امام زمانہ(عج) کے وجود پر عقلی اور منقوله دلایل

736

رسول خدا(ص) کی فریقین سے مروی اس روایت کے مطابق کہ جو شخص اس دنیا میں اپنے زمانے کے امام کو پہچانے بغیر مر جائے اس کی موت جاھلیت کی موت ھے[1]، اگر چہ امام زمانہ(ع) کی تفصیلی معرفت تو میسر نھیں ھے لیکن اجمالی معرفت کو اختصار کے ساتھ بیان کیا جارھا ھے۔ھر زمانے میں امامِ معصوم کی ضرورت، عقلی ونقلی دلائل کے ذریعہ بحث ِ امامت میں ثابت هو چکی ھے۔
عقلی نقطہ نگاہ سےعقلی دلائل کا اجمالی طور پر خلاصہ یہ ھے کہ نبوت ورسالت کا دروازہ پیغمبر خاتم(ص) کے بعدھمیشہ ھمیشہ کے لئے بند هو چکا ھے۔ لیکن قرآن کو سمجھنے کے لئے، جو آ نحضرت(ص) پر نازل هوا ھے اور ھمیشہ کے لئے انسان کی تعلیم وتربیت کا دستور العمل ھے، معلم ومربی کی ضرورت ھے۔ وہ قرآن، جس کے قوانین مدنی البطع انسان کے حقوق کے ضامن تو ھیں لیکن ایک مفسراور ان قوانین کو عملی جامہ پھنانے والے کے محتاج ھیں۔بعثت کی غرض اس وقت تک متحقق نھیں هو سکتی جب تک کہ تمام علوم قرآنی کا معلم موجود نہ هو۔ایسے بلند مرتبہ اخلاقی فضائل سے آراستہ هو کہ جو ((انما بعثت لاٴتمم مکارم الاٴخلاق))[2] کا مقصد ھے۔نیز ھر خطا و خواھشات نفسانی سے پاک ومنزہ هو جس کے سائے میں انسان اس علمی و عملی کما ل تک پھنچے جو خدا وند تعالیٰ کی غرض ھے۔<إِلَیْہِ یَصْعَدُ الْکَلِمُ الطَّیِّبُ وَالَعَمَلُ الصّالِحُ یَرْفَعُہ>[3]مختصر یہ کہ قرآن ایسی کتاب ھے جو تمام انسانوں کو فکری، اخلاقی اور عملی ظلمات سے نکال کر عالم نور کی جانب ھدایت کرنے کے لئے نازل هوئی ھے <کِتَابٌ اٴَنْزَلْنَاہُ إِلَیْکَ لِتُخْرِجَ النَّاسَ مِنَ الظُّلُمَاتِ إِلَی النُّوْرِ>[4]اس غرض کا حصول فقط ایسے انسان کے ذریعے ممکن ھے جو خود ظلمات سے دور هو اور اس کے افکار، اخلاق و اعمال سراپا نور هوں اور اسی کو امام معصوم کہتے ھیں۔اور اگر ایسا انسان موجود نہ هوتو تعلیم کتاب وحکمت اور امت کے درمیان عدل کا قیام کیسے میسر هو سکتا ھے ؟ اور خود یھی قرآن جو اختلافات کو ختم کرنے کے لئے نازل هوا ھے، خطاکار افکار اور هویٰ و هوس کے اسیر نفوس کی وجہ سے، اختلافات کا وسیلہ وآلہ بن کر رہ جائے گا۔آیا وہ خداجو خلقت ِانسان میں احسن تقویم کو مدنظر رکھتے هوئے انسان کی ظاھری خوبصورتی کے لئے بھنوں تک کا خیال رکھ سکتا ھے، کیا ممکن ھے کہ مذکورہ ھدف ومقصد کے لئے کتاب تو بھیج دے لیکن بعثت انبیاء اور کتب نازل کرنے کی اصلی غرض، جو سیرت انسان کو احسن تقویم تک پہچانا ھے، باطل کر دے ؟!اب تک کی گفتگو سے رسول خدا ا(ص) کے اس کلام کا نکتہ واضح وروشن هو جاتا ھے کہ جسے اھل سنت کی کتابوں نے نقل کیا ھے ((من مات بغیر إمام مات میتة جاھلیة))[5]اور کلام معصومین علیھم السلام کا نکتہ بھی کہ جسے متعدد مضامین کے ساتھ شیعی کتب میں نقل کیا گیا ھے۔مثال کے طور پر حضرت امام علی بن موسی الرضا(ع) نے شرائع دین سے متعلق، مامون کو جو خط لکھا اس کا مضمون یہ ھے ((وإن الارض لا تخلو من حجة اللّٰہ تعالی علی خلقہ فی کل عصر واٴوان و إنھم العروة الوثقیٰ))یھاں تک کہ آپ(ع) نے فرمایا ((ومن مات ولم یعرفھم مات میتة جاھلیة))[6]اب جب کہ اکمال ِدین واتمام ِنعمت ِھدایت میں ایسی شخصیت کے وجود کی تاثیر واضح هو چکی، اگر اس کی عدم موجودگی سے خدا اپنے دین کو ناقص رکھے تو اس عمل کی وجہ یا تویہ هو گی کہ ایسی شخصیت کا وجود ناممکن هو یا خدا اس پر قادر نھیں اور یا پھر خدا حکیم نھیں ھے اور ان تینوں کے واضح بطلان سے امام کے وجود کی ضرورت ثابت ھے۔حدیث تقلین جس پر فریقین کا اتفاق ھے، ایسی شخصیت کے وجود کی دلیل ھے جو قرآن سے اور قرآن جس سے، ھر گز جدا نہ هوں گے اور چونکہ مخلوق پر خدا کی حجت، حجت بالغہ ھے، ابن حجر ھیثمی جس کا شیعوں کی نسبت تعصب ڈھکاچھپا نھیں، کہتا ھے((والحاصل اٴن الحث وقع علی التمسک بالکتاب وبالسنة وبالعلماء بھما من اٴھل البیت ویستفاد من مجموع ذلک بقاء الاٴمور الثلاثہ إلی قیام الساعة، ثم اعلم اٴن لحدیث التمسک بذلک طرقاً کثیرةً وردت عن نیف وعشرین صحابیا))[7]ابن حجر اعتراف کر رھا ھے کہ حدیث ثقلین کے مطابق، جسے بیس سے زیادہ اصحاب نے پیغمبر اکرم(ص) سے نقل کیا ھے، پوری امت کو کتاب، سنت اور علماء اھل بیت سے تمسک کا حکم دیا گیا ھے اور ان سب سے یہ نتیجہ نکلتا ھے کہ یہ تینوں قیامت کے دن تک باقی رھیں گے۔اور مذھب حق یھی ھے کہ قرآن کے ھمراہ اھل بیت علیھم السلام سے ایسے عالم کا هونا ضروری ھے جو قرآن میں موجود تمام علوم سے واقف هو، کیوںکہ پوری امت مسلمہ کو، بغیر کسی استثناء کے، کتاب،سنت او راس کی پیروی کا حکم دیا گیا ھے، اور ھر ایک کی ھدایت کا دارومدار اسی تمسک پر ھے۔
