حاجت اور فقر کے ذریعہ الله کی رحمت نازل ہوتی ہے

266

حاجت اور فقر کے ذریعہ الله کی رحمت نازل ہوتی ہے۔ہم اس سلسلہ ميں ایک مشہور و معروف رومی عارف کے اشعار ميں سے ایک شعر کا ترجمہ ذکر کرتے ہيں:رومی عارف کا کہنا ہے:پانی نہ مانگو اور اتنی پياس مانگو کہ تمہارے چاروں طرف پانی کے چشمے پهوٹ جائيں۔الله کی رحمت اور الله کے بندوں کی حاجت و ضرورت کے مابين رابطہ کی طرف حضرت علی عليہ السلام کی مناجات ميں اشارہ کيا گيا ہے:موليی یامولاي،انت المولیٰ واناالعبد،وهل یرحم العبدَ اِلّاالْمَوْلیٰ؟ مَولَْايَ یَامَولَْايَ اَنتَْ المَْالِکُ وَاَنَاالمَْملُْوکُْ وَهَل یَرحَْمُ المَْملُْوکَْ اِلَّا المَْالِکُ؟ مَولَْايَ یَامَولَْايَ اَنتَْ العَْزِیزُْ وَاَنَا الذَّلِيلُْ وَهَل یَرحَْمُ الذَّلِيلَْ اِلَّاالعَْزِیزُْ؟ مَولَْايَ یَامَولَْايَ اَنتَْ الخَْالِقُ وَاَنَاالمَْخلُْوقُْ وَهَل یَرحَْمُ المَْخلُْوقُْ اِلّا الخَْالِقُ؟ مَولَْايَ یَامَولَْايُ اَنتَْ القَْوِیُّ وَاَنَاالضَّعِيفُْ وَهَل یَرحَْمُ الضَّعِيفَْ اِلَّاالقَْوِيُ؟ مَولَْايَ یَامَولَْايَ اَنتَْ الغَْنِيُّ وَاَنَاالفَقِيرُْوَهَل یَرحَْمُ الفَْقِيرَْاِلَّاالغَْنِي ؟ مَولَْايَ یَامَولَْايَ اَنتَْ المُْعطِْي وَاَنَاالسَّا ئِلُ وَهَل یَرحَْمُ السَّائِلَ اِلَّاالمُْعطِْي؟ْ مَولَْايَ یَامَولَْايَ اَنتَْ الحَْيُّ وَاَنَاالمَْيِّتُ وَهَل یَرحَْمُ المَْيِّتَ اِلَّاالحَْيُّ؟”اے ميرے مو لا اے ميرے مو لا تو مولا ہے اور ميں بندہ ہوں اور بندے پر مو لا کے علاوہ اور کون رحم کرے گا ؟اے ميرے مو لا اے ميرے مولا تو مالک ہے اور ميں مملوک ہوں اور مملوک پر مالک کے سوا کون رحم کرے گا ؟مو لا اے ميرے مولا تو عزت و اقتدار والا ہے اور ميں ذلت و رسوائی والا اور ذليل پر عزت والے کے علاوہ اور کون رحم کرے گا ؟اے ميرے مو لا اے ميرے مو لا تو خالق ہے اور ميں مخلوق ہوں اور مخلوق پر خالق کے سوا کون رحم کرے گا ؟اے ميرے مو لا اے ميرے مو لا تو عظيم ہے اور ميں حقير ہوں اور حقير پر سوائے عظيم کے کون رحم کرے گا ؟مو لا اے ميرے مو لا تو طاقتور ہے اور ميں کمزور ہوں اور کمزور پر طاقتور کے علا وہ اور کون رحم کرے گا ؟مو لا اے ميرے مو لا تو مالدار ہے اور ميں محتاج ہوں اور محتاج پر ما لدار کے علاوہ اور کون رحم کرے گا ؟مو لا اے ميرے مو لا تو عطا کرنے والا ہے اور ميں سائل ہوں اور سائل پر سوائے عطا کرنے والے کے اور کون رحم کرے گا ؟ ميرے مو لا اے ميرے مولا تو زندہ ہے اور ميں مردہ ہوں اور مردہ پر سوائے زندہ کے اور کون رحم کرے گا ؟
