حضرت علی علیه السلام اور خطبه شقشقیه کی نسبت

162

لیکن یه بات بهت سے قرائن کی بنا پر باطل هے:
اولاً: خود سید رضی نے اس بات کا اظهار کیا هے که یه خطبات حضرت امیر علیه السلام سے منسوب هیں اور میں نے صرف ان کو جمع کیا هے، حالانکه خود سید رضی شیعه اور اهل سنت کے نزدیک ایک مورد اعتماد شخصیت هیں۔
دوسرے: یه که نهج البلاغه کے بهت سے خطبے دیگر حدیثی کتابوں میں بھی نقل هوئے هیں، جن میں سے یهی خطبه شقشقیه هے که جسے شیخ صدوق اور شیخ مفید نے نقل کیا هے که جو شیعوں کے بڑے محدث هیں اور تقریبا سید رضی کے هم عصر تھے، اس بنا پر یه بات کس طرح کهی جاسکتی هےکه نهج البلاغه سید رضی کی من گھڑت کهانی هے۔
لیکن جیسا که بعض لوگ یه کهتے هیں که خطبه شقشقیه میں خلفاء کو بُرا بھلا کها گیا هے، لیکن هم یه کهتےهیں که اس خطبه میں ایسی کوئی بات نهیں هے که جو بدگوئی اور ناسزا الفاظ شمار هوتے هوں، جو کچھ بھی بیان کیا گیا هے ان کے ناروا اور غلط کاموں کا ایک حصه هے که خلفاء نے خلافت کے دوران انجام دئے هیں، اس بنا پر اگر کوئی شخص اس خطبه کو قبول نه کرے تو وه بے جا تعصب اور جهالت کا شکار هوا هے۔
اس بنا پر یه بات کس طرح کهی جاسکتی هےکه نهج البلاغه سید رضی کی من گھڑت کهانی هے۔
 

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.