سورہٴ شعراء آیت۵۳)
ان كا یہ عقیدہ تھا كہ بسا اوقات جادو گر لوگ جادو كے ذریعے انسان كی عقل و هوش كو بیكار بنادیتے ھیں صرف انھوں نے جناب صالح پر ھی یہ تھمت نھیں لگائی بلكہ اور لوگوں نے بھی دوسرے انبیاء پر ایسی تھمتیں لگائی ھیں، حتیٰ كہ خود پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم كی ذات تك كو متھم كیا۔
جی ھاں !ان كے نزدیك عقل مند انسان وہ هوتا ھے جو ماحول میں ڈھل جائے ابن الوقت بن جائے اور خود تمام برائیوں پر منطبق هو جائے اگر كوئی انقلابی مرد خدا فاسد عقائد اور غلط نظام كے بطلان كے لئے قیام كرتا تو وہ اپنی اس منطق كی رو سے اسے دیوانہ، مجنون اور سحر زدہ كہتے۔
اسی طرح قرآن مجید میں ارشاد هوتاھے”اس خود پسند طبقے نے اللہ كی وحدانیت كا انكار كیا كہ آخرت كی ملاقات كو جھٹلایا، حالانكہ ھم نے انھیں دنیا كی بہت سی نعمتوں سے مالا مال كرركھا تھا وہ كہنے لگے كہ یہ تمھاری ھی طرح كا انسان ھے جو تم كھاتے هو یہ بھی كھاتاھے۔ اور جو تم پیتے هو یہ بھی پیتا ھے”۔ (سورہ ٴمومنون آیت۳۳)
بے شك وہ اشراف كا خوشحال طبقہ جو قرآن مجید كی اصطلاح میں صرف ظاھربین تھا اور كور باطن تھا وہ اس عظیم پیغمبر كے مشن كو اپنے مفاد كا مخالف، ناجائز منافع خواری، استحصال اور بے جابالادستی سے متصادم دیكھ رھاتھا، یہ طبقہ اپنی پر عیش زندگی كی وجہ سے اللہ سے كوسوں دور چلاگیا تھا اور آخرت كا منكرتھا ۔
انهوں نے اللہ كے نمائندوں كے انسان هونے اور دیگرانسانوں كی طرح كھانے پینے كو ان كی رسالت كی نفی كی دلیل قراردیا حالانكہ یہ بات ان مایہ ناز شخصیتوں كی نبوت ورسالت كی پرزور تائید تھی كہ وہ
عام لوگوں میں سے هوں تاكہ انسان كی ضروریات اور مسائل سے اچھی طرح آگاہ هوں، مزید برآں وہ ایك دوسرے سے كہتے تھے:”اگر تم اپنے ھی جیسے آدمی كے مطیع بنوگے تویہ بڑی نقصان دہ بات هوگی “۔ (سورہٴ مومنون آیت۳۴)یہ كور باطن اتنا نھیں سمجھتے تھے كہ خود تویہ توقع كررھے ھیں كہ لوگ ان كے شیطانی عزائم كی تكمیل اور پیغمبر سے مقابلے كے لئے ان كی پیروی كریں، مگر اس شخصیت كی اطاعت وپیروی كو جومركز وحی سے وابستہ ھے اور جس كا دل نور علم پروردگارعالمین سے منور ھے انسان كے لئے ذلت، ننگ وعار اور حریت كے منافی بتارھے تھے ۔!!
