عقل کا اندھا پن
طویل عرصہ پرانی بات ہے جب ایک مرتبہ میرے ہاتھ ایک پرچہ لگا، جس پر کسی معصوم ہستی سے متعلق کچھ باتیں درج تھیں کہ عرب کے فلاں علاقے کے فلاں شیخ کو فلاں ہستی کی خواب میں زیارت ہوئی اور انہوں نے اس شیخ کو کچھ راز بتائے ہیں۔ ساتھ ہی اس شیخ کو اس خواب کا احوال دیگر لوگوں تک پہنچانے اور ان تمام “رازوں” کا ڈنکا بجانے کی ذمہ داری بھی سونپ دی ہے، وگرنہ نہ صرف وہ شیخ، بلکہ اس دنیا کو تباہی سے کوئی نہیں بچا سکتا۔ تحریر کے آخر میں ایک نوٹ بھی لکھا تھا جس کے مطابق اس پرچے کو تیرہ مرتبہ لکھ کر آگے تقسیم کرنے کا حکم تھا۔ ساتھ ہی یہ بھی درج تھا کہ اس پرچے کو نظرانداز کرنے یا مزید تقسیم نہ کرنے والا نہ صرف جہنمی ہوگا بلکہ نہ جانے کون کون سے عذاب کا شکار ہوگا۔ ۔۔۔ بڑا مشکل وقت تھا، جب جاہل لوگ ایک پورا پرچہ تیرہ تیرہ مرتبہ لکھ کر نہ جانے کتنے گھنٹے ضائع کیا کرتے تھے۔
وقت کچھ اور آگے بڑھا تو لوگوں کی مشکل کچھ کم ہوئی اور اب لکھنے کی بجائے فوٹو کاپی کروا کر بانٹنے کی سہولت مہیا کر دی گئی۔ مگر اسکے ثواب اور عقاب میں کوئی فرق نہ آیا۔ اس قسم کی بے تکی، بے معنی، لغو اور بے بنیاد کہانیوں کو “معجزہ” کا نام دیا جاتا رہا اور عاقبت نااندیش و جاہل افراد ان من گھڑت کہانیوں میں رسالتمآب (ص)، بی بی سیدہ زہرہ (س)، امام علی (ع) اور بی بی زینب (س) کی پاکیزہ و بالا ذواتِ مقدسہ کو شعبدے کا مرکز بنا کر نہ صرف خود گناہِ کبیرہ اور غضبِ الٰہی کے مرتکب ہوتے رہے، بلکہ اپنے ساتھ ساتھ ہزاروں بلکہ لاکھوں کم علم و کم عقل لوگوں کی عقیدت کا بھی مذاق اڑاتے رہے۔ افسوس ان عقل کے اندھوں پر بھی ہوتا ہے جو بہت آسانی کے ساتھ اس شعبدہ بازی کا شکار بھی ہو جاتے ہیں اور یقینِ قلبی کے ساتھ ان تمام احکاما ت کی بجاآوری بھی کرتے ہیں، جو کسی بازیگر کی خودساختہ ایجادات ہوتی ہیں اور اصلاً انکا دین، شریعت اور عقیدت سے سات سمندر پار کا بھی ساتھ نہیں ہوتا۔
اگر خدا کی دی ہوئی ایک عظیم نعمت “عقل” کا استعمال کرتے ہوئے ذرا سا غوروفکر کیا جائے تو یہ حقیقت عیاں نظر آتی ہے کہ یہ وہ ہستیاں ہیں جنہیں خدا نے اپنی صفات کا مظہر بنا کر دنیا میں بھیجا اور ان سے ایسے ایسے کام لئے جو کسی اور کے بس میں نہ تھے۔ ان برگزیدہ ہستیوں نے بھی خدا کے تمام احکامات کچھ اس انداز میں ادا کئے کہ اس نے انہیں موجودہ اور آئندہ جہانوں کا مختار بنا دیا۔ اب یہ چاہیں تو چاند کو دو ٹکڑے بھی کرسکتے ہیں اور سورج (جس پر کئی وسیع و عریض کائناتوں کا دارومدار ہے) کو حکم دیں اور وہ کسی کو بتائے بنا خاموشی سے نہ پلٹے ۔۔۔ ایسا ممکن نہیں۔