ضرورت سے پہلے دعا کرناجس حاجت و فقر کی طرف انسان متوجہ ہو تا ہے اور اس کو الله کی بارگاہ ميں پيش کرتا ہے ، اس سے دعا کرتا ہے اور اس سے طلب کرتا ہے (وہ فقر کی طرف متوجہ ہو نے کے بعد دعا کرنا ہے )۔ضرورت سے با خبرہونے اور طلب سے متصل ضرورت کے ذریعہ الله کی رحمت زیادہ نازل ہو تی ہے اس حاجت و ضرورت کی نسبت جو دعا سے متصل نہيں ہو تی ہے ۔دونوں کے ذریعہ الله کی رحمت نا زل ہو تی ہے ليکن حاجت جب طلب اور دعا سے متصل ہوتی ہے تو الله کی رحمت کو زیادہ جذب کرتی ہے اور الله کی رحمت غير کی نسبت اس کو زیادہ جواب دیتی ہے۔ اور اسی حاجت کی طرف سورہٴ نمل کی اس آیت کریمہ ميں اشارہ کيا گيا ہے 🙁 <اٴمّنُ یُجِيبُْ المُْضطَْرَّاِذَادَعَاہُ وَیَکشِْفُ السُّوءَْ>( ١ “بهلا وہ کون ہے جو مضطر کی آواز کو سنتا ہے جب وہ آواز دیتا ہے اور اس کی مصيبت کو دور کر دیتا ہے “آیہ کریمہ ميں دوباتوںپر زیادہ توجہ دی گئی ہے اضطرار اوردعا < ( المُْضطَْرَّاِذَادَعَاہُ> ( ٢اور ان دو نوںيعنی اضطرار اور دعاميں سے ہرایک رحمت کو جذب کرتا ہے جب اضطرار اور۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔١)سورئہ نمل آیت/ ۶٢ ۔ )٢)سورئہ نمل آیت/ ۶٢ ۔ )
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔دعا دو نوں جمع ہو جا ئيں تو رحمت کا نازل ہو نا ضروری ہے ۔ اسلام ميں الله تبارک و تعالیٰ سے دعا اور سوال کرنے پر بہت زیادہ زور دیا گيا ہے اور ا س کی رحمت کو حاصل کر نے کےلئے اس کی بار گا ہ ميں اپنی حاجتوں کو پيش کر نے اور اس کے سا منے اپنی حاجت کی تشریح کر نے پربهی زور دیاگيا ہے ۔اسلامی نصوص ميں حاجت برآوری کو دعا سے مربوط قراردیا گياہے: ( <وَقَالَ رَبّکم اُدعُْونِْي اَستَْجِب لَکُم > ( ١”اور تمہارے پروردگار کا ارشاد ہے کہ مجه سے دعا کروميں قبول کرونگا” اور قرآن نے اس بات پر زور دیا ہے کہ الله کے نزدیک اس کے بندے کی قدر و قيمت اس بندے کی دعا کے ذریعہ ہی ہے 🙁 <قُل مَایَعبَْوٴُابِکُم رَبِّي لَولْادُعَاوٴُکُم>ْ( ٢”پيغمبر آپ کہہ دیجئے کہ اگر تمہا ری دعا ئيں نہ ہو تيں تو پرور دگار تمہاری پروا بهی نہ کرتا “قرآن کریم نے تو اس بات پر زور دیا ہے کہ اگر کو ئی دعا سے منحرف ہو تا ہے تو وہ الله کی عبا دت کر نے سے اکڑنے والا قرار دیاجاتا ہے : < اُدعْوني اَستَْجِب لَکُم اِنَّ الَّذِینَْ یَستَْکبِْرُونَْ عَن عِبَادَتِي سَيَدخُْلُونَْ جَہَنَّمَ دَاخِرِینَْ >”مجه سے دعا کرو ميں قبول کرونگا اور یقينا جو لوگ ميری عبا دت سے اکڑتے ہيں وہ عنقریب ذلت کے ساته جہنم ميں دا خل ہو ں گے “۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔١)سورئہ مومن آیت/ ۶٠ ۔ )٢)سورئہ فرقان آیت/ ٧٧ ۔ )٣)سورئہ مومن آیت/ ۶٠ ۔ )
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔دعا اور استجابت کے درميان رابطہ کے سلسلہ ميں تين قوا نين اب ہما را سوال یہ ہے کہ جب حا جت و ضر ورت دعا کے ساته ہو تی ہے تو رحمت کے نزو ل ميںتيزی کيسے آ جا تی ہے اور دعا و ا ستجا بت کے در ميان رابطہ کی شدت اور اس پر زیادہ زور دینے کی کيا وجہ ہے ؟ در حقيقت ہم نے اس فصل کا آغاز اسی سوال کا جواب دینے اور دعا وا ستجا بت کے درميان رابطہ کی تحليل کر نے کےلئے کيا ہے ۔اس سوال کا جواب یہ ہے : دعا کے ذریعہ الله کی رحمت نا زل ہو نے کے تين قوانين ہيں:١۔