كیا ھم دوبارہ زندہ كئے جائیں گے
اس كے بعد انھوں نے معاد اور قیامت كا انكار كیا، جس كو ماننا ھمیشہ سے خود سراور هواو هوس كے رھبر وں كے لئے مشكل رھا ھے اور كھا:
“كیا یہ شخص تم سے یہ وعدہ كرتا ھے كہ مرنے كے بعد مٹی اور بوسیدہ ہڈی هوجانے كے بعد تم ایك بار پھر قبروں سے نكلوگے اور ایك نئی زندگی پاؤ گے۔” (یہ بہت دور اور بہت دور كی بات ھے وہ و عدے جو تم سے كئے گئے ھیں وہ، بالكل بے بنیاد اور كھوكھلے ھیں) (سورہٴ مومنون ۳۵ تا۳۶)
مجموعی طورپر كیا یہ ممكن ھے كہ ایك آدمی جو مرگیا هو، مٹی كے ساتھ مٹی هوگیا هو، اس كے اجزاء ادھر ادھر بكھرگئے هوں، وہ دوبارہ زندہ هوسكتا ھے؟ نھیں یہ محال ھے، یہ محال بات ھے ۔
آخرمیں اپنے نبی پر ایك مجموعی الزام لگاتے هوئے انهوں نے كھا یہ ایك جھوٹا شخص ھے، جس نے اللہ پر بہتان باندھا ھے اور ھم اس پر ھرگز ایمان نھیں لائیں گے” (سورہٴ مومنون آیت۳۷)
نہ اس كی رسالت اللہ كی طرف سے ھے نہ قیامت سے متعلق اس كے وعدے سچے ھیں اور نہ ھی دوسرے احكام ایسے ھیں، كوئی عقلمند آدمی اس پر كیسے ایمان لاسكتا ھے ۔
اے صالح(ع) ھم تم پرامید ركھتے تھے
انهوں نے حضرت صالح كو غیر موثر بنانے كے لئے یا كم از كم ان كی باتوں كو بے تاثیر كرنے كے لئے ایك نفسیاتی حربہ استعمال كیا وہ آپ كو دھوكا دینا چاہتے تھے، كہنے لگے: “اے صالح! اس سے پھلے تو ھماری امیدوں كا سرمایہ تھا ۔ (سورہ ٴهودآیت۶۲)
مشكلات میں ھم تیری پناہ لیتے تھے، تجھ سے مشورہ كرتے تھے، تیرے عقل وشعور پر ایمان ركھتے تھے، اور تیری خیر خواھی اور ھمدردی میں ھمیں ھرگز كوئی شك نہ تھا ۔
لیكن افسوس كہ تم نے ھماری امیدوں پر پانی پھیردیا، دین بت پرستی كی اور ھمارے خداؤں كی مخالفت كركے كہ جو ھمارے بزرگوں كا رسم ورواج تھا اور ھماری قوم كے افتخارات میں سے تھا تونے ظاھر كردیا كہ تو بزرگوں كے احترام كا قائل نھیں ھے نہ ھماری عقل پر تمھیں كوئی اعتماد ھے اور نہ ھی تو ھمارے طور طریقوں كا حامی ھے ۔”كیا سچ مچ تو ھمیں ان كی پرستش سے روك دیناچاہتا ھے جن كی عبادت ھمارے آباؤ اجداكیا كرتے تھے۔” (سورہٴ هودآیت ۶۲)
تم كتنے نحس قدم هو
بھرحال اس سركش قوم نے اس عظیم پیغمبر كی ھمدردانہ نصیحتوں كو دل كے كانوں سے سننے اور ان پر عمل درآمد كرنے كی بجائے واھیات اور بے كار باتوں كے ذریعے ان كا مقابلہ كرنے كی ٹھان لی، منجملہ اور باتوں كے انھوں نے كھا:” ھم تمھیں اور جو لوگ تمھارے ساتھ ھیں سب كو ایك بری فال سمجھتے ھیں”۔ (سورہ نمل آیت ۴۷)
