ضرورت معرفت کیا ہے

770

 { تُسَبِّحُ لَهُ السَّمَاوَاتُ السَّبْعُ وَالأرْضُ وَمَنْ فِيهِنَّ وَإِنْ مِنْ شَيْءٍ إِلا يُسَبِّحُ بِحَمْدِهِ وَلَكِنْ لا تَفْقَهُونَ تَسْبِيحَهُمْ إِنَّهُ كَانَ حَلِيمًا غَفُورًا }{ أَنْزَلَ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً فَسَالَتْ أَوْدِيَةٌ بِقَدَرِهَا }علم وہ جوھر ہے جو اشرف المخلوقات انسان کی حقیقت کو تشکیل دیتا ہے پس علم اشرف الموجودات ہے ، خداوند علیم و حکیم نے ایجاد کے بعد نعمت علم کو انسان پر بطور احسان اور منت ذکر فرمایا ہے : { اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ، خَلَقَ الإنْسَانَ مِنْ عَلَقٍ } خلقت وہی ایجاد ہے ۔{ اقْرَأْ وَرَبُّكَ الأكْرَمُ ،الَّذِي عَلَّمَ بِالْقَلَمِ ،عَلَّمَ الإنْسَانَ مَا لَمْ يَعْلَمْ } حضرت عالم و علیم نے کتاب حکیم کے نزول کا آغاز علم سے فرمایا (اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ) حقیقت میں ایجاد اور خلقت علم پر موقوف ہے پس علم اول ِعالم ھستی ہے جس طرح اس کا آخر بھی ہے اسی طرح ظاہر بھی ہے اور باطن بھی ، علم وہ اول کمال ہے جسکے بغیر کوئی کمال بھی ظاہر نہیں ہوتا عالم ھستی جسکے بغیر نیستی میں تبدیل ہوجائے گی ، اور ایسا انسانی کمال ہے کہ جاہل بھی علم کا مدعی ہے اگر اسکی طرف علم کی نسبت دی جائے تو اس نتول سے بھی لطف اندوز ہوتا ہے اور جہل وہ نقض اور عیب ہے کہ جاہل بھی اس سے برائت کرتا ہے ، علم نور ہے جسکی روشنی میں بشر صحیح قد م اٹھا سکتا ہے علم وہ قدرت ہے جس نے پورے جہان کو مسخر کیا ہو ا ہے اور علم عالمین کا سلطان اورہر نظام تکوینی اور اعتباری کے ارتقاء کا راز ہے علم روح کی غذا اور عقل کی لذت ہے علم بہشت اور جہل دوزخ ہے ، علم تنہائی اور وحشت میں مونس و ہمدم ہے دشمن کے خلاف بہترین اسلحہ اور امت کا رہبر ہے علم ادم اور آدمی کو فرشتوں کا مسجود قرار دیتا ہے علم سبب سجدہ اور عبادت ہے اور علم کے بغیر عبادت محال ہے ، علم ، عمل کا امام ہے ، اور عمل اسکا مقتدی ہے بلکہ عمل بلاعلم محال ہے ۔( العلم امام و العمل تابعہ) اہل علم آسمانوں کے ملکوت میں عظیم ہیں علم کو جب معرفت کی نگاہ سے دیکھیں تومعرفت ہدف اور مقصد تخلیق خالق ہے ہر عبادت کا ہدف معرفت ہے، معرفت اول دین ہے اور بشر پرسب سےپہلا واجب ، جس واجب کے ادا کرنے سے دیگر واجبات کا ادا کرنا ممکن ہے اور اگر وجوب معرفت اداد نہ ہوا تو ہر واجب کی ادائیگی محال ہے علم توحید کی اساس معرفت رب ہے ہر عمل اور عبادت کا وزن معرفت ہے لیکن نہ ہر معرفت اور ہر شی کی معرفت بلکہ معرفت حق تعالیٰ ، تو پس اب یہ معرفت حاصل ہوئی کہ معرفت، عالم ِہستی کی ضرورت ہے۔
لیکن یہ ضرورت پوری نہیں ہوگی جبتک بشر قطب معارف و معرفت کا عرفان حاصل نہیں کرئے گا ، جو عالم ہستی کا قطب اور عالم علم وعرفان کا مرکزی نکتہ ہے اورجسے خاتم الانبیاء نے خاتم الائمہ کے اسم سے پورے عالم اسلام کو تعارف کروایا ہے ، لذا ضرورت معرفت ، معرفت خاتم الائمہ علیہ السلام سے پوری ہوگی ۔
یہ رسالہ اس ضرورت کے ضروری دلائل کے بیان کے ذریعہ اسے اثبات کرئے گا
برھان اول
ہر انسان کا ہدف اللہ تبارک تعالیٰ کا قرب ، اللہ عزوجل کی معرفت اور اس سے ملاقات ہے۔اس لیے کہ سب اسی سے ہیں اور سب نے اسی کی طرف جانا ہیں۔{ قالُوا إِنَّا لِلَّهِ وَ إِنَّا إِلَيْهِ راجِعُونَ } سب امور اور اشیاء کا انجام اور انتہا وہی ہے جسطرح سب کی ابتداءاور آغاز وہی ہے ۔{ أَلا إِلَى اللَّهِ تَصيرُ الْأُمُورُ } وہی آخری مرجع اور پناہ گاہ سے۔ تمام مقاصد کا مقصد تمام اہداف کا ہدف تمام اغراض کی غرض ہے۔ ہر غرض کی غرض معبود حق اللہ تبارک و تعالی ہے {الی ربک المنتھی، والیھ الرجعی} وہی واحد،احد اورصمد ہے۔ہر انسان کا کمال لقاء اللہ یعنی حق و تبارک وتعالی کی معرفت ہے لذا ارشاد فرمایا{ يا أَيُّهَا الْإِنْسانُ إِنَّكَ كادِحٌ إِلى‏ رَبِّكَ كَدْحاً فَمُلاقيهِ } ،اے حضرت انسان تو اپنے پروردگار کی طرف ہوتا چلا جارہا ہے پس تو اُسی سے جا ملے گا اُسی سے ملاقا ت جا کرے گا کیونکہ جو مبداء ہے وہی ہدف اور مقصد ہے ۔
یہ ہدف اور کمال انسانی حاصل نہیں ہوگا جبتک وہ خود ہمیں اپنا عرفان و پہچان عطاء نہیں فرماے گا اس کا عرفان اور پہچان ہمیں عطاء نہیں کیا جاے گا جبتک خاتم الائمہ× # کا عرفان حاصل نہیں ہوگا پس معرفت خاتم الائمہ × # انسان کی ضرورت ہے کیونکہ{ِ بِنَا عُرِفَ اللَّهُ وَ بِنَا عُبِدَ اللَّهُ نَحْنُ الْأَدِلَّاءُ عَلَى اللَّهِ وَ لَوْلَانَا مَا عُبِدَ اللہ}ہمارے وسیلے سےاللہ کو پہچانا گیا ہے ہمارے ذریعہ اللہ کی عبادت کی گئی اگر ہم نہ ہوتے تو اللہ کو نہ پہچانا جا تا اگر ہم نہ ہوتے تو اللہ کی عبادت و بندگی نہ کی جاتی ۔
اللہ جل جلالہ کی معرفت کا میزان، امام خاتم الائمہ × # کی معرفت ہے تمام معارفِ دین کا مر کزی نکتہ معرفت امام زمان× # ہے ؛لذا ہم دعا کرتے ہیں خدا یا ہمیں اپنی ذات کی پہچان عطا ء فرما اگر یہ معر فت عطا نہ ہوئی تو ہم تیرے رسول کو نہیں پہچان پائیں گے؛ لذا رسول اللہ ﷺ کا عرفان عطا فرما ورنہ ہم تیری حجت کی معرفت حاصل نہیں کر پائیں گے پس ہمیں حجت کا عرفان عطاء فرما ورنہ ہم دین سے گمراہ ہو جائیں گے پس اگر معرفت امام زمان #ہو گی تو دین پر ہوں گے اورمعارف دین حاصل ہونگے اور دین ہمیں فائدہ پہا ہئے گا۔ اور اگر معرفت امام زمان # نہیں ہے تو دین کے معارف سےگمراہ ہیں پس معارف دین کا دار و مدار خاتم الائمہ ×# کا عرفان ہے معرفت خاتم الائمہ×# سے باقی معارف مرتبط ہیں اگر یہ معرفت ہوگی تو اللہ و رسول و نبی و قیامت کی معرفت باقی رہے گی ورنہ یہ معرفت بھی زائل ہو جائے گی کہ جسکا نتیجہ جاھلیت کی موت ہے۔ پس خاتم الائمہ× # کی معرفت اسلام و مسلمین و مومنین اور پوری بشریت کی ضرورت ہے۔
بلکہ امام زمان# کی معرفت، معرفت اللہ ہے
برھان دوّم
اللہ تعالیٰ کی معرفت واجب ہے اور یہ واجب بغیر معرفت امام خاتم الائمہ× # کے ادا نہیں ہوگا لذا معرفت اللہ میں خاتم الائمہ × # کی معرفت بشر کی ضرورت ہے۔جسطرح شیخ صدوق & علل اشرائع میں حدیث نقل فرماتے ہیں۔اللہ عزوجل نے بندوں کو خلق نہیں فرمایا مگر اس لیے کہ وہ اسکا عرفان حاصل کریں اسے پہچانیں جب بندے اللہ کی معرفت حاصل کر لیں گے تو اللہ کی عبادت کریں گے جب ( معرفت کے ساتھ) اسکی عبادت کریں گے تو اللہ کی عبادت کے ذریعہ سے اللہ کے سوا غیرِ خدا سے بے نیاز ہو جائیں گے ۔
تو ایک شخص نے کہا : اے فرزند رسولِ خداﷺ! میر ے ماں باپ آپ پر قربان ہو ں پس اللہ کی معرفت کیا ہے؟ تو امام × نے جواب دیا ہر زمانہ میں اہل زمانہ کا اپنے امام زمانہ کی معرفت حاصل کرنا ہے کہ جسکی اطاعت اُن پر واجب ہے۔