روائی نقطہ نگاہ سے:بارهویں امام(ع) کے متعلق شیعوں کا اعتقاد اور آپ کا ظهور معصومین علیھم السلام سے روایت شدہ متواتر نصوص سے ثابت ھے، جواثبات ِامامت کے طریقوں میں سے ایک ھے۔قرآن مجید میں ایسی آیات موجود ھیں، جنھیں شیعہ وسنی کتب میں امام مھدی (ع)کی حکومت کے ظهور سے تفسیر کیا گیا ھے۔ ان میں سے بعض کو ھم یھاں ذکر کرتے ھیں :۱۔<ھُوَالَّذِی اٴَرْسَلَ رَسُوْلَہ بِالْھُدیٰ وَدِیْنِ الْحَقِّ لِیُظْھِرَہ عَلَی الدِّیْنِ کُلِّہ وَلَوکَرِہَ الْمُشْرِکُوْنَ>[8]ابو عبد اللہ گنجی کتاب “البیان فی اخبار صاحب الزمان(ع) ” میں کہتا ھے کہ :”اور بالتحقیق، مھدی کی بقا کا تذکرہ قرآن وسنت میں هوا ھے۔ قرآن میں یوں کہ سعید بن جبیر قرآن میں خداوند متعال کے اس فرمان <لِیُظْھِرَہ عَلیَ الدِّیْنِ کُلِّہ وَلَو کَرِہَ الْمُشْرِکُوْنَ >کی تفسیر میں کہتے ھیں:((ھو المھدی من عترة فاطمہ علیھا السلام))”[9]۲۔<اَلَّذِیْنَ یُوٴْمِنُوْنَ بِالْغَیْبِ وَیُقِیْمُوْنَ الصَّلاَةَ وَمِمَّا رَزَقْنَاہُمْ یُنْفِقُوْنَ >[10]فخر رازی کہتا ھے:”بعض شیعوں کے عقیدے کے مطابق غیب سے مراد مھدی منتظر (ع)ھے، کہ جس کا وعدہ خدا نے قرآن اور حدیث میں کیا ھے۔ قرآن میں یہ کہہ کر<وَعَدَ اللّٰہُ الَّذِیْنَ آمَنُوا مِنکُم وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَیَسْتَخْلِفَنَّھُمْ فِی اْلاٴَرْضِ کَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِھِمْ > اورحدیث میں قول پیغمبر اکرم(ص) کے اس قول کے مطابق ((لو لم یبق من الدنیا إلا یوم واحد لطول اللّٰہ ذلک الیوم حتی یخرج رجل من اٴھل بیتی یواطی اسمہ اسمی وکنیتہ کنیتی، یملاٴ الاٴرض عدلا وقسطا کما ملئت جورا وظلما))[11]، اس کے بعد یہ اشکال کرتا ھے کہ بغیر دلیل کے مطلق کو تخصیص دینا باطل ھے۔”[12]فخر رازی نے ، حضرت مھدی موعود(ع) کے بارے میں قرآن وحدیث پیغمبر خدا(ص) کی دلالت کو تسلیم کرنے اور آپ(ع) کی غیب میں شمولیت کے اعتراف کے بعد، یہ سمجھا ھے کہ شیعہ، غیب کو فقط حضرت مھدی(ع) سے اختصاص دینے کے قائل ھیں، جب کہ فخر رازی اس بات سے غافل ھے کہ شیعہ امام مھدی(ع) کو مصادیقِ غیب میں سے ایک مصداق مانتے ھیں۔۳۔<وَإِنَّہ لَعِلْمٌ لِّلسَّاعَةِ فَلاَ تَمْتَرُنَّ بِھَا وَاتَّبِعُوْنِ ھٰذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِیْمٌ >[13]ابن حجر کے بقول :”مقاتل بن سلیمان اور اس کے پیروکار مفسر ین کہتے ھیں کہ یہ آیت مھدی کے بارے میں نازل هوئی ھے۔”[14]۴۔<وَعَدَ اللّٰہُ الَّذِیْنَ آمَنُوا مِنْکُمْ وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَیَسْتَخْلِفَنَّھُمْ فِی اْلاٴَرْضِ کَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِھِمْ وَلَیُمَکِّنَنَّ لَھُمْ دِیْنَھُمُ الَّذِی ارْتَضیٰ لَھُمْ وَلَیُبَدِِّلَنَّھُمْ مِّنْ بَعْدِ خَوْفِھِمْ اٴَمْناً یَّعْبُدُوْنَنِی لَایُشْرِکُوْنَ بِیْ شَیْئاً وَّمَنْ کَفَرَ بَعْدَ ذٰلِکَ فَاٴُوْلٰئِکَ ھُمُ الْفَاسِقُوْنَ>[15]اس آیت کو امام مھدی(ع) او رآپ کی حکومت سے تفسیر کیا گیا ھے۔[16]۵۔<إِنْ نَّشَاٴْ نُنَزِّلْ عَلَیْھِمْ مِنَ السَّمَاءِ آیَةً فَظَلَّتْ اٴَعْنٰاقُھُمْ لَھَا خَاضِعِیْنَ>[17]اس آیت میں لفظِ((آیة)) کی تفسیر، حضرت مھدی(ع) کے ظهور کے وقت دی جانے والی ندا کو بتلایا گیا ھے، جسے تمام اھل زمین سنیں گے اور وہ ند ایہ هوگی ((اٴلا إن حجة اللّٰہ قد ظھر عند بیت اللّٰہ فاتبعوہ فإن الحق معہ وفیہ))[18]۶۔<وَنُرِیْدُ اٴَنْ نَّمُنَّ عَلَی الَّذِیْنَ اسْتُضْعِفُوْا فِی اْلاٴَرْضِ وَنَجْعَلَھُمْ اٴَئِمَّةً وَّ نَجْعَلَھُمُ الْوَارِثِیْنَ>[19]امیر المومنین(ع) فرماتے ھیں :” یہ دنیا منہ زوری دکھانے کے بعد پھر ھماری طرف جھکے گی جس طرح کاٹنے والی اونٹنی اپنے بچے کی طرف جھکتی ھے۔” اس کے بعد مذکورہ آیت کی تلاوت فرمائی۔[20]۷۔<وَلَقَدْ کَتَبْنَا فِی الزَّبُوْرِ مِنْ بَعْدِ الذِّکْرِ اٴَنَّ اْلاٴَرْضَ یَرِثُھَا عِبَادِیَ الصَّالِحُوْنَ>[21]اس آیت کو امام مھدی(ع) اور آپ (ع)کے اصحاب کے بارے میں تفسیر کیاگیا ھے۔[22]اور اس آیت کا مضمون، یعنی زمین پر صالح افراد کی حکومت، زبور ِ حضرت ِ داود(ع) میں موجود ھے :کتاب مزامیر۔ زبور حضرت داود (ع)،سینتیسویں مزمور کی انتیسویں آیت میں ھے:”اور نسل شریر منقطع هوجائے گی اور صالح افراد زمین کے وارث هوں گے اور اس میں ابد تک رھیں گے، صالح دھان حکمت کو بیان کرے گا اور اس کی زبان انصاف کا تذکرہ کرے گی۔ اس کے خدا کی شریعت اس کے دل میں هو گی۔ لہٰذا اس کے قدم نہ لڑکھڑائیں گے۔”کتاب مزامیر کے بہترویں مزمور کی پھلی آیت:”اے خدا بادشاہ کو اپنا انصاف اور اس کے فرزند کو اپنی عدالت عطا کر اور وہ تیری قوم کے درمیان عدالت سے فیصلہ کرے گا اور تیرے مساکین کے ساتھ انصاف کرے گا۔ اس وقت پھاڑ، قوم کے لئے سلامتی کا سامان مھیا کریں گے اور ٹیلے بھی۔ قوم کے مساکین کے درمیان عدالت برقرار کرے گا، فقراء کی اولاد کو نجات دلائے گا او ر ظالموں کو سرنگوں کرے گا اور جب تک سورج اور چاند اپنے سارے طبقات کے ساتھ باقی ھیں وہ تجھ سے ڈریں گے۔ وہ کٹے هوئے سبزہ زار وں پر برسنے والی بارش کی طرح برسے گا اور زمین کو سیراب کرنے والی بارشوں کی طرح اس کے دور میں صالح افراد خوب پھلے پھولیں گے اور سلامتی ھی سلامتی هو گی، یھاں تک کہ چاند نابود هو جائے گا، ایک سمندر سے دوسرے سمندر اور نھر سے دنیا کے آخری کونے تک اس کی حکومت هو گی، اس کے سامنے صحرا نشین گردنیں جھکائیں گے اور اس کے دشمن خاک چاٹیں گے۔”آپ(ع) کے بارے میں فریقین کی کتابوں میں تواتر کی حد تک روایات موجود ھیں۔ ابوالحسن ابری،جو اھل سنت کے بزرگ علماء میں سے ھے، کا کھنا ھے :”راویوں کی کثیر تعداد نے حضرت محمد مصطفی(ص) سے مھدی کے بارے میں روایت کی ھے جو متواتر ومستفیض ھیں اور یہ کہ وہ اھل بیت پیغمبر(ص) سے ھے، سات سال حکومت کرے گا، زمین کو عدل سے پر کر دے گا، حضرت عیسی(ع) خروج کریں گے اور دجال کو قتل کرنے میں آپ(ع) کی مدد کریں گے۔ امت کی امامت مھدی(ع) کرائیں گے جب کہ عیسیٰ(ع) آپ کے پیچھے نماز پڑھیں گے ۔”[23]شبلنجی نور الابصار میں کہتا ھے:”پیغمبر اکرم(ص) سے متواتر احادیث ھیں کہ مھدی(ع) آنحضرت(ص) کے اھل بیت سے ھے اور زمین کو عدل سے پر کر دے گا۔”[24]ابن ابی حدید معتزلی کہتا ھے :”فرقہ ھائے مسلمین کا اس بات پر اتفاق ھے کہ دنیا اور دینی ذمہ داریاں حضرت مھدی(ع) پر ختم هوں گی ۔”[25]زینی دحلان کے بقول :”جن احادیث میں مھدی(ع) کے ظهور کا ذکر هوا ھے وہ بہت زیادہ اور متواتر ھیں۔”[26]آپ(ع) کی خصوصیات اور شمائل کو تو اس مختصر مقدمے میں تحریر نھیں کیا جاسکتا، لیکن پھر بھی شیعہ اور سنی کتب میں مذکور چند خصوصیات کی طرف اشارہ کرتے ھیں :۱۔نماز جماعت میں افضل کو تقدم حاصل ھے، جیسا کہ یہ مطلب سنی اور شیعہ روایات میں ذکر هوا ھے : ((امام القوم وافدھم فقدموا اٴفضلکم ))[27] آپ(ع) کے ظهور اور حکومت حقہ کے قیام کے وقت عیسیٰ بن مریم(ع) آسمان سے زمین پر تشریف لائیں گے اور سنی اور شیعہ روایات کے مطابق آپ(ع) کی امامت میں نماز ادا کریں گے۔[28]وہ ایسی ھستی ھیں کہ کلمة اللہ، روح اللہ اور مردوں کو حکم خدا سے زندہ کرنے والے اولوالعزم رسول سے افضل ھیں اور آپ کی وجاہت اور قرب، خدائے ذوالجلال کے نزدیک زیادہ ھے ۔وقت ِ نماز، جو خدا کی طرف عروج کا وقت ھے، عیسیٰ بن مریم آپ کی اقتداء کریں گے اور آپ کی زبان مبارک کے ذریعے خدا سے ھم کلام هوں گے۔گنجی نے البیان میں نماز وجھاد میں آپ کی امامت کے بارے میں مروی روایات کے صحیح هونے اور اس تقدم وامامت کے اجماعی هونے کی تصدیق کے بعد، مفصل بیان کے ذریعے ثابت کیا ھے کہ اس امامت کو معیار قرار دیتے هوئے آپ (ع)، عیسی ٰ سے افضل ھیں۔[29]عقدالدرر، باب اول میں سالم اشل سے روایت نقل کی ھے کہ وہ کہتا ھے: “میں نے ابی جعفر محمد بن علی الباقر (علیھما السلام) کو فرماتے سنا کہ: موسی (ع)نے نظر کی تو پھلی نظر میں وہ کچھ دیکھا جو قائم آل محمد(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو عطا هونا تھا، پس موسیٰ نے کھا: اے پروردگار !مجھے قائم آل محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قرار دے۔ ان سے کھا گیا : کہ وہ محمد( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ذریت سے ھے۔ دوسری بار بھی اس کی مانند دیکھا اور دوبارہ وھی درخواست کی اور وھی جواب سنا، تیسری بار بھی اسی کو دیکھا اور سوال کیا تو تیسری بار بھی وھی جواب ملا۔”[30]باوجود اس کے کہ حضرت موسی بن عمران(ع) خدا کے اولوالعزم پیغمبر وکلیم اللہ ھیں <وَکَلَّمَ اللّٰہُ مُوْسٰی تَکْلِیْماً>[31] اور خدا نے انھیں نو آیات کے ساتھ مبعوث فرمایا <وَلَقَدْ آتَیْنَا مُوْسٰی تِسْعَ آیَاتٍ بَیِِّنَاتٍ>[32] اور مقرب درگاہ باری تعالی ھیں <وَ نَادَیْنَاہُ مِنْ جَانِبِ الطُّوْرِالاٴَیْمَنِ وَقَرَّبَنَاہُ نَجِیًّا>[33]۔ حضرت مھدی(ع) کے لئے وہ کیا مقام و منزلت تھی جسے دیکھنے کے بعد پانے کی آرزو میں حضرت موسی(ع) نے خدا سے تین مرتبہ درخواست کی۔حضرت موسی بن عمران کا آپ(ع) کے مقام کو پانے کی آرزو کرنا ایسی حقیقت ھے جس کے لئے کسی اور حدیث وروایت کی ضرورت نھیں، اس لئے کہ حضرت عیسیٰ (ع)جیسے اولو العزم پیغمبر کا آپ(ع) کیاقتدا میں نماز پڑھنا اس مقام کی حسرت وآرزو کے لئے کافی ھے۔ اس کے علاوہ عالم وآدم کی خلقت کا نتیجہ اور آدم سے لے کر خاتم تک تمام انبیاء(ع) کی بعثت کا خلاصہ ان چار نکات میں مضمر ھے:الف۔ معرفت وعبادت خدا کے نور کا ظهور، جو ساری دنیا کو منور کردے <وَاٴَشْرَقَتِ اْلاٴَرْضُ بِنُوْرِ رَبِِِِّھَا>[34]ب۔ کائنات کو علم وایمان سے بھر پور زندگی عطا هونا جو <اِعْلَمُوْا اٴَنَّ اللّٰہَ یُحْیِ اْلاٴَرْضَ بَعْدَ مَوْتِھَا>[35] کا بیان ھے۔ج ۔باطل کے زوال او رحق کی حکومت کا قائم هونا جو <وَقُلْ جَآءَ الْحَقُّ وَ زَھَقَ الْبَاطِلُ إِنَّ الْبَاطِلَ کَانَ زَھُوْقاً>[36]کی تجلّی ھے۔د۔تمام انسانوں کا عدل وانصاف کو اپنانا،جو تمام انبیاء ورسل کے ارسال اور کتب کے نزول کی علت غائی ھے<لَقَدْ اٴَرْسَلْنَا بِالبَیِّنَاتِ وَ اٴَنْزَلْنَا مَعَھُمُ الْکِتَابَ وَالْمِیْزَانَ لِیَقُوْمَ النَّاسُ بِالْقِسْطِ>[37]ان تمام آثار کا ظهور قائم آل محمد(ص)کے ھاتھوں هوگا ((یملاٴ اللّٰہ بہ الاٴرض قسطا وعدلا بعد ما ملئت جورا وظلما))[38] اور یہ وہ مقام ھے جس کی حسرت و آرزو آدم سے لے کر عیسیٰ تک تمام انبیاء نے کی ھے۔۲۔سنی اور شیعہ روایات میں آپ(ع) کو خلیفة اللہ کے عنوان سے یاد کیا گیا ھے ((یخرج المھدی وعلی راٴسہ غمامة فیھا مناد ینادی: ھذا المھدی خلیفة اللّٰہ فاتبعوہ))[39] اللہ جیسے مقدس اسم کی طرف اضافے کا تقاضا یہ ھے کہ آپ(ع) کا وجود تمام اسماء حسنی کی آیت ھے۔۳۔آپ(ع) کے مقام کی عظمت وبلندی آپ کے اصحاب کے مقام ومنزلت سے روشن هوتی ھے، جس کا ایک نمونہ روایات اھل تشیع میں یہ ھے کہ :”آپ(ع) کے اصحاب کی مقدار، اھل بدر کی تعداد کے برابر ھے[40]اور ان پر تلواریں ھیں کہ ھر تلوار پر ایک کلمہ لکھا هوا ھے جو ہزار کلمات کی کنجی ھے ۔”[41]اور روایات اھل سنت میں بخاری ومسلم کی شرائط کے مطابق ایک صحیح روایت کا کچھ مربوط حصہ، جسے حاکم نیشاپوری نے مستدرک اور ذھبی نے تلخیص میں نقل کیا ھے، یہ ھے((لا یستوحشون إلی اٴحد ولا یفرحون باٴحد یدخل فیھم علی عدة اٴصحاب بدر لم یسبقھم الاٴولون ولا یدرکھم الآخرون وعلی عدة اٴصحاب طالوت الذین جاوزوا معہ النھر))[42]۴۔