امام جعفر صادق (ع) اور مسئلہ خلافت (2)

165

ابو سلمہ كو وزير آل محمد (ع) اور ابو مسلم كو امير آل محمد (ص) كے لقب سے ياد كيا گيا ھے۔ يھي نوجوان امويوں كي حكومت كے خاتمے كا باعث بنے اگرچہ انھوں نے عباسيوں كو اقتدار حكومت سونپنے ميں بھر پور كردار ادا كيا تاھم ابو سلمہ ايسا نوجوان ھے كہ جو آخر ميں اس چيز كي خواھش ركھتا تھا كہ اقتدار آل علي (ع) كو منتقل كيا جائے۔ انھوں نے اسي مقصد كي تكميل كيلئے ايك خط امام جعفر صادق عليہ السلام اور عبداللہ محض كے نام بھي ارسال كيا تھا ان دونوں شخصيات ميں عبداللہ حكومت ملنے پر خوش اور آمادہ تھے ليكن امام جعفر صادق عليہ السلام نے ابو سلمہ كي اس پيش كش كو ذرہ بھر اھميت نہ دي۔ يھاں تك آپ نے اس كے خط كو بھي نہ پڑھا جب آپ كي خدمت ميں چراغ لايا گيا تو امام عليہ السلام نے اس خط كو نہ فقط پھاڑ ديا بلكہ اسے جلا بھي ديا اور فرمايا اس خط كا جواب يھي ھے اس سے متعلق ھم تفصيل سے گفتگو كر چكے ھيں۔امام جعفر صادق عليہ السلام نے سياسي و حكومتي امور ميں دلچسپي لينے اور ان ميں مداخلت كرنے كي بجائے گوشہ نشيني كو ترجيح دي اور آپ اقتدار كو سنبھالنے كي ذرا بھر خواھش نہ ركھتے تھے اور نہ ھي اس كے لئے كسي قسم كي كوشش كا سوال پيدا ھوتا ھے كہ امام عليہ السلام اگر كوشش كرتے تو اقتدار كو اپنے ھاتھ ميں لے سكتے تھے۔ اس كے باوجود آپ خاموش كيوں رھے؟ اس عدم دلچسپي كي وجہ كيا ھوسكتي ھے؟ جبكہ فضا بھي امام كے حق ميں تھي۔ بالفرض اگر اس مقصد كے لئے آپ شھيد بھي ھو جاتے تو شھادت بھي آل محمد (ص) كے لئے سب سے بڑا اعزاز ھے۔ ان سوالات كا جواب ديتے ھوئے، ايك بار پھر ھم امام جعفر صادق عليہ السلام كي ھمہ جھت شخصيت كے بارے ميں كچھ روشني ڈالتے ھيں تاكہ حقيقت پوري طرح سے روشن ھو جائے۔ ھم نے پہلے عرض كيا ھے كہ اگر امام حسين عليہ السلام اس دور ميں ھوتے تو آپ كا انداز زندگي بالكل امام جعفر صادق عليہ السلام اور ديگر آئمہ طاھرين (ع) جيسا ھوتا چونكہ امام حسين عليہ السلام اور ديگر اماموں كے دور ھائے امامت ميں فرق تھا اس لئے ھر امام نے مصلحت و حكمت عملي اپناتے ھوئے امن و آشتي كا راستہ اختيار كيا۔ ھماري گفتگو كا محوريہ نھيں ھے كہ امام عليہ السلام نے اقتدار كيوں نھيں قبول كيا؟ بلكہ بات يہ ھے كہ آپ چپ كيوں رھے اور ميدان جنگ ميں آكر اپني جان جان آفرين كے حوالے كيوں نھيں كى؟
امام حسين (ع) اور امام صادق (ع) كے ادوار ميں باھمي فرقان دو اماموں كا آپس ميں ايك صدي كا فاصلہ ھے۔ امام حسين عليہ السلام كي شھادت سال ۶۱ ھجري كو ھوئي اور امام صادق عليہ السلام كي شھادت ۱۴۸ كو واقع ھوئي گويا ان دو اماموں كي شھادتيں ۸۷ سال ايك دوسرے سے فرق ركھتي ھيں۔ اس مدت ميں زمانہ بہت بدلا، حالات نے كروٹ لي اور دنيائے اسلام ميں گونا گوں تبديلياں ھوئيں۔ حضرت امام حسين عليہ السلام كے دور ميں صرف ايك مسئلہ خلافت تھا كہ جس پر اختلاف ھوا دوسرے لفظوں ميں ھر چيز خلافت ميں سموئي ھوئي تھى، اور خلافت ھي كو معيار زندگي سمجھا جاتا تھا۔ اس وقت اختلاف كا مقصد اور بحث كا ما حصل يہ تھا كہ كس كو “امير امت” متعين كيا جائے اور كس كو نہ كيا جائے۔ اسي وجہ سے خلافت كا تصور زندگي كے تمام شعبوں پر محيط تھا۔ معاويہ سياسي لحاظ سے بہت ھي طاقتور اور ظالم شخص تھا۔ اس كے دور حكومت ميں سانس لينا بھي مشكل تھا۔ لوگ حكومت وقت كے خلاف ايك جملہ تك نہ كہہ سكتے تھے۔ تاريخ ميں ملتا ھے كہ اگر كوئي شخص حضرت علي عليہ السلام كي فضيلت ميں كوئي حديث بيان كرنا چاھتا تو وہ اپنے اندر خوف محسوس كرتا تھا اور اس كو دھڑكا سا لگا رھتا كہ كھيں حكومت وقت كو پتہ نہ چل جائے۔ نماز جمعہ كے اجتماعات ميں حضرت علي عليہ السلام پر كھلے عام تبرا كيا جاتا تھا۔ امام حسن عليہ السلام اور امام حسين عليہ السلام كي موجودگي ميں منبر پر حضرت امير عليہ السلام پر (نعوذ باللہ) لعنت كي جاتي تھي۔ جب ھم امام حسين عليہ السلام كي تاريخ كا مطالعہ كرتے ھيں تو معلوم ھوتا ھے كہ اس وقت كا موسم كس قدر پتھريلا اور سخت تھا؟كيسا عجيب دور تھا كہ امام حسين عليہ السلام جيسے امام سے ايك حديث، ايك جمعہ، ايك مكالمہ ايك خطبہ اور ايك تقرير اور ايك ملاقات كا ذكر نھيں ھے۔ عجيب قسم كي گھٹن تھي۔ لوگوں كو آپ سے ملنے نھيں ديا جاتا تھا۔آپ نے پچاس سالوں ميں كتني تلخياں ديكھيں۔ كتني پابندياں برداشت كيں۔ يہ صرف امام حسين عليہ السلام ھي جانتے ھيں يھاں تك آپ سے تين جملے بھي حديث كے نقل نھيں كيے گئے۔ آپ ھر لحاظ سے مصائب ميں گھرے ھوئے تھے۔يہ دور بھي گزر گيا جانے والے چلے گئے اور آنے والے آگئے بني اميہ كي حكومت ختم ھوئي اور بنو عباس كي حكومت شروع ھوئي اس وقت لوگوں ميں علمي و فكري لحاظ سے كافي تبديلي ھو چكي تھي۔ لوگ فكري لحاظ سے آزادي محسوس كرتے تھے۔ اس دور ميں جس تيزي سے علمي وفكري ترقي ھوئي اس كي تاريخ ميں كوئي نظير نھيں ھے۔ اسلامي تعليمات كي نشر واشاعت پر وسيع پيمانے پر كام ھونے لگا مثال كے طور پر علم قرات، علم تفسير، علم حديث، علم فقہ اور ديگر ادبي سرگرمياں عروج پر ھونے لگيں يھاں تك كہ طب، فلسفہ، نجوم اور رياضي وغيرہ جيسے علوم منظر عام پر آنے لگے۔يہ سب كچھ تاريخ ميں موجود ھے كہ حالات كا رخ بدلنے سے لوگوں ميں علمي وفكري شعور پيدا ھوا۔ باصلاحيت افراد كو اپني صلاحيتيں آزمانے كا موقعہ ملا۔ يہ علمي فضا اور تعليمي ماحول امام محمد باقر عليہ السلام اور امام جعفر صادق عليہ السلام كے زمانوں سے قبل وجود تك نہ ركھتا تھا۔ يہ سب كچھ صرف حالات بدلنے سے ھوا كہ لوگ اچانك علم و عمل، فكر و نظر كي باتيں سننے لگے اور پھر كيا ھوا كہ چھار سو علم كي روشني پھيلتي چلي گئي۔ اب اگر بنو عباس پابندي عائد كرنا بھي چاھتے تو ان كے بس سے باھر تھا۔ كيونكہ عربوں كے علاوہ دوسري قوميں مشرف بہ اسلام ھوچكي تھيں۔ ان قوموں ميں ايرانى غير معمولي حد تك روشن فكر تھے۔ ان ميں جوش و جذبہ بھي تھا اور علمي صلاحيت بھي۔ مصري اور شامى لوگ بھي فكري اعتبار سے خاصے زرخيز تھے۔ ان علاقوں ميں دنيا كے مختلف افراد آكر آباد ھوئے۔ پھر دنيا كے لوگوں كي آمد و رفت نے اس خطے كو علم و ادب كا گھوارا بنا ديا۔ مختلف قوميں، مختلف نظريات اور پھر بحث مباحثوں سے فضا ميں حيرت انگيز تبديلي رونما ھوئي۔ يھاں پر اسلام اور مسلمانوں كو غلبہ حاصل ھو چكا تھا۔ لوگ چاھتے تھے كہ اسلام كے بارے ميں زيادہ سے زيادہ معلومات حاصل كريں۔ دوسري طرف عرب قرآن مجيد ميں كچھ زيادہ غور و خوض نہ كرتے تھے، ليكن دوسري قوموں ميں قرآني تعليمات حاصل كرنے كے بارے ميں بہت زيادہ جذبہ كار فرما تھا۔ اس دور ميں قرآن مجيد كے ترجمہ، تفسير اور مفاھيم پر خاصہ كام ھوا اور لوگ قرآن مجيد كو بنيادي حيثيت دے كر بات كرتے تھے۔