قالین پر بنی تصویر کو اصلی شیر میں ڈھلنے کا حکم صادر فرمائیں تو ایک دقیقہ نہیں لگتا اور وہ شیر اپنا کام ایک غلام کی مانند کرکے واپس چلتا بنتا ہے۔ نیشاپور کے بے آب و گیاہ صحرا میں ایک پتھر کو حکم دیں تو وہ تاقیامت پانی اگلتا رہے گا۔ زمین کے کسی کونے میں کوئی بشر یا افلاک کی کسی وسعت میں مشکل کا شکار کوئی ملک انکو مشکل کشائی کے لئے پکارے تو اب انکی مرضی کہ خواب میں آکر اسکی مشکل حل کریں یا جیتی جاگتی صورت میں اسے پرِ پرواز عطا کر دیں۔ یہ وہ کریم ہستیاں ہیں جو ایک انسان کو اتنی رفعت عطا کرتی ہیں کہ دنیا تو دور کی بات، جنت تک کو اسکی جائیداد قرار دے دیتی ہیں۔
کیا کسی ذی شعور انسان اور ان کے عشق کے دعویدار کو یہ بات زیب دیتی ہے کہ وہ ان مالک و مختار ہستیوں سے یہ امید رکھے کہ وہ کسی دور پار کے علاقے کے کسی غیر معروف شخص کے خواب میں آکر اس محتاج کے آگے ہاتھ پھیلائیں کہ ہم تمہارا کام تو کر رہے ہیں، لیکن جواب میں تم ہماری تشہیر کرو اور جو ایسا نہ کرے اسے جہنم میں جھونک دو!!! استغفراللہ۔
ایک اور چیز جو کج فہم اور کمزور ایمان والے حضرات کی توجہات کا محور رہتی ہے، وہ ہیں کچھ خاکے جن پر کچھ خاص شکلیں کچھ خاص زاویوں سے کچھ مزید خاص بن کر انکے ایمان میں اضافے کا باعث بنتی ہیں اور وہ ان خاکوں کو دوسروں تک پہنچا کر نہ صرف خود خاص ہو جاتے ہیں، بلکہ ایمان کے زینے کی کئی سیڑھیاں اکٹھی پھلانگ کر سیدھا حوضِ کوثر پر جا کر دم لیتے ہیں۔ ایسے ہی کسی خاکے میں کسی مچھلی کے جسم پر موجود نقش و نگار کلمہء طیبہ کی صورت میں نظر آتے ہیں تو کبھی کسی جنگل میں کوئی درخت کسی انسان کی مانند رکوع کرتا ہوا نظر آتا ہے۔
کبھی کہیں کوئی کٹا ہوا ٹماٹر اپنے اندر نامِ محمد لکھے ہوئے ہوتا ہے تو کبھی کسی جلی ہوئی روٹی پر پوری پوری آیتیں لکھی نظر آتی ہیں۔ کہیں کسی بزرگ کی قبر کو قبرِ مصطفٰی (ص) کی صورت میں پیش کیا جاتا ہے تو کبھی کسی گمنام جنگجو کی تلوار کو الذوالفقار بنا دیا جاتا ہے۔ کبھی کسی کو چاند میں امامِ عصر (ع) کی شبیہ نظر آتی ہے تو کوئی اسکی زمین پر نامِ علی (ع) کندہ دیکھتا ہے۔جبکہ دینِ مصطفٰی (ص) خالصتاً علم اور عقل کی بنیادوں پر استوار ہے، جسکا ایک ایک انگ اور ایک ایک زاویہ مکمل طور پر منطقی اور سائنسی حقائق پر مشتمل اور قابلِ پڑتال ہے۔
کمال کی بات ہے کہ دعویٰ ایمان کا اور افکار کفریہ! حیرت کا مقام ہے کہ ایک مچھلی کی کھال پر کلمہء طیبہ کو ایک “معجزہ” کی صورت میں دیکھنے والے شخص کو اپنی وہ آنکھ ایک “معجزہ” دکھائی نہیں دیتی، جس سے وہ یہ “معجزہ” دیکھ رہا ہے؟ کیا انسان کا اپنا وجود اور وہ مچھلی خود ایک “معجزہ” نہیں، جسکے اپنے وجود کے اندر گنتی کے اعداد سے بھی کہیں زیادہ عناصر انتہائی منظم انداز میں اپنا اپنا کام سرانجام دے رہے ہیں؟ جو خدائے صناع کھربوں رنگوں کے چھینٹوں سے ایک مچھلی کی جلد کو پینٹ کرسکتا ہے، کیا وہ اس بات پر قادر نہیں کہ اپنی حقانیت ثابت کرنے کے لئے ہر مچھلی، چرند اور پرند کے جسم پر جلی، واضح اور رنگین حروف میں کلمہء طیبہ یا کوئی اور آیت لکھ دے؟
