امام حسن عسکری علیہ السلام کے چند معرفت بخش اقوال

334

من وعظ اخاہ سراً فقد زانہ و من وعظ علانیۃ فقد شانہجو اپنے مومن بھائی کو تنہائی میں نصیحت کرتا ہے وہ اس کی شان بلند کر دیتا ہے اور جو علانیہ نصیحت کرتا ہے وہ اس برادر مومن کو رسوا کر دیتا ہے ۔(تحف العقول،ص۵۲۰)
ما اقبح بالمومن ان تکون لہ رغبہ تذلہمومن کے لئے کتنا برا ہے کہ وہ ایسی چیزوں کی خواہش کرے جو اس کے لئے ذلت اور رسوائی کا سبب بنتی ہیں ۔(تحف العقول،ص۵۲۰)
اقل الناس راحۃً الحقودکینہ رکھنے والے کو کبھی آرام نہیں ملتا ۔(تحف العقول،ص۵۱۸)
لا یشغلک رزق مضمون عن عمل مفروضرزق کا ضامن خدا ہے اس لئے تمھارا رزق تمھیں واجبات سے نہ روک دے ۔(تحف العقول عن آل الرسول،ص۵۱۹)
التواضع نعمہ لا تحسد علیھتواضع ایسی نعمت ہے جس سے کوئی حسد نہیں کرتا ۔(تحف العقول،ص۵۱۸)
من الفواقر اللتی تقصم الظہر ،جارٍ اِن رای حسنۃ اخفاھا و اِن رای سیئۃ افشاھانسان کے لئے ایک کمر شکن مصیبت وہ پڑوسی ہے جو اسکی نیکیوں کو چھپاتا ہے اور اسکی برائیوں کو فاش کرتا ہے۔(بحارالانوار،ج۷۸،ص۳۷۲)
جرأۃ الولد علیٰ والدہ فی صغرہ تدعوا الیٰ العقوق فی کبرہبچپن میں فرزند کی گستاخی بڑے ہو کر اس کے عاق ہونے کا سبب بنتی ہے ۔(بحارالانوار،ج۷۸،ص۳۷۴)
لا تمار فیذھب بھاءک ولا تمازح فیجترء علیکلڑائی جھگڑے سے انسان کا احترام ختم ہو جاتا ہے اور زیادہ مذاق کرنے سے انسان گستاخ ہو جاتا ہے ۔(بحارالانوار،ج۷۶،ص۵۹)
 

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.