نظريات كي جنگاچانك پھر كيا ھوا كہ عقائد و نظريات كا بازار گرم ھوگيا، سب سے پھلے تو تفسير قرآن، قرات اور آيات قراني پر بحث ھونے لگي۔ ايك ايسي جماعت پيدا ھوئي كہ جو لوگوں كو علم قرات، اور الفاظ، حروف كي صحيح ادائيگي كے بارے ميں تعليم دينے لگى، اس وقت قرآن مجيد كي اشاعت و طباعت ايسي نہ تھي كہ جيسا كہ ھمارے دور ميں ھے۔ ان ميں سے ايك شخص كھتا تھا ميں قرات كرتا ھوں اور يہ روايت فلاں بن فلاں صحابي سے نقل كرتا ھوں اور ان كي اكثريت حضرت علي عليہ السلام تك پھنچتي تھي۔ دوسرے افراد مختلف شخصيات سے روايت كرتے اسي طرح بحثوں اور مذاكروں كا سلسلہ عروج تك جا پھنچا۔ يہ لوگ مساجد ميں جاكر لوگوں كو قرآن مجيد كي تعليم ديتے۔ عربوں كي نسبت غير عرب زيادہ شوق و ذوق سے شركت كرتے تھے، اس كي وجہ يہ ھے كہ عجمي لوگ قرآن مجيد كو پڑھنے اور سمجھنے ميں زيادہ دلچسپي ليتے تھے۔ ايك قرات كے استاد مسجد ميں آكر لوگوں كو درس قرآن ديتے اور ان كے ارد گرد لوگوں كا ايك ھجوم جمع ھوجاتا۔ اتفاق سے قرات ميں بھي اختلاف پيدا ھوگيا پھر قرآن مجيد كے معاني پر اختلاف پيدا ھوگيا، كوئي كچھ معني كرتا اور كوئي كچھ ۔ اسي طرح احاديث كے بارے ميں بھي مختلف آراء تھيں۔ حافظ احاديث كو بہت زيادہ احترام كي نظر سے ديكھا جاتا تھا۔ وہ مساجد و محافل ميں بڑے فخر و انبساط سے احاديث نقل كرتا اور لوگوں كو نئے اسلوب كے ساتھ حديثيں بيان كرتا۔ نقل احاديث كے مراحل بھي بيان كرتا كہ يہ حديث ميں نے فلاں سے سني اور اس نے فلاں سے اور فلاں نے پيغمبر اكرم (ص) سے نقل كي ھے پھر اس كا معني و مفھوم يہ ھے۔ان ميں قابل احترام طبقہ فقھاء كا تھا لوگ ان سے فقھي مسائل پوچھتے تھے جيسا كہ اب بھي لوگ علماء سے شرعي و فقھي مسائل دريافت كرتے ھيں۔فقھاء كي ايك كثير تعداد مختلف علاقوں ميں پھيل گئي۔ لوگوں كو آسان طريقے سے بتايا جاتا تھا كہ يہ چيز حلال ھے اور يہ حرام يہ چيز پاك ھے اور يہ نجس يہ كاروبار صحيح ھے اور يہ ناجائز وغيرہ وغيرہ، مدينہ بہت بڑا علمي مركز تھا اور دوسرا بڑا مركز كوفہ ميں قائم تھا۔ جناب ابو حنيفہ كوفہ ميں تھے بصرہ بھي علمي لحاظ سے كافي اچھي شھرت كا حامل تھا۔ اس كے بعد امام جعفر صادق عليہ السلام كے دور امامت ميں اندلس فتح ھوا تو يھاں پر بھي علمي مركز قائم ھوگيا دوسرے لفظوں ميں يوں سمجھئے كہ ھر اسلامي شھر علم و عمل كا مركز كھلاتا تھا كھا جاتا تھا كہ فلاں فقيھہ كا يہ نظريہ ھے اور فلاں فقيھہ يہ فرماتے ھيں مختلف مكاتب فكر كي موجودگي ميں اختلاف رائے كا پيدا ھونا ضروري امر تھا۔ چنانچہ فقھي ميدان ميں بھي عقائد كي جنگ چھڑ گئي اور يہ روز بروز زور پكڑتي گئي۔ ان تمام اختلافات سے بڑھ كر اختلاف “علم كلام” كا تھا۔پہلي صدي ھي ميں متكلم حضرات كي آمد شروع ھوگئي جيسا كہ ھم امام جعفر صادق عليہ السلام كے دور ميں ديكھتے ھيں كہ “متكلمين” آپس ميں بحث مباحثہ كرتے اور امام جعفر صادق عليہ السلام كے بعض شاگرد علم كلام ميں خاص مھارت ركھتے تھے اور اعتراض كرنے والوں كو بڑے شائستہ طريقے سے جواب ديتے تھے۔ يہ لوگ خدا، صفات خدا اور قرآن مجيد كي ان آيات سے متعلق بحث و تمحيص كرتے جو خدا كے بارے ميں ھوا كرتي تھيں۔ كہا جاتا تھا كہ خدا كي فلاں صفت عين ذات ھے يا نھيں، كيا وہ حادث ھے يا قديم؟ نبوت اور وحي كے بارے ميں بحث كي جاتي تھى، شيطان كو بھي بحث ميں لايا جاتا ھے كہ يہ كون ھے؟ اور كھاں سے آيا ھے اس كا كام كيا ھے اور اس كے شر سے كيسے بچا جاسكتا ھے؟ پھر ايمان اور عمل پر روشني ڈالي جاتي قضا وقدر، جبر و اختيار پر گفتگو ھوتي۔ غرض كہ علم كلام كے ماھرين كے مابين نوك جھونك ھوتي رھتي اور مباحثوں كا يہ طويل سلسلہ بڑھتا چلا گيا اور آج تك موجود ھے اور قيامت تك رھے گا ليكن بحث كے وقت انسان انتھا پسندانہ رويے كو ترك كركے صلح و آشتي اور پرامن رويے كو اپنے سامنے ركھے۔ ان بحثوں كا نتيجہ تھا كہ ايك خطرناك ترين گروہ پيدا ھو گيا۔ ان كو آپ زنديق، لا مذھب كھہ سكتے ھيں۔ يہ لوگ خدا اور اديان كے قائل نہ تھے۔ ان كو ھر لحاظ سے مكمل آزادي تھى، يہ مكہ و مدينہ، مسجد الحرام يھاں تك مسجد الحرام اور مسجد النبي ميں بيٹھ كر اپنے عقائد كي ترويج كرتے تھے۔اگر چہ وہ ھمارے نزديك ايك بے دين كي سي حيثيت ركھتے ھيں ليكن وہ پڑھے لكھے ضرور تھے، ان كے سينوں ميں علم اور ان كے ذھنوں ميں فكر تھى، جو انھيں كچھ سوچنے اور بولنے پر مجبور كر رھي تھي يہ اور بات ھے كہ وہ سيدھي راہ سے بھٹك گئے تھے۔ ان ميں كچھ سرياني زبان بولتے تھے اور كچھ يوناني زبان جانتے تھے، كچھ ايرانى تھے كہ فارسي بولتے تھے۔ كچھ ھندي زبان جانتے تھے۔ سر زمين ھند سے كافي زنديق منگوائے گئے تھے۔ يہ ايك الگ بحث ھے كہ زنديقيوں كا وجود كھاں سے شروع ھوا اور اس كي وجہ كيا ھے؟اس دور كي ايك اور بات كہ لوگ افراط وتفريط كا شكار ھوگئے تھے۔ كچھ لوگ صوفيوں اور خشك مقدس مولويوں كے روپ ميں سامنے آگئے۔ يہ صوفي حضرات بھي حضرت امام جعفر صادق عليہ السلام كے دور امامت ميں وارد ھوئے۔ انھوں نے بہت جلد اپنا ايك مستقل اور الگ گروہ بنا ليا۔ يہ كھلے عام تبليغ كرتے تھے۔يہ لوگ اسلام كے خلاف كوئي بات نہ كرتے بلكہ لوگوں كو يہ باور كرانے كي كوشش كرتے تھے كہ اصل اسلام وھي ھے كہ جو يہ كھہ رھے ھيں۔ ان خشك مقدس مولويوں نے لوگوں ميں عجيب قسم كا نظريہ پيدا كرنے كي بھر پور كوشش كي۔ ان كا ظاھري صالحانہ، عابدانہ اور زاھدانہ انداز اختيار كرنا زبردست كشش كا باعث بنا اور يہ خالص اور حقيقي دين اسلام كے ليے زبر دست خطرے كا باعث تھا خوارج بھي اسي نظريہ كي پيداوار ھيں۔
