انتظار کی ضروریات

348

حرکت انتظار کا لازمہ ہے وہ کہ جنہوں نے اپنی باطنی عظمت کو درک کرلیا اور وہ جو حضرت ابراھیم کی طرح یہ کہتے ہیں ‘انی ذاھب الی ربی سیھدین'[1]
اور وہ جو ھدایت سے لبریز حرکت کے انجام کو سمجھتے ہیں وہ دھیرے دھیرے حق کی دائمی ھدایت سے مستفید ہوتے رہتے ہیں اور اپنے تمام وجودو ھستی سے آسمان پر نگاہیں لگائے اس ندا کو جاری رکھے ہوئے ہیں کہ ‘انی وجھت وجھی للذی فطر السموات والارض'[2]
یہی ان کا ورد زبان ہے اور یوں وہ ھادی امت کے ظہور کے انتظار میں ہیں
جو شخص کسی کے انتظار می ہوتا ہے وہ لاتعلق اور بے پرواہ نہیں رہ سکتا حضرت یعقوب علیہ السلام یوسف علیہ السلام کے منتظر تھے تو بیکار نہ بیٹھے تھے بلکہ اپنے بیٹوں سے فرماتے تھے جاؤ یوسف اور اس کے بھائی کو تلاش کرو اور خدا کی رحمت سے ناامیدی ظاھر نہ کرو(یا بنی اذھبوا فتحسوا من یوسف و اخیہ ولا تیائسوا من روح اللہ)[3]
یہی الفاظ حضرت مہدی عج کے بارے میں بھی وارد ہوئے ہیں کہ فرج کے منتظر رہو اور خدا کی رحمت سے ناامید نہ ہوجاؤ ‘انتظروا الفرج فلا تیأسوا من روح اللہ'[4]
لہذا انتظار کرنے والوں کے کچھ آداب اور ذمہ داریاں ہیں کیونکہ یہ انتظار کا خاصہ ہے کہ وہ منتظر کے حالات اور اس کے کردار و عمل پر تاثیر رکھتا ہے اب کچھ ان ذمہ داریوں کا ذکر کرتے ہیں:
(۱)اقبال:
صاحبان فکر کی یہ خصوصیت ہے کہ وہ اپنے اردگرد ہونے والے معمولی واقعات پر بھی توجہ رکھتے ہیں اور ہر واقعہ سے سبق حاصل کرتے ہیں امام کاظم علیہ السلام اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں ‘مامن شی تراہ عینک الا و فیہ موعظۃ'[5]
وہ چیز جسے تمہاری آنکھیں دیکھتی ہیں اس میں وعظ و نصیحت پنہاں ہوتا ہے وہ لوگ جو اپنی اور دوسروں کی زندگی پر خاص توجہ رکھتے ہیں وہ حضرت مہدی کی طرف سے کی گئی راہنمائی کو اپنی اور دوسروں کی بابت بخوبی سمجھ سکتے ہیں اور ان کی ظاھری اور غیبی امداد اور ان کے محبت آمیز حضور کو بآسانی محسوس کرسکتے ہیں وہ آپ کی طرف متوجہ ہوتے ہیں آپ کو بلاتے ہیں اور یہی ان کا ورد زبان رہتا ہے کہ ‘انا توجھنا واستشفعنا و توسلنا بک الی اللہ'[6]
اقبال کا مفہوم:
اقبال کے مفہوم اور خبردار رہنے میں دو نکات اہم ہیں:
پہلا معنی: توجہ کرنا اور اپنے محبوب پر دل نچھاور کرنا ہے اس کی عظمت ، جمال، ھیبت، ادراک اور تمام خواہشات اور آرزؤں کو اس کے وجود میں پانا تاکہ اس ذریعہ سے اس کی اطاعت کی جاسکے اور پیچ و خم راہوں سے اس کی ہمراہی میں منزل مقصود تک پہنچا جاسکے [7]
امام مہدی سے لو لگانے کا یہی مطلب ہے اور اس مقصد تک رسائی کے لئے چند عناصر بہت اہم ہیں:
(۱)معرفت:امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: ‘من بات لیلۃ لا یعرف فیھا امام زمانہ مات میتۃ جاھلیۃ؛’ جو بھی رات گذارے اور اس رات میں اپنے وقت کےامام کی معرفت نہ رکھتا ہو تو وہ جاھلیت کی موت مرا ہے[8]
(۲)حجت اور عنایت کا تجربہ
(۳)دوسرے لوگوں میں کمزوریوں اور کم ظرفیوں کا تجربہ۔
(۴)ناکامیوں اور مشکلات کا تجربہ
۱۔معرفت:
قلبی توجہ، معرفت اور محبت کے احساس سے جنم لیتی ہے یہی وجہ ہے کہ ہر شیعہ کی سب سے اہم ذمہ داری امام زمانہ عج کے وجود کی معرفت کا حصول ہے اور اس مسئلہ کی اہمیت اس قدر زیادہ ہے کہ اس کا ذکر شیعہ و سنی روایات میں آیا ہے۔
