قرآن و فقہ کا باہمی رابط
يہ دونوں اصطلاحيں شيعہ سني دونوں فرقوں کے درميان رائج ہيں۔ نہ يہ شيعہ سے مخصوص ہيں اور نہ ہي اہل سنت سے سالہا سال بلکہ صديوں سے يہ دونوں اصطلاحيں شيعہ سني علماء کے درميان چلي آرہي ہيں۔ اور ان کي تعريف ميں بھي دونوں کو کوئي اختلاف نہيں ہے۔ فقہ کي جو تعريف شيعہ کرتے ہيں اہل سنت بھي وہي تعريف کرتے ہيں۔ ان کے يہاں فقہ کي کوئي الگ تعريف نہيں ہے۔ اسي طرح قرآن سے جو شيعوں کي مراد ہے اہل سنت کا بھي قرآن سے وہي مقصود ہے۔ البتہ کچھ جزئي اور جنبي امور ميں اختلاف ضرور ہے تاہم يہ اختلاف ايسا نہيں کہ فقہ و قرآن سے مقصود ميں اختلاف پيدا کرسکے۔ مثلا : شيعہ علماء کے نزديک فقہ کے چار منابع ہيں۔ قرآن، سنت، اجماع اور عقل۔ ليکن اہلسنت کے يہاں قياس، استحسان اور ديگر امور بھي فقہ کے منابع ميں شمار ہوتے ہيں۔ اسي طرح فقہ کے منابع ميں شيعوں کے يہاں سنت سے مراد، نبي يا امام معصومٴ کا قول و فعل اور تقرير ( کسي عمل کے مقابل سکوت) ہے۔ليکن اہل سنت کے يہاں ائمہٴ اس ميں شامل نہيں ہيں نيز صحابي ( اور کچھ کے بقول تابعين بھي ) اس ميں شامل ہيں۔يہ اختلافات اگر چہ اپني جگہ اہم اور بڑے اختلافات ہيں ليکن ايسے نہيں ہيں جن کي وجہ سے فقہ کي تعريف پر اثر پڑ سکے۔قرآن کا قلمرو :اس ميں کوئي شک نہيں کہ قرآن ميں ہر خشک و تر موجود ہے اور کوئي ايسا حکم اور علم نہيں ہے کہ جوقرآن ميں موجود نہ ہوجيسا کہ قرآن نے کہا ہے( ولا رطب ولايابس الا في کتاب مبين ) يعني کوئي خشک و تر ايسا نہيں جو کھلي ہوئي کتاب ( قرآن ) ميں موجود نہ ہو۔ ليکن اس کے باوجود يہ حقيقت ہے کہ ہر خشک وتر قرآن ميں صراحت کے ساتھ بيان نہيں ہوا ہے بلکہ کبھي اس کے لئے تاويل کي ضرورت پڑتي ہے کبھي تفسير کي۔ بعض جگہ روايات ميں قرآن کي ستر تہيں بتائي گئيں ہيں۔ در اصل يہي وجہ ہے کہ بشريت کو قرآن کے ساتھ معصوم کي تفسير اور ان کي توضيح کي ضرورت پڑي ورنہ قرآن ہي کافي ہوتا تو نہ نبي بھيجنے کي ضرورت ہوتي اور نہ ہي امام۔ البتہ يہ کہا جا سکتا ہے کہ ( الا في کتاب مبين ) يعني کتاب کے بيانات واضح اور صر يح ہيں اور يہ کھلي ہوئي کتاب ہے توپھر يہ کيسے کہا جاسکتا ہے کہ قرن ميں ہر خشک و تر صراحت کے ساتھ موجود نہيں ہے؟ليکن ذرا سا غور کرنے پر يہ بات واضح ہو سکتي ہے کہ قرآن کھلي ہوئي کتاب ضرور ہے ليکن سوال يہ پيدا ہوتاہے کہ کس کے لئے ؟ يعني قرآن کے تمام بيانات کس کے لئے واضح ہيں؟ يقينا ہر ايک کیلئے نہيں ہيں۔ اس کو خود کتاب کي مثال دے کر بھي اس طرح سمجھا جاسکتا ہے کہ اگرکوئي کتاب کھلي ہوئي ہو تو ضروري نہيں ہے کہ ہر کوئي اس کے پڑھنے پر قادر ہو۔ بلکہ کتاب کو وہي پڑھ سکتا ہے جو کتاب کے سامنے ہو۔ يعني ايسے زاويہ پر ہو کہ مکمل کتاب اسے دکھائي دے سکے۔ ورنہ لاکھ کتاب کھلي ہو، اگر دمي اس سے دور يا ايسے زاويے ميں ہو کہ اسے کتاب کے صفحات نہ دکھائي دے سکيں يا درميان ميں کوئي ديوار يا پردہ حائل ہو تو وہ کتاب کو نہيں پڑھ سکتا۔ جب کہ کتاب کھلي ہوئي ہے۔بہرحال قرآن ميں علم تاريخ، جغرافيا، نجوم، طب اور ان کے علاوہ سيکڑوں علوم موجود ہيں جن ميں ايک علم دين بھي ہے۔ ليکن تمام علوم کے جزئيات قرآن ميں صراحتاً بيان نہيں کئے گئے ہيں۔لہٰذا اگر عمق اور باطن قرآن کو مد نظر رکھا جائے تو کہا جاسکتا ہے کہ قرآن ہر خشک و تر کو اپنے احاطہ ميں لئے ہوئے ہے۔ اور وہ ہر چيز پر محيط ہے۔ليکن اگر ظاہر قرآن کو مد نظر رکھا جائے تو کہا جاسکتا ہے کہ علوم وفنون کے کليات اس ميں بيان کردئے گئے ہيں اگرچہ جزئيات تمام کے تمام بيا ن نہيں کئے گئے ہيں۔پہلي صورت ميں قرآن کا قلمرو انتہائي وسيع ہوگا جس کي سرحدوں کا اندازہ لگانا مشکل بلکہ ناممکن ہے ۔ دوسري صورت ميں قرآن کے قلمرو کا کسي حد تک اندازہ لگايا جاسکتا ہے۔فقہ کاقلمرو :يوں تويہ حقيقت ہے کہ انسان کي زندگي ميں پيش نے والے ہر موڑ اورہر موقع پر حکم شريعت موجود ہے۔ اور انساني زندگي کا کوئي گوشہ ايسا نہيں ہے جس کے سلسلے ميں حکم شريعت نہ ہو۔
ولادت سے لے کر بلکہ قبل از ولادت سے مرنے تک بلکہ بعد از مرگ تک کے تمام احکام اور مسائل، شريعت اسلامي ميں بکھرے پڑے ہيں۔ اس ميں يہ بھي موجود ہے کہ بچہ جب پيدا نہ ہوا ہو اور رحم مادر ميں اپنے قبل از زندگي کے لمحات گزار رہا ہو تو اس حالت کے احکام کيا ہيں ۔ کيا کرنا چاہيے اور کيا نہيں کرنا چاہئے؟۔ اور اس ميں يہ بھي موجود ہے کہ انسان جب مرجائے اور دنيا و مافيہا سے اس کي زندگي کے رابطے ٹوٹ جائيں تو اس حالت کے کيا احکام ہيں ۔ ايسے حالات ميں کيا کرنا چاہئے اور کيا نہيں کرنا چاہئے؟ليکن ان سب کے باوجود اس سے انکار نہيں کياجاسکتا کہ فقہ ميں نہ علم تاريخ کے مسائل بيان ہوئے ہيں نہ جغرافيا کے نہ علم نجوم وطب کے اور نہ ہي ان کي طرح بہت سے ديگر موضوعات اور علوم کے۔اور اگر تھوڑا اور غور کيا جائے تو يہ بات بھي واضح ہوسکتي ہے کہ علم فقہ خود دين کے سلسلہ کے بھي تمام مسائل اور موضوعات کا احاطہ نہيں کرسکتا۔ اوردين کے تمام ابحاث اس ميں جگہ نہيں پاسکتے۔ کيونکہ دين کے مسائل تين قسموں ميں تقسيم کئے گئے ہيں ايک عقائد ہے، ايک احکام اور ايک اخلاق ، عقائد کے مسائل کے لئے علم فقہ ميں بالکل جگہ نہيں ہے ، اسي طرح اخلاق کے موضوعات کو بھي علم فقہ سيران نہيں کر سکتا۔ دين کے مسائل کے اقسام ميں سے صرف ‘احکام‘‘ بچتے ہيں جن کي ذمہ داري علم فقہ کي ہے اور علم فقہ تمام احکام اسلامي کا احاطہ کئے ہوئے ہے۔