حضرت علی علیه السلام کے فرزندوں کی تعداد کیا تھی
حضرت علی علیه السلام کے فرزندوں کی تعداد کیا تھی، ان کے نام کیا تھے اور ان کی ماوں کے نام کیا تھے؟
شیخ مفید، اپنی کتاب “ارشاد” میں حضرت علی علیه السلام کے فرزند، من جمله بیٹے اور بیٹیاں ستره افراد بیان کرنے کے بعد لکھتے هیں: بعض شیعه علماء کهتے هیں که پیغمبراسلام{ص} کی وفات کے بعد فاطمه{ع} کا ایک بیٹا سقط جنین هوا هے، جس کا نام پیغمبراکرم{ص} نے محسن رکھا تھا- ان افراد کے قول پر مبنی حضرت علی علیه السلام کے فرزندوں کی تعداد اٹھاره تھی-
لیکن مسعودی نے، مروج الذهب میں حضرت علی علیه السلام کے فرزندوں کی تعداد پچیس افراد تک لکھی هے-
ابن سعد نے “طبقات [1] ” میں اور بلاذری نے “انساب الاشراف [2] ” میں حسب ذیل لکھا هے:
۱۔ جن فرزندوں کی والده پیغمبراسلام کی بیٹی فاطمه زهراء سلام الله علیها هیں، وه امام حسن{ع}، امام حسین {ع}، محسن {ع} ، زینب کبریٰ {س}اور ام کلثوم کبریٰ{س} هیں- محسن، حضرت زهراء سلام الله علیها کے گھر پر حمله کے دوران سقط جنین هوا هے-
ابن اثیر لکھتے هیں که : محسن نے بچپن میں هی وفات پائی هے-
زینب کا عقد عبدالله بن جعفربن ابیطالب سے هوا اور ام کلثوم عمربن خطاب کی زوجیت میں آگئیں [3] –
۲۔ محمد بن علی، محمد بن حنفیه کے نام سے مشهور تھے، ان کی والده خوله بنت جعفر بن قیس بن مسلمه تھیں-
۳۔ جن فرزندوں کی والده لیلیٰ بنت مسعود تھیں، ان میں سے ایک عبیدالله بن علی هے، جو خوزستان کے میشان نامی صحرا کے علاقه مذار میں مختا{بن ابو عبید} کے توسط سے قتل کیے گئے- اس کے علاوه ابوبکر بن علی تھے جو کربلا میں شهید کیے گئے- ان دونوں کی کوئی اولاد نهیں تھی-
۴۔ جن فرزندوں کی والده ام البنین تھیں، وه عباس، عثمان، جعفر اور عبدالله نامی چار بھائی تھے، جو کربلا میں شهید هوئے- {عباس کے دو بیٹے تھے اور ان کے نام عبیدالله اور فضل تھے- عباس کی نسل عبیدالله سے باقی رهی هے}
۵۔ کنیز نامی ماں سے ایک فرزند تھا، جس کا نام محمد اصغر تھا اور وه کربلا میں شهید هوا هے-
۶۔ جن فرزندوں کی والده اسماء بنت عمیس تھیں، وه یحیی اور عون نامی دو بھائی تھے-
۷۔ جن فرزندوں کی والده صهبا تھیں، ان میں عمراکبر نامی ایک بیٹا اور رقیه نامی ایک بیٹی تھیں-
۸۔ امامه بنت ابولعاص نامی ماں کا یاک بیٹا تھا، جس کا نام محمد اوسط تھا- {امامه کی ماں زینب بنت رسول الله تھیں}-
۹۔ جن فرزندوں کی ماں ام سعید بنت عروۃ بن مسعود تھیں، وه دو بهنیں تھیں جن کے نام ام الحسین اور رملته تھے-
۱۰۔ محیاۃ بنت امرءالقیس [4] نامی ماں کی ایک بیٹی تھی، جس کا نام ام یعلی تھا، وه بچپن میں هی فوت هوئی هے-
۱۱۔ امام علی کی جو بیٹیاں حضرت کی کنیزوں سے پیدا هوئی هیں، ان کے نام: ام هانی، میمونه، زینب صغریٰ، رلمۃ صغریٰ، ام کلثوم صغریٰ، فاطمه، امامه، خدیجه، ام لکرام۔ ام سلمه، ام جعفر، جمانه اور نفیسه هیں-
سید محسن امین نے حضرت علی علیه السلام کی بیویوں کے بارے میں لکھا هے: ” حضرت{ع} کی سب سے پهلی بیوی فاطمه بنت رسول خدا تھیں- علی علیه السلام نے حضرت زهراء سلام الله علیها کی زندگی میں دوسری شادی نهیں کی- حضرت فاطمه زهرا سلام الله علیها کی شهادت کے بعد حضرت{ع} نے امامه بنت ابوالعاص بن ربیع بن عبدالعزی بن عبدالشمس سے ازدواج کی اور عبد شمس زینب بنت رسول الله کا بیٹا تھا- ام البنین بنت حزام بن دارم کلابیه، ایک اور عورت تھیں جس سے حضرت علی علیه السلام نے شادی کی- ام البنین کے بعد حضرت{ع} نے لیلیٰ بنت مسعود بن خالد النهشلیۃ تمیمی دارمیه سے ازدواج کی اور ان کے بعد اسماء بنت عمیس خثمعی سے ازدواج کی- اسماء، جعفر بن ابیطالب کی شهادت سے پهلے ان کی بیوی تھیں- ان کی شهادت کے بعد ابوبکر نے ان سے ازدواج کی اور جب ابوبکر اس دنیا سے چلے گئے، علی {ع} نے اس کے ساتھه شادی کی- امیرالمومنین کی ایک اور بیوی ام حبیب بنت ربیعه تغلبیه تھیں، جو صهبا کے نام سے مشهور تھیں- یه عورت قبیله “سبی” سے تعلق رکھتی تھیں، که خالد بن ولید نے عین التمر میں ان پر حمله کر کے اسے اسیر بنایا تھا- خوله بنت جعفر بن قیس بن مسلمه حنفی یا ایک دوسرے قول کے مطابق خوله بنت ایاس، حضرت کی ایک اور بیوی تھیں- اس طرح حضرت علی علیه السلام نے ام سعد یا ام سعید بنت عروۃ بن مسعود ثقفی اور مخباۃ بنت امری القیس بن عدی کلبی سے ازدواج کی تھی [5] -”
[1] طبقات ابن سعد، ج 3، ص 13، ترجمه ڈاکٹر محمود مهدوی .
[2] انساب الاشراف، بلاذری، ج 2، ص 136.
[3] اس سلسله میں مورخین کے درمیان اختلاف هے- ملاخطه هو : سؤال 2628 (سای ٹ : 2752)، عنوان : ازدواج خلیفه دوم با ام کلثوم .
[4] امرء القیس ، عمر کے زمانه میں مسلمان هوا- اس کی تین بیٹیاں تھیں، ان میں سے ایک کا نام محیاۃ تھا جو حضرت علی{ع} کے عقد میں تھیں .
[5] سائٹ حوزه.