امام جعفر صادق (ع) اور مختلف مكاتب فكرھم ديكھتے ھيں كہ امام جعفر صادق عليہ السلام نے اتني بڑي مشكلات اور پريشانيوں كے باوجود مختلف فكر سے تعلق ركھنے والے افراد كي اسلامي طريقے سے تربيت كرنے كي بھر پور كوششيں كيں۔ قرآت اور تفسير ميں امام عليہ السلام نے انتھائي قابل ترين شاگرد تيار كيے جو لوگوں كو قرآن مجيد كي صحيح طريقے سے تعليم ديتے اور ان كو صحيح تفسير سے متعارف كراتے، جہاں كہيں كسي قسم كي غلطي ديكھتے فوراً پكار اٹھتے اور بروقت اصلاح كرنے كي كوشش كرتے۔ پھر ايسے ھونھار طلبہ بھي ميدان ميں آئے جو علم حديث ميں پوري طرح سے مھارت ركھتے۔ نا سمجھ لوگوں كو بتايا جاتا كہ حديث صحيح ھے اور يہ صحيح نھيں ھے۔ اس حديث كا سلسلہ پيغمبر اسلام (ص) تك پھنچتا ھے اور يہ حديث من گھڑت ھے۔فقھي مسائل كے حل اور لوگوں كي شرعي احكام ميں تربيت كے ليے آپ كے لائق ترين شاگردوں نے بھر پور كردار ادا كيا۔ جولوگ فقہ سے نا آشنائي ركھتے يہ نوجوان طلبہ قريہ قريہ جاكر لوگوں كو حلال وحرام اور ديگر مسائل فقھي كي تعليم ديتے۔ يہ ايك عجيب اتفاق ھے كہ برادران اھل سنت كے تمام بڑے مذھبي رھنما كسي نہ كسي حوالے سے امام جعفر صادق عليہ السلام سے علمي فيض حاصل كرتے رھے ھيں۔تاريخ كي تمام كتب ميں درج ھے كہ جناب ابو حنيفہ دو سال تك امام عليہ السلام سے پڑھتے رھے ھيں۔ جناب ابو حنيفہ كا ايك قول بھت مشھور ھے اور يہ قول تمام كتب اھل سنت ميں موجود ھے كہ ملت حنفيہ كے سر براہ جناب ابو حنيفہ نے فرمايا كہ”لولا السنتان لھلك نعمان””اگر ميں نے وہ دو سال امام عليہ السلام كي شاگردي ميں نہ گزارے ھوتے تو ميں ھلاك ھوجاتا۔”جناب ابو حنيفہ كا اصل نام نعمان ھے۔ كتب ميں آپ كو نعمان بن ثابت بن زوطي بن مرزبان، كے نام سے ياد كيا گيا ھے۔ آپ كے آباؤ اجداد ايرانى تھے۔اسي طرح اھلسنت كے دوسرے امام جناب مالك بن انس امام جعفر صادق عليہ السلام كے ھم عصر تھے۔ جناب مالك نے بھي امام عليہ السلام سے كسب فيض كيا اور عمر بھر اس پر فخر كرتے رھے۔ امام شافعي كا دور بعد كا دور ھے انھوں نے جناب ابو حنيفہ كے شاگردوں، مالك بن انس اور احمد بن حنبل سے استفادہ كيا۔ ليكن ان كے اساتذہ كا سلسلہ امام جعفر صادق عليہ السلام سے جا ملتا ھے۔ اپنے وقت كے چند علماء، فقہاء، محدثين امام جعفر صادق عليہ السلام كي علمي و ديني فيوضيات سے مستفيض ھوئے۔ امام عليہ السلام كے حلقہ درس ميں علماء و فضلاء كا ھمہ وقت ٹھٹھ لگا رھتا تھا۔ اب ميں اھل سنت كے بعض علماء كے امام جعفر صادق عليہ السلام كے بارے ميں تاثرات پيش كرتا ھوں اس اميد كے ساتھ كہ ھمارے محترم قارئين اسے پسند فرمائيں گے۔
امام جعفر صادق (ع) كے بار ے ميں جناب مالك كے تاثراتجناب مالك بن انس مدينہ ميں رھائش پزير تھے۔ نسبتاً خود پسند انسان تھے۔ ان كا كھنا ھے كہ ميں جب بھي حضرت امام جعفر صادق عليہ السلام كي خدمت ميں حاضر ھوتا تو آپ كو ھميشہ اور ھر وقت ھنستا مسكراتا ھوا پاتا۔”وكان كثير التبسم”آپ كے ھونٹوں پر ھميشہ مسكراھٹ كے پھول كھلے ھوئے ھوتے تھے۔”گويا آپ كو ميں نے ھميشہ خوش اخلاق پايا۔ آپ كي ايك عادت يہ تھي كہ جب آپ كے سامنے پيغمبر اسلام (ص) كا نام مبارك ليا جاتا تو آپ كے چھرے كا رنگ يكسر بدل جاتا۔ ميں اكثر اوقات امام عليہ السلام كے پاس آتا رھتا تھا۔ آپ اپنے زمانے كے عابد و زاھد انسان تھے۔ تقويٰ و پرھيز گاري اور راستبازي ميں آپ كا كوئي ثاني نھيں تھا۔ جناب مالك ايك واقعہ نقل كرتے ھوئے كھتے ھيں كہ ميں ايك مرتبہ امام عليہ السلام كے ھمراہ تھا جب ھم مدينہ سے نكل كر مسجد الشجرہ پر پھنچے تو ھم نے احرام باندھ ليا ھم چاھتے تھے كہ لبيك كھيں اور رسمي طور پر محرم ھو جائيں، چنانچہ ھم نے لبيك كھنا شروع كيا اور احرام باندھا تو ميري نگاہ امام عليہ السلام پر پڑي تو ميں نے ديكھا كہ آپ كے چھرہ اقدس كا رنگ يكسر بدل گيا ھے، اور آپ كا بدن كانپ رھا ھے۔ يوں لگتا تھا كہ شايد سواري سے گر جائيں۔ خدا خوفي كي وجہ سے آپ پر عجيب قسم كي كيفيت طاري تھي۔ ميں نے عرض كيا اے فرزند رسول (ص) ! اب آپ لبيك كھہ ھي ديں تو آپ نے فرمايا ميں كيا كھوں اور كيسے كھوں اگر ميں لبيك كھتا ھوں؟ تو مجھے جواب ملے كہ لا لبيك تو اس وقت ميں كيا كروں گا؟ اس روايت كو آقا شيخ عباس قمي اور دوسرے مورخين نے اپني كتب ميں نقل كيا ھے۔ اس روايت كے راوي جناب مالك بن انس ھيں جو اھل سنت حضرات كے بہت بڑے امام ھيں جناب مالك كا كھنا ھے كہ:”ما رات عين ولا سمعت اذن ولا خطر علي قلب بشر افضل من جعفر بن محمد”آنكھ نے نھيں ديكھا كان نے نھيں سنا اور كسي كے خيال خاطر ميں نھيں آيا كہ كوئي مرد امام جعفر صادق عليہ السلام سے افضل نظر سے گزرا ھو۔”محمد شھرستاني جو كتاب الملل والنحل كے مصنف ھيں آپ پانچويں ھجري ميں بہت بڑے عالم، متكلم، فلاسفي ھو كر گزرے ھيں۔ ديني و مذھبي اور فلسفيانہ اعتبار سے يہ كتاب دنيا بھر ميں مشھور ھے۔ مصنف كتاب ايك جگہ پر امام جعفر صادق عليہ السلام كا تذكرہ كرتے ھوئے لكھتا ھے كہ:”ھو ذو علم غرير”كہ آپ كا علم ٹھاٹھيں مارتا ھوا سمندر تھا۔”وادب كامل في الحكمۃ”حكمت ميں ادب كامل تھے۔”وزھد في الدنيا وورع تام عن الشھوات”آپ غير معمولي پر متقي و پرھيز گار تھے آپ خواھشات نفساني سے دور رھتے تھے۔””ويفيض عليٰ الموالي لہ اسرار العلوم ثم (دخل العراق)”آپ سرزمين مدينہ ميں رہ كر دوستوں اور لوگوں كو علم كي خيرات بانٹتے تھے۔” پھر آپ عراق تشريف لے آئے يہ مصنف امام عليہ السلام كي سياست سے كنارہ كشي پر تبصرہ كرتے ھوئے لكھتا ھے۔”ولا نازع في الخلافۃ احدا””كہ آپ نے خلافت كے مسئلہ پر كسي سے كسي قسم كا اختلاف ونزاع نہ كيا۔”اس كنارہ گيري كي وجہ يہ تھي كہ چونكہ آپ علم و معرفت كے سمندر ميں غوطہ زن رھتے تھے اس ليے دوسرے كاموں كے ليے آپ كے پاس وقت ھي نہ تھا۔ ميں محمد شھرستاني كي توجيہ كو صحيح نھيں سمجھتا۔ ميرا مقصود اس سے يہ ھے كہ اس نے كھلے لفظوں ميں امام كي غير معمولي معرفت كا اعتراف كيا ھے لكھتا ھے۔”