طلاق وعدّت طلاق

1,443

طلاق
طلاق امر شرعی ہے لیکن اللہ وصل کو پسند کرتا ہے فصل کو نہیں ملاپ کو پسندکرتاہے انقطاع کو نہیں مل جل کر رہنے اتحاد و اتفاق کے ساتھ زندگی گزارنے کو پسندیدہ قرار دیا ہے ۔ جدائی، تفریق بچوں کی پریشانی خاندان میں باہمی عداوت کا موجب طلاق بارگاہ خداوندی میں نا پسندیدہ ہے لیکن اگر کو ئی صور ت وصل کی نہیں تو پھر حکم ہے کہ اچھے انداز سے اچھے طریقے سے لڑائی جھگڑا کئے بغیر جدا ہو جانا چاہیے جدا ہونے کا نام طلاق ۔ طلاق مقاربت سے پہلے۔ ارشاد رب العزت ہے: لاَجُنَاحَ عَلَیْکُمُ إِنْ طَلَّقْتُمْ النِّسَاءَ مَا لَمْ تَمَسُّوْہُنَّ أَوْ تَفْرِضُوْا لَہُنَّ فَرِیْضَةً وَّمَتِّعُوْہُنَّ عَلَی الْمُوْسِعِ قَدَرُہ وَعَلَی الْمُقْتِرِ قَدَرُہ مَتَاعًام بِالْمَعْرُوْفِ حَقًّا عَلَی الْمُحْسِنِیْنَ وَإِنْ طَلَّقْتُمُوْہُنَّ مِنْ قَبْلِ أَنْ تَمَسُّوہُنَّ وَقَدْ فَرَضْتُمْ لَہُنَّ فَرِیْضَةً فَنِصْفُ مَا فَرَضْتُمْ إِلاَّ أَنْ یَعْفُوْنَ أَوْ یَعْفُوَ الَّذِیْ بِیَدِہ عُقْدَةُ النِّکَاحِ وَأَنْ تَعْفُوْا أَقْرَبُ لِلتَّقْوٰی وَلَاتَنْسَوْا الْفَضْلَ بَیْنَکُمْ إِنَّ اللہ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ ۔ “اس میں کو ئی مضائقہ نہیں کہ تم عورتو ں کو ہاتھ لگانے او ر مہر معین کرنے سے پہلے طلاق دے دواس صورت میں انہیں کچھ دے کررخصت کرو مالدار اپنی وسعت کے مطابق او رغریب آدمی اپنی حیثیت کے پیش نظردستور کے مطابق دے یہ نیکی کرنے والوں پر حق ہے ۔ او راگر تم عورتوں کو ہاتھ لگانے سے قبل اور ان کے لیے مہر معین کر چکنے کے بعد طلاق دے دو تو اس صورت میں تمہیں اپنے مقرر کردہ مہر کا نصف اد ا کرنا ہو گا مگر یہ کہ وہ اپنا حق چھوڑ دیں یا جس کے ہاتھ میں عقد کی گرہ ہے وہ حق چھوڑ دے اور تمہارا اس مال چھوڑ دینا تقویٰ کے زیادہ نزدیک ہے اور تم آپس کی فضیلت کو نہ بھولو یقینا تمہارے اعمال پر اللہ کی خوب نگا ہ ہے ۔ “( سورہ بقرہ : ۲۳۶۔۲۳۷) عورت غیر مدخولہ ( یعنی مقاربت نہ کی گئی ) کو طلاق دینے کی صورت میں نصف حق مہر دینا ہو گا ۔ طلاق مقاربت کے بعد ارشاد رب العزت ہے: وَإِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ فَبَلَغْنَ أَجَلَہُنَّ فَأَمْسِکُوْہُنَّ بِمَعْرُوْفٍ أَوْ سَرِّحُوہُنَّ بِمَعْرُوْفٍ وَلَا تُمْسِکُوْہُنَّ ضِرَارًا لِّتَعْتَدُوْا وَمَنْ یَّفْعَلْ ذٰلِکَ فَقَدْ ظَلَمَ نَفْسَہ وَلَاتَتَّخِذُوْا آیَاتِ اللہ ہُزُوًا وَّاذْکُرُوا نِعْمَةَ اللہ عَلَیْکُمْ وَمَا أَنزَلَ عَلَیْکُمْ مِّنُ الْکِتَابِ وَالْحِکْمَةِ یَعِظُکُمْ بِہ وَاتَّقُوا اللہ وَاعْلَمُوْا أَنَّ اللہ بِکُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ ۔ “او رجب تم اپنی عورتوں کو طلا ق دے دواو روہ عدت کے آخری دنوں میں پہنچ جائیں تو انہیں یا تو شائستہ طریقے سے اپنے نکاح میں رکھو ( رجوع کرلو ) یا شائستہ طور پر رخصت کردو او رصرف ستانے کی خاطر۔ زیادتی کرنے کے لیے۔ انہیں روکے نہ رکھو او رجوایسا کرے گا وہ اپنے اوپر ظلم کرے گا او رتم اللہ کی آیا ت کا مذاق نہ اڑاؤاو راللہ نے جونعمت تمہیں عطا کی ہے اسے یادرکھو او ر( یہ بھی یاد رکھو )کہ تمہاری نصیحت کے لیے اس نے تم پر کتاب اور حکمت نازل کی ہے ۔ او راللہ سے ڈرو او ریہ جان لو کہ اللہ کو ہر چیز کا علم ہے ۔”( سورہ بقرہ : ۲۳۱) طلا ق دینے والے کیلئے ضروری ہے کہ وہ بالغ عاقل بااختیار ہو اپنی مرضی سے طلاق دے مجبورشدہ شخص سے طلاق واقع نہیں ہوتی ۔ عورت ایام حیض میں نہ ہو دو عادل گواہ طلاق کے وقت موجود ہو ں عادل جن کے گنا ہ وبرابی کا کسی کوعلم نہ ہو اور عمومی شہرت اچھی ہو پھر صیغہ طلاق پڑھا جائے ان شرائط میں سے کوئی ایک مفقود ہو جائے تو طلاق واقع نہیں ہو گی ۔تین طلاقیں
ایک ہی نشست میں ایک ہی طلاق ہوتی ہے خواہ صیغہ جس قدر تعداد میں پڑھا جائے جیسے نکاح کے صیغے بار بارپڑھنے سے نکاح ایک ہی ہوتاہے ۔ ارشاد رب العزت ہے: اَلطَّلاَقُ مَرَّتَانِ فَإمْسَاکٌم بِمَعْرُوْفٍ أَوْ تَسْرِیْحٌ بِإِحْسَانٍ وَلَایَحِلُّ لَکُمْ أَنْ تَأْخُذُوْا مِمَّا آتَیْتُمُوْہُنَّ شَیْئًا إِلاَّ أَنْ یَخَافَا أَلاَّ یُقِیْمَا حُدُوْدَ اللہ فَإِنْ خِفْتُمْ أَلاَّ یُقِیْمَا حُدُوْدَ اللہ فَلاَجُنَاحَ عَلَیْہِمَا فِیْمَا افْتَدَتْ بِہ تِلْکَ حُدُوْدُ اللہ فَلَا تَعْتَدُوْہَا وَمَنْ یَتَعَدَّ حُدُوْدَ اللہ فَأُوْلٰئِکَ ہُمْ الظَّالِمُوْنَ ۔ “طلاق دو بار ہے یا تو پھر شائستہ طور پر عورتوں کو اپنی زوجیت میں رکھ لیا جائے یا اچھے پیرائے میں انہیں رخصت کر دیا جائے اور یہ جائز نہیں کہ جو کچھ تم انہیں دے چکے ہو اس میں سے کچھ لے لو مگر یہ کہ زن و شوہر کو خوف ہو کہ وہ اللہ کی حدود قائم نہیں رکھ سکیں گے پس اگر تمہیں خوف ہو کہ زوجین اللہ کی حدود کو قائم نہیں رکھ سکیں گے تو (اس مال میں) کوئی مضائقہ نہیں جو عورت بطور معاوضہ دے (کر خلع کرائے)یہ اللہ کی مقرر کردہ حدود ہیں سو ان سے تجاوز نہ کرو اور جو لوگ حدودالٰہی سے تجاوز کرتے ہیں پس وہی ظالم ہیں ۔”