[علل الشرائع‏] أَبِي عَنْ أَحْمَدَ بْنِ إِدْرِيسَ عَنِ الْحُسَيْنِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي عُثْمَانَ عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ سَلَمَةَ بْنِ عَطَاءٍ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ع قَالَ خَرَجَ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ ع عَلَى أَصْحَابِهِ فَقَالَ أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّ اللَّهَ جَلَّ ذِكْرُهُ مَا خَلَقَ الْعِبَادَ إِلَّا لِيَعْرِفُوهُ فَإِذَا عَرَفُوهُ عَبَدُوهُ فَإِذَا عَبَدُوهُ اسْتَغْنَوْا بِعِبَادَتِهِ عَنْ عِبَادَةِ مَا سِوَاهُ فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ يَا ابْنَ رَسُولِ اللَّهِ بِأَبِي أَنْتَ وَ أُمِّي فَمَا مَعْرِفَةُ اللَّهِ قَالَ مَعْرِفَةُ أَهْلِ كُلِّ زَمَانٍ إِمَامَهُمُ الَّذِي يَجِبُ عَلَيْهِمْ طَاعتہ۔
اس حدیث میں معارف ہیں ، مقصد و ہدف خلقت اللہ کی معرفت ہے اور عبادت متاخر از معرفت ہے چونکہ عقلا محال ہے کہ عبادت معرفت پر مقدم ہو بلکہ عبادت معرفت کا نتیجہ ہے معرفت ہو گی تب عبادت ہو گی اور معرفت سب سے پہلی عبادت ہے اور اساسی ترین عبادت ہے باقی عبادا ت کی عبادیت معرفت پر متوقف ہے پس پہلے ذات واجب معروف ہوگی پھر معبود واقع ہوگی عبادت بالمعرفت یعنی عبادت معرفت کے ساتھ باعث و موجب بنتی ہے کہ انسان غیر خدا کی عبادت سے بے نیاز ہوجائے اس لیے کہ جب یہ معرفت حاصل ہوگی کہ وہ ذات واحد ہے حقیقتا احداور صمد ہے۔اسکے لیے دوسرا ممکن نہیں ہے کیونکہ لا محدود واقعی کے لیے دوسراتصور کرنا محال ہے اور لا محدودیت کو باطل کر دے گا لہذا دوسرا باطل ہے مگر وہ مخلوق ہےجو ذات لا منتاھیہ کے نور کا ظہور اور جلوہ ہے تو وہ معبود واقع نہیں ہوسکتی اسکی مخلوق، اسکا فعل ہے اور مخلوق معبود واقع نہیں ہو سکتی۔
لہذا عبادت جب اس معرفت کے ساتھ واقع ہوگی تو اب غیر خدا کی عبادت سے بے نیاز کرے گی کیونکہ اب کوئی دوسرا مالک نہیں کہ اسکی عبادت کی جائے۔یہی معرفت سب سے پہلی عبادت ہے اور یہی عبادت عظمیٰ ہے اور دیگر عبادات کا سبب ہے، معرفت اللہ کی اصل اور اساس اللہ تبارک و تعالی کی توحیدہے؛لذا امام العارفین امیر المو منین حضرت علی × ارشاد فرماتے ہیں۔{ أَوَّلُ عِبَادَةِ اللَّهِ مَعْرِفَتُهُ وَ أَصْلُ مَعْرِفَةِ اللَّهِ تَوْحِيدُه‏ }اللہ تبارک وتعالی کی پہلی(مرتبہ وجود اور نظام کے لحاظ سے) عبادت اس کا عرفان ہے اور اللہ کی معرفت کی اصل و اساس اور بنیاد اسکی توحید ہے ۔جب اللہ کی معرفت امام زمان # کی معرفت کے بغیر ممکن نہیں اور معرفت اللہ وہی معرفت امام زمان ×# ہے۔ تو پس اگر کوئی دعوی کرے کہ معرفت اللہ رکھتا ہے لیکن امام زمان×# کی معرفت نہ رکھتا ہو تو وہ اپنے دعوی ٰمیں جھوٹا ہے۔
برھان سوّم
جب اللہ کی معرفت کی بنیا د توحید ہے اور معرفت امام زمان×# کے بغیر حقیقت توحید حاصل نہیں ہوتی ۔ تو جو امام زمان× # کی معرفت نہ رکھتاہو اسکے پاس توحید نہیں ہو گی اور جسکے پاس تو حیدنہ ہو اسکے پاس دین میں سے کچھ بھی نہیں ہے ۔ کیونکہ معرفت ِتوحید تمام معارف دین کی بنیاد ہے۔ لذا اب روشن ہو گا کہ جو امام زمان×# کی معرفت کے بغیر مرے وہ جہالت کی موت مرا ہے پس معرفت امام زمان× # سے زند گی عارفانہ ہوگی اور موت بھی عارفانہ ،امام زمان×# سے جہالت سبب بنتی ہے کہ انسان کی زندگی بھی جاھلانہ ہو اور موت بھی جاھلانہ ،خاتم الائمہ× # کا عارف موحد ہے اور آنحضرت کا جاہل موحد نہیں ہو سکتا ۔ { أَنَّ مَنْ مَاتَ وَ لَمْ يَعْرِفْ إِمَامَ زَمَانِهِ مَاتَ مِيتَةً جَاهِلِیَّہ } حدیث نبوی معروف ہے جاہلیت کی موت وہی موت ہے جو معرفت دین کے بغیر ہے قبل از اسلام کی موت ہے کفر کی موت ہے ، کیونکہ اما م × کی معرفت کے بغیراللہ اور رسول کی معرفت ممکن نہیں ہے۔ پس امام خاتم الائمہ× # کی معرفت مسلمان اور مومن کی ضرورت ہے۔معرفت امام خاتم × # سے زندگی، عارفانہ ہے اور اس سے جہالت ، جاھلانہ زندگی ہے بلکہ معرفت امام خاتم × # حیات واقعی بشر اور اس سے جہالت بشر کی حقیقی موت ہے ،خاتم الائمہ × # کی معرفت انسان کی حیاتی ضرورت ہے۔
برھان چہارم
حضرت خاتم الائمه عليه السلام كي معرفت تمام معارف كا قطب اور بنياد هے
دین کے تمام معارف کو باقی رکھنے کےلیے خاتم الائمہ علیہ السلام کی معرفت ضروری ہے جس طرح آنحضرت کا وجود مقدس عالمین کا قطب ہے اسی طرح ان کی معرفت تمام معارف کا قطب اور اساس ہے۔
تمہید
یہاں سب سے پہلے کلمہ معرفت کا عرفان ضروری ہے ۔
مراد از معرفت:شی کو ویسے پہچاننا اور پانا اور درک کرنا جسطرح وہ حقیقت میں ہے ، علماء لغت کے نزدیک! معرفت شی کو اسکی خصوصیات اور آثار کے ساتھ پہچاننا ہے جسکے حصول کا وسیلہ ، تفکر اور تدبر ہے ( مفردات راغب) جس کے نتیجہ میں شی اپنے غیر سے بطور کامل ممتاز ہو کر سامنے آجاتی ہے، اہل نظر ( شیخ بھائیؒ) فرماتے ہیں : دو علم کے درمیان جہل آنے کے بعد دوسرے علم پر معرفت بولا جاتا ہے جسطرح انسان اپنی پہلی فطرت میں شناخت حق رکھتا ہے جس کی بنیاد پر ( عہد اَلست) لیا گیا ، ( الست بربکم)؟تو فطرت اولیہ کی شناخت پر ( قالو بلیٰ) محقق ہوا ، پھر دنیا ، بدن اور مادہ سے تعلق اور ارتباط کے سبب غفلت طاری ہو گی ۔
اب پھر جب علم و عمل کے ذریعہ جان کی تہذیب ہو گی تو پھر فطرت اولیہ پر علم ظاہر ہو گا تو اس علم و شناخت کو معرفت کہا جاتا ہے اسی وجہ سے ذات واجب پر (عَلم) نہیں اطلاق ہوتا ہے عرف میں نہیں بولا جاتا ، کہا جاتا ہے کہ فلان نے اللہ کی معرفت حاصل کی ، فلان یَعرفُ اللہ ہے لیکن نہیں کہا جاتا ، فلان یعلم اللہ ، کہ فلان نے عرف اللہ کا علم حاصل کیا ہے کہا جا تا ہے: اللہ یعلم کذا ، اللہ فلان کا عالم ہے نہیں کہا جاتا اللہ تعالی فلان کا عارف ہے ، اللہ یعرف کذا ، پس خدا وند متعال عالِم ہے اس پر عارف کا اطلاق نہیں ہوتا مخلوق اور انسان اللہ کے عارف ہو سکتے ہیں عالم نہیں ہو سکتے لذا وہ ہر شی کا معروف ہے لیکن کسی کا معلوم نہیں ہے البتہ معرفت کے اور بھی اطلاقات اور استعمالات ذکر ہوئے ہیں بعض نے( 9 )اطلاق بیا ن کیے ہیں جیسے عُرف عرفاء کی اصطلاح(تھوی یا علم مسبوق یا لعدم ) کشاف اصطلاحات) لیکن نظر تحقیق میں معرفت ، علم خاص ہے جس میں درج ذیل خصوصیات ہوں ۔1۔ حقیقت شی کا علم ، ادارک شی علی ما ھو علیہ ، ۔2۔ خصوصیات اور آثار کے ذریعہ ، ادراک کیا جائے ، 3۔ برہان سے حاصل ہو۔