۲۔محبت و عنایت اور دوسروں کے ضعف اور ناکامیوں کا تجربہ:
جن افراد نے اس دنیا میں دوسرے راہنماؤں کو آزمایا ہے اور ان کے ضعف اور کمزوریوں سے آشنا ہوئے ہیں وہ جب زبان وحی سے یہ سنتے ہیں کہ ہمارا ولی اور امام ہم سے بھی بڑھ کر ہم پر مہربان اور شفیق ہے تو ان کی تمام توجہ اس طرف معطوف ہوجاتی ہے، (امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: ‘واللہ لانا ارحم بکم منکم بانفسکم’ خدا کی قسم میں تمہاری بابت تم سے زیادہ تم پر مہربان ہوں) [9]
اور اس حد تک ان کے احساسات بڑھ جاتے ہیں کہ اپنے چھوٹے سے چھوٹے عمل میں بھی ان کو ترجیح دیتے ہیں جیسے صدقہ دینا وغیرہ (سید ابن طاؤس اپنے فرزند کو ایک شیعہ مسلمان کے اپنے امام زمانہ عج کی بابت آداب اور ذمہ داریاں بتاتے ہوئے فرماتے ہیں آنحضرت کی طرف سے صدقہ دینے کو اپنے اور اپنے عزیز و اقارب پر ترجیح دو اور اپنے لئے دعا کرنے سے پہلے آنحضرت کے لئے دعا کرو اور ہر وہ کام جو آنحضرت کے حق سے وفا کے زمرے میں آتا ہو اس میں انہیں ترجیح دو کیونکہ یہ چیز باعث بنے گی کہ وہ تمہاری طرف توجہ کریں اور تم پر احسان فرمائیں)[10]
اور اس سے پہلے کہ وہ اپنی سلامتی کی پرواہ کرے ان کی سلامتی اور رفع بلا کا خواہاں ہوتا ہے حتی کہ انہیں اپنے وجود پر مقدم کرتا ہے اور اپنے سے اولی سمجھتا ہے[11]
عن الحسین بن علی علیہ السلام قال قال رسول اللہ لعلی علیہ السلام انا اولی بالمومنین منھم بانفسہم ثم انت یا علی اولی بالمومنین من انفسہم ثم۔ ۔ والحجۃ بن الحسن اولی بالمومنین من انفسہم۔
یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ ایسے غائب مہربان سے محبت نہ کی جائے جو ہماری نسبت شفیق اور مشکلات بلاؤں کی دوری کا سبب ہیں۔
‘انا خاتم الاوصیاء وبی یرفع اللہ البلاء عن اھلہ و شیعتہ’ خدا میرے وسیلہ سے میرے خاندان اور میرے شیعوں سے مصیبتوں کو دور کرتا ہے [12]
اور اہل زمین کی امان کا باعث ہے [13]
وہ ہمارے غم میں غمگین اور ہماری خوشی سے مسرور ہوتے ہیں اور ہمارے شیعوں کے حالات سے واقف ہیں اگرچہ وہ زمین کے مشرق میں آباد ہوں یا مغرب میں(امام رضا علیہ السلام نے فرمایا ما من احد من شعیتنا ولا تغتم الا اغتممنا لغمہ ولا یفرح الا فرحنا لفرحہ ولا یغیب عنا احد من شیعتنا (ما) کان فی شرق الارض و غربھا و من ترک من شیعتنا دینا فہو علینا )
ہمارے شیعوں میں سے جب بھی کوئی غمگین ہوتا ہے تو ہم بھی غمگین ہوجاتے ہیں اور ان کی خوشی سے خوش ہوتے ہیں اور ان میں کوئی بھی چاہے مشرق میں ہو یا مغرب میں ہماری نظر کرم سے دور نہیں، ہمارے شیعوں میں جو بھی فوت ہوجانے کے بعد مقروض ہو تو اس کی ادائیگی ہمارے اوپر ہے[14]
ناکامیوں اور مشکلات کا تجربہ:
حضرت مہدی(عج) کی طرف توجہ کرنے کے لئے ناکامیوں اور مشکلات سے گذرنے کی ضرورت ہے اور وہ شخص جو ابھی تک دنیا، مال و ثروت اور بیوی بچوں سے دل باندھے ہوئے ہے اس کی امام مہدی کے خیمہ میں کوئی جگہ نہیں ہے۔
یہ جاننا ضروری ہے کہ اموال اور اولاد فتنہ نہیں ہیں بلکہ ان سے وابستہ ہونا فتنہ ہے انسان اور مال کی مثال کشتی اور پانی کی سی ہے پانی اگر کشتی کے اندر آجائے تو ہلاکت کا باعث ہے اسی طرح اگر مال بھی دل سے باہر رہے تو اچھا وسیلہ ہے جیسا کہ پانی اگر کشتی سے باہر رہے تو کشتی کی حرکت کے لئے بہترین وسیلہ ہے لیکن اگر مال کی محبت دل کے اندر آجائے تو یہ ہلاکت کا سبب ہے[15]