( سورہ بقرہ :۲۲۹) جب کوئی شخص اپنی بیوی کو طلاق دیتاہے تین ماہ گذر گئے عورت جداہو گئی اب وہ پھر نکاح کر سکتاہے (یہ ہے ایک طلاق) اختلاف ہو اطلاق کی نوبت آگئی طلاق دیدی ۔تین ماہ گذر گئے اب پھر نکاح کر سکتاہے (یہ ہیں دو طلاقیں )اب اگر پھر ضرورت محسوس ہوئی کہ طلاق دے اور طلاق کے بعد تین ماہ گذر گئے اب اس کو پھر نکاح کرنے کا حق نہیں ہے مگر حلالہ کے بعد ۔ ارشاد رب العزت ہے : فَإِنْ طَلَّقَہَا فَلَا تَحِلُّ لَہ مِنْ م بَعْدُ حَتّٰی تَنْکِحَ زَوْجًا غَیْرَہ فَإِنْ طَلَّقَہَا فَلَا جُنَاحَ عَلَیْہِمَا أَنْ یَّتَرَاجَعَا إِنْ ظَنَّا أَنْ یُقِیْمَا حُدُوْدَ اللہ وَتِلْکَ حُدُودُ اللہ یُبَیِّنُہَا لِقَوْمٍ یَّعْلَمُوْنَ ۔ “اگر( تیسری بار) طلاق ہوگئی تو یہ عورت اس مرد کے لیے اس وقت تک حلال نہ ہوگی جب تک کسی دوسرے مرد سے نکاح نہ کرے ہاں پھر اگر دوسرا شوہر اسے طلاق دے( اپنی مرضی اور اختیار سے) اور وہ عورت و مرد دونوں ایک دوسرے کی طرف رجوع کریں تو کوئی حرج نہیں بشرطیکہ انہیں امید ہو کہ وہ حدود الہی کو قائم رکھ سکیں گے اور یہ ہیں اللہ کی مقررکردہ حدود جنہیں اللہ دانشمندوں کے لیے بیان کرتا ہے۔”(سورہ بقرہ :۲۳۰) مفتی اعظم شیخ محمود شلتوت رئیس جامعہ ازہر نے بھی اسی مسلک کو قبو ل کیاہے ۔ فرمایامیں ہے ایک عرصہ مشرق کے کالج میں مذاہب کی تحقیق میں لگا رہا اور انکے درمیان موازنہ و مقابلہ میں مصروف رہاکئی مرتبہ ایسا ہوتا کہ میں کئی مسائل میں مختلف مذاہب کے آرا ء و نظریا ت کی طرف رجوع کرتا بہت سے مقامات پر میں نے شیعہ مذہب کے استدلالات کو محکم اور استوار دیکھا تو ان کے سامنے جھکا او ر میں نے ان میں اے اہل اسلام غور و فکر کرو کہ شیعہ نظریہ کو انتخاب کر لیا ایک ہی وقت میں تین طلاقیں دے ڈالی جاتی ہیں۔ جیسا کہ آجکل جہلا کا عام طریقہ ہے تو یہ شریعت کی رو سے سخت گنا ہ ہے۔ مولانا مودودی تعلیم اتورن ملت مسلمہ فکر کرو عورت مرد کے ما بین اختلاف ہو ہی جاتا ہے غصہ میں آکر زبانی یا تحریر ی طور پر طلاق طلاق طلاق کہہ دینے سے وہ مکمل جدا۔ پھر حلالہ ۔یعنی کسی اور سے شادی اور جماع ۔لاحول و لاقوة الا باللّٰہ تو کوئی کسی کو پکڑ لیتاہے ڈرا دھمکا کر طلاق لے لیتا ہے تو عورت جدا ۔اور پھر حلالہ۔ یہ قول خلاف عقل ہے ۔ خلاف فرمان رسول ہے ۔ خدا ہمیں ان مفاسد سے بچا ئے طلاق ۔وقت گزرنے کے بعد نکاح طلاق اول طلاق ۔وقت گزرنے کے بعد نکاح طلاق دوم طلاق ۔