پس شی کا ظاہری معلوم ہونا آثار اور خصوصیات کا تفصیلی علم نہ ہونا اور تقلید سے حاصل ہونے والا علم یا بغیر تحقیق کے باور کر لینے کو معرفت نہیں کہتے ، باقی سب اصطلاحات اور استعمالات ہیں جو سب ان امور میں مشترک ہیں۔ نور روایات عصمت و طہارت میں معرفت کو درایت سے تعبیر کیا ہے اور معرفت کو محل معرفت کے لحاظ سے بھی بیان فرمایا ہے یہاں پر فقط ایک روایت کے نور عرفان کے ذریعہ معرفت کو بیان کرتے ہیں۔ امام معصوم ×نے فرمایا : معرفت درایتِ روایت ہے یعنی روایت کو پانا درک کرناسمجھنا ہے ۔
اما م صادق × فرماتے ہیں کہ امام باقر× نے مجھے ارشاد فرمایا : عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ع قَالَ قَالَ أَبُو جَعْفَرٍ ع يَا بُنَيَّ اعْرِفْ مَنَازِلَ الشِّيعَةِ عَلَى قَدْرِ رِوَايَتِهِمْ وَ مَعْرِفَتِهِمْ فَإِنَّ الْمَعْرِفَةَ هِيَ الدِّرَايَةُ لِلرِّوَايَةِ وَ بِالدِّرَايَاتِ لِلرِّوَايَاتِ يَعْلُو الْمُؤْمِنُ إِلَى أَقْصَى دَرَجَاتِ الْإِيمَانِ ،اے میرے بیٹے شیعوں کی منزلت اور مقام کو پہچانو! انکی روایت اور معرفت کی منزلت کے مطابق تحقیق معرفت یہی روایت کا پانا اور درک کرنا ہے۔ شیعوں کے مقام و منزلت کا میزان معرفت ہے اور معرفت شی کو ویسے پانا جسطرح وہ واقع میں ہے پھر فرمایا:{ وَ بِالدِّرَايَاتِ لِلرِّوَايَاتِ يَعْلُو الْمُؤْمِنُ إِلَى أَقْصَى دَرَجَاتِ الْإِيمَانِ } روایات کو درک کر نے سے مومن ایمان کے اعلیٰ درجات پر فائز ہو کر بلند ہوتا ہے ۔پس معرفت کےمراتب ہیں جتنی جسکو محمد و آل محمد علیہم السلام کی معرفت ہو گی جتنا انکا ادراک ہو گا اتنا ہی اسکے ایمان کا درجہ اعلیٰ و عظیم ہوتا جائے گا ،پھر امام باقر × فر ماتے ہیں میں نے مولا علی× کی کتاب میں دیکھا تو مرقوم تھا۔ إِنِّي نَظَرْتُ فِي كِتَابٍ لِعَلِيٍّ ع فَوَجَدْتُ فِي الْكِتَابِ أَنَّ قِيمَةَ كُلِّ امْرِئٍ وَ قَدْرَهُ مَعْرِفَتُهُ،ہر شخص کی قدرو قمیت اور منزلت اس شخص کی معرفت ہے ۔لہذا وہ انسان عظیم ہو گا جسکا عرفان جلیل ہو گا معرفت کے ترازو پر ہر ایک کو تولا جائے گا ۔امام علیہ السلام فر ماتے ہیں آخر پر یہ جملہ مرقوم تھا( إِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَ تَعَالَى يُحَاسِبُ النَّاسَ عَلَى قَدْرِ مَا آتَاهُمْ مِنَ الْعُقُولِ فِي دَارِ الدُّنْيَا)اللہ و تبارک تعالیٰ لوگوں کا حساب و کتا ب ان کی عقلوں کے مطابق لے گا جو انھیں دنیا میں عطاء فرمائی ہیں ۔اسی لیے حکم ہے کہ لوگوں سے انکی عقل کے مطابق گفتگو کرو ۔ اس حقیقت معرفت کو ہم نے اپنے مولا کے بارے میں حاصل کرناہے خداوند متعال بحق حضرت زہرا ÷ یہ حقیقی معرفت ہم سب کو عطاء فرمائے{آمین}
معرفت اور اطاعت وبندگی
اطاعت اور بندگی ، معرفت پر متوقف ہے ، حقیقت اور واقعیت یہ ہے کہ جو انسان کے وجدان کے مطابق ہے کہ کسی کی اطاعت اور عبادت سے پہلے اس کی معرفت اور پہچان ضروری ہے جب تک کسی شی کی معرفت حاصل نہ ہو اس وقت تک عقل اسکی اطاعت و عبادت کا حکم نہیں کرتا بلکہ محال ہے کسی کی اطاعت و بندگی اس کی معرفت کے بغیر کی جائے۔ یہ عقل سلیم کا قانون ہے۔ معرفت اور اطاعت کا واجب ہونا عقل کا حکم سے ثابت ہے دیگر احکام پھر شریعت اور عقل دونوں سے ثابت ہو سکتے ہیں۔
جسے چند سادہ مثالوں سے مزید روشن کیا جا سکتا ہے۔
مثال عرفی : روزمرّہ کی زندگی میں دو آشنا ہیں جن کی آپس میں ملاقات ہوتی ہے ان میں سے ایک کے ساتھ ایک اور شخصیت ہے جسے دوسرا شخص نہیں جا نتا ملاقات میں معمول سی علیک سلیک کے بعد اس شخصیت کا تعارف کروایا جاتا ہے۔کہ مثلا یہ فلان عالم دین ہے یامیرے والد محترم ہیں یا بھائی ہیں یا کوئی اور عہدہ اور مقام بتا کر تعارف کروایا جاتا ہے تو دوسرا دوست دوبارہ ایک خاص احترام اور محبت کے ساتھ اسے ملتا ہے۔
اب اگر اس سے پوچھا جائے کہ آپ کیوں اس خاص احترام کے ساتھ پیش آرہے ہیں جب کہ پہلے تو آپ نے یہ عمل انجام نہیں دیا تھا ؟ تو بالفرض اسکی زبان نہ بھی ہو تو اسکی فطرت بولے گی کہ میں اسے پہلے اس طرح نہیں پہچا نتا تھا اب پہچان لیا ہے ۔ تو پس یہ خاص احترام ، پہچان اور معرفت لائی ہے ۔یہی حال ہے اصل اطاعت احترام اور عبادت کا کہ جتنی معرفت اور پہچان آتی چلی جاتی ہے اس کی اطاعت و عبادت اوراحترام بڑھتا چلا جاتا ہے اسی طرح کی اور مثالیں ہیں تو جہ کرنے سے مطالب آسان نظر آئیں گے۔
قرآنی دلیل
قرآنی قصوں میں سے سب سے پہلا قصہ حضرت آدم (علی نبینا) علیہ السلام کا ہے وہ یہ کہ فرشتوں کو حکم دیا گیا کہ آدم کو سجدہ کرو تو انھوں نے سجدہ کرنے سے پہلے اللہ تبارک وتعالیٰ سے سوال کیا ؟ کہ ہم تیری پاک وپاکیز ہ مخلوق ہیں اور ہم تیری تسبیح و تقدیس بھی کرتے ہے تیری عبادت بھی انجام دے رہے ہیں ادھر فرشتوں نے مطلق انسان کے بارے میں سوال کیا تھا؟ کہ وہ زمین پر فساد پھیلائے گا ۔ اگرچہ اسکا مصداق حضرت آدم ہی تھے ۔ آدم وہ ہے جو زمیں پر خون خرابا مچائے گا تو اے اللہ آپ ہمیں اس آدم کو سجدہ کیوں کرواتے ہیں؟
تو اللہ تبارک تعالیٰ نے فرمایا (انّی اعلم مالا تعلمون)میں وہ جانتا ہو ں جو تم نہیں جانتے پس میں علم پر تمہیں سجدہ کا حکم دے رہا ہوں میں اللہ نے ایک جوہر آدم میں رکھا ہے جس کی وجہ سے سجدہ کا حکم دے رہا ہوں۔ اس کے بعد اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرشتوں کو آدم کا تعارف کروایا کہ یہ معرفتِ اسماء رکھتا ہے اور حضرت آدم نے بھی خداوند متعال کی طرف سے تعلیم کردہ اسماء کو بیان کیا کہ وہ ملائکہ اس معرفت کونہیں رکھتے تھے اب جب ملائکہ نے حضرت آدم کو پہچانا تو اللہ کے دوسرے حکم کے بغیر آدم × کو سجدہ کردیا اب اگر کوئی ان فرشتوں سے پوچھے کہ پہلے حکم آیا تھا تم نے سوال کیا سجدہ نہیں کیا اب سجدہ ریز ہو گئے ہو اور حکم کا انتظار نہیں کیا تو اس کا سبب کیا ہے ؟تو فرشتے یہی کہیں گے کہ پہلے آدم کی معرفت نہیں رکھتے تھے اب اسکی معرفت حاصل ہو گئی لہذا سجدہ کیا ہے۔پس معرفت کے بعد اطاعت و عبادت اور سجدہ واقع ہوتا ہےمعرفت ہوگی تو عبادت ہو گی معرفت ہو گی تو اطا عت ہوگی۔
نتیجہ
اطاعت و عبادت معرفت پر متوقف ہے یہ ایک حقیقت جسے قرآن مجید بھی بیان فرمارہا ہے کہ معرفت بغیر ، عبادت محال ہے۔گذشتہ بیان پر نظر کرنے سے یہ نظریہ روز روشن کی طرح واضح ہو جائے گا کہ حضرت خاتم لا ئمہ × کی معرفت تما م معارف دین کا مرکز اور قطب ہے جب دین کا دارو مدار معرفت امام زمان× ہے تو اصول اور فروع دین بھی اسی پر متوقف ہوں گے نیز عبادت اور اس کی قبولیت بھی حضرت کی معرفت سے ممکن ہو گی تو اب نتیجہ قطعی اور یقینی ہو گا کہ مولا کی معرفت دین کے تمام معارف کا قطب ہے جس طرح چکی میں قطب وہ درمیانی کیل ہے جو دو پاٹوں کے درمیان ہوتا ہے جس سے چکی گھومتی ہے اور دانے پستے ہیں تب آٹا دیتی ہے اسی طرح تمام معارف ِدین مولا کی معرفت کے اردگرد گھومتے ہیں۔
مزید نورانیت کے لیے چند دیگر احادیث ہدیہ کے طور پر مرقوم کی جا رہی ہیں۔