زھد، آزادی ہے، ہر اس چیز سے آزادی جو انسان کو کسی شی سے وابستہ کردے امام زمانہ (عج) کا انتظار کرنے والا وہ آزاد انسان ہے کہ جس سے اگر کوئی چیز لے لی جائے یا دے دی جائے اس کے مزاج میں کوئی فرق نہیں پڑتا(علی علیہ السلام فرماتے ہیں: ‘الزھد کلہ بین کلمتین من القرآن قال اللہ تعالی لکیلا تأسوا علی ما فاتکم ولا تفرحوا بما اتاکم ومن لم یاس علی الماضی ولم یفرح بالآتی فقد اخذ الزھد بطرفیہ’ زھد قرآن کے دو جملوں میں خلاصہ ہوجاتا ہے جو کچھ تم سے لے لیا گیا اس پر افسوس نہ کرو اور جو کچھ تمہیں دیا گیاہے اس پر خوشی نہ کرو جو بھی اپنے ماضی پر افسوس نہ کرے اور جو کچھ اس کے ہاتھ آئے اس پر خوش نہ ہوتو وہ دونوں طرف سے زھد تک پہنچ گیا)[16]
حضرت مہدی (عج) کا انتظار کرنے والا دنیا پر قانع نہیں ہوتا بلکہ وہ اس سے عظیم مقام کا طلبگار ہوتا ہے اس کی تیز نگاہوں میں دنیا بڑی نہیں بلکہ بہت چھوٹی ہے[17]
دوسرا معنا یہ ہے کہ آپ ع کی طرف توجہ کرنا تاکہ محبوب کے قریب ہوا جائے اور اس حضور اور قرب سے عزت افزائی ہو اور ایسی عظمت ، مقبولیت اور شرافت کو کسب کیا جائے جو عام طور پر قطعا حاصل نہیں ہوتا لوگ اپنی زندگی میں اس چیز کے درپے رہتے ہیں کہ کوئی نہ کوئی سماجی حیثیت کسب کرسکیں اور اس کے لئے وہ بہت زحمات اٹھاتے ہیں تاکہ اس بامقصد ھدف تک رسائی حاصل کرسکیں وہ لوگ جو معرفت کے بلند درجات پر فائز ہوئے اور انسانی اقدار کو پہچاننے میں کامیاب ہوئے اور اپنی اعلی صلاحیتوں تک پہنچے وہ عزت و آبرو کو کہیں اور تلاش کرتے ہیں وہ عزت و وقار کو امام حسین علیہ السلام کے ہاں جستجو کرتے ہیں اور یہ دعا کرتے ہیں کہ : ‘اللھم اجعلنی عندک وجیہا بالحسین علیہ السلام فی الدنیا والاخرۃ'[18]
جس کے نتیجہ میں خدا ان کا خریدار ہوجاتا ہے، حق کی بارگاہ میں عزت و وقار انہیں ہی ملتا ہے جو خدا کے علاوہ ہر چیز سے روگردانی اختیار کریں یہی وجہ ہے کہ انتظار کرنے والا مومن اپنی توجہ کو اس راہ میں مرکوز کرتا ہے اور اس مقام تک پہنچتا ہے کہ ہر زمانہ کے افراد سے افضل ہونے کا لقب حاصل کرلیتا ہے ‘المنتظرون لظہورہ افضل کل زمان۔ ۔ ۔ ۔'[19]
۲۔میثاق:
الذین یوفون بعہد اللہ ولا ینقضون المیثاق[20]
وہ لوگ جو خدا سے ایفائے عہد کرتے ہیں اور اپنے وعدوں کو نہیں توڑتے انہی لوگوں کے بارے میں بہت سی روایات بھی آئی ہیں امام صادق علیہ السلام سے روایت ہے کہ ‘نحن ذمۃ اللہ و عہد اللہ فمن وفی بعہدنا فقدوفی بعہد اللہ ومن حفرھا فقط حفراللہ وعہدہ’ ہم خدا کا عہد ہیں جس نے بھی ہمارے ساتھ ایفائے عہد کیا اس نے خدا سے پیمان کو ادا کیا اور جس نے ہمارا عہد توڑا اس نے خدا کے عہد کو توڑا [21]
انتظار کرنے والا شخص اپنی باطنی توجہ کے ساتھ اپنے اور حجت خدا کے درمیان تعلق کو مضبوط کرتا ہے اور اس قدر عروج پر پہنچ جاتا ہے کہ نہ صرف اسے ان سے کوئی توقع نہیں ہوتی بلکہ یہ عہد کرلیتا ہے کہ اپنے تمام مال و دولت ، خاندان اور ہر وہ شی جو خدا نے اسے عنایت کی ہے اسے اپنے محبوب کی راہ میں خرچ کردے اور یہ اس کا ورد زبان بن جاتا ہے کہ جسے اپنے امام زمانہ عج سے بیان کرتا ہے کہ ‘وابذل مالی و اھلی و نفسی۔ ۔ ۔ ‘[22]
