دعا اور استجابت دعا کا رابطہ
خداوند عالم ارشاد فرماتاہے:<وَقَالَ رَبُّکُمُ ادعُْونِْی اَستَْجِب لَکُم اِنَّ الَّذِینَْ یَستَْکبِْرُونَْ عَن عِبَادَتِی سَيَدخُْلُونَْ ( جَهَنَّمَ دَاخِرِینَْ>( ١”اور تمہارے پروردگار کا ارشاد ہے کہ مجه سے دعا کرو ميں قبول کرونگا اور یقيناً جو لوگ ميری عبادت سے اکڑتے ہيں وہ عنقریب ذلت کے ساته جہنم ميں داخل ہوں گے ”
دعا قبول ہونے کے درميان کيا رابطہ ہے؟استجابت کيسے تمام ہوتی ہے؟ہم اس فصل ميں ان ہی دو سوالات سے متعلق بحث کریں گے۔بيشک خداوند عالم کی طرف سے دعا استجابت کے الٰہی سنتوں اور قوانين کے ذریعہ انجام پاتی ہے جيسا کہ تمام افعال ميں خدا کا یہی طریقہ رائج ہے۔ منفعل ہونا خداکی ذات ميں نہيں ہے جيسا کہ ہم انسانوں کی فطرت ہے کہ کبهی ہم غصہ ہوتے ہيں ،کبهی خوشحال ہوتے ہيں،کبهی غصہ ہو تے ہيں ،کبهی خوش ہو تے ہيں ،کبهی چُست رہتے ہيں اور کبهی ملول و رنجيدہ رہتے ہيں ۔ اور خداوند عالم کے افعال ایک طرح کے قانون ا ور سنت ہيں ان ميں خوشی یا غصہ کاکوئی دخل نہيں ہوتا تمام سنتيں اور قوانين الٰہيہ اپنی جگہ پر ثابت ہيں ۔ایسا نہيں ہے کہ خداوند عالم خوش ہوگا تو دعا قبول کرے گا اور ناراض ہوگاتو دعاقبول نہيں کرے گا ۔ یہ تمام الٰہی سنتيں افق غيب(مڻافيزیکی )ميں اس طرح جاری ہوتی ہيں جس طرح فيزیکس، کيميا،اور ميکانيک ميں بغير کسی فرق کے جاری ہوتی ہيں۔ ( <لَن تَجِدَلِسُنَّةِاللهِتَبدِْیلْاً>( 2″تم خدا کی سنت ميں ہر گز تبدیلی نہيں پا وٴ گے ” ( <لَن تَجِدَلِسُنَّةِ اللهِتَحوِْیلْاً>( 3
“ہر گز خدا کے طریقہٴ کار ميں کو ئی تغير نہيں ہو سکتا ہے “۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
١)سورئہ مومن آیت ۶٠ ۔ )( 2)سورئہ احزاب( ۶٢ )3)سورئہ فاطرآیت/ ۴٣ ۔ )