۱۔ عن الصادق عن ابائہ^ عن رسول اللہ ﷺ قال من انکر القائم من ولدی فی زمان غیبتہ مات میتۃً جاھلیۃً ،رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : جس نے میری ذریت میں سے قائم کا اسکی غیبت کے زمانہ میں انکار کیا وہ جاہلیت (کفر و نفاق و ضلالت)کی موت مرا۔
۲۔عنہ× عن آبائہ ^ عن رسول اللہﷺ قال من انکر القائم من ولدی فقد انکرنی
رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: جس نے میری ذریت سے قائم کا انکا ر کیا پس اس نے مجھ رسول ا للہﷺ کا انکار کیا ۔
۳۔امام باقر × ارشاد فرماتے ہیں :{عِدَّةٌ مِنْ أَصْحَابِنَا عَنْ أَحْمَدَ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ عَلِيِّ بْنِ النُّعْمَانِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مَرْوَانَ عَنْ فُضَيْلِ بْنِ يَسَارٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا جَعْفَرٍ ع يَقُولُ مَنْ مَاتَ وَ لَيْسَ لَهُ إِمَامٌ فَمِيتَتُهُ مِيتَةُ جَاهِلِيَّةٍ وَ مَنْ مَاتَ وَ هُوَ عَارِفٌ لِإِمَامِهِ لَمْ يَضُرَّهُ تَقَدَّمَ هَذَا الْأَمْرُ أَوْ تَأَخَّرَ وَ مَنْ مَاتَ وَ هُوَ عَارِفٌ لِإِمَامِهِ كَانَ كَمَنْ هُوَ مَعَ الْقَائِمِ فِي فُسْطَاطِهِ} ،جسکی موت اس حالت میں واقع ہو کہ اسکا امام نہ ہو ( یعنی امام من اللہ کی معرفت نہ رکھتا ہو ) تو اسکی موت جاہلیت کی موت ہے ،لوگوں کا عذر قبول نہیں کیا جائے گا یہاں تک کہ امام کی معرفت پیدا کریں ۔اور کوئی اس حال میں دنیا سے جائے کہ اپنے امام کا عارف ہو تو امر ظہور اسکی موت سے پہلے یا موخر ہونے سے اسے ضرر نہیں پہنچائے گا ۔
۴۔نیز امام باقر × نے فرمایا: ني، [الغيبة للنعماني‏] الْكُلَيْنِيُّ عَنْ عِدَّةٍ مِنْ أَصْحَابِنَا عَنْ أَحْمَدَ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ عَلِيِّ بْنِ النُّعْمَانِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مَرْوَانَ عَنِ الْفُضَيْلِ بْنِ يَسَارٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا جَعْفَرٍ ع يَقُولُ مَنْ مَاتَ وَ لَيْسَ لَهُ إِمَامٌ مَاتَ مِيتَةً جَاهِلِيَّةً وَ مَنْ مَاتَ وَ هُوَ عَارِفٌ لِإِمَامِهِ لَمْ يَضُرَّهُ تَقَدَّمَ هَذَا الْأَمْرُ أَوْ تَأَخَّرَ وَ مَنْ مَاتَ وَ هُوَ عَارِفٌ لِإِمَامِهِ كَانَ كَمَنْ هُوَ مَعَ الْقَائِمِ فِي فُسْطَاط،جو شخص اپنے وقت کے امام کی معرفت کے ساتھ دنیا سے رخصت ہو ۔ گویا کہ وہ حضرت قائم کے ساتھ مو لا کے خیمہ میں ہے۔
۵۔ َ عَنِ الْفُضَيْلِ بْنِ يَسَارٍ قَالَ سَأَلْتُ أَبَا عَبْدِ اللَّهِ ع عَنْ قَوْلِ اللَّهِ تَبَارَكَ وَ تَعَالَى يَوْمَ نَدْعُوا كُلَّ أُناسٍ بِإِمامِهِمْ فَقَالَ يَا فُضَيْلُ اعْرِفْ إِمَامَكَ فَإِنَّكَ إِذَا عَرَفْتَ إِمَامَكَ لَمْ يَضُرَّكَ تَقَدَّمَ هَذَا الْأَمْرُ أَوْ تَأَخَّرَ وَ مَنْ عَرَفَ إِمَامَهُ ثُمَّ مَاتَ قَبْلَ أَنْ يَقُومَ صَاحِبُ هَذَا الْأَمْرِ كَانَ بِمَنْزِلَةِ مَنْ كَانَ قَاعِداً فِي عَسْكَرِهِ لَا بَلْ بِمَنْزِلَةِ مَنْ قَعَدَ تَحْتَ لِوَائِهِ قَالَ وَ قَالَ بَعْضُ أَصْحَابِهِ بِمَنْزِلَةِ مَنِ اسْتُشْهِدَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ
فضیل ابن یسار کہتا ہے میں نے امام صادق× سے،سورہ اسراآیت ،۷۱ میں اللہ تبارک تعالیٰ کے قول کہ (وہ دن جب ہم تمام لوگوں کو ان کے اما م کے ساتھ بلائیں گے ) کے بارے میں سوال کیاتو امام × نے ارشاد فرمایا:اے فضیل اپنے امام کی معرفت حاصل کر پس تحقیق جب تو نے اپنے امام کا عرفان حاصل کر لیا تو تجھے اس امر کا پہلے اور بعد میں ہونا ضرر نہیں پہچائے گا اور جس نے اپنے امام کی معرفت حاصل کی اور پھر اس پر موت واقع ہوئی اس سے پہلے کہ صاحب الامر قیام فرمائے وہ صاحب معرفت بندہ اس مقام پر فائز ہوگا کہ وہ امام زمان× کے لشکر میں بیٹھا ہے بلکہ اسکی منزلت یہ ہے کہ وہ حضرت کے پرچم کے نیچے بیٹھا ہے اور بعض اصحاب نے کہا کہ اس کا مقام یہ ہے کہ جس نے رسول اللہﷺ کے ساتھ شہادت حاصل کی ہو۔ان روایات کی خصوصیت یہ ہے کہ حضرت امام زمان× کو صراحت کے ساتھ ذکر کیا گیا ہے گویا کہ پہلی روایت عام تھی اور یہ روایات خاص ہے اور دوسرا یہ کہ ان روایات میں معرفت مولا کا مقام بھی ذکر کر دیا گیا ہے اور مولا کی معرفت کا قطب معارف دین ہونا بھی روشن ہے۔
برھان پنجم
امام خاتم الائمہ ×کی معرفت واجب ہے
گذشتہ روایات سے عقل سلیم کے نزدیک مسلّم نتیجہ سامنے آئے گا کہ کہ ہر دو قسم کی معرفت واجب اور لازم ہے ۔ لیکن ایک روایت تبرکاً ذکر کر دی جاتی ہے۔زرارہ نے امام باقر × سے سوال کیا : عَنْ زُرَارَةَ قَالَ قُلْتُ لِأَبِي جَعْفَرٍ ع أَخْبِرْنِي عَنْ مَعْرِفَةِ الْإِمَامِ مِنْكُمْ وَاجِبَةٌ عَلَى جَمِيعِ الْخَلْقِ ؟ کہ مولا مجھے اس امام کی معرفت کے بارے میں فرمائیں جو آپ اہل بیت میں ہو آیا اسکی معرفت پوری مخلوق پر واجب ہے؟ فَقَالَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَ جَلَّ بَعَثَ مُحَمَّداً ص إِلَى النَّاسِ أَجْمَعِينَ رَسُولًا وَ حُجَّةً لِلَّهِ عَلَى جَمِيعِ خَلْقِهِ فِي أَرْضِهِ فَمَنْ آمَنَ بِاللَّهِ وَ بِمُحَمَّدٍ رَسُولِ اللَّهِ وَ اتَّبَعَهُ وَ صَدَّقَهُ فَإِنَّ مَعْرِفَةَ الْإِمَامِ مِنَّا وَاجِبَةٌ عَلَيْهِ وَ مَنْ لَمْ يُؤْمِنْ بِاللَّهِ وَ بِرَسُولِهِ وَ لَمْ يَتَّبِعْهُ وَ لَمْ يُصَدِّقْهُ وَ يَعْرِفْ حَقَّهُمَا فَكَيْفَ يَجِبُ عَلَيْهِ مَعْرِفَةُ الْإِمَامِ وَ هُوَ لَا يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَ رَسُولِهِ وَ يَعْرِفُ حَقَّهُم ،امام × نے ارشاد فرمایا : تحقیق اللہ عزیز و جلیل نے حضرت محمدﷺ کو تمام لوگوں کی طرف رسول بنا کر معبوث فرمایا اور اللہ کے لیے اپنی پوری مخلوق پر زمین میں حجت قرار دیا پس جو بندہ اللہ اور محمد رسول اللہ ﷺ پر ایمان لے آئے اور اسکی اتباع اور تصدیق کرے پس تحقیق ہم اہل بیت میں سے امام کی معرفت اس شخص پر واجب ہے اور جو شخص اللہ اور اسکے رسول پر ایمان نہ لے آئے اور نہ انکی اتباع کرے اور نہ ان کی تصدیق کرے اور نہ انکی معرفت رکھتا ہو تو ایسے بندے پر انکی معرفت کیسے واجب ہوگی درحالانکہ وہ اللہ اور اسکے رسول پر ایمان نہیں رکھتا اور نہ انکے حق کی معرفت رکھتا ہے۔
پس وجوبِِ معرفت امام بعد از معرفت خدا اور رسول ہے کیونکہ ترتیب کے لحاظ سے معرفت اللہ معرفت رسول پر مقدم ہے اور معرفت رسول معرفت امام پر لہذا پہلی دو معرفت کے ساتھ تیسری معرفت واجب ہے اور اگر پہلا واجب ادا نہیں ہوا تو بعد والی کی نوبت بھی نہیں آئے گی یہ اور بات ہے کہ اگر تیسری معرفت کو حاصل نہ کیا گیا تو پہلی دو معرفتیں باقی نہیں رہیں گی بلکہ زائل ہوجائیں گی اور بروز قیامت کوئی فائدہ نہیں پہنچا ئیں گی۔