پس میں اپنا مال و دولت ، خاندان اپنی ہستی اور ہر وہ چیز جو خدا نے مجھے عطا کی ہے اسے آپ کی راہ میں قربان کردوں گا اور یہ میرا عہد اور آپ سے میثاق ہے کیونکہ آپ دین کا نظام اور دنیا کے پرہیزگاروں کے امام ہیں۔
اور وہ جانتے ہیں کہ جو کچھ ہمارے پاس رہ جائے گا وہ فنا ہونے والا ہے اور جو کچھ ولی کے پاس چلا جائے گا وہ باقی رہے گا ‘ماعندکم ینفد وما عنداللہ باق'[23]
اگر تم چاہتے ہو کہ جو کچھ خدا نے تمہیں دیا ہے وہ اس کی راہ میں قربان کرو تو یہ فداکاری تمہارے مال و دولت کو بربادی سے محفوظ کرلیتی ہے کیونکہ یہ کیسے ممکن ہے کہ اگر ایک مومن کو قرض دیا جائے تو یہ مال میں کثرت اور دوگنا ہونے کا سبب ہے اور اگر ولی خدا کی راہ میں خرچ کیا جائے اور انہیں دیا جائے تو ایسا نہ ہو؟ حقیقت میں وہ مومن جو منتظر ہے وہ اپنے اس کام کے ذریعہ تجدید بیعت کرتا ہے[24]
جو بھی اس حالت میں مرجائے کہ مسلمانوں کے امام کی بیعت اس کے ذمہ ہو تو وہ جاھلیت کی موت مرا۔
حضرت امام عصر سے تجدید بیعت کا بہترین نمونہ دعائے عہد ہے امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں جو بھی چالیس صبح اس دعا کو پڑھے وہ حضرت قائم کے اصحاب میں سے ہوگا اگر وہ آپ کے ظہور سے پہلے مرجائے تو خداوند اسے زندہ کرے گا تاکہ آپ کے شانہ بشانہ جہاد کرسکے[25]
انسان اس تجدید عہد کے ذریعے یہ عہد کرتا ہے کہ ہر قسم کے انحراف اور سستی سے پرہیز کرے گا امام عصر کے لئے طولانی غیبت ہے اور اس زمانہ غیبت میں ہر ایک کو چاہئے کہ تقوا اختیار کرے اور دین کا پابند رہے۔[26]
اگر مومنین، خدا سے کئے گئے میثاق کے پابند رہیں تو یقینا ظہور کا وقت آجائے گا اور کیا ہی اچھا ہو کہ ہم ان کی خوبصورت ندا پر لبیک کہہ سکیں آپ نے فرمایا:
‘لو اشیاعنا وفقہم اللہ لطاعتہ علی اجتماع من القلوب فی الوفاء بالعہد علیھم لما تاخر عنہم الیمن بلقائنا۔ ۔ ۔ ‘[27]
اگر ہمارے شیعہ کہ خدا ان کو توفیق دے وہ ایفائے عہد جو ان کے ذمہ ہے اس پر متحد ہوجاتے تو ہماری ملاقات کی برکت میں اتنی تاخیر نہ ہوتی۔
لہذا جب تک ہم آنحضرت کی خدمت میں فیض یاب ہونے کی صلاحیت پیدا نہیں کرلیتے اس وقت تک آپ کے دیدار سے بہرہ مند نہیں ہوسکتے امام ہماری تیاری اور مخلصانہ تجدید عہد کے منتظر ہیں جس کے ساتھ ہی مسرت اور انس و رضایت بھی آئے گی۔
۳۔پناہ گاہ:
منتظر انسان نے جب اپنی سنگین ذمہ داریوں کا احساس کرلیا اور اس نتیجہ پر پہنچا کہ حرکت کرنا ضروری ہے کیونکہ توقف مترادف ہے خرابی اور فاسد ہونے کے لہذا وہ موانع اور رکاوٹوں سے ٹکرا جاتا ہے جو اس کے راستہ میں جگہ جگہ پر موجود ہیں اور وحشت کا باعث بنتی ہیں ایسی صورت میں کسی ایسی پناہ گاہ کی ضرورت ہوتی ہے جو اسے اس مشکل سے رہائی عطا کرے اب یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کس کی پناہ میں جائیں ؟ کس سے بات چیت کریں کس سے اپنے دل کا حال بیان کریں؟
اس کے جواب میں یہی کہا جائے گا کہ یہ انس و محبت امام معصوم (ع) اور اس کے ظہور کے انتظار کے علاوہ کس سے ہوسکتا ہے امام رضا علیہ السلام فرماتے ہیں الامام الانیس الرفیق والوالد الشفیق[28]
امام سجاد علیہ السلام کے دلنشین کلام میں بھی اس حقیقت کو بیان کیا گیا ہے ‘انتظار الفرج من اعظم الفرج'[29]