رسول اکرم(ص)اور حضرت مھدی میں خاتمیت کی مشترکہ خصوصیت اس بات کی متقاضی ھے کہ جس طرح نبوت آپ(ص)پر ختم هو ئی اسی طرح امامت حضرت مھدی پر ختم هوگی ۔نیز کار دین کا آغاز آنحضرت(ص)کے دست مبارک سے هوا اور اختتام حضرت مھدی کے ھاتھوں هوگا۔اسی نکتے کی جانب شیعہ اور سنی روایات میں اشارہ کیا گیا ھے کہ آنحضور(ص)نے فرمایا:(( المھدی منا یختم الدین بنا کما فتح بنا)) [43]آپ(ع) میں خاتم کی جسمانی، روحانی اور اسمی تمام خصوصیات جلوہ گر ھیں۔دو مختلف شخصیات، یعنی خاتم النبین وخاتم الوصیین کا کنیت، اسم، سیرت وصورت کے اعتبار سے ایک هونا یعنی ابوالقاسم محمد پر دین کا افتتاح واختتام، اھل نظر کے لئے ایسے مافوق ِادراک مقام ومرتبے کی حکایت کرتا ھے جو ناقابل بیان ھے۔
اس بارے میں بطور خاص وارد شدہ بعض روایات ملاحظہ هوں :الف۔رسول خدا(ص) سے روایت ھے کہ آپ(ص)نے فرمایا:”میری امت میں ایسا فرد ظهور کرے گا کہ اس کا نام میرا نام اور اس کا اخلاق میرا اخلاق ھے، زمین کو عدل وانصاف سے اس طرح پر کر دے گا جس طرح ظلم وجور سے بھر چکی هو گی۔”[44]ب۔ایک صحیح روایت کے مطابق جسے جعفر بن محمد علیھما السلام نے اپنے آباء واجداد اور انهوں نے رسول خد ا(ص) سے نقل کیا ھے کہ آپ(ص) نے فرمایا: ” مھدی میری اولاد سے ھے جس کا نام میرا نام اور اس کی کنیت میری کنیت ھے۔ خَلق وخُلق میں مجھ سے سب سے زیادہ شباہت رکھتا ھے۔ اس کے لئے ایسی غیبت اور حیرت ھے کہ لوگ دین سے گمراہ هوجائیں گے، پھر اس کے بعد وہ شھاب ثاقب کی مانند ظهور کرے گا اور زمین کو عدل وانصاف سے اس طرح پر کردے گا جس طرح ظلم وجور سے بھر چکی هوگی ۔”[45]ج۔ صحیح نص کے مطابق چھٹے امام جعفر بن محمد علیھما السلام نے اپنے آبا ء اور انهوں نے رسول خدا(ص) سے نقل کیا ھے کہ آپ(ص) نے فرمایا:”جو میری اولاد میں سے قائم کا انکار کرے، یقینا اس نے میرا انکار کیا ھے۔” [46]د۔شیخ صدوق ا علی اللہ مقامہ نے دو واسطوں سے احمد بن اسحاق بن سعد الاشعری سے، جو نھایت ھی بزرگ ثقہ افراد میں سے ھیں، نقل کیا ھے کہ انهوں نے کھا:”میں حسن بن علی علیھما السلام کی خدمت میں ان کے بعد ان کے جانشین کے متعلق سوال کرنے کی غرض سے حاضر هوا۔ اس سے پھلے کہ میں سوال کرتاآپ(ع) نے فرمایا :”اے احمد بن اسحاق !خداوند تبارک وتعالیٰ نے جب سے آدم کو خلق کیا ھے زمین کو اپنی حجت سے خالی نھیں رکھا اور نہ ھی اسے قیامت تک اپنی حجت سے خالی رکھے گا۔ وہ اپنی حجت کے ذریعے اھل زمین سے بلاوٴں کو دور کرتا ھے، اس کے وسیلے سے بارش برساتا ھے اور اس کے وجود کی بدولت زمین سے برکات نکالتا ھے۔”احمد بن اسحاق کہتے ھیں، میں نے پوچھا : “یا بن رسول اللہ ! آپ کے بعد امام وخلیفہ کون ھے؟”حضرت امام حسن عسکری(ع) اٹھے، تیزی سے گھر میں داخل هوئے اور جب باھر تشریف لائے تو آپ(ع) اپنے شانے پر ایک تین سالہ بچے کو لئے هوئے تھے جس کا چھرہ چودهویں کے چاند کی طرح دمک رھا تھا، اس کے بعد آپ(ع) نے فرمایا :”اے احمد بن اسحاق !اگر تم خدا اور اس کی حجتوں کے لئے محترم نہ هوتے تو تمھیں اپنے بیٹے کی زیارت نہ کراتا، یہ پیغمبر خدا(ص) کا ھمنام اور ھم کنیت ھے۔ یہ وہ ھے جو زمین کو عدل وانصاف سے اس طرح پر کر دے گا جس طرح ظلم وجور سے بھر چکی هوگی۔اے احمد بن اسحاق !اس امت میں اس کی مثال خضر وذوالقرنین کی ھے۔ خدا کی قسم، اس کی غیبت ایسی هوگی کہ ھلاکت سے اس کے سوا کوئی نہ بچ سکے گا جسے خدا اس فرزند کی امامت پر ثابت قدم رکھے اور جسے خدا نے دعائے تعجیل فرج کی توفیق عنایت کی هو۔”پھر احمد بن اسحاق کہتے ھیں کہ میں نے پوچھا:”اے میرے آقا !کیا کوئی علامت ھے جس سے میرا دل مطمئن هو جائے ؟ “اس بچے نے فصیح عربی میں کھا :((اٴنا بقیةا للّٰہ فی اٴرضہ والمنتقم من اعدائہ)) میں اس زمین پر بقیةاللہ اور دشمنان خدا سے انتقام لینے والا هوں۔ اے احمد بن اسحاق! دیکھنے کے بعد طلب ِ اثر نہ کرو۔”احمد بن اسحاق کہتا ھے کہ میں مسرور وخوشحال باھر آیا اور اگلے دن امام(ع) کی خدمت میں جا کر عرض کی:”یابن رسول اللہ! آپ(ع) نے مجھ پر جو احسان فرمایا اس سے میری خوشی میں بے انتھا اضافہ هوا ھے۔ اس بچے میں خضر وذوالقرنین کی صفت کو بھی میرے لئے بیان فرمائیے ؟”امام(ع) نے فرمایا:”غیبت کا طولانی هونا، اے احمد۔”عرض کی :”یا بن رسول اللہ !اس بچے کی غیبت طولانی هوگی ؟”امام(ع) نے فرمایا : ھاں، خدا کی قسم ایسا ھی هوگا۔ غیبت اتنی طولانی هوگی کہ اکثر غیبت کے ماننے والے بھی انکار کرنے لگیں گے اور سوائے ان کے کوئی نہ بچے گا جن سے خداوند متعال ھماری ولایت کا اقرار لے چکا ھے او رجن کے دلوں میں ایمان کو لکھ دیا ھے اور اپنی روح کے ساتھ جن کی تائید فرمائی ھے۔اے احمد بن اسحاق! یہ امر خدا میں سے ایک امر، رازِ خدا میں سے ایک راز اور غیب خدا میں سے ایک غیب ھے۔میں نے جو کچھ دیا ھے اسے لے لو، اسے چھپا کر رکھو اور شاکرین میں سے هوجاوٴ تاکہ قیامت کے دن ھمارے ساتھ علیین میں سے هوسکو۔”[47]۴۔سنی اور شیعہ روایت کے مطابق آپ(ع) کا ظهور خانہ کعبہ سے هوگا۔آپ(ع) کے دائیں جبرئیل اور بائیں میکائیل هوں گے۔ چونکہ حضرت جبرئیل(ع) انسان کے حوائج معنوی یعنی افاضہ علوم اور معارف الھیہ کا واسطہ، اور حضرت میکائیل(ع) مادی ضروریات یعنی افاضہٴ ارزاق کا واسطہ ھیں، بنا بر ایں علوم وارزاق کے خزائن کی کلید آپ(ع) کے اختیار میں ھے۔[48]سنی او رشیعہ روایت میں ظهور کے وقت آپ(ع) کی صورت مبارک کو کوکب درّی سے تشبیہ دی گئی ھے[49] اور ((لہ ھیبة موسیٰ وبھاء عیسی وحکم داوود وصبر ایوب ))[50]،امام علی رضا(ع) کی حدیث کے مطابق ایسے لباس میں ملبوس هوں گے کہ ((علیہ جیوب النور تتوقد من شعاع ضیاء القدس))[51]۵۔الغیبة میں شیخ طوسی اور صاحب عقدالدرر کی روایت کے مطابق آپ(ع) عاشور کے دن ظهور فرمائیں گے[52] تاکہ<یُرِیْدُوْنَ لِیُطْفِئُوْا نُوْرَ اللّٰہِ بِاٴَفْوَاھِھِمْ وَاللّٰہُ مُتِمُّ نُوْرِہ وَلَوْ کَرِہْ الْکَافِرُوْنَ> [53]کی تفسیر ظاھر هو۔ اور امام حسین علیہ السلام کے پاکیزہ خون سے آبیاری شدہ اسلام کا شجرہ طیبہ آپ کی برکت سے ثمر بخش بنے اور یہ آیت کریمہ <وَمَنْ قُتِلَ مَظُلُوْمًا فَقَدْ جَعَلْنَا لِوَلِیِّہ سُلْطَانًا>[54]اپنے عالی ترین مصداق سے منطبق هو۔
امام زمانہ (علیہ السلام) کی طولانی عمرممکن ھے کہ طول عمر، سادہ لوح افراد کے اذھان میں شبھات ایجاد کرنے کا سبب هو لیکن یہ جاننا ضروری ھے کہ ایک انسان کی عمر کا ہزاروں سال تک طولانی هونا، نہ تو عقلی طور پر محال ھے او رنہ ھی عادی اعتبار سے، کیونکہ محال ِعقلی یہ ھے کہ دو نقیضین کے اجتماع یا ارتفاع کا سبب هو، مثا ل کے طورپر جیسا کہ ھم کھیں کہ کوئی بھی چیز یا ھے یا نھیں ھے، یا مثلاًعدد یا جفت ھے یا طاق، کہ ان کا اجتماع یا ارتفاع عقلا محال ھے اور محال عادی یہ ھے کہ عقلی اعتبار سے تو ممکن هو، لیکن قوانینِ طبیعت کے مخالف هو مثال کے طور پر انسان آگ میں گر کر بھی نہ جلے۔انسان کا ہزار ھا سال طول عمر پانا، اور اس کے بدن کے خلیات کا جوان باقی رھنا نہ تو محال عقلی ھے اور نہ محال عادی، لہٰذا اگر حضرت نوح علی نبینا وآلہ وعلیہ السلام کی عمر اگر نو سو پچاس سال یا اس سے زیادہ واقع هوئی ھے تواس سے زیادہ بھی ممکن ھے اور سائنسدان اسی لئے بقاء ِحیات ونشاط ِجوانی کے راز کی جستجو میں تھے اور ھیں۔ جس طرح علمی قوانین وقواعد کے ذریعے مختلف دھاتوں کے خلیات کی ترکیب میں تبدیلی سے انھیں آفات اور نابود هونے سے بچایا جاسکتا ھے اور لوھے کو کہ جسے زنگ لگ جاتا ھے اور تیزاب جسے نابود کر دیتا ھے، آفت نا پذیر طلائے ناب بنایاجا سکتا ھے، اسی طرح علمی قوانین وقواعد کے ذریعے ایک انسان کی طولانی عمر بھی عقلی وعملی اعتبار سے ممکن ھے، چاھے ابھی تک اس راز سے پردے نہ اٹھے هوں۔اس بحث سے قطع نظر کہ امام زمان(ع) پر اعتقاد، خداوند متعال کی قدرت مطلقہ، انبیاء کی نبوت اور معجزات کے تحقق پر ایمان لانے کے بعد کا مرحلہ ھے، اسی لئے جو قدرت ابراھیم(ع) کے لئے آگ کوسرد اور سالم قرا ر دے سکتی ھے، جادوگروں کے جادو کو عصائے موسی کے دھن کے ذریعے نابود کر سکتی ھے، مردوں کو عیسیٰ کے ذریعے زندہ کر سکتی ھے اور اصحاب کہف کو صدیوں تک بغیر کھائے پیئے نیند کی حالت میں باقی رکھ سکتی ھے ، اس قدرت کے لئے ایک انسان کو ہزاروں سال تک جوانی کے نشاط کے ساتھ اس حکمت کے تحت سنبھال کر رکھنا نھایت ھی سھل اور آسان ھے کہ زمین پر حجت باقی رھے اور باطل پر حق کے غلبہ پانے کی مشیت نافذ هو کر رھے <إِنَّمَا اٴَمْرُہ إِذَا اٴَرَادَ شَیْئاً اٴَنْ یَقُوْلَ لَہ کُنْ فَیَکُوْنُ>[55]اس واقعے کو زیادہ عرصہ نھیں گزرا کہ شھرری میں شیخ صدوق کی قبر ٹوٹی اور آپ کے تر وتازہ بدن کے نمایاں هونے سے یہ بات ثابت هوئی کہ آ پ کے جسم پر قوانین ِطبیعت کا کوئی اثر نھیں هوا اور بدن کو فاسد کرنے والے تمام اسباب وعوامل بے کار هو کر رہ گئے۔ اگر طبیعت کا عمومی قانون امام زمانہ(ع) کی دعا سے پیدا هونے والے شخص کے بارے میں ٹوٹ سکتا ھے، جس نے آپ(ع) کے عنوان سے “کمال الدین وتمام النعمة ” جیسی کتاب لکھی ھے، تو خود اس امام(ع) کے بارے میں قانون کا ٹوٹناجو نائب خدا اور تمام انبیاء واوصیاء کا وارث ھے، باعثِ تعجب نھیں هونا چاہئے۔
امام زمانہ (علیہ السلام) کے کچھ معجزاتشیخ الطائفہ اپنی کتاب “الغیبة” میں فرماتے ھیں:”غیبت کے زمانے میں آپ(ع) کی امامت کو ثابت کرنے والے معجزات قابل شمارش نھیں”[56]۔ اگر شیخ طوسی کے زمانے تک، جنهوں نے ۴۶۰ھجری میں وفات پائی ھے، معجزات کی تعداد کا اندازہ لگانا مشکل تھا تو موجودہ زمانے تک معجزات میں کتنا اضافہ هو چکاهو گا؟!لیکن اس مقدمے میں ھم، دو مشهور روایتیں پیش کرتے ھیں، جن کا خلاصہ علی بن عیسی اربلی،[57]جو فریقین کے نزدیک ثقہ ھیں، کی روایت کے مطابق یہ ھے کہ :”امام مھدی(ع) کے متعلق لوگ ما فوق العادة خبریں اور قصے نقل کرتے ھیں جن کی شرح طولانی ھے۔ میں اپنے زمانے میں واقع هونے والے دو واقعات، جنھیں میرے دوسرے ثقہ بھائیوں کے ایک گروہ نے بھی نقل کیا ھے، ذکر کرتا هوں:۱۔حلہ میں فرات او ردجلہ کے درمیان آبادی میں اسماعیل بن حسن نامی شخص رہتا تھا، اس کی بائیں ران پر انسان کی مٹھی کے برابر پھوڑا نکل آیا۔ حلّہ اور بغداد کے اطباء اسے دیکھنے کے بعد لا علاج قرار دے چکے تھے۔ لہٰذاوہ سامرہ آگیا اور دو ائمہ حضرت امام ھادی اور امام عسکری علیھما السلام کی زیارت کرنے کے بعد اس نے سرداب میں جاکر خدا کی بارگاہ میں دعا و گر یہ وزاری کی اور امام زمانہ(ع) کی خدمت میں استغاثہ کیا، اس کے بعد دجلہ کی طرف جاکر غسل کیا اور اپنا لباس پھنا۔ معاًاس نے دیکھا کہ چار گھڑسوار شھر کے دروازے سے باھر آئے۔ ان میں سے ایک بوڑھا تھا جس کے ھاتھ میں نیزہ تھا، ایک جوان رنگین قبا پھنے هوئے تھا، وہ بوڑھا راستے کی دائیں جانب اور دوسرے دو جوان راستے کی بائیں جانب اور وہ جوان جس نے رنگین قبا پھن رکھی تھی ان کے درمیان راستے پر تھا۔رنگین قبا والے نے پوچھا :”تم کل اپنے گھر روانہ هو جاوٴ گے ؟”میں نے کھا:”ھاں۔” اس نے کھا:”نزدیک آوٴ ذرا دیکھوں تو تمھیں کیا تکلیف ھے ؟”اسماعیل آگے بڑھا، اس جوان نے اس پھوڑے کو ھاتھ سے دبایا اور دوبارہ زین پر سوار هوگیا۔ بوڑھے نے کھا:”اے اسماعیل ! تم فلاح پا گئے، یہ امام(ع) تھے۔”وہ روانہ هوئے تو اسماعیل بھی ان کے ساتھ ساتھ چلنے لگا، امام(ع) نے فرمایا:”پلٹ جاوٴ۔”اسماعیل نے کھا:” آپ سے ھر گز جدا نھیں هوں گا۔” امام(ع) نے فرمایا:”تمھارے پلٹ جانے میں مصلحت ھے۔” اسماعیل نے دوبارہ کھا:”آپ سے ھر گز جدا نھیں هوسکتا۔” بوڑھے نے کھا:”اسماعیل !تمھیں شرم نھیں آتی، دو مرتبہ امام نے فرمایا، پلٹ جاوٴ او رتم مخالفت کرتے هو؟”اسماعیل وھیں رک گیا، امام چند قدم آگے جانے کے بعد اس کی طرف متوجہ هوئے اور فرمایا: “جب بغداد پھنچو گے، ابو جعفر یعنی خلیفہ مستنصر باللہ، تمھیں طلب کرے گا۔ جب اس کے پا س جاوٴ اور تمھیں کوئی چیز دے، اس سے نہ لینا اور ھمارے فرزند رضا سے کھنا علی بن عوض کو خط لکھیں، میں اس تک پیغام پھنچا دوں گا کہ جو تم چاهو گے تمھیں عطا کر ے گا۔”اس کے بعد اصحاب کے ساتھ روانہ هو گئے اور نظروں سے اوجھل هونے تک اسماعیل انھیں دیکھتا رھا۔ غم وحزن اور افسوس کے ساتھ کچھ دیر زمین پر بیٹھ کر ان سے جدائی پر روتا رھا۔ا س کے بعد سامرہ آیا تو لوگ اس کے ارد گرد جمع هوکر پوچھنے لگے کہ تمھارے چھرے کا رنگ متغیر کیوں ھے ؟ اس نے کھا: کیا تم لوگوں نے شھر سے خارج هونے والے سواروںکو پہچانا کہ وہ کون تھے ؟ انهوں نے جواب دیا: وہ باشرافت افراد ھیں، جو بھیڑوں کے مالک ھیں۔ اسماعیل نے کھا: وہ امام(ع) اور آپ (ع)کے اصحاب تھے اور امام (ع)نے میری بیماری پر دست ِشفا پھیردیا ھے۔جب لوگوں نے دیکھا کہ زخم کی جگہ کوئی نشان تک باقی نھیں رھا، اس کے لباس کو بطور تبرک پھاڑ ڈالا۔ یہ خبر خلیفہ تک پھنچی، خلیفہ نے تحقیق کے لئے ایک شخص کو بھیجا۔اسماعیل نے رات سرداب میں گزاری اور صبح کی نماز کے بعد لوگوں کے ھمراہ سامراء سے باھر آیا، لوگوں سے خدا حافظی کے بعد وہ چل دیا، جب قنطرہ عتیقہ پھنچا تو اس نے دیکھا کہ لوگوں کا ھجوم جمع ھے اور ھر آنے والے سے اس کا نام ونسب پوچھ رھے ھیں۔نشانیوں کی وجہ سے اسے پہچاننے کے بعد لوگ بعنوان تبرک اس کا لباس پھاڑ کر لے گئے۔تحقیق پر مامور شخص نے خلیفہ کو تمام واقعہ لکھا۔ اس خبر کی تصدیق کے لئے وزیر نے اسماعیل کے رضی الدین نامی ایک دوست کو طلب کیا۔ جب دوست نے اسماعیل کے پاس پھنچ کر دیکھا کہ اس کی ران پر پھوڑے کا اثر تک باقی نھیں ھے، وہ بے هوش هوگیا اور هوش میں آنے کے بعد اسماعیل کو وزیر کو پاس لے گیا، وزیر نے اس کے معالج اطباء کو بلوایا اور جب انهوں نے بھی معائنہ کیا او رپھوڑے کا اثر تک نہ پایا تو کھنے لگے :”یہ حضرت مسیح کا کام ھے”، وزیر نے کھا : “ھم جانتے ھیں کہ کس کا کام ھے۔”وزیر اسے خلیفہ کے پاس لے گیا، خلیفہ نے اس سے حقیقت حال کے متعلق پوچھا، جب واقعہ بیان کیا تو اسے ہزار دینار دئیے، اسماعیل نے کھا: میں ان سے ایک ذرے کو لینے کی جراٴت نھیں کرسکتا۔ خلیفہ نے پوچھا: کس کا ڈر ھے ؟ اس نے کھا: “اس کا جس نے مجھے شفا دی ھے، اس نے مجھ سے کھا ھے کہ ابو جعفر سے کچھ نہ لینا۔” یہ سن کر خلیفہ رونے لگا۔علی بن عیسیٰ کہتے ھیں: میں یہ واقعہ کچھ لوگوں کے لئے نقل کر رھا تھا، اسماعیل کا فرزند شمس الدین بھی اس محفل میں موجود تھا جسے میں نھیں پہچانتا تھا، اس نے کھا: “میں اس کا بیٹا هوں۔” میں نے اس سے پوچھا :” کیا تم نے اپنے والد کی ران دیکھی تھی جب اس پر پھوڑا تھا؟” اس نے کھا:”میں اس وقت چھوٹا تھا لیکن اس واقعے کو اپنے والدین، رشتہ داروں او رھمسایوں سے سنا ھے اور جب میں نے اپنے والد کی ران کو دیکھا تو زخم کی جگہ بال بھی آچکے تھے۔”اور علی بن عیسیٰ کہتے ھیں :”اسماعیل کے بیٹے نے بتایا کہ صحت یابی کے بعد میرے والد چالیس مرتبہ سامراء گئے کہ شاید دوبارہ ان کی زیارت کر سکیں۔”۲۔علی بن عیسیٰ کہتے ھیں:” میرے لئے سید باقی بن عطوہ علوی حسنی نے حکایت بیان کی کہ ان کے والد عطوہ امام مھدی(ع) کے وجود مبارک پر ایمان نہ رکھتے تھے اور کھا کرتے تھے :”اگر آئے اور مجھے بیماری سے شفا دے تو تصدیق کروں گا۔” اور مسلسل یہ بات کھا کرتے تھے۔ایک مرتبہ نماز عشاء کے وقت سب گھر والے جمع تھے کہ والد کے چیخنے کی آواز سنی، تیزی سے ان کے پاس گئے۔ انهوں نے کھا:”امام(ع) کی خدمت میں پھنچو کہ ابھی ابھی میرے پاس سے باھر گئے ھیں۔”باھر آئے تو ھمیں کوئی نظر نھیں آیا، دوبارہ والد کے پاس پلٹ کر آئے تو انهوں نے کھا: “ایک شخص میرے پاس آیا اور کھا: اے عطوہ، میں نے کھا: لبیک، اس نے کھا : میں هوں مھدی، تمھیں اس بیماری سے شفا دینے آیا هوں اس کے بعد اپنا دست مبارک بڑھا کر میری ران کو دبایا او ر واپس چلے گئے۔”اس واقعہ کے بعد عطوہ ھرن کی طرح چلتے تھے ۔
