امام سجاد علیه السلام کی اخلاقی سیرت

281

چوتھے امام٬ ایک کامل انسان٬ الله کے منتخب اور اخلاقی٬ عبادی٬ علمی اور هر جهت سے کمال تک پهنچنے هوئے تھے اور قرآن و رسول خدا صلی الله علیه و آله و سلم کے عینی مجسم اور نمونه عمل تھے ـ
بنی امیه کے اقتدار کے تاریک دور میں٬ جبکه انسانی قدریں اور اخلاقی فضائل فراموش کئے گئے تھے٬ اور لوگ٬ زهد و ساده زیستی٬ تواضع٬ دوستی٬ نرم رویه اور عوام پروری کے بجائے اپنے حکام کو خلیفه پیغمبر (ص) کے عنوان سے دنیا پرستی٬ عیش و عشرت٬ فضول خرچی اور خود خواهی میں مبتلا هونے کا مشاهده کرتے تھے ـ اس دوران امام سجاد علیه السلام ایک چمکتے هوئے سورج کے مانند منور هوئے اور آپ کی ذات تمام فضائل اور فراموش شده قدروں کا مجموعه بن چکی تھی٬ اس کا دوست و دشمن اعتراف کرتے تھے[1] محمد بن طلحه شافعی لکھتا هے: “وه عبادت کرنے والوں کی زینت٬ زاهدوں کے پیشوا٬ پرهیزگاروں کے سرور اور مومنین کے امام هیں٬ ان کی سیرت اس بات کی گواه هے اکه وه رسول خدا (ص) کے صالح فرزند تھے٬ ان کی صورت قرب الهی کی گواهی دیتی تھی … [2] ـامام سجاد علیه السلام کی اخلاقی سیرت
یهاں پر هم امام سجاد (علیه السلام) کے فضائل٬ سیرت اور آپ کے مکارم اخلاق کے چند نمونوں کی طرف اشاره کرتے هیں٬ جو حقیقت میں انسانی معاشره کے لئے مکمل نمونه عمل هیں:
1ـ بارگاه الهی میں امام سجاد (علیه السلام) کی عبادت اس قدر تھی که آپ (ع) کو عابدوں کی زینت اور سرور (سید العابدین اور زین العابدین) کا لقب مل گیا هے اور کافی سجدے بجا لانے کی وجه آپ (ع) کو “سجاد” کا لقب ملا ـ آپ (ع) بارگاه الهی میں اس قدر سجدے بجالاتے تھے که پورے٬ ماتھے پر سجدوں کے نشان اور پیوند نمودار تھے ـ آپ هر سال دوبار اور هر بار پیشانی پر لگے هوئے پانچ عدد نشانیوں کو کاٹتے تھے٬ اس لحاظ سے حضرت (ع) کو ” ذو التفنات” (یعنی صاحب پیوند) کها جا تا هے [3]ـ
امام سجاد (علیه السلام) جب وضو کرتے تھے تو آپ (ع) کے چهره مبارک کا رنگ تبدیل هوتا تھا ـ اس کی علت کے بارے میں آپ (ع) سے سوال کیا گیا٬ تو آپ (ع) نے فرمایا: کیا آپ لوگ جانتے هیں که میں کس کے سامنے کھڑا هونے والا هوں؟![4]
حضرت امام باقر علیه السلام اپنے والد گرامی کے “سجاد” لقب سے ملقب هونے کے بارے میں فرماتے هیں: ” انھیں سجاد کهتے تھے٬ کیونکه وه جب کسی نعمت کو یاد کرتے تھے تو اس کے لئے ایک سجده بجا لاتے تھے ـ جب بھی قرآن مجید کی مستحب یا واجب سجده والی آیت کی تلاوت فرماتے تھے٬ تو سجده بجالاتے تھے٬ وه جب بھی سجده بجالاتے تھے٬ تو خداوند متعال ان سے ایک برائی کو دور کرتا تھا٬ جب بھی واجب نماز سے فارغ هوتے تھے٬ سجده بجالاتے تھے٬ جب کبھی دو افراد کے درمیان صلح کراتے تھے تو سجده بجا لاتے تھے ـ ان لا تعداد سجدوں کی وجه سے آپ (ع) کی پیشانی پر لگے هوئے نشان نمایان تھے[5] ـ
2ـ چوتھے امام حضرت سجاد (علیه السلام) کی دوسری خصوصیات میں سے عفو و بخشش اور برائی کے جواب میں نیکی کرنا تھا ـ امام سجاد (علیه السلام) اپنی اس برجسته خصوصیت کے بارے میں فرماتے هیں: “میرے لئے غضب کو پینے سے زیاده میٹھا کوئی گھونٹ نهیں هے غضب پر کنٹرول کرنا میرے لئے٬ سب سے میٹھی چیز هے[6] ـ
امام سجاد علیه السلام کی اخلاقی سیرت