انتظار فرج سب سے بڑی کشادگی ہے وہ دل جنہوں نے رنج اٹھائے معاشرتی مظالم کا مشاھدہ کیا اور ہر وہ قطرہ خون جو ایرانی ، فلسطینی، لبنانی اور افغانی و۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کی مظلوم رگوں سے ٹپکا اور ہر وہ تازیانہ جو مجاھدین کی پشت پر لگااور وہ اس کے گواہ رہے اور اسی طرح تمام لوگوں اور دنیا کے سامنے اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرتے رہے ان کے پاس حضرت مہدی عج سے ارتباط قائم کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہے۔
۴۔توسل:
اے دلبندفاطمہ! ہم نے غفلت کی اور متوجہ نہ ہوئے اور غافلانہ اور جاھلانہ انداز سے آپ کو اپنے ہاتھ سے کھو بیٹھے آج آپ کے ہجران میں ہماری زندگی کے لمحات سخت خشکسالی کا شکار ہوچکے ہیں عرصہ زندگی ہم پر تنگ ہوچکا ہے اور ہم انتہائی شرمندگی سے تمہاری بارگاہ میں ہاتھ پھیلائے یہی عرض کررہے ہیں کہ ‘یا ایھا العزیز مسنا و اھلناالضرر و جئنا ببضاعۃ مزجاۃ فاوف لنا الکیل و تصدق علینا ان اللہ یجزی المتصدقین'[30]
فرزندان انتظار نے اس منجیء غائب کی غیبت کی حکمت کو درک کرلیا ہے اور اسے معاصر تہذیب کے مہدویت تہذیب سے فاصلے کا پیش خیمہ قرار دیا ہے اور آپ کے حضور کے لئے تیاری کا نہ ہونا اس امام کی دوری کا باعث بنا ہے وہ بخوبی سمجھ سکتے ہیں کہ انہیں جیسا ہونا چاہئے تھا اور وہ جیسے ہیں ان کے مابین فاصلہ ایک زندگی کا فاصلہ ہے جسے وحیانی راھنمائی اور آپ کے مقدس وجود سے توسل کئے بغیر کم نہیں کیا جاسکتا انہوں نے اس بات کو بھانپ لیا ہے کہ توسل تقرب ہے اور محبوب و معبود تک پہنچنے کا بہترین وسیلہ ہے ‘وابتغوا الیہ الوسیلۃ'[31]
اس بات کو سمجھنا ضروری ہے کہ اھل بیت انبیاء کے تقرب کا بھی ویسلہ ہیں [32]
عقلی بنیاد پر بھی اگر دیکھا جائے تو ہر مقصد تک رسائی کے لئے وسیلہ کی تلاش ضروری ہے لیکن ہر وسیلہ ایک خاص مقصد کے لئے بنایا گیا ہے امام تقرب کا وسیلہ ہے نحن الوسیلۃ الی اللہ[33]
ھدایت کا ذریعہ [34]
رضا و رضوان کا وسیلہ دعائے ندبہ میں آیا ہے و جعلتہم الذرایع الیک والوسیلۃ الی رضوانک[35]
اورموعود بہشت تک پہنچنے کا ذریعہ ہے (سید الساجدین کی روز عرفہ کی دعا میں وارد ہوا ہے کہ وجعلتھم الوسیلۃ الیک والمسلک الی جنتک)
یہ بات ٹھیک ہے کہ طعام کے لئے نمک کی بھی انہی سے درخواست کی جائے لیکن جب اس سے عظیم چیزوں کی درخواست کا راستہ ھموار ہوتو پھر حقیر چیزوں کے لئے توسل کرنا بجا نہ ہوگا اگرچہ وہ لوگ جو عظیم نعمات تک رسائی حاصل کرلیتے ہیں اور نظام ھستی سے ھم آھنگ ہوجاتے ہیں کائنات بھی ان سے ہم آھنگ ہوکر ان کی حقیر حاجات کو بھی برلاتی ہے کیا ہی اچھا ہے کہ اس حوالے سے ایک حدیث کا سہارا لیا جائے کہ جن ایام میں زمین اپنے آخری نبی کے ظہور کا جشن منارہی تھی اس وقت جب بے آب و گیاہ سرزمین میں رحمت کے بیج بوئے جارہے تھے جب عقیدہ کی سری اور آشکار دعوت کا منصوبہ بنایا جارہا تھا اس سرزمین میں جب بتوں طاغوتوں اور خودپرستوں سے پنجہ آزمائی کی تیاری ہورہی تھی اور اس دوران جب جزیرہ نمائے عرب میں دینی حاکمیت کا مزہ چکھا جارہا تھا اور رسول اسلام (ص) چاہتے تھے کہ ان لوگوں کی آرزوؤں، امیدوں اور درخواستوں کو آسمان جیسی عظمت عطا کریں اور ان ایام میں کہ جب ۔ ۔ ۔ ۔؛
امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں: اس زمانے میں طائف کا ایک شخص جس کے پاس دوران جاھلیت میں رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ مہمان بنے تھے اور اس نے آپ کا بہت احترام کیا تھا اس کو لوگوں نے کہا تجھے یاد ہے جو شخص اس دن طائف میں تمہارا مہمان بنا تھا وہی رسول ہے جو اس مقام پر فائز ہوا ہے وہ شخص تہی دست اور غریب تھا اسے لوگوں نے تیار کیا کہ وہ پیغمبر (ص) کی خدمت میں آئے اور آپ سے کوئی مطالبہ کرے اس نے بہت سوچا کہ آپ (ص) سے کس چیز کی درخواست کروں پھر کہا: یا رسول اللہ مجھے پہچانتے ہو؟ آپ (ص) نے فرمایا تم کون ہو ؟ اس نے کہا: میں وہی ہوں کہ جس کےپاس آپ اس دن مہمان بنے تھے اور۔ ۔ ۔ ؛ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ نے فرمایا: مرحبا کیا چاہتے ہو؟ اس نے بہت سوچا اور عرض کیا دوسو بھیڑیں چرواہے کے ساتھ۔ آنحضرت نے سوچا اور سرجھکایا پھر فرمایا اس کو دے دیجئے پھر آپ نے اصحاب کی طرف رخ کیا اور افسوس کے ساتھ فرمایا کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ اس شخص کا حوصلہ اس بوڑھی یہودی عورت سے بھی کم ہے اصحاب نے عرض کیا ماجرا کیا ہے؟ آنحضرت نے فرمایا: جب میرے بھائی موسیٰ (ع) مصر سے شام کی مقدس سرزمین کی طرف ھجرت کرنا چاہتے تھے تو وحی ہوئی کہ حضرت یوسف کا جنازہ بھی اپنے ساتھ لے جاؤ موسی کو مامور کیا گیا تھا کہ کسی ایسے شخص کو ڈھونڈے جو اس جنازہ کے مقام سے آگاہ ہو حضرت موسی کو کہا گیا کہ اگر کوئی اس جگہ کو جانتا ہے تو وہ بنی اسرائیل کی فلاں بوڑھی عورت ہے موسی نے اسے بلوا بھیجا جب وہ آگئی تو موسی نے کہا تم جانتی ہو کہ وہ جنازہ کہاں ہے اس نے کہا جی ہاں ! موسی نے کہا تم جو چاہو تمہیں دیا جائے گا اس کا مقام بتاؤ اس نے کہا میں اس وقت تک نہیں بتاؤں گی جب تک میری تمام درخواستوں کو قبول کرو موسی نے کہا جنت چاہئے اس نے کہا وہی جو میں نے کہا ہے موسی متحیر ہوگئے تو وحی آئی کہ قبول کرلو تم نے نہیں دینا ہم دیں گے موسی نے کہا قبول ہے بوڑھی عورت نے کہا میری درخواست یہ ہے کہ روز قیامت جنت میں تمہارے ساتھ رہوں جو تمہارا رتبہ اور مقام ہے وہی میرا بھی ہو۔ ؛ پھر رسول خدا نے ٹھنڈی سانس لی اورفرمایا اس کی درخواست کا کیا ہوا اس کی درخواست اس بوڑھی عورت کی طرح نہ تھی کیا ہوا اس شخص کی ہمت اور حوصلہ اس بوڑھی عورت سے بہت کم تھا[36]
کیا ہم بھی اسی طرح نہیں ہیں؟ کیا ہمارے مطالبات اور خواہشات اسی بنیاد پر نہیں ہیں جی ہاں ولی خدا سے زراعت، تجارت، فرزند وغیرہ کی درخواست کی جاسکتی ہے اور وہ بھی جود و سخا کے خاندان سے متعلق ہیں اور انسان یقینا توسل کے نیتجہ میں بہرہ مند ہوتا ہے لیکن انسان پھر اس سے زیادہ مستفید ہونا، ہاتھ سے کھو بیٹھتا ہے ہر وسیلہ سے اس کی طاقت کے مطابق مطالبہ کرنا چاہئے حجت خدا سے ایسی چیز کا مطالبہ کیا جائے جو دوسروں سے حاصل نہ ہوسکے حوزہ علمیہ کے مسائل کے بارے میں ایک استاد فرما رہے تھے کہ مرجع تقلید کا اصلی کام مسجد ، مدرسہ اور ہسپتال بنانا نہیں بلکہ یہ کام ایک ثروت مند بھی انجام دے سکتا ہے مرجع تقلید کا کام عالم ، عادل اور عاقل کی تربیت کرنا ہے اور یہ وہ کام ہے جو دوسرے لوگ نہیں کرسکتے لہذا ہرکسی سے اسی کام کے حوالے سے توسل کیا جائے جس کے لئے وہ طاقت رکھتا ہو[37]