برھان ششم(6)
امام خاتم الائمہ × کا انکار سب آ ئمہ ^ کا انکار ہے
بارہ اماموں کی امامت پر ایمان و ا جب ہے ۔ ایک وجوب ہے جو تب ادا ہوگا جب ہم سب کی امامت کے قائل ہوں گے اگر ان میں سے کسی ایک کا انکار ہوا تو یہ ایک واجب ادا نہیں ہوا پس اگر کوئی امام ز مان × کا منکر ہو تو اس نے سب کاا نکا ر کیا ہے جس طرح اگر کوئی حضرت سے پہلے کسی کا انکار کرے اور امام زمان کا قائل ہو تو یہ بھی ہونے والی بات نہیں یہ امام زمان × کا بھی انکار شمار ہو گا ۔محمد ابن مسلم سے روایت ہے کہ میں نے امام صادق × سے عرض کیا ۔جس نے حضرت خاتم الائمہ× کاا نکار کیا اس نے نبی خاتم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا انکار کیا اس پر احادیث گزر گئی ہیں ۔ یہاں پر ایک اور حدیث ذکر کر دی جاتی ہے تا کہ مطلب کامل ہو جائے ،قَالَ قُلْتُ لِأَبِي عَبْدِ اللَّهِ ع رَجُلٌ قَالَ لِي اعْرِفِ الْأَخِيرَ مِنَ الْأَئِمَّةِ وَ لَا يَضُرُّكَ أَنْ لَا تَعْرِفَ الْأَوَّلَ ؟ایک شخص نے مجھے کہا ! کہ آئمہ میں سے آخری کو پہچان لے تجھے پہلے کو نہ ماننے کا ضرر نہیں پہنچے گا ۔امام × نے غضبناک انداز میں فرمایا: قَالَ فَقَال َ لَعَنَ اللَّهُ هَذَا فَإِنِّي أُبْغِضُهُ وَ لَا أَعْرِفُهُ وَ هَلْ يُعْرَفُ الْأَخِيرُ إِلَّا بِالْأَوَّلِ ، اللہ اس پر لعنت کرئے میں اس سے بغض رکھتا ہوں اور اسے اپنے شیعوں میں سے نہیں پہنچانتا۔ آیا آخری کو پہچانا جا سکتا ہے مگر اول کے ذریعہ سے ۔
محمد بن فضیل نے حضرت رضا × سے حضرت نے اپنے آباء طاہرین^ سے نقل کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ص يَا عَلِيُّ أَنْتَ وَ الْأَئِمَّةُ مِنْ وُلْدِكَ بَعْدِي حُجَجُ اللَّهِ عَلَى خَلْقِهِ وَ أَعْلَامُهُ فِي بَرِيَّتِهِ فَمَنْ أَنْكَرَ وَاحِداً مِنْهُمْ فَقَدْ أَنْكَرَنِي وَ مَنْ عَصَا وَاحِداً مِنْهُمْ فَقَدْ عَصَانِي وَ مَنْ جَفَا وَاحِداً مِنْهُمْ فَقَدْ جَفَانِي وَ مَنْ وَصَلَكُمْ فَقَدْ وَصَلَنِي وَ مَنْ أَطَاعَكُمْ فَقَدْ أَطَاعَنِي وَ مَنْ وَالَاكُمْ فَقَدْ وَالَانِي وَ مَنْ عَادَاكُمْ فَقَدْ عَادَانِي لِأَنَّكُمْ مِنِّي خُلِقْتُمْ مِنْ طِينَتِي وَ أَنَا مِنْكُمْ۔
یا علی × ! آپ اور آپ کی اولاد میں سے آئمہ میرے بعد ، اللہ کی مخلوق پر حجتیں ہیں اور اللہ کے علامت اور پرچم ہیں اللہ کی مخلوق میں ، پس جس نے کسی ایک کا انکار کیا ان میں سے پس اس نے مجھ رسول کاا نکار کیا کسی ایک کی معصیت اور نافرمانی کی اس نے میری نافرمانی کی ہے جس نے کسی ایک پر جفا اور ظلم کیا پس اس نے مجھ پر ظلم کیا جو آپ سب کے ساتھ وصل ہوا پس وہ میرے ساتھ وصل ہوا جس نے آپ آئمہ کی اطا عت کی پس اس نے میری اطاعت کی جس نے تم آئمہ سے ولایت رکھی اس نے مجھ سے ولایت رکھی ہے جس نے آپ آئمہ سے دشمنی رکھی پس اس نے مجھ سے دشمنی رکھی ہے کیو نکہ آپ آئمہ مجھ سے ہیں میری طینت سے خلق ہوئے ہو اور میں آپ سے ہوں ۔پس خاتم الائمہ علیہ السلام کی معرفت ، آئمہ پر ایمان کی ضروت ہے۔
برھان ہفتم(7)
اہمیت معرفت
گذشتہ بیان سے روشن ہو چکا ہے کہ معرفت کے بغیر اطاعت و عبادت ممکن نہیں یہاں پر چند روایات سے تبرک حاصل کرتے ہیں،معرفت حکمت ہے کہ جسے اللہ یہ حکمت عطا فرمائے اس کو خیر کیثر عطاء فرماتاہے۔عن ابی عبداللہ فی قول اللہ عزوجل من یوتِ الحکمۃ فقد اوتی خیرا کیثراَ جب حضرت صادق × سے اس آیت کے بارے میں پوچھا گیا کہ {جسے حکمت عطاء کر دی جاے اس کو خیر کیثر عطاء کر دی گی ہے۔ }پو چھا گیا کہ یہ حکمت کیا ہے تو امام × نے فرمایا:کہ یہ حکمت معرفت ہے۔
روایت دیگر میں امام باقر × ارشا د فرماتے ہیں :امر دین کی بلندی اور بلند چوٹی اور دین کی چابی اور تمام اشیاء کا باب اور دروازہ حضرت رحمان کی رضایت امام زمان× کی معرفت اور اسکی اطاعت ہے،قَالَ ذِرْوَةُ الْأَمْرِ وَ سَنَامُهُ وَ مِفْتَاحُهُ وَ بَابُ الْأَشْيَاءِ وَ رِضَا الرَّحْمَنِ تَبَارَكَ وَ تَعَالَى الطَّاعَةُ لِلْإِمَامِ بَعْدَ مَعْرِفَتِه‏ ،پھر امام نے فرمایا : کہ اللہ تبارک وتعالی فرما رہا ہے جس نے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اطاعت کی اس نے اللہ کی اطاعت کی اور جس نے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اطاعت سے سرگردانی کی تو ہم نے آپ کو (رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ) ان پر حافظ بنا کر نہیں بھیجا (بلکہ رسول صلی علیہ وآلہ وسلم بنا کر بھیجا ہے){ مَنْ يُطِعِ الرَّسُولَ فَقَدْ أَطَاعَ اللَّهَ وَمَنْ تَوَلَّى فَمَا أَرْسَلْنَاكَ عَلَيْهِمْ حَفِيظًا } ،اس کے بعد امام ارشاد فرماتے ہیں اگر کوئی شخص پوری رات قیام کرے اور پورا دن روزہ رکھے اور اپنا سارا مال راہ خدا میں صدقہ دے دے اور پوری زندگی حج کرے درحالانکہ ولی اللہ کی ولایت کی معرفت نہ رکھتا ہو۔ اور ولی اللہ کے غیر کی رہنمائی پر اعمال انجام دیتا ہو اس کے تما م اعمال ادھرچلے جائیں گے اور اللہ کےثواب میں سے کوئی حق نہیں ہے اور نہ یہ شخص اہل ایمان میں سے ہے، أَمَا لَوْ أَنَّ رَجُلًا قَامَ لَيْلَهُ وَ صَامَ نَهَارَهُ وَ تَصَدَّقَ بِجَمِيعِ مَالِهِ وَ حَجَّ جَمِيعَ دَهْرِهِ وَ لَمْ يَعْرِفْ وَلَايَةَ وَلِيِّ اللَّهِ فَيُوَالِيَهُ وَ يَكُونَ جَمِيعُ أَعْمَالِهِ بِدَلَالَتِهِ إِلَيْهِ مَا كَانَ لَهُ عَلَى اللَّهِ جَلَّ وَ عَزَّ حَقٌّ فِي ثَوَابِهِ وَ لَا كَانَ مِنْ أَهْلِ الْإِيمَان‏ ۔
حدیث دیگر جس میں حضرت صادق × نے فرمایا: عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ع قَالَ لَوْ يَعْلَمُ النَّاسُ مَا فِي فَضْلِ مَعْرِفَةِ اللَّهِ عَزَّ وَ جَلَّ مَا مَدُّوا أَعْيُنَهُمْ إِلَى مَا مَتَّعَ اللَّهُ بِهِ الْأَعْدَاءَ مِنْ زَهْرَةِ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَ نَعِيمِهَا وَ كَانَتْ دُنْيَاهُمْ أَقَلَّ عِنْدَهُمْ مِمَّا يَطَئُونَهُ بِأَرْجُلِهِمْ وَ لَنُعِّمُوا بِمَعْرِفَةِ اللَّهِ جَلَّ وَ عَزَّ وَ تَلَذَّذُوا بِهَا تَلَذُّذَ مَنْ لَمْ يَزَلْ فِي رَوْضَاتِ الْجِنَانِ مَعَ أَوْلِيَاءِ اللَّهِ إِنَّ مَعْرِفَةَ اللَّهِ عَزَّ وَ جَلَّ آنِسٌ مِنْ كُلِّ وَحْشَةٍ وَ صَاحِبٌ مِنْ كُلِّ وَحْدَةٍ وَ نُورٌ مِنْ كُلِّ ظُلْمَةٍ وَ قُوَّةٌ مِنْ كُلِّ ضَعْفٍ وَ شِفَاءٌ مِنْ كُلِّ سُقْم‏ ، اگر لوگ اس عظمت کو جان لیتے جو معرفت اللہ کی فضلیت میں ہے تو یہ گھورتی آنکھوں سے نہ دنیا کی اُن لذائذ کی طرف دیکھتے جو اللہ و تبارک و تعالیٰ نے اپنے دشمنوں کو دی ہیں وہ دنیاکی زندگی کا زرق و برق اور دنیاوی نعمتیں جو اللہ نے اپنے دشمنوں کو دی ہیں اس کی طرف نہ جاتے۔