ومن غرق في بحر المعرفۃ لم يقع في شط”كہ جو دريائے معرفت ميں ڈوبا ھوا ھو وہ خود كو كنارے پر نھيں لے آئے گا” اس كے نزديك خلافت و حكومت ايك سطحي سي چيزيں ھيں جبكہ علم و معرفت كي بات ھي كچھ اور ھے۔”ومن تعليٰ اليٰ ذروۃ الحقيقۃ لم يخف من حط”كہ جو حقيقت كي بلند و بالا چوٹيوں پر پھنچ جائے وہ نيچے كي طرف آنے سے كيسے ڈرے گا۔”با وجوديكہ شھرستاني شيعوں كا مخالف شخص ھے، ليكن امام جعفر صادق عليہ السلام كے بارے ميں مدحت سرائي كر رھا ھے۔ اس نے اپني كتاب الملل و النحل ميں شيعوں كے خلاف بہت زيادہ زھر اگلا ھے۔ ليكن اس نے امام عليہ السلام كو بہت ھي اچھے لفظوں كے ساتھ ياد كيا ھے۔ اگر چہ يہ دشمن تھا ليكن حقيقت كو ماننے پر مجبور ھو گيا۔ يہ نہ مانتا تو كيسے نہ مانتا؟ امام جعفر صادق عليہ السلام جيسا كوئي ھوتا تو يہ سامنے لاتا۔ سورج كا بھلا چراغوں سے كيسے مقابلہ كيا جاسكتا ھے؟ اب بھي دنيا ميں ايسے علماء موجود ھيں جو شيعيت كے سخت دشمن ھيں۔ ليكن امام جعفر صادق عليہ السلام كا بيحد احترام كرتے ھيں۔ وہ كھتے ھيں كہ شيعہ حضرات سے جن باتوں پر ھمارا اختلاف ھے۔ وہ امام جعفر صادق عليہ السلام سے بيان كردہ باتوں ميں نھيں ھے كيونكہ صادق آل محمد عليھم السلام ايك انتھائي باكمال شخصيت و بے نظير حيثيت كے مالك انسان تھے اور آپ كي علمي خدمات اور ديني احسانات كو كبھي اور كسي طور بھي نھيں بھلايا جاسكتا۔احمد آمين كي رائے فجر الاسلام، ضحيٰ الاسلام، ظھر الاسلام، يوم الاسلام يہ احمد آمين كي معروف ترين كتب ھيں۔ احمد آمين ھمارے ھم عصر عالم دين ھيں۔ اور يہ شيعوں كے سخت مخالف ھيں۔ ان كو مذھب شيعہ كے بارے ميں ذرا بھر علم نھيں ھے۔ سني سنائي باتوں كو وجہ اعتراض بناكر شيعوں كے خلاف اپني كتابوں ميں انھوں نے بھت كچھ لكھا ھے۔ حالانكہ اس سطح اور اس پائے كے عالم دين كو حق كو سامنے ركھ كر حقيقت پسندي كا مظاھرہ كرنا چاھيے تھا۔ ليكن انھوں نے امام جعفر صادق عليہ السلام كي جتني تعريف كي ھے اتني كسي اور سني عالم نے نھيں كي۔ امام عليہ السلام كے فرامين اور ارشادات كي تفسير و تشريح اس انداز ميں كي ھے كہ كوئي عالم دين بھي نہ كر سكے۔ اس كي وجہ يہ ھے كہ انھوں نے امام جعفر صادق عليہ السلام كي سيرت اور تاريخ كا مطالعہ كيا ھے۔ ملت اسلاميہ، مذھب جعفريہ كے بارے ميں ذرا بھر بھي تحقيق كرنے كي زحمت گوارا نہيں كي۔ كاش وہ شيعوں كے بارے ميں حقيقت پسندي سے كام ليتے اور ايك عظيم اور شريف ملت پر الزامات عائد كر كے اپني كتب كے صفحات كو سياہ نہ كرتے؟
جاحظ كا اعترافميرے نزديك جاحظ كي علمي صلاحيت اور ديني قابليت دوسرے سني علماء سے بڑھ كر ھے۔ يہ شخص دوسري صدي كے اواخر اور تيسري صدي كے اوائل كا سب سے بڑا عالم ھے۔ يہ شخص ذھانت ومطانت كا عظيم شاھكار ھونے كےساتھ ساتھ غير معمولي حد تك صاحب مطالعہ تھا۔ جاحظ نہ صرف اپنے عھد كا بہت بڑا اديب ھے بلكہ ايك بہت بڑا محقق اور مورخ بھي ھے انھوں نے حيوان شناسي پر ايك كتاب الحيوان تحرير كي تھي آج يہ كتاب يورپي سائنسدانوں كے نزديك بہت اھميت ركھتي ھے۔ بلكہ ماھرين حيوانات اس كتاب پر نئے نئے تحقيقات كر رھے ھيں۔ جانوروں اور حيوانات كے بارے ميں اس سے بڑھ كر كوئي كتاب نھيں ھے۔ يہ كتاب اس دور ميں لكھي گئي جب يونان اور غير يونان ميں جديد علوم نے اتني ترقي نہ كي تھي۔ اس وقت ان كے پاس كسي قسم كا موادنہ تھا۔ انھوں نے اپني طرف سے حيوانات پر تحقيق كر كے دنيا بھر كے جديد و قديم ماھرين كو ورطئہ حيرت ميں ڈال ديا ھے۔جاحظ ايك متعصب سني عالم ھے۔ انھوں نے شيعوں كے ساتھ مناظرے بھي كئے اور انتھا پسندي كے باعث شيعہ حضرات ان كو ناصبي بھي كھتے ھيں۔ ليكن ميں ذاتي طور پر كم از كم ان كو ناصبي نھيں كھہ سكتا۔ يہ شخص امام جعفر صادق عليہ السلام كے دور كا عالم ھے۔ ھوسكتا ھے اس نے امام عليہ السلام كا آخري دور پايا ھو؟ شايد يہ اس وقت بچہ ھو يا يہ بھي ھوسكتا ھے كہ امام عليہ السلام كا دور ايك نسل قبل كا دور ھو۔ كھنے كا مقصد يہ ھے كہ اس كا دور اور امام عليہ السلام ايك دوسرے كے بہت قريب ھے۔ بھر حال جاحظ امام جعفر صادق (ع) كے بارے ميں اظھار خيال كرتے ھوئے لكھتا ھے كہ:”جعفر بن محمد الذي ملأ الدنيا علمہ و فقھہ”كہ امام جعفر صادق عليہ السلام نے پوري دنيا كو علم و دانش اور معرفت و حكمت سے پر كرديا ھے۔”ويقال ان ابا حنيفۃ من تلامذتہ و كذلك سفيان الثورى”كہا جاتا ھے كہ جناب ابو حنيفہ اور سفيان ثوري كا شمار امام عليہ السلام كے شاگردان خاص ميں سے ھوتا ھے سفيان ثوري بہت بڑے فقيھہ اور سوفي ھو كر گزرے ھيں۔
مير علي ھندي كا نظريہمير علي ھندي ھمارے ھم عصر سني عالم ھيں وہ امام جعفر صادق عليہ السلام كے بارے ميں اظھارے خيال كرتے ھوئے لكھتے ھيں كہ”لا مشاحۃ ان انتشار العلم في ذلك الحين قد ساعد علي فك الفكر من عقالہ”علوم كا پھيلاؤ اس زمانے ميں ممكن بنايا گيا اور لوگوں كو فكري آزادي ملي اور ھر طرح كي پابندياں ختم كردي گئيں۔”فاصبحت المناقشات الفلسفيۃ عامۃ في كل حاضرۃ من حواضر العالم الاسلامى””دنيا بھر كے اسلامي حلقوں ميں علمي و عقلي اور فلسفيانہ مباحث كو رواج ملا۔”جناب ھندي مزيد لكھتے ھيں كہ:”ولا يفوتنا ان نشير الي ان الذي تزعم تلك الحركۃ ھو حفيد علي ابن ابي طالب المسمي بالامام الصادق”ھم سب كو يہ بات ھرگز نھيں بھولني چاھيے كہ جس عظيم شخصيت نے دنيائے اسلام ميں فكري انقلاب كي قيادت كي ھے وہ حضرت علي ابن ابي طالب عليہ السلام كے پوتے ھيں اور انكا نام نامي امام صادق (ع) ھے۔”وھو رجل رحب افق التفكير”وہ ايسے انسان تھے كہ جن كا افق فكري بہت بلند ھے يعني جن كي فكري وسعت كي كوئي حد نہ تھي۔””بعيد اغوار العقل”ان كي عقل و فكر بہت گھري تھي ۔””ملم كل المام بعلوم عصرہ”آپ اپنے عھد كے تمام علوم پر خصوصي توجہ ركھتے تھے۔ جناب ھندي مزيد كھتے ھيں ۔”ويعتبر في الواقع ھو اول من اسس المدارس الفلسفيۃ المشھورۃ في الاسلام”در حقيقت سب سے پھلے جس شخصيت نے جديد علمي مراكز قائم كيے ھيں وہ امام جعفر صادق عليہ السلام ھي ھيں۔”ولم يكن يحضر حلقته العلميۃ اولئك الذين اصبحوا مؤسسي المذاھب الفقھيۃ فحسب بل كان يحضرھا طلاب الفسفۃ والمتفلسفون من انحاء الواسعۃ”وہ كہتا ھے كہ آپ نہ صرف ابو حنيفہ جيسي بزرگ شخصيت كے استاد تھے بلكہ جديد علوم كي بھي طلبہ كو تعليم ديا كرتے تھے گويا جديد ترقي امام عليہ السلام كي مرھون منت ھے۔