ایک دن ایک هاشمی شخص نے امام (ع) کی توهین کی ـ حضرت (ع) نے کچھـ نهیں کها ـ اس شخص کے جانے کے بعد امام (ع) نے حضار سے مخاطب هو کر کها: ” جو کچھـ اس شخص نے کها٬ اسے آپ نے سنا٬ اب میں چاهتاهوں که آپ میرے ساتھـ آئیے تا که هم اس کے پاس جائیں گے اور میرا جواب بھی سن لیجئے ـ
امام (ع) اس شخص کے گھر کی طرف جاتے هوئے اس آیه شریفه کی تلاوت فرماتے تھے: “پرهیزگار وه لوگ هیں که … اپنے غضب کو پی لیتے هیں اور لوگوں کی غلطیوں کو معاف کرتے هیں اور خدا نیک انسانوں کو پسند کرتا هے[7] ـ”
امام سجاد (علیه السلام) اس شخص کے گھر کے دروازه پر پهنچے ـ وه خیال کرتا تھا که امام (ع) انتقام لینے کے لئے آتے هیں ـ وه اپنے آپ کو مقابله اور جواب کے لئے آماده کرتے هوئے باهر آگیا ـ امام (ع) نے اس سے فرمایا: “اے بردار! تم نے کچھـ وقت پهلے میرے پاس آکر کچھـ باتیں کیں ـ جو کچھـ تم نے کها اگر وه مجھـ میں موجود هو تو خدا مجھے بخشدے اور اگر وه چیز مجھـ میں نهیں هے تو خدا تجھے بخشدے ـ
وه شخص٬ امام (ع) کے اس رد عمل کو دیکھـ کر شرمنده هوگیا اور حضرت (ع) کے پیشانی کو چومتے هوئے کها: “جو کچھـ میں نے کها وه آپ میں نهیں هے بلکه میں خود اس کا زیاده سزاوار هوں[8]”ـ
3ـ حاجتمندوں کی حاجت روا کرنا اور ان کی مشکلات کو دور کرنا تمام ائمه معصومین علیهم السلام کی خصوصیت تھی که ان میں سے هر ایک کی زندگی میں اس خصوصیت کے فراوان نمونے ملتے هیں ـ
امام سجاد (علیه السلام) بهت سے حاجتمند خاندانوں کی زندگی کی ضروریات کو پورا کرتے تھے[9]٬ اور هر رات کو بھیس بدل کر کافی تعداد میں روٹی اور خرما لے کر حاجتمندوں کے گھروں میں جاکر ان تک پهنچاتے تھے ـ جب تک حضرت (ع) زنده تھے٬ کوئی نهیں سمجھا که ان کی ضروریات زندگی کو کون پورا کرتا تھا ـ آپ (ع) کی شهادت کے بعد ان لوگوں کو معلوم هوا که یه نامعلوم شخص علی بن الحسین علیه السلام تھے[10] ـ
چوتھے امام (ع) جو بھی غذا تناول فرماتے تھے٬ اس کے برابر صدقه دیتے تھے اور فرماتے تھے: “رگز نیکی (کی حقیقت) تک نهیں پهنچوگے مگر یه که جس چیز پسند کرتے هو اسے (راه خدا میں) انفاق کرو گے[11]؛[12] ـ
امام سجاد (علیه السلام) کا انفاق و صدقه دینے کا طریقه کار یه تھا که حاجتمند کو صدقه دینے سے پهلے اسے چومتے تھے ـ جب حضرت (ع) سے اس کی علت پوچهی گئی تو آپ (ع) نے جواب میں فرمایا: میں سوالی کو نهیں چو متاهوں بلکه اپنے پروردگار کے دوست کو چومتا هوں ـ صدقه٬ حاجتمند کو ملنے سے پهلے میرے پروردگار کو ملتا هے[13] ـ
حضرت (ع) کا صدقه دینے کا ایک اور طریقه یه تھا که آپ (ع) مخفیانه طور پر صدقه دیتے تھے ـ آپ (ع) اس سلسله میں فرماتے تھے: “مخفیانه طور پر صدقه دینا٬ پروردگار عالم کے غصب (آگ) کو بجھا تا هے”[14] ـ
4ـ دوسرے اماموں کے مانند همارے چوتھے امام (ع) بھی شجاع بهادر٬ اور ظالم کا مقابله کرنے والے تھے ـ کربلا کے حادثه کے بعد اپنی امامت کے دوران عبیدلله بن زیاد٬ یزید اور عبدالملک جیسے ظالمون کے مقابلے میں سخت موقف اختیار کرنا اور کمرتوڑ کلام کرنا اس کی واضح اور بهترین دلیل هے ـ
عبیدالله بن زیاد نے جب حضرت (ع) کو قتل کرنے کی دھمکی دی تو آپ نے جواب میں فرمایا: “کیا مجھے قتل کرنی کی دھمکی دیتے هو؟ کیا تم نهیں جانتے که راه خدا میں قتل هونا همارا طریقه کار هے اور شهادت همارے لئے فخر هے؟”[15]
