مولا (عج ) ظہور کیجئے کہ تڑپتے ہیں رات دن

254

ماہِ شعبان کی وہ پرُمسرت، مبارک، نورانی، اور قلب و نظر کو جلا بخشنے والی گھڑیاں، گلستان عسکری میں ظاہر ہوئیں جب وارث امامت، منجیء عالم،مسیحائے زمان، نجات دہندہ ء بشریت، حجۃ اللہ، منتقم آل محمد ع، ذخیرہ الٰہی، بقیۃاللہ، القائم، منصور، مہدی منتظر عج کا وجود مقدس ظاہر ہوا اور دنیا کو نظام امامت کی تکمیل کا جواب مل گیا۔ ۱۵ شعبان ۲۵۵ ہجری کی صبح صادق کو گلستان عسکری ع میں جو خوشبو مہکی تھی اس نے زمانے بھر کو اپنا گرویدہ کر لیا یہ وہی ہیں جو مہدی کے نام سے دنیا میں پہچانے جاتے ہیں۔ تمام آئمہ و اوصیاء اور انبیاء نے آپ عج کی آمد کی خبر دی آپ ع کی خصوصیات، فضائل و مناقب کا گواہ اور قصیدہ خواں قرآن ہے احادیث آپ کے ظہور و آمد کے واقعات سے بھری پڑی ہیں۔ کتب مہدویت سے اخذ شدہ معلومات کے مطابق یہ ثابت ہے کہ۱۔مہدی عج ہی ہیں جو پیغمبر آخر ص کے خاندان اور آپ ص کی ذریت سے ہیں، ۸۹ ۳، احادیث سے یہ بات ثابت ہے۔
۲۔۴۸/احادیث کے مطابق حضرت مہدی عجل اللہ تعالیٰ فرجہ پیغمبر ص کے ہم نام ہیں اور پیغمبر ص کی کنیت آپ کی کنیت ہے اور آپ پیغمبر ص سے سب سے زیادہ مشابہ ہیں۔
۲۱/احادیث میں آپکے شمائل اور جسمانی خصوصیات کا تذکرہ ملتا ہے۔ ۴۔ ۴۱۲/احادیث میں مذکور ہے کہ آپ امیرالمومنین ع کی اولاد میں سے ہیں۔ ۵۔ ۱۹۲/احادیث کے مطابق آپ حضرت فاطمہ زہرا ع کی اولاد میں سے ہیں۔ ۶۔ ۱۰۷/احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ آ پ ‘امام حسن ع و امام حسین ع‘‘ کی اولاد سے ہیں۔ ۷۔ ۱۸۵/احادیث میں مذکور ہے کہ آپ کا تعلق اولاد امام حسین ع سے ہے۔
۸۔ ۱۴۸/احادیث بیان کرتی ہیں کہ آپ نسل امام حسین علیہ السلام کے نویں فرزند ہیں۔ ۹۔ ۱۸۵/احادیث کے مطابق امام زین العابدین علیہ السلام کے فرزندوں میں ہیں۔ ۱۰۔۰۳ ۱/احادیث کے مطابق حضرت امام محمد باقرعلیہ السلام کے ساتویں فرزند ہیں۔ ۱۱۔ ۹۹/احادیث میں صراحت ہے کہ آپ ع حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کے چھٹے فرزند ہیں۔ ۱۲۔ ۹۸/روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت امام موسیٰ کاظم ع کے پانچویں فرزند ہیں۔ ۱۳۔۹۵/روایات کے مطابق آپ امام رضا ع کے چوتھے فرزند ہیں۔ ۱۴۔۶۰/روایات کے مطابق امام محمد تقی ع کے تیسرے فرزند ہیں۔ ۱۵۔ ۱۴۶/روایات کے مطابق امام علی نقی ع کے جانشین کے جانشین اور امام حسن عسکری ع کے فرزند ہیں۔ ۱۶۔۱۴۷/روایات میں آپکے پدر بزرگوار کا اسم گرامی ‘حسن ع’ بتایا گیا ہے۔ ۱۷۔۹/احادیث کے مطابق آپ کی والدہ سیدہ کنیزان اور ان میں سب سے برتر ہیں۔ ۱۸۔۱۳۶/احادیث میں آپکو بارہواں امام ع اور خاتم الآئمہ کہا گیا ہے۔ ۱۹۔۱۰/احادیث کے مطابق آپ دو غیبت (صغریٰ، کبریٰ) اختیار فرمائیں گے۔ ۲۰۔۹۱/احادیث کے مطابق آپ کی غیبت اتنی طولانی ہو گی کہ لوگوں کے ایمان کمزور پڑ جائیں گے اور کم معرفت والے شک و شبہ میں مبتلا ہو جائیں گے۔ ۲۱۔۳۱۸/احادیث کے مطابق آپکی عمر شریف بہت طولانی ہو گی۔ ۲۲۔۱۲۳/احادیث کے مطابق آپ ظلم و جور سے بھری ہوئی زمین کو عدل و انصاف سے بھر دیں گے۔
۲۳۔۸/احادیث کے مطابق بڑھتی ہوئی عمر اور حالات زمانہ کا آپ ع پر اثر نہ ہوگا اور آپ ع جوان نظر آئیں گے۔
۴۲۔۱۴/احادیث کے مطابق آپ ؑع کی ولادت کی خبر مخفی رہے گی۔ ۲۵۔۱۴/احادیث کے مطابق آپ دشمنانِ خدا کو قتل کریں گے اور روئے زمین سے شرک، ظلم و ستم اور حکام جور کا خاتمہ کریں گے اور ‘تاویل’ پر جہاد کریں گے۔ ۲۶۔۴۷/احادیث کے مطابق آپ دین خدا کو ظاہر فرما کر پوری زمین کے اوپر پھیلائیں گے اور پوری دنیا کے حاکم ہوں گے خدا آپ کے ذریعہ زمینوں کو زندہ کر دے گا۔ ۲۷۔۱۵/احادیث میں ہے آپ لوگوں کی ہدایت فرما کر قرآن و سنت کی طرف پلٹائیں گے۔ ۲۸۔۲۳/احادیث کے مطابق آپ انبیاء کی سنتوں کے وارث ہیں ان میں سے ایک غیبت بھی ہے۔ ۲۹۔بہت سی روایات کے مطابق آپ تلوار کے ذریعہ جہاد فرمائیں گے۔ ۳۰۔۳۰/روایات کے مطابق آپ کی سیرت بالکل پیغمبرص کی سیرت کی طرح ہوگی۔ ۳۱۔۲۴/احادیث کے مطابق لوگوں کے سخت آزمائش و امتحان کی منزل سے گزرنے کے بعد ہی آپ ظہور فرمائیں گے۔ ۳۲۔۲۵/احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان سے نازل ہوں گے اور آپ ع کی اقتداء میں نماز ادا کریں گے۔ ۳۳۔۳۷/روایات کے مطابق آپ کے ظہور سے قبل بدعتوں، ظلم و جور، گناہ، علی الاعلان فسق و فجور، زنا، سود، شراب خوری، جوا، رشوت، امربالمعروف و نہی عن المنکر سے روگردانی کا دور دورہ ہو گا، عورتیں بےحجاب ہو کر مردوں کے امور میں شریک ہوں گی، طلاق کثرت سے ہو گی،لہو و لعب، غنا اور موسیقی عام ہوگی۔ ۳۴۔آپکے ظہور کے وقت آسمان سے ایک منادی آپ ع کا اور آپ کے پدرِبزرگوار کا نام لے کر ندا دے گا اور آپ ع کے ظہور کا اعلان کرے گا جو سب کو سنائی دے گا۔ (۲۷/احادیث)
