بارہ امام (ع)

215

بارہ اماموں کے بارے میں روایاتامیرالمومنین حضرت علی علیہ السلام کی بلا فصل خلافت و امامت کو ثابت کر نے کے بعد اب ہم باقی اماموں کی امامت کے بارے میں بحث کرتے ہیں ۔اس سلسلہ کی بحث کا خلاصہ یہ ہے :آج ہمارے پاس اہل سنت اور اہل تشیّع کی متعدد ایسی روایتیں موجود ہیں جو کلی طور پر پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رحلت کے بعد”بارہ خلفاء اور ائمہ”کی خلافت کو ثابت کرتی ہیں۔یہ احادیث اہل سنت کی نہایت اہم اور مشہور کتا بوں ،جیسے:صحیح بخاری،صحیح تر مذی،صحیح مسلم ،صحیح ابی داؤد اور مسند احمد وغیرہ میں درج ہیں۔کتاب”منتخب الاثر ” کے مصنف نے اس موضوع پر دوسو اکتھر احادیث جمع کی ہیں جن کی قابل توجہ تعداد اہل تسنن علماء کی کتا بوں سے اور باقی شیعوں کی کتا بوں سے نقل کی گئی ہیں۔مثال کے طور پر،اہل سنت کی مشہور ترین کتاب صحیح بخاری میں اس سلسلہ یوں آیا ہے:”جابر بن سمرة”کہتا ہے کہ میں نے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا کہ آپ نے فر مایا:”یکون اثنا عشرامیراً۔فقال کلمة لم اسمعھا فقال ابی انہ قال۔کلھم من قریش۔” (صحیح بخاری ،ج۹،کتاب الامقام،ص۱۰۰)”میرے بعد بارہ امیر ہوں گے۔اس کے بعد ایک جملہ فر مایا کہ میں سن نہ سکا ۔میرے باپ نے کہا کہ پیغمبر نے فر مایا تھا :”وہ سب قریش میں سے ہیں “”صحیح مسلم”میں اس حدیث کو یوں نقل کیا گیا ہے کہ”جابر”نے کہا :میں نے پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا کہ آپنے فر مایا:”لایزال الاسلام عزیزاًالی اثنا عشر خلیفة ثم قال کلمة لم افھمھا،فقلت لابی ماقال فقال کلھم من قریش”(صحیح مسلم،کتاب الامارہ ،باب الناس تیع لقریش)”اسلام ہمیشہ عزیز رہے گا یہاں تک کہ میرے بارہ خلیفہ وجانشین ہوں گے ۔اس کے بعد ایک جملہ ارشاد فر مایا کہ میں نہ سن سکا۔ میں نے اپنے باپ سے سوال کیا ،تو انہوں نے کہا پیغمبر نے فر مایا :”وہ سب قریش ہوں گے۔”کتاب “مسند احمد”میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مشہور صحابی عبداللہ بن مسعود سے نقل کیا گیا ہے کہ لوگوں نے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے آپ کے خلفائکے بارے میں سوال کیا ۔توآپنے فر مایا:”اثناعشر کعدة نقباء بنیاسرائیل” (مسند احمد،ج۱،ص۳۹۸)”(میرے خلفاء)بنی اسرائیل کے نقباؤرؤسا کی تعداد کے برابر بارہ ہوں گے۔”
ان احادیث کا مفہومان احادیث میں سے بعض میں”اسلام کی عزت”کا دار ومدار بارہ خلیفوں پر قرار دیا گیا ہے اور بعض میں قیامت کے دن کی بقاء اور حیات کو بارہ خلفاء کا مر ہون منت جانا ہے۔سب کو قریش سے اور بعض احادیث میں سب کو خاندان “بنی ہاشم”سے بتایا گیا ہے۔یہ احادیث مذاہب اسلامی میں سے مذہب شیعہ کے علاوہ کسی مذہب سے تطبیق نہیں کرتی ہیں،کیونکہ شیعوں کے عقیدہ کے مطابق ان کی توجیہ مکمل طور پر بالکل صحیح اور واضح ہے،جبکہ اہل سنت علماء کے پاس ان کی توجیہ کا کوئی راستہ نہیں ہے ۔