زمانہ غیبت میں امام زمانہ (علیہ السلام) سے بھرہ مند هونے کا طریقہ:اگر چہ امام زمانہ(ع) ھماری نظروں سے غائب ھیں اور اس غیبت کی وجہ سے امت اسلامی آپ(ع) کے وجود کی ان برکات سے محروم ھے جو آپ(ع) کے ظهور پر متوقف ھیں، لیکن بعض فیوضات ظهور سے وابستہ نھیں ھیں۔آپ(ع) کی مثال آفتاب کی سی ھے، کہ غیبت کے بادل پاکیزہ دلوں میں آپ(ع) کے وجود کی تاثیر میں رکاوٹ نھیں بن سکتے، اسی طرح جیسے سورج کی شعاوٴں سے اعماق ِزمین میں موجود نفیس جواھر پروان چڑھتے ھیں اور سنگ و خاک کے ضخیم پردے اس گوھر کو آفتاب سے استفادہ کرنے سے نھیں روک سکتے۔جیسا کہ خداوند متعال کے الطاف ِخاصّہ سے بھرہ مند هونا دوطریقوں سے میسر ھے۔اول۔جھاد فی اللہ کے ذریعے، یعنی خدا کے نور عنایت کے انعکاس میں رکاوٹ بننے والی کدورتوں سے نفس کوپاک کرنے سے۔دوم۔اضطرار کے ذریعے جو فطرت اور مبدء فیض کے درمیان موجود پردوں کو ہٹاتا ھے<اٴَمَّنْ ےُجِیْبُ الْمُضْطَرَّ إِذَا دَعَاہُ وَ یَکْشِفُ السُّوْءَ>[58]اسی طرح فیض ِالٰھی کے وسیلے سے استفادہ کرنا جو اسم اعظم ومَثَلِ اعلیٰ ھے، دو طریقوں سے ممکن ھے :اول۔فکری،ا خلاقی اور عملی تزکیہ کہ ((اٴما تعلم اٴن اٴمرنا ھذا لاینال إلا بالورع))[59]دوم۔اضطرار اوراسباب مادی سے قطع تعلق کے ذریعے کہ اس طریقے سے بہت سے افراد جن کے لئے کوئی چارہ کار نہ بچا تھا اور جو بالکل بے دست وپا هو کر رہ گئے تھے، امام(ع) سے استغاثہ کرنے کے بعد نتیجہ حاصل کرنے میں کامیاب هو گئے۔آخر میں ھم ساحت مقدس امام زمانہ(ع) کے حضور میں اپنے قصور وتقصیر کا اعتراف کرتے ھیں۔آپ(ع) وہ ھیں جس کے وسیلے سے خدا نے اپنے نور اور آپ(ع) ھی کے وجودِ مبارک سے اپنے کلمے کو پایہ تکمیل تک پھنچایا ھے، کمالِ دین امامت سے ھے اور کمال ِامامت آپ(ع) سے ھے اور آپ (ع)کی ولادت کی شب یہ دعا وارد هوئی ھے ((اللّٰھم بحق لیلتنا ھذہ ومولودھا وحجتک وموعودھا التی قرنت إلی فضلھا فضلک، فتمّت کلمتک صدقاً و عدلاً، لا مبدّل لکلماتک و لا معقّب لآیاتک، و نورک المتعلق و ضیائک المشرق و العلم النور فی طخیاء الدیجور الغائب المستور جلّ مولدہ و کرم محتدہ، و الملائکة شَہَّدَہ واللّٰہ ناصرہ و موٴیّدہ إذا آن میعادہ، والملائکة امدادہ، سیف اللّٰہ الذی لا ینبو، و نورہ الذی لا یخبو، و ذو الحلم الذی لا یصبو…))۔[60]——————————————————————————-[1] رجوع کریں آئندہ صفحہ حاشیہ نمبر۲۔[2] بحار الانوار ج۱۶ ص۲۱۰(فقط مبعوث هوا هوں اس لئے کہ مکارم الاخلاق کو پایہ تکمیل تک پھنچا سکوں۔[3] سورہٴ فاطر، آیت۱۰۔” پاکیزہ کلمات اسی کی طرف بلند هوتے ھیں اور عمل صالح انھیں بلند کرتا ھے”۔[4] سورہٴ ابراھیم، آیت۱۔”الٓر یہ کتاب ھے جسے آپ کی طرف نازل کیا ھے تاکہ آپ لوگوں کو حکم خدا سے تاریکیوں سے نکال کر نور کی طرف لے آئیں”۔[5] “جواس حال میں مر جائے کہ اپنے زمانہ کے امام کو نہ پہچانے تو وہ جھالت کی موت مرے گا”۔مسند الشامیین، ج۲، ص۴۳۷، المعجم الکبیر، ج۱۹، ص ۳۸۸۔مسند احمد بن حنبل، ج۴، ص۹۶ اور دوسری کتابیں۔[6] عیون اخبار الرضاعلیہ السلام،ج۲، ص۱۲۲۔”زمین حجت خدا سے کسی زمانہ میں خالی نہ هوگی اور یہ حجت مستحکم وسیلہ ھیں یھاں تک کہ فرمایا جو مرجائے اور ان کو نہ پہچانتا هو وہ جھالت کی موت مرتا ھے”۔[7] صواعق محرقہ، ص۱۵۰۔[8] سورہٴ توبہ، آیت۳۳۔”وہ خدا وہ ھے جس نے اپنے رسول کو ھدایت اور دین حق کے ساتھ بھیجا تاکہ اپنے دین کو تمام ادیان پر غالب بنائے چاھے مشرکین کو کتنا ھی ناگوار کیوں نہ هو”۔[9] البیان فی اخبار صاحب الزمان عجل اللہ فرجہ الشریف،ص۵۲۸(کتاب کفایة الطالب میں)[10] سورہٴ بقرہ، آیت۳۔”جوغیب پر ایمان رکھتے ھیں ۔پابندی سے پورے اہتمام کے ساتھ نماز ادا کرتے ھیں اور جو کچھ ھم نے رزق دیا ھے اس میں سے ھماری راہ میں خرچ بھی کرتے ھیں”۔[11] ” اگر دنیا کے ختم هو جانے میں ایک دن بھی باقی رہ جائے تو خدا اس کو اتنا طولانی کر دے گا کہ میرے اھل بیت(ع) میں سے ایک شخص قیام کرے جو میرا ھم نام اور اس کی کنیت میری کنیت هوگی جو زمین کو عدل وانصاف سے ویسا بھر دے گا جیسے ظلم و جور سے بھری هوگی”۔[12] تفسیر کبیر، فخر رازی،ج۲، ص۲۸۔[13] سورہٴ زخرف، آیت۶۱۔”اور بے شک یہ قیامت کی واضح دلیل ھے لہٰذا اس میں شک نہ کرو اور میرا اتباع کرو کہ یھی سیدھا راستہ ھے”۔[14] صواعق محرقہ، ص۱۶۲۔[15] سورہٴ نور، آیت ۵۵۔”اللہ نے تم میں سے صاحبان ایمان وعمل صالح سے وعدہ کیا ھے کہ انھیں روئے زمین میں اس طرح اپنا خلیفہ بنائے گا جس طرح پھلے والوں کو بنایا ھے اور ان کے لئے اس دین کو غالب بنائے جسے ان کے لئے پسندیدہ قرار دیا ھے اور ان کے خوف کو امن سے تبدیل کر دے گا وہ سب صرف میری عبادت کریں گے اور کسی طرح کا شرک نہ کریں گے اور اس کے بعد بھی کوئی کافر هوجائے تو درحقیقت وھی لوگ فاسق اور بدکردار ھیں”۔[16] تفسیر کبیر،، فخر رازی، ج۲، ص۲۸۔غیبة نعمانی، شیخ طوسی ، ص۱۷۷؛ تفسیر القمی، ج۱، ص ۱۴، اور دیگر منابع۔[17] سورہٴ شعراء، آیت۴۔”اگر ھم چاہتے تو آسمان سے ایسی آیت نازل کردیتے کہ ان کی گردنیں خضوع کے ساتھ جھک جاتیں”۔[18] ینابیع المودة، ج۳، ص ۲۹۷۔ “آگاہ هو جاوٴکہ خدا کی حجت کا ظهور خانہ خدا میں هوگیا ھے تو اس کی پیروی کرو کیونکہ حق اس کے ساتھ ھے اس کی ذات کے اندر ضم ھے”۔[19] سورہٴ قصص، آیت۵۔”