۳۵۔ آپ ع کے ظہور سے قبل گرانی بہت زیادہ ہوگی بیماریاں پھیل جائیں گی، قحط ہوگا اور عظیم جنگ برپا ہوگی اور بہت سے لوگ مارے جائیں گے۔ (۲۳ / احادیث ) ۳۶۔ آپکے ظہور سے قبل ‘نفس زکیہ‘‘ اور’یمانی‘‘ قتل کئے جائیں گے اور یہ ‘بیداء‘‘ (مکہ و مدینہ کے درمیان ایک مقام) میں ہوگا، دجال اور سفیانی خروج کریں گے اور امام زمانہ عج انھیں قتل کریں گے۔
۳۷۔ آپکے ظہور کے بعد زمین و آسمان کی برکتیں ظاہر ہوں گی زمین مکمل طور سے آباد ہوگی، خدا کے علاوہ کسی کی پرستش نہ ہو گی، امور آسان اور عقلیں کامل ہوجائیں گی۔ ۳۸: آپ ؑ کے تین سو تیرہ(۳۱۳) اصحاب ایک وقت میں آپکی خدمت میں پہنچیں گے۔ (۲۵ روایات) ۳۹۔آپ عج کی ولادت کی تفصیلات کی تشریح، تاریخ ولادت اور آپ ع کی والدۂ ماجدہ کے مختصر حالات سے متعلق ۲۱۴ ،احادیث۔ ۴۰۔آپ کے پدر بزرگوار کی حیات طیبہ اور غیبت صغریٰ وکبریٰ کے دوران آپ کے بعض معجزات اور ان خوش نصیب افراد کے نام جو حجت خدا کی زیارت و ملاقات سے شرفیاب ہوئے۔ یہ ہیں وہ معلومات جو کتب میں مذکور ہیں اور آپ کی آمد و ظہور کا اعلان کر رہی ہیں۔ دنیا آج بھی گلستان عسکری ع کے گلِ نازاں کی خوشبو کی مہک میں سرگرداں ہے، ہم سب کو اس نورانی اور معطر ماحول کی تلاش ہے ہم تو یہ کہتے ہیں کہ اے گلِ نرگس زہراء ع ۔۔۔ اس نورانیت سے طویل دُوری کہیں ہماری بینائی کو چھین نہ لے، آپ ع کی طویل غیبت مثلِ یوسف ؑع گم گشتہ، یعقوب ع نہ بنا دے، ہم کب تک یونہی تڑپتے رہیں، کب تک یونہی سسکتے رہیں؟
مولا جان ہم غم ہجر کے ماروں کی پکار کو سنیئے ۔۔۔ہم وصل کے امید واروں کی آس کو سنیئے ۔۔۔آپ ع سے روز و شب کی دوری برداشت سے باہر ہے ۔۔۔یہ دوری ہمیں دیوانہ بنا رہی ہے آقا ع ۔۔۔آپ ع کے بغیر ہماری خوشیاں پھیکی ہیں۔۔۔بہار کا موسم مانند خزاں ہے۔۔۔ہمارے گلستان ،خارستان ہیں، ہماری اُمیدیں مایوسیاں اور آرزوئیں دشمنوں کے طعنوں میں بدل چکی ہیں۔۔۔!
اے وارث باب علم و شہر علم ! آپکے بغیر جہالت و تاریکی کا گھپ اندھیرا ہے بےشک ہم اس احساس کے ساتھ زندگی کر رہے ہیں کہ آپ ع سے دوری اور آپ ع کی غیبت ہمارے اعمال کا نتیجہ اور کردار و عمل ہی ہیں۔۔۔ہمارے گناہ آپ ع کے ظہور میں بڑی رکاوٹ ہیں ۔۔۔ آپ ع کے دیدار اور زیارت سے محرومی کا سبب ہمارے آلودہ قلوب ہی ہیں۔۔۔ اے مولا و آقا ع آپکے بغیر ہم شرمندہ ہیں ۔ہم شکستہ دل ہیں ۔۔۔ہم درماندہ ہیں ۔۔۔ہم افسردہ ہیں ۔۔۔ہم نا اُمیدوں کی آ خری اُمید آ پ ع ہی ہیں ہمیں اپنے چاہنے والوں ،اپنے ساتھیوں اور اپنے قریبیوں میں شمار کر لیں، ہمیں حقیقی منتظروں میں شمار کر لیں، ہمیں مخلصوں میں شمار کر لیں۔
 

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.