خدا نے افریقہ کے کسی دورافتادہ جنگل میں صرف ایک درخت کو ہی کیوں رکوع کروایا؟ کیا وہ کائنات کے ہر درخت کو اپنے حضور جھکانے کی طاقت نہیں رکھتا؟ جبکہ قرآن کی رو سے کائنات کا ذرہ ذرہ اس معبودِ برحق کی بارگاہ میں سجدہ ریز ہے۔خدا نے حدیثِ کساء میں جبریل علیہ السلام کو مخاطب کرکے فرمایا کہمیں نے اس زمین و آسمان، چاند و سورج، ستارے و اقیانوس کو فقط ان پانچ (محمد، علی، فاطمہ، حسن اور حسین) لوگوں کیلئے اور ان کی محبت میں خلق کیا ہے۔
کیا خدا کو پنج تن میں صرف امام علی (ع) سے اتنی محبت ہے کہ وہ صرف انکا نام چاند پر کندہ کردے؟ اور وہ بھی اس انداز میں کہ صرف چند افراد کو ہی “علی” لکھا نظر آئے۔ “علی” کے مقام کو ثابت کرنے کے لئے کیا خدا پر کوئی پابندی عائد ہے جو وہ آپکا اسمِ گرامی خوبصورت رسم الخط میں رنگوں کی کہکشاں کے ساتھ نہیں لکھ سکتا؟ اور وہ نعوذ باللہ مجبور ہے کہ مخفی صورت میں بگاڑ کر اپنے محبوب کا نام چاند پر اس طرح لکھے کہ “علی”کے محض چند عاشق ہی اسکو دیکھ پائیں، باقی کی خدائی اس نعمت سے محروم رہے!!! جبکہ اہلِ دل اور حقیقی عاشقانِ علی چاند تو کیا، کائنات کے ذرے ذرے پر درج “علی” کا نام دیکھ کر انبساط سے جھومتے ہیں۔
اہلِ عقل کے دماغوں میں یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ خدا کی وہ حجت، جسے وہ اپنے ارادے اور مصلحت کے تحت وقتِ معین تک کے لئے لوگوں کی نظروں سے پوشیدہ کر دے اور وہی امام نعوذ باللہ خدا کو غچہ دے کر چاند پر جلوہ گر ہو کر اپنے عشاق کو اپنی زیارت کروا دے؟ کیا واقعی ان کے دلوں پر تالے پڑے ہوئے ہیں، جو اپنے امام (ع) سے خدا کی مخالفت کی نہ صرف توقع رکھتے ہیں بلکہ اسے اپنے رب کی منشاء کے برخلاف کام کرتے ہوئے دیکھ کر سبحان اللہ کے نعرے بھی بلند کرتے ہیں!!! کیا یہ لوگ اس وقت کا انتظار نہیں کرسکتے، جب حجتِ خدا کا رخِ انور تمام جہانوں کے لئے آشکار ہوگا اور حقیقی عاشقان اپنے قرۃ العین امام کی زیارت سے اپنے قلوب کی گہرائیوں تک ٹھنڈک محسوس کریں گے؟؟؟
آج جبکہ اکیسویں صدی اپنے عروج کی جانب گامزن ہے اور انسانی معاشروں اور رویوں نے نئی نئی جہات اپنانا شروع کر دی ہیں، وہیں ترقی کی گاڑی اپنا سفر طے کرتے کرتے کاغذ، قلم اور فوٹو کاپی کے دور سے نکل کر کمپیوٹر، ای میل، ایس ایم ایس، پیپر فری کمیونی کیشن اور سوشل میڈیا کی منزلوں تک پہنچ گئی ہے۔ افسوس کا مقام ہے کہ معاشرتی ترقی سائنسی اسالیب کو اپناتے ہوئے تو اپنا سفر طے کر رہی ہے، لیکن روحانی بالیدگی ابھی شاید شروع بھی نہ ہوسکی اور اس سائنسی دور میں بھی ہمارے جہل کا یہ عالم ہے کہ ہمارے میل اور میسج باکسز اور سوشل میڈیا کے صفحات پر اکثر یہی من گھڑت کہانیاں پوری مذہبی عقیدت اور فرضِ شرعی کے اصولوں کے تحت ایک دوسرے کے ساتھ شئیر ہو کر جنت بانٹتی پھر رہی ہیں اور عقل کا اندھا پن ہے کہ اجالا دیکھ ہی نہیں پا رہا!!!