معلوم ایسا هوتا ھے كہ وہ سال خشك سالی اور قحط سالی كا تھا اسی لئے وہ صالح علیہ السلام سے كہنے لگے: “كہ یہ سب كچھ تمھارے اور تمھارے ساتھیوں كے نامبارك قدموں كی بدولت هوا ھے “۔تم منحوس لوگ هو، ھمارے معاشرے میں تم ھی بد بختی اور نحوست لائے هو، وہ بری فال كو اس بھانے سے جو درحقیقت بے كار اور شریر لوگوں كا بھانہ هوتا ھے، جناب صالح علیہ السلام كے بہترین دلائل كو كمزور كرنا چاہتے تھے ۔
لیكن جناب صال(ع) ح نے جواب میں كھا: “بری فال (اور تمھارا نصیب) تو خدا كے پاس ھی ھے”۔ (سورئہ نمل آیت ۴۷)
اسی نے تمھارے اعمال كی وجہ سے تمھیں ان مصائب میں ڈال دیا ھے اور تمھارے اعمال ھی تمھاری اس سزا كا سبب بنے ھیں ۔
در حقیقت تمھارے لئے یہ خدا كی ایك عظیم آزمائش ھے جی ھاں: ” تم ھی ایسے لوگ هو جن كی آزمائش كی جائے گی “۔(سورہٴ نمل آیت۴۷)یہ خدا كی آزمائش هوتی ھے اور خبردار كرنے والی چیزیں هوتی ھیں تاكہ جو لوگ سنبھل جانے كی صلاحیت ركھتے ھیں وہ سنبھل جائیں، خواب غفلت سے بیدار هوجائیں، غلط راستے كو چھوڑكر خدائی راستے كو اختیار كرلیں ۔
ناقہ صالح(ع)
اس كے بعد آپ نے اپنی دعوت كی حقانیت كے لئے معجزے اور نشانی كی نشاندھی كی، ایسی نشانی جو انسانی قدرت سے ماورا ھے اور صرف قدرت الٰھی كے سھارے پیش كی گئی ھے ان سے كھا: “اے میری قوم: یہ ناقہ الٰھی تمھارے لئے آیت اور نشانی ھے “اسے چھوڑدو كہ یہ بیابانوں چراگاهوں میں گھاس پھوس كھائے”، “اوراسے ھر گز كوئی تكلیف نہ پہنچانا اگر ایسا كروگے تو فورا تمھیں درناك عذاب الٰھی گھیرلے گا “۔ (سورہٴ هود آیت ۶۴)
لغت میں ” ناقة” اونٹنی كے معنی میں ھے ۔ یھاں قرآن اور میں یھاں اور قرآن كی بعض دیگر آیات میں اس كی اضافت خدا كی طرف سے كی گئی ھے یہ امر نشاندھی كرتاھے كہ یہ اونٹنی كچھ خصوصیات ركھتی تھی اس طرف توجہ كرتے هوئے كہ یھاں پر اس كا ذكر آیت الٰھی اور دلیل حقانیت كے طور پر آیا ھے، واضح هوجاتاھے كہ یہ اونٹنی ایك عام اونٹنی نہ تھی اور ایك حوالے سے یا كئی حوالوں سے معجزہ كے طور پر تھی لیكن قرآن میں یہ مسئلہ تفصیل كے ساتھ نھیں آیا كہ اس ناقہ كی خصوصیات كیا تھیں اس قدر معلوم هوتا ھے كہ یہ كوئی عام اونٹنی نہ تھی ۔ بس یھی ایك چیز قرآن میں دو مواقع پر موجود ھے كہ حضرت صالح(ع) نے اس ناقہ كے بارے میں اپنی قوم كو بتایا كہ اس علاقے میں پانی كی تقسیم هونا چاہئے ایك دن پانی ناقہ كا حصہ ھے اور ایك دن لوگوں كا”۔1