جی ہاں وہ خود ہی اپنی پہچان ہیں وہ عقول اور افکار میں انقلاب بپا کرسکتے ہیں ‘لیثیروا لہم دفائن العقول’،[38]
وہ انسان کو درپیش مشکلات کو دور کرسکتے ہیں تاکہ وہ صحیح راہ پر گامزن ہوسکے[39]
‘یضع عنھم اضرھم والاغلال التی کانت علیھم پیغمبر اسلام نے فرمایا: بالمھدی یخرج ذل الرق من اعناقکم۔ ۔ ۔ ‘،[40]
حضرت مہدی کے دست مبارک سے غلامی کی زنجیریں ٹوٹیں گی اور تم سب آزاد ہوجاؤگے۔
دنیاکے شرق و غرب جس طرف بھی جاؤ ھدایت صرف انہی کے پاس ہے’شرقوا لو غربہا’ ایک دوسری عبارت میں آیا ہے ‘فلیشرق الحکم والیغرب اما واللہ لا یصیب العلم الا من اھل البیت’،[41]
خدا نے اپنی عزت اور جبروت کی قسم کھا کر کہا ہے کہ اگر کوئی ایسی عبادت کرے جیسے چربی دیگ میں پگھل جاتی ہے تو پھر بھی اس سے قبول نہ کرے گا مگر صرف اس راستے سے جس کا اس نے حکم دیا ہے کہ اسے پکارا جائے
(عن ابی عبداللہ علیہ السلام: قال عبداللہ حبر من احبار بنی اسرائیل حتی صار مثل الخلال فاوحی اللہ عزوجل الی نبی زمانہ قل لہ وعزتی و جلالی وجبروتی !لو انک عبدتنی حتی تذوب الالیۃ فی القدرما قبلت منک حتی تاتینی من الباب الذی امرتک)[42]
(۵)آمادہ اور تیار رہنا:
انتظار کرنے والا مومن بے کار نہیں رہتا بلکہ ھمیشہ تیاری میں رہتا ہے جس طرح یعقوب کے اندر حضرت یوسف کے کرتے نے انقلاب بپا کردیا تھا مفضل بن عمر کہتا ہے میں نے امام صادق علیہ السلام سے سنا ہے کہ آپ فرما رہے تھے کیا تم جانتے ہو کہ حضرت یوسف کا کرتا کیا تھا میں نے عرض کیا نہیں آپ نے فرمایا: جب حضرت ابراھیم کے لئے آگ جلائی گئی تو جبرائیل ان کے لئے ایک کرتا لے کر آئے جو انہیں پہنایا تاکہ سردی اور گرمی انہیں نقصان نہ پہنچا سکے جب ان کی وفات کا وقت آیا تو انہوں نے اسے دعا کی طرح تعویز میں رکھا اور اسحاق پر آویزاں کردیا اور انہوں نے حضرت یعقوب کو دیا اور جب حضرت یوسف پیدا ہوئے تو یہ انہیں دیا گیا اور ان کے بازو پر باندھ دیا اور معاملہ یہاں تک پہنچا کہ جب یوسف نے اسے مصر میں تعویز سے باہر نکالا تو حضرت یعقوب نے اس کی خوشبو کو محسوس کرلیا خدا کے کلام میں اس کی حکایت کی گئی ہے کہ اگر مجھے غلطی کی طرف نسبت نہ دو تو میں یوسف کی خوشبو محسوس کررہا ہوں اور یہ وہی کرتا تھا جو جنت سے لایا گیا تھا میں نے عرض کیا میں آپ پر قربان ہوجاؤں یہ کرتا پھر کس کے ہاتھ آیا ؟ آپ نے فرمایا اس کے اہل افراد کے پاس ہے اور وہ جب ہمارے قائم ظہور کریں گے تو ان کے ساتھ ہوگا پھر فرمایا ہر نبی نے علم یا کوئی اور چیز وراثت میں لی وہ سب کی سب محمد(ص) تک پہنچی ہیں[43]
وہ لوگ جو اپنے محبوب کے منتظر ہوتے ہیں محبوب کی معمولی نشانی بھی ان پر گہرے اثرات چھوڑتی ہے تاریخ میں موجود ہے کہ حضرت یوسف کے کرتے نے یعقوب کے روح و بدن پر اثر کیا اور ان کی نابینائی بینائی میں تبدیل ہوگئی اور ان کی روح شاد ہوگئی ۔
زندگی کے تمام پہلوؤں میں تیاری اور آمادگی زمانہ غیبت میں ایک اہم ذمہ داری ہے (کیونکہ اس بارے میں مفصل بحث انتظار کے مختلف پہلوؤں کے ذیل میں ہوچکی ہے لہذا اسے دھرانے کی ضرورت نہیں) مومن منتظر ہمیشہ حکومت حضرت مہدی کے لئے حالات فراھم کرنے کے لئے کوشاں ہے ‘ویوطئون للمھدی سلطانہ’،[44]