یزید کے مقابلے میں فرمایا: “اے معاویه٬ ھند اور صخر کے بیٹے! تم جانتے هو که میرے جد علی بن ابیطالب (علیهم السلام) جنگ بدر٬ احد اور احزاب میں اسلام کے پرچمدار تھے لیکن تیرے باپ اور دادا کفار کے پرچمدار تھے[16] ـ
عبدالمالک نے امام سجاد (علیهم السلام) کو اپنے پاس بلاکر کها: “میں تو آپ (ع) کے باپ کا قاتل نهیں هوں٬ همارے پاس کیوں رفت و آمد نهیں کرتے هو؟ امام (ع) نے جواب میں فرمایا: میرے باپ کے قاتل نے اگر چه ان کی دنیوی زندگی کو ختم کرکے رکھدیا٬ لیکن اس نے اس ظلم سے اپنی آخرت تباه و برباد کرکے رکھدی هے٬ اگر تم بھی اسی کے مانند بن جانا چاهتے هو تو بن جاؤ[17] ـ
اس قسم کے قاطع موقف اور ظالم حکام کے سامنے ان کے محلوں میں ایسا بهادرانه کلام کرنے کے لئے غیر معمولی شجاعت اور بهادری کی ضرورت هوتی هے ـ
اس کی علاوه٬ یزید کے دربار میں حضرت (علیهم السلام) کی شعله بیان تقریر نے بنی امیه کے ظلم و ستم کو طشت از بام کرکے رکھدیا اور یه حضرت (ع) کی کمال جرات و بهادری کی نشانی هے ـ
سرانجام ائمه اطهار علیهم السلام کی اخلاقی سیرت مکمل ترین اخلاق پر مبنی سیرت هے اور یه سیرت ان کی زندگی کے صرف ایک دور سے مخصوص نهیں هے٬ بلکه ان کی زندگی کے هر لمحه میں جاری هے ـ لیکن یه همت اور کمالات زمان و مکان اور مختلف افراد کے مقابلے میں متفاوت هوتے هیں ـ
کبھی وه مستضعفین٬ محرومین و ضعیفوں کے مقابلے میں … والکاظمین الغیظ و العافین عن الناس هیں اور ان کے مقابلے میں ان کا انفاق٬ محبت اور عفو و بخشش چھلکتا هے٬ اور کبھی حقداروں کے حق کا دفاع کرتے هوئے مستکبرین اور ظالموں اور جائر حکام کے سامنے٬ کمال شجاعت٬ بهادری اور انسانیت کا مظاهره کرتے هیں ـ
[1] رفیعی، علی، تاریخ اسلام در عصر امامت امام سجاد و امام باقر (ع)، صص 21-17، مرکز تحقیقات اسلامی، 76
[2] شافعى، محمد بن طلحه، مطالب السؤول، ص 77. اقتباس از تاریخ اسلام در عصر امامت امام سجاد و امام باقر (ع)، نوشته علی رفیعی.
[3] شیخ صدوق، علل الشرایع، ج 1، ص 233. نرم افزار جامع الاحادیث.
[4] ایضاً، ص 232. نرم افزار جامع الاحادیث.
[5] ایضاً، ص 233. نرم افزار جامع الاحادیث.
[6] ما تَجَرَّعْتُ جُرْعَةً اَحَبَّ اِلَىَّ مِنْ جُرْعَةِ غَیْظٍ لا اُکافى بِها صاحِبَها، اصول کافى، ج 2، ص 109. نرم افزار جامع الاحادیث.
[7] …وَالْکاظِمینَ الْغَیْظَ، وَ الْعافینَ عَنِ النّاسِ وَاللّهُ یُحِبُّ الُْمحْسِنینَ؛ آل عمران، 134.
[8] شیخ مفید، ارشاد، ج 2، ص 146.
[9] در روایـتـى از امـام بـاقـر(ع) تـعـداد خـانـواده هـاى تـحـت تکفّل آن حضرت صد خانوار ذکر شده است (ر . ک: مناقب، ابن شهر آشوب، ج 4 ، ص 154). نرم افزار جامع الاحادیث.
[10] شیخ مفید، ارشاد، ص 258، اقتباس از تاریخ اسلام در عصر امامت امام سجاد و امام باقر (ع)، نوشته علی رفیعی.
[11] لَنْ تَنالُوا الْبِرَّ حَتّى تُنْفِقُوا مِمّا تُحِبُّونَ، آل عمران، 92.
[12] علامه مجلسی، بحار الانوار، ج 46، ص 89. نرم افزار جامع الاحادیث.
[13] ایضاً، ص 74. نرم افزار جامع الاحادیث.
[14] ایضاً، ص 88. نرم افزار جامع الاحادیث.
[15] اءبـِالْقـَتْلِ تُهَدِّدُنى؟ اَما عَلِمْتَ اَنَّ الْقَتْلَ لَنا عادَةٌ وَ کَرامَتُنا الشَّهادَةُ (ر . ک: اعیان الشیعه، 1، ص 633).
[16] ایضاً.
[17] بحار الانوار، ج 46، ص 121. نرم افزار جامع الاحادیث.
 

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.