وقت گرنے کے بعد نکاح طلاق سوم اب پھر اجازت نہیں۔اب کہ حلالہ ہو گا لیکن کیا کبھی اس کی نوبت آسکتی ہے ہم نے تو تاریخ میں اس طرح کا واقعہ نہ پڑھا نہ دیکھا لہٰذا اس قول سے انسان حلالہ سے مستقلًا چھٹکارا پا لیتا ہے بلکہ اللہ کی طرف سے بہت بڑی دھمکی ہے کہ اگر سلسلہ طلاق کا اس طرح جا رہا اور تیسری دفعہ پھر طلاق دی تو پھر تیری بیوی کو کسی اور مرد سے مجامعت کرنا ہوگی تب توشادی کر سکے گا ۔ کیایہ تیری غیرت کو قبول ہے؟ انسان کہے گا ہر گز نہیں! لہٰذا طلاق کا اس طرح کا سلسلہ ہی نہیں ہو گا ۔ عدّت
عدت طلاق : بعد از نکاح ۔مقاربت سے پہلے اگر طلاق دی جائے توعدت نہیں ہوگی۔ ارشاد رب العزت ہے: یَاأَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُوْا إِذَا نَکَحْتُمْ الْمُؤْمِنَاتِ ثُمَّ طَلَّقْتُمُوْہُنَّ مِنْ قَبْلِ أَنْ تَمَسُّوْہُنَّ فَمَا لَکُمْ عَلَیْہِنَّ مِنْ عِدَّةٍ تَعْتَدُّوْنَہَا فَمَتِّعُوْہُنَّ وَسَرِّحُوْہُنَّ سَرَاحًا جَمِیْلًا ۔ “اے مومنو! جب تم مومنات سے نکاح کرو اور پھر ہاتھ لگانے سے پہلے انہیں طلاق دے دو تو تمہیں کوئی حق نہیں پہنچتا کہ انہیں عدت میں بٹھاؤ لہذا انہیں کچھ مال دو اورشائستہ انداز میں انہیں رخصت کرو ۔” عدت در حقیقت نسل انسانی کی محافظت ہے ۔ کہ اگرحمل ہے تو تین ماہ میں واضح ہو جائے گا نیز عورت مرد جنہوں نے کئی سال باہمی انس و محبت کے ساتھ گذارے ہیں انہیں پھر موقع مہیا کرنا ہے کہ تین ماہ میں جب چاہیں مل بیٹھیں اور پھر اکٹھا رہنے کا فیصلہ کریں کیونکہ طلاق جائز ہونے کے باجود ایسا جائز امرہے کہ جس سے عرش الٰہی کانپ جاتا ہے ۔ ارشاد رسول اعظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم )ہے تزوجو ا ولا تطلقوا فان الطلاق یھتزمنہ العرش ( وسائل الشیعہ باب طلاق ص ۲۶۸) نکاح کرو ۔ طلاق نہ دینا کہ طلاق دینے سے عرش الٰہی کانپ اٹھتا ہے۔ پھر طلاق ساری زندگی موجب پریشانی رہے گی ۔ کیوں ؟ ۱: میاں بیوی کا اس قدرباہمی وقت گزارنا یا دسے محونہیں ہو گا گزرے ہوئے لمحات ذہن میں گردش کرتے رہیں گے۔ ۲: عورت کے لئے بعض اوقات دوسری شادی کرنا مشکل بعض اوقات آئیڈیل نہیں ملتا یہی حال مرد کا ہوگا۔ پھر خاندانی معاملات میں طلاق زہر والاکا م کرتی ہے صرف یہ دونوں نہیں پورا خاندان یا دونوں خاندان پریشانی میں مبتلا ر ہیں گے ۳: سب سے بڑی مشکل یہ کہ بچے کہاں جائیں گے باپ کے پاس یا ماں کے پاس اگرچہ اللہ نے معین کر دیا ہے پہلے ماں کے پاس پھر ۳ سال کا لڑکا ۷ سال کی لڑکی باپ کی حفاظت میں رہیں گے ظاہرہے جس کے پاس ہوں گے ماں یا باپ میں سے دوسرے کی کمی ستاتی رہے گی لہٰذا اپنے لیے نہیں تو کم از کم اولاد کی حالت کو مد نظر رکھتے ہوئے ہر طرف سے طعن و تشیع کے تیر چلیں گے یہ بے چارے دبے سمے ہی رہیں گے۔ طلاق سے اجتناب کرنا چاہیے اللہ وصل چاہتاہے فصل نہیں۔طلاق کی شرائط