تو پس معرفت میں وہ نورانیت ہے جو دنیا کی چمک دمک سے قابل قیاس نہیں ہے،پھر فرمایا:ان لوگوں (دشمنان خدا) کی دنیا ان صاحبان معرفت کے نزدیک اس سے بھی کمتر و حقیر ہوتی ہے کہ جس دنیا کو یہ لوگ اپنے پاؤں تلے روندتے ہیں ۔ یعنی تمام جاہ و جلال و سلطنت اوربادشاہت دنیا اور اسی طرح تمام ثروت سطوت دنیوی جاہ و مقام اور آسائش دنیوی جو ایک مطلق العنان حاکم کے پاس تصور کی جا سکتی ہے یہ سب اہل معرفت کی نگاہ میں پاؤں کے نیچے آنے والے ذرے خس و خاشاک اور گندگی سے بھی کمتر ہے۔ان صاحبان معرفت کی مثالیں طول تاریخ بشریت میں کم نہیں ہیں۔
پھر فرماتے ہیں: جنہیں معرفت اللہ کی نعمت عطاء کی گئی ہے تو وہ اس سے اس طرح لطف اندوز ہو رہے ہیں اور مزہ لے رہے ہیں جسطرح وہ بہشت میں ہمیشہ اولیاء اللہ کے ساتھ نعمات بہشتی سے لطف اندوز ہو رہے ہوں۔
یہاں پر نکات ہیں:
۱۔معرفت اللہ عطائی ہے لذا فرمایا : وَ لَنُعِمّوا ! یعنی جب ظرفیت پیدا کریں گے تو معرفت اللہ کی نعمت عطاء کردی جائے گی۔
۲۔لذت بہشتی کی طرح دنیا میں لطف اندوز ہیں گے پس معرفت اللہ نعمت بہشتی ہے۔
۳۔صاحبان معرفت و عرفان کے لیے گویا کہ دنیا بہشت ہوتی ہے۔ کیونکہ دنیا میں بھی جنت کے مزے لے رہے ہیں ۔
۴۔تمثیل، نعمت بہشتی سے اس لیےہے کہ وہ دائمی اور لازوال ہے،جبکہ دنیا فانی ہے” وَ الْآخِرَةُ خَيْرٌ وَ أَبْقى‏” آخرت بہترین اور باقی رہنے والی ہے اور دنیا لھو و لعب اور بازیچہ ہے
۵۔ اس تمثیل میں، جس کو تمثیل دیا جا رہا ہے کہ وہ معرفۃ اللہ ہے بہت اعلی امرہے کہ قابل درک نہیں اس لیے اُس شی (جنت)سے تمثیل دی جو کسی حد تک قابل درک ہے کہ وہ نعمات بہشتی ہیں۔
پھر فرمایا: تحقیق اللہ عزیزو جلیل کی معرفت ہر خوف و وحشت سے نکال کر اُنس دینے والی ہے ہر تنہائی سے نکال کر ساتھی اور دوست کا کام دیتی ہے ہر ظلم اور اندھیرے سے نکال کر نور عطاء کرتی ہے ہر ضعف وناتوانی اور کمزوری سے نکال کر قوت و طاقت عطا فرماتی ہے اور ہر بیماری کی دوا ہے ۔
شرح حدیث ہمیں اپنےعہد اختصار سے بہت دور نکال لے جائے گی۔
برھان ہشتم(8)
معرفت مولیٰ× اور دین
دین کا دار مدار معرفت امام زمان× پر ہے اگر معرفت ہے تو دین ہےاور اگر معرفت امام نہیں ہے تو دین بھی نہیں ہے۔
اس موضوع پر مختلف قسم کی روایات ذکر ہوئی ہیں۔
پہلی قسم
روایاتِ جہالت از امام زمان اس مطلب پر محکم دلیل ہیں حدیث نبویٰ جو فریقین کے نزدیک معتبر ہے ذکر ہوئی ہے کہ جو میری اور اپنے امام زمان کی معرفت نہ رکھتا ہو وہ جاہلیت کی موت مرا ہے ۔{ وَ أَنَّ مَنْ مَاتَ وَ لَمْ يَعْرِفْ إِمَامَ زَمَانِهِ مَاتَ مِيتَةً جَاهِلِيَّة} ،معرفت امام سے مراد علم کے بعد اعتقاد اور امام کی امامت پر ایمان لے آنا ہے ۔جاہلیت کی موت سے مراد زمانِ جاہلیت کی موت ہے جو قبل از اسلام ہے جو بت پرستی کا زمانہ ہے جس میں اعتقادِ توحید اور نبوت نہیں تھا لہذا معرفت امام زمان کے بغیربشر عصر اسلام سے خارج ہوکر زمانِ جاہلیت میں چلا جاتا ہے جو توحید اور نبوت کا عصر نہیں ہے جہاں پر توحید نہ ہو وہاں پر دین اسلام نہیں ہے بلکہ کفرو شرک ونفاق ہے۔ اور یہ واضح ہے کہ جب موت جاہلیت کی ہے تو زندگی بھی جاہلانہ ہوگی ۔اس لیے امام × نے موت جاہلیت کی تفسیر میں فرمایا:وہ موت کفر اور شرک ہے اور ضلالت اور گمراہی کی موت ہے ۔اس کے مقابل میں جس کے پاس معرفتِ امام زمان ہے۔وہ دین پر ہے ،تو اسکی موت عالمانہ ہوگی جس طرح اسکی زندگی بھی عالمانہ ہے ۔
جس طرح امام باقر × نے ارشاد فرمایا:کہ جس پر موت واقع ہو اور اپنے امام زمان کی معرفت رکھتا ہو وہ ایسے ہے کہ جس طرح امام زمان کے ساتھ حضرت کے خیمہ میں ہو ،جس طرح یہ بات پہلے گزر چکی ہیں۔
دوسری قسم
یہ وہ روایات ہیں جن میں معرفت امام سے جاہل کو یہودی و نصرانی جیسے عناوین سے یاد کیا گیا ہے۔
۱۔{ ٍ عَنْ أَبِي حَمْزَةَ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ع قَالَ مِنَّا الْإِمَامُ الْمَفْرُوضُ طَاعَتُهُ مَنْ جَحَدَهُ مَاتَ يَهُودِيّاً أَوْ نَصْرَانِيّاً الْحَدِيث‏} ،امام صادق × فرماتے ہیں وہ امام جس کی اطاعت فرض اور واجب ہے وہ ہم اہل بیت میں سے ہے۔جس نے اس امام کاا نکار کیا وہ یہودی یا نصرانی مرا ہے۔ اس طرح کی احادیث ، موت جاہلیت کی تفسیر ہو سکتیں ہیں ۔
۲۔{ قَالَ الصَّادِقُ جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ع الْإِمَامُ عَلَمٌ فِيمَا بَيْنَ اللَّهِ عَزَّ وَ جَلَّ وَ بَيْنَ خَلْقِهِ فَمَنْ عَرَفَهُ كَانَ مُؤْمِناً وَ مَنْ أَنْكَرَهُ كَانَ كَافِرا }
امام صادق × ارشاد فرماتے ہیں :امام ( معصوم)× اللہ تبارک و تعالیٰ اوراس کی مخلوق کے درمیان عَلَم یعنی پرچم اور علامت ہے جس نے اسکی معرفت حاصل کی وہ مومن ہے جس نے امام کا انکار کیا وہ کافر ہے۔
تیسری قسم
روایات عقل ہیں:
توضیح مطلب:
اس وضاحت کے ساتھ کہ اطاعت اور بندگی کی اساس اور بنیاد معرفت ہے جس طرح کہ تفصیلا ً گزر چکا ہے۔تو اب معرفت اساس دین بھی ہوگی اس لیے کہ پہلے معبود حقیقی کی پہچان اور معرفت پھر اس کی اطاعت کا واجب ہونا ہے پھر اس کے دین کو پہچان کر عمل کرنا ہے لہذا معرفت اساس دین بھی ہے ۔دوسری طرف یہ ہے کہ عقل ہے تو دین ہے اور اگر عقل نہیں ہے تو دین نہیں ہے جب کہ معرفت بغیر عقل کے ممکن نہیں ہے تو پس نفی عقل، نفی معرفت بھی ہے ۔اور کسی شی کی معرفت کا سلب ہونا وہاں پر عقل کا سلب ہونا ہے ۔ اس وضاحت کے ساتھ احادیث پر توجہ کی جائے۔
۱۔پیغمبر اسلام ﷺ نے فرمایا:ہر انسان کی حقیقت اس کا عقل ہے اور اس بندے کا دین نہیں جس کے لیے عقل نہیں ، قَالَ النَّبِيُّ ص قِوَامُ الْمَرْءِ عَقْلُهُ وَ لَا دِينَ لِمَنْ لَا عَقْلَ لَهُ ۔
۲۔عن النبی ﷺ وَ قَالَ ص إِنَّمَا يُدْرَكُ الْخَيْرُ كُلُّهُ بِالْعَقْلِ وَ لَا دِينَ لِمَنْ لَا عَقْلَ لَه‏ ،حضرت خاتمﷺ ارشاد فرماتے ہے:سوائے اس کے نہیں کہ تما م کی تمام خیر کو عقل کے ذریعہ سےپایا جا سکتا ہے۔اور اس کا دین نہیں ہے جس کے لیے عقل نہیں ہے ۔ ان روایات سے روشن ہوا کہ دین کا دارو مدار عقل ہے اور عقل سے مراد وہی ہے جو امام موسیٰ کاظم علیہ السلام نے ارشاد فرمایا کہ عقل وہ ہے جس کے ذریعہ سے رحمان کی عبادت کی جائے اور جنت کو کسب کیا جائے ،العقل ما عُبد بہ الرحمن و اکتسب بہ الجنان ،جب عقل کے ذریعہ سے عبادت کی جاتی ہے اور عبادت بغیر معرفت کے ممکن نہیں ہے تو پس پہلے عقل ہو پھر معرفت ہو گی تب عبادت کی جاسکتی ہے۔اور معرفت اللہ وہی معرفت امام ہے۔تو نتیجہ یہ نکلا کہ جس کے پاس معرفت والی عقل نہیں اس کے پاس دین نہیں ہے۔
