صحیح الاسناد احادیث میں متواتر کے اقسام

813

راویوں کی تعداد کے مطابق احادیث ہر طبقہ میں “متواتر” اور “واحد” میں تقسیم ہوتی ہیں- متواتر کا لفظ “وتر” یعنی واحد ہے اور “تواتر” پے در پے یا یکے بعد از دیگرے کے معنی میں ہے- چناچہ آیہ شریفہ : ” ثم ارسلنا رسلنا تتراً[1]” میں {اس کے بعد ہم نے اپنے رسولوں کو یکے بعد دیگرے بھیجا} “تترا” اسی معنی میں ہے[2]-
اصطلاح میں، متواتر روایت، ” وہ خبر ہے، کہ ہر طبقہ میں اس کے راویوں کا سلسلہ اس قدر ہو کہ ان کا جھوٹ پر توافق کرنا عام طور پر محال اور نا ممکن ہو اور ان کی خبر علم حاصل ہونے کا سبب بن جائے[3]-”
 
متواتر روایتیں اگرچہ تعداد میں کم ہیں، لیکن اہم اور با محتویٰ خبر کو بیان کرتی ہیں،مثال کے طور پر غدیر کی روایت کی صرف صحابہ کے طبقہ میں ۱۰۰ سے زیادہ افراد نے روایت کی ہے-
خبر متواتر کی قسمیں:
ایک لحاظ سے متواتر خبریں، “متواتر لفظی” اور “متواتر معنوی” میں تقسیم ہوتی ہیں-
متواتر لفظی، وہ خبر ہے کہ ” اس کے تمام راوی، اس کے مضمون کو ایک ہی قسم کے الفاظ سے نقل کریں[4]-” مثال کے طور پر یہ حدیث: ” من كذب عليّ متعمّدا فليتبوّء مقعده من النار[5]” کہ صحابیوں کی ایک بڑی تعداد نے اس حدیث کو نقل کیا ہے اور ان کی تعداد چالیس سے ساٹھہ تک بتائی گئی ہے[6]-
متواتر معنوی، وہ خبر ہے کہ “تمام راوی ایک ہی مضمون کو مختلف عبارتوں میں نقل کریں کہ ان کے معانی میں مطابقت کو تضمنی یا التزامی دلالت سے جانا جائے[7]‌-
متواتر حدیث کے لیے ایک اور تقسیم بھی ہے اور وہ تواتر تفصیلی اور تواتر اجمالی ہے- “تواتر تفصیلی” ، تواتر لفظی و تواتر معنوی پر مشتمل ہے، لیکن “تواتر اجمالی” اس صورت میں ہے کہ کئی روایتیں ایک موضوع میں نقل کی جائیں اور دلالت کے لحاظ سے یکساں نہ ہوں لیکن وہ روایتیں مشترک قدروقیمت کی حامل ہوں کہ ان کے مجموعے سے ان میں سے ایک کے صادر ہونے کے بارے میں قطع و یقین پیدا ہو جائے، مثال کے طور پر، خبر واحد کی حجیت کے بارے میں روایت کی گئی خبر[8]-
لیکن خبر واحد۔ ” وہ روایت ہے، کہ اس کے راوی تمام طبقات میں تواتر کی حد تک نہ پہنچے ہوں[9]- اس قسم کی روایتیں اکیلے ہی علم کے لیے مفید نہیں ہوتی ہیں، بلکہ دوسرے قرائن کی مدد ان کی حجیت کو ثابت کرسکتی ہے- اس لحاظ سے اگر کوئی روایت چند طبقوں میں تواتر کی حد تک پہنچے، لیکن صرف ایک طبقہ میں تواتر تک نہ پہنچی ہو، تو وہ خبر متواتر نہیں ہے، بلکہ خبر واحد شمار ہوگی، کیونکہ نتیجہ مقدمات کے طابع ہوتا ہے-خبر متواتر کے راویوں کی تعداد کے بارے میں شیعہ علماء نے کوئی معین تعداد ذکر نہیں کی ہے، بلکہ ان کے نزدیک تواتر کا معیار علم حاصل کرنے میں مفید ہونا ہے اور اس خبر کو متواتر جانتے ہیں، کہ سند کے لحاظ سے ہر طبقہ کے راویوں کی تعداد اس حد میں ہو کہ اس خبر کے امام{ع} سے صادر ہونے کے بارے میں علم و یقین پیدا ہو جائے اور دوسری جانب سے ان راویوں کا جھوٹ پر توافق کرنا ناممکن ہو- اس لحاظ سے متواتر لفظی ، متواتر معنوی اور متواتر اجمالی میں کوئی فرق نہیں ہے-
لیکن اہل سنت علماء خبر متواترہ کے بارے میں راویوں کی تعداد کو شرط جانتے ہیں اور اس سلسلہ میں مختلف اقوال پائے جاتے ہیں:
۱۔ قاضی ابی بکر باقلانی کا نظریہ یہ ہے کہ راویوں کی تعداد کم از کم چار ہونی چاہئیے-
۲۔ اصطخری کا نظریہ یہ ہے کہ راویوں کی کم از کم تعداد دس افراد ہونی چاہئیے-
۳۔ اہل سنت کے کئی علماء کا نظریہ ہے کہ راویوں کی کم از کم تعداد ۱۲ ہونی چاہئیے {یعنی بنی اسرائیل کے نقباء کی تعداد کے برابر}-
۴۔ ابو ھزیل علاف کا نظریہ ہے کہ راویوں کی کم از کم تعداد ۲۰ افراد ہونی چاہئیے-
۵۔ ایک اور نظریہ کے مطابق راویوں کی کم از کم تعداد ۴۰ افراد بتائی گئی ہے-
۶۔ ایک اور گروہ نے راویون کی کم از کم تعداد ۷۰ افراد بتائی ہے-
۷۔ آخری نظریہ، یہ ہے کہ راویوں کی کم از کم تعداد ۳۱۳ افراد، یعنی اصحاب بدر کی تعداد کے برابر ہونی چاہئیے[10]-
[1] مومنون، 44.
[2] راغب اصفهانی، مفردات الفاظ القرآن، ص 853.
[3] مامقانی، عبدالله، مقباس الهدايه، ج 1، ص 89 – 90؛ شهید ثانی، الرعاية في علم الدراية، ص 28.
[4] مقباس الهدايه، ج 1، ص 115.
[5] کافی، شیخ کلینی، ج 1، ص 62.
[6] الرعايه في علم الدرايه، ص 29.
[7] مقباس الهدايه، ج 1، ص 115.
[8] مودب، سيدرضا، علم الدرايه تطبيقي، ص 37؛ مقباس الهدايه، ج 1، ص 115.
[9] مقباس الهدايه، ج 1، ص 125؛ شهيد ثاني، الرعايه في علم الدرايه، ص 29.
[10] سبحانی‌، جعفر، اصول الحدیث و احكامه صص 25 – 35، مؤسسه النشر الاسلامی، 1420 ه ق.

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.