لیكن یہ بات پوری طرح مشخص نھیں هوسكی كہ پانی كی یہ تقسیم كس طرح خارق العادت تھی ایك احتمال یہ ھے كہ وہ اوٹنی بہت زیادہ پانی پیتی تھی اس طرح چشمہ كا تمام پانی اس كے لئے مخصوص هوجاتا دوسرا احتمال یہ ھے كہ جس وقت وہ پانی پینے كے لئے آتی تو دوسر ے جانورپانی پینے كی جگہ پر آنے كی جراٴت نہ كرتے ۔
ایك سوال یہ ھے كہ یہ جانور تمام پانی سے كس طرح استفادہ كرتا تھا اس سلسلے میں یہ احتمال ھے كہ اس بستی كا پانی كم مقدار میں هو جیسے بعض بستیوں میں ایك ھی چھوٹا سا چشمہ هوتا ھے اور بستی والے مجبور هوتے ھیں كہ دن بھر كا پانی ایك گڑھے میںا كٹھاكریں تاكہ كچھ مقدار جمع هوجائے اور اسے استعمال كیا جاسكے ۔
لیكن دوسری طرف قرآن كی بعض آیات سے معلوم هوتا ھے كہ” قوم ثمود تھوڑے پانی والے علاقے میں زندگی بسر نھیں كرتی تھی بلكہ وہ لوگ تو باغوں، چشموں، كھیتوں اور نخلستان كے مالك تھے”۔ (سورئہ شعراء آیت ۱۴۶ تا ۱۴۸)
بھرحال جیسا كہ ھم نے كھا ھے كہ ناقہٴ صالح كے بارے میں اس مسئلہ پر قرآن نے اجمالا ذكر كیا ھے لیكن بعض روایات جو شیعہ اور سنی دونوں فریقوں كے یھاں نقل هوئی ھیں ان میںبیان هوا ھے كہ اس ناقہ كے عجائب خلقت میں سے یہ تھا كہ وہ پھاڑكے اندر سے با ھر نكلی۔ اس كے بارے میں كچھ اور خصوصیات بھی منقول ھیں ۔
بھر كیف حضرت صالح جیسے عظیم نبی نے اس ناقہ كے بارے میں بہت سمجھایا بجھایا مگر انهوں نے آخركار ناقہ كو ختم كردینے كا مصمم ارادہ كرلیا كیونكہ اس كی خارق عادت اور غیر معمولی خصوصیات كی وجہ سے لوگوں میں بیداری پیدا هورھی تھی اور وہ حضرت صالح كی طرف مائل هورھے تھے لہٰذا قوم ثمود كے كچھ سركشوں نے جو حضرت صالح كی دعوت كے اثرات كو اپنے مفادات كے خلاف سمجھتے تھے اور وہ ھرگز لوگوں كی بیداری نھیں چاہتے تھے كیونكہ خلق خدا كی بیداری سے ان كے استعماری مفادات كو نقصان پہنچتا، لہٰذا انھوں نے ناقہ كو ختم كرنے كی سازش تیار كی كچھ افراد كو اس كام پر مامور كیا گیا آخر كار ان میں سے ایك نے ناقہ پر حملہ كیا اور اس پر ایك یا كئی وار كئے ” اور اسے مار ڈالا”۔ (سورہ اعراف آیت ۷۷)
اگر تم سچے هو تو عذاب میں جلدی كرو
انهوں نے صرف اسی پر اكتفانہ كی بلكہ اس كے بعد وہ حضرت ” صالح “كے پاس آئے اور اعلانیہ ان سے كہنے لگے: “اگر تم واقعاً خدا كے رسول هوتو جتنی جلد هوسكے عذاب الٰھی لے آؤ “۔ (سورہ اعراف آیت ۷۷)
لیكن صالح علیہ السلام نے كھا: اے میری قوم: تم نیكیوں كی كوشش اور ان كی تلاش سے پھلے ھی عذاب اور برائیوں كے لئے جلدی كیوں كرتے هو؟ ” (سورئہ نمل آیت۴۶)