لہٰذا کہا جاسکتا ہے کہ اگرچہ انساني زندگي کے مختلف پہلوں اور گوناگون گوشوں کے حوالے سے علم فقہ ہر پہلو اور مورد کے سلسلے ميں مشکلکشا ہے اور انساني زندگي کے راستے کا کوئي ذرہ ايسا نہيں ہے جو علم فقہ کے نہ تھکنے والے قدموں سے نہ روندا گياہو۔ ليکن اسکے باوجود دنيا کے بہت سے مسائل ايسے ہيں جن کو علم فقہ ہاتھ تک نہيں لگاتا اسي طرح خود دين کے اندر ايسے انگنت مسائل ہيں جن کا علم فقہ سے کوئي واسطہ نہيں ہے۔قرآن وفقہ کا آپسي ارتباط :قرآن کے سلسلہ ميں دو امر کو مدنظر رکھتے ہوئے قرآن کے قلمرو کے سلسلہ ميں دو نتيجہ سامنے آئے تھے۔ ايک قرآن کے ظواہر کو مد نظر رکھ کر نکالا گيا تھا اور دوسرا قرآن کے بواطن اور حقائق کو مد نظر رکھ کر نکالا گيا تھا۔اب اگر قرآن کو آمنے سامنے رکھا جائے تو بڑي آساني سے مندرجہ بالا دو صورتوں کو مد نظر رکھ کر قرآن و فقہ کے باہمي رابطے کے سلسلہ ميں دو نتيجے اخذ کئے جا سکتے ہيں۔اگر قرآن کے حقائق اور اسکے بطون کو مد نظر رکھا جئے تو يہ بات اظہر من الشمس ہے کہ قرآن کا قلمرو فقہ سے انتہائي وسيع ہے قرآن مين علم دين کے علاوہ دوسرے علوم اور موضوعات کے سلسلہ ميں بھي گفتگو کي گئي ہے کوئي خشک و تر ايس انہيں ہے جو قرآن ميں موجود نہ ہو ۔اسکے بر خلاف فقہ ميں نہ صرف يہ کہ علم دين کے علاوہ ديگر علوم مو موضوعات موجود نہيں ہيں بلکہ خود دين کے مسائل کي قسموں ميں سے عقائد و اخلاق ،علم فقہ سے بے ربط اور لاتعلق ہيں ۔علم فقہ صرف احکام کے سلسلہ ميں انساني ضرورتوں کا جواب گو ہے۔اسلئے نتيجہ يہ نکلتا ہے کہ قرآن فقہ سے وسيع ہے يا علمي ا صطلاح ميں يوں کہا جائے کہ دونوں کے درميان عموم خصوص مطلق کي نسبت ہے قرآن کے ظواہر کو مدنظر رکھا جائے تو اس ميں دونوں کے مسائل تين طرح کے ہو سکتے ہيں۔الف: ايسے مسائل جو صرف قرآن ميں موجود ہيں اور فقہ سے انکا کوئي رابطہ نہيں ہے جيسے علم تاريخ ،علم نجوم،طب،جغرافياوغيرہ ۔ب : ايسے مسائل جو صرف فقہ ميں موجود ہيں اورقرآن ميں انکا کوئي ذکر نہيں ہے جيسے کتے کي نجاست وغيرہ۔ج : ايسے مسائل جو قرآن ميں بھي آتے ہيں اور علم فقہ سے بھي انکا رابطہ ہے ۔ جيسے نماز،روزہ،حج وغيرہ ۔ان باتوں کے پيش نظر يہ نتيجہ نکلتا ہے کہ ايک لحاظ سے علم فقہ قرآن سے وسيع ہے اور ايک زاويہ سے سے قرآن علم فقہ سے زيادہ وسعت رکھتاہیاور ايک تيسرے نقطہ نظر سے دونوں مساوي ہيں۔علمي اصطلاح ميں اسے اس طرح کہا جا سکتا ہے کہ فقہ اور قرآن کے درميان عموم خصوص من وجہ کا ربطہ ہے۔خدا وند کريم سے دعائ ہے کہ ہميں قرآن کريم پر عمل کرنے اور فقہ محمدي (ص) پر عمل پيرا ہونے کي توفيق عنايت فر مائے ۔ ( آمين )