عورت ماہانہ عادت میں نہ ہو انہی دنوں شوہر سے اختلاط نہ ہوہوا دو گواہ عادل۔ جن کا کوئی عیب نظر میں نہ ہوان کی موجودگی لازمی ہے باقاعدہ صیغہ جاری کیا جائے ۔ پھر بعد طلاق عدت کے ایام کا حساب مرد نے رکھنا ہے تاکہ طلاق کا احساس رہے ہو سکتا ہے پلٹ آئے۔ رجوع کرے یا عورت اسی گھر میں رہنا چاہے۔ عورت کے ا خراجات ادا کرنے ہوں گے اپنی حیثیت کے مطابق عام عدت ۳ ماہ۔ حاملہ کی عدت وضع حمل ارشاد رب العزت ہے: یَاأَیُّہَا النَّبِیُّ إِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ فَطَلِّقُوْہُنَّ لِعِدَّتِہِنَّ وَأَحْصُوا الْعِدَّةَ وَاتَّقُوا اللہ رَبَّکُمْ لَاتُخْرِجُوْہُنَّ مِنْ م بُیُوْتِہِنَّ وَلَایَخْرُجْنَ إِلاَّ أَنْ یَّأْتِیْنَ بِفَاحِشَةٍ مُّبَیِّنَةٍ وَتِلْکَ حُدُوْدُ اللہ وَمَنْ یَّتَعَدَّ حُدُوْدَ اللہ فَقَدْ ظَلَمَ نَفْسَہ لَاتَدْرِیْ لَعَلَّ اللہ یُحْدِثُ بَعْدَ ذٰلِکَ أَمْرًا فَإِذَا بَلَغْنَ أَجَلَہُنَّ فَأَمْسِکُوْہُنَّ بِمَعْرُوفٍ أَوْ فَارِقُوْہُنَّ بِمَعْرُوْفٍ وَّأَشْہِدُوْا ذَوَی عَدْلٍ مِّنْکُمْ وَأَقِیْمُوْا الشَّہَادَةَ لِلّٰہِ ذٰلِکُمْ یُوعَظُ بِہ مَنْ کَانَ یُؤْمِنُ بِاللہ وَالْیَوْمِ الْآخِرِ ۔ “اے نبی! جب تم عورتوں کو طلاق دو تو انہیں ان کی عدت کے لیے طلاق دے دیا کرو اور عدت کا شمار رکھو اور اپنے رب سے ڈرو تم انہیں (عدت کے دنوں)ان کے گھروں سے نہ نکالو اور نہ ہی وہ عورتیں خود نکل جائیں مگر یہ کہ وہ کسی نمایاں برائی کا ارتکاب کریں اوریہ اللہ کی حدود ہیں اور جس نے اللہ کی حدود سے تجاوز کیا تواپنے نفس پر ظلم کیا تجھے کیامعلوم اس کے بعد اللہ کوئی صورت پیدا کرے پھر جب عورتیں اپنی عدت پوری کرنے کو آئیں تو انہیں اچھی طرح سے اپنے عقد میں رکھو یا انہیں اچھے طریقے سے علیحدہ کردو اور اپنوں میں سے دو صاحبان عدل کو گواہ بناوٴ اور اللہ کی خاطر درست گواہی دو یہ وہ باتیں ہیں جن کی تمہیں نصیحت کیجاتی ہے ہر اس شخص کیلئے جو اللہ اورروز آخرت پر ایمان رکھتاہو۔” ارشاد رب العزت ہے: وَاللاَّ ئِیْ یَئِسْنَ مِنَ الْمَحِیْضِ مِنْ نِسَائِکُمْ إِنْ ارْتَبْتُمْ فَعِدَّتُہُنَّ ثَلاَ ثَةُ أَشْہُرٍ وَّاللاَّ ئِیْ لَمْ یَحِضْنَ وَأُولَاتُ الْأَحْمَالِ أَجَلُہُنَّ أَنْ یَّضَعْنَ حَمْلَہُنَّ وَمَنْ یَّتَّقِ اللہ یَجْعَلْ لَّہ مِنْ أَمْرِہ یُسْرًا ۔ “تمہاری عورتوں میں سے جو حیض سے ناامید ہو گئی ہوں ان کے بارے میں اگر تمہیں شک ہو جائے (کہ خون کا بند ہونا سن رسیدہ ہونے کی وجہ سے یا کسی اور عارضہ کی وجہ سے ہے) تو ان کی عدت تین ماہ ہوگی اور یہی حکم ان عورتوں کے لیے ہے جنہیں حیض نہ آیا ہو اورحاملہ عورتوں کی عدت ان کا وضع حمل ہے اور جو اللہ سے تو ڈرتاہے وہ اس کے معاملے میں آسانی پید ا کردیتا ہے۔” ارشاد رب العزت ہے: ذٰلِکَ أَمْرُ اللہ أَنزَلَہ إِلَیْکُمْ وَمَنْ یَّتَّقِ اللہ یُکَفِّرْ عَنْہُ سَیِّئَاتِہ وَیُعْظِمْ لَہ أَجْرًا أَسْکِنُوْہُنَّ مِنْ حَیْثُ سَکَنْتُمْ مِّنْ وُّجْدِکُمْ وَلَاتُضَارُّوْہُنَّ لِتُضَیِّقُوْا عَلَیْہِنَّ وَإِنْ کُنَّ أُولَاتِ حَمْلٍ فَأَنْفِقُوْا عَلَیْہِنَّ حَتّٰی یَضَعْنَ حَمْلَہُنَّ فَإِنْ أَرْضَعْنَ لَکُمْ فَآتُوْہُنَّ أُجُوْرَہُنَّ وَأْتَمِرُوْا بَیْنَکُمْ بِمَعْرُوْفٍ وَإِنْ تَعَاسَرْتُمْ فَسَتُرْضِعُ لَہ أُخْرٰی لِیُنْفِقْ ذُوْ سَعَةٍ مِّنْ سَعَتِہ وَمَنْ قُدِرَ عَلَیْہِ رِزْقُہُ فَلْیُنفِقْ مِمَّا آتَاہُ اللہ لاَیُکَلِّفُ اللہ نَفْسًا إِلاَّ مَا آتَاہَا سَیَجْعَلُ اللہ بَعْدَ عُسْرٍ یُسْرًا ۔ “یہ اللہ کا حکم ہے جو اس نے تمہاری طرف نازل کیا ہے اور جوا للہ سے ڈرے گا اللہ اسکی برائیاں دور کردے گا اور ا س کے لیے اجر کو بڑھا دے گا ان عورتوں کو( زمانہ عدت میں)بقدر امکان وہاں سکونت دو جہاں تم خو د رہتے ہو اور انہیں تنگ کرنے کے لیے تکلیف نہ پہنچاؤ اگر وہ حاملہ ہوں تو انکو زمانہ وضع حمل تک خرچہ دو پھر اگر وہ تمہارے کہنے پر دودھ پلائیں تو انہیں (اس کی) اجر ت دو اور احسن طریقہ سے باہم مشورہ کر لیا کرو (اور اجرت طے کرنے میں) اگر تمہیں آپس میں دشواری پیش آئے تو ماں کی جگہ اور کوئی عورت دودھ پلائے گی وسعت والا اپنی وسعت کے مطابق خرچہ کرے اور جس پر اس کے رزق کی تنگی کی گئی ہو اسے چاہیے کہ جتنا اللہ نے اسے د ے رکھا ہے اس میں سے خرچ کرے اللہ نے جس کوجتنا دیا ہے اس سے زیادہ مکلف نہیں بناتا جنت تنگدستی کے بعد عنقریب اللہ آسانی پیدا کرے گا ۔ “( سورہ طلاق: ۵،۷) ارشاد رب العزت ہے: وَالْمُطَلَّقَاتُ یَتَرَبَّصْنَ بِأَنْفُسِہِنَّ ثَلَا ثَةَ قُرُوْءٍ وَلَایَحِلُّ لَہُنَّ أَنْ یَّکْتُمْنَ مَا خَلَقَ اللہ فِیْ أَرْحَامِہِنَّ إِنْ کُنَّ یُؤْمِنَّ بِاللہ وَالْیَوْمِ الْآخِرِ وَبُعُوْلَتُہُنَّ أَحَقُّ بِرَدِّہِنَّ فِیْ ذٰلِکَ إِنْ أَرَادُوْا إِصْلَاحًا وَلَہُنَّ مِثْلُ الَّذِیْ عَلَیْہِنَّ بِالْمَعْرُوْفِ وَلِلرِّجَالِ عَلَیْہِنَّ دَرَجَةٌ وَاللہ عَزِیْزٌ حَکِیْمٌ ۔ “اور طلاق یافتہ عورتیں (تین مرتبہ ماہواری سے پاک ہونے تک )انتظار کریں اور اگر وہ اللہ اور روز آخرت پر یقین رکھتی ہیں تو ان کے لیے جائز نہیں کہ اللہ نے ان کے رحم میں جو کچھ رکھا ہے اسے چھپائیں ان کے شوہر اصلاح و سازگاری کے خواہاں ہیں تو عدت کے دنوں میں انہیں اپنی زوجیت میں واپس لینے کے پورے حق دار ہیں اور عورتوں کو بھی دستور کے مطابق ویسے ہی حقوق حاصل ہیں جیسے مردوں کے حقوق ان پر ہیں البتہ مردوں کو عورتوں پر برتری حاصل ہے اورا للہ بڑا غالب آنے والا حکمت والا ہے “۔( سورہ بقرہ: ۲۲۸) گویا بعد از طلاق عدت کے ایام میں مرد کو رجوع کا حق حاصل ہے لیکن رجوع سے مقصد اصلاح ہو باہمی اکٹھا رہنا ہو یہ خیال رہے کہ مردوں کی طرح عورتوں کے بھی حقوق ہیں ان کے حقوق کا خیال رکھا جائے ۔عدت وفات
جیسے طلاق کے بعد عدت کی ضرورت ہے اسی طرح اگر شوہر فوت ہو جائے تو بھی اسلام نے عدت کا حکم دیا ہے ارشاد رب العزت ہے: وَالَّذِیْنَ یُتَوَفَّوْنَ مِنْکُمْ وَیَذَرُونَ أَزْوَاجًا یَّتَرَبَّصْنَ بِأَنفُسِہِنَّ أَرْبَعَةَ أَشْہُرٍ وَّعَشْرًا فَإِذَا بَلَغْنَ أَجَلَہُنَّ فَلَاجُنَاحَ عَلَیْکُمْ فِیْمَا فَعَلْنَ فِی أَنفُسِہِنَّ بِالْمَعْرُوْفِ وَاللہ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ ۔ “اور تم میں جو وفات پاجائیں اور بیویاں چھوڑ جائیں تو وہ بیویاں چار ماہ دس دن اپنے آپ کو انتظار میں رکھیں پھر جب ان کی عدت پوری ہو جائے تو شریعت کے مطابق اپنے بارے میں جو فیصلہ کریں اسکا تم پر کوئی گناہ نہیں اور اللہ تمہارے اعمال سے خوب باخبر ہے “۔ ( سورہ بقرہ : ۱۳۴) ارشادِ رب العزت ہے: وَالَّذِیْنَ یُتَوَفَّوْنَ مِنْکُمْ وَیَذَرُوْنَ أَزْوَاجًا وَّصِیَّةً لِّأَزْوَاجِہِمْ مَّتَاعًا إِلَی الْحَوْلِ غَیْرَ إِخْرَاجٍ فَإِنْ خَرَجْنَ فَلَاجُنَاحَ عَلَیْکُمْ فِیْ مَا فَعَلْنَ فِیْ أَنفُسِہِنَّ مِنْ مَّعْرُوفٍ وَاللہ عَزِیْزٌ حَکِیْمٌ ۔ اور تم میں سے جو وفات پاجائیں انہیں چاہیے کہ بیویوں کے بارے میں وصیت کر جائیں ایک سال تک انہیں (نان و نفقہ سے) بہر ہ مند رکھا جائے اور گھر سے نہ نکا لی جائیں اگر وہ خود گھر سے نکل جائیں تو دستور کے دائرہ میں رہ کر جو بھی اپنے لیے فیصلہ کرتی ہیں تمہارے لیے کوئی مضائقہ نہیں اور اللہ بڑا غالب آنے والا ،حکمت والا ہے ۔