تم اپنی تمام ترفكر عذاب الٰھی كے نازل هونے پر ھی كیوں مركوز كرتے هو؟ اگر تم پر عذاب نازل هوگیا توپھر تمھارا خاتمہ هوجائے گا اور ایمان لانے كا موقع بھی ھاتھ سے چلاجائے گا ۔ آؤ اور خدا كی بركت اور اس كی رحمت كے ساتھ ایمان كے زیرسایہ میری سچائی كو آزماؤ تم خدا كی بارگاہ سے اپنے گناهوں كی بخشش كا
سوال كیوں نھیں كرتے هو؟ تاكہ اس كی رحمت میں شامل هوجاؤ ۔صرف برائیوں اور عذاب نازل هونے كا تقاضاكیوں كرتے هو؟ یہ ہٹ دھرمی اور پاگل پن كی باتیں آخر كس لئے؟ یہ بات واقعاً عجیب ھے كہ انسان دعوائے محبت كی صداقت كو تباہ كن عذاب كے ذریعہ جانچ رھا ھے نہ كہ رحمت كا سوال كركے اور حقیقت یہ ھے كہ وہ قلبی طور پر انبیاء كرام علیھم السلام كی صداقت كے معترف تھے لیكن زبان سے اس كا انكار كیا كرتے تھے ۔
اس كی مثال یوں ھے كہ جیسے كوئی شخص علم طب كا مدعی هو اور اسے معلوم هو كہ فلاں دوا سے صحت اور شفا حاصل هوتی ھے اور فلاں چیزسے انسان كی موت واقع هوجاتی ھے لیكن وہ ایسی دوا حاصل كرنے كی كوشش كرے جو مھلك ھے نہ كہ جو مفید اور شفاء بخش ۔ یہ تو واقعاً جھالت و نادانی كی حد ھے، كیونكہ یہ سب جھالت ھی كا نتیجہ ھے۔
حضرت صالح(ع) نے قوم كی سركشی، نافرمانی اور اس كے ھاتھوں قتل ناقہ كے بعد اسے خطرے سے آگاہ كیا اور كھا:
“پورے تین دن تك اپنے گھروں میں جس نعمت سے چاهواستفادہ كرو اور جان لوكہ ان تین دنوں كے بعد عذاب الٰھی آكے رھے گا ” ۔ (سورہ هود آیت ۶۵)
قوم ثمود كا انجام
قرآن كریم میں اس سركش قوم (قوم ثمود) پر تین دن كی مدت ختم هونے پر نزول عذاب كی كیفیت بیان كی گئی ھے: “اس گروہ پر عذاب كے بارے میں جب ھمارا حكم آپہنچا تو صالح اور اس پر ایمان لانے والوں كو ھم نے اپنی رحمت كے زیر سایہ نجات بخشی “۔ (سورئہ هود آیت ۶۶)
انھیں نہ صرف جسمانی ومادی عذاب سے نجات بخشی بلكہ “رسوائی، خواری اور بے آبروئی سے بھی انھیں نجات عطا كی كہ جو اس روز اس سركش قوم كو دامنگیر تھی ” ۔ (سورہ هود آیت ۶۶)
كیونكہ تمھارا پروردگار ھر چیز پر قادر اور ھر كام پر تسلط ركھتا ھے اس كے لئے كچھ محال نھیں ھے اور اس كے ارادے كے سامنے كوئی طاقت كچھ بھی حیثیت نھیں ركھتی، “لہٰذا اكثرجمعیت كے عذاب الٰھی میں مبتلا هونے سے صاحب ایمان گروہ كو كسی قسم كی كوئی مشكل اور زحمت پیش نھیں هوگی یہ رحمت الٰھی ھے جس كا تقاضا ھے كہ بے گناہ، گنہگاروں كی آگ میں نہ جلیں اور بے ایمان افراد كی وجہ سے مومنین گرفتار بلانہ هوں۔
