امام(عج) کے ظہور کیلیے ہمارا کردار

365

اللہ تعالی کا ارادہ ، انسان کے ارادے کے ہمراہ ہے اور انسان آخر کار تحقیق اور فطری مطالعات کے بعد ایک چیز کا انتخاب کرتاہے، بنابرین انسان کاارادہ اس کی انفرادی اورسماجی زندگی میں اہم کردار ادا کرتاہے ۔ لہذا اس سوال کا جواب آسان ہوجائے گا کہ ” کیا انقلاب مہدویت کو برپا کرناچاہئے یا ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر ان کا انتظار کریں کہ وہ خود آکر حالات ٹھیک کریں ؟۔
 
اس نظریہ کی بناپر کہنا چاہئے کہ امام زمانہ علیہ السلام کے ظہور کے لئے میدان فراہم کرنا چاہئے، جس طرح کہ امام زمانہ علیہ السلام ایک ایسی حقیقت ہے کہ جب تک اس عالمی تحریک کے لئے شرائط مہیا نہ ہوں وہ کبھی بھی ظہور نہیں کریں گے اور اس دوران ہم انسانوں کی یہ ذمہ داری ہے کہ ہم اپنے امام کی معرفت حاصل کرکے ان کی عالمگیر تحریک کے لئے اپنی تمام کوششیں بروئے کار لائیں ۔
پس امام کو لانا ہوگا، کیونکہ میدان فراہم کرنا، انسان کے اختیار میں ہے بلکہ ہم سے اس راستے میں قدم اٹھانے کا تقاضا کیا گیاہے اورہمیں اس راستہ میں سستی اورغفلت سے کام نہیں لینا چاہئے۔ جب تمام انسانی ارادے متحد ہوکر مہدی علیہ السلام کی جستجو شروع کردیں اس وقت اللہ تعالی اپنی حکمت اورمصلحت اور تدبیر کے تحت ظہور کے واقع ہونے کا ارادہ کرے گا۔
البتہ اس میں شک نہیں ہے کہ اللہ تعالی کی جانب سے ظہور کے اسباب فراہم کرنا، انسان کے اختیار میں ہے، لیکن خود اذن الہی،انسان کے اختیار سے باہر ہے اگر لوگ عملی کوشش کے ساتھ ساتھ بارگاہ الہی میں امام (عج) کے ظہور وفرج کی دعا اور گریہ و زاری کریں تو بلا شبہ اللہ تعالی لوگوں کی دعا قبول کرے گا۔
 

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.