امام زمانہ علیہ السلام کے ظہور کی کیفیت

845

دلوں میں اضطراب اور آنکھوں میں حیرانگی ہوگی۔ ظلم و فساد برپا کرنے والے ایمان کی صبح کے طلوع ہونے سے خوفزدہ اور پریشان ہونگے اور امام مہدی علیہ السلام کے منتظرین اپنے محبوب کے دیدار اور ان کی خلافت میں شرفیاب ہونے کے لئے بے تاب ہوں گے۔اس دور میں، شام، اردن اورعراق پر قابض سفیانی ایک لشکر کو امام سے مقابلہ کرنے کے لئے آمادہ کرے گا اور یہ لشکر امام سے جنگ کرنے کے لئے مکہ کی طرف روانہ ہوگا اور بیداء کے مقام اس کا پورا لشکر زمین میں دھنس جائے گا۔ ( بحارالانوار،ج۵۳،ص۱۰)
 
نفس زکیہ کی شہادت کے فوراً بعد امام زمانہ علیہ السلام ایک جوان شخص کی صورت میں مسجد الحرام میں ظہور کریں گے جبکہ آپ نے پیغمبرگرامی اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مبارک کرتہ زیب تن کیا ہوگا اور پیغمبر (ص) کا پرچم ہاتھ میں ہوگا۔آپ دیوار کعبہ سے ٹیک لگائیں گے اور رکن و مقام کے مابین اپنے ظہور کا اعلان کریں گے اور اللہ تعالی کی حمد و ثنا ، پیغمبر اور ان کی اہل بیت علھیم السلام پر درود و سلام بھیجنے کے بعد فرمائیں گے : اے لوگو ہم خداوند قادر سے مدد طلب کرتے ہیں نیز دنیا کے لوگوں میں سے جو بھی ہماری آواز پر لبیک کہے گا اسے مدد کے لئے پکاریں گے۔ اس وقت امام علیہ السلام اپنا اور اپنے خاندان کا تعارف کرواتے ہوئے ندا دیں گے۔ ”فاللہ فینا لا تخذلونا وانصرونا ینصرکم اللہ تعالی‘‘ہمارے حقوق کے بارے میں خدا کے فرامین کا خیال رکھو ۔ (عدل و انصاف کے قیام اور ظلم و جور کے خاتمہ کے لئے ) ہمیں تنہا نہ چھوڑو اورہماری مدد کرو کہ خدا تمہاری مدد کرے گا۔
امام زمانہ علیہ السلام کے کلام کے بعد ، آسمان کے رہنے والے اہل زمین پر سبقت لے جائیں گے اور فرشتے گروپوں کی صورت میں امام سے بیعت کریں گے جبکہ ان سب سے آگے فرشتہ وحی حضرت جبرائیل علیہ السلام امام سے بیعت کریں گے اس کے بعد دنیا کے مختلف علاقوں سے آنے والے ۳۱۳زمینی ستارے، سرزمین وحی میں آکر خورشید تابناک امامت کے گردجمع ہوکر اپنی وفا کا عہد و پیمان باندھیں گے اسی دوران دس ہزار سربکف مجاہد، امام علیہ السلام کے لشکر میں حاضر ہوکر امام زمانہ علیہ السلام سے بیعت کریں گے۔ ( غیبت نعمانی، باب ۱۴، ص۶۷)
امام علیہ السلام اپنے ساتھیوں کے لشکر کے ساتھ پرچم قیام کو بلند کرے بہت جلد مکہ اور اس کے اطراف پر تسلط جمالیں گے اور پیغمبر(ص) کی سرزمین کو نا اہل افراد کے وجود سے پاک کردیں گے اس کے بعد آپ مدینہ کی طرف جائیں گے اور اس شہر کے سرکش اورباغی افراد کا قلع قمع کرکے عدل و انصاف اورمحبت کا پیغام دیں گے۔ پھر عراق کی طرف حرکت کریں اور عراق میں آپ کا سامنا دوقسم کی مشکلات سے ہوگا:
(۱): ظاہری طور پر دیندار لوگوں کی جماعت ان کے مقابلے کے لئے آئے گی اورجب امام علیہ السلام کی نصحتیں ان کے دلوں پر اثر نہیں کریں گی تو اس وقت جنگ ہوتی جس کے نتیجے میں سب مارے جائیں گے۔
(۲): سفیانی کے لشکر سے مقابلہ کریں گے ۔ اس وقت امام علیہ السلام کوفہ پر غلبہ پالیں گے۔ جب امام علیہ السلام کی نصحتیں اور گفتگو ان کے پتھر دلوں پر اثر نہیں کریں گے توا س وقت جنگ کی آگ بھڑک اٹھے گی جس کے نتیجے میں سفیانی اور اس کے ساتھی ہلاک ہوجائیں گے۔
امام علیہ السلام شہر کوفہ کو اپنی عالمی حکومت کا مرکز قرار دیں گے اور یہیں سے اپنے قیام کی قیادت کریں گے ۔آپ دنیاوالوں کو اسلام اورقرآن کے قوانین کے مطابق زندگی گزارنے کی دعوت دیں گے اور ظلم و ستم کا قلع قمع کرنے کے لئے اپنے ساتھیوں کو دنیا کے مختلف علاقوں کی طرف روانہ کریں گے۔