( سورہ بقرہ : ۲۴۰) عدت کے اختتام کے بعد اگرعورت شادی کرنا چاہیے تودستور کے مطابق کر سکتی ہے کوئی مرد اس سے شادی کا خواہاں ہے تو شادی کے لیے خطبہ کر سکتاہے ۔ ارشاد رب العزت ہے: وَلاَجُنَاحَ عَلَیْکُمْ فِیْمَا عَرَّضْتُمْ بِہ مِنْ خِطْبَةِ النِّسَاءِ أَوْ أَکْنَنْتُمْ فِیْ أَنفُسِکُمْ عَلِمَ اللہ أَنَّکُمْ سَتَذْکُرُوْنَہُنَّ وَلَکِنْ لَّا تُوَاعِدُوْہُنَّ سِرًّا إِلاَّ أَنْ تَقُوْلُوْا قَوْلًا مَّعْرُوْفًا وَلَاتَعْزِمُوْا عُقْدَةَ النِّکَاحِ حَتّٰی یَبْلُغَ الْکِتَابُ أَجَلَہ وَاعْلَمُوْا أَنَّ اللہ یَعْلَمُ مَا فِیْ أَنفُسِکُمْ فَاحْذَرُوْہُ وَاعْلَمُوْا أَنَّ اللہ غَفُوْرٌ حَلِیْمٌ ۔ “اور اس میں کوئی مضائقہ نہیں کہ تم ان عورتوں کے ساتھ نکاح کا اظہار اشارے کنائے میں کرو یا اسے تم اپنے دل میں پوشیدہ رکھو اللہ کو تو علم ہے کہ تو ان سے ذکر کرو گے مگر ان سے خفیہ قول و قرار نہ کرو ہاں اگر کوئی بات کرنا ہے تو دستور کے مطابق کرو البتہ عقد کا فیصلہ اس وقت تک نہ کرو جب تک عدت پور ی نہ ہو جائے اور جان رکھو جو کچھ تمہارے دلوں میں ہے اللہ کو سب معلوم ہے لہذا اس ے ڈرو اور جان رکھو اللہ بڑا بخشنے والا ، بردبار ہے “۔( سورہ بقرہ :۲۳۵) عدت کے دنوں میں نکاح کرنے سے( خصوصا مقاربت بھی کرلی جائے) عورت ہمیشہ کے لیے حرام ہو جاتی ہے اصطلاح شرع میں اسے کہتے ہیں حرام موٴبد۔ لہٰذا انتظار ضروری ہے عدت ختم ہوجائے تو نکاح کر لیا جائے ۔ جس طرح عدت کے دوران نکاح حرمت ابدی کا باعث ہے اسی طرح شوہردار عورت کے ساتھ نکاح کرنا بھی حرمت ابدی کا موجب ہوتا ہے پس یہ جانتے ہوئے کہ یہ شوہردار ہے کوئی شخض اگر اس سے نکاح کرے تو وہ عورت ہمیشہ کے لیے اس شخص پر حرام ہو جائے گی ۔ طلاق خلع
عورت شوہر کو پسند نہیں کرتی اس سے شدید نفرت کرتی ہے اس کے ساتھ رہنے کو کسی صورت قبول نہیں کرتی تو طلاق کی مانگ عورت کی طرف سے ہوگی حق مہر کی واپسی یا کسی او ر چیز کے دینے پر مرد طلاق دے گا اس طلاق میں مردکو رجوع کا حق نہیں طلاق کی باقی عام شرئط موجود ہونی چاہئیں ۔ اس طلاق کا نام خلع ہے۔ ہاں البتہ عورت نے جوکچھ دیا ہے اگر اس میں رجوع کرتی ہے اور اپنی چیزیں واپس طلب کرتی ہے تومردکواس طلاق میں بھی رجوع کاحق حاصل ہوگا۔
 

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.