احمد زكي صالح كے خيالاتكتاب امام صادق عليہ السلام ميں آقائے مظفر احمد زكي صالح ماھنامہ الرسالۃ العصريہ سے نقل كرتے ھيں كہ شيعہ فرقہ كي علمي پيشرفت تمام فرقوں سے زيادہ ھے۔ كھا جاتا ھے كہ علوم كي ترقي اور پيشرفت ميں اھل ايران كا بھت بڑا عمل دخل ھے۔ يہ اس وقت كي بات ھے كہ جب ايران ميں شيعوں كي اكثريت نہ تھي۔ ابھي ھم اس كے بارے ميں بحث نھيں كرتے يہ پھر كبھي سھي يہ مصري لكھتا ھے:”من الجلي الواضح لدي كل من درس علم الكلام الفرق الشيعۃ كانت انشط الفرق الاسلاميۃ حركۃ”كہ واضح سي بات ھے كہ ھر وہ شخص جو ذرا بھر علمي شعور ركھتا ھے وہ اس بات كا معترف ھے كہ شيعہ فرقہ كي مذھبي و علمي پيشرفت تمام فرقوں سے زيادہ ھے۔”وكانت اوليٰ من اسس المذاھب الدينيۃ علي اسس فلسفيۃ حتيٰ ان البعض ينسب الفلسفۃ خاصۃ بعلي بن ابي طالب””يعني شيعہ پہلا اسلامي مذھب ھے كہ جو ديني مسائل كو فكري و عقلي بنيادوں پر حل كرتا ھے۔ شيعہ يعني امام جعفر صادق عليہ السلام كے دور امامت ميں مختلف علوم كو عقلي و فكري لحاظ سے پركھا جاتا تھا۔ اس كي بھترين دليل يہ ھے كہ اھل تسنن كي احاديث كي ان كتابوں (صحيح بخارى، صحيح مسلم، جامع ترمذى، سنن ابي داؤد و صحيح نسائي) ميں صرف اور صرف فروعي مسائل كو پيش كيا گيا ھے۔ دوسرے لفظوں ميں بتايا گيا ھے كہ وضو كے احكام يہ ھيں، نماز كے مسائل كچھ اس طرح كے ھيں۔ روزہ، حج، جھاد، وغيرہ كے احكام يہ ھيں۔ مثال كے طور پر پيغمبر اسلام (ص) نے سفر ميں اس طرح عمل فرمايا ھے ليكن آپ اگر شيعہ كي احاديث كي كتب كا مطالعہ كريں تو آپ ديكھيں گے شيعہ احاديث ميں سب سے پھلے عقل و جھل كے بارے ميں گفتگو كي گئي ھے، ليكن اھل سنت حضرات كي كتب ميں اس طرح كي باتيں موجود نھيں ھيں۔ ميں يہ كھنا چاھتا ھوں كہ اس كي بنياد صرف امام جعفر صادق عليہ السلام ھيں، بلكہ امام صادق عليہ السلام كے ساتھ ساتھ اس ميں تمام آئمہ طاھرين عليھم السلام كي كوشش بھي شامل ھيں۔ اس كي اصل بنياد تو خود حضرت پيغمبر اكرم (ص) كي ذات گرامي ھے۔ اس عظيم مشن كا آغاز حضرت رسالت مآب صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم نے كيا تھا اور اسے آگے آل محمد (ص) نے بڑھايا ھے۔چونكہ امام جعفر صادق (ع) كو كام كرنے كا خوب موقعہ ملا ھے اس ليے آپ نے اپنے آباءو اجداد كي علمي ميراث كو كما حقہ محفوظ ركھا ھے۔ اور اس عظيم ورثہ كو قيامت تك آنے والي نسلوں كيلئے ثمر آور بناديا۔ ھماري احاديث كي كتب ميں كتاب العقل والجھل كے بعد كتاب التوحيد آتي ھے۔ ھمارے پاس توحيد الٰھي كے بارے ميں ھزاروں مختلف احاديث موجود ھيں۔ ذات خداوندى، معرفت الٰھى، فضاء و قدر، جبر و اختيار سے متعلق ملت جعفريہ كے پاس نہ ختم ھونے والا ذخيرہ احاديث موجود ھے۔ شيعہ قوم فخر سے كھہ سكتي ھے كہ امام جعفر صادق عليہ السلام اور ھمارے جليل القدر ديگر آئمہ طاھرين نے جتنا ھميں ديا ھے اتنا كسي اور پيشوا نے اپني ملت كو نھيں ديا۔ اس ليے ھم كھہ سكتے ھيں كہ فكرى، علمي اور عقلي و نظرياتي لحاظ سے امام جعفر صادق عليہ السلام نے نئے علوم كي بنياد ركھ كر بني نوع انسان پر بہت بڑا احسان كيا ھے۔
جابر بن حيانايك وقت ايسا آيا كہ ايك نئي اور حيرت انگيز خبر نے پوري دنيا كو ورطئہ حيرت ميں ڈال ديا وہ تھي جابر بن حيان كي علمي دنيا ميں آمد ۔ تاريخ اسلام كے اس عظيم ھيرو كو جابر بن حيان صوفي بھي كھا جاتا ھے۔ اس دانائے راز نے علمي انكشاف اور سائنسي تحقيقات كے حوالے سے ايك نئي تاريخ رقم كر كے مسلمانوں كا سر فخر سے بلند كر ديا۔ ابن النديم نے اپني مشھور كتاب الفھرست ميں جناب جابر كو ياد كرتے ھوئے لكھا ھے كہ جابر بن حيان ايك سو پچاس علمي وفلسفي كتب كے مصنف و مؤلف ھيں۔ كيمسٹري جابر بن حيان كے فكري احسانات كا صلہ ھے۔ ان كو كيمسٹري كي دنيا ميں باپ اور باني كا درجہ ديا جاتا ھے۔ ابن النديم كے مطابق جناب جابر حضرت امام جعفر صادق عليہ السلام كے دسترخوان علم سے خوشہ چيني كرنے والوں ميں سے ايك ھيں۔ابن خلكان ايك سني رائٹر ھيں۔ وہ جابر بن حيان كے بارے ميں لكھتے ھيں كہ كيمسٹري كا يہ باني امام جعفر صادق عليہ السلام كا شاگر تھا۔ دوسرے مورخين نے بھي كچھ اس طرح كي عبارت تحرير كي ھے۔ لطف كي بات يہ ھے كہ جن جن علوم كي جناب جابر نے بنياد ركھي ھے وہ ان سے پھلے بالكل وجود ھي نہ ركھتے تھے۔ پھر كيا ھوا كہ جابر بن حيان نے نئي نئي اختراعات ايجاد كر كے جديد ترين دنيا كو حيران كر ديا۔ اس موضوع پر اب تك سينكڑوں كتابيں اور رسالہ جات شائع ھو چكے ھيں۔ دنيا بھر كے سائنسدان اور ماھرين نے جناب جابر كي جديد علمي خدمات كو بيحد سراھتے ھوئے كھا ھے كہ اگر جابر نہ ھوتے تو پوري انسانيت اتنے بڑے علم سے محروم رھتي۔ ايران كے ممتاز دانشور جناب تقي زادہ نے جابر بن حيان كي علمي وديني خدمات پر انھيں زبردست خراج تحسين پيش كيا ھے۔ ميرے خيال ميں جابر كے متعلق بھت سي چيزيں مخفي اور پوشيدہ ھيں۔ تعجب كي بات يہ ھے كہ شيعہ كتب ميں بھي جناب جابر جيسے عظيم ھيرو كا تذكرہ بھت كم ھوا ھے۔ يھاں تك كہ بعض شيعہ علم رجال اور حديث كي كتابوں ميں اسي بزرگ ھستي كا نام كھيں پہ استعمال نھيں ھوا۔ ابن النديم شائد شيعہ ھو اس لئے انھوں نے جناب جابر كا نام اور تذكرہ خاص اھتمام اور احترام كے ساتھ كيا ھے۔ يہ ايك حقيقت ھے كہ پوري دنيا كو بالآخر ماننا پڑا كہ امام جعفر صادق عليہ السلام نے جس طرح لائق و فائق علماء تيار كئے ھيں اتنے اور كسي مذھب نے پيشوا نھيں كئے۔