“لیكن ظالموں كو صیحہٴ آسمانی نے گھیرلیا اس طرح سے كہ یہ چیخ نھایت سخت اور وحشت ناك تھی اس كے اثر سے وہ سب كے سب گھروں ھی میں زمین پر گركر مرگئے، وہ اس طرح مرے اور نابود هوئے اور ان كے آثار مٹ گئے كہ گویا وہ اس سرزمین میں كبھی رہتے ھی نہ تھے “۔ (سورہٴ هود آیت ۶۷۔۶۸)
جان لوكہ قوم ثمود نے اپنے پروردگار سے كفر كیا تھا اور انهوں نے احكام الٰھی كو پس پشت ڈال دیا تھا۔ “دور هو قوم ثمود، اللہ كے لطف ورحمت سے اور ان پر لعنت هو”۔ (سورئہ هود آیت ۸۶)
“صیحة” سے كیا مرادھے؟
“صیحة” لغت میں “بہت بلند آواز ” كو كہتے ھیں جو عام طور پر كسی انسان یا جانور كے منہ سے نكلتی ھے لیكن اس كا مفهوم اسی سے مخصوص نھیں ھے بلكہ ھر قسم كی ” نھایت بلند آواز “اس كے مفهوم میں شامل ھے ۔
آیات قرآنی كے مطابق صیحہ ٴآسمانی كے ذریعہ چند ایك گنہگارقوموں كوسزا دی گئی ھے ان میں سے ایك یھی قوم ثمود تھی، دوسری قوم لوط، (سورہٴ حجرآیت ۷۳)اور تیسری قوم شعیب ۔ (سورہٴ هودآیت ۹۴)
قرآن كی دوسری آیات سے قوم ثمود كے بارے میں معلوم هوتا ھے كہ اسے صاعقہ كے ذریعہ سزا هوئی ارشاد الٰھی ھے: “اگر وہ منھ پھیر لیں تو پھر كہہ دو كہ میں ایسی بجلی سے ڈراتا هوں جیسی عاد و ثمود پر گری”۔ (سورہٴ فصلت آیت۱۳)یہ چیز نشاندھی كرتی ھے كہ “صیحہ” سے مراد “صاعقہ” كی وحشتناك آوازھے 2
آیات قرآنی كے مطابق اس دنیا كا اختتام بھی ایك عمومی صیحہ كے ذریعے هوگا ۔
حضرت صالح(ع) كے ساتھ نجات پانے والے افراد
بعض مفسرین كہتے ھیں كہ حضرت صالح علیہ السلام كے دوستوں كی تعداد چار ہزار تھی۔جوآپ كے ساتھ عذاب سے بچ گئے تھے اور حكم پرردگار كے مطابق فساد و گناہ سے لبریز اس علاقہ سے كوچ كركے “حضر موت” جاپہنچے تھے۔
وادی القریٰ میں نو (۹) مفسدٹولوں كی سازش
یھاں پر حضرت صالح اور ان كی قوم كی داستان كا ایك اور حصہ بیان كیا گیا ھے جو درحقیقت گزشتہ حصے كا تتمہّ ھے اور اسی پر اس داستان كا اختتام هوتا ھے ۔اس میں حضرت صالح علیہ السلام كے قتل كے منصوبے كا ذكر ھے جو نوكا فراورمنافق لوگوں نے تیار كیا تھا اور خدا نے ان كے اس منصوبے كو ناكام بنادیا۔
ھم نے سنا ھے كہ جب هوائی جھازصوتی دیوارتوڑدیتے ھیں (اور آواز كی لھروں سے تیز رفتار سے چلتے ھیں) توكچھ لوگ بے هوش هوكر گرجاتے ھیں یا عورتوں كے حمل ساقط هوجاتے ھیں یا ان علاقوں میں موجود عمارتوں كے تمام شیشے ٹوٹ جاتے ھیں ۔
فطری اور طبیعی ھے كہ اگر آواز كی لھروں كی شدت اس سے بھی زیادہ هوجائے تو آسانی سے ممكن ھے كہ اعصاب میں، دماغ كی رگوں میں اور دل كی دھڑكن میں تباہ كن اختلال پیدا هوجائے جو انسانوں كی موت كا سبب بن جائے ۔آیات قرآنی كے مطابق اس دنیا كا اختتام میں تباہ كن اختلال پیدا هوجائے جو انسانوں كی موت كا سبب بن جائے گا۔