۳۔ لَا دِينَ لِمَنْ دَانَ اللَّهَ بِوَلَايَةِ إِمَامٍ جَائِرٍ لَيْسَ مِنَ اللَّهِ وَ لَا عَتْبَ عَلَى مَنْ دَانَ بِوَلَايَةِ إِمَامٍ عَادِلٍ مِنَ اللَّه‏ ،امام صادق× ارشاد فرماتے ہیں :اس بندے کا دین نہیں ہے جس نے امام ظالم کی ولایت کے ساتھ ایمان لایا کہ جس کی امامت اللہ کی طرف سے نہیں ہے ۔
اور اس بندے پر کو ئی عتاب نہیں ہے جس نے امام عادل کی ولایت کے ساتھ اللہ پر ایمان لایا ہے اور امام عادل وہ ہے جس کی امامت اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف سے ہو۔ اس حدیث میں جہاں پر امام عادل اور امام جائر کی تعریف کر دی گی ہے اگر امامت من اللہ ہے تو وہ امام عادل ہے اور اگر اللہ کی طرف سے نہیں ہے بلکہ لوگوں کی طرف سے بنایا گیا ہے وہ اما م جائر ہے۔ وہاں پر یہ بھی روشن ہے کہ دین کا دائر مدار ،معرفت امام زمان علیہ السلام ہے ۔ اس طرح کی دیگر روایات اصول کافی کے اسی باب میں، اور کتاب الحجۃ کے دیگر ابواب میں مذکور ہے۔
۴۔ قَالَ أَبُو جَعْفَرٍ ع لَا دِينَ لِمَنْ دَانَ بِطَاعَةِ مَنْ عَصَى اللَّه‏،امام صادق × فرماتے ہیں :اس بندے کا دین نہیں جو اس اما م کی اطاعت کو واجب سمجھے جو اللہ کی معصیت کرتا ہے ،یعنی جو شخص غیر معصوم کو اپنا امام مان کر اس کی اطاعت کرے اس کے پاس اللہ کا دین نہیں ہے پس اللہ کا دین اس کے پاس ہو گا جو امام معصوم کی اطاعت کو واجب سمجھے۔لہذا جو امام زمان × کی معرفت رکھتا ہے وہ صاحب دین ہے اور جو امام زمان معصوم کے علاوہ کسی اور کو امام مانتا ہے اس کے پا س اللہ کا دین نہیں ہے یعنی فقط کسی کو امام مان لینا کافی نہیں بلکہ معصوم کو اپنا امام ماننا واجب ہے کیونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے امامت کو اپنا عہد قرار دیا ہے پھر فرمایا ہے کہ مجھ اللہ کا عہدِ امامت ،ظالم یعنی گناہ گار کو عطا نہیں ہو گا (لا ینال عہدی الظالمین) پس خاتم الائمہ علیہ السلام کی معرفت دین عقل و علم کی ضرورت ہے۔
برھان نہم (9)
معرفت امام زمان× اور باقی اصول دین
دیگر اصول دین پر ایمان کا دار مدار معرفت امام زمان × ہے اگر معرفت ہو گی تو دیگر اصول دین پر ایمان باقی رہے گا ورنہ دیگر اصول دین پر ایمان کوئی فائدہ نہیں دے گا۔ لذا امام موسیٰ کاظم × ارشاد فرماتے ہیں:{ عَنْ أَبِي الْحَسَنِ ع قَالَ مَنْ شَكَّ فِي أَرْبَعَةٍ فَقَدْ كَفَرَ بِجَمِيعِ مَا أَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَ جَلَّ أَحَدُهَا مَعْرِفَةُ الْإِمَامِ فِي كُلِّ زَمَانٍ وَ أَوَانٍ بِشَخْصِهِ وَ نَعْتِه‏} ،جس نے چار چیزوں میں شک کیا پس اس نے کفر اور انکار کیا تما م ان چیزوں کا جسے اللہ تبارک و تعالیٰ نے نازل کیا ( تمام کتب آسمانی،تمام رُسل ، مبداء معاد شریعۃ اسلام وغیرہ ۔پس معرفت امام زمان × سے اللہ، رسول ،قرآن ،شریعت،قیامت، کا عرفان حقیقی ممکن ہے اور اگر یہ معرفت نہ ہو جو کچھ رسول اللہ ﷺ اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف سے لائے ہیں کہ ان میں سے باقی اصول دین بھی ہیں ان پر ایمان باقی نہیں رہے گا بلکہ روز قیامت کافر امام زمان× کافر توحید ،نبوت اور قیامت محشور ہوگا ۔
۲۔امام صادق × ارشاد فرماتے ہیں : قَالَ سَأَلْتُ أَبَا عَبْدِ اللَّهِ ع عَنِ الْأَئِمَّةِ بَعْدَ النَّبِيِّ ص فَقَالَ كَانَ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ ع إِمَاماً ثُمَّ كَانَ الْحَسَنُ ع إِمَاماً ثُمَّ كَانَ الْحُسَيْنُ ع إِمَاماً ثُمَّ كَانَ عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ إِمَاماً ثُمَّ كَانَ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ إِمَاماً مَنْ أَنْكَرَ ذَلِكَ كَانَ كَمَنْ أَنْكَرَ مَعْرِفَةَ اللَّهِ تَبَارَكَ وَ تَعَالَى وَ مَعْرِفَةَ رَسُولِهِ ص ثُمَّ قَالَ قُلْتُ ثُمَّ أَنْتَ جُعِلْتُ فِدَاكَ فَأَعَدْتُهَا عَلَيْهِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ فَقَالَ لِي إِنِّي إِنَّمَا حَدَّثْتُكَ لِتَكُونَ مِنْ شُهَدَاءِ اللَّهِ تَبَارَكَ وَ تَعَالَى فِي أَرْضِه‏ ،جس نے اس کا ( معرفت امام)انکار کیا گویا کہ اس نے اللہ تبارک و تعا لیٰ کی معرفت اور اللہ کی رسول کی معرفت کا انکار کیا اور یہ حدیث معرفت کی تفسیر ہے ۔اسی طرح وہ حدیث جس میں امام باقر× نے فرمایا کہ اللہ کی معرفت وہ رکھتا ہے جو امام زمان× کی معرفت رکھتا ہے کہ حدیث کو بعد میں بیان کیا جائے گا۔ پس خاتم الائمہ علیہ السلام کی معرفت مبدأء سے لیکر معاد تک ، تما م اصول دین کی ضرورت ہے۔
برھان دہم (10)
معرفت امام زمان× اور فروعِ دین
فروعات دین کا دار مدار بھی امام زمان× کی معرفت پر ہے ایک تو اس لیے کہ جب اصول دین معرفت امام زمان ×پر متوقف ہیں تو یقیناََ فروعات دین بھی اسی معرفت پر متوقف ہوں گے اور دوسرا یہ کہ اس مطلب پر احادیث بھی دلالت کرتیں ہیں کہ ہم یہاں پر ایک ہی حدیث پر اکتفا کرتے ہیں۔
کہ اس حدیث میں رئیس مذہب حقہ حضرت امام صادق ×معرفت کا مقام فروعات کی طرف نسبت کرتے ہوئےبیان فرمارہے ہیں۔سائل نے آکر امام ×سےسوال کیا{عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قُلْتُ لَهُ أَيُّ الْأَعْمَالِ أَفْضَلُ بَعْدَ الْمَعْرِفَةِ؟} کونسا عمل افضل ہے معرفت کے بعد؟ گویا کہ راوی کے ذہن میں راسخ تھا کہ معرفت سے کوئی افضل عمل نہیں ہو سکتا پس اصحاب آئمہ کا یہ عقیدہ اور نظریہ تھا کہ معرفت تمام اعمال سے افضل ہے ۔امام صادق × نے جواب دیا:{ فَقَالَ مَا مِنْ شَيْ‏ءٍ بَعْدَ الْمَعْرِفَةِ يَعْدِلُ هَذِهِ الصَّلَاةَ وَ لَا بَعْدَ الْمَعْرِفَةِ وَ الصَّلَاةِ شَيْ‏ءٌ يَعْدِلُ الزَّكَاةَ وَ لَا بَعْدَ ذَلِكَ شَيْ‏ءٌ يَعْدِلُ الصَّوْمَ وَ لَا بَعْدَ ذَلِكَ شَيْ‏ءٌ يَعْدِلُ الْحَج‏}امام × فرماتے ہیں: کوئی شی ( عمل)معرفت کے بعد اس نماز کے مساوی اور برابر نہیں معرفت اور نماز کے بعد کوئی شی زکات کے مساوی اور عِدل نہیں اور اس کے بعد کوئی شی ایسی نہیں جو روزہ کے مساوی ہو اور اسکے بعد کوئی شی حج کے مساوی نہیں{ فَاتِحَةُ ذَلِكَ كُلِّهِ مَعْرِفَتُنَا وَ خَاتِمَتُهُ مَعْرِفَتُنَا}ان تمام اعمال کا فاتحہ اور خاتمہ ہماری معرفت ہے ، معرفت امام، تمام اعمال کے لیے کلید اورچابی ہے یعنی تمام اعمال کھلتے بھی معرفت امام× سے اور بند بھی معرفت امام× سے ہوتے ہیں۔{معرفۃ الامام فاتحۃ الاعمال}، یعنی اگر امام نہ ہو تو کوئی عمل کھلتا ہی نہیں {معرفۃالامام خاتمۃ الاعمال} یعنی ہر عمل معرفت الامام پر تمام ہوتا ہے ورنہ وہ عمل باطل ہے۔لذا خاتم الائمہ علیہ السلام کی معرفت تمام فروعات دین اور اعمال کی ضرورت ہے ۔
برھان يازدهم(11)
معرفت امام زمان× اور عبادات