ھشام بن الحكمامام جعفر صادق عليہ السلام كے ايك اور معروف شاگرد كا نام ھشام بن الحكم ھے۔ يہ شخص واقعتاً نابغہ روزگار ھے، اپنے دور كے تمام دانشوروں پر ھميشہ ان كو برتري حاصل رھي ھے۔ آپ جب بھي كسي موضوع پر بات چيت كرتے تو سننے والوں كو مسحور كر ديتے۔ اس مرد قلندر كي زبان ميں عجيب تاثير تھي۔ جناب ھشام سے بڑے بڑے علماء آكر شوق وذوق كے ساتھ بحث و مباحثہ كرتے اور سمندر علم كي جولانيوں اور طوفان خيزيوں كو ديكھ كر وہ اپنے اندر ايك خاص قسم كا اطمينان و سكون حاصل كرتے۔ يہ سب كچھ ميں اھل سنت بھائيوں كي كتب سے پيش كر رھا ھوں۔ ابو الھزيل علاف ايك ايرانى النسل دانشور تھے۔ آپ علم كلام كے اعليٰ پايہ كے ماھر تسليم كيے جاتے تھے۔ شبلي نعماني تاريخ علم كلام ميں لكھتا ھے كہ ابو الھزيل كے مقابلے ميں كوئي شخص بحث نھيں كرسكتا تھا۔ ليكن يھي ابو الھزيل ھشام بن الحكم كے سامنے آنے كي جرأت نہ كرتا تھا۔ جناب ھشام نے جديد علوم ميں جديد تحقيق كو رواج ديا۔ آپ نے طبعيات كے بارے ميں ايسے ايسے اسرار و رموز كو بيان كيا ھے كہ وہ لوگوں كے وھم و خيال ميں بھي نہ تھے۔ ان كا كھنا ھے كہ رنگ و بو انساني جسم كا ايك مستقل جزو ھے اور وہ ايك ايسي چيز ھے جو فضا ميں پھيل جاتي ھے۔ابو الھزيل ھشام كے شاگردوں ميں سے تھا اور وہ اكثر اپني علمي آراء ميں اپنے استاد محترم جناب ھشام كا حوالہ ضرور ديا كرتے تھے۔ اور ھشام امام جعفر صادق عليہ السلام كي شاگردي پر نہ فقط فخر كيا كرتے تھے بلكہ خود كو “خوش نصيب” كھا كرتے تھے۔ جيسا كہ ھم نے پھلے عرض كيا ھے كہ امام جعفر صادق عليہ السلام نے تعليم و تربيت اور تھذيب و تمدن كے فروغ اور احياء كے ليے شب و روز كام كيا۔ فرصت كے لمحوں كو ضروري اور اھم كاموں پر استعمال كيا، چونكہ ھمارے آئمہ ميں سے كسي كو كام كرنے كا موقعہ ھي نہ ديا گيا۔ امام جعفر صادق عليہ السلام واحد ھستي ھيں كہ جنھوں نے بہت كم عرصے ميں صديوں كا كام كر دكھايا۔ پھر امام رضا عليہ السلام كو بھي علمي و ديني خدمات كے حوالے سے كچھ كام كرنے كا موقعہ ميسر آيا۔ ان كے بعد فضا بدتر ھوتي چلي گئى، حضرت امام موسيٰ كاظم عليہ السلام كا دور انتھائي مصيبتوں، پريشانيوں اور دكھوں كا دور ھے۔ آپ پر حد سے زيادہ پابندياں عائد كر دي گئيں، بغير كسي وجہ اور جرم و خطا كے آپ كو زندگي بھر زندانوں ميں رہ كر اسيرانہ زندگي بسر كرني پڑي۔ان كے بعد ديگرائمہ طاھرين عليھم السلام عالم جواني ميں شھيد كر ديئے گئے۔ ان كا دشمن بھي كتنا بزدل تھا كہ اكثر كو زھر كے ذريعہ شھيد كر ديا گيا۔ ان پر عرصہ حيات ا س ليے تنگ كر ديا تھا كہ وہ علم و عمل كے فروغ اور انسانيت كي فلاح و بھبود كے ليے كام نہ كر سكيں۔ امام جعفر صادق عليہ السلام كو ايك تو كام كرنے كا موقع مل گيا دوسرا آپ نے عمر بھي لمبي پائي تقريباً ستر (۷۰) سال تك زندہ رھے۔اب يہ صورت حال كس قدر واضح ھو گئي ھے كہ حضرت امام جعفر صادق عليہ السلام اور حضرت امام حسين عليہ السلام كے ادوار ميں كتنا فرق تھا؟ امام عالي مقام عليہ السلام كو ذرا بھر كام كرنے كا موقعہ نہ مل سكا، يعني حالات ھي اتنے نا گفتہ بہ تھے كہ مصيبتوں اور مجبوريوں كي وجہ سے سخت پريشان رھے۔ پھر انتھائي بے دردي كے ساتھ آپ كو شھيد كر ديا گيا، ليكن آپ كي اور آپ كے ساتھيوں كي مظلوميت نے پوري دنيا ميں حق و انصاف كا بول بالا كر ديا اور ظالم كا نام اور كردار ايك گالي بن كر رہ گيا۔امام حسين عليہ السلام كے ليے دو ھي صورتيں تھيں ايك يہ كہ آپ خاموش ھو كر بيٹھ جاتے اور عبادت كرتے دوسري صورت وھي تھي جو كہ آپ نے اختيار كى، يعني ميدان جھاد ميں اتر كر اپني جان جان آفرين كے حوالے كر دي۔ امام جعفر صادق عليہ السلام كو حالات و واقعات نے كام كرنے كا وقت اور موقعہ فراھم كر ديا۔ شھادت تو آپ كو نصيب ھوني تھي۔ آپ كو جو نھي موقعہ ملا آپ نے چھار سو علم كي شمعيں روشن كر كے جگہ جگہ روشني پھيلا دي۔ علم كي روشني اور عمل كي خوشبو نے ظلمت و جھالت ميں ڈوبي ھوئي سوسائٹي كو از سر نو زندہ كر كے اسے روشن و منور كر ديا۔ عرض كرنے كا مقصد يہ ھے كہ آئمہ اطھار (ع) كي زندگي كا مقصد اور مشن اور طريقہ كار ايك جيسا ھے۔ دوسرے لفظوں ميں اگر امام صادق عليہ السلام نہ ھوتے تو امام حسين عليہ السلام بھي نہ ھوتے۔ اسي طرح امام حسين (ع) نہ ھوتے تو امام صادق (ع) نہ ھوتے۔ يہ ھستياں ايك دوسرے كے ساتھ لازم و ملزوم كي حيثيت ركھتي ھيں۔ امام حسين عليہ السلام نے ظلم اور باطل كے خلاف جھاد كرتے ھوئے شھادت پائي۔ پھر آنے والے آئمہ اطھار (ع) نے ان كے فلسفہ شھادت اور مقصد قيام كو عملي لحاظ سے پايہ تكميل تك پھنچايا۔امام جعفر صادق (ع) نے اگر چہ حكومت وقت كے خلاف علانيہ طور پر جنگ شروع نھيں كي تھي۔ ليكن يہ بھي پوري دنيا جانتي ھے كہ آپ حكام وقت سے نہ فقط دور رھے بلكہ خفيہ طور پر ان كے ساتھ بھر پور مقابلہ بھي كيا۔ ايك طرح كي امام عليہ السلام سرد جنگ لڑتے رھے۔ آپ (ع) كي وجہ سے اس وقت كے ظالم حكمرانوں كي ظالمانہ كاروائيوں كي داستانيں عام ھوئيں اور ان كي آمريت كا جنازہ اس طرح اٹھا كہ مستحق لعن و نفريں ٹہرے، يھي وجہ ھے كہ منصور كو مجبور ھو كر كھنا پڑا كہ:”ھذا الشجي معترض في الحلق”كہ جعفر بن محمد ميرے حلق ميں پھنسي ھوئي ھڈي كے مانند ھيں۔ ميں نہ ان كو باھر نكال سكتا ھوں اور نہ نگلنے كے قابل رھا ھوں نہ ميں ان كا عيب تلاش كركے ان كو سزادے سكتا ھوں، اور نہ ان كو برداشت كرسكتا ھوں۔”يہ سب كچھ ديكھتے ھوئے كہ وہ جو كچھ بھي كر رھے ھيں وہ ھمارے خلاف ھے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔برداشت كر رھا ھوں۔ مجھے پتہ ھے كہ امام عليہ السلام نے ھمارے خلاف لوگوں كو ايك نہ ايك دن اكٹھا كر ھي لينا ھے۔ اس كے باوجود بھي ميں اتنا بے بس ھوں كہ ان كے خلاف ذرا بھر اقدام نھيں كرسكتا۔اس سے پتہ چلتا ھے كہ امام عليہ السلام نے اپني حسن سياست اور بھترين حكمت عملي كي بدولت اپنے مكار، عيار اور با اختيار دشمن كو بے بس كيے ركھا۔ ھم سب پر لازم ھے كہ اپنے دشمنوں، مخالفوں كے مقابلے ميں ھمہ وقت تيار ھيں۔ ھوشياري و بيداري كے ساتھ ساتھ ھمارا قومي و ملي اتحاد بھي وقت كي اھم ضرورت ھے۔ ھمارا بزدل دشمن گھات لگائے بيٹھا ھے۔ وہ كسي وقت بھي ھميں نقصان پھنچا سكتا ھے۔ جوں جوں وقت گزرتا جارھا ھے۔ طاقت و غلبہ كے تصور كي اھميت بڑھتي جارھي ھے۔ خوش نصيب ھيں وہ لوگ جو وقت كي نبض تھام كر سوچ سمجھ كر آگے بڑھتے ھيں اور پھر بڑھتے چلے جاتے ھيں۔