فرمایا گیا ھے: “اس شھر (وادی القریٰ) میں نوٹولے تھے جو زمین میں فساد برپا كرتے تھے اور اصلاح نھیں كرتے تھے ۔” (سورہ نمل آیت ۴۸)
ان نومیں سے ھرگروہ كا ایك ایك سربراہ بھی تھا اور شایدان میں سے ھر ایك كسی نہ كسی قبیلے كی طرف منسوب بھی تھا ۔ ظاھر ھے كہ جب صالح علیہ السلام نے ظهور فرمایا اور اپنا مقدس اور اصلاحی آئین لوگوں كے سامنے پیش كیا تو ان ٹولوں پر عرصہ حیات تنگ هونے لگا یھی وجہ ھے كہ قرآن كے مطابق انھوں نے كھا: ” آؤ خدا كی قسم اٹھا كر عہد كریں كہ صالح(ع) اور ان كے خاندان پر شب خون ماركر انھیں قتل كردیں گے پھر ان كے خون كے وارث سے كھیں گے كہ ھمیں اس كے خاندان كے قتل كی كوئی خبر نھیں اور اپنی اس بات میں ھم بالكل سچے ھیں۔” (سورہ نمل آیت ۴۹)
پھر لائق غور بات یہ ھے كہ انھوں نے قسم بھی “اللہ ” كی كھائی تھی جس سے ظاھر هوتا ھے كہ وہ بتوںكو پوجنے كے علاوہ زمین وآسمان كے خالق اللہ پر بھی عقیدہ ركھتے تھے اور اپنے اھم مسائل میں اسی كے نام كی قسم كھاتے تھے یہ بھی واضح هوتاھے كہ وہ اتنے مغرور اور بدمست هوچكے تھے كہ اس قدر هولناك جرم كے ارتكاب كے لئے بھی انھوں نے خدا ھی كا نام لیا گویاوہ كوئی اھم عبادت یا كوئی ایسا كام انجام دینے لگے هوں جو اللہ كو بہت منظور ھے خدا سے بے خبر مغروراور گمراہ لوگوں كا وطیرہ ایساھی هوا كرتا ھے ۔
وہ صالح(ع) علیہ السلام كے ھمنواؤں اور ان كے قوم وقبیلہ سے خوف كھاتے تھے لہٰذا انھوں نے ایسا منصوبہ بنایا كہ جس سے وہ اپنے مقصد میں بھی كامیاب هوجائیں اور صالح(ع) كے طرفداروں كے غیظ وغضب كابھی شكار نہ هوں۔ گویا وہ ایك تیر سے دو شكار كرنا چاہتے تھے بنابر این انھوں نے رات كے وقت حملہ كی تركیب سوچی اور طے كرلیا كہ جب بھی كوئی شخص ان سے پوچھ گچھ كرے گا تو سب متفق هوكر قسم اٹھائیں گے كہ اس منصوبے میں ان كا كوئی عمل دخل نھیں تھا یھاں تك كہ وہ اس وقت موجود بھی نھیں تھے ۔ (كیونكہ ان كی صالح(ع) كے ساتھ مخالفت پھلے سے دنیا كو معلوم تھی) ۔
تاریخوں میں ھے كہ ان كی سازش كچھ یوں تھی كہ شھر كے اطراف میں ایك پھاڑ تھا اور پھاڑمیں ایك غار تھی جس میں جناب صالح علیہ السلام عبادت كیا كرتے تھے اور كبھی كبھار وہ رات كو بھی اسی غار میں جاكر اپنے پروردگار كی عبادت كرتے تھے اور اس سے رازونیاز كیا كرتے تھے ۔