انتظار کرنے والا اپنے آپ کو جنگی تربیت اور مناسب اسلحہ فراھم کرنے کے ساتھ امام زمانہ کی نصرت کے لئے تیار کرتا ہے شیخ کلینی نے امام کاظم علیہ السلام سے نقل کیا ہے کہ جو بھی ہمارے انتظار میں گھوڑے کو تیار کرے اور اس ذریعہ سے ہمارے دشمنوں کو غضبناک کرے کیونکہ اس کی نسبت ہمارے ساتھ ہے خداوند اس کے رزق میں برکت عطا کرے گا اور اسے شرح صدر عطا کرے گا اور اسے اپنی آرزو تک پہنچائے گا اور اس کی حاجات پوری ہوں گی[45]
کس طرح تیاری کی جائے یہ امر، زمانہ اور حالات کا مرھون منت ہے اگر روایات میں گھوڑے اور تلوار کی بات آئی ہے تو یہ بطور مثال ہے اور اس کا مقصد یہ ہے کہ آخری حجت حق کی نصرت کے لئے اپنے آپ کو تیار کیا جائے لہذا بطور کلی کہا جاسکتا ہے کہ انتظار کی تہذیب ایک ایسی تہذیب اور ثقافت ہے جس میں سماج کو حاکمیت الھی کے آزادانہ اختیار کا حق حاصل ہے اور اس میں منتظرین کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی دینی آزادی کے لئے حالات فراھم کریں۔
[1] ۔صافات ۹۹
[2] ۔انعام ۷۹
[3] ۔یوسف ۸۷
[4] ۔بحارالانوار، ج۵۲ ص۱۲۳
[5] ۔امالی صدوق ص۵۹۹، بحار الانوار ج۷۱، ص۳۲۴، ح۱۴
[6] ۔مفاتیح الجنان دعای توسل
[7] ۔آنحضرت سے رابطہ قائم کرنا اس قدر اہمیت رکھتا ہے کہ اس کا حکم ہوا ہے یا ایھا الذین امنوا اتقوا و صابروا و رابطوا آل عمران ۲۰۰ امام باقر علیہ السلام اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ واجبات کی ادائیگی کی پابندی کرو اوردشمنوں کے مقابلہ میں مضبوط رہو اور اپنے امام سے مستحکم رابطہ رکھو التحصین و صفات العارفین احمد بن محمد بن مھد حلی ترجمہ سید علی جبار گلباغی ص ۳۳ ۔۵۲
[8] ۔الغیبۃ نعمانی ص۱۲۷ ج۱
[9] ۔میکال المکارم ج۱ ص۹۳، ۹۴
[10] ۔مکیال المکارم ج۲ ص۲۸۸،۲۹۷،۳۵۱،۳۵۷
[11] ۔مکیال المکارم ج۱ ص۳۹، ح۵۱،
[12] ۔کمال الدین ج۲ ص۴۴۱ ح۱۲، بحارالانوار ج۵۲ ص۲۵و ۳۰
[13] ۔بحارالانوار ج۵۳ ص۱۸۱، کمال الدین ج۲ باب۵۰، ح۴
[14] ۔مکیال المکارم ج۱ ص۴۵۴
[15] ۔سورہ مبارکہ انفال کی آیت ۲۸ انما اموالکم و اولادکم فتنۃکے ذیل میں آیت اللہ جوادی آملی کے تفسیری نکات
[16] ۔نہج البلاغہ ترجمہ محمد دشتی حکمت ۴۳۹
[17] ۔توبہ ۳۸ فما متاع الحیوۃ الدنیا فی الاخرۃ الا قلیل
[18] ۔مفاتیح الجنان زیارت عاشورہ
[19] ۔بحارالانوار ج۵۲ ص۱۲۲
[20] ۔الرعد ۱۹
[21] ۔ میکال المکارم ج۱ ص۳۹۵
[22] ۔مفاتیح الجنان زیارت دوم حضرت صاحب العصر
[23] ۔النحل ۹۶
[24] ۔صحیح مسلم ج۳ ح۱۴۷۸
[25] ۔الاختصاص ، مفید ص۷۲، ۷۳
[26] ۔الغیبۃ نعمانی بحارالانوار ج۵۲ ص۱۳۵
[27] ۔احتجاج طبرسی ج۲ ص ۴۹۷
[28] ۔کافی ج۱ ص۲۰۰باب نادر فی فضل امام
[29] ۔بحارالانوار ج۲ ص۱۲۲
[30] ۔یوسف ۸۸
[31] ۔مائدہ ۳۵
[32] ۔بحارالانوار ج۹۱، ص ۲۷
[33] ۔میکال المکارم ج۱ ص ۳۵۲، ۳۵۳
[34] ۔سورہ نحل کی آیت نمبر ۲۶ میں کلمہ النجم وبالنجم ھم یہتدون کو آئمہ سے تفسیر کیا گیا ہے
[35] ۔مکیال المکارم ج۱ ص ۳۵۲۔۳۵۳
[36] ۔کلینی یعقوب روضۃ الکافی ج۸ ص۱۱۰ ح۱۴۴ (حدیث الذی اضاف رسول اللہ ص بالطائف)
[37] ۔قومی آئی علی صفائی حایری ص۲۳
[38] ۔نہج البلاغہ خ۱
[39] ۔اعراف ۱۵۷
[40] ۔بحار الانوار ج۵۱، ص۵۷
[41] ۔کافی ج۲ ص۲۵۲
[42] ۔بحارالانوار ج۲۷ ص۱۷۶
[43] ۔کمال الدین ج۲ باب۶۲ حدیث ۲۹
[44] ۔میزان الحکمۃ ج۲ ص ۵۶۸
[45] ۔کافی ج۶ ص ۵۳۵، رویت اول

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.