علمي پيشرفت كے اصل محركاتجيسا كہ ھم نے پہلے بھي عرض كيا ھے كہ امام جعفر صادق عليہ السلام كے دور امامت ميں غير معمولي طور پر ترقي ھوئي ھے۔ معاشرہ ميں فكر و شعور كو جگہ ملي گويا سوئي ھوئي انسانيت ايك بار پھر پوري توانائي كے ساتھ جاگ اٹھى، بحثوں، مذاكروں اور مناظروں كا سلسلہ شروع ھوگيا تھا۔ انھي مذاكرات سے اسلام كو بہت زيادہ فائدہ ھوا، علمي ترقي اور پيشرفت كے تين بڑے محركات ھميں اپني طرف متوجہ كرنے ھيں۔ پھلا سبب يہ تھا كہ اس وقت پورے كا پورا معاشرہ مذھبي تھا۔ لوگ مذھبي و ديني نظريات كے تحت زندگي گزار رھے تھے۔پھر قرآن و حديث ميں لوگوں كو علم حاصل كرنے كي ترغيب دي گئي تھي۔ لوگوں سے كھا گيا تھا كہ جو جانتے ھيں وہ نہ جاننے والوں كو تعليم ديں، حسن تربيت كي طرف بھي اسلام نے خصوصي توجہ دي ھے۔ يہ محرك تھا كہ جس كي وجہ سے علم و دانش كي اس عالمگير تحريك كو بہت زيادہ ترقي ھوئي۔ ديكھتے ھي ديكھتے قافلے كے قافلے اس كا رواں علم ميں شامل ھوگئے۔ دوسرا عامل يہ تھا كہ مختلف قوموں، قبيلوں، علاقوں اور ذاتوں سے تعلق ركھنے والے لوگ مشرف بہ اسلام ھو چكے تھے۔ ان افراد كو تحصيل علم سے خاص لگاؤ تھا۔ تيسرا محرك يہ تھا كہ اسلام كو ھي وطن قرار ديا گيا يعني جھاں اسلام ھے اس شھر، علاقے اور جگہ كو وطن سمجھا جائے۔ اس كا سب سے بڑا فائدہ يہ ھوا كہ اس وقت جتنے بھي ذات پات اور نسل پرستي تصورات تھے وہ اسي وقت دم توڑ گئے۔ اخوت وبرادري كا تصور رواج پكڑنے لگا۔ ايك وقت ايسا بھي آيا كہ اگر استاد مصري ھے تو شاگرد خراساني يا شاگرد مصري ھے تو استاد خراسانى، ايك بہت بڑا ديني مدرسہ تشكيل ديا گيا۔ آپ كے حلقہ درس ميں نافع، عكرمہ جيسے غلام بھي درس ميں شركت كرتے ھيں، پھر عراقى، شامى، حجازى، ايرانى، اور ھندي طلبہ كي رفت و آمد شروع ھوگئي۔ ديني ادارے كي تشكيل سے لوگوں كا آپس ميں رابط بڑھا اور اس سے ايك ھمہ گير انقلاب كا راستہ ھموار ھوا۔ اس زمانے ميں مسلم، غير مسلم ايك دوسرے كے ساتھ رھتے۔ رواداري كا يہ عالم تھا كہ كوئي بھي كسي كے خلاف كوئي بات نھيں كرتا تھا۔ عيسائىوں كے بڑے بڑے پادري موجود تھے۔ وہ مسلمانوں اور ان كے علماء كا دلي طور پر احترام كرتے بلكہ غير مسلم مسلمانوں كے علم و تجربہ سے استفادہ كرتے۔ پھر كيا ھوا؟ كہ دوسري صدي ميں مسلمانوں كي اقليت اكثريت ميں بدل گئي ۔ اس لحاظ سے مسلمانوں كا عيسائىوں كے ساتھ روداري كا مظاھرہ كرنا كافي حد تك مفيد ثابت ھوا۔ حديث ميں بھي ھے كہ اگر آپ كو كسي علم يا فن كي ضرورت پڑے اور مسلمانوں كے پاس نہ ھو تو وہ غير مسلم سے بھي حاصل كر سكتے ھيں۔ نھج البلاغہ ميں اس چيز كي تاكيد كي گئي ھے اور علامہ مجلسي (رح) نے بحار ميں تحرير فرمايا كہ پيغمبر اكرم صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم كا ارشاد گرامي ھے كہ:”خذوا الحكمۃ ولو من مشرك””يعني اگر آپ كو مشرك سے بھي علم و حكمت حاصل كرنا پڑے تو وہ ضرور حاصل كريں”۔اور ايك حديث ميں ھے كہ:”الحكمۃ ضالۃ المؤمن ياخذھا اينما وجدھا””يعني حكمت مومن كا گم كردہ خزانہ ھے اس كو حاصل كرو چاھے جھاں سے بھي ملے۔”بعض جگھوں ميں يہ بھي كھا گيا ھے كہ:”ولو من يد مشرك”كہ خواہ پڑھانے والا مشرك ھي كيوں نہ ھو۔”قرآن مجيد ميں ارشاد خداوندي ھے:”يؤتي الحكمۃ من يشاء ومن يوت الحكمۃ فقد اوتي خيراً كثيراً” 26″اور جس كو (خدا كي طرف سے) حكمت عطا كي گئي تو اس ميں شك ھي نھيں كہ اسے خوبيوں كي بڑي دولت ھاتھ لگي۔”واقعاً صحيح ھے كہ علم مومن كا گمشدہ خزانہ ھے اگر انسان كي كوئي چيز گم ھو جائے تو وہ اس كے لئے كتنا پريشان ھوتا ھے اور ا س كو كس طرح تلاش كرتا ھے۔ مثال كے طور پر آپ كي ايك قيمتي انگوٹھي ھو اگر وہ گم ھوجائے، تو آپ جگہ جگہ چھان ماريں گے اور اگر وہ آپ كو مل جائے تو بھت زيادہ خوشي ھوگي۔ علم سے زيادہ قيمتي چيز كونسي ھوسكتي ھے اس كو تلاش كرنے اور طلب كرنے كيلئے انسان كو اتني محنت كرني چاھيے۔ اس كے ليے ضروري نھيں ھے كہ تعليم دينے والا اور فن سيكھانے والا مومن و مسلمان ھي ھو، بلكہ آپ علوم اور جديد ٹيكنالوجي كافروں، مشركوں سے بھي حاصل كر سكتے ھيں۔ حضرت علي عليہ السلام كا ارشاد گرامي ھے “مومن علم كو كافر كے پاس عارضي مال كے طور پر ديكھتا ھے اور خود كو اس كا اصلي مالك سمجھتا ھے” اور وہ خيال كرتا ھے كہ علم كا لباس مومن ھي كو جچتا ھے كافر كو نھيں۔جيسا كہ ھم نے پہلے عرض كيا ھے كہ مسلمانوں كا غير مسلموں كے ساتھ اچھا سلوك كرنا اس بات كا سبب بنا كہ وہ تحقيق و تلاش كرتے ھوئے دائرہ اسلام ميں داخل ھو گئے۔ ايك وقت تھا كہ مسلمان، عيسائى، يھودى، مجوسي وغيرہ سب ايك جگہ، ايك شھر، ايك محلّہ ميں رھتے تھے۔ وہ انتھا پسندي كا مظاھرہ كرنے كي بجائے ايك دوسرے سے استفادہ كرتے تھے۔ يہ بات پورے معاشرے كے ليے مفيد ثابت ھوئي۔ مشہور مور خ جرجي زيدان نے اس وسعت قلبي كو انساني معاشرہ بالخصوص مسلمانوں كے ليے نيك شگون قرار ديا ھے۔ وہ سيد رضي كے واقعہ كو نقل كرتے ھوئے لكھتا ھے كہ سيد رضي اپنے دور كے بہت بڑے عالم دين تھے بلكہ غير معمولي طور پر درجہ اجتھاد پر فائز تھے۔ آپ سيد مرتضي علم الھديٰ كے چھوٹے بھائي تھے جب ان كے ھم عصر عالم دين ابو اسحٰق صابي نے انتقال كيا تو رضي نے ان كي شان مين ايك قصيدہ كھا۔ ابو اسحٰق صابي مسلمان نہ تھے يہ مجوسي فرقے سے ملتے جلتے خيالات كے حامل تھے۔ يہ بھي ھوسكتا ھے كہ وہ عيسائى ھوں۔ يہ اعليٰ پايہ كے اديب، ممتاز دانشور تھے۔ اديب ھونے كے ناطے سے قرآن مجيد سے بہت زيادہ عقيدت ركھتے تھے۔ وہ اپني تحرير و تقرير ميں قرآن مجيد كي متعدد آيات كا حوالہ ديا كرتے تھے۔ ماہ رمضان ميں دن كو كوئي چيز نھيں كھاتے تھے۔ كسي نے ان سے پوچھ ليا كہ آپ ايك غير مسلم ھيں تو رمضان ميں دن كو كھاتے پيتے كيوں نھيں ھيں تو كھا كرتے تھے كہ ادب كا تقاضا يہ ھے كہ ھم افراد معاشرہ كا احترام كرتے ھوئے ان كي مذھبي اقدار كا احترام كريں چنانچہ سيد رضي نے كہا۔
ارايت من حملوا علي الاعوادارايت كيف خبا ضياء النادى