انھوں نے طے كرلیا كہ وھاں كمین لگا كر بیٹھ جائیں گے جب بھی صالح وھاں آئیں گے انھیں قتل كردیں گے ۔ان كی شھادت كے بعد ان كے اھل خانہ پر حملہ كركے انھیں بھی راتوں رات موت كے گھاٹ اتاردیں گے پھر اپنے اپنے گھروں كو واپس چلے جائیں گے اگر ان سے اس بارے میں كسی نے پوچھ بھی لیا تو اس سے لاعلمی كا اظھار كردیں گے ۔
یہ خالی گھر ان كے ھیں؟
لیكن خداوندعالم نے ان كی اس سازش كو عجیب وغریب طریقے سے ناكام بنادیا اور ان كے اس منصوبے كو نقش برآب كردیا ۔
جب وہ ایك كونے میں گھات لگائے بیٹھے تھے تو پھاڑسے پتھر گرنے لگے اور ایك بہت بڑا ٹكڑاپھاڑكی چوٹی سے گرا اور آن كی آن میں اس نے ان سب كا صفایا كردیا ۔
پھر قرآن پاك ان كی ھلاكت كی كیفیت اور ان كے انجام كو یوں بیان كرتا ھے: “دیكھویہ ان لوگوں ھی كے گھر ھیں كہ جو اب ان كے ظلم وستم كی وجہ سے ویران پڑے ھیں “۔ (سورہٴ نمل آیت ۵۲)
نہ وھاں سے كوئی آوازسنائی دیتی ھے ۔
نہ كسی قسم كا شور شرابہ سننے میں آتا ھے ۔
اور نہ ھی وہ زرق برق گناہ بھری محفلیں دكھائی دیتی ھیں ۔
جی ھاں: وھاں پر ظلم وستم كی آگ بھڑكی جس نے سب كو جلاكر راكھ كردیا ۔
ظالموں كے اس انجام میں خداوندعالم كی قدرت كی واضح نشانی اور درس عبرت ھے ان لوگوں كے لئے جو علم وآگھی ركھتے ھیں “۔ (سورئہ نمل آیت ۵۲)
لیكن اس بھٹی میں سب خشك وترنھیں جلے بلكہ بے گناہ افراد، گناہگاروں كی آگ میں جلنے سے بچ گئے ھم نے ان لوگوں كو بچالیا جو ایمان لاچكے تھے اور تقویٰ اختیار كرچكے تھے۔
بنابریں حضرت صالح كے قتل كی سازش كے بعد ھی عذاب نازل نھیں هوا بلكہ قوی احتمال یہ ھے كہ خدا كے اس پیغمبر كے قتل كی سازش كے واقعے میں فقط سازشی ٹولے ھلاك هوئے اور دوسرے ظالموں كو سنبھل جانے كے لئے مھلت دی گئی، لیكن ناقہ كے قتل كے بعد تمام ظالم اور بے ایمان گناہگار فناهوگئے جیسا كہ سورہ ٴ هود اور سورہٴ اعراف كی آیات كے ملانے سے یھی نكلتاھے ۔
1 . <ھذہ ناقة لھا شرب ولكم شرب یوم معلوم ۔> (سورہء شعراء آیت۱۵۵۔) نیز سورہٴ قمر كی آیت ۲۸ میں ھے: < ونبئھم ان الماء قسمة بینھم كل شرب محتضر ۔> سورہ شمس میں بھی اس امر كی طرف اشارہ موجود ھے: <فقال لھم رسول الله ناقة اللہ وسقیاھا۔> (سورہٴ شمس آیت ۱۳)
2. سوال پیدا هوتا ھے كہ كیا صاعقہ كی وحشت ناك آواز كسی جمعیت كو نابود كرسكتی ھے؟ اس كا جواب مسلما ًمثبت ھے۔ كیونكہ ھم جانتے ھیںكہ آوازكی لھریں جب ایك معین حدسے گزرجائیں تو وہ شیشے كو توڑدیتی ھیں یھاں تك كہ بعض عمارتوں كو تباہ كردیتی ھیںاورا نسانی بدن كے لئے اندر كے آرگا نزم كو بیكار كردیتی ھیں

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.