الله کی رحمت اور فقر و حاجت کے درميان رابطہ ؛ ہم اس قانون کو پہلے وضاحت کے ساته بيان کرچکے ہيں لہٰذا اب اس کو دوبارہ نہيں دُہرائيں گے اور دعا کی ہر حالت، حاجت اور فقر ميں الله کی رحمت کی متضمن ہوتی ہے اور یہ الله کی رحمتوں کی منزلوں ميں سے پہلی منزل ہے ۔٢۔فقر اور حاجت ميں الله کی رحمت سے آگاہ ہوجانے کے بعد رابطہ۔ آگاہ ہوجانے کے بعد ضرورت اور آگاہ ہو نے سے پہلے ضرورت کے مابين فرق ہے ۔ان ميں سے ہر ایک حا جت و ضرو رت ہے اور ہر ایک سے الله کی رحمت مجذوب ہو تی ہے اور نازل ہوتی ہے ليکن ان ميں سے ایک با خبر ہو نے سے پہلے اور ایک فقر و حا جت سے با خبر ہو جا نے کے بعد ہے ۔جس حاجت وضرورت سے انسان با خبر نہيں ہو تا اس ميں وہ الله کا محتاج ہو تا ہے اور وہ اپنی حا جتوںکو الله کی بارگاہ ميں پيش نہيں کرتا بلکہ کبهی کبهی تو وہ الله کو پہچا نتا بهی نہيں۔ليکن فقر وضرور ت سے آگا ہ انسا ن اپنی ضرور توں اور حا جتوں کو ا لله با ر گا ہ ميں پيش کر تا ہے اور یہ با خبر ہو نا ہی اس کے الله سے محتاجی کو تا ریکی سے نکا ل کر با خبر ہو نے تک پہنچادیتا ہے حا لا نکہ حا جت و ضرورت سے ناسمجه و بے خبرانسان تا ریکی ميںگهر جا تا ہے اور وہ اس کو سمجه بهی نہيں پا تا ۔ليکن وہ فقير و محتاج جو اپنی حاجتو ں کو الله کی بار گاہ ميں پيش کر تا ہے وہ الله کی رحمت اور اس کا فضل چا ہتا ہے حا لا نکہ اپنی ضرو رتو ں سے نا آگاہ فقير اپنی حا جتو ں کو الله کی با ر گاہ ميں پيش نہيںکر تاہےگو یا حا جتو ں سے با خبر انسا ن حا جت وضرور ت کی حا لت سے صحيح معنوں ميں دو چار ہو تا ہے اور ضرورت جتنی زیا دہ ہو گی اتنا ہی الله کی رحمت کو قبو ل کر نے کےلئے نفس وسيع ہو گا اور ہم پہلے یہ بيان کر چکے ہيں کہ الله کی رحمت کے خزانو ںميں نہ بخل ہے اور نہ مجبوری ۔ہا ں الله کی رحمت کو قبو ل کر نے کےلئے لو گو ں کے ظروف مختلف ہو تے ہيں ۔جس انسان کا ظرف بہت زیا دہ بڑا ہو گا الله کی رحمت ميں اس کا حصہ اتنا ہی زیا دہ ہو گا اور ظر ف سے مراد یہا ں پر ضرورت ہے یعنی جس ضرور ت کی کو ئی اہميت ہو اور انسان اپنی ضرورت کو الله کی با ر گاہ ميں پيش کر ے۔ایک خطا کا ر مجرم کےلئے جب سو لی کا حکم صادر کيا جاتا ہے تو وہ اس سے با خبر ہو تا ہے ۔وہ عوام الناس اور حکا م کے دلو ں کواپنی طرف اس جرم سے زیا دہ معطوف کرتا ہے جو اپنے لئے سو لی کا حکم نا فذکر انا چا ہتا ہے اور اس کو یہ بهی نہيں معلو م کہ اسے کہا ں جا ناہے ۔سولی کا حکم صا در ہو نے کے متعلق دونوں برابر کا علم رکهتے ہيں۔ہاں وہ مجرم جواپنے جرم کا معتر ف اور اپنی سزاسے واقف ہے وہ دو سروں کے مقابلہ ميں لوگوں سے زیادہ رحمت کا خو استگار ہوتا ہے کيونکہ ایسا شخص جرم اور سزا کی طرف پوری طرح متوجہ ہوتا ہے جبکہ دو سرے افراد جرم اور سزا کی طرف اتنا متوجہ نہيں ہو تے ۔
 

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.