كيا آپ نے ديكھا كہ يہ كون شخص تھا كہ جس كو لوگوں نے تابوت ميں ركھ كر اپنے كندھوں پر اٹھا ركھا تھا؟ كيا آپ نے سمجھا ھے كہ ھماري محفلوں كا چراغ بجھ گيا ھے؟ يہ ايك پہاڑ تھا جو گرگيا كچھ لوگوں نے سيد رضي پر اعتراض كيا كہ آپ ايك سيد، اولاد پيغمبر اور بزرگ عالم دين ھوتے ھوئے ايك كافر كي تعريف كي ھے؟ فرمايا جي ہاں:”انما رثيت علمہ”كہ ميں نے اس كے علم كا مرثيہ كھا ھے۔”وہ ايك بہت بڑا عالم تھا، دانشمند تھا ميں نے اس پر اس ليے مرثيہ كھا كہ اھل علم ھم سے جدا ھو گيا ھے، اگر اس زمانے ميں ايسا كيا جائے تو لوگ اس عالم كو شھر بدر كرديں گے۔ جرجي زيدان كھتا ھے كہ ايك جليل القدر عالم دين نے حسن اخلاق اور رواداري كا مظاھرہ كر كے اپني خانداني عظمت اور اسلام كي پاسداري كا عملي ثبوت ديا ھے۔ سيد رضي حضرت علي عليہ السلام كے ايك لحاظ سے شاگر تھے۔ كہ انھوں نے مولا امير المومنين عليہ السلام كے بكھرے ھوئے كلام كو جمع كر كے نھج البلاغہ كے نام سے ايك ايسي كتاب تاليف كي كہ جسے قرآن مجيد كے بعد بہت زيادہ احترام كي نگاہ سے ديكھا جاتا ھے۔ سيد رضي اپنے جد امجد پيغمبر اسلام (ص) اور حضرت علي عليہ السلام كي تعليمات سے بھت زيادہ قريب تھے۔ اسي ليے تو كھتے ھيں كہ علم و حكمت جھاں كھيں بھي ملے اسے لے لو۔ يہ تھے وہ محركات كہ جن كي وجہ سے لوگوں ميں فكري و نظرياتي اور شعوري طور پر پختگي پيدا ھوئي اور تعليم و تربيت، علم و عمل كے حوالے سے جتني بھي ترقي ھے يہ سب كچھ حضرت امام جعفر صادق عليہ السلام كي مھربانيوں كا نتيجہ ھے۔ پس ھماري گفتگو كا نتيجہ يہ ھوا كہ اگر چہ امام جعفر صادق عليہ السلام كو ظاھري حكومت نھيں ملي اگر مل جاتي تو آپ اور بھي بھتر كارنامے انجام ديتے ليكن آپ كو جس طرح اور جيسا بھي كام كرنے كا موقعہ ملا آپ نے كوئي لمحہ ضائع كئے بغير بے شمار قابل ستائش كام كيے۔ مجموعي طور پر ھم كھہ سكتے ھيں كہ مسلمانوں كے جتنے بھي علمي و ديني كارنامے تاريخ ميں موجود ھيں وہ سب صادق آل محمد عليہ السلام كے مرہون منت ھيں۔شيعہ تعليمي مراكز تو روز روشن كي طرح واضح ھيں۔ اھل سنت بھائيوں كے تعليمي و ديني مراكز ميں امام عليہ السلام كے پاك و پاكيزہ علوم كي روشني ضرور پھنچي ھے۔ اھل سنت حضرات كي سب سے بڑي يونيورسٹي الازھر كو صديوں قبل فاطمي شيعوں نے تشكيل ديا تھا اور جامعہ ازھر كے بعد پھر اھل تسنن كے مدرسے اور ديني ادارے بنتے چلے گئے۔ ان لوگوں كے اس اعتراض (كہ امام عليہ السلام ميدان جنگ ميں جھاد كرتے تو بھتر تھا؟) كا جواب ھم نے دے ديا ھے ان كو يہ بات بھي بغور سنني چاھيے كہ اسلام جنگ كے ساتھ كبھي نھيں پھيلا بلكہ اسلام تو امن و سلامتي كا پيامبر ھے۔ مسلمان تو صرف دفاع كرنے كا مجاز ھے، آپ اسے جھاد كے نام سے بھي تعبير كر سكتے ھيں۔ امام عليہ السلام كي حلم و بردباري اور حسن تدبر نے نہ فقط ماحول كو خوشگوار بنايا بلكہ لوگوں كو شعور بخشا، علم جيسي روشني سے مالا مال كر ديا، اسلام اور مسلمانوں كي عظمت و رفعت ميں اضافہ ھوا۔باقي رھا يہ سوال كہ ائمہ طاھرين (ع) عنان حكومت ھاتھ ميں لے كر اسلام اور مسلمانوں كي بخوبي خدمت كر سكتے تھے انھوں نے اس موقعہ سے فائدہ نھيں اٹھايا پر امن رھنے كے باوجود بھي ان كو جام شھادت نوش كرنا پڑا؟ تو اس كا جواب يہ ھے كہ حالات اس قدر بھي سازگار و خوشگوار نہ تھے كہ آئمہ اطھار (ع) كو حكومت و خلافت مل جاتى؟ امام عليہ السلام نے حكمرانوں سے ٹكرانے كي بجائے ايك اھم تعميري كام كي طرف توجہ دي۔ علماء فضلاء، فقھاء اور دانشور تيار كر كے آپ نے قيامت تك كے انسانوں پر احسان عظيم كر ديا۔ وقت وقت كي بات ھے آئمہ طاھرين عليھم السلام نے ھر حال، ھر موقعہ پر اسلام اور مظلوم طبقہ كي بھر پور طريقے سے ترجماني كي۔ حضرت امام رضا عليہ السلام كو مامون كي مجلس ميں جانے كا موقعہ ملا آپ نے سركاري محفلوں اور حكومتي ميٹنگوں ميں حق كي كھل كر ترجماني كي اور جيسے بھي بن پڑا غريبوں اور بے سھارا لوگوں كي مددكي۔ امام رضا عليہ السلام دو سال تك مامون كے قريب رھے۔ اس دور ميں آپ سے كچھ نہ كچھ احاديث نقل كي گئيں اس كے بعد آپ كي كوئي حديث نظر نھيں آتي۔ دوسرے لفظوں ميں مامون كے دور ميں آپ كو دين اسلام كي ترويج كيلئے كام كرنے كا موقعہ ملا اس كي وجہ مامون كي قربت ھے اس كے بعد پابنديوں كا دور شروع ھو گيا۔ آپ جو كرنا چاھتے تھے وہ بندشوں اور ركاوٹوں كي نظر ھو گيا۔ پھر آپ كو جام شھادت نوش كرنا پڑا۔ جو آپ كے باپ دادا كے ورثہ ميں شامل تھا۔
ايك سوال اور ايك جوابسوال:كيا جابر بن حيان نے ذاتي طور پر امام جعفر صادق عليہ السلام سے علم حاصل كيا تھا؟جواب:ميں نے عرض كيا ھے كہ يہ ايك سوال ھے جو تاريخ ميں واضح نھيں ھے ابھي تك تاريخ يہ فيصلہ نہ كر سكي كہ جابر بن حيان نے سوفي صد امام جعفر صادق عليہ السلام سے درس حاصل كيا ھے۔ البتہ كچھ ايسے مورخين بھي ھيں جو جابر كو امام عليہ السلام كا شاگردتسليم نھيں كرتے ۔ان كا كہنا ھے كہ جابر كا زمانہ امام عليہ السلام كے بعد كا دوران ھے ان كے مطابق جابر امام عليہ السلام كے شاگردوں كا شاگرد ھے۔ ليكن بعض كھتے ھيں كہ جابر نے براہ راست امام عليہ السلام سے كسب فيض كيا ھے۔ جابر نے ان علوم ميں مھارت حاصل كي ھے كہ جو پھلے موجود نہ تھے، اس سے ظاھر ھوتا ھے كہ امام جعفر صادق عليہ السلام نے مخلتف شعبوں ميں اپنے ھونھار شاگرد تيار كيے تھے جس كا مقصد يہ تھا كہ اس سمندر علم سے ھر كوئي اپني اپني پياس بجھا كر جائے۔جيسا كہ حضرت امير عليہ السلام نے كميل بن زياد سے فرمايا ھے:”ان ھھنا لعلما جما لو اصبت لہ حملۃ” 27آپ نے اپنے سينہ اقدس كي طرف اشارہ كيا اور فرمايا ديكھو يھاں علم كا بڑا ذخيرہ موجود ھے كاش! اس كے اٹھانے والے مجھے مل جاتے۔”ھاں كوئي تو ايسا؟ جو ذہين تو ھے نا قابل اطمينان ھے اور دنيا كے ليے دين كو آلہ كار بنانے والا ھے۔ يا جو ارباب حق ودانش كا مطيع تو ھے مگر اس كے دل كے گوشوں ميں بصيرت كي روشني نھيں ھے يا ايسا شخص ملتا ھے كہ جو لذتوں پر مٹا ھوا ھے يا ايسا شخص جو جمع آوري و ذخيرہ اندوزي پر جان ديئے ھوئے ھے۔——————————————————————————–26.بقرہ، ۲۶۹.27.نھج البلاغہ، ۱۳۹.
 

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.