اگرچہ کہ یہ دلیل پہلے بیان ہو چکی ہے لیکن یہاں پر ایک اور طریقہ سے ذکر ہو رہی ہے۔
تما م عبادتیں امام زمان × کی معرفت پر متوقف ہیں۔
۱۔اصل عبادت تب واقع ہو گی جب معرفت امام زمان کے ساتھ ہوگی ورنہ وہ عبادت نہیں گمراہی ہے۔امام باقر×نے فرمایا:{ قَالَ لِي أَبُو جَعْفَرٍ ع إِنَّمَا يَعْبُدُ اللَّهَ مَنْ يَعْرِفُ اللَّه‏ }اللہ کی عبادت وہی کرتا ہے جو اسکی معرفت رکھتا ہے پھر فرمایا:{يَقُولُ إِنَّمَا يَعْرِفُ اللَّهَ عَزَّ وَ جَلَّ وَ يَعْبُدُهُ مَنْ عَرَفَ اللَّهَ وَ عَرَفَ إِمَامَهُ مِنَّا أَهْلَ الْبَيْت‏}سوائے اسکے نہیں کہ اللہ کی معرفت اور اسکی عبادت وہی کرتا ہے جو اللہ کی معرفت رکھتا ہو اور اپنے امام کا عرفان رکھتا ہو جو ہم اہل بیت ^ میں سے ہے۔یعنی اپنے وقت کے امام کا عرفان رکھتا ہو۔پھرفرمایا: { وَ مَنْ لَا يَعْرِفِ اللَّهَ عَزَّ وَ جَلَّ وَ لَا يَعْرِفِ الْإِمَامَ مِنَّا أَهْلَ الْبَيْتِ فَإِنَّمَا يَعْرِفُ وَ يَعْبُدُ غَيْرَ اللَّهِ هَكَذَا وَ اللَّهِ ضَلَالا} ،جو اللہ عزیز و جلیل کی معرفت نہیں رکھتا اور نہ امام کی معرفت رکھتا ہے جو ہم اہل بیت میں سے ہو وہ غیر اللہ کی معرفت رکھتا ہے اور غیر اللہ کی عبادت کر رہا ہے اللہ کی قسم! وہ شخص اسی طرح گمراہی میں ہے۔
اس مطلب کو عوامانہ زبان میں کہاجاتا ہے بغیر معرفت امام زمان× عبادت نہیں بلکہ ٹکریں ہیں۔
پس معلوم ہوا جو شخص معرفت امام رکھتا ہے وہ اللہ کی عبادت کر تا ہے جو امام کی معرفت نہیں رکھتا وہ غیر اللہ کی عبادت کر رہا ہیں۔اگرچہ کہ ظاہراً اپنے گمان میں اللہ کی عبادت سمجھ رہا ہے اس لیے مرحوم صدوقؒ امام حسین× کی فرمائش کی شرح میں لکھتے ہیں ۔
شیخ صدوق & کا نظریہ
جو ربّ العالمین کی عبادت کرئے اور وہ امام زمان کی معرفت نہ رکھتا ہو تحقیق اس نےغیر خدا کی عبادت کی ہے { فمن عبد ربا لم يقم لهم الحجة فإنما عبد غير الله عز و جل } ،اس لیے کہ اللہ کی معرفت سے عبادت ممکن ہے اور معرفت اللہ معرفت امام زمان علیہ السلام ہے تو پس جو بغیر معرفت امام زمان علیہ السلام کے عبادت کر رہا ہے وہ حقیقی اللہ کی عبادت نہیں کر رہا بلکہ غیر اللہ کی عبادت کر رہا ہے کہ جسے(غیر اللہ )وہ پہنچانتا ہے۔ پس خاتم الائمہ علیہ السلام کی معرفت ہر عبادت کی ضرورت ہے۔
برھان دوازدہم(12)
معرفت امام زمان× اور عبادات کی قبولیت
عبادتوں کی قبولیت بھی امام # کی معرفت کے ساتھ مشروط ہے۔
عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ع فِي قَوْلِ اللَّهِ عَزَّ وَ جَلَّ وَ لِلَّهِ الْأَسْماءُ الْحُسْنى‏ فَادْعُوهُ بِها قَالَ نَحْنُ وَ اللَّهِ الْأَسْمَاءُ الْحُسْنَى الَّتِي لَا يَقْبَلُ اللَّهُ مِنَ الْعِبَادِ عَمَلًا إِلَّا بِمَعْرِفَتِنَا ،اما م صادق × سورۃ اعراف کی اس آیت میں کہ اللہ کے لیے اسماء حسنیٰ ہیں تم اللہ کو ان ا سما ء کے ذریعہ سے بلاوُ یعنی عبادت کرو۔فرمایا: اللہ کی قسم ہم ! اسماء حسنیٰ ہیں کہ اللہ اپنے بندوں سے کوئی عمل قبول نہیں فرماے گا مگر ہماری معرفت کے ذریعہ سے ۔و نیز حضرت علی ابن الحسین زین العابدین ‘ ارشاد فرماتے ہیں جس نے اللہ تبارک و تعالیٰ کو ہمارے ذریعہ سے بلایا (عبادت کی) وہ کامیاب ہے اور جس نے ہمارے غیر کے ذریعہ بلایا( ہمارے بغیر کسی اور کو امام مان کر اللہ کو بلایا ) وہ ہلاک ہوگیا اور ہلاکت مانگ رہا ہے۔{ عَنْ أَبِي حَمْزَةَ الثُّمَالِيِّ عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ ع قَالَ مَنْ دَعَا اللَّهَ بِنَا أَفْلَحَ وَ مَنْ دَعَاهُ بِغَيْرِنَا هَلَكَ وَ اسْتَهْلَكَ } ،پس امام× کی معرفت سے فلاح و کامیابی ہے معرفت کے بغیرہلاکت اور گمراہی ہے۔
روایت دیگر مفصل اور کامل ہے کہ جس میں امام باقر × نے ایک مثال میں مطلب کو بیان فرمایا ،ارشاد فرماتے ہیں:ہر وہ شخص جو اللہ عزیز اور جمیل پر ایمان لایا اور اپنے آپ کو اللہ کی عبادت میں تھکاتا ہے جب کہ اللہ کی طرف سے امام کی معرفت نہیں رکھتا اس کی پوری کوشش قابل قبول نہیں ہے بلکہ وہ ایک راستہ گم شدہ کی طرح پریشان اور حیران ہے اور اللہ تبارک و تعالیٰ اس کے اعمال اور عبادات سے بغض رکھتا ہےاس بندے کی مثال اس بھیڑ کی طرح ہے جو اپنے چروا ہے اور ریوڑ سے جدا ہو کر گم ہوگی ہے اور پورا دن کھبی اُدھر جاتی ہے کھبی اِدھر جاتی ہے ۔اور جب اس پر رات چھا جائے تو دوسرے ریوڑ کے ساتھ، اپنے مالک کے بغیر ، اپنے آپ کو دیکھے پس اسکی طرف پناہ لے جائے گی اور اس کے ساتھ ان کے ٹھکانے پر رات گزارے گی اب صبح جب دوسرے ریوڑ کے مالک نے اسے چلایا تو وہ مالک بھی اس بھیڑ کاانکار کرے گا اور باقی بھیڑیں بھی اس سے پیچھا چھڑائیں گی یہ بچاری بھیڑ حیران وسرگردان اپنے مالک اور ریوڑ کو تلاش کرے گی۔
پس ایک بھیڑ کے ساتھ اس کے مالک کے ساتھ پناہ لے گی تو وہ مالک دھتکار کر کہے گا اپنے مالک کے ساتھ اپنے ریوڑ کے ساتھ جا تو اپنے مالک سے سرگردان ہوگی ہے پس یہ خوف کے مارے آواز دے گی سرگردان ہو کر گھومے گی کوئی چروا ہانہیں جو اسے اپنی چرا گاہ کی طرف رہنمائی کرے یا اسے اپنے گروہ کی طرف پلٹا لے جائے۔یہ بھیڑ اسی سرگردانی میں تھی کہ اتنے میں بھیڑیے نے موقع کو غنمیت سمجھا اور پس اسکو کھا گیا امام ارشاد فرماتے ہیں : اے محمد بن مسلم اللہ کی قسم! یہ بندہ ایسا ہی ہے پھر فرماتے ہے جس بندے نے اس بندے سے صبح کی اور اللہ کے بنائے ہوئے امام پر ایمان نہ رکھتا ہو اور ظاہرا بڑا عادل اور عبادت کو انجام دینے والا ہو تو یہ شخص اس حیران و سرگردان بھیڑ کی طرح ہے اور اگر اسی حالت میں مرگیا تو کفر و نفاق کی موت مرا ہے پھر فرماتے ہیں:اے محمد بن مسلم تو جان لے !
یہ ائمہ جور(جو خدا کی طرف سے نہیں بنائے گے بلکہ لوگوں کی طرف سے بنائے گئے ہیں )اور ان کے پیچھے چلنے والے سب اللہ کے دین سے معزول ہیں اور یہ خود بھی گمراہ اور دوسروں کو بھی گمراہ کرنے والے ہیں اور ان کے اعمال جو یہ انجام دیتے ہیں راکھ کی طرح ہے پھر امام × سورۃ ابراھیم کی آیت ۱۸ سے استشھاد فرماتے ہیں کہ مانند راکھ کے بہت تیز ہوا ایک آندھی والے دن میں اسےاُڑا لے جا ئے اور یہ لوگ عاجز اور ناتوان ہو کر اپنے کسب شدہ اعمال کی ذرہ برابر بھی حفاظت نہ کر سکیں اور یہی وہ کھلی گمراہی ہے۔
تنبیہ
غفلت نہ ہو کہ پھر شھادتین کا کیا اثر ہے ؟امامیہ کے نزدیک جو بھی شھادتین زبان پر جاری کرتا ہے تو ظاہرا مسلمان اور اس کا خون محفوظ ہوتا ہے اور یہ شھادتین کا کم از کم اثر ہے اب اگر امام معصوم من اللہ کا قائل نہ ہو تو بروز قیامت ان شھادتین کا بھی فائدہ نہیں ہو گا جیسا کہ مفصل ذکر کیا جا چکا ہے۔ پس خاتم الائمہ علیہ السلام کی معرفت ہر عبادت کی ضرورت ہے۔
 

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.