کیا ان(بارہ خلفاء)سے مراد پہلے چار خلفاء اور خلفائے بنی امیہ وبنی عباس ہیں؟جبکہ ہم اچھی طرح سے جانتے ہیں کہ نہ پہلے خلفاء کی تعدادبارہ تھی اور نہ بنی امیہ کے خلفاء کو ملاکر بارہ بنتی ہے نہ خلفائے بنی عباس کو ملا کر یہ تعداد بارہ بنتی ہے ۔مختصر یہ کہ کسی بھی حساب سے بارہ کی یہ تعداد پوری نہیں ہوتی ہے۔اس کے علاوہ بنی امیہ کے خلفاء میں “یزید”جیسے اور خلفائے بنی عباس میں “منصوردوانقی “اور “ہارون الرشید”جیسے افراد بھی تھے جن کے ظالم اور جابر ہونے میں کسی کو شک وشبہہ نہیں ہے ،اس لئے ممکن نہیں ہے ایسے افراد پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خلفاء اور اسلام کی عزت وسر بلندی کا سبب شمار ہوں،جس قدر بھی ہم خلافت کے معیار کو گھٹائیں،ایسے افراد قطعاًاس دائرے میں نہیں آسکتے ہیں۔اس بحث سے قطع نظر،شیعوں کے بارہ اماموں کے علاوہ کسی صورت میں بارہ خلفاء کی تعداد کہیں بھی پوری ہوتی نظر نہیں آتی ۔بہتر ہے کہ اس بحث کو ہم اہل سنت کے ایک مشہور عالم کی زبانی پیش کریں:”سلیمان بن ابراھیم قندوزی حنفی “اپنی کتاب “ینا بیع المودة”میں فر ماتے ہیں:بعض محققین نے کہا ہے :رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعدآپ کے بارہ خلفاء پردلالت کر نے والی احادیث مشہور ہیں ۔ یہ احادیث مختلف طریقوں سے نقل کی گئی ہیں۔مرور زمانہ سے جو کچھ ہمیں معلوم ہوا ہے وہ یہ ہے کہ اس حدیث سے رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مراد آپ کے اہل بیت اور عترت سے بارہ جانشین ہیں،کیونکہ اس حدیث کو پہلے خلفاء سے مربوط جاننا ممکن نہیں ہے،کیونکہ ان کی تعداد چار افراد سے زیادہ نہیں تھی ۔اس کے علاوہ یہ حدیث بنی امیہ پر بھی تطبیق نہیں ہوتی ہے ،کیونکہ وہ بارہ سے زیادہ تھے اور وہ عمر بن عبدالعزیز کے علاوہ سب ظالم وستمگر تھے اور یہ کہ وہ “بنی ہاشم”سے نہیں تھے ،جبکہ پیغمبر نے فر مایا ہے کہ وہ بارہ کے بارہ بنی ہاشم سے ہیں،جیسا کہ “عبد الملک بن عمر”نے “جابر بن سحرہ”سے نقل کیا ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اس سوال کے سلسلہ میں کہ وہ (بارہ جانشین)کسی قبیلہ سے ہوں گے؟ آہستہ جواب دینا اس بات کی دلیل ہے کہ بنی ہاشم کی خلافت پر بعض افرادراضی نہیں تھے ۔اسی طرح یہ حدیث خلفائے بنی عباس پر بھی قابل تطبیق نہیں ہے،کیونکہ ان کی تعداد بھی بارہ سے زیادہ تھی۔اس کے علاوہ انہوں نے آیہ مودت”قل لا اسئلکم علیہ اجراً الا المودة فی القربیً(سورہ شوریٰ/۲۳)پر عمل نہیں کیا ہے اور حدیث کساء سے چشم پوشی کی ہے!ان وجو ہات کی بناء پریہ حدیث صرف پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اہل بیت وعترت سے تعلق رکھنے والے بارہ اماموں پر ہی قابل تطبیق ہے۔