امام رضا (ع) کي علمي شخصيت

268

امام علي رضا (ع) اہلبيت کے ان اماموں ميں سے ہيں جنہوں نے عمومي طور پر اپني دانش اور علم اور اپنے شاگردوں کي تعليم و تربيت اور مختلف موقعوں پر کئے جانے والے سوالات اور جوابات ، مباحثات اور علمي مناظروں کے ذريعہ اسلامي فکر کو مالا مال کيا- تاريخ ميں کوئي مثال نہيں ملتي کہ ان ائمہ نے کسي دانشمند سے سبق ليا ہو بلکہ ان کي دانش کا سэشمہ ان کے جد بزرگوار حضرت آنحضرت تھے جن سے انہوں نے ور اثتاً علم حاصل کيا-عيسيٰ يقطيني کا بيان ہے کہ ميں نے امام کے تحريري مسائل کے جوابات کو اکٹھا کيا تو ان کي تعداد تقريباً 18000 تھي-
مامون رشيد کا يہ دستور تھاکہ مختلف مذاہب کے علما کو دربار ميں امام (ع) کے رو برو بحث کي دعوت ديتا- محد ثيں و مفسرين اور علما جو آپ (ع) کي برابري کا دعويٰ رکھتے تھے وہ بھي ان علمي مباحث ميں آپ کے سامنے ادب سے بيٹھتے تھے- زہري ، ابن قتيبہ، سفيانِ ثوري، عبدالرحمن اور عکرمہ نے آپ سے فيض حاصل کيا ان مناظروں کے پيچھے مامون کے سياسي مقاصد بھي تھے- علمي مباحث سے طبعادلچسپي کے باوجود مامون يہ نہيں چاہتا تھا کہ ان مناظروں کے ذريعہ امام کي شخصيت ، علويوں اور انقلابيوں کي توجہ کا مرکز بن جائے بلکہ اس موقع کي تلاش ميں تھا کہ کسي وقت امام (ع) جواب دينے سے عاجز ہو جائيں جو ناممکن تھا بلکہ مامون کي خواہش کے برعکس يہ مناظرات امام (ع) کے علمي شکوہ وشائستگي اور شيعہ عقيدہ کي برتري منوانے کا ذريعہ بن گئے- (جواد معيني)
امام (ع) کے مناظروں ميں ايک قابل Иر مجلس ميں جاثليق، مسيحي پادريوں کا رئيس، راس الجالوت يہودي دانشمند، ہندو دانشور، پارسي، مجوسي، بدھ اور ديگر مذاہب کے علما بہ يک ساتھ موجود تھے- امام (ع) نے ہر عالم سے اس کي اپني مقدس کتاب کے حوالوں سے اس کي مروجہ زبان ميں بحث کي- ايک اور مناظرہ خراساني عالم سليمان مروزي کے ساتھ ہوا جس ميں مسئلہ بداء موضوع بحث تھا- علي بن جھم سے مناظرہ ميں عصمت پيغمبران پر بحث ہوئي جس ميں امام (ع) نے حضرت يوسف، ذالنون اور داؤد عليہ السلام کے واقعات سے اپني دلائل کو مستحکم کيا- المختصر ان مناظروں کے ذريعہ امام (ع) کو جيد علما اور فقہا کي موجودگي ميں اپنے علم و فضيلت کے اظہار کا موقع ملا جو ان کي حکمت عملي کا ايک جزو تھا-
 

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.