اور ھم یہ چاہتے ھیں کہ جن لوگوں کو زمین میں کمزور بنادیاگیا ھے ان پر احسان کریں اور انھیں لوگوں کا پیشوا بنائیں اور زمین کا وارث قرا ر دیدیں”۔[20] نھج البلاغہ،شمارہ۲۰۹،از حکمت امیر المومنین علیہ السلام۔[21] سورہٴ انبیاء، آیت۱۰۵۔”اور ھم نے ذکر کے بعد زبور میں لکھ دیا ھے کہ ھماری زمین کے وارث ھمارے نیک بندے ھی هوں گے”۔[22] بحار الانوار، ج۵۱، ص۴۷، نمبر۶۔[23] تہذیب التہذیب، ج۹،ص ۱۲۶، (محمد بن خالد جندی کے ترجمہ میں)[24] نو ر الابصار، ص۱۸۹۔[25] شرح نھج البلاغہ ابن ابی الحدید، ج۱۰، ص۹۶۔[26] الفتوحات الاسلامیہ، ج۲، ص۳۳۸۔[27] “ھر قوم کا امام وہ هوتا ھے جو سب سے پھلے خدا پر وارد هوتا ھے تو تم لوگ بھی افضل کو آگے کرو”۔ بغیة الباحث عن زوائد مسند الحارث، ص۵۶، نمبر۱۳۹۔ وسائل الشیعہ، کتاب الصلاة، ابواب الجماعة، باب۲۶، ج۸، ص۳۴۷۔[28] الصواعق المحرقہ، ص ۱۶۴، فتح الباری، ج۶، ص ۳۵۸،اور اسی کے مشابہ صحیح بخاری، ج۴، ص۱۴۳؛ صحیح مسلم، ج۱، ص۹۴؛سنن ابن ماجہ، ج۲، ص۱۳۶۱؛عقد الدرر، دسواں حصہ،اور اھل سنت کی دوسری کتابیں۔الغیبة نعمانی، ص۷۵۔بحار الانوار، ج۳۶، ص۲۷۲ اور شیعوں کی دوسری کتابیں۔[29] البیان فی اخبار صاحب الزمان عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف، ص۴۹۸۔[30] عقد الدرر، پھلا حصہ،ص۲۶، الغیبة نعمانی، ص۲۴۰۔[31] سورہٴ نساء، آیت ۱۶۴۔ “اور موسی سے خدا نے کلام کیا جو حق کلام کرنے کا تھا”۔[32] سورہٴ اسراء، آیت۱۰۱۔”اور ھم نے موسیٰ کو نو کھلی هوئی نشانیاں دی تھیں[33] سورہٴ مریم، آیت۵۲۔”اور ھم نے انھیںکوہ طور کے داھنے طرف سے آواز دی اور راز ونیاز کے لئے اپنے سے قریب بلا لیا”۔[34] سورہٴ زمر، آیت۶۹۔”اور زمین اپنے رب کے نور سے جگمگااٹھے گی”۔[35] سورہٴ حدید، آیت۱۷۔”یاد رکھو کہ خدازندہ کرتا ھے زمین کو اس کی موت کے بعد”۔[36] سورہٴ اسراء، آیت۸۱۔”اورکہہ دیجئے کہ حق آگیا اور باطل فنا هو گیا کہ باطل ھر حال فنا هونے والا ھے”۔[37] سورہٴ حدید، آیت۲۵۔”بے شک ھم نے اپنے رسولوں کو واضح دلائل کے ساتھ بھیجا ھے اور ان کے ساتھ کتاب اور میزان کو نازل کیا تاکہ لوگ انصاف کے ساتھ قیام کریں”۔[38] “خدا زمین کو اس کے ذریعہ عدل وانصاف سے بھر دے گا جیسے ظلم و جور سے پر تھی”۔ بحار الانوار، ج۳۸، ص۱۲۶۔اسی مضمون سے ملتی هوئی عبارت البیان فی اخبار صاحب الزمان عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف، ص۵۰۵،(کتاب کفایة الطالب)صحیح ابن حبان، ج۱۵، ص۲۳۸۔ مستدرک صحیحین، ج۴، ص۵۱۴ ۔مسند احمد بن حنبل، ج۳، ص۳۶، مسند ابی یعلی، ج۲، ص۲۷۴ نمبر۹۸۷ اور دوسری کتابیں۔[39] بحار الانوار، ج۵۱، ص۸۱۔ “مھدی اس حال میں خروج کرے گا کہ اس کے سر پر ایک ابر هوگا جس میں ایک منادی ندا دے گا یہ مھدی ھے جو خدا کا خلیفہ ھے بس اس کی اتباع کرو”۔عنوان خلیفة اللہ مستدرک صحیحین ، ج۴، ص۴۶۴ میںسنن ابن ماجہ، ج۲، ص۱۳۶۷ مسند احمد بن حنبل، ج۵، ص۲۷۷نور الابصار،ص۱۸۸۔عقد الدرر الباب الخامس، ص۱۲۵ اور دوسری کتابوں میں آیاھے۔[40] بحار الانوار، ج۵۱، ص۱۵۷۔[41] بحار الانوار، ج۵۲، ص۲۸۶۔[42] مستدرک صحیحین ، ج۴، ص۵۵۴(ان کو خوف نھیں کہ کسی سے مدد حاصل کریں اور نہ کسی سے خوش هوتے ھیں کہ ان میں داخل هوجائیں ان کی تعداد اصحاب بدر کے برابر ھیں نہ ان سے کوئی سبقت لے پایا ھے اور نہ هوئی ان تک پهونچ سکتا ھے ان کی تعداد طالوت کے اس لشکر کے جتنی ھے جس نے طالوت کے ساتھ نھر کو پار کیا تھا۔[43] صواعق محرقہ، ص۱۶۳۔اسی مضمون سے ملتی هوئی عبارت المعجم الاوسط میں، ج۱، ص۵۶ میں ھے۔عقد الدرر الباب السابع، ص۱۴۵، اور اھل سنت کی دوسری کتابیں۔بحار الانوار، ۵۱، ص۹۳ اور شیعوں کی دوسری کتابیں میں آیاھے۔[44] صحیح ابن حبان، ج۸، ص۲۹۱،ح ۶۷۸۶ اور دوسری کتابیں۔[45] کمال الدین وتمام النعمة، باب۲۵، رقم۴، ص۲۸۷۔[46] کمال الدین وتمام النعمة، باب۳۹، رقم۸، ص۴۱۲۔[47] کمال الدین وتمام النعمة، ص۳۸۴و ینابیع المودة،ص۴۵۸۔[48] عقدالدرر الباب الخامس وفصل اول الباب الرابع،ص۶۵؛ الامالی للمفید، ص ۴۵۔[49] فیض القدیر، ج۶، ص۳۶۲، نمبر۹۲۴۵۔کنزالعمال، ج۱۴، ص۲۶۴، نمبر۳۸۶۶۶۔ینابیع المودة، ج۲، ص ۱۰۴، ج۳، ص۲۶۳، اور اھل سنت کی دوسری کتابیںبحار الانوار، ج۳۶، ص۲۱۷، ۲۲۲وج۵۱،ص۸۰ اور دوسرے موارد اور شیعوں کی دوسری کتابیں۔[50] بحار الانوار،ج۳۶، ص۳۰۳۔[51] بحار الانوار، ج۵۱، ص۱۵۲۔”اس پر نور کے اس طرح لباس ھیں جو قدس کی روشنی سے روشن رہتے ھیں”۔[52] الغیبة، ص۴۵۲ و۴۵۳، عقدالدرر الباب الرابع، فصل اول ، ص۶۵۔[53] سورہٴ صف، آیت ۸۔”یہ لوگ چاہتے ھیں کہ نور خدا کو اپنے منھ سے بجھا دیں اور اللہ اپنے نور کو مکمل کرنے والا ھے چاھے یہ بات کفار کو کتنی ناگوار کیوں نہ هو”۔[54] سورہٴ اسراء، آیت ۳۳۔”جو مظلوم قتل هوتا ھے ھم اس کے ولی کو بدلہ کا اختیار دے دیتے ھیں”۔[55] سورہٴ یس، آیت۸۲۔”اس کا صرف امر یہ ھے کہ کسی شئے کے بارے میں یہ کھنے کا ارادہ کر لے کہ هو جااور وہ شئے هوجاتی ھے”۔[56] الغیبةشیخ طوسی، ص۲۸۱۔[57] کشف الغمة، ج۲، ص۴۹۳۔[58] سورہٴ نمل، آیت ۶۲۔”بھلا وہ کون ھے جو مضطر کی فریا د کو سنتا ھے جب وہ اس کو آواز دیتا ھے اور اس کی مصیبت کو دور کردیتا ھے”۔[59] بحار الانوار، ج۴۷، ص۷۱۔”کیا تم نھیں جانتے کہ ھمارے امر تک نائل نھیں هوسکتے مگر تقویٰ کے ذریعہ”۔[60] مصباح متھجد، ص۸۴۲۔
 
 

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.