امام علیہ السلام ایک ایک کرکے دنیا کے اہم مقامات پر فتح کریں گے کیونکہ مؤمن اور با وفا ساتھیوں کے علاوہ الہی فرشتوں کی مدد بھی ہوگی اور پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرح رعب اور دبدبہ کی قوت سے مدد لیں گے اور اللہ تعالی ان کے اور ان کے ساتھیوں کا خوف اس طرح دشمنوں کے دلوں میں ڈال دیں گے کہ کوئی بھی طاقت ان کا مقابلہ کرنے کی قدرت نہیں رکھے گی۔
امام باقر علیہ السلام نے فرمایا: ہمارے قائم کی (دشمنوں کے دل میں وحشت اور)رعب کے ذریعے مدد ہوگی۔ ( کمال الدین، ج۱، ص۳۲، ح۱۶، ص۶۰۳)
یہ بات بھی کہی گئی ہے کہ بیت المقدس وہ علاقہ ہے جسے امام زمانہ علیہ السلام کا لشکر فتح کرے گا۔ اس فتح کے بعد ایک مبارک واقعہ رونما ہوگا کہ جو امام مہدی علیہ السلام کے انقلاب اورقیام میں بنیادی اہمیت رکھتا ہے اور آنحضرت (عج) کے محاذ کی تقویبت کا باعث بنے گا اوروہ آسمان سے حضرت عیسی علیہ السلام کا نازل ہونا ہے۔ قرآن کے فرمان کے مطابق حضرت عیسی زندہ ہیں اور آسمانوں میں ہیں۔وہ زمین میں آکر حضرت امام مہدی علیہ السلام کی اقتداء میں نماز ادا کریں گے اور یوں عالم اسلام کے عظیم امام کی اپنے اوپر فضیلت اورامام مہدی علیہ السلام کی پیروی کا اعلان کریں گے۔
پیغمبراکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قسم سے مجھے اس ذات کی جس نے مجھے حق پر مبعوث فرمایا جبکہ میں اپنے لوگوں کو بشارت دینے والا ہوں ، اگر اس دنیا کی زندگی ایک دن باقی رہ جائے تو اللہ تعالی اس دن کو اتنا لمبا کرے گا تاکہ میرا بیٹا مہدی علیہ السلام اس دن قیام کرے گا، ان کے بعد عیسی بن مریم علیہ السلام نازل ہوں گے اور امام مہدی علیہ السلام کی اقتداء میں نماز پڑھیں گے۔( بحارالانوار،ج۵۱، ص۷۱)
حضرت عیسی علیہ السلام کے اس اقدام کے بعد اس دنیا کی کثیر عیسائی آبادی گنیجنہ الہی کے اس آخری ذخیرہ اور اسلام کے پیشوا پر ایمان لائے گی گویا کہ اللہ تعالی نے حضرت عیسی علیہ السلام کو اس دن کے لئے محفوظ رکھا ہو ا ہے تاکہ حق کو طلب کرنے والوں کے لئے ہدایت کا چراغ ہو۔
البتہ حضرت مہدی علیہ السلام کے مبارک وجود سے معجزات کا ظہور اور انسانیت کی ہدایت کے لئے عظیم خطبات، اس عالمگیر مہدوی انقلاب کے منصوبوں سے ہے جو لوگوں کے لئے ہدایت کے راستہ کو کھولتا ہے۔
امام علیہ السلام کسی خاص جگہ پر دفن کی ہوئی یہودیوں کی مقدس اورحقیقی کتاب توریت کی تختیوں کو باہر نکالیں گے۔اور اس کتاب میں آپ کی امامت کی نشانیوں کو دیکھنے والے بہت سے یہودی آپ پر ایمان لے آئیں گے ۔
دوسرے ادیان کے پیروکار نیز اس عظیم عالمی انقلاب کو دیکھ کر اور امام کے پیغام حقہ کو سن کر نیز آنحضرت کے معجزات کو دیکھ کر گروہوں کی صورت میں آنحضرت (ع) سے مل جائیں گے اوریوں اللہ تعالی کا حتمی وعدہ واقع ہوجائے گا اور اسلام ان سب کو اپنے پرچم تلے جمع کر لے گا۔(ھُوَ الذّی اَرْسَلَ رَسُولَہُ بِالھُدیٰ وَدِیْنِ الْحَقّ لِیُظْھِرَہُ عَلیَ الدِّیْنِ کُلِّہ وَلَوْ کَرِہَ المُشْرِکُونَ) وہ خدا وہ ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دین حق کے ساتھ بھیجا تاکہ اپنے دین کو تمام ادیان پر غالب بنائے چاہئے مشرکین کو کتنا ہی گوار کیوں نہ ہو۔( سورہ توبہ، آیہ۳۳)
سابقہ بیان کی روشنی میں فقط ظالم اورہٹ دہرم لوگ حق و حقیقت کے سامنے سرتسلیم خم نہیں ہوں گے اور یہ لوگ مؤمنین کی اکثریت کے سامنے ڈٹ نہیں پائیں گے اور امام مہدی علیہ السلام کی عدل و انصاف کی تلوار سے کیفر کردار تک پہنچ جائیں گے اور اہل زمین ان کے ظلم و ستم سے ہمیشہ کے لئے محفوظ ہوجائیں گے۔
 

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.