کیونکہ وہ علم ودانش کے اعتبار سے سب پر فضیلت رکھتے ہیں ،اور زہد وتقویٰ کے لحاظ سے بھی سب سے زیادہ زاہد وپرہیز گار ہیں ،اور حسب ونسب کے اعتبار سے بھی سب پر فضیلت رکھتے ہیں اور انہوں نے تمام علوم وفنون کو اپنے جد رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے وراثت میں حاصل کیا ہے ۔اس نظریہ کی حدیث ثقلین اور دوسری بہت سی احادیث تائید کرتی ہیں جو پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے نقل ہو ئی ہیں۔” (ینابیع المودة،ص۴۴۶)دلچسپ بات ہے کہ میں نے اپنے سفر مکہ کے دوران علماء حجاز کے ساتھ اس موضوع پر گفتگو کے دوران اس حدیث کے بارے میں ان سے ایک نئی توجیہ سنی ،جس سے ان کی اس سلسلہ میں بے بسی اور عاجزی واضح ہوتی ہے ،وہ کہتے تھے :”شاید بارہ خلفاء اور امراء سے مراد پہلے چار خلیفہ ہیں جو اسلام کی ابتداء میں تھے اور ان کے باقی افراد مستقبل میں آنے والے ہیں جنہوں نے ابھی ظہور نہیں کیا ہے!”اس طرح ،پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حدیث سے واضح ہو نے والے ان خلفاء کے ارتباط سے دیدہ و دانستہ طور پر چشم پوشی کی گئی ہے۔ہم یہ کہتے ہیںکہ کیاوجہ ہے کہ ہم اس حدیث کی واضح اور روشن تفسیر (جو شیعوں کے بارہ اماموں پر منطبق ہے)کو چھوڑ کر ایسی دلائل میں کود پڑیں جس سے نکلنے کا کوئی راستہ نہ ہو۔
نام بنام ائمہ کی تعیینقابل توجہ بات ہے کہ اہل سنت راویوں سے ہم تک پہنچی پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بعض احادیث میں صراحت کے ساتھ بارہ اماموں کے نام ذکر ہوئے ہیں اور ان کی خصوصیات و صفات بھی تفصیل سے ذکر ہوئی ہیں۔اہل سنت کے معروف اور مشہور عالم “شیخ سلیمان قندوزی “اپنی اسی کتاب “ینابیع المودة”میں یوں نقل کرتے ہیں:”نعثل نامی ایک یہودی پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اورکئی سوالات کے ضمن میں آپ کے خلفاء اور اوصیاء کے بارے میں سوال کیا ۔آنحضرتنے اپنے جانشینوںکا تعارف یوں کرایا:ان وصیی علی بن ابیطالب وبعدہ سبطای الحسن والحسین تلوہ تسعة ائمة من صلب الحسین۔قال یا محمّد فسمھم لی۔قال(ص) اذا مضی الحسین فابنہ علی،فاذا مضی علی فابنہ محمد ،فاذا مضی محمد فابنہ جعفر،فاذامضی جعفر فابنہ موسی ،فازامضی موسی فابنہ علی،فاذا مضی علی فابنہ محمد، فاذا مضی محمد فابنہ علی، فاذا مضی علی فابنہ الحسن، فاذا مضی الحسن فابنہ الحجة محمد المھدی (ع) فھٰؤلاء اثنا عشر۔” (ینابیع المودة،ص۴۴۱)”میرے وصی علی بن ابیطالب ہیں اور ان کے بعد میرے دو نواسے حسن اور حسین ہیں اور حسین کے بعد نو امام ان کی نسل سے ہوںگے ۔”یہودی نے کہا :اُن کے نام بیان فر ما ئیے۔پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فر مایا:جب حسین دنیاسے رخصت ہوںگے تو اُن کے بیٹے علی ہوں گے، جب علی دنیا سے رخصت ہوں گے تو ان کے بیٹے محمد ہوں گے ،جب محمد دنیا سے رخصت ہوں گے تو ان کے بیٹے جعفر ہوں گے ،جب جعفر دنیا سے رخصت ہوں گے تو ان کے بیٹے موسیٰ ہوں گے ،جب موسیٰ دنیا سے رخصت ہوں گے تو ان کے بیٹے علی ہوں گے،جب علی دنیا سے رخصت ہوں گے تو ان کے بیٹے محمد ہوں گے ،جب محمد دنیاسے رخصت ہوں گ تو ان کے بیٹے علی ہوں گے ،جب علی اس دنیاسے رخصت ہوں گے تو ان کے بیٹے حسن ہوں گے،اور جب حسن اس دنیا سے رخصت ہوں گے توان کے بیٹے حجت محمد المھدی ہوں گے۔یہ بارہ امام ہیں۔”(ینابیع المودة،ص۴۴۱)اس کے علاوہ اسی کتاب”ینابیع المودة”میں “کتاب مناقب”سے نقل کی گئی ایک اور حدیث درج ہے ،جس میں بارہ اماموں کے نام اور ان کے القاب بھی بیان کئے گئے ہیں اور حضرت مھدی کی غیبت ،اور اس کے بعد ان کے قیام کر کے دنیا کو عدل وانصاف سے اسی طرح پر کر نے کا ذکر کیا گیا ہے جس طرح دنیا اس سے پہلے ظلم وستم سے بھر گئی ہوگی۔ (ینابیع المودة،ص۴۴۲)البتہ اس سلسلہ میں شیعوں کی احادیث بہت زیادہ اور حد تواتر سے بڑھ کر موجود ہیں ۔(غور فر مائیے)۔جوشخص اپنے زمانہ کے امام کو پہچانے بغیر مرجائےدلچسپ بات ہے کہ اہل سنت کی کتابوں میں ہی پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے نقل کی گئی ایک حدیث میں آیا ہے:”من مات بغیر امام مات میتتة جا ھلیة”(المعجم المفہرس لالفاظ الاحادیث النبوی،ج۶،ص۳۰۲)”جو شخص امام کے بغیر مر جائے ،اس کی موت جاہلیت کی موت ہے۔”شیعہ کتابوں میں یہی حدیث اس عبارت میں نقل ہو ئی ہے:”من مات ولا یعرف امامہ مات میتتہ جاھلتہ””جوشخص مرگیا اور اس نے اپنے امام کو نہیں پہچانا تو اس کی موت جاہلیت کی موت ہے۔”(بحارالانوار ج۶،(طبع قدیم)ص۱۶)یہ حدیث اس بات کی گواہ ہے کہ ہر دور اور ہر زما نے ایک معصوم امام موجود ہوتا ہے ،اس کو پہچاننا ضروری ہے ۔اس کو نہ پہچاننا اتنا نقصان دہ ہے کہ انسان کفر و جاہلیت کی سر حدمیں پہنچ جاتا ہے۔کیا اس حدیث میں بیان کئے گئے امام وپیشوا سے مراد وہی لوگ ہیں جو زمام حکومت سنبھالتے ہیں،جیسے،چنگیز خان ،ہارون اور دوسروں کے ایجنٹ اور کٹھ پتلی حکام؟بے شک اس سوال کا جواب منفی ہے، کیونکہ اکثر حکمران غیر صالح ،ظالم اور کبھی مشرق ومغرب کی طاقتوں سے وابستہ اور اغیار کی سیاست کے آلہ کار ہو تے ہیں،یقیناًایسے حکمرانوں کو امام کی حیثیت سے قبول کر نا انسان کو جہنم میں بھیج دیتا ہے۔لہذا واضح ہو تا ہے کہ ہر دور اور ہر زمانے میں ایک معصوم امام موجود ہو تا ہے لوگوں کے لئے اس کو تلاش کر کے اس کی رہبری کو قبول کر نا ضروری ہے۔البتہ ہر ایک امام کی امامت کو مذکورہ بالا طریقوں کے علاوہ قرآنی نصوص اور آنے والے امام کے بارے میں ہر سابق امام کی بیان کی گئی احادیث و روایات نیز ان کے معجزات سے بھی